🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
واضح رہے کہ حیاتِ دنیوی میں بعض بندگان خدا کو غائیتِ صفا و لطافت سے بغائیت ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ جسمِ ظاہری کی قید کے باوجود مختلف بدن تبدیل کرسکیں چونکہ موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائرِ روح اس  قفس سے آزاد ہو جاتا ہے لہٰذا وہدوسرے بدن  میں تبدیل ہونے پر بطریق اولیٰ قادر ہیں ۔ اسے بروز کہتے ہیں۔

بروز و تناسخ میں فرق ہے ۔ اہل تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس، مسلمان ہو یا کافر، انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اُس کے واسطے تیار نہ ہوتا کہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے ۔ بخلاف اہل بروز کے کہ اُن کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم یعنی اس طائفہ  کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے اور وہ بھی برجلیل لزوم نہیں ۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی مصلحت کی بنا پر دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دینوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورتِ بشری میں ہو یا نہ ہو۔ اور پھر اتمامِ مطلوب کے بعد پس پردہ غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بے جا اعتراض اور طعن و تشنیع کرتے ہیں ؎

تاچند کنی ببادہ نوشاں انکار
رندے کہ بود ز بادۂ عرفاں مست

انکار ممکن کہ نیست نیکو ایں کار
زنہار برو طعنہ مکن صد ز نہار

آپ کی وفات ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ مطابق ۱۳۱۷ء کو ہوئی ۔ مزار اقدس واہکنہ ( نزد بخارا ) میں ہے ۔

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

خواجہ محمود انجیر فغنوی قدس سرہ

افضل و اکمل:
آپ خواجہ عارف قدس سرہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کا مقام ولادت موضع انجیر فغنہ ہے جو علاقہ بخارا میں وابکنہ [۱] کا ایک گاؤں ہے۔ آپ وابکنہ میں رہا کرتے تھے۔ وجہ معاش گل کاری تھی۔ جب آپ کو اجازت ِارشاد مل گئی تو آپ نے بنابر مصلحت و مقتضائے حال طلاب پوشیدہ نہ رہے کہ حیات دنیوی میں بعضے بندگان خدا کو غایت صفا و لطافت سے بعنایات ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ باوجود بعد ظاہری کی قید کے مختلف بدن کسب کرسکیں۔ پس موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائر روح اس قفس سے آزاد ہوجاتا ہے وہ دوسرے بدن کے کسب پر بطریق اولےٰ قادر ہیں۔ اسے بروز کہتے ہیں۔

[۱۔ وابکنہ ایک قصبہ ہے جو چند قریات و مزارح پر شامل ہے اور شہر بخارا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔]

بروزا ور تناسخ میں فرق:
بروزا و رتناسخ میں فرق ہے۔ اہلِ تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس۔مسلمان ہو یا کافر۔ انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اس کے واسطے تیار نہ ہو۔ تاکہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے۔ بخلاف اہل بروز کے کہ ان کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم۔ یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے۔ اور وہ بھی بر سبیل لزوم نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی بنابر مصلحت دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دنیوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورت بشری میں ہو یا نہ ہو اور پھر اتمام ِمطلوب کے بعد پس پردہ سے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بیجا اعتراض و طعن کرتے ہیں۔

تا چند کئی ببادہ نوشاں انکار
انکار مکن کہ نیست نیکو ایں کار

رندے کہ بود زبادۂ عرفاں مست
زنہار بروطعنہ مکن صد زنہار

وصال مُبارک:
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کا سنہ وفات بعضوں نے ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ لکھا ہے ۔ آپ کا مزار مبارک وابکنہ میں ہے ۔ ( رشحاتِ روائح ) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abul-khair-mehmood-faghnavi-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت میر سید عبد اللہ حسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

میر سید عبد اللہ حسینی:
اصیل الدین لقب تھا، علم تفسیر و فقہ انشاء اور تالیف میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے، زبان گوہر فشاں آپ کی مفسر حقائق صحف آسمانی تھی اور باطن خجۃ آثار آپ کا مصدر انوار ربانی تھا ـ

خاقان سعید کے عہد میں آپ نے شیراز سے ہجرت کر کے ہرات میں سکونت اختیار کی، ہفتہ میں ایک دفعہ مدرسہ گوہر شاد آغا میں وعظ و نصائح خلق اللہ میں مشغول ہوتے اور ماہ ربیع الاول میں آنحضرت ﷺ کے سنن و سیر کے بیان میں مواظبت کر کے طوائف انام کو محظوظ و مسرور کرتے ۔

سیر مین کتاب درد الدرر اور رسالہ مزارات ہرات اور معراج الاعمال تصنیف فرمائے اور ۱۷ ربیع الاول ۸۰۳ھ میں وفات پائی ۔

تاریخ وفات آپ کی شہنشاہ عالم ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-abdullah-hussaini
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حافظ کامل دیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا حافظ محمد کامل بن تکیل دایولب دریائے سندھ کے گوٹھ کانگری ( جو کہ عاقل اور سنہڑی گوٹھوں کے درمیان میں واقع ہے تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) مین ۱۸۷۹ء کو تولد ہوئے ۔ جب سات سال کی عمر کو پہنچے تو چیچک کے مرض میں مبتلا ہوئے جس کے سبب آنکھوں کی روشنی ضائع ہو گئی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیا برادر اکبر مولانا خدا بخش دایو کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ اس کے بعد گوٹھ سنہڑی کے مدرسہ میں داخل کیا گیا ۔ مدرسہ کے مدرس و مہتمم مولانا غلام نبی عباسی تھے جو کہ اس گوٹھ کے زمیندار بھی تھے ، ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ مدرسہ کے سارے اخراجات وہ خود ادا کرتے تھے ۔

