🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-03-1445 ᴴ | 02-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ 15 ربیع الاول شریف کی فوٹوز والی پہلی پوسٹ یہاں ↶ پر ہے https://t.me/islaamic_Knowledge/60556
16-03-1445 ᴴ | 02-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت علامہ ہدایت اللہ عاریجوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء مولانا الحاج محمد ہدایت اللہ بن مولانا عبداللہ عاریجوی (متوفی ۱۹۶۵ئ) ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۷ھ / ۱۷ مئی ۱۹۳۸ء کو گوٹھ ٹھارو واہن متصل خیر محمد عاریجہ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
پرائمری اسکول عاریجہ سے چار جماعت پاس کی ۔ ناظرہ قرآن مجید و فارسی بوستان تک کی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا خلیفہ عبد اللہ سے حاصل کی ۔
جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں علامہ عبد الصمد میتلو کے پاس علم صرف کی کتب پڑھیں، اس کے بعد گوٹھ آگانی متصل لاڑکانہ میں مدرسہ نعیمیہ میں داخلہ لے کر حضرت صدر الافاضل کے تلمیذ رشید علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے پاس چار سال میں شرح وقایہ اور شرح نور الانوار تک درسی کتب میں تکمیل کی ۔
اس کے بعد گوٹھ پٹھان تحصیل ڈوکری میں علامہ محمد حمید اللہ انڑ کے پاس دو سال قیام کرکے تفسیر و حدیث کی کتب کا درس لیا ۔ مدرسہ احسن البرکات حیدر آباد میں علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی کے پاس علم معانی ، فلسفہ کلام و منطق کا نصاب ڈھائی سال میں مکمل کیا ۔
مدرسۂ انوار العلوم ملتان شریف میں غزالئ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمۃ کے پاس آٹھ ماہ میں دورہ تفسیر مکمل کیا ۔
آخر میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں محدث اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمہ کے پاس دورۂ حدیث شریف مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت علمی والد ماجد کی قائم کردہ درس گاہ جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد عاریجہ میں درس کا آغاز کیا اور ایک ررصہ تک تدریس سے وابستہ رہے۔
آپ کے بعض تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں:
تلامذہ:
٭ مولانا محدم وارث قاسمی خضدار بلوچستان
٭ مولانا محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب صدیق اکبر مسجد حیدرآباد
٭ مخدوم زادہ مولانا منور الدین دربیلو شریف ضلع نو شہرو فیروز
٭ مولانا قاری گل محمد قاسمی مدرسہ قاسم الانوار لاڑکانہ
٭ مولانا گل حسن ابڑو مدرسہ ـ گوٹھ بگی تحصیل ڈوکری
٭ مولانا غلام مجتبیٰ سندیلومدرسہ لطیفیہ رضویہ لاڑکانہ
٭ مولانا محدم ادریس سومرو چھتو واہن تحصیل ڈوکری
وصال:
مولانا ہدایت اللہ عاریجوی نے ۵ ربیع الآخر ۱۴۲۶ھ / ۱۴ مئی ۲۰۰۵ء بروز ہفتہ بوقت صبح صادق ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔
گوٹھ خی رمحمد رعاریجہ ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) سندھ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
(مختصر حالات زندگی احسان واہن تحصیل ڈوکری کے ماسٹر غلام شبیر جیسر کے توسل سے موصول ہوئے۔ موصوف نے بڑی جفا کشی سے مولانا مرحوم کے لواحقین سے حاصل کئے ہیں۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hidayatullah-arijvi
استاد العلماء مولانا الحاج محمد ہدایت اللہ بن مولانا عبداللہ عاریجوی (متوفی ۱۹۶۵ئ) ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۷ھ / ۱۷ مئی ۱۹۳۸ء کو گوٹھ ٹھارو واہن متصل خیر محمد عاریجہ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
پرائمری اسکول عاریجہ سے چار جماعت پاس کی ۔ ناظرہ قرآن مجید و فارسی بوستان تک کی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا خلیفہ عبد اللہ سے حاصل کی ۔
جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں علامہ عبد الصمد میتلو کے پاس علم صرف کی کتب پڑھیں، اس کے بعد گوٹھ آگانی متصل لاڑکانہ میں مدرسہ نعیمیہ میں داخلہ لے کر حضرت صدر الافاضل کے تلمیذ رشید علامہ مفتی محمد صالح نعیمی کے پاس چار سال میں شرح وقایہ اور شرح نور الانوار تک درسی کتب میں تکمیل کی ۔
اس کے بعد گوٹھ پٹھان تحصیل ڈوکری میں علامہ محمد حمید اللہ انڑ کے پاس دو سال قیام کرکے تفسیر و حدیث کی کتب کا درس لیا ۔ مدرسہ احسن البرکات حیدر آباد میں علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی کے پاس علم معانی ، فلسفہ کلام و منطق کا نصاب ڈھائی سال میں مکمل کیا ۔
مدرسۂ انوار العلوم ملتان شریف میں غزالئ زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمۃ کے پاس آٹھ ماہ میں دورہ تفسیر مکمل کیا ۔
