🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام سید محمد بن سلیمان جزولی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: شیخ الاسلام، قطبِ زمانہ، صاحبِ دلائل الخیرات ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید محمد بن سید عبد الرحمن بن سید ابی بکر بن سید سلیمان بن سید سعید بن یعلی بن یخلف بن موسیٰ بن علی بن یوسف بن عیسیٰ بن عبد اللہ بن جندوز بن عبد الرحمن بن محمد بن احمد بن حسان بن اسمعیل بن جعفر بن عبداللہ کامل بن حسن مثنی بن حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔

آپ کا خاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے سے تھا ۔ علاقائی قبائلی تعلق ’’ بربر ‘‘ قوم کے قبیلہ ’’جزولہ‘‘ کی شاخ ’’سملالہ‘‘ سے ہے ۔ اس لیے آپ کو ’’جزولی، اور سملالی‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ کا مسکن سوسِ اقصیٰ (مراکش) تھا ۔ (نور نور چہرے:319)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 807ھ مطابق 1404ء کو بمقام ’’سوس اقصیٰ‘‘ مراکش میں ہوئی۔(ایضا: 319) تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و متمول خاندان سے تھا۔اس لیے شروع سے ہی آپ کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی گئی۔

ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لئے شہرِ ’’فاس‘‘ میں رہائش اختیار کی اور وہاں ’’مدرسۃ الصفارین‘‘ میں داخل ہو گئے ۔ جہاں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ موجود ہے، اور لوگ برکتیں حاصل کرتے ہیں ۔ یہیں پر آپ نے علامہ ابنِ حاجب کی تصانیف اور مدونہ کبریٰ وغیرہ کتب کو زبانی یاد کہا ۔ اسی طرح آپ کو مذہبِ مالکیہ کی اہم کتب بھی یاد تھیں۔

بیعت و خلافت:
شیخ جزولی نے فاس سے ساحلی علاقہ کا رخ کیا ۔ وہاں آپ کی ملاقات یکتائے روزگار ، عارفِ کامل شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ امغار سے ہوئی ۔ سلسلہ عالیہ شاذلیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص:
فنافی المصطفیٰ، سند الاصفیاء، سید الاتقیاء، عارفِ کامل، قطب الاقطاب، وحید الدہر، فرید العصر، فقیہ، امام، علامہ، شیخ الاسلام ابو عبد اللہ سید محمد بن سلیمان جزولی علیہ الرحمہ ـ آپ علیہ الرحمہ کا شمار علماءِ عاملین، اور آئمۂ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ آپ کو حسب ونسب کے ساتھ ساتھ علم عمل کا شرف بھی حاصل تھا ۔ آپ ربانی احوال، بلند مقامات، عالی ہمت، پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے ۔ آپ کا طریقہ عمدہ تھا۔علم لدنی، اور اسرار ربانی کے حامل اور بڑے خرقِ عادت امور میں صاحبِ تصرفات وکرامات تھے ۔ آپ جامع مانع قطب، نافع غوث، وارثِ علوم نبوی، اور صاحبِ اسرارِ ربانی تھے۔

آپ علیہ الرحمہ چودہ سال تک خلوت گزینی اختیار کرکے عبادت و ریاضت اور منازل سلوک طے کرنے میں مصروف رہے ۔ پھر آسفی (مراکش کا ایک شہر) میں مخلوقِ خدا کی رہنمائی اور مریدین کی تربیت کا کام شروع کیا ۔ بے شمار لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔آپ کا شہرہ عام ہو گیا ۔ حیرت انگیز اور بڑی بری کرامات ظاہر ہوئیں ۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ پر سختی سے کار بند تھے ۔ کثرت سے اوراد و وظائف ادا کرتے تھے ۔ دن رات میں ڈیڑھ قرآن پاک (ایک مکمل قرآن اور نصف قرآن) کی تلاوت کرتے، بسم اللہ شریف کا وظیفہ پڑھتے اور شب و روز میں دو مرتبہ دلائل الخیرات ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔ عوام الناس کے بے پناہ ہجوم کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے حاکمِ وقت نے آسفی سے نکال دیا ۔ چنانچہ آپ آفرغال تشریف لے گئے ۔ اور پھر سے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