اسی مدرسہ میں مولانا محمد کامل نے درس نظامی مکمل کیا ۔ آپ کو علم حاصل کرنے کا جنون تھا، کسی نے نورنگ واہ جانے کا مشورہ دیا ۔ وہیں پہنچ کر مالانا میر محمد نورنگی جاگیرانی سے استفادہ کیا اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے ۔

بیعت:
فقیر راشدی کا ۲۰۰۳۔۷۔۳ کو لاڑکانہ جانا ہوا وہاں محلہ علی گوہر آباد کے ساکن ماسٹر محمد قاسم سومرو سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی عمر تقریبا ۹۰ سال ہے ، وہ اصل میں دو دوسنہری کے رہنے والے ہیں ۔ انہو ں نے بتایا: مولانا کامل اپنے استاد مولانا میر محمد نورنگی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ واللہ اعلم ۔

مولانا غلام رسول عباسی مرحوم نے اپنے استاد محترم کے متعلق لکھا ہے کہ مولانا میر محمد سلسلۂ قادریہ میں حضرت فقیر فیض محمد صاحب لوڑھے شریف ( تحصیل کنڈیار و ) سے بیعت تھے ۔ ( مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ) بعض کا خیال ہے کہ حافظ کامل درگاہ قادریہ سوئی شریف ( گھوٹکی ) سے روحانی تعلق رکھتے تھے اور بعض نے بتایا کہ مولانا محمد عاقل کے ساتھ درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پگارہ حاضری دیتے تھے اور امیر شریعت حاتم وقت حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ راشدی ’’ مسکین ‘‘ کی سخاوت سے بہراندوز ہوتے رہتے تھے ۔

درس و تدریس:
مولانا محمد کامل بظاہر نابینا عالم تھے لیکن فہم و فزاست میں اعلیٰ ذہانت و فطانت ، قومی الحافظہ شخصیت کے مالک تھے ۔ مستقل مزاج ، صاحب الرائے ، تاریخ پر دسترس اور حالات حاضرہ سے باخبر رہتے تھے ۔ فلسفہ حکمت و منطق میں نام کمایا۔ صرف و نحو کے درس میں شہرت رکھتے تھے ۔ ساری زندگی مسجد و مدرسہ تک محدود رہی ، درس و تدریس میں زندگی بسر کی ۔ طب اور شاعری سے بھی دلچپسی رکھتے تھے ۔

۱۹۱۰ء کو مولانا کامل کے استاد اول مولانا غلام نبی بن خدا بخش عباسی حرمین شریفین تشریف لے گئے ۔ ان کے دل کی آرزو پوری ہوئی وہیں وصال ہوا۔ جس کے سبب مدرسہ سنہڑی میں مسند تددیس خالی تھی اس لئے مدرسہ کے لئے اعلیٰ پائے کے مدرس کی ضرورت تھی ۔ مولانا کامل جب فارغ التحصیل ہو کر اپنے گوٹھ آئے تو انہیں اس مسند کا اہل سمجھا گیا اور مسند تدریس پیش کی گئی ۔ آپ نے تدریس کے ساتھ یہ بھی ایک اہم کام کیا کہ مسجد سے مدرسہ اٹھاکر ایک پلاٹ خرید کر دار العلوم طرز پر قائم کیا اور ہر فن کے لئے جدا جدا مدرس مقرر کئے ۔ دارالعلوم کے تمام اخراجات کے لئے مخلصین و محبین کی ایک کمیٹی بنائی تھی جنہوں نے جانی مالی امداد کے ذریعے دارالعلوم کی تمام ضروریات کو پورا کیا ۔ دار العلوم میں درج ذیل اساتذہ معلم مقرر تھے ۔

عربی کے لئے: مولانا محمد کامل قادری ۔ مولانا محمد اکرم جتوئی

فارسی کے لئے: مولانا عبد الرشید پیرزادہ ۔ مولانا شیر محمد جتوئی ۔ مولانا محمد بچل تونیہ

حفظ و ناظرہ: مولانا حافظ جمال الدین قادری

مدرسہ میں ایک شعبہ ’’ بنات ‘‘ کا بھی تھا جس میں لڑکیوں کو ناظرہ و حفظ قرآن کے علاوہ فارسی و فقہی مسائل بھی سکھائے جاتے تھے۔ اس شعبہ کی ناظمہ کے فرائض مولانا کامل کی بیٹی ادا کرتی تھی ۔

نفاست پسندی:
مولانا ، صاحب تقویٰ تھے، نفاست کا یہ عالم تھا کہ روزانہ لباس کے تین جوڑے استعمال کرتے تھے ۔

۱۔ ایک جوڑا گھر کے کام کاج اور آرام کیلئے
۲۔ درس و تدریس نماز و عبادت کیلئے

۳۔ بیت الخلاء ( باتھ روم ) کیلئے

شاعری:
مولانا شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے ، فارسی گرامر کو طلباء کے لئے آسان بنانے کے لئے نظم تیار کی ۔ جس کو طلباء سے لکھوا کر حفظ کرادیا کرتے تھے ۔

