حضرت شیخ ابو عبد اللہ عثمان مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے اور حضرت حسین بن منصور حلّاج کے استاد و مرشد تھے، حضرت ابو سعید قدس سرہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔
آپ علوم حقائق کے عالم تھے، اسرار الٰہیہ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ کی باتیں بڑی باریک اور پُر اسرار ہوا کرتی تھیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، لوگوں نے آپ کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر دیا، مکہ معظّمہ سے باہر نکال دیا، آپ جدہ میں آ رہے یہی آپ کا مولد اور مسکن تھا، آپ اس شہر کے قاضی مقرر ہوئے، بزرگانِ تصوّف کہتے ہیں کہ حضرت منصور حلّاج آپ کی رنجیدگی کا نشانہ بنے اور آپ کی ناراضگی سے ابتلا میں پڑے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۶ھ میں بغداد میں ہوئی، ایک اور قول میں حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے سال وفات ۲۹۷ھ میں آپ کا وصال ہوا تھا۔
جناب شیخ عمر و ابن عثمان
چو از دار الفناء عزم سفر کرد
منور نامور سالِ وصالش
۲۹۶ھ ۲۹۶ھ ۲۹۶ھ
رئیس اولیاء قطب معلیٰ
بصد ا غزاز در فردوس اعلیٰ
دگر ہم راہنما گردود ہویدا
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-abdullah-usman-makki
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے اور حضرت حسین بن منصور حلّاج کے استاد و مرشد تھے، حضرت ابو سعید قدس سرہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔
آپ علوم حقائق کے عالم تھے، اسرار الٰہیہ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ کی باتیں بڑی باریک اور پُر اسرار ہوا کرتی تھیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، لوگوں نے آپ کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر دیا، مکہ معظّمہ سے باہر نکال دیا، آپ جدہ میں آ رہے یہی آپ کا مولد اور مسکن تھا، آپ اس شہر کے قاضی مقرر ہوئے، بزرگانِ تصوّف کہتے ہیں کہ حضرت منصور حلّاج آپ کی رنجیدگی کا نشانہ بنے اور آپ کی ناراضگی سے ابتلا میں پڑے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۶ھ میں بغداد میں ہوئی، ایک اور قول میں حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے سال وفات ۲۹۷ھ میں آپ کا وصال ہوا تھا۔
جناب شیخ عمر و ابن عثمان
چو از دار الفناء عزم سفر کرد
منور نامور سالِ وصالش
۲۹۶ھ ۲۹۶ھ ۲۹۶ھ
رئیس اولیاء قطب معلیٰ
بصد ا غزاز در فردوس اعلیٰ
دگر ہم راہنما گردود ہویدا
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-abdullah-usman-makki
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Abdullah Usman Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ سعد الدین چشتی خیرآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ مینار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حدودِ شریعت کی حفاظت اور آداب طریقت کی نگہداشت میں عالی ہمت رکھتے تھے، آپ نے دنیا سے الگ رہ کر مجروانہ زندگی بسر کی، اپنے مُرشد کی طرح سماع کے بہت رسیا تھے ـ
آپ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، عالم نحو، فقہ اور اصول میں آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں، جیسے 1۔ شرح مصباح 2۔ شرح کافیہ 3۔ شرح حسامی 4۔ شرح بزدوی وغیرہ 5۔ رسالہ مکیہ کی شرح مجمع السلوک، خزانہ جلالی کے طرز پر لکھی جس میں مخدوم جہانیاں کے ملفوظات کو جمع کیا ہے اور شیخ مینا کے بہت سے ملفوظات و حالات کو قلم بند کیا ہے، جب شیخ مینا کا ذکر کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ میرے مُرشِد کے مُرشِد نے یوں فرمایاتو اس سے شیخ قوام الدین لکھنؤی مراد ہوتے ہیں ۔
شیخ سعد الدین نے ظاہری علوم کی تحصیل و تکمیل مولانا اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ اور عالم تھے، حضرت شیخ مینا نے بھی عوارف المعارف مولانا اعظم ہی سے پڑھی تھی، ایک دفعہ آپ نے اپنے مُرشِد سے عرض کیا کہ مقصود تو آپ کی خدمت ہے اور پڑھنے سے مقصود تصحیح الفاظ ہوتی ہے سو وہ ہو چکی اب مولویوں کے پاس رہنے سے کیا فائدہ، آپ نے فرمایا کہ بابا تمہاری دیانتداری تو یہ ہے کہ علم ہوتے ہوئے بھی علم کا دعویٰ نہ کی جائے اور اپنے علم پر اکتفا نہ کیا جائے ۔
