🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-03-1445 ᴴ | 04-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-03-1445 ᴴ | 04-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ بکر بن محمد بن علی زرنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
بکر بن محمد علی بن فضل بن حسن زرنجانی: ۴۲۷ھ میں بخارا کے متصل قصبہ زرنگر میں جو معرب بزرنجر ہے، پیدا ہوئے ۔

تعلیم:
فقہ شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی شاگرد ابی علی نسفی سے حاصل کی اور حدیث کو ابا محمد عبد العزیز بن محمد حلوائی اور ابا سہل احمد بن علی ابیوروی اور حافظ ابا حفص عمر بن منصور اور حافظ ابا مسعود احمد بن محمد بن عبداللہ بجلی اور ابا القاسم میمون بن علی بن میمون اور ابا عبداللہ ابراہیم بن علی طبری اور حافظ ابا یعقوب یوسف بن منصور اور ابا عمر و محمد بن عبد العزیز قنطری وغیرہ محدثین کثیر سے سماعت کیا،یہاں تک کہ فقہ و حدیث میں امام متقن اور مذہب حنفیہ کے عارف اور اس کے حفظ میں ضرب المثل ہوکر شمس الائمہ کے لقب سے ملقب او ر ابی حنیفہ اصغر کے نام سے پکارے جاتے تھے، فتاویٰ اور جواب و قائع میں بڑے مصیب تھے ۔

فقہاء کو جب کسی مسئلہ میں اشکال واقع ہوتا تو آپ کی طرف رجوع لاتے اور آپ سے حکم کے کواستگار ہوتے۔حفظ روایات میں آپ کا حافظ اس درجہ کا تھا کہ جب کوئی متفقہ کسی جگہ سے بڑھتا یا سوال کرنا چاہتا تو آپ بغیر رجوع کتاب کے فوراً بتا دیتے، بسبب آپ کی عمر زیادہ ہونے بہت علم آپ سے پھیلا او ر تحدیث و املا کثیر آپ سے وقوع میں آیا ۔

ابو جعفر احمد بن محمد بن احمد نے بلخ میں اور عبداللہ محمد بن یعقوب کاشانی نے سرخس میں اور ابو الفضل محمد بنعلی نے سمر قند میں اور ابو محمد عبد الحلیم بن محمد نے بخارا میں آپ سے روایت کی، علاوہ اس کے حسب اور تواریخ میں آپ کو معرفت تامہ حاصل تھی ـ

وصال:
چنشنبہ کی صبح ۱۹ ربیع الاول یا شعبان ۵۱۲ھ کو فوت ہوئے اور بخارا میں مقام کلا باذ میں دفن کیے گئے ۔ قبر آپ کی زیارت گاہ عام ہے ۔ ’’ عالی نشان ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bakr-bin-muhammad-bin-ali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ شبلی پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اپنے والد شیخ جلال الدین پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ظاہری علوم میں یکتائے زمانہ تھے باطنی علوم میں کمال حاصل کیا اور راہ طریقت میں گامزن ہوئے تجرید و تفرید میں کمال پایا اہل دنیا اور علایق دنیا سے ہمیشہ دور رہے صاحب سیر الاقطاب لکھتے ہیں کہ آپ مجالس سماع برپا کرتے اور ذوق و مستی میں وجد کرتے چونکہ آپ کی ٹانگیں کسی جسمانی بیماری سے بیکار ہوچکی تھیں۔

آپ چلنے پھرنے سے معذور تھے مگر مجلس سماع میں وجد اور رقت میں یہ رکاوٹ سامنے نہ آتی تھی۔ آپ سب سے زیادہ وجد کرتے بعض اوقات آپ رقص و وجد کی حالت میں چھت تک جا پہنچتے ایک بار وجد کی ایسی ہی حالت میں آپ کے چچا شیخ اواش موجود تھے آپ نے آگے بڑھ کر آپ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا شبلی یہ تو اظہار کرامت ہے اور کرامت برسر مجلس نہیں دکھائی جاتی اس دن کے بعد آپ نے کبھی وجد و رقت کا اظہار نہیں فرمایا اور ہمیشہ خاموشی سے سماع سنتے تھے ۔