بعد حمد حق و نعت احمد و آل رسول

بشنو از حافظ مصدر جند باسمع قبول

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے :

٭ مولانا عبد الرشید پیرزادہ
٭ مولانا عبد اللہ پیر زادہ
٭ مولانا حافظ جمال الدین قادری
٭ مولوی حافظ نور احمد جاگیرانی
٭ مولانا محمد اکرم جتوئی
٭ مولوی غلام محمد جاگیرانی
٭ مولوی علی محمد سومرو دیوبندی دودائی روڈ لاڑکانہ

[ ڈاکٹر غلام علی سانگی ( لاڑکانہ ) کی ڈائری سے ماخوذ ہے ۔ ]
1
سندھ دار السلام:
بقول مولانا عبد الرشید پیرزادہ ( گوٹھ سنہڑی) کہ مولانا حافظ محمد کامل ( سندھ کو دارالسلام سمجھتے تھے اس لئے ) افغانستان ہجرت کرنے کے مخالف تھے ۔ ان کا موقف تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث شریف ہے لاھجرۃ بعد الفتھ المکۃ ( بخاری )

یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ اس لئے افغانستان کو ہجرت کرنا ( شرعا) درست نہیں (اور معاشی حوالے سے بھی نہایت خطر ناک عمل ہے) ۔ اس موضوع پر مولانا محمد کامل کا پیر تراب علی شاہ قمبر والے سے بھی مناظرہ ( بحث و مباحثہ ) ہوا تھا ۔ ( لاکانو ساہ سیبانو ص ۲۶۸ ) ـ

حضرت مولانا محمد اسحاق جتوئی ( لاڑکانہ ) فرماتے ہیں : مولانا محمد کامل پرہیز گار بزرگ تھے ، فی سبیل اللہ درس دیتے تھے۔ نحوو صرف کے ماہر استاد تھے، اسی لئے ان کے شاگرد بھی اس فن میں ماہر ثابت ہوئے ہیں ۔ ( ایضا)

اولاد:
مولانا نے ایک شادی کی جس سے دو بیٹے تولد ہوئے ۔

۱۔ حافظ احمد رحمت اللہ
۲۔ محمد نعمت اللہ ۔

دونوں بھائیوں نے لاڑکانہ شہر کے محلہ علی گوہر آباد میں سکونت اختیار کی تھی اور سفید مسجد پر قابض تھے اور اعتقادی طور پر دیوبندی وہابی نظر یہ رکھتے تھے ۔ دو چار سال ہوئے انتقال کر گئے ہیں ۔

وصال:
حافظ محمد کامل نے ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۱ھ بمطابق ۵ مارچ ۱۹۳۲ء کو انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ گوٹھ سنہڑی متصل لاڑکانہ میں واقع ہے۔ آپ کے انتقال پر آپ کے استاد نورنگی نے نہایت افسوس کا اظہار کیا اور آپ کو ’’ علم کا ذخیرہ ‘‘ سے تعبیر کیا۔ ( وصال کی تاریخ و تفصیل حافظ عبدالرزاق سومرو کے قلمی مضمون سے بذریعہ حافظ عبد الستار لی گئی ، احقر تمام کا مشکور ہے )

مولانا حافظ نور احمد حبیسر ( اھسان واھن تحصیل ڈوکری ) کی روایت کے مطابق کہ حافظ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے مزار سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آتی تھی ‘‘ ۔ اس سے معلوم ہواس وہ نام کے فقط کامل نہیں تھے بلکہ حقیقت میں بھی کامل تھے ۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت ) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-kamil
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ محمد غوث قادری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید محمد غوث ۔ لقب: شیخ المحدثین، شارحِ بخاری، غوث الوقت ۔ مکمل نام: حضرت سید محمد غوث گیلانی قادری ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ المحدثین حضرت شاہ محمد غوث گیلانی قادری بن ابو البرکات سید حسن بادشاہ قادری پشاوری بن سید عبد اللہ شاہ اصحابی (مکلی) بن سید محمود بن سید عبد القادر بن سید عبد الباسط بن سید حسین بن سید احمد بن سید شرف الدین قاسم بن سید شرف الدین یحیی بن سید بار الدین حسن بن سید علاؤ الدین بن سید شمس الدین بن سید شرف الدین یحیی بن سید شہاب الدین احمد بن سید ابو صالح نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہم اللہ عنہم اجمعین ۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ، ص:186) ـ