علامہ فاسی فرماتے ہیں:
آپ کی برکت سے انوار جگمگا اٹھے۔ اسرار آشکار ہونے لگے۔ فقراء، ہر طرف پھیل گئے۔ بلادِ مغرب میں اللہ جل شانہ کے ذکر اور سرورِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں صلوٰۃ و سلام کے نغمے گونجنے لگے ۔ آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی، اور ہر طرف آپ کے مریدین دکھائی دینے لگے۔بندگانِ خدا کو نئی زندگی مل گئی ۔ ویران بستیاں اور شہر پھر سے آباد ہوگئے ۔ مغرب میں طریقت کے آثار مٹ چکے تھے اور انوار ماند پڑ چکے تھے ۔ آپ نے طریقت کی تجدید فرمائی اور بہت سے مشائخ کو خلافت سے نوازا ۔ عام مریدین کی تعداد کا تو شمار نہیں، خواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔ یہاں تک کہ آپ کے فیض یافتہ مریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پر متمکن ہوئے، اور اپنی اپنی ستعداد کے مطابق قربِ الہی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے ۔ ان میں سے شیخ ابو عبد اللہ محمد الصغیر السہیلی اور شیخ ابو محمد عبد الکریم المنذری رحمہم اللہ تعالیٰ معروف زمانہ ہوئے ہیں ۔
1
امام جزولی علیہ الرحمہ خوش عقیدہ بزرگ ہیں۔ جن کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے ۔ اللہ جل شانہ کی عظمت و الوہیت کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے علم ، اختیارات، کمالات، تصرفات، معجزات، آپ کی عند اللہ وجاہت و محبوبیت، آپ کا حاضر و ناضر ہونا، آپ کی شفاعت، اسی طرح توسل و استعانت، اور آپ ﷺ کی عظمت و شوکت کو بڑے حسین پیرائے میں بیان کیا ہے ۔

ایک مقام پر بطورِ تحدیثِ نعمت اپنی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں: ’’ونفیت عن قلبی فی ھذا النبی الکریم الشک والارتیاب، وغلبت حبہ عندی، علی حب جمیعِ الاقرباء والاحباء‘‘۔ اے اللہ! تونے میرے دل کو اس نبی کریم ﷺ کے بارے میں ہر قسم کے شک وشبہ سے دور رکھا ہے، اور آپ ﷺ کی محبت کو میرے نزدیک تمام رشتے داروں اور پیاروں کی محبت پر غالب کر دیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات:6) ـ

تاریخِ وصال:
شیخ جزولی کی مقبولیت، شہرت، علم و فضل، اور طریقت میں اعلیٰ مقام کی وجہ سے حاسدین کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا ۔ انہوں نے آپ کو زہر دے دیا ۔ جس سے آپ کو درجۂ شہادت نصیب ہوا۔ یہ بھی قول ہے کہ حاکمِ وقت نے ہی زہر دلوایا تھا ۔

چنانچہ 16 ربیع الاول 870ھ / مطابق 1465ء کو نمازِ فجر ادا کرتے ہوئے، حالتِ سجدہ میں واصل باللہ ہوئے ۔

اسی روز بعد نمازِ ظہر آپ کو ’’سوس‘‘ میں آپ کی بنا کردہ مسجد کے صحن میں دفن کیا گیا ۔ (نور نور چہرے:322)

محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا:
آپ کے وصال کے ستتر (77) سال بعد سلطان احمد الاعرج نے آپ کے جسم اطہر کو سوس سے لے جاکر مراکش کے قبرستان ’’ریاض العروس‘‘ میں دفن کر دیا، اور آپ کے مزار پر گنبد تعمیر کرایا۔ ستتر سال بعد جب آپ کو قبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسم ترو تازہ تھا۔جیسے آج ہی دفن کیا گیا ہو۔ اتنی طویل مدت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم متغیر نہ ہوا تھا ۔ آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حجامت بنائی ہو ۔

ایک شخص نے آپ کے چہرے کو انگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خون ہٹ گیا اور جب انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا ۔ جیسے زندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے ۔ اسی طرح پوری فضاء معطر ہو گئی۔ (جامع کرامات الاولیاء ج1، ص:276) ـ

دُورد شریف کی برکت سے کستوری کی خوشبو:
مراکش میں آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے ۔ مزار پر بڑے رعب و جلال کا سماں ہے ۔ لوگ زیارت کے لئے جوق در جوق حاضری دیتے ہیں، اور دلائل الخیرات کا بکثرت ورد ہوتا ہے ۔ آپ کی ساری عمر حضور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھتے، درود کی ترغیب دیتے، اور درود شریف کی برکت سے آپ کی قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو آتی ہے ۔ (صاحبِ دلائل)

تصانیف:
خلقِ خداکی ہدایت و راہنمائی کے ساتھ ساتھ آپ نے مریدین کی تربیت کےلئے تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا۔

1 تصوف میں ایک کتاب اس کا نام معلوم نہیں۔ 2۔ حزب سبحان الدائم لایزول، المعروف بحزب الجزولی۔اس حزب کی اہمیت کا اندازہ شیخ جزولی علیہ الرحمہ سے منسوب اس قول سے لگایا جا سکتا ہے: ’’وما واظب علیہ الا ولی و مبارک‘‘۔ اسے پابندی سے وہی پڑھے گا، جو ولی اور صاحبِ خیر و برکت ہوگا ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات) ۔ 3۔ حزب الفلاح۔

4۔ دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ علی النبی المختار۔ امام جزولی علیہ الرحمہ کی اس شہرہ آفاق تالیف کو جو قبولیتِ عام نصیب ہوئی وہ اسی کا خاصہ ہے۔ اس کتاب کی غرض و غایت امام جزولی خود بیان فرماتے ہیں: ابتغاء لمرضات اللہ تعالی ، و محبۃ فی رسولہ الکریم سیدنا محمد ﷺ ۔