شیخ شبلی کے زیادہ مرید افغان تھے آپ نے ایک دن دعا کی کہ میرے مرید افغانوں کے تیر کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوگا اس دن سے افغان ایسے نشانہ باز ہوئے کہ کبھی کوئی تیر نشانہ خطا نہ کرتا تھا یہ افغان جس لشکر میں ہوتے دشمن کو تیروں کے نشانے میں لاکر تباہ کر دیتے تھے۔ ایک بار ایک افغان نے اس دعا کو آزمانے کے لیے ایک تیر آسمان کی طرف پھینکا جب تیر واپس آیا تو تیر ایک اژدہا کو چیرتا ہوا واپس آیا تھا تو کہنے لگا واقعی اولیاء اللہ کی کرامت حق ہے جن کے کہنے پر ایک تیر نشانے کو خطا نہیں کرتا ان کی زبان سے نکلا ہوا تیر کب خطا ہوتا ہے ۔

سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال ۸۵۲ھ لکھی ہے ۔

شد چو از دنیا بحنت یافت جا
حضرت شبلی شہِ ہر دوسرا
۸۵۲ھ

سال وصل اوبگو شبلی تقی
نیز شبلی واصل دین پیشوا
۸۵۲ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shibli-panipati
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ محمد عابد سندھی مدنی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ محمد عابد ۔ لقب: رئیس العلماء، فقیہِ اعظم، محدث، محقق، صوفی، شیخ العرب والعجم ۔ آپ مولداً سندھی ۔ نسباً ایوبی ۔ موطناً مدنی ۔ مسلکاً حنفی ۔ مشرباً ۔ نقشبندی تھے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ محمد عابد بن شیخ احمد علی بن شیخ الاسلام محمد مراد بن حافظ محمد یعقوب بن محمود انصاری بن عبد الرحمن بن عبد الرحیم بن محمد انس بن عبد اللہ بن محمد جابر بن محمد خالد بن مالک بن ابی عوف بن حسان بن سالم بن اشعث بن مت بن ثعلبہ بن جنید بن مقدم بن شرحبیل بن اشعث بن مت بن صحابیِ رسول حضرت ابوایوب انصاری (رحمہم اللہ عنہم اجمعین) ۔ (الامام الفقیہ محمد عابدالسندی الانصاری، مطبوعہ دار البشائر الاسلامیہ، بیروت، ص:55) ۔

آپ کے والدِ گرامی مولانا شیخ احمد علی، چچا شیخ محمد حسین انصاری، اور جد امجد شیخ الاسلام مولانا محمد مراد اپنے وقت کے جید عالم و عارف تھے ۔ مولانا محمد مرار حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی کے تلمیذِ خاص تھے ۔ شیخ محمد مراد نے حرمین شریفین کی محبت کی وجہ سے اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ 1194ھ میں حجاز ِ مقدس کی طرف ہجرت فرمائی۔

ابتداءً مکۃ المکرمہ میں رہائش پذیر ہوئے اور پھر جدہ میں سکونت اختیار کرلی، یہیں پر 1198ھ میں ان کا انتقال ہوا ۔پھر ان کے خاندان نے حجاز سے یمن کی طرف ہجرت فرمائی اور ابتداءً شہر حدیدہ میں سکونت اختیار کی پھر صنعاء منتقل ہو گئے ۔ جہاں مخلوقِ خدا اور دین اسلام کی خدمت کرتے رہے ۔ (ایضا، ص:90)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1190ھ مطابق 1776ء کو ’’ سیوہن شریف ‘‘ سندھ پاکستان میں ہوئی ۔ (ایضا، ص:107)

تحصیلِ علم:
آپ کا خاندان علم و فضل میں اپنی مثال آپ تھا ۔ آپ کے جد امجد مولانا محمد مراد اپنے وقت کے عظیم محدث اور سبعہ عشرہ کے قاری تھے ۔ اسی طرح آپ کے والدِ گرامی اور چچا علم الادیان وعلم الابدان کے ماہر تھے ۔ ان کا فیض عرب و عجم کو شامل رہا ۔ آپ کی تعلیم و تربیت انہی نفوسِ قُدسیہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ ان کے علاوہ یمن کے علمی مرکز زبیدہ کےشیوخ سے علمی استفادہ کیا ۔اسی طرح حرمین شریفین کے شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ کیا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ، ص:768)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ محمد زمان ثانی صدیقی (لواری شریف) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
الامام العالم العلامہ، القدوۃ الفہامہ، خاتمۃ المحققین، عمدۃ المدققین، فخر العلماء الراسخین، سید الفضلاء المقدسین، سند العارفین، حجۃ الواصلین، امام الحرمین، عالم ربانی، صاحبِ اسرار و معارفِ رحمانی حضرت علامہ مولانا شیخ محمد عابد سندھی مدنی یمنی انصاری ۔