حضرت شاہ محمد غوث کے والد گرامی نے دوسری شادی خاندانِ ساداتِ کنٹر (افغانستان) غوثِ خراساں سید علی ترمذی المشہور پیر بابا کی پوتی سے کی ۔ یہ بی بی صاحبہ اتنی نیکوکار و پرہیزگار تھیں کہ ان کا لقب ’’ رابعۂ عصر ‘‘ تھا ۔ اسی عفیفہ کے بطن سے حضرت شیخ المحدثین پیدا ہوئے ۔ (تذکرہ مشائخِ سرحد جلد اول، ص:58 / خزینۃ الاصفیا قادریہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1091ھ مطابق 1680ء کو موضع سلطان پور، پشاور میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
اپنے والد گرامی ابو البرکات سید حسن پشاوری سےگھر میں تربیت حاصل کی ۔ سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا ۔ پھر علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل میں مصروف ہو گئے ۔ کابل میں اخوند مولانا محمد نعیم صاحب سے سے علوم متدوالہ تک پڑھے ۔ پھر احادیث پڑھنے کے لئے لاہور تشریف لے گئے ۔ لاہور میں مولانا جان محمد لاہوری، میاں نور محمد مدقق، حاجی یار بیگ صاحب، مولانا عبد الہادی، اور مولانا میاں محمد مراد علیہم الرحمہ سے تحصیلِ علم کیا ۔

آپ اٹھارہ سال کی عمر میں تما م علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کی ۔ پھر آپ نے سفرِ حرمین شریفین اختیار کیا ۔ حج اور زیارت کے بعد علومِ حدیث میں مصروف رہے ۔ (مقدمہ شرح غوثیہ) ۔ علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ آپ فرماتے ہیں کہ دورانِ تعلیم میں نے والد گرامی کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے سلوک و معارف کے سبق بھی دیے جائیں ۔ لیکن وہ ہمیشہ یہی ارشاد فرماتے کہ پہلے علومِ ظاہری کی تکمیل کر لو ۔ اس کے بعد دیکھا جائےگا ۔ (تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد جلد اول، ص:76) ـ

فی زمانہ خانقاہوں کے زوال کی بنیادی وجہ سجادوں اور خلیفوں کا علومِ دینیہ سے بے بہرہ ہونا ہے ۔

بیعت و خلافت:
علوم میں تکمیل کے بعد والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مروجہ نصاب کی تکمیل ہو گئی ہے ۔ راہِ حقیقت کا راہی بنائیے ۔ انہوں نے درخواست قبول کرتے ہوئے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت فرمایا اور ذکر الہی کی تلقین کی ۔ چھ سال تک ذکر و فکر اور نفس کشی میں مصروف رہے ۔ چھ سال کے مجاہدات کے بعد خلافت عطاء فرمائی ۔

والد صاحب کے علاوہ جس کے بارے میں بھی معلوم ہوا ان کے پاس حاضر ہوئے ۔ سب سے پہلے پشاور شہر میں جناب عبد الغفور نقشبندی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر اٹک میں حضرت جی صاحب یعنی شیخ یحییٰ سے ملاقات کی ۔ حضرت جی آپ سے انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آئے ۔ ان کی صحبت میں ذکر قلبی غالب ہوا، ذکر قلبی ، حبس کا طریقہ اور بعض دیگر مقامات جو حبس کے لئے ضروری ہیں، ان کی صحبت سے حاصل ہوئے، نیز آپ نے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی اجازت بھی مرحمت فرمائی ۔ اٹک کے گرد و نواح کے فقرا کو مل کر راولپنڈی کے قریب نور پور شاہاں (موجودہ اسلام آباد) میں حضرت شاہ عبد اللطیف بری امام سے ملاقات ہوئی ۔ سرہند شریف میں حاجی صبغۃ اللہ اور میاں عبد الاحد اور میاں فرخ شاہ سے ملاقات ہوئی ۔

پھر دہلی کی طرف راوانہ ہوئے، وہاں شیخ محمد چشتی اور شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے اپنی کتب عنایت فرمائیں ۔ دہلی میں حضرت قطب الاقطاب کے مزار پر معتکف رہے۔پھر اجمیر شریف حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے مزار پر حاضری دی ۔ پھر لاہور واپس تشریف لائے اس وقت لاہور میں شیخ عبد الغنی نامی گرامی تھے ان کےپاس حاضر ہوئے ۔ رسالۂ غوثیہ میں رقم طراز ہیں، جب میں تلاشِ حق کے سلسلے میں لاہور پہنچا تو حضرت میاں میر کے مزار پر کئی راتیں گزاریں ۔ ایک دن آپ ظاہر ہوئے اور میری طرف توجّہ فرمائی اور ایک شغل میں مشغول رہنے کا حکم کیا اور ارشاد فرمایا: یہ بات کسی اور سے نہ کہنا ۔ میں صبح اُٹھ کر شیخ حامد قادری کی خدمت میں حاضر ہوکر طالبِ فیض ہوا ۔ فرمایا: رات جو تمہیں حضرت میاں میر نے شغل عطا فرمایا ہے وہی کافی ہے ـ(ایضا:80خزینۃ الاصفیاء قادریہ: 301) ـ
1
سیرت و خصائص:
الفاضل الشہیر، المحدث الاعظم، الفقیہ الافخم، بحر العلوم والفنون، عالم علوم عقلیہ و نقلیہ، عارف العلوم الالٰہیہ و توحیدیہ، مطلعِ انوار شریعت، واقف اسرار طریقت، غواصِ بحرِ حقیقت، شیخ التفسیر والمحدثین، سرتاج زاہدین، امام العابدین، سند الاتقیاء، امام الازکیاء، المحدث الکبیر الشاہ محمد غوث پشاوری بن ابو البرکات سید حسن بادشاہ بن حضرت سید عبد اللہ شاہ اصحابی رحمۃ اللہ عنہم اجمعین ۔