آخر میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں محدث اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمہ کے پاس دورۂ حدیث شریف مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت علمی والد ماجد کی قائم کردہ درس گاہ جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد عاریجہ میں درس کا آغاز کیا اور ایک ررصہ تک تدریس سے وابستہ رہے۔
آپ کے بعض تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں:
تلامذہ:
٭ مولانا محدم وارث قاسمی خضدار بلوچستان
٭ مولانا محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب صدیق اکبر مسجد حیدرآباد
٭ مخدوم زادہ مولانا منور الدین دربیلو شریف ضلع نو شہرو فیروز
٭ مولانا قاری گل محمد قاسمی مدرسہ قاسم الانوار لاڑکانہ
٭ مولانا گل حسن ابڑو مدرسہ ـ گوٹھ بگی تحصیل ڈوکری
٭ مولانا غلام مجتبیٰ سندیلومدرسہ لطیفیہ رضویہ لاڑکانہ
٭ مولانا محدم ادریس سومرو چھتو واہن تحصیل ڈوکری
وصال:
مولانا ہدایت اللہ عاریجوی نے ۵ ربیع الآخر ۱۴۲۶ھ / ۱۴ مئی ۲۰۰۵ء بروز ہفتہ بوقت صبح صادق ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔
گوٹھ خی رمحمد رعاریجہ ( تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) سندھ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
(مختصر حالات زندگی احسان واہن تحصیل ڈوکری کے ماسٹر غلام شبیر جیسر کے توسل سے موصول ہوئے۔ موصوف نے بڑی جفا کشی سے مولانا مرحوم کے لواحقین سے حاصل کئے ہیں۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hidayatullah-arijvi
scholars.pk
Hazrat Allama Hidayatullah Arijvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی فغنوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ
الخیر فغنہ نزد بخارا (۶۲۷ھ/ ۱۲۳۰ء ۔۔۔ ۷۱۷ھ / ۱۲۱۷ء) وابکنہ نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
جانشین تھے وہ خواجہ عارف کے
تھے نگاہوں میں سب کی اے صاؔبر
مرد ہشیار اور شب بیدار
’’خواجہ محمود مہر و ماہِ وقار‘‘
۱۳۱۷ء
( صاؔبر براری ، کراچی )
آپ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کی ولادت ۱۸ شوال ۶۲۷ھ مطابق ۱۲۳۰ء میں موضع الخیر فغنہ نزد وابکنہ (بخارا سے چند میل دور) میں ہوئی۔ ذریعۂ معاش گلکاری (نقاشی، بیل بوٹے کا کام) تھا ۔
جب آپ کو اجازتِ ارشاد مل گئی تو آپ نے مصلحتاً اور بتقاضائے وقت ذکر جہر شروع کیا کیونکہ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمہ اللہ نے آخری وقت فرمایا تھا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس کی طرف ہمیں اشارہ ہوا تھا کہ طالبوں کو بربنائے مصلحت ذکر جہر اختیار کرنا پڑےگا ۔
مولانا حافظ الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ (جو اس وقت کے بہت بڑے عالم اور خواجہ محمد پارسا قدس سرہ کے جدِّ اعلیٰ تھے) نے رئیس العلماء شمس الآئمہ حلوانی کے اشارے سے علماء عصر کی ایک جماعت کے رو برو حضرت خواجہ محمود رحمہ اللہ سے سوال کیا تھا کہ آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تاکہ سویا ہوا بیدار اور غفلت سے ہشیار ہوجائے۔ راہِ راست پر آجائے اور شریعت و طریقت پر استقامت حاصل کرے اور توبہ و انابت (خدا کی طرف رجوع، انکساری و عاجزی) کی طرف رغبت کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کی نیت درست ہے اور آپ کے لیے یہ شغل جائز ہے لیکن ذکر جہر کی ایک حد مقرر کردیجیے کہ جس سے حقیقت مجاز سے اور بیگانہ، آشنا سے ممتاز ہوجائے۔ اس پر حضرت خواجہ نے فرمایا کہ ذکر جہر اس شخص کے لیے جائز ہے کہ جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے پاک ہو، جس کا حلق حرام و شبہ سے،دل ریا وسمعہ سے اور باطن توجہ بماسوا سے پاک ہو ۔
حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کے وقت ایک درویش نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا اور اُن سے پوچھا کہ اس زمانے مین مشائخ میں سے ایسا کون ہے جو طریقِ استقامت پر ثابت قدم ہوتا کہ اس کا مرید بن کر اُس کی پیروی کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی۔ خواجہ رامتینی کے بعض اصحاب نے کہا کہ وہ درویش سائل خود خواجہ رامتینی تھے مگر اپنا نام اس وجہ سے نہ لیا کہ یہ ظاہر نہ ہوجائے کہ انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا ہے ۔
آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے جن کی کرامتیں زبان زدِ عام تھیں ۔ بطور تبرک ایک کرامت درج ذیل ہے:
ایک روز حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ محمود الخیر فغنوی کے باقی اصحاب کے ساتھ موضع رامتین میں مشغولِ ذکر تھے ۔ کیا دیکھتے ہین کہ ایک بہت بڑا سفید پرندہ اُن کے اوپر اڑا چلا آتا ہے ۔ جب وہ پرندہ اُن کے عین سرپر آیا تو بزبانِ فصیح بولا ’’اے علی مرد بن اور اپنے کام میں مشغول رہ ‘‘ ۔ یہ بات سن کر تمام اہل مجلس پر ایک کیفیت طاری ہو گئی اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آئے تو حضرت خواجہ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا؟ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ وہ حضرت خواجہ محمود فغنوی قدس سرہٗ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ طاقت اور قوت بخشی ہے کہ وہ جس مخلوق کے قالب میں چاہیں متشکل ہو جائیں اور وہ ہمیشہ اس مقام پر پرواز جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے کئی ہزار کلمات فرمائے ۔ اُس وقت خواجہ و ہتقان قلتی رحمۃ اللہ علیہ بروایتِ دیگر خواجہ دہقان قلبی رحمۃ اللہ علیہ ( خلیفہ اول خواجہ اولیائے کبیر رحمۃ اللہ علیہ ) کا وقتِ آخر تھا۔ انہوں نے دعا کی تھی یا اللہ! میرے اس آخری وقت میری مدد کے لیے اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج تاکہ اُس کی برکت سے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں، چنانچہ بادشاہِ ربانی حضرت خواجہ محمود فغنوی کی روح مبارک خواجہ وہقان کے پاس پہنچی تھی ۔ ان کا خاتمہ بالخیر ہو گیا اور اب واپس تشریف لے گئے ہیں چونکہ اُنہیں میرے حال پر فرط محبت و عنایت تھی لہٰذا اس راہ سے گزرتے ہوئے مجھ پر کرم فرمایا ۔
الخیر فغنہ نزد بخارا (۶۲۷ھ/ ۱۲۳۰ء ۔۔۔ ۷۱۷ھ / ۱۲۱۷ء) وابکنہ نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
جانشین تھے وہ خواجہ عارف کے
تھے نگاہوں میں سب کی اے صاؔبر
مرد ہشیار اور شب بیدار
’’خواجہ محمود مہر و ماہِ وقار‘‘
۱۳۱۷ء
( صاؔبر براری ، کراچی )
آپ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کی ولادت ۱۸ شوال ۶۲۷ھ مطابق ۱۲۳۰ء میں موضع الخیر فغنہ نزد وابکنہ (بخارا سے چند میل دور) میں ہوئی۔ ذریعۂ معاش گلکاری (نقاشی، بیل بوٹے کا کام) تھا ۔
جب آپ کو اجازتِ ارشاد مل گئی تو آپ نے مصلحتاً اور بتقاضائے وقت ذکر جہر شروع کیا کیونکہ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمہ اللہ نے آخری وقت فرمایا تھا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس کی طرف ہمیں اشارہ ہوا تھا کہ طالبوں کو بربنائے مصلحت ذکر جہر اختیار کرنا پڑےگا ۔
مولانا حافظ الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ (جو اس وقت کے بہت بڑے عالم اور خواجہ محمد پارسا قدس سرہ کے جدِّ اعلیٰ تھے) نے رئیس العلماء شمس الآئمہ حلوانی کے اشارے سے علماء عصر کی ایک جماعت کے رو برو حضرت خواجہ محمود رحمہ اللہ سے سوال کیا تھا کہ آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تاکہ سویا ہوا بیدار اور غفلت سے ہشیار ہوجائے۔ راہِ راست پر آجائے اور شریعت و طریقت پر استقامت حاصل کرے اور توبہ و انابت (خدا کی طرف رجوع، انکساری و عاجزی) کی طرف رغبت کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کی نیت درست ہے اور آپ کے لیے یہ شغل جائز ہے لیکن ذکر جہر کی ایک حد مقرر کردیجیے کہ جس سے حقیقت مجاز سے اور بیگانہ، آشنا سے ممتاز ہوجائے۔ اس پر حضرت خواجہ نے فرمایا کہ ذکر جہر اس شخص کے لیے جائز ہے کہ جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے پاک ہو، جس کا حلق حرام و شبہ سے،دل ریا وسمعہ سے اور باطن توجہ بماسوا سے پاک ہو ۔
حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کے وقت ایک درویش نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا اور اُن سے پوچھا کہ اس زمانے مین مشائخ میں سے ایسا کون ہے جو طریقِ استقامت پر ثابت قدم ہوتا کہ اس کا مرید بن کر اُس کی پیروی کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی۔ خواجہ رامتینی کے بعض اصحاب نے کہا کہ وہ درویش سائل خود خواجہ رامتینی تھے مگر اپنا نام اس وجہ سے نہ لیا کہ یہ ظاہر نہ ہوجائے کہ انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا ہے ۔
آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے جن کی کرامتیں زبان زدِ عام تھیں ۔ بطور تبرک ایک کرامت درج ذیل ہے:
ایک روز حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ محمود الخیر فغنوی کے باقی اصحاب کے ساتھ موضع رامتین میں مشغولِ ذکر تھے ۔ کیا دیکھتے ہین کہ ایک بہت بڑا سفید پرندہ اُن کے اوپر اڑا چلا آتا ہے ۔ جب وہ پرندہ اُن کے عین سرپر آیا تو بزبانِ فصیح بولا ’’اے علی مرد بن اور اپنے کام میں مشغول رہ ‘‘ ۔ یہ بات سن کر تمام اہل مجلس پر ایک کیفیت طاری ہو گئی اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آئے تو حضرت خواجہ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا؟ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ وہ حضرت خواجہ محمود فغنوی قدس سرہٗ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ طاقت اور قوت بخشی ہے کہ وہ جس مخلوق کے قالب میں چاہیں متشکل ہو جائیں اور وہ ہمیشہ اس مقام پر پرواز جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے کئی ہزار کلمات فرمائے ۔ اُس وقت خواجہ و ہتقان قلتی رحمۃ اللہ علیہ بروایتِ دیگر خواجہ دہقان قلبی رحمۃ اللہ علیہ ( خلیفہ اول خواجہ اولیائے کبیر رحمۃ اللہ علیہ ) کا وقتِ آخر تھا۔ انہوں نے دعا کی تھی یا اللہ! میرے اس آخری وقت میری مدد کے لیے اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج تاکہ اُس کی برکت سے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں، چنانچہ بادشاہِ ربانی حضرت خواجہ محمود فغنوی کی روح مبارک خواجہ وہقان کے پاس پہنچی تھی ۔ ان کا خاتمہ بالخیر ہو گیا اور اب واپس تشریف لے گئے ہیں چونکہ اُنہیں میرے حال پر فرط محبت و عنایت تھی لہٰذا اس راہ سے گزرتے ہوئے مجھ پر کرم فرمایا ۔