آپ اپنے وقت کے عظیم محدث اور فقیہ ِ یگانہ تھے ۔ علماء و شیوخِ عرب و عجم نے آپ کی ثقاہت، فقاہت، اور علمی بصیرت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ عمدہ الفاظ میں خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے۔

چنانچہ مفسر کبیر علامہ شہاب الدین ابو الثناء محمود بن عبد اللہ (صاحبِ روح المعانی) اپنی کتاب ’’شہی النغم فی ترجمۃ شیخ الاسلام عارف الحکم‘‘ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ومنھم بحر الرائق، و کنز الدقائق، ومن کلامہ تنویر الابصار، و الدر المختار، ذو التالیف الشریفۃ، و قرۃ عین الامام الاعظم ابی حنیفۃ، العالم الزاہد الشیخ محمد عابد غمرہ اللہ بمزید العوائد‘‘ ۔ (شیخ محمد عابد السندی:156)

درس و تدریس:
تدریس کا آغاز زبیدہ ( یمن ) سے کیا ۔ یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں بھی درس و تدریس کی مسند پر جلوہ افروز رہے۔ یمن کے بادشاہ کے شاہی طبیب بھی رہے۔بادشاہ کے وزیر نے آپ کے علم و فضل کے پیشِ نظر اپنی بیٹی آپ کے نکاح میں دے دی ۔ اسی طرح آپ فہم و فراست اور صلاحیت کی بناء پر بادشاہِ یمن کی جانب سے بادشاہ مصر کی جانب سفیر بن کر گئے ، دونوں ملکوں کی طرف سے سفارتی تعلقات کو اپنی علمی بصیرت اور ذہنی صلاحیت سے بہتر بنایا۔ اس طرح علامہ محمد عابد سندھی کو دونوں ملکوں میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے علم و فضل سے فقط عام نہیں بلکہ خاص الخاص بھی استفادہ کرتے تھے۔

ان کے زندگی کا اکثر حصہ یمن میں گذرا۔ یمن میں اس قدر عزت و منزلت کے باوجودآپ کا دل مدینہ منورہ کے لئے تڑپتا رہتا تھا ۔ یہ سب کچھ شہنشاہِ مدینہ حضور پر نورﷺکے عشق و محبت کی وجہ سے تھا۔ اسی محبت کی خاطر آپ نے تمام اعزازات و مناصب قربان کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور حبیبِ خدا ﷺ کے شہر میں رہنے لگے۔مدینۃ المنورہ میں آپ نے درس و تدریس اور و عظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کر دیا ۔آپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاسدوں کو گوارہ نہ ہوئی ۔ انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایک محاذ کھول لیا ۔ جس کی بناء پر آپ کو مدینۃ المنورہ سے ترکِ سکونت کرنی پڑی اور واپس یمن آ گئے ۔
1
قید و بند:
جب آپ یمن واپس آئے تو یہاں بھی انقلاب آچکا تھا ۔ وہاں قاضی حسین بن علی حازمی مقرر ہوئے تھے جو کہ زیدی شیعہ تھے۔ اس نے یہ بدعت نکالی کہ اذان فجر سے الصلوۃ خیر من النوم کو نکالا جائے اور اس کی جگہ ’’ حی علی الخیر ‘‘ کا اضافہ کیا جائے ۔ لیکن عام مسلمانوں نے قاضی کے حکم پر کوئی توجہ نہیں دی اور پاگل کی بڑسمجھ کر اس خیالِ باطل کو سراسر ٹھکرا دیا۔ عدمِ عمل کی صورت میں قاضی نے چالیس حنفی علماء کو گرفتار کرنے کا آڈر جاری کیا ان چالیس میں سر فہرست علامہ محمد عابد سندھی تھے ۔ علامہ سندھی کو جیل میں سخت اذیت ناک تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ دوسرے علماء تو چھوڑ دیے گئے لیکن آپ کو نہیں چھوڑاگیا،بلکہ کوڑے مارے گئے اور شہر بدری کا حکم دیا گیا ۔ (سندھ کے صوفیاءِ نقشبند جلد اول:560)