آپ کے علم وفقر کی شہرت اتنی عام ہوئی کہ ہر کہ و مہ کی زبان پر آپ کی دینی تبلیغ، خدمتِ فقراء، درس اور لنگر کا تذکرہ تھا ۔ لوگ جوق در جوق آتے اور حسبِ حال امداد حاصل کرکے جاتے ۔ جو تحائفِ اور ہدایا آتے فقراء، مساکین، بیواؤں اور یتیموں پر صرف کر دیتے ۔ مسافر وں کو زادِ راہ مہیا کرتے، اتنے اخراجات کرنے کے با وجود آپ کے چہرہ پر کبھی ملال نہیں آیا ۔ اور نہ ہی کبھی کسی حکمرانِ وقت اور امیر سے کوئی امداد قبول کی ۔ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں بادشاہ کی طرف سے ہزار اشرفیاں پیش کی گئیں، آپ نے یہ فرماتے ہوئے واپس کردیں کہ یہ مستحقین میں تقسیم کر دیں، اور مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے ۔

درس و تدریس:
1120ھ میں پشاور شہر میں خانقاہ عالیہ قادریہ سید حسن صاحب پر باقاعدہ سلسلہ تدریس شروع کر دیا ۔ درسِ قرآن، درسِ حدیث، اور طریقہ مبارکہ کے ارشادات خود فرماتے ۔ آپ کے درسِ مبارک میں اکابر علماء کی اولادیں اور مشائخِ کرام کے صاحبزادگان آکر علوم سے بہرہ ور ہوتے ۔ حدیث شریف کا درس اتنا وسیع تھا کہ پنجاب سرحد کے علاوہ کابل، ہرات، اور غزنی کے طلباء جوق در جوق آکر شامل ہوتے، نیز طلباء کی رہائش، لباس اور طعام کا بند و بست خود فرماتے ۔

اسی طرح مریدین کی تربیت پر خصوصی توجہ تھی ۔ آپ کی خانقاہ میں تزکیۂ نفس اور تہذیبِ اخلاق کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی ۔ آپ 1148ھ تک پشاور میں رہے اور پھر لاہور تشریف لے گئے ۔ چاربرس تک لاہور میں بھی اسی طرح تبلیغِ دین اور اشاعتِ سلسلہ میں منہمک رہے ۔ چالیس سال آپ نے تدریس فرمائی، بلکہ تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی مشغول رہے ۔ آپ نے مختلف علوم و فنون پر چار سو کتب تحریر فرمائیں ۔ ان میں سے اکثر گردشِ زمانہ کی نذر ہوگئیں ۔

فضل و کمال:
آپ کے ہم نام بزرگ جو کہ آپ کے مرید بھی تھے ۔ جب محمد شاہ نے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد ہندوستان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کیا اور پشاور پہنچا تو اِن سے استمداد کی درخواست کی ۔ انہوں نے کہا: حضرت شاہ محمد غوث لاہوری کی طرف رجوع کرو ۔ اُس نے آپ کو پشاور بلا بھیجا ۔ آپ نے جواب لکھ بھیجا کہ ہمارے پیروں کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ بادشاہوں کے پاس جائیں اور اُن کی مدد کریں۔ اللہ ہی مدد گار کافی ہے ۔ نادر شاہ یہ جواب پاکر بڑا برہم ہُوا اور کہا: اچھا لاہور پہنچ لُوں اس گستاخی کا مزہ معلوم ہو جائے گا ۔ جب پشاور سے کوچ کیا تو راستے میں ایک ندی کی طغیانی نے ایسا راستہ روکا کہ اس کا عبور کرنا دشوار ہو گیا ۔ کئی روز انتظار بھی کیا مگر طغیانی کسی طرح کم نہ ہُوئی بلکہ بڑھتی چلی گئی ۔ آخر پریشان ہوکر شاہ محمد غوث سے دعا کی درخواست کی ۔ آپ نے جواب بھیجا:یہ طغیانی تمہارے اس ارادۂ بد کا نتیجہ ہے ۔ جو تم نے حضرت شاہ محمد غوث کی نسبت کیا ہے۔ یہ سُن کر تائب ہُوا اور لاہور پہنچ کر عقیدت و خلوص کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہُوا اور معذرت چاہی ۔
2
استغناء:
جب آپ کے والدِ محترم کا انتقال ہوا تو اس کے فوراً بعد بادشاہ ہندوستاں اورنگ زیب عالمگیر نے آپ کے نام مزار شریف کے گرد چالیس جریب زمین کی سند لکھ کر بھیج دی ، مگر آپ نے قطعی جواب دے دیا کہ ’’ میں فقیر آدمی ہوں ، اللہ کا دروازہ مجھے کافی ہے وہی میرا کارساز ہے ، وہی میرا مولیٰ ہے اور وہ بہت اچھا آقا ہے ‘‘ ۔ (تذکرہ علماء ومشائخِ سرحد جلد اول، ص:83) ۔ اب بھی یہ سند نیشنل میوزیم کراچی میں موجود ہے ۔