❤1
واضح رہے کہ حیاتِ دنیوی میں بعض بندگان خدا کو غائیتِ صفا و لطافت سے بغائیت ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ جسمِ ظاہری کی قید کے باوجود مختلف بدن تبدیل کرسکیں چونکہ موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائرِ روح اس قفس سے آزاد ہو جاتا ہے لہٰذا وہدوسرے بدن میں تبدیل ہونے پر بطریق اولیٰ قادر ہیں ۔ اسے بروز کہتے ہیں۔
بروز و تناسخ میں فرق ہے ۔ اہل تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس، مسلمان ہو یا کافر، انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اُس کے واسطے تیار نہ ہوتا کہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے ۔ بخلاف اہل بروز کے کہ اُن کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے اور وہ بھی برجلیل لزوم نہیں ۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی مصلحت کی بنا پر دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دینوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورتِ بشری میں ہو یا نہ ہو۔ اور پھر اتمامِ مطلوب کے بعد پس پردہ غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بے جا اعتراض اور طعن و تشنیع کرتے ہیں ؎
تاچند کنی ببادہ نوشاں انکار
رندے کہ بود ز بادۂ عرفاں مست
انکار ممکن کہ نیست نیکو ایں کار
زنہار برو طعنہ مکن صد ز نہار
آپ کی وفات ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ مطابق ۱۳۱۷ء کو ہوئی ۔ مزار اقدس واہکنہ ( نزد بخارا ) میں ہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ محمود انجیر فغنوی قدس سرہ
افضل و اکمل:
آپ خواجہ عارف قدس سرہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کا مقام ولادت موضع انجیر فغنہ ہے جو علاقہ بخارا میں وابکنہ [۱] کا ایک گاؤں ہے۔ آپ وابکنہ میں رہا کرتے تھے۔ وجہ معاش گل کاری تھی۔ جب آپ کو اجازت ِارشاد مل گئی تو آپ نے بنابر مصلحت و مقتضائے حال طلاب پوشیدہ نہ رہے کہ حیات دنیوی میں بعضے بندگان خدا کو غایت صفا و لطافت سے بعنایات ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ باوجود بعد ظاہری کی قید کے مختلف بدن کسب کرسکیں۔ پس موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائر روح اس قفس سے آزاد ہوجاتا ہے وہ دوسرے بدن کے کسب پر بطریق اولےٰ قادر ہیں۔ اسے بروز کہتے ہیں۔
[۱۔ وابکنہ ایک قصبہ ہے جو چند قریات و مزارح پر شامل ہے اور شہر بخارا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
بروزا ور تناسخ میں فرق:
بروزا و رتناسخ میں فرق ہے۔ اہلِ تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس۔مسلمان ہو یا کافر۔ انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اس کے واسطے تیار نہ ہو۔ تاکہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے۔ بخلاف اہل بروز کے کہ ان کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم۔ یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے۔ اور وہ بھی بر سبیل لزوم نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی بنابر مصلحت دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دنیوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورت بشری میں ہو یا نہ ہو اور پھر اتمام ِمطلوب کے بعد پس پردہ سے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بیجا اعتراض و طعن کرتے ہیں۔
تا چند کئی ببادہ نوشاں انکار
انکار مکن کہ نیست نیکو ایں کار
رندے کہ بود زبادۂ عرفاں مست
زنہار بروطعنہ مکن صد زنہار
وصال مُبارک:
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کا سنہ وفات بعضوں نے ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ لکھا ہے ۔ آپ کا مزار مبارک وابکنہ میں ہے ۔ ( رشحاتِ روائح ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abul-khair-mehmood-faghnavi-bukhari