جب آزادی ملی تو حالات ناساز گار کی وجہ سے آبائی وطن سندھ واپس آنے کا پروگرام مرتب کیا ۔ یہاں پیر خانہ پر حاضری دی کچھ روز حضرت خواجہ کی صحبت میں رہ کر فیض یاب ہوئے ۔ روضہ رسول ﷺ کی جدائی بہت شاق گذر رہی تھی ، اندر ہی اندر دل مدینہ منورہ کے لئے پگھل رہا تھا۔حضرت خواجہ صاحب نے عاشق مدینہ کی یہ کیفیت نور بصیرت سے محسوس کر کے انہیں مدینہ منورہ کے لئے واپسی کی اجازت اورکثیردعاؤں سےرخصت کیا۔ سندھ سے واپسی کے بعد مدینہ منورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ اس بار کا یا ہی پلٹی ہوئی تھی ۔ اللہ کے ولی کی دعاوٗں نے رنگ دکھایا، حالات ہر طرف ساز گار تھے۔ محبین و معتقدین کے حلقہ میں اضافہ تھا۔ سندھ کے عظیم حنفی محدث نے اطمینان قلبی کے ساتھ مدینہ شریف میں درس و تدریس ، تحریر و تصنیف ، عبادت و ریاضت ، ذکر و فکر ، تہجد و نوافل ، اور کثرت درود شریف کے معمولات میں مصروف و مشغول ہو گئے ۔ انہیں مصروفیات میں مشغول تھے کہ بغیر کوشش وکاوش کے بادشاہ مصر نے آپ کو مدینہ منورہ کا ’’رئیس العلماء ‘‘ کے مقام و منصب سے نوازا۔ آپ مدینہ منورہ کے مذاہب اربعہ ( حنفی ، مالکی ، شافعی ، حنبلی ) علماء کے رئیس قرار پائے۔عرب و عجم، شرق تاغرب علماء و مشائخ نے آپ سے استفادہ کیا ۔

آپ کے تلامذہ میں بڑے بڑے شیوخ اور نامور علماء کرام ہیں۔

1۔امام مسجد الحرام شیخ حسین بن صالح جمل اللیل حنفی ۔ (ان سے اعلیٰ حضرت نے سند ِحدیث حاصل کی تھی)۔

2۔سیف اللہ المسلول علامہ شاہ فضل رسول بدایونی ۔

3۔ حضرت علامہ خواجہ ابو سعید مجددی رامپوری ۔ وغیرہ علیہم الرحمہ ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ، ص:770)

علم حدیث:
حدیث سے آپ کے شغف اور قلبی لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف علم حدیث کا درس دیا کرتے تے اور دوسری طرف احادیث کو اپنے ہاتھ سے تحریر بھی فرمایا کرتے تھے ۔ چنانچہ صحاح ستہ کو بڑی باریک قلم سے صرف ایک جلد میں اپنے ہاتھ سے تحریر کرکے اپنے مرشد کے آستانے پر پیش کیا ۔

تصنیف و تالیف:
علامہ محمد عابد سندھی صاحب تصانیفِ کثیرہ تھے ۔ دو درجن سے زیادہ کتب مختلف علوم و فنون پر تحریر فرمائی ہیں ۔ ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں ۔

1۔ طوالع الانوار شرح الدر المختار (آٹھ جلدیں) ۔ منحۃ الباری فی جمع مکررات البخاری ۔ شرح مسند ابی حنیفہ ۔ شرح بلوغ المرام ۔ حصرالشارد فی اسانیدِ محمد عابد ۔ اسی طرح نجدی عقائد کے رد میں بھی کتب و رسائل تحریر فرمائے ۔

1۔رسالہ ردِ عقائدِ نجدیہ ۔
2 کتاب الشمالی و یوم مولدہ ﷺ بحوالہ البشریٰ لمن احتفل بمیلا د المصطفیٰ ۔
3۔ رسالۃ فی جواز الاستغاثۃ والتوسل، و صدور الخوارق من الاولیاء المقبورین ۔
4۔ رسالۃ فی التوسل و انواعہ واحکامہ۔5۔ رسالۃ فی کرامات الاولیاء والتصدیق بھا ۔
6۔ شفا ء قلب کل سؤول فی جواز من تسمی بعبد النبی و عبد الرسول ۔ وغیرہ ۔ آپ کی اولاد صغرِ سنی میں انتقال کر گئی ۔