حضرت مولانا مفتی غلام سرور لاہوری صاحبِ خزینۃ الاصفیا ء اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں: کہ رنجیت سنگھ کے پوتے نونہال سنگھ نے جو لاہور میں برسرِ حکومت تھا ایک انگریز مشیر کی تجویز سے لاہور شہر کے ارد گرد دُور دُور تک درخت اور عمارات گراکر میدان بنانے کا منصوبہ بنایا ۔ چنانچہ اس تجویز کے تحت بہت سے درخت اور عمارتیں منہدم کی گئیں ۔ جب حضرت شاہ محمد غوث کے مزار کی عمارتوں اور درختوں کے گرانے کی باری آئی اور کچھ بیرونی درخت اور عمارتیں گرائی جاچکیں اور اندرونی چاردیواری کی نوبت آئی تو نونہال سنگھ کا باپ کھڑک سنگھ مرگیا اور بیٹا باپ کی لاش کو جلا کر واپس آیا اور قلعہ میں داخل ہُوا تو قلعۂ لاہور کی دیوار سے ایک پتّھر گِر کر اس کے سر پر آپڑا جس کے صدمے سے وُہ  بھی وہیں ہلاک ہو گیا ۔ یہ واقعہ 1840ء میں رونما ہوا اور اس کی وُہ تمام تجاویز دھری کی دھری رہ گئیں ۔ (خزینۃ الاصفیاء قادریہ، ص:300) ـ

تصنیفات:
1۔ شرح غوثیہ: آپ نے بخاری شریف کی شرح لکھی جو  شرح غوثیہ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ شرح علم حدیث میں ایک بحر نا پیدا کنار ہے ۔ حدیث شریف کے متعلق جتنے علوم ہیں وہ سب اس شرح میں آپ نے حل فرمائے ہیں۔ اس شرح میں علاوہ دیگر متعلقہ علوم کے بخاری شریف کے اسما ء الرجال کو مکمل بیان کیا ہے ۔ فقہ حنفی کی تطبیق نہایت ہی احسن طریقہ پر کی ہے ۔

2۔ رسالہ اصول حدیث:یہ حدیث کے اقسام پر عربی میں آپ نے لکھا ہے ۔

3۔ رسالہ دربیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت (فارسی قلمی) یہ تصوف پر لکھا ہے ۔ یہ رسالہ مکمل و اکمل مرشد ہے ـ

4۔ رسالہ ذکر جہر: اس رسالہ میں قرآن مجید ، احادیث شریف ، کتب فقہ اور کتب علما ء کرام سے مدلل طریقہ سے ذکر جہر کا ثبوت دیا ہے اور نہایت ہی احسن وجوہ بیان فرمائے ہیں ۔ یہ رسالہ عربی میں قلمی ہے ۔

5۔ ترجمہ قصیدہ غوثیہ شریف (فارسی): قصیدہ شریف کی عام فہم اور صوفیانہ شرح ہے ۔ صرف اور نحو کے مشکل مقامات کو نہایت آسان طریقہ پر حل فرمایا ہے ۔

6۔اسرار التوحید (عربی) : قلمی یہ کتاب توحید کے موضوع پر ہے ۔ منطق ، فلسفہ اور الہٰیات کی کتابوں پر آپ نے شروحات لکھیں، اور قرآنِ مجید پر ایک حاشیہ بھی تحریر فرمایا تھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 17 ربیع الاول 1152ھ میں ہوئی ۔ بیرون دہلی دروازہ لاہور آپ کا مزار واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد ۔ شرح غوثیہ ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔ خزینۃ الاصفیاء قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-ghaus-lahori
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا سید اصغر علی شاہ خیر آبادی علیہ الرحمہ

آپ فخر الاصفیاء حضرت مولانا سید محمد علی خیر آبادی قدس سرہٗ کے چھوٹے بھائی تھے، حضرت مولانا غلام امام نبیرہ حضت شاہ صفت اللہ محدث سے سلسلہ چشتیہ میں مرید تھے اور خلیفہ بھی تھے، اپنے مرشد کے مرشد حضرت شاہ قدرت اللہ قدس سرہٗ سے بھی اجازت پائی تھی، آپ بڑے متقی، متورع اور متجر عالم و بزرگ تھے ـ

وصال:
۱۷ ربیع الاول ۱۲۶۰ھ میں آپ کا وصال ہوا، حضرت مولانا شاہ محمد اسلم خیر آبادی جیسے نامور اور بزرگ عالم و عارف آپ کے صاحبزادے تھے ۔

( خیر آباد کی ایک جھلک )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-asghar-ali-shah-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
آل احمد اچھے میاں ، حضرت ابو الفضل سید شاہ شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی: سید آل احمد ۔ کنیت: ابوالفضل ۔ لقب: اچھے میاں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید آل احمد اچھے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمدبن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید عبد الجلیل بن سید میر عبد الواحد بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید ماہر بن سید شاہ بڈہ بن سید کمال بن سید قاسم بن سید حسن بن سید نصیر بن سید حسین بن  سید عمر بن محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح واسطی بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحیٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین ۔ (رضی اللہ عنہم) ۔ (تاریخ خاندان برکات ص: 7)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28 رمضان المبارک 1160ھ مطابق اکتوبر 1747ء کو مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبل از ولادت بشارت:
حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ نے یہ بشارت دی تھی کہ مجھے بفضل الٰہی چار واسطوں کے بعد ایک لڑکا عنایت ہوگا جس سے رونقِ خاندان دو بالا ہوگی بعدہٗ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ نے اپنا ایک خرقہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ یہ اس صاحبزادے کےلیے ہے۔ حضرت سیدنا شاہ آل محمد (حضور صاحب البرکات کے بڑے شہزادے) نے حضور اچھے میاں قدس سرہ کو تسمیہ خوانی کے وقت گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی شہزادے ہیں جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:358)

