قطبِ لاہور حضرت مولانا غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد القادر ۔ عرفی نام: غلام قادر بھیروی ۔ لقب: قطبِ لاہور، عارف باللہ، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف باللہ حضرت علامہ مولانا غلام قادربھیروی بن مولانا عبد الحکیم بن مولانا جان محمد بن مولانا محمد صدیق۔علیہم الرحمہ ۔
آپ خاندانِ قریش کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے مورث اعلیٰ سندھ کے باسی تھے۔تسخیر ِ سندھ کے بعد سندھ میں مقیم ہوگئے۔بعد ازاں سیاسی انقلابات سے متاثر ہوکر سندھ سے بھیرہ شریف پنجاب میں اقامت گزیں ہوگئے۔آپ کے والد گرامی مولانا عبدالحکیم صاحب ایک جید عالم اور خدا ترس بزرگ تھے۔اسی طرح آپ کے دوحقیقی بھائی بھی صاحبِ علم و فضل تھے ۔ (فروغِ علم میں خانوادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار:186)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ’’ الیواقیت المہریہ ‘‘ تذکرہ اکابر اہل سنت، اور فیضانِ شمس العارفین، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ‘‘ میں 1265ھ مطابق 1849ء ہے، اور اسی طرح ’’فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول، اور فروغِ علم میں خانودادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار‘‘ میں 1214ھ مطابق 1825ء تحریر ہے۔ حالانکہ1214ھ / مطابق 1799ء ہے، نہ کہ 1825ء ۔
یہ دونوں تاریخیں قابلِ غور ہیں ۔ جیسا کہ تمام تذکروں میں ہے کہ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد لاہور میں استاذ العلماء مولانا غلام محی الدین بُگوی (م1273ھ) کے مدرسے میں ابتدائی کتبِ دینیہ کی تحصیل میں مصروف تھے ۔
ابتدائی کتب کی تعلیم یقیناً قرآن ِ مجید کی تکمیل کےبعد ہی شروع ہوئی ہوگی،جیساکہ عام رواج ہے۔ 1265ھ کے حساب سے 8 سال عمر بنتی ہے، اور 1214ھ کے حساب سے59 سال ۔ اسی طرح یہ بھی لکھاہے کہ ابتدائی کتب ِ دینیہ کے پڑھنے کے بعد دہلی میں صدر الصدور مولانا مفتی صدرالدین آزردہؔ کے پاس مزید تحصیلِ علم کےلئے حاضر ہوئے،اور ان کی خدمت میں چودہ سال رہ کر علوم عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل فرمائی۔مفتی صاحب کا وصال 1285ھ میں ہوا۔تو اِس اعتبار سے حضرت بھیروی کی عمر بیس سال بنتی ہے۔یعنی چھ سال کی عمر میں مفتی صدرالدین آزردہ کی خدمت میں پہنچے اور چودہ سال تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے۔سو یہ دونوں تاریخیں ان حقائق سے صحیح معلوم نہیں ہوتیں ہیں ۔قیاساًجو درست معلوم ہوتا ہےوہ تقریباًتیرہویں صدی کانصف یا اس سے قریب قریب ہے۔ (فقیر تونسویؔ غفرلہ )۔
تحصیلِ علم:
مولانا غلام قادر ابھی ایام طفلی میں ہی تھے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے علم دین کی تحصیل اور انسانیت کی ہدایت و خدمت کی بشارت دی۔ (تذکرہ علمائے لاہور:223)
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔پھر لاہور میں مولانا غلام محی الدین بگوی،اور مولانا احمد دین بگوی علیہما الرحمہ سے ابتدائی کتب پڑھنے کےبعد دہلی میں حضرت صدرالصدور کی خدمت میں پہنچے،اور تمام معقولات و منقولات کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے دستِ حق پرست پربیعت ہوکر، خلافت سے مشرف ہوئے۔فوز المقال میں ہے: ’’آپ دہلی سے لاہور قیام فرمائے۔تھوڑا عرصہ ہوا تھا کہ آپ بغرضِ بیعت سیال شریف حضرت خواجہ شمس العارفین کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے،حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کو پہلی نظر میں ہی کشفِ قلبی سے جانچ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی استعداد ودیعت فرمائی ہے کہ اگر صحیح طور پر نشو ونما کی گئی ت یہ جواں مہر تاباں کی طرح ایک جہاں کو منور کرےگا۔چنانچہ چند دنوں میں ہی حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کوبیعت فرماکر ظاہری و باطنی کمالات سے مالا مال کردیا۔حضرت مولانا بھیروی کو حضرت خواجہ سیالوی سے والہانہ محبت اور عشق تھا ۔
