🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
استغناء:
جب آپ کے والدِ محترم کا انتقال ہوا تو اس کے فوراً بعد بادشاہ ہندوستاں اورنگ زیب عالمگیر نے آپ کے نام مزار شریف کے گرد چالیس جریب زمین کی سند لکھ کر بھیج دی ، مگر آپ نے قطعی جواب دے دیا کہ ’’ میں فقیر آدمی ہوں ، اللہ کا دروازہ مجھے کافی ہے وہی میرا کارساز ہے ، وہی میرا مولیٰ ہے اور وہ بہت اچھا آقا ہے ‘‘ ۔ (تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد اول، ص:83) ۔ اب بھی یہ سند نیشنل میوزیم کراچی میں موجود ہے ۔

حضرت مولانا مفتی غلام سرور لاہوری صاحبِ خزینۃ الاصفیا ء اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں: کہ رنجیت سنگھ کے پوتے نونہال سنگھ نے جو لاہور میں برسرِ حکومت تھا ایک انگریز مشیر کی تجویز سے لاہور شہر کے ارد گرد دُور دُور تک درخت اور عمارات گراکر میدان بنانے کا منصوبہ بنایا ۔ چنانچہ اس تجویز کے تحت بہت سے درخت اور عمارتیں منہدم کی گئیں ۔ جب حضرت شاہ محمد غوث کے مزار کی عمارتوں اور درختوں کے گرانے کی باری آئی اور کچھ بیرونی درخت اور عمارتیں گرائی جاچکیں اور اندرونی چاردیواری کی نوبت آئی تو نونہال سنگھ کا باپ کھڑک سنگھ مرگیا اور بیٹا باپ کی لاش کو جلا کر واپس آیا اور قلعہ میں داخل ہُوا تو قلعۂ لاہور کی دیوار سے ایک پتّھر گِر کر اس کے سر پر آپڑا جس کے صدمے سے وُہ  بھی وہیں ہلاک ہو گیا ۔ یہ واقعہ 1840ء میں رونما ہوا اور اس کی وُہ تمام تجاویز دھری کی دھری رہ گئیں ۔ (خزینۃ الاصفیاء قادریہ، ص:300) ـ

تصنیفات:
1۔ شرح غوثیہ: آپ نے بخاری شریف کی شرح لکھی جو  شرح غوثیہ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ شرح علم حدیث میں ایک بحر نا پیدا کنار ہے ۔ حدیث شریف کے متعلق جتنے علوم ہیں وہ سب اس شرح میں آپ نے حل فرمائے ہیں۔ اس شرح میں علاوہ دیگر متعلقہ علوم کے بخاری شریف کے اسما ء الرجال کو مکمل بیان کیا ہے ۔ فقہ حنفی کی تطبیق نہایت ہی احسن طریقہ پر کی ہے ۔

2۔ رسالہ اصول حدیث:یہ حدیث کے اقسام پر عربی میں آپ نے لکھا ہے ۔

3۔ رسالہ دربیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت (فارسی قلمی) یہ تصوف پر لکھا ہے ۔ یہ رسالہ مکمل و اکمل مرشد ہے ـ

4۔ رسالہ ذکر جہر: اس رسالہ میں قرآن مجید ، احادیث شریف ، کتب فقہ اور کتب علما ء کرام سے مدلل طریقہ سے ذکر جہر کا ثبوت دیا ہے اور نہایت ہی احسن وجوہ بیان فرمائے ہیں ۔ یہ رسالہ عربی میں قلمی ہے ۔

5۔ ترجمہ قصیدہ غوثیہ شریف (فارسی): قصیدہ شریف کی عام فہم اور صوفیانہ شرح ہے ۔ صرف اور نحو کے مشکل مقامات کو نہایت آسان طریقہ پر حل فرمایا ہے ۔

6۔اسرار التوحید (عربی) : قلمی یہ کتاب توحید کے موضوع پر ہے ۔ منطق ، فلسفہ اور الہٰیات کی کتابوں پر آپ نے شروحات لکھیں، اور قرآنِ مجید پر ایک حاشیہ بھی تحریر فرمایا تھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 17 ربیع الاول 1152ھ میں ہوئی ۔ بیرون دہلی دروازہ لاہور آپ کا مزار واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد ۔ شرح غوثیہ ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔ خزینۃ الاصفیاء قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-ghaus-lahori
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا سید اصغر علی شاہ خیر آبادی علیہ الرحمہ