تحصیلِ علم:
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی و منازل سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد سے فرمائی، اور آپ کے روحانی معلم حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی تھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے فنِ طب با قاعدہ کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی سے حاصل فرمایا تھا ۔ مگر اس علم سے سوائے سِتر تصرُّفات کام نہ لیا جاتا تھا، بظاہر ہر مریض کو معمولی دوایا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے، مگر حقیقتاً خود چارہ سازی فرماتے ۔ (ایضا:358)

آپ علوم ظاہری و باطنی علوم  کے بہترین عالم تھے ۔ اکثر علماء و فضلاء آپ کے خدام تھے ۔ علماء کے دقیق و مشکل مسائل ایسی خوبی سے حل فرما دیتے کہ عقلیں حیران رہ جاتیں ۔ ایک بار حضرت کے آخری عہد میں حضرت  مولانا شاہ عبد المجید عین الحق بدایونی جو آپ کے اجلہ خلفاء میں سے ہیں ۔ عرض کیا کہ مسئلۂ قرطاس میں ہر چند علماء نے جواب دِئیے ہیں لیکن حضور میری تسکینِ خاطر فرما دیں؟حضرت نے دوات قلم کا حکم فرمایا معاً حضرت شاہ عین الحق پر مسائل کی تحقیق وارد ہوئی اور فرمایا کہ فقیر پر ہدایات شافی مل چکے ہیں ۔۔

ایک شخص نے حضرت نقیب الاشراف بغداد کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود سمجھنا چاہا ۔ حضرت نے ہندوستان کے سفر کی ہدایت فرمائی ۔ وہ صاحب علماء و مشائخ سے ملتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچے، مدعا عرض کیا، مگر تشفّی نہ ہوئی، حضرت محدث دہلوی نے فرمایا ۔ آپ مارہرہ شریف حضرت اچھے میاں کی خدمت میں جایئے، وہ آپ کی تسکینِ خاطر فرما دیں گے ۔ حضرت کے فضائل و مناقب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ’’ ملفوظاتِ عزیزی ‘‘ میں بلند کلمات کے ساتھ موجود ہیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ص:17)

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں والدِ گرامی حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشق خدا، محبوبِ سرکارِ مصطفیٰ، مظہرِ غوث الوریٰ، فخر الاولیاء، شمس الدین ابو الفضل حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رحمۃ الله تعالیٰ علیہ ۔

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چھتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ بڑے باکمال و عارف باللہ تھے، کرامات و تصرفات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔علوم ظاہر و باطن میں بحرِ بے کنار تھے ۔آپ نے سخت ترین ریاضتیں کیں اور مجاہدات و سلوک میں ایک خاص شان کے حامل تھے ۔ غلاموں کی حفاظت و کفالت خود فرماتے اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے پیکر تھے ۔

حضرت عبادت و ریاضت میں  بہت بلند رتبہ کے حامل تھے ۔ آپ ہمیشہ اکتساب اذکار و مراقبات و اشغال میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فرائضِ پنچ وقتہ کے علاوہ حَبس کبیر، صلوۃِ معکوس و صوم و نوافل اور مجاہدات قویہ و ریاضات باطنیہ کا التزام رکھتے تھے ۔ اور طاعات پر طاعات بجا لاتے تھے ۔
2
عادات و معمولات:
حضور قدوۃ السالکین سید شاہ آل احمد اچھے میاں﷫رات کے آخری حصے میں میں اٹھ کر حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے،پھر وضو فرما کر نماز تہجد ادا کرتے بعدہٗ دست مبارک اٹھا کر دین کی ترقی اور متوسلین کے لیے دعائے مغفرت فرماتے،جب دعا سے فارغ ہوجاتے  تو فقراء گیارہ مرتبہ  ذکر کلمۂ شریف بآواز بلندسے کرتے، اس وقت دروازہ بند ہوجاتا تھا، اور کسی غیر کو خلوت خاص میں باریابی کی مجال نہ ہوتی۔بعدہٗ محل سرا میں تشریف لے جاتے،تھوڑی دیر بعد خانقاہ میں رونق  افروز ہوتے اور درویشوں کو طلب فرما کر سب کی قلبی کیفیات کے بارے میں استفسار فرماتے اور بقدر حوصلہ ہر ایک کی اصلاح فرماتے،پھر درگاہ شریف جاکر پہلے اپنے والد ماجد کے مزار پر فاتحہ و قدم بوسی کےلیے حاضر ہوتے،اور پھر والدہ ماجدہ ، جد امجد و عم مکرم کے مزارات پر فاتحہ خوانی کرتے اکثر اوقات درگاہ معلیٰ سے متصل پائیں باغ میں تشریف لے جاتے اور جامن کے درخت کے نیچے دری بچھا کر جلوہ افروز ہوتے وہاں سے اٹھ کر خانقاہ تشریف لے جاتے،اس وقت دربار عام ہوتا، ہر ایک اپنا اپنا مطلب عرض کرتا، آپ اپنے غلاموں کو سخت محنت اور ریاضت سے بچاتے اہل حاجات کو بھی وظائف و اعمال بہت کم مرحمت فرماتے ،زبانی عرض یا عرضی پر حکم ہوتا اورکا م پورا ہوجاتا۔ اپنے اکابر کی طرح تصرفات میں پوشیدگی فرماتے ،دوپہر کے وقت کھانا طلب ہوتا تو گیہوں کی دو یا تین ہلکی چپاتیاں شور بہ یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔اسی طرح آپ کے تمام معاملات ذکر و فکر اور عبادت وریاضت،اور دکھی انسانیت کی خدمت میں گزرتے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:360)