یہی محبت اور عشق تھا کہ جس کے باعث آپ نے اپنے شیخِ طریقت سے گہرا تعلق پیداکرلیا اور بالآخر آپ کو خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا گیا‘‘ ۔(فوز المقال فی خلفاءِ پیر سیال جلد اول)
آپ کے اور ادو اشغال میں حضور سیدنا غوث اعظم سے اویسی نسبت کی بنا پر قادریت کا غلبہ تھا ۔ مشہور تاریخ گواور تذکرہ نویس بزرگ مولانا غلام دستگیر نامی لکھتے ہیں: ’’آپ کو لاہور کا قطب سمجھا جاتا تھا‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت،ص، 326 / بحوالہ بزرگانِ لاہور، ص181) ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد القادر ۔ عرفی نام: غلام قادر بھیروی ۔ لقب: قطبِ لاہور، عارف باللہ، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف باللہ حضرت علامہ مولانا غلام قادربھیروی بن مولانا عبد الحکیم بن مولانا جان محمد بن مولانا محمد صدیق۔علیہم الرحمہ ۔
آپ خاندانِ قریش کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے مورث اعلیٰ سندھ کے باسی تھے۔تسخیر ِ سندھ کے بعد سندھ میں مقیم ہوگئے۔بعد ازاں سیاسی انقلابات سے متاثر ہوکر سندھ سے بھیرہ شریف پنجاب میں اقامت گزیں ہوگئے۔آپ کے والد گرامی مولانا عبدالحکیم صاحب ایک جید عالم اور خدا ترس بزرگ تھے۔اسی طرح آپ کے دوحقیقی بھائی بھی صاحبِ علم و فضل تھے ۔ (فروغِ علم میں خانوادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار:186)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ’’ الیواقیت المہریہ ‘‘ تذکرہ اکابر اہل سنت، اور فیضانِ شمس العارفین، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ‘‘ میں 1265ھ مطابق 1849ء ہے، اور اسی طرح ’’فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول، اور فروغِ علم میں خانودادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار‘‘ میں 1214ھ مطابق 1825ء تحریر ہے۔ حالانکہ1214ھ / مطابق 1799ء ہے، نہ کہ 1825ء ۔
یہ دونوں تاریخیں قابلِ غور ہیں ۔ جیسا کہ تمام تذکروں میں ہے کہ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد لاہور میں استاذ العلماء مولانا غلام محی الدین بُگوی (م1273ھ) کے مدرسے میں ابتدائی کتبِ دینیہ کی تحصیل میں مصروف تھے ۔
ابتدائی کتب کی تعلیم یقیناً قرآن ِ مجید کی تکمیل کےبعد ہی شروع ہوئی ہوگی،جیساکہ عام رواج ہے۔ 1265ھ کے حساب سے 8 سال عمر بنتی ہے، اور 1214ھ کے حساب سے59 سال ۔ اسی طرح یہ بھی لکھاہے کہ ابتدائی کتب ِ دینیہ کے پڑھنے کے بعد دہلی میں صدر الصدور مولانا مفتی صدرالدین آزردہؔ کے پاس مزید تحصیلِ علم کےلئے حاضر ہوئے،اور ان کی خدمت میں چودہ سال رہ کر علوم عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل فرمائی۔مفتی صاحب کا وصال 1285ھ میں ہوا۔تو اِس اعتبار سے حضرت بھیروی کی عمر بیس سال بنتی ہے۔یعنی چھ سال کی عمر میں مفتی صدرالدین آزردہ کی خدمت میں پہنچے اور چودہ سال تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے۔سو یہ دونوں تاریخیں ان حقائق سے صحیح معلوم نہیں ہوتیں ہیں ۔قیاساًجو درست معلوم ہوتا ہےوہ تقریباًتیرہویں صدی کانصف یا اس سے قریب قریب ہے۔ (فقیر تونسویؔ غفرلہ )۔
تحصیلِ علم:
مولانا غلام قادر ابھی ایام طفلی میں ہی تھے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے علم دین کی تحصیل اور انسانیت کی ہدایت و خدمت کی بشارت دی۔ (تذکرہ علمائے لاہور:223)