بروز و تناسخ میں فرق ہے ۔ اہل تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس، مسلمان ہو یا کافر، انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اُس کے واسطے تیار نہ ہوتا کہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے ۔ بخلاف اہل بروز کے کہ اُن کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے اور وہ بھی برجلیل لزوم نہیں ۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی مصلحت کی بنا پر دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دینوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورتِ بشری میں ہو یا نہ ہو۔ اور پھر اتمامِ مطلوب کے بعد پس پردہ غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بے جا اعتراض اور طعن و تشنیع کرتے ہیں ؎
تاچند کنی ببادہ نوشاں انکار
رندے کہ بود ز بادۂ عرفاں مست
انکار ممکن کہ نیست نیکو ایں کار
زنہار برو طعنہ مکن صد ز نہار
آپ کی وفات ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ مطابق ۱۳۱۷ء کو ہوئی ۔ مزار اقدس واہکنہ ( نزد بخارا ) میں ہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
خواجہ محمود انجیر فغنوی قدس سرہ
افضل و اکمل:
آپ خواجہ عارف قدس سرہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کا مقام ولادت موضع انجیر فغنہ ہے جو علاقہ بخارا میں وابکنہ [۱] کا ایک گاؤں ہے۔ آپ وابکنہ میں رہا کرتے تھے۔ وجہ معاش گل کاری تھی۔ جب آپ کو اجازت ِارشاد مل گئی تو آپ نے بنابر مصلحت و مقتضائے حال طلاب پوشیدہ نہ رہے کہ حیات دنیوی میں بعضے بندگان خدا کو غایت صفا و لطافت سے بعنایات ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ باوجود بعد ظاہری کی قید کے مختلف بدن کسب کرسکیں۔ پس موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائر روح اس قفس سے آزاد ہوجاتا ہے وہ دوسرے بدن کے کسب پر بطریق اولےٰ قادر ہیں۔ اسے بروز کہتے ہیں۔
[۱۔ وابکنہ ایک قصبہ ہے جو چند قریات و مزارح پر شامل ہے اور شہر بخارا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔]
بروزا ور تناسخ میں فرق:
بروزا و رتناسخ میں فرق ہے۔ اہلِ تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس۔مسلمان ہو یا کافر۔ انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اس کے واسطے تیار نہ ہو۔ تاکہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے۔ بخلاف اہل بروز کے کہ ان کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم۔ یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے۔ اور وہ بھی بر سبیل لزوم نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی بنابر مصلحت دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دنیوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورت بشری میں ہو یا نہ ہو اور پھر اتمام ِمطلوب کے بعد پس پردہ سے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بیجا اعتراض و طعن کرتے ہیں۔
تا چند کئی ببادہ نوشاں انکار
انکار مکن کہ نیست نیکو ایں کار
رندے کہ بود زبادۂ عرفاں مست
زنہار بروطعنہ مکن صد زنہار
وصال مُبارک:
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کا سنہ وفات بعضوں نے ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ لکھا ہے ۔ آپ کا مزار مبارک وابکنہ میں ہے ۔ ( رشحاتِ روائح ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abul-khair-mehmood-faghnavi-bukhari
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abul Khair Mehmood Faghnavi Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میر سید عبد اللہ حسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
میر سید عبد اللہ حسینی:
اصیل الدین لقب تھا، علم تفسیر و فقہ انشاء اور تالیف میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے، زبان گوہر فشاں آپ کی مفسر حقائق صحف آسمانی تھی اور باطن خجۃ آثار آپ کا مصدر انوار ربانی تھا ـ
خاقان سعید کے عہد میں آپ نے شیراز سے ہجرت کر کے ہرات میں سکونت اختیار کی، ہفتہ میں ایک دفعہ مدرسہ گوہر شاد آغا میں وعظ و نصائح خلق اللہ میں مشغول ہوتے اور ماہ ربیع الاول میں آنحضرت ﷺ کے سنن و سیر کے بیان میں مواظبت کر کے طوائف انام کو محظوظ و مسرور کرتے ۔
سیر مین کتاب درد الدرر اور رسالہ مزارات ہرات اور معراج الاعمال تصنیف فرمائے اور ۱۷ ربیع الاول ۸۰۳ھ میں وفات پائی ۔
تاریخ وفات آپ کی شہنشاہ عالم ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-abdullah-hussaini
میر سید عبد اللہ حسینی:
اصیل الدین لقب تھا، علم تفسیر و فقہ انشاء اور تالیف میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے، زبان گوہر فشاں آپ کی مفسر حقائق صحف آسمانی تھی اور باطن خجۃ آثار آپ کا مصدر انوار ربانی تھا ـ
خاقان سعید کے عہد میں آپ نے شیراز سے ہجرت کر کے ہرات میں سکونت اختیار کی، ہفتہ میں ایک دفعہ مدرسہ گوہر شاد آغا میں وعظ و نصائح خلق اللہ میں مشغول ہوتے اور ماہ ربیع الاول میں آنحضرت ﷺ کے سنن و سیر کے بیان میں مواظبت کر کے طوائف انام کو محظوظ و مسرور کرتے ۔