آپ فخر الاصفیاء حضرت مولانا سید محمد علی خیر آبادی قدس سرہٗ کے چھوٹے بھائی تھے، حضرت مولانا غلام امام نبیرہ حضت شاہ صفت اللہ محدث سے سلسلہ چشتیہ میں مرید تھے اور خلیفہ بھی تھے، اپنے مرشد کے مرشد حضرت شاہ قدرت اللہ قدس سرہٗ سے بھی اجازت پائی تھی، آپ بڑے متقی، متورع اور متجر عالم و بزرگ تھے ـ

وصال:
۱۷ ربیع الاول ۱۲۶۰ھ میں آپ کا وصال ہوا، حضرت مولانا شاہ محمد اسلم خیر آبادی جیسے نامور اور بزرگ عالم و عارف آپ کے صاحبزادے تھے ۔

( خیر آباد کی ایک جھلک )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-asghar-ali-shah-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
آل احمد اچھے میاں ، حضرت ابو الفضل سید شاہ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی: سید آل احمد ۔ کنیت: ابوالفضل ۔ لقب: اچھے میاں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید آل احمد اچھے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمدبن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید عبد الجلیل بن سید میر عبد الواحد بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید ماہر بن سید شاہ بڈہ بن سید کمال بن سید قاسم بن سید حسن بن سید نصیر بن سید حسین بن  سید عمر بن محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح واسطی بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحیٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین ۔ (رضی اللہ عنہم) ۔ (تاریخ خاندان برکات ص: 7)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 رمضان المبارک 1160ھ مطابق اکتوبر 1747ء کو مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبل از ولادت بشارت:
حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ نے یہ بشارت دی تھی کہ مجھے بفضل الٰہی چار واسطوں کے بعد ایک لڑکا عنایت ہوگا جس سے رونقِ خاندان دو بالا ہوگی بعدہٗ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ نے اپنا ایک خرقہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ یہ اس صاحبزادے کےلیے ہے۔ حضرت سیدنا شاہ آل محمد (حضور صاحب البرکات کے بڑے شہزادے) نے حضور اچھے میاں قدس سرہ کو تسمیہ خوانی کے وقت گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:358)

تحصیلِ علم:
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی و منازل سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد سے فرمائی، اور آپ کے روحانی معلم حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی تھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے فنِ طب با قاعدہ کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی سے حاصل فرمایا تھا ۔ مگر اس علم سے سوائے سِتر تصرُّفات کام نہ لیا جاتا تھا، بظاہر ہر مریض کو معمولی دوایا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے، مگر حقیقتاً خود چارہ سازی فرماتے ۔ (ایضا:358)

آپ علوم ظاہری و باطنی علوم  کے بہترین عالم تھے ۔ اکثر علماء و فضلاء آپ کے خدام تھے ۔ علماء کے دقیق و مشکل مسائل ایسی خوبی سے حل فرما دیتے کہ عقلیں حیران رہ جاتیں ۔ ایک بار حضرت کے آخری عہد میں حضرت  مولانا شاہ عبد المجید عین الحق بدایونی جو آپ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں ۔ عرض کیا کہ مسئلۂ قرطاس میں ہر چند علماء نے جواب دِئیے ہیں لیکن حضور میری تسکینِ خاطر فرما دیں؟حضرت نے دوات قلم کا حکم فرمایا معاً حضرت شاہ عین الحق پر مسائل کی تحقیق وارد ہوئی اور فرمایا کہ فقیر پر ہدایات شافی مل چکے ہیں ۔۔

ایک شخص نے حضرت نقیب الاشراف بغداد کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود سمجھنا چاہا ۔ حضرت نے ہندوستان کے سفر کی ہدایت فرمائی ۔ وہ صاحب علماء و مشائخ سے ملتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچے، مدعا عرض کیا، مگر تشفّی نہ ہوئی، حضرت محدث دہلوی نے فرمایا ۔ آپ مارہرہ شریف حضرت اچھے میاں کی خدمت میں جایئے، وہ آپ کی تسکینِ خاطر فرما دیں گے ۔ حضرت کے فضائل و مناقب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ’’ ملفوظاتِ عزیزی ‘‘ میں بلند کلمات کے ساتھ موجود ہیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:17)