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔پھر لاہور میں مولانا غلام محی الدین بگوی،اور مولانا احمد دین بگوی علیہما الرحمہ سے ابتدائی کتب پڑھنے کےبعد دہلی میں حضرت صدرالصدور کی خدمت میں پہنچے،اور تمام معقولات و منقولات کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے دستِ حق پرست پربیعت ہوکر، خلافت سے مشرف ہوئے۔فوز المقال میں ہے: ’’آپ دہلی سے لاہور قیام فرمائے۔تھوڑا عرصہ ہوا تھا کہ آپ بغرضِ بیعت سیال شریف حضرت خواجہ شمس العارفین کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے،حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کو پہلی نظر میں ہی کشفِ قلبی سے جانچ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی استعداد ودیعت فرمائی ہے کہ اگر صحیح طور پر نشو ونما کی گئی ت یہ جواں مہر تاباں کی طرح ایک جہاں کو منور کرےگا۔چنانچہ چند دنوں میں ہی حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کوبیعت فرماکر ظاہری و باطنی کمالات سے مالا مال کردیا۔حضرت مولانا بھیروی کو حضرت خواجہ سیالوی سے والہانہ محبت اور عشق تھا ۔
یہی محبت اور عشق تھا کہ جس کے باعث آپ نے اپنے شیخِ طریقت سے گہرا تعلق پیداکرلیا اور بالآخر آپ کو خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا گیا‘‘ ۔(فوز المقال فی خلفاءِ پیر سیال جلد اول)
آپ کے اور ادو اشغال میں حضور سیدنا غوث اعظم سے اویسی نسبت کی بنا پر قادریت کا غلبہ تھا ۔ مشہور تاریخ گواور تذکرہ نویس بزرگ مولانا غلام دستگیر نامی لکھتے ہیں: ’’آپ کو لاہور کا قطب سمجھا جاتا تھا‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت،ص، 326 / بحوالہ بزرگانِ لاہور، ص181) ۔
❤2
سیرت و خصائص:
استاذالاساتذہ، مقتدائے اہل سنت،حامیِ اہل سنت، ماحیِ بدعت، قاطعِ نجدیت و وہابیت، استاذا لعلماء، شمس الفضلاء، عمدۃ المحققین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، حضرت علامہ مولانا عبد القادر صاحب المعروف مولانا غلام قادر بھیروی قریشی ہاشمی چشتی سیالوی ۔
مولانا غلام قادر بھیروی اپنے وقت کے مقتدائے اہل سنت، جید عالم، ثقہ مدرس، عظیم اور مستند مفتی تھے ۔ زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ کے قوتِ حافظہ اور اور علمی قابلیت و استعداد کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ بڑے بڑے شہرہ آفاق علماء علمی مذاکرات کےلئے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، اور آپ کی باریک بینی، نکتہ سنجی، اور تفقہ فی الدین میں کمال کی تعریف کرتے نہ تھکتے، ذہانت و فطانت کا یہ عالم تھا کہ ہر علم کے ایک ایک بنیادی رسالے کا متن ازبر کر لیا تھا ۔
آپ تکمیلِ علوم کے بعد لاہور تشریف لائے اور اندرون بھاٹی دروازہ ، اونچی مسجد ، میں خطیب مقرر ہوئے، ان کی عالمانہ تقریر کی کشش سے دور دور کے لوگ حاضر ہونے لگے ۔بیگم شاہی مسجد کی متولیہ مائی جیواں آپ کے ارشادات سے اس قدرمتاثر ہوئیں کہ اپنی مسجد کا خطیب مقرر کردیا، بعد ازاں مسجد کی تولیت بھی آپ ہی کے سپرد کردی۔آپ کی وجہ سے بیگم شاہی مسجد تشنگان علم ِ مصطفیٰ کے لئے صلائے عام بن چکی تھی۔ اور لوگ شہر کےگوشے گوشے سے سمٹے چلے آتےتھے ۔ (تذکرہ اکابراہل سنت:326)
مسیحی مشنری کی سرگرمیاں:
جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے ذہنوں کو نئے سانچے میں ڈھالنے کا ایک پروگرام مرتب کیا ۔ انگلینڈ کے عیسائی مبلغین نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت پر زور دیا کہ ہندوستان میں کالج اور مشنری ادارے قائم کیے جائیں۔چنانچہ لاہور میں 1864 سے لےکر دس سال کے قلیل عرصے میں گورنمنٹ کالج، اورینٹل کالج، سنٹرل کالج، فورمین کرسچین کالج، چیف کالج، کنگ ایڈورڈ کالج، اور پنجاب یونیورسٹی جاری کر دیے گئے ۔ یہ زمانہ مسلمانوں کےلئے فکری اور اعتقادی ابتلاء کا دور تھا، کمزور مسلمان سکھ دور کی چیرہ دستیوں سے جانبر نہیں ہوا تھا کہ اسے جنگ آزادی کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔
قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ ان کے سینوں سے روحِ اسلام کو خارج کرنے کی منظم سازشیں ہونے لگیں۔کالجوں میں ان کے علم کو بدلا جانے لگا۔گرجوں میں دین کو مسخ کیا جانے لگا ۔ اور عوام کے اسلامی اعتقادت کی جڑوں کو کھوکھلا کتنے کے لیے وہابی، نیچری، مرزائی، اور دہریت جیسے ہزاروں فتنے حشرات الارض کی طرح چھوڑ دیے گئے۔ان اعتقادی فتنوں کی پشت پناہی میں انگریز کی ساری مشینری کام کر رہی تھی ۔ بے پناہ وسائل فراہم کیا جاتے ۔ خطابات عطا ہوتے، جاگیریں الاٹ ہوتیں، اور باقاعدہ تحریکیں چلائی جاتیں ۔ اس تمام بات کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کتنے درد سے پیش کیا ہے ۔
؏: وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں کبھی ۔۔۔۔روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہےیہ علاج۔۔۔۔۔ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
فکر عرب کو دےکر فرنگی تخیلات۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
ان حالات سنی علماء کرام نے اپنی بے سرو سامانی اور تہی دستی کے باوجود اسلام کی ٹمٹماتی ہوئی شمع کو جان کی بازی لگاکر طوفانوں کی زد سے بچایا۔وہ اپنے آقا ﷺ کے دین کی جس پامردی سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے،اس کی مثال نہیں ملتی۔ان عظیم راہنماؤں میں ایک نام مولانا غلام قادر بھیروی کا بھی ہے ۔ آپ نے سادہ لوح عوام کے اعتقاد کو بچانے کےلئے دن رات ایک کر دیا تھا ۔ وہ پیغامِ مصطفیٰ کو لاہور کی گلی گلی کوچہ کوچہ لیے پھرے ۔ ہر مسجد،ہر مکتب، ہر باغ، اور ہر مدرسہ قرآنی تعلیمات سے معمور ہو گیا ۔
اورینٹل کالج میں پروفیسر:
انگریزوں نے ابتداءً ان علوم کو فروغ دینے کا پروگرام بنایاجن میں مسلمانوں کا دینی ورثہ تھا۔یہ کالج در اصل ایک خطرناک سازش تھی۔مسلمان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان علوم کو حاصل کرتے، انہیں عربی و فارسی کے مختلف درجات طے کرانے کےبعد مستشرق بنادیا جاتا۔وہ غامدی صاحب کی طرح اسٹائلش مولانا اور ماڈرن علامہ بن کر ’’ شمس العلما ‘‘ جیسے بارعب خطاب پاتے ۔ اس طرح اسلام کی حقیقی روح کھینچ لی جاتی۔مولانا غلام قادر بھیروی اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری ایسے جوان ہمت علماء اس ’’ بت خانہ فرنگ ‘‘ میں کود پڑے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ طلباء کو حتی الامکان ان مسموم خیالات سے بچایا جائے، جو اس کالج میں سے لائے جارہےہیں۔انگریز اپنے خیالاتِ باطلہ و فاسدہ کو ’’مولویت، اور فضیلت‘‘ کے رنگ میں ذہنوں تک پہنچانا چاہتےتھے ۔ مگر ’’صنم خانۂ فرنگ‘‘ میں بیٹھ کر مولانا غلام قادر بھیروی نے ایک عرصے تک جو جہاد کیا۔وہ علمائے اہل سنت کی تاریخ میں ایک یادگار ہے ۔ (تذکرہ علمائے لاہور:227) ـ
استاذالاساتذہ، مقتدائے اہل سنت،حامیِ اہل سنت، ماحیِ بدعت، قاطعِ نجدیت و وہابیت، استاذا لعلماء، شمس الفضلاء، عمدۃ المحققین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، حضرت علامہ مولانا عبد القادر صاحب المعروف مولانا غلام قادر بھیروی قریشی ہاشمی چشتی سیالوی ۔