فضل و کمال:
آثار احمدی میں لکھا ہے کہ بخارا کا رہنے والا ایک شخص مارہرہ شریف حاضر ہوا ۔ اور نمازِ ظہر خانقاہ شریف میں پڑھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: ’’حضرت کا نام سن کر طلبِ حق کے واسطے یہاں آیا ہوں کیونکہ مجھ میں مجاہدہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔حضور کی توجہ سے بے محنت اس عظیم سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔حضرت نے تبسم آمیز لہجے میں فرمایا کہ اتنی بڑی دولت اس قدر جلدی چاہتے ہو؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے طعنہ دیا کہ یہ بھی کوئی حلوہ ہے ۔ جو تمہارے منہ میں رکھ دیا جائے؟ حضرت نے فرمایا ایسا نہ کہو، خدا سے کیا بعید ہے۔پھر اس نوجوان کو ایک درود شریف مع ترکیب تعلیم فرما کر کہا کہ آج رات کو پڑھنا؟ اس نے حسبِ حکم پڑھا ۔ درود شریف پڑھنے کی حالت میں رسول مقبول ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ایک حالت اس پر طاری ہو گئی جس سے اس کا عقدۂ باطنی کُھل گیا۔صبح کو حضرت کی خدمت بابرکت میں آکر عرض کرنے لگا ۔ سبحان اللہ! رسول ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ہر صدی کے بعد میری امت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو میرے دین کو زندہ کرے گا تو وہ ذات مقدس آج اس صدی میں حضور آپ (حضرت اچھےمیاں) کی ہے ۔ (ایضا)

خزانۂ غوثیہ:
حضرت کی تحویل میں ایک چھوٹا سا خزانہ تھا جسے غلہ غوثیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہ تھی ہزار ہا روپے کے انعام و عطیات اسی خزانۂ غوثیہ سے ادا ہوتے ، صدہا خدام تھے ۔ جن کی کفالت خود حضرت فرماتے تھے۔اور اسی خزانہ سے آستانہ کے حاضرین خدام کی جملہ آسائش کا سامان منگواتے باوجود ان اخراجات کے عطیۂ غوثیہ میں کمی نہ ہوتی جو حضرت کی ایک عظیم کرامتوں میں سے ایک زندہ کرامت تھی ۔

تین بیٹوں کی بشارت:
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے ۔ ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔ دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ ارشاد فرمایا: ’’ارادت اللہ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ غلام کا کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا) نہیں ہے ۔ آپ نےدعا کی: ’’یارب کریم ہمارے ارادت اللہ کو فرزند دیدے‘‘ ۔ اس کے بعد فرمایا: خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا ۔ خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے: ’’حضور! مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ‘‘۔ تو آپ نے اپنے سر مبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی) دینے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے‘‘ ۔ خلیفہ ارادت اللہ واپس ہوئے ۔ جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔ (ایضا: 363)
1
تصانیف و علمی خدمات:
آپ کی تصانیف  کے بارے میں حضرت  علامہ مولانا شاہ سید محمد شاہ مارہروی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ۔ کہ حضرت کی تصنیف و تالیف سے سب سے بڑی ضخیم کتاب ’’ آئین احمدی ‘‘ ہے ۔ سنا ہے کہ اس کی چونتیس ، بروایتے ساٹھ جلدیں بہت مبسوط اور مختلف  علوم و فنون میں تھیں۔ آپ نے علوم متداولہ میں سے کوئی علم و فن ایسا نہیں چھوڑا تھا جو اِس میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ اس کی بہت سی جلدیں تلف ہوگئی ۔ چند خانقاہ شریف اور خاندان کے  مختلف حضرات اور خلفاء کے پاس ہیں ۔ (2) بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (3) آداب السالکین مطبوعہ (4) مثنوی اشعار، تصوف میں (5) دیوانِ اشعار فارسی ۔ وغیرہ ۔

آپ کی اولاد میں ایک صاحبزادی اور ایک صاحبزادے ہوئے دونوں کا بچپن میں انتقال ہو گیا ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص:364)

تاریخِ وصال:
بروز جمعرات، 17 ربیع الاول 1235ھ مطابق 30 دسمبر1819ء، بوقتِ چاشت، بعمر 75 سال، بعارضۂ سرطان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کا مزارِ مقدس حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کے مزار مبارک کے دائیں جانب (مارہرہ مطہرہ) میں مرجع خلائق ہے ۔

شجرہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح منظوم ہے:

؏: دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
؏: یا ابوالفضل آل احمد حضرت اچھے میاں
شاہ شمس الدین ضیاء الاصفیاء امداد کن

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aale-ahmad-achay-mian-marharwi
1