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں والدِ گرامی حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشق خدا، محبوبِ سرکارِ مصطفیٰ، مظہرِ غوث الوریٰ، فخر الاولیاء، شمس الدین ابو الفضل حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ بڑے باکمال و عارف باللہ تھے، کرامات و تصرفات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔علوم ظاہر و باطن میں بحرِ بے کنار تھے ۔آپ نے سخت ترین ریاضتیں کیں اور مجاہدات و سلوک میں ایک خاص شان کے حامل تھے ۔ غلاموں کی حفاظت و کفالت خود فرماتے اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے پیکر تھے ۔

حضرت عبادت و ریاضت میں  بہت بلند رتبہ کے حامل تھے ۔ آپ ہمیشہ اکتساب اذکار و مراقبات و اشغال میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فرائضِ پنچ وقتہ کے علاوہ حَبس کبیر، صلوۃِ معکوس و صوم و نوافل اور مجاہدات قویہ و ریاضات باطنیہ کا التزام رکھتے تھے ۔ اور طاعات پر طاعات بجا لاتے تھے ۔
2
عادات و معمولات:
حضور قدوۃ السالکین سید شاہ آل احمد اچھے میاں﷫رات کے آخری حصے میں میں اٹھ کر حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے،پھر وضو فرما کر نماز تہجد ادا کرتے بعدہٗ دست مبارک اٹھا کر دین کی ترقی اور متوسلین کے لیے دعائے مغفرت فرماتے،جب دعا سے فارغ ہوجاتے  تو فقراء گیارہ مرتبہ  ذکر کلمۂ شریف بآواز بلندسے کرتے، اس وقت دروازہ بند ہوجاتا تھا، اور کسی غیر کو خلوت خاص میں باریابی کی مجال نہ ہوتی۔بعدہٗ محل سرا میں تشریف لے جاتے،تھوڑی دیر بعد خانقاہ میں رونق  افروز ہوتے اور درویشوں کو طلب فرما کر سب کی قلبی کیفیات کے بارے میں استفسار فرماتے اور بقدر حوصلہ ہر ایک کی اصلاح فرماتے،پھر درگاہ شریف جاکر پہلے اپنے والد ماجد کے مزار پر فاتحہ و قدم بوسی کےلیے حاضر ہوتے،اور پھر والدہ ماجدہ ، جد امجد و عم مکرم کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرتے اکثر اوقات درگاہ معلیٰ سے متصل پائیں باغ میں تشریف لے جاتے اور جامن کے درخت کے نیچے دری بچھا کر جلوہ افروز ہوتے وہاں سے اٹھ کر خانقاہ تشریف لے جاتے،اس وقت دربار عام ہوتا، ہر ایک اپنا اپنا مطلب عرض کرتا، آپ اپنے غلاموں کو سخت محنت اور ریاضت سے بچاتے اہل حاجات کو بھی وظائف و اعمال بہت کم مرحمت فرماتے ،زبانی عرض یا عرضی پر حکم ہوتا اورکا م پورا ہوجاتا۔ اپنے اکابر کی طرح تصرفات میں پوشیدگی فرماتے ،دوپہر کے وقت کھانا طلب ہوتا تو گیہوں کی دو یا تین ہلکی چپاتیاں شور بہ یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔اسی طرح آپ کے تمام معاملات ذکر و فکر اور عبادت وریاضت،اور دکھی انسانیت کی خدمت میں گزرتے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:360)

فضل و کمال:
آثار احمدی میں لکھا ہے کہ بخارا کا رہنے والا ایک شخص مارہرہ شریف حاضر ہوا ۔ اور نمازِ ظہر خانقاہ شریف میں پڑھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: ’’حضرت کا نام سن کر طلبِ حق کے واسطے یہاں آیا ہوں کیونکہ مجھ میں مجاہدہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔حضور کی توجہ سے بے محنت اس عظیم سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔حضرت نے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا کہ اتنی بڑی دولت اس قدر جلدی چاہتے ہو؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے طعنہ دیا کہ یہ بھی کوئی حلوہ ہے ۔ جو تمہارے منہ میں رکھ دیا جائے؟ حضرت نے فرمایا ایسا نہ کہو، خدا سے کیا بعید ہے۔پھر اس نوجوان کو ایک درود شریف مع ترکیب تعلیم فرما کر کہا کہ آج رات کو پڑھنا؟ اس نے حسبِ حکم پڑھا ۔ درود شریف پڑھنے کی حالت میں رسول مقبول ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ایک حالت اس پر طاری ہو گئی جس سے اس کا عقدۂ باطنی کُھل گیا۔صبح کو حضرت کی خدمت بابرکت میں آکر عرض کرنے لگا ۔ سبحان اللہ! رسول ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ہر صدی کے بعد میری امت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو میرے دین کو زندہ کرے گا تو وہ ذات مقدس آج اس صدی میں حضور آپ (حضرت اچھےمیاں) کی ہے ۔ (ایضا)