سیر مین کتاب درد الدرر اور رسالہ مزارات ہرات اور معراج الاعمال تصنیف فرمائے اور ۱۷ ربیع الاول ۸۰۳ھ میں وفات پائی ۔
تاریخ وفات آپ کی شہنشاہ عالم ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-abdullah-hussaini
scholars.pk
Hazrat Meer Syed Abdullah Hussaini
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا حافظ کامل دیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا حافظ محمد کامل بن تکیل دایولب دریائے سندھ کے گوٹھ کانگری ( جو کہ عاقل اور سنہڑی گوٹھوں کے درمیان میں واقع ہے تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) مین ۱۸۷۹ء کو تولد ہوئے ۔ جب سات سال کی عمر کو پہنچے تو چیچک کے مرض میں مبتلا ہوئے جس کے سبب آنکھوں کی روشنی ضائع ہو گئی ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیا برادر اکبر مولانا خدا بخش دایو کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ اس کے بعد گوٹھ سنہڑی کے مدرسہ میں داخل کیا گیا ۔ مدرسہ کے مدرس و مہتمم مولانا غلام نبی عباسی تھے جو کہ اس گوٹھ کے زمیندار بھی تھے ، ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ مدرسہ کے سارے اخراجات وہ خود ادا کرتے تھے ۔
اسی مدرسہ میں مولانا محمد کامل نے درس نظامی مکمل کیا ۔ آپ کو علم حاصل کرنے کا جنون تھا، کسی نے نورنگ واہ جانے کا مشورہ دیا ۔ وہیں پہنچ کر مالانا میر محمد نورنگی جاگیرانی سے استفادہ کیا اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
فقیر راشدی کا ۲۰۰۳۔۷۔۳ کو لاڑکانہ جانا ہوا وہاں محلہ علی گوہر آباد کے ساکن ماسٹر محمد قاسم سومرو سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی عمر تقریبا ۹۰ سال ہے ، وہ اصل میں دو دوسنہری کے رہنے والے ہیں ۔ انہو ں نے بتایا: مولانا کامل اپنے استاد مولانا میر محمد نورنگی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ واللہ اعلم ۔
مولانا غلام رسول عباسی مرحوم نے اپنے استاد محترم کے متعلق لکھا ہے کہ مولانا میر محمد سلسلۂ قادریہ میں حضرت فقیر فیض محمد صاحب لوڑھے شریف ( تحصیل کنڈیار و ) سے بیعت تھے ۔ ( مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ) بعض کا خیال ہے کہ حافظ کامل درگاہ قادریہ سوئی شریف ( گھوٹکی ) سے روحانی تعلق رکھتے تھے اور بعض نے بتایا کہ مولانا محمد عاقل کے ساتھ درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پگارہ حاضری دیتے تھے اور امیر شریعت حاتم وقت حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ راشدی ’’ مسکین ‘‘ کی سخاوت سے بہراندوز ہوتے رہتے تھے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد کامل بظاہر نابینا عالم تھے لیکن فہم و فزاست میں اعلیٰ ذہانت و فطانت ، قومی الحافظہ شخصیت کے مالک تھے ۔ مستقل مزاج ، صاحب الرائے ، تاریخ پر دسترس اور حالات حاضرہ سے باخبر رہتے تھے ۔ فلسفہ حکمت و منطق میں نام کمایا۔ صرف و نحو کے درس میں شہرت رکھتے تھے ۔ ساری زندگی مسجد و مدرسہ تک محدود رہی ، درس و تدریس میں زندگی بسر کی ۔ طب اور شاعری سے بھی دلچپسی رکھتے تھے ۔
۱۹۱۰ء کو مولانا کامل کے استاد اول مولانا غلام نبی بن خدا بخش عباسی حرمین شریفین تشریف لے گئے ۔ ان کے دل کی آرزو پوری ہوئی وہیں وصال ہوا۔ جس کے سبب مدرسہ سنہڑی میں مسند تددیس خالی تھی اس لئے مدرسہ کے لئے اعلیٰ پائے کے مدرس کی ضرورت تھی ۔ مولانا کامل جب فارغ التحصیل ہو کر اپنے گوٹھ آئے تو انہیں اس مسند کا اہل سمجھا گیا اور مسند تدریس پیش کی گئی ۔ آپ نے تدریس کے ساتھ یہ بھی ایک اہم کام کیا کہ مسجد سے مدرسہ اٹھاکر ایک پلاٹ خرید کر دار العلوم طرز پر قائم کیا اور ہر فن کے لئے جدا جدا مدرس مقرر کئے ۔ دارالعلوم کے تمام اخراجات کے لئے مخلصین و محبین کی ایک کمیٹی بنائی تھی جنہوں نے جانی مالی امداد کے ذریعے دارالعلوم کی تمام ضروریات کو پورا کیا ۔ دار العلوم میں درج ذیل اساتذہ معلم مقرر تھے ۔
عربی کے لئے: مولانا محمد کامل قادری ۔ مولانا محمد اکرم جتوئی
فارسی کے لئے: مولانا عبد الرشید پیرزادہ ۔ مولانا شیر محمد جتوئی ۔ مولانا محمد بچل تونیہ
حفظ و ناظرہ: مولانا حافظ جمال الدین قادری
مدرسہ میں ایک شعبہ ’’ بنات ‘‘ کا بھی تھا جس میں لڑکیوں کو ناظرہ و حفظ قرآن کے علاوہ فارسی و فقہی مسائل بھی سکھائے جاتے تھے۔ اس شعبہ کی ناظمہ کے فرائض مولانا کامل کی بیٹی ادا کرتی تھی ۔
نفاست پسندی:
مولانا ، صاحب تقویٰ تھے، نفاست کا یہ عالم تھا کہ روزانہ لباس کے تین جوڑے استعمال کرتے تھے ۔
۱۔ ایک جوڑا گھر کے کام کاج اور آرام کیلئے
۲۔ درس و تدریس نماز و عبادت کیلئے
۳۔ بیت الخلاء ( باتھ روم ) کیلئے
شاعری:
مولانا شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے ، فارسی گرامر کو طلباء کے لئے آسان بنانے کے لئے نظم تیار کی ۔ جس کو طلباء سے لکھوا کر حفظ کرادیا کرتے تھے ۔