مولانا غلام قادر بھیروی اپنے وقت کے مقتدائے اہل سنت، جید عالم، ثقہ مدرس، عظیم اور مستند مفتی تھے ۔ زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ کے قوتِ حافظہ اور اور علمی قابلیت و استعداد کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ بڑے بڑے شہرہ آفاق علماء علمی مذاکرات کےلئے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، اور آپ کی باریک بینی، نکتہ سنجی، اور تفقہ فی الدین میں کمال کی تعریف کرتے نہ تھکتے، ذہانت و فطانت کا یہ عالم تھا کہ ہر علم کے ایک ایک بنیادی رسالے کا متن ازبر کر لیا تھا ۔
آپ تکمیلِ علوم کے بعد لاہور تشریف لائے اور اندرون بھاٹی دروازہ ، اونچی مسجد ، میں خطیب مقرر ہوئے، ان کی عالمانہ تقریر کی کشش سے دور دور کے لوگ حاضر ہونے لگے ۔بیگم شاہی مسجد کی متولیہ مائی جیواں آپ کے ارشادات سے اس قدرمتاثر ہوئیں کہ اپنی مسجد کا خطیب مقرر کردیا، بعد ازاں مسجد کی تولیت بھی آپ ہی کے سپرد کردی۔آپ کی وجہ سے بیگم شاہی مسجد تشنگان علم ِ مصطفیٰ کے لئے صلائے عام بن چکی تھی۔ اور لوگ شہر کےگوشے گوشے سے سمٹے چلے آتےتھے ۔ (تذکرہ اکابراہل سنت:326)
مسیحی مشنری کی سرگرمیاں:
جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے ذہنوں کو نئے سانچے میں ڈھالنے کا ایک پروگرام مرتب کیا ۔ انگلینڈ کے عیسائی مبلغین نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت پر زور دیا کہ ہندوستان میں کالج اور مشنری ادارے قائم کیے جائیں۔چنانچہ لاہور میں 1864 سے لےکر دس سال کے قلیل عرصے میں گورنمنٹ کالج، اورینٹل کالج، سنٹرل کالج، فورمین کرسچین کالج، چیف کالج، کنگ ایڈورڈ کالج، اور پنجاب یونیورسٹی جاری کر دیے گئے ۔ یہ زمانہ مسلمانوں کےلئے فکری اور اعتقادی ابتلاء کا دور تھا، کمزور مسلمان سکھ دور کی چیرہ دستیوں سے جانبر نہیں ہوا تھا کہ اسے جنگ آزادی کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔
قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ ان کے سینوں سے روحِ اسلام کو خارج کرنے کی منظم سازشیں ہونے لگیں۔کالجوں میں ان کے علم کو بدلا جانے لگا۔گرجوں میں دین کو مسخ کیا جانے لگا ۔ اور عوام کے اسلامی اعتقادت کی جڑوں کو کھوکھلا کتنے کے لیے وہابی، نیچری، مرزائی، اور دہریت جیسے ہزاروں فتنے حشرات الارض کی طرح چھوڑ دیے گئے۔ان اعتقادی فتنوں کی پشت پناہی میں انگریز کی ساری مشینری کام کر رہی تھی ۔ بے پناہ وسائل فراہم کیا جاتے ۔ خطابات عطا ہوتے، جاگیریں الاٹ ہوتیں، اور باقاعدہ تحریکیں چلائی جاتیں ۔ اس تمام بات کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کتنے درد سے پیش کیا ہے ۔
؏: وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں کبھی ۔۔۔۔روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہےیہ علاج۔۔۔۔۔ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
فکر عرب کو دےکر فرنگی تخیلات۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
ان حالات سنی علماء کرام نے اپنی بے سرو سامانی اور تہی دستی کے باوجود اسلام کی ٹمٹماتی ہوئی شمع کو جان کی بازی لگاکر طوفانوں کی زد سے بچایا۔وہ اپنے آقا ﷺ کے دین کی جس پامردی سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے،اس کی مثال نہیں ملتی۔ان عظیم راہنماؤں میں ایک نام مولانا غلام قادر بھیروی کا بھی ہے ۔ آپ نے سادہ لوح عوام کے اعتقاد کو بچانے کےلئے دن رات ایک کر دیا تھا ۔ وہ پیغامِ مصطفیٰ کو لاہور کی گلی گلی کوچہ کوچہ لیے پھرے ۔ ہر مسجد،ہر مکتب، ہر باغ، اور ہر مدرسہ قرآنی تعلیمات سے معمور ہو گیا ۔
اورینٹل کالج میں پروفیسر:
انگریزوں نے ابتداءً ان علوم کو فروغ دینے کا پروگرام بنایاجن میں مسلمانوں کا دینی ورثہ تھا۔یہ کالج در اصل ایک خطرناک سازش تھی۔مسلمان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان علوم کو حاصل کرتے، انہیں عربی و فارسی کے مختلف درجات طے کرانے کےبعد مستشرق بنادیا جاتا۔وہ غامدی صاحب کی طرح اسٹائلش مولانا اور ماڈرن علامہ بن کر ’’ شمس العلما ‘‘ جیسے بارعب خطاب پاتے ۔ اس طرح اسلام کی حقیقی روح کھینچ لی جاتی۔مولانا غلام قادر بھیروی اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری ایسے جوان ہمت علماء اس ’’ بت خانہ فرنگ ‘‘ میں کود پڑے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ طلباء کو حتی الامکان ان مسموم خیالات سے بچایا جائے، جو اس کالج میں سے لائے جارہےہیں۔انگریز اپنے خیالاتِ باطلہ و فاسدہ کو ’’مولویت، اور فضیلت‘‘ کے رنگ میں ذہنوں تک پہنچانا چاہتےتھے ۔ مگر ’’صنم خانۂ فرنگ‘‘ میں بیٹھ کر مولانا غلام قادر بھیروی نے ایک عرصے تک جو جہاد کیا۔وہ علمائے اہل سنت کی تاریخ میں ایک یادگار ہے ۔ (تذکرہ علمائے لاہور:227) ـ
❤2
انہی دنوں انگریزوں کو ایک فتوے کی ضرورت پیش آئی،متدین علماء نے صاف انکار کر دیا ، کالج سے متعلق علماء سے رجو ع کیا گیا تاکہ وہ وظیفہ خوار ہونے کی بناپر انگریز کے منشا کے مطابق فتویٰ صادر کر دیں گے۔جب مولانا غلام قادر بھیر وی کے سامنے دستخط کرنے کے لئے فتویٰ پیش کیا گیا تو انہوں نے استعفاء پیش کردیا اور فرمایا: ’’میں غلط فتویٰ نہیں دوں گا ۔ پرنسپل کو اتنے بڑے فاضل کا کالج چھوڑجانا بڑا ناگوار تھا ۔ انہوں نے پھرلکھا کہ آپ فتویٰ نہ دیں مگر کالج کو نہ چھوڑیں، مگر آپ نےلکھا کہ میں غلط فتوے لکھنےکےلئے ملازمت نہیں کرسکتا ۔ پرنسپل نے لاہور واپس آکر حضرت مولانا کو بلایا تو آپ نے فرمایا مجھے خواب میں میرے آقا مدنی ﷺ نے حکم دیا ہے کہ اب میں صرف قرآن وحدیث پڑھایا کروں۔ میری تنخواہ اللہ کے خزانے سے ہرماہ آیا کرےگی‘‘۔ (تذکرہ علمائے لاہور، ص:228)
اخراج الوہابیین:
اس دورمیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں بداعتقاد مولوی بھی مختلف نظریات لےکر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے۔لاہور بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں تھا۔یہ مولوی سادہ لوح عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے مساجد میں گھس آتے، مناظرہ بازی شروع کر دیتے ۔
جس سے اکثر فساد کاخطرہ ہوتا ۔ چونکہ یہ فتنے انگریز کے خود کاشتہ پودے تھے ۔ اس لئے انہیں سنی علماء سے فساد کرتے وقت انگریز کی شہ حاصل ہوتی ۔ ہمارے ان بزرگوں کے ہاں سب کچھ قبول تھا،مگر اپنے آقا ﷺ کی توہین کا خفیف پہلو بھی ان کی قوتِ برداشت کا امتحان ہوتا۔
مولانا غلام قادر بھیروی نے ان مفسد لوگوں کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے اپنی مسجد کی پیشانی پر یہ عبارت کندہ کروادی تھی جو اب بھی موجود ہے۔’’باتفاق انجمن حنفیہ وحکم شرع شریف قرار پایا کہ کوئی وہابی، رافضی، نیچری، مرزائی مسجد ہذا میں نہ آئے اور خلاف مذہبِ حنفی کوئی بات نہ کرے۔فقیر غلام قادر عفی عنہ متولی بیگم شاہی مسجد‘‘۔
پیر زادہ مولانا اقبال احمد فاروقی فرماتےہیں: یہ بات مولانا کی مسجد کی تختی تک ہی محدود نہ تھی بلکہ بیگم شاہی مسجد میں جب بھی کوئی بداعتقاد بغرض فساد گھس آتا،تو مولانا اسے بہ یک بینی دوگوش باہر نکال دیتے،مسجد کا فرش دھلاتے، اگر وہ بداعتقاد حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتاتو اسے دھکے دےکر باہر کرتےاور مسجد کافرش اکھاڑ دیتے، جہاں ایسا بد زبان کھڑا ہوا تھا ۔ (تذکرہ علمائے لاہور، ص:230) ـ
مدرسہ نعمانیہ کا آغاز:
لاہور میں مختلف مکاتب فکر کی سرگرمیوں کو دیکھ کرچند حساس سنی مسلمانوں نے مختلف مدارس قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ چناچہ ان دنوں اہل سنت کی ’’انجمن حنفیہ‘‘ نے ’’مدرسہ نعمانیہ‘‘ قائم کیا۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں تک ہے، جو پاک وہند کی دینی دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔ مگر ان حضرات میں سے حضرت پیر جماعت علی شاہ، قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی،مولانا محمد نبی بخش حلوائی، مولانا محمد عالم امرتسری علیہم الرحمہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف پر بھی خاص توجہ دی ۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم سےلےکر عمر رسیدہ مسلمانوں کےلئے مختلف تصانیف پیش کیں ۔