تاریخِ وصال:
17 ربیع الاول 1257ھ، مطابق 10 مئی 1841ء، بروز پیر،یہ خادم الاسلام واصل باللہ ہوئے ۔ جنت البقیع مدینۃ المنورہ میں حضرت عثمان غنی کے مقبرے کے دروازے سے متصل جگہ نصیب ہوئی ۔ (الشیخ محمد عابد السندی الانصاری، ص:125) ـ

یہ عالی شان مقبرہ و دیگر مزاراتِ مبارکہ سعودی حکومت کی ’’ ابلیسی توحید ‘‘ کی نذر ہو گئے ۔ البتہ ان کی عیاشی و بےضمیری و ملت فروشی اور یہود و نصاریٰ سے دلی قربت چھپی ہوئی نہیں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abid-ansari-madani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
قطبِ لاہور حضرت مولانا غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
عبد القادر ۔ عرفی نام: غلام قادر بھیروی ۔ لقب: قطبِ لاہور، عارف باللہ، استاذ العلماء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف باللہ حضرت علامہ مولانا غلام قادربھیروی بن مولانا عبد الحکیم بن مولانا جان محمد بن مولانا محمد صدیق۔علیہم الرحمہ ۔

آپ خاندانِ قریش کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے مورث اعلیٰ سندھ کے باسی تھے۔تسخیر ِ سندھ کے بعد سندھ میں مقیم ہوگئے۔بعد ازاں سیاسی انقلابات سے متاثر ہوکر سندھ سے بھیرہ شریف پنجاب میں اقامت گزیں ہوگئے۔آپ کے والد گرامی مولانا عبدالحکیم صاحب ایک جید عالم اور خدا ترس بزرگ تھے۔اسی طرح آپ کے دوحقیقی بھائی بھی صاحبِ علم و فضل تھے ۔ (فروغِ علم میں خانوادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار:186)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ’’ الیواقیت المہریہ ‘‘ تذکرہ اکابر اہل سنت، اور فیضانِ شمس العارفین، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ‘‘ میں 1265ھ مطابق 1849ء ہے، اور اسی طرح ’’فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول، اور فروغِ علم میں خانودادۂ سیال شریف اور ان کے خلفاء کا کردار‘‘ میں 1214ھ مطابق 1825ء تحریر ہے۔ حالانکہ1214ھ / مطابق 1799ء ہے، نہ کہ 1825ء ۔

یہ دونوں تاریخیں قابلِ غور ہیں ۔ جیسا کہ تمام تذکروں میں ہے کہ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد لاہور میں استاذ العلماء مولانا غلام محی الدین بُگوی (م1273ھ) کے مدرسے میں ابتدائی کتبِ دینیہ کی تحصیل میں مصروف تھے ۔

ابتدائی کتب کی تعلیم یقیناً قرآن ِ مجید کی تکمیل کےبعد ہی شروع ہوئی ہوگی،جیساکہ عام رواج ہے۔ 1265ھ کے حساب سے 8 سال عمر بنتی ہے، اور 1214ھ کے حساب سے59 سال ۔ اسی طرح یہ بھی لکھاہے کہ ابتدائی کتب ِ دینیہ کے پڑھنے کے بعد دہلی میں صدر الصدور مولانا مفتی صدرالدین آزردہؔ کے پاس مزید تحصیلِ علم کےلئے حاضر ہوئے،اور ان کی خدمت میں چودہ سال رہ کر علوم عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل فرمائی۔مفتی صاحب کا وصال 1285ھ میں ہوا۔تو اِس اعتبار سے حضرت بھیروی کی عمر بیس سال بنتی ہے۔یعنی چھ سال کی عمر میں مفتی صدرالدین آزردہ﷫ کی خدمت میں پہنچے اور چودہ سال تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے۔سو یہ دونوں تاریخیں ان حقائق سے صحیح معلوم نہیں ہوتیں ہیں ۔قیاساًجو درست معلوم ہوتا ہےوہ تقریباًتیرہویں صدی کانصف یا اس سے قریب قریب ہے۔ (فقیر تونسویؔ غفرلہ )۔

تحصیلِ علم:
مولانا غلام قادر ابھی ایام طفلی میں ہی تھے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے علم دین کی تحصیل اور انسانیت کی ہدایت و خدمت کی بشارت دی۔ (تذکرہ علمائے لاہور:223)

ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔پھر لاہور میں مولانا غلام محی الدین بگوی،اور مولانا احمد دین بگوی علیہما الرحمہ سے ابتدائی کتب پڑھنے کےبعد دہلی میں حضرت صدرالصدور﷫ کی خدمت میں پہنچے،اور تمام معقولات و منقولات کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے دستِ حق پرست پربیعت ہوکر، خلافت سے مشرف ہوئے۔فوز المقال میں ہے: ’’آپ دہلی سے لاہور قیام فرمائے۔تھوڑا عرصہ ہوا تھا کہ آپ بغرضِ بیعت سیال شریف حضرت خواجہ شمس العارفین کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے،حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کو پہلی نظر میں ہی کشفِ قلبی سے جانچ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی استعداد ودیعت فرمائی ہے کہ اگر صحیح طور پر نشو ونما کی گئی ت یہ جواں مہر تاباں کی طرح ایک جہاں کو منور کرےگا۔چنانچہ چند دنوں میں ہی حضرت خواجہ سیالوی نے آپ کوبیعت فرماکر ظاہری و باطنی کمالات سے مالا مال کردیا۔حضرت مولانا بھیروی کو حضرت خواجہ سیالوی سے والہانہ محبت اور عشق تھا ۔

یہی محبت اور عشق تھا کہ جس کے باعث آپ نے اپنے شیخِ طریقت سے گہرا تعلق پیداکرلیا اور بالآخر آپ کو خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا گیا‘‘ ۔(فوز المقال فی خلفاءِ پیر سیال جلد اول)

آپ کے اور ادو اشغال میں حضور سیدنا غوث اعظم سے اویسی نسبت کی بنا پر قادریت کا غلبہ تھا ۔ مشہور تاریخ گواور تذکرہ نویس بزرگ مولانا غلام دستگیر نامی لکھتے ہیں: ’’آپ کو لاہور کا قطب سمجھا جاتا تھا‘‘ ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت،ص، 326 / بحوالہ بزرگانِ لاہور، ص181) ۔
2
سیرت و خصائص:
استاذالاساتذہ، مقتدائے اہل سنت،حامیِ اہل سنت، ماحیِ بدعت، قاطعِ نجدیت و وہابیت، استاذا لعلماء، شمس الفضلاء، عمدۃ المحققین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، حضرت علامہ مولانا عبد القادر صاحب المعروف مولانا غلام قادر بھیروی قریشی ہاشمی چشتی سیالوی ۔

مولانا غلام قادر بھیروی اپنے وقت کے مقتدائے اہل سنت، جید عالم، ثقہ مدرس، عظیم اور مستند مفتی تھے ۔ زمانۂ طالب علمی میں ہی آپ کے قوتِ حافظہ اور اور علمی قابلیت و استعداد کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ بڑے بڑے شہرہ آفاق  علماء علمی مذاکرات کےلئے آپ کی بارگاہ  میں حاضر ہوتے، اور آپ کی باریک بینی، نکتہ سنجی، اور تفقہ فی الدین میں کمال کی تعریف کرتے نہ تھکتے، ذہانت و فطانت کا یہ عالم تھا کہ ہر علم کے ایک ایک بنیادی رسالے کا متن ازبر کر لیا تھا ۔

آپ تکمیلِ علوم کے بعد لاہور تشریف لائے اور اندرون بھاٹی دروازہ ، اونچی مسجد ، میں خطیب مقرر ہوئے، ان کی عالمانہ تقریر کی کشش سے دور دور کے لوگ حاضر ہونے لگے ۔بیگم شاہی مسجد کی متولیہ مائی جیواں آپ کے ارشادات سے اس قدرمتاثر ہوئیں کہ اپنی مسجد کا خطیب مقرر کردیا، بعد ازاں مسجد کی تولیت بھی آپ ہی کے سپرد کردی۔آپ کی وجہ سے بیگم شاہی مسجد تشنگان علم ِ مصطفیٰ کے لئے صلائے عام بن چکی تھی۔ اور لوگ شہر کےگوشے گوشے سے سمٹے چلے آتےتھے ۔ (تذکرہ اکابراہل سنت:326)