بعد حمد حق و نعت احمد و آل رسول
بشنو از حافظ مصدر جند باسمع قبول
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے :
٭ مولانا عبد الرشید پیرزادہ
٭ مولانا عبد اللہ پیر زادہ
٭ مولانا حافظ جمال الدین قادری
٭ مولوی حافظ نور احمد جاگیرانی
٭ مولانا محمد اکرم جتوئی
٭ مولوی غلام محمد جاگیرانی
٭ مولوی علی محمد سومرو دیوبندی دودائی روڈ لاڑکانہ
[ ڈاکٹر غلام علی سانگی ( لاڑکانہ ) کی ڈائری سے ماخوذ ہے ۔ ]
مولانا حافظ محمد کامل بن تکیل دایولب دریائے سندھ کے گوٹھ کانگری ( جو کہ عاقل اور سنہڑی گوٹھوں کے درمیان میں واقع ہے تحصیل و ضلع لاڑکانہ ) مین ۱۸۷۹ء کو تولد ہوئے ۔ جب سات سال کی عمر کو پہنچے تو چیچک کے مرض میں مبتلا ہوئے جس کے سبب آنکھوں کی روشنی ضائع ہو گئی ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیا برادر اکبر مولانا خدا بخش دایو کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ اس کے بعد گوٹھ سنہڑی کے مدرسہ میں داخل کیا گیا ۔ مدرسہ کے مدرس و مہتمم مولانا غلام نبی عباسی تھے جو کہ اس گوٹھ کے زمیندار بھی تھے ، ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ مدرسہ کے سارے اخراجات وہ خود ادا کرتے تھے ۔
اسی مدرسہ میں مولانا محمد کامل نے درس نظامی مکمل کیا ۔ آپ کو علم حاصل کرنے کا جنون تھا، کسی نے نورنگ واہ جانے کا مشورہ دیا ۔ وہیں پہنچ کر مالانا میر محمد نورنگی جاگیرانی سے استفادہ کیا اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
فقیر راشدی کا ۲۰۰۳۔۷۔۳ کو لاڑکانہ جانا ہوا وہاں محلہ علی گوہر آباد کے ساکن ماسٹر محمد قاسم سومرو سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی عمر تقریبا ۹۰ سال ہے ، وہ اصل میں دو دوسنہری کے رہنے والے ہیں ۔ انہو ں نے بتایا: مولانا کامل اپنے استاد مولانا میر محمد نورنگی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ واللہ اعلم ۔
مولانا غلام رسول عباسی مرحوم نے اپنے استاد محترم کے متعلق لکھا ہے کہ مولانا میر محمد سلسلۂ قادریہ میں حضرت فقیر فیض محمد صاحب لوڑھے شریف ( تحصیل کنڈیار و ) سے بیعت تھے ۔ ( مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء ) بعض کا خیال ہے کہ حافظ کامل درگاہ قادریہ سوئی شریف ( گھوٹکی ) سے روحانی تعلق رکھتے تھے اور بعض نے بتایا کہ مولانا محمد عاقل کے ساتھ درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پگارہ حاضری دیتے تھے اور امیر شریعت حاتم وقت حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ راشدی ’’ مسکین ‘‘ کی سخاوت سے بہراندوز ہوتے رہتے تھے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد کامل بظاہر نابینا عالم تھے لیکن فہم و فزاست میں اعلیٰ ذہانت و فطانت ، قومی الحافظہ شخصیت کے مالک تھے ۔ مستقل مزاج ، صاحب الرائے ، تاریخ پر دسترس اور حالات حاضرہ سے باخبر رہتے تھے ۔ فلسفہ حکمت و منطق میں نام کمایا۔ صرف و نحو کے درس میں شہرت رکھتے تھے ۔ ساری زندگی مسجد و مدرسہ تک محدود رہی ، درس و تدریس میں زندگی بسر کی ۔ طب اور شاعری سے بھی دلچپسی رکھتے تھے ۔
۱۹۱۰ء کو مولانا کامل کے استاد اول مولانا غلام نبی بن خدا بخش عباسی حرمین شریفین تشریف لے گئے ۔ ان کے دل کی آرزو پوری ہوئی وہیں وصال ہوا۔ جس کے سبب مدرسہ سنہڑی میں مسند تددیس خالی تھی اس لئے مدرسہ کے لئے اعلیٰ پائے کے مدرس کی ضرورت تھی ۔ مولانا کامل جب فارغ التحصیل ہو کر اپنے گوٹھ آئے تو انہیں اس مسند کا اہل سمجھا گیا اور مسند تدریس پیش کی گئی ۔ آپ نے تدریس کے ساتھ یہ بھی ایک اہم کام کیا کہ مسجد سے مدرسہ اٹھاکر ایک پلاٹ خرید کر دار العلوم طرز پر قائم کیا اور ہر فن کے لئے جدا جدا مدرس مقرر کئے ۔ دارالعلوم کے تمام اخراجات کے لئے مخلصین و محبین کی ایک کمیٹی بنائی تھی جنہوں نے جانی مالی امداد کے ذریعے دارالعلوم کی تمام ضروریات کو پورا کیا ۔ دار العلوم میں درج ذیل اساتذہ معلم مقرر تھے ۔
عربی کے لئے: مولانا محمد کامل قادری ۔ مولانا محمد اکرم جتوئی
فارسی کے لئے: مولانا عبد الرشید پیرزادہ ۔ مولانا شیر محمد جتوئی ۔ مولانا محمد بچل تونیہ
حفظ و ناظرہ: مولانا حافظ جمال الدین قادری
مدرسہ میں ایک شعبہ ’’ بنات ‘‘ کا بھی تھا جس میں لڑکیوں کو ناظرہ و حفظ قرآن کے علاوہ فارسی و فقہی مسائل بھی سکھائے جاتے تھے۔ اس شعبہ کی ناظمہ کے فرائض مولانا کامل کی بیٹی ادا کرتی تھی ۔
نفاست پسندی:
مولانا ، صاحب تقویٰ تھے، نفاست کا یہ عالم تھا کہ روزانہ لباس کے تین جوڑے استعمال کرتے تھے ۔
۱۔ ایک جوڑا گھر کے کام کاج اور آرام کیلئے
۲۔ درس و تدریس نماز و عبادت کیلئے
۳۔ بیت الخلاء ( باتھ روم ) کیلئے
شاعری:
مولانا شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے ، فارسی گرامر کو طلباء کے لئے آسان بنانے کے لئے نظم تیار کی ۔ جس کو طلباء سے لکھوا کر حفظ کرادیا کرتے تھے ۔