تاریخِ وصال:
19 ربیع الاول 1327ھ مطابق اپریل 1909ء کوواصل باللہ ہوئے ۔ بیگم شاہی مسجد لاہور میں محوِ استراحت ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-qadir
اخراج الوہابیین:
اس دورمیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں بداعتقاد مولوی بھی مختلف نظریات لےکر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے۔لاہور بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں تھا۔یہ مولوی سادہ لوح عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے مساجد میں گھس آتے، مناظرہ بازی شروع کر دیتے ۔
جس سے اکثر فساد کاخطرہ ہوتا ۔ چونکہ یہ فتنے انگریز کے خود کاشتہ پودے تھے ۔ اس لئے انہیں سنی علماء سے فساد کرتے وقت انگریز کی شہ حاصل ہوتی ۔ ہمارے ان بزرگوں کے ہاں سب کچھ قبول تھا،مگر اپنے آقا ﷺ کی توہین کا خفیف پہلو بھی ان کی قوتِ برداشت کا امتحان ہوتا۔
مولانا غلام قادر بھیروی نے ان مفسد لوگوں کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے اپنی مسجد کی پیشانی پر یہ عبارت کندہ کروادی تھی جو اب بھی موجود ہے۔’’باتفاق انجمن حنفیہ وحکم شرع شریف قرار پایا کہ کوئی وہابی، رافضی، نیچری، مرزائی مسجد ہذا میں نہ آئے اور خلاف مذہبِ حنفی کوئی بات نہ کرے۔فقیر غلام قادر عفی عنہ متولی بیگم شاہی مسجد‘‘۔
پیر زادہ مولانا اقبال احمد فاروقی فرماتےہیں: یہ بات مولانا کی مسجد کی تختی تک ہی محدود نہ تھی بلکہ بیگم شاہی مسجد میں جب بھی کوئی بداعتقاد بغرض فساد گھس آتا،تو مولانا اسے بہ یک بینی دوگوش باہر نکال دیتے،مسجد کا فرش دھلاتے، اگر وہ بداعتقاد حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتاتو اسے دھکے دےکر باہر کرتےاور مسجد کافرش اکھاڑ دیتے، جہاں ایسا بد زبان کھڑا ہوا تھا ۔ (تذکرہ علمائے لاہور، ص:230) ـ
مدرسہ نعمانیہ کا آغاز:
لاہور میں مختلف مکاتب فکر کی سرگرمیوں کو دیکھ کرچند حساس سنی مسلمانوں نے مختلف مدارس قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ چناچہ ان دنوں اہل سنت کی ’’انجمن حنفیہ‘‘ نے ’’مدرسہ نعمانیہ‘‘ قائم کیا۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں تک ہے، جو پاک وہند کی دینی دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔ مگر ان حضرات میں سے حضرت پیر جماعت علی شاہ، قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی،مولانا محمد نبی بخش حلوائی، مولانا محمد عالم امرتسری علیہم الرحمہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف پر بھی خاص توجہ دی ۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم سےلےکر عمر رسیدہ مسلمانوں کےلئے مختلف تصانیف پیش کیں ۔
تاریخِ وصال:
19 ربیع الاول 1327ھ مطابق اپریل 1909ء کوواصل باللہ ہوئے ۔ بیگم شاہی مسجد لاہور میں محوِ استراحت ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-qadir
scholars.pk
Hazrat Molvi Ghulam Qadir Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا عبد الحیٔ فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
ابو الحسنات کُنّیت، بمقام باندہ ذوقعدہ ۱۲۶۴ھ میں ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
گیارہ برس کی عمر میں حافظ قرآن پاک اور سترہ ۱۷ برس میں علوم متعارفہ کی ولاد بزرگوار مولانا عبد الحلیم قدس سرہٗ سے تحصیل کر کے فارغ ہوئے ـ