خزانۂ غوثیہ:
حضرت کی تحویل میں ایک چھوٹا سا خزانہ تھا جسے غلہ غوثیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہ تھی ہزار ہا روپے کے انعام و عطیات اسی خزانۂ غوثیہ سے ادا ہوتے ، صدہا خدام تھے ۔ جن کی کفالت خود حضرت فرماتے تھے۔اور اسی خزانہ سے آستانہ کے حاضرین خدام کی جملہ آسائش کا سامان منگواتے باوجود ان اخراجات کے عطیۂ غوثیہ میں کمی نہ ہوتی جو حضرت کی ایک عظیم کرامتوں میں سے ایک زندہ کرامت تھی ۔

تین بیٹوں کی بشارت:
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے ۔ ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔ دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ ارشاد فرمایا: ’’ارادت اللہ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ غلام کا کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا) نہیں ہے ۔ آپ نےدعا کی: ’’یارب کریم ہمارے ارادت اللہ کو فرزند دیدے‘‘ ۔ اس کے بعد فرمایا: خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا ۔ خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے: ’’حضور! مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ‘‘۔ تو آپ نے اپنے سر مبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی) دینے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے‘‘ ۔ خلیفہ ارادت اللہ واپس ہوئے ۔ جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔ (ایضا: 363)
1
تصانیف و علمی خدمات:
آپ کی تصانیف  کے بارے میں حضرت  علامہ مولانا شاہ سید محمد شاہ مارہروی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ۔ کہ حضرت کی تصنیف و تالیف سے سب سے بڑی ضخیم کتاب ’’ آئین احمدی ‘‘ ہے ۔ سنا ہے کہ اس کی چونتیس ، بروایتے ساٹھ جلدیں بہت مبسوط اور مختلف  علوم و فنون میں تھیں۔ آپ نے علوم متداولہ میں سے کوئی علم و فن ایسا نہیں چھوڑا تھا جو اِس میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ اس کی بہت سی جلدیں تلف ہوگئی ۔ چند خانقاہ شریف اور خاندان کے  مختلف حضرات اور خلفاء کے پاس ہیں ۔ (2) بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (3) آداب السالکین مطبوعہ (4) مثنوی اشعار، تصوف میں (5) دیوانِ اشعار فارسی ۔ وغیرہ ۔

آپ کی اولاد میں ایک صاحبزادی اور ایک صاحبزادے ہوئے دونوں کا بچپن میں انتقال ہو گیا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:364)

تاریخِ وصال:
بروز جمعرات، 17 ربیع الاول 1235ھ مطابق 30 دسمبر1819ء، بوقتِ چاشت، بعمر 75 سال، بعارضۂ سرطان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کا مزارِ مقدس حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کے مزار مبارک کے دائیں جانب (مارہرہ مطہرہ) میں مرجع خلائق ہے ۔

شجرہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح منظوم ہے:

؏: دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
؏: یا ابوالفضل آل احمد حضرت اچھے میاں
شاہ شمس الدین ضیاء الاصفیاء امداد کن

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aale-ahmad-achay-mian-marharwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ

نام ونسب:
آپ کا نام:
حضرت جعفرِ طیار رضی اللہ عنہ کی نسبت سے " جعفر " رکھا گیا ۔ کنیت: ابو عبد اللہ، ابو اسماعیل اور ابو موسیٰ ہے ۔ لقب: صادق ، فاضل، طاہر، اور کامل ہے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ۔

آپ کی والدہ محترمہ کا اسمِ گرامی امِ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی فاطمی سید " ہیں ۔

آپ کے نانا سیدنا قاسم بن محمد مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے تھے ۔

آپ کی والدہ محترمہ سیدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑ پوتی بھی تھیں اور پڑ نواسی بھی ۔ اس لیے آپ فرمایا کرتے تھے " ولدنی ابو بکر مرتین " یعنی مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دوہری ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے ۔

تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک، 17 ربیع الاول، 80 ھ / بمطابق 24 اپریل 702ء ۔ مدینۃ الرسول ﷺ کی پر نور فضا میں ولادت ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے خاندانی روایات کی مطابق ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا گرامی سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اور اپنے نانا جان فقیہِ اعظم مدینۃ المنورہ سیدنا امام قاسم بن محمد سے حاصل کی ۔ ان کے علاوہ صحابیِ رسول ﷺ حضرت سہل بن سعدد رضی اللہ عنہ اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بھی تحصیلِ علم کیا ۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی سے روحانی تربیت حاصل کی ۔ ان کے علاوہ اپنے نانا جان فقیہ ِ اعظم مدینۃ المنورہ ،سیدنا امام قاسم بن محمد سے بھی اکتساب فیض کیا ۔ امام قاسم کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے فیض ملا ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے فیضِ صحبت کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی فیض حاصل ہوا ۔

سیرت و خصائص:
ملتِ نبوی کے سلطان، دینِ مصطفیٰ ﷺ کے پاسبان ، علومِ نبویہ کے مظہر و وارثِ کامل ،اہل ِ حق کے امام، اہلِ ذوق کے پیشرو، صاحبانِ عشق و محبت کے پیشوا، عابدوں کے مقدّم، زاہدوں کے مکرم ، خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ حضرت سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔

آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کمال ہوسکتا ہے کہ سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو سال رہ کر درجٔہ کمال تک پہنچ گئے اور نعرہ لگایا! "لولا السنتان لھلک النعمان" ( اگر مجھے امام موصوف کی صحبت کے دو سال نہ ملتے تو میں ہلاک ہو جاتا ) ۔

عبید بن رافع فرماتے ہیں:
کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ۔ آپ درمیانہ قد ، خوبصورت جسم،اور چہرہ ایسا حسین کہ جیسے سورج آپ کے چہرہ انور میں گردش کر رہا ہو ۔ کا لی سیاہ زلفیں ، اور ان زلفوں میں چہرہ ایسے نظر آرہا تھا جیسے اندھیری میں رات میں چودہویں کاچاند نظر آتا ہے ۔

عمرو بن مقدام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ جب میں امام جعفر صادِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتا تھا، تو آپکے چہرہ انور کی زیارت کرتے ہی یہ خیال آتا کہ اس نورانی شخصیت کا تعلق انبیاء کے پاک گھرانے سے ہے ۔

سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں نے اہل بیت میں امام جعفر بن محمد سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں دیکھا ۔

مشہور محدث حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں: کہ میں نے آپ جیسا عالم ، زاہد، حسین ، اور سخی نہیں دیکھا ۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ میں حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔ آپ کی ذات اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ اور حسنِ مصطفیٰ ﷺ کا حسین امتزاج تھی ۔ اور تمام علوم میں درجہ کمال حاصل تھا ۔ تمام نسبتوں اور فضیلتوں کے باوجود آپ سب سے زیادہ خوفِ خدا کے مالک تھے ۔
1
ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے فرزند رسول ﷺ! مجھے نصیحت فرمائیں کیونکہ میرا دل سیاہ ہو گیا ہے ۔ فرمایا: یا ابا سلیمان! آپ  تو  زاہدِ زمانہ ہیں۔ آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے ۔ داؤد نے عرض کیا اے فرزند رسول ﷺ! آپ کو سب پر فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے آپ پر واجب ہے کہ سب کو نصیحت کریں ۔

امام جعفر صادق رضی الله عنه فرمایا:
یا ابا سلیمان! مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد بزرگوار انبیاء کے سردار ﷺ میرا دامن پکڑیں اور یوں فرما دیں کہ میرا حق متابعت کیوں نہ ادا کیا: کیونکہ یہ کام نسب کی شرافت پر موقوف نہیں ۔ بلکہ درگاہ ِرب العزت میں عمل کی پسندیدگی معتبر ہے ۔

یہ سن کر داؤد بہت روئے ۔ اور بارگاہ الٰہی میں عرض کی: کہ اے پرور دگار! جس شخص کی سرشت نبوت کے آب و گل سے ہے، اور جس کی طبیعت کی ترکیب آثارِ رسالت ﷺ سے ہوئی ہے، اور جس کے جدِ بزرگوار رسول کریم ﷺ ہیں، اور ماں حضرت فاطمہ بتول ہیں۔ جب وہ ایسی حیرانی میں ہے تو داؤد کس شمار میں ہے ۔

وصال:
آپ کا وصال 15 رجب 148ھ / بمطابق 765ء مدینۃ امنورہ میں ہوئی ،اور جنت البقیع میں قبہ اہلبیت میں مدفون ہوئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-jafar-sadiq-bin-imam-baqir
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1