مسیحی مشنری کی سرگرمیاں:
جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے ذہنوں کو نئے سانچے میں ڈھالنے کا ایک پروگرام مرتب کیا ۔ انگلینڈ کے عیسائی مبلغین نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت پر زور دیا کہ ہندوستان میں کالج اور مشنری ادارے قائم کیے جائیں۔چنانچہ لاہور میں 1864 سے لےکر دس سال کے قلیل عرصے میں گورنمنٹ کالج، اورینٹل کالج، سنٹرل کالج، فورمین کرسچین کالج، چیف کالج، کنگ ایڈورڈ کالج، اور پنجاب یونیورسٹی جاری کر دیے گئے ۔ یہ زمانہ مسلمانوں کےلئے فکری اور اعتقادی ابتلاء کا دور تھا، کمزور مسلمان سکھ دور کی چیرہ دستیوں سے جانبر نہیں ہوا تھا کہ اسے جنگ آزادی کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔

قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ ان کے سینوں سے روحِ اسلام کو خارج کرنے کی منظم سازشیں ہونے لگیں۔کالجوں میں ان کے علم کو بدلا جانے لگا۔گرجوں میں دین کو مسخ کیا جانے لگا ۔ اور عوام کے اسلامی اعتقادت کی جڑوں کو کھوکھلا کتنے کے لیے وہابی، نیچری، مرزائی، اور دہریت جیسے ہزاروں فتنے حشرات الارض کی طرح چھوڑ دیے گئے۔ان اعتقادی فتنوں کی پشت پناہی میں انگریز کی ساری مشینری کام کر رہی تھی ۔ بے پناہ وسائل فراہم کیا جاتے ۔ خطابات عطا ہوتے، جاگیریں الاٹ ہوتیں، اور باقاعدہ تحریکیں چلائی جاتیں ۔ اس تمام بات کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کتنے درد سے پیش کیا ہے ۔

؏: وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں کبھی ۔۔۔۔روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہےیہ علاج۔۔۔۔۔ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

فکر عرب کو دےکر فرنگی تخیلات۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

ان حالات سنی علماء کرام نے اپنی بے سرو سامانی اور تہی دستی کے باوجود اسلام کی ٹمٹماتی ہوئی شمع کو جان کی بازی لگاکر طوفانوں کی زد سے بچایا۔وہ اپنے آقا ﷺ کے دین کی جس پامردی سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے،اس کی مثال نہیں ملتی۔ان عظیم راہنماؤں میں ایک نام مولانا غلام قادر بھیروی کا بھی ہے ۔ آپ نے سادہ لوح عوام کے اعتقاد کو بچانے کےلئے دن رات ایک کر دیا تھا ۔ وہ پیغامِ مصطفیٰ کو لاہور کی گلی گلی کوچہ کوچہ لیے پھرے ۔ ہر مسجد،ہر مکتب، ہر باغ، اور ہر مدرسہ قرآنی تعلیمات سے معمور ہو گیا ۔

اورینٹل کالج میں پروفیسر:
انگریزوں نے ابتداءً ان علوم کو فروغ دینے کا پروگرام بنایاجن میں مسلمانوں کا دینی ورثہ تھا۔یہ کالج در اصل ایک خطرناک سازش تھی۔مسلمان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان علوم کو حاصل کرتے، انہیں عربی و فارسی کے مختلف درجات طے کرانے کےبعد مستشرق بنادیا جاتا۔وہ غامدی صاحب کی طرح اسٹائلش مولانا اور ماڈرن علامہ بن کر ’’ شمس العلما ‘‘ جیسے بارعب خطاب پاتے ۔ اس طرح اسلام کی حقیقی روح کھینچ لی جاتی۔مولانا غلام قادر بھیروی اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری ایسے جوان ہمت علماء اس ’’ بت خانہ فرنگ ‘‘ میں کود پڑے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ طلباء کو حتی الامکان ان مسموم خیالات سے بچایا جائے، جو اس کالج میں سے لائے جارہےہیں۔انگریز اپنے خیالاتِ باطلہ و فاسدہ کو ’’مولویت، اور فضیلت‘‘ کے رنگ میں ذہنوں تک پہنچانا چاہتےتھے ۔ مگر ’’صنم خانۂ فرنگ‘‘ میں بیٹھ کر مولانا غلام قادر بھیروی نے ایک عرصے تک جو جہاد کیا۔وہ علمائے اہل سنت کی تاریخ میں ایک یادگار ہے ۔ (تذکرہ علمائے لاہور:227) ـ
2
انہی دنوں انگریزوں کو ایک فتوے کی ضرورت پیش آئی،متدین علماء نے صاف انکار کر دیا ، کالج سے متعلق علماء سے رجو ع کیا گیا تاکہ وہ وظیفہ خوار ہونے کی بناپر انگریز کے منشا کے مطابق فتویٰ صادر کر دیں گے۔جب  مولانا غلام قادر بھیر وی کے سامنے دستخط کرنے کے لئے فتویٰ پیش کیا گیا تو انہوں نے استعفاء پیش کردیا اور فرمایا: ’’میں غلط فتویٰ نہیں دوں گا ۔ پرنسپل کو اتنے بڑے فاضل کا کالج چھوڑجانا بڑا ناگوار تھا ۔ انہوں نے پھرلکھا کہ آپ فتویٰ نہ دیں مگر کالج کو نہ چھوڑیں، مگر آپ نےلکھا کہ میں غلط فتوے لکھنےکےلئے ملازمت نہیں کرسکتا ۔ پرنسپل نے لاہور واپس آکر حضرت مولانا کو بلایا تو آپ نے فرمایا  مجھے خواب میں میرے آقا مدنی ﷺ نے حکم دیا ہے کہ اب میں صرف قرآن وحدیث پڑھایا کروں۔ میری تنخواہ اللہ کے خزانے سے ہرماہ آیا کرےگی‘‘۔ (تذکرہ علمائے لاہور، ص:228)