دو بار حرمین معظمین کی حاضری وزیارت سے شاد کام ہوئے، پہلی مرتبہ ۱۲۷۹ھ میں اور دوسری بار ۱۲۹۶ھ میں، آپ کو شیخ الاسلام سیداحمد وحلان مکی قدس سرہٗ سے سند حدیث حاصل تھی ـ
ایک عالم آپ کے فیضان علم سے مستفید ہوا، درجنوں وفنون کی کتابیں تصنیف کیں، نواب صدیق حسن بھوپالی کی غیر مقلدیت کی تردیدی میں رسالے تصنیف کیے، ۳۸برس کی مختصر عمر میں کاہائے نمایاں انجام دیئے ۔
حضرت مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی، حضرت مولانا سید عین القضاۃ لکھنوی وغیرہ جیسے بڑے بڑے نامور علماء آپ کے شاگردوں میں سے تھے۔۔۔
وصال:
۱۹ ربیع الاول ۱۳۰۴ھ بروز شنبہ آپ کا وصال ہوا ـ قبر باغ مولانا انوار میں پختہ بنی ہوئی ہے،۔۔۔
راقم حالات نے ۹ ربیع الثانی ۱۳۹۰ھ موافق ۱۳ جون ۱۹۷۰ھ بروز شنبہ ۱۲ بج کر پانچ منٹ پر آپ کے مرقد پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل کیا یہ مصرعۂ تاریخ رحلت ہے ؎ ‘‘ شد فرنگی محل زعلم تہی’’ ۱۳۰۴ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-hayee-farangi-mahalli
ولادت:
ابو الحسنات کُنّیت، بمقام باندہ ذوقعدہ ۱۲۶۴ھ میں ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
گیارہ برس کی عمر میں حافظ قرآن پاک اور سترہ ۱۷ برس میں علوم متعارفہ کی ولاد بزرگوار مولانا عبد الحلیم قدس سرہٗ سے تحصیل کر کے فارغ ہوئے ـ
دو بار حرمین معظمین کی حاضری وزیارت سے شاد کام ہوئے، پہلی مرتبہ ۱۲۷۹ھ میں اور دوسری بار ۱۲۹۶ھ میں، آپ کو شیخ الاسلام سیداحمد وحلان مکی قدس سرہٗ سے سند حدیث حاصل تھی ـ
ایک عالم آپ کے فیضان علم سے مستفید ہوا، درجنوں وفنون کی کتابیں تصنیف کیں، نواب صدیق حسن بھوپالی کی غیر مقلدیت کی تردیدی میں رسالے تصنیف کیے، ۳۸برس کی مختصر عمر میں کاہائے نمایاں انجام دیئے ۔
حضرت مولانا شاہ محمد حسین الہ آبادی، حضرت مولانا سید عین القضاۃ لکھنوی وغیرہ جیسے بڑے بڑے نامور علماء آپ کے شاگردوں میں سے تھے۔۔۔
وصال:
۱۹ ربیع الاول ۱۳۰۴ھ بروز شنبہ آپ کا وصال ہوا ـ قبر باغ مولانا انوار میں پختہ بنی ہوئی ہے،۔۔۔
راقم حالات نے ۹ ربیع الثانی ۱۳۹۰ھ موافق ۱۳ جون ۱۹۷۰ھ بروز شنبہ ۱۲ بج کر پانچ منٹ پر آپ کے مرقد پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل کیا یہ مصرعۂ تاریخ رحلت ہے ؎ ‘‘ شد فرنگی محل زعلم تہی’’ ۱۳۰۴ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-hayee-farangi-mahalli
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Hayee Farangi Mahalli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
❤2
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
❤2
شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں: ’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی ، وعلم ِدل من ذات ِ شیخ علاء الدین احمدسرایت کردہ‘‘۔یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے،اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:67/خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)۔شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی،تواضع وانکساری،اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔تو آپ نے خوش ہوکر فرمایا: نظام الدین محبوبِ الہ ہیں،اور علاء الدین عاشق ِ الہ ہیں۔(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
scholars.pk
Hazrat Khawaja Makhdoom Alauddin Ali Ahmad Sabir Kaliyari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-03-1445 ᴴ | 04-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1445 ᴴ | 05-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2