یعنی اس کتاب کے مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی رضا، اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت نصیب ہو۔ (مقدمہ دلائل الخیرات)۔

سببِ تالیفِ دلائل الخیرات شریف:
عارف باللہ شیخ احمد صاوی علیہ الرحمہ نے ’’ صلوات الشیخ الدردیر ‘‘ کی شرح میں بیان کیا، اور علامہ نبہانی کے شیخ، علامہ حسن عددی نے دلائل الخیرات کا سببِ تالیف بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ايک مرتبہ حضرت شیخ جَزولی علیہ الرحمہ وُضُو کرنے کے لئے ایک کنویں پر گئے مگر اُس سے پانی نکالنے کے لئے کوئی چيز پاس نہ تھی ۔

شیخ پريشان تھے کہ کیا کريں؟ اتنے ميں ايک اونچے مکان سے بچی نے ديکھا تو کہنے لگی: ’’یا شیخ! آپ وہی ہيں نا،جن کی نيکیوں کا بڑا چَرچا ہے، اِس کے باوجود آپ پريشان ہيں کہ کنويں سے پانی کس طرح نکالوں! ’’ پھراس بچی نے کنويں ميں اپنا لُعاب ڈال ديا۔ تھوڑی ہی دیر میں کنويں کا پانی بڑھنا شروع ہوگیا حتی کہ کناروں سے نکل کر زمين پر بہنے لگا ۔

شيخ نے وضو کیا اور اس بچی سے کہنے لگے : ’’ميں تمہيں قسم دے کر پُوچھتا ہوں کہ تم نے يہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟ ’’اس بچی نے جواب دیا: ’’ميں رسولِ کریم ﷺ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتی ہوں۔‘‘ يہ سُن کر شيخ سلیمان جزولی علیہ الرحمہ نے قَسَم کھائی کہ ميں دربارِ رِسالت ميں پيش کرنے کے لئے درود و سلام کی کتاب ضرور لکھوں گا ۔ (نور نور چہرے، ص: 324) ـ
1
دلائل الخیرات کی مقبولیت:
شیخ قیطونی اس کی مقبولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دلائل الخیرات حضور نبی کریم ﷺ پر درود کے متعلق ایک ایسی کتاب ہے، جو اللہ کی نشانیوں میں ایک بڑی نشانی ہے ۔ جسے تمام روئے زمین پر بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ اسی طرح حاجی خلیفہ نے بھی اس کی شرق و غرب میں مقبولیت کا تذکرہ کیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل 9، بحوالہ کشف الظنون جلد1، ص759) ۔

اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض خوش نصیبوں کو براہِ راست حضور ﷺ نے اس کتاب کی اجازت عطاء فرمائی۔ شیخ صدیق فلالی جو ایک امی بزرگ تھے، دلائل الخیرات حفظ تھی۔ انہیں خواب میں صاحبِ علم ماکان وما یکون ﷺ نے دلائل الخیرات پڑھائی تھی۔ (ایضا:10)

سیدی محمد مغربی تلمسانی، اور سیدی محمد اندلسی رحمہم اللہ نے آپ ﷺ سے اجازت حاصل کی ۔ مشائخِ عظام نہ صرف دلائل الخیرات کو بطورِ ورد پڑھتے رہے ہیں، بلکہ اپنے مشائخ سے بطورِ سند باقاعدہ اجازت بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایسے حضرات ’’شیخ الدلائل‘‘ کے محترم لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔

طریقہ و آداب:
شرفِ ملت حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’بندۂ مؤمن کے لئے اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر الہی اور اتباعِ سنت کے بعد سب سے زیادہ اہم وظیفہ درود ِ پاک ہے، جس کے دنیاوی اور اخروی بے شمار فوائد ہیں۔دلائل الخیرات کی برکتیں حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ انسان، اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لائے ۔ سرکارِ دو عالم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہو، بندوں کے حقوق ادا کرے، مسواک کے ساتھ وضو کرے، پاک صاف کپڑے پہنے،خوشبو لگائے،قبلہ رخ بیٹھ کر پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف پڑھے‘‘۔ یہ کتاب آٹھ حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ہر حصے کو ’’حزب‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے، تو ہر روز پوری دلائل الخیرات پڑھی جائے۔ نہیں تو دو دن یا چار دن میں پڑھی جائے۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہفتے میں مکمل کی جائے۔ پیر کے دن ’’فصل کیفیۃ الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ‘‘ شروع کی جائے ۔ آئندہ پیر کو آٹھواں حزب پڑھ کر اسی دن پہلا حزب پڑھا جائے۔ (نور نور چہرے: 330) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syekh-abi-abdillah-muhammad-bin-sulaiman-al-jazuli
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-03-1445 ᴴ | 02-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15 ربیع الاول شریف کی فوٹوز
والی پہلی پوسٹ یہاں ↶ پر ہے
https://t.me/islaamic_Knowledge/60556
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1