اخراج الوہابیین:
اس دورمیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں بداعتقاد مولوی بھی مختلف نظریات لےکر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے۔لاہور بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں تھا۔یہ مولوی سادہ لوح عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے مساجد میں گھس آتے، مناظرہ بازی شروع کر دیتے ۔

جس سے اکثر فساد کاخطرہ ہوتا ۔ چونکہ یہ فتنے انگریز کے خود کاشتہ پودے تھے ۔ اس لئے انہیں سنی علماء سے فساد کرتے وقت انگریز کی شہ حاصل ہوتی ۔ ہمارے ان بزرگوں کے ہاں سب کچھ قبول تھا،مگر اپنے آقا ﷺ کی توہین کا خفیف پہلو بھی ان کی قوتِ برداشت کا امتحان ہوتا۔

مولانا غلام قادر بھیروی نے ان مفسد لوگوں کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے اپنی مسجد کی پیشانی پر یہ عبارت کندہ کروادی تھی جو اب بھی موجود ہے۔’’باتفاق انجمن حنفیہ وحکم شرع شریف قرار پایا کہ کوئی وہابی، رافضی، نیچری، مرزائی مسجد ہذا میں نہ آئے اور خلاف مذہبِ حنفی کوئی بات نہ کرے۔فقیر غلام قادر عفی عنہ متولی بیگم شاہی مسجد‘‘۔

پیر زادہ مولانا اقبال احمد فاروقی فرماتےہیں: یہ بات مولانا کی مسجد کی تختی تک ہی محدود نہ تھی بلکہ بیگم شاہی مسجد میں جب بھی کوئی بداعتقاد بغرض فساد گھس آتا،تو مولانا اسے بہ یک بینی دوگوش باہر نکال دیتے،مسجد کا فرش دھلاتے، اگر وہ بداعتقاد حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتاتو اسے دھکے دےکر باہر کرتےاور مسجد کافرش اکھاڑ دیتے، جہاں ایسا بد زبان کھڑا ہوا تھا ۔ (تذکرہ علمائے لاہور، ص:230) ـ

مدرسہ نعمانیہ کا آغاز:
لاہور میں مختلف مکاتب فکر کی سرگرمیوں کو دیکھ کرچند حساس سنی مسلمانوں نے مختلف مدارس قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ چناچہ ان دنوں اہل سنت کی ’’انجمن حنفیہ‘‘ نے ’’مدرسہ نعمانیہ‘‘ قائم کیا۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں تک ہے، جو پاک وہند کی دینی دنیا میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے ۔ مگر ان حضرات میں سے حضرت پیر جماعت علی شاہ، قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی،مولانا محمد نبی بخش حلوائی، مولانا محمد عالم امرتسری علیہم الرحمہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف پر بھی خاص توجہ دی ۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم سےلےکر عمر رسیدہ مسلمانوں کےلئے مختلف تصانیف پیش کیں ۔

تاریخِ وصال:
19 ربیع الاول 1327ھ مطابق اپریل 1909ء کوواصل باللہ ہوئے ۔ بیگم شاہی مسجد لاہور میں محوِ استراحت ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-qadir
2