بعد حمد حق و نعت احمد و آل رسول
بشنو از حافظ مصدر جند باسمع قبول
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے :
٭ مولانا عبد الرشید پیرزادہ
٭ مولانا عبد اللہ پیر زادہ
٭ مولانا حافظ جمال الدین قادری
٭ مولوی حافظ نور احمد جاگیرانی
٭ مولانا محمد اکرم جتوئی
٭ مولوی غلام محمد جاگیرانی
٭ مولوی علی محمد سومرو دیوبندی دودائی روڈ لاڑکانہ
[ ڈاکٹر غلام علی سانگی ( لاڑکانہ ) کی ڈائری سے ماخوذ ہے ۔ ]
❤1
سندھ دار السلام:
بقول مولانا عبد الرشید پیرزادہ ( گوٹھ سنہڑی) کہ مولانا حافظ محمد کامل ( سندھ کو دارالسلام سمجھتے تھے اس لئے ) افغانستان ہجرت کرنے کے مخالف تھے ۔ ان کا موقف تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث شریف ہے لاھجرۃ بعد الفتھ المکۃ ( بخاری )
یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ اس لئے افغانستان کو ہجرت کرنا ( شرعا) درست نہیں (اور معاشی حوالے سے بھی نہایت خطر ناک عمل ہے) ۔ اس موضوع پر مولانا محمد کامل کا پیر تراب علی شاہ قمبر والے سے بھی مناظرہ ( بحث و مباحثہ ) ہوا تھا ۔ ( لاکانو ساہ سیبانو ص ۲۶۸ ) ـ
حضرت مولانا محمد اسحاق جتوئی ( لاڑکانہ ) فرماتے ہیں : مولانا محمد کامل پرہیز گار بزرگ تھے ، فی سبیل اللہ درس دیتے تھے۔ نحوو صرف کے ماہر استاد تھے، اسی لئے ان کے شاگرد بھی اس فن میں ماہر ثابت ہوئے ہیں ۔ ( ایضا)
اولاد:
مولانا نے ایک شادی کی جس سے دو بیٹے تولد ہوئے ۔
۱۔ حافظ احمد رحمت اللہ
۲۔ محمد نعمت اللہ ۔
دونوں بھائیوں نے لاڑکانہ شہر کے محلہ علی گوہر آباد میں سکونت اختیار کی تھی اور سفید مسجد پر قابض تھے اور اعتقادی طور پر دیوبندی وہابی نظر یہ رکھتے تھے ۔ دو چار سال ہوئے انتقال کر گئے ہیں ۔
وصال:
حافظ محمد کامل نے ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۱ھ بمطابق ۵ مارچ ۱۹۳۲ء کو انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ گوٹھ سنہڑی متصل لاڑکانہ میں واقع ہے۔ آپ کے انتقال پر آپ کے استاد نورنگی نے نہایت افسوس کا اظہار کیا اور آپ کو ’’ علم کا ذخیرہ ‘‘ سے تعبیر کیا۔ ( وصال کی تاریخ و تفصیل حافظ عبدالرزاق سومرو کے قلمی مضمون سے بذریعہ حافظ عبد الستار لی گئی ، احقر تمام کا مشکور ہے )
مولانا حافظ نور احمد حبیسر ( اھسان واھن تحصیل ڈوکری ) کی روایت کے مطابق کہ حافظ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے مزار سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آتی تھی ‘‘ ۔ اس سے معلوم ہواس وہ نام کے فقط کامل نہیں تھے بلکہ حقیقت میں بھی کامل تھے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-kamil
بقول مولانا عبد الرشید پیرزادہ ( گوٹھ سنہڑی) کہ مولانا حافظ محمد کامل ( سندھ کو دارالسلام سمجھتے تھے اس لئے ) افغانستان ہجرت کرنے کے مخالف تھے ۔ ان کا موقف تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث شریف ہے لاھجرۃ بعد الفتھ المکۃ ( بخاری )
یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ اس لئے افغانستان کو ہجرت کرنا ( شرعا) درست نہیں (اور معاشی حوالے سے بھی نہایت خطر ناک عمل ہے) ۔ اس موضوع پر مولانا محمد کامل کا پیر تراب علی شاہ قمبر والے سے بھی مناظرہ ( بحث و مباحثہ ) ہوا تھا ۔ ( لاکانو ساہ سیبانو ص ۲۶۸ ) ـ
حضرت مولانا محمد اسحاق جتوئی ( لاڑکانہ ) فرماتے ہیں : مولانا محمد کامل پرہیز گار بزرگ تھے ، فی سبیل اللہ درس دیتے تھے۔ نحوو صرف کے ماہر استاد تھے، اسی لئے ان کے شاگرد بھی اس فن میں ماہر ثابت ہوئے ہیں ۔ ( ایضا)
اولاد:
مولانا نے ایک شادی کی جس سے دو بیٹے تولد ہوئے ۔
۱۔ حافظ احمد رحمت اللہ
۲۔ محمد نعمت اللہ ۔
دونوں بھائیوں نے لاڑکانہ شہر کے محلہ علی گوہر آباد میں سکونت اختیار کی تھی اور سفید مسجد پر قابض تھے اور اعتقادی طور پر دیوبندی وہابی نظر یہ رکھتے تھے ۔ دو چار سال ہوئے انتقال کر گئے ہیں ۔
وصال:
حافظ محمد کامل نے ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۱ھ بمطابق ۵ مارچ ۱۹۳۲ء کو انتقال کیا۔ آخری آرامگاہ گوٹھ سنہڑی متصل لاڑکانہ میں واقع ہے۔ آپ کے انتقال پر آپ کے استاد نورنگی نے نہایت افسوس کا اظہار کیا اور آپ کو ’’ علم کا ذخیرہ ‘‘ سے تعبیر کیا۔ ( وصال کی تاریخ و تفصیل حافظ عبدالرزاق سومرو کے قلمی مضمون سے بذریعہ حافظ عبد الستار لی گئی ، احقر تمام کا مشکور ہے )
مولانا حافظ نور احمد حبیسر ( اھسان واھن تحصیل ڈوکری ) کی روایت کے مطابق کہ حافظ صاحب کے انتقال کے بعد ان کے مزار سے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آتی تھی ‘‘ ۔ اس سے معلوم ہواس وہ نام کے فقط کامل نہیں تھے بلکہ حقیقت میں بھی کامل تھے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-kamil
scholars.pk
Hazrat Molana Hafiz Kamil
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1