آپ سے کثرت سے لوگ مرید ہوا کرتے تھے چنانچہ شیخ صفی الدین جو صاحب حال بزرگ تھے اور شیخ مبارک سندیلوی جو احکامِ شریعت و آداب طریقت میں کامل تھے اور شیخ سالار سے بھی تربیت حاصل کی تھی ۔
سید صفی الدین انبالہ کے رہنے والے تھے، جو درویشوں کے اوصاف سے موصوف اور انہیں کے احوال میں متحقق تھے اور بہت پوشیدہ رہا کرتے تھے، یہ شیخ مبارک سندیلوی کے مرید تھے اور شیخ سعد الدین کے مریدوں میں سے ایک شیخ اللہ دیا تھے جو بہت بوڑھے اور معمر تھے، آپ اپنے والی عہد کے حکم سے ان دیار میں تشریف لائے اور تکریم و تعظیم کے ساتھ مخصوص ہوئے، آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہوا ـ
وصال:
۹۹۳ھ میں اس دُنیائے ناپائیدار سے عالم پائیدار کی طرف چلے گئے، اللہ عَزَوَّجَل ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saaduddin-chishti-khairabadi
آپ شیخ مینار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حدودِ شریعت کی حفاظت اور آداب طریقت کی نگہداشت میں عالی ہمت رکھتے تھے، آپ نے دنیا سے الگ رہ کر مجروانہ زندگی بسر کی، اپنے مُرشد کی طرح سماع کے بہت رسیا تھے ـ
آپ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، عالم نحو، فقہ اور اصول میں آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں، جیسے 1۔ شرح مصباح 2۔ شرح کافیہ 3۔ شرح حسامی 4۔ شرح بزدوی وغیرہ 5۔ رسالہ مکیہ کی شرح مجمع السلوک، خزانہ جلالی کے طرز پر لکھی جس میں مخدوم جہانیاں کے ملفوظات کو جمع کیا ہے اور شیخ مینا کے بہت سے ملفوظات و حالات کو قلم بند کیا ہے، جب شیخ مینا کا ذکر کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ میرے مُرشِد کے مُرشِد نے یوں فرمایاتو اس سے شیخ قوام الدین لکھنؤی مراد ہوتے ہیں ۔
شیخ سعد الدین نے ظاہری علوم کی تحصیل و تکمیل مولانا اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ اور عالم تھے، حضرت شیخ مینا نے بھی عوارف المعارف مولانا اعظم ہی سے پڑھی تھی، ایک دفعہ آپ نے اپنے مُرشِد سے عرض کیا کہ مقصود تو آپ کی خدمت ہے اور پڑھنے سے مقصود تصحیح الفاظ ہوتی ہے سو وہ ہو چکی اب مولویوں کے پاس رہنے سے کیا فائدہ، آپ نے فرمایا کہ بابا تمہاری دیانتداری تو یہ ہے کہ علم ہوتے ہوئے بھی علم کا دعویٰ نہ کی جائے اور اپنے علم پر اکتفا نہ کیا جائے ۔
آپ سے کثرت سے لوگ مرید ہوا کرتے تھے چنانچہ شیخ صفی الدین جو صاحب حال بزرگ تھے اور شیخ مبارک سندیلوی جو احکامِ شریعت و آداب طریقت میں کامل تھے اور شیخ سالار سے بھی تربیت حاصل کی تھی ۔
سید صفی الدین انبالہ کے رہنے والے تھے، جو درویشوں کے اوصاف سے موصوف اور انہیں کے احوال میں متحقق تھے اور بہت پوشیدہ رہا کرتے تھے، یہ شیخ مبارک سندیلوی کے مرید تھے اور شیخ سعد الدین کے مریدوں میں سے ایک شیخ اللہ دیا تھے جو بہت بوڑھے اور معمر تھے، آپ اپنے والی عہد کے حکم سے ان دیار میں تشریف لائے اور تکریم و تعظیم کے ساتھ مخصوص ہوئے، آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہوا ـ
وصال:
۹۹۳ھ میں اس دُنیائے ناپائیدار سے عالم پائیدار کی طرف چلے گئے، اللہ عَزَوَّجَل ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saaduddin-chishti-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Saaduddin Chishti Khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا محمد عمر چنا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا محمد عمر چنہ گوٹھ ابراہیم چنہ نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۲۸۸ھ کو تولد ہوئے ۔ (مہران سوانح نمبر) سوانح میں نام عمر الدین ہے جب کہ مشاہیر دادو میں محمد عمر ہے ۔ واللہ اعلم ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عمر نے ابتدائی تعلیم مولانا خیر محمد فیروز شاہی کے پاس حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے علامۃ الزمان حضرت مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی ؒ کے ہاں تعلیم حاصل کیاور مختصر مدت حضرت مولانا محمد آگرو کی خدمت میں رہے اور آخر میں حضرت علامہ قمر الدین اندھڑ سہروردی ( گھوٹکی ) کی خدمت میں رہ کر نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد عمر فارغ التحصیل ہونے کے بعد عمر کا نصف حصہ لاڑ کے طرف مختلف مقامات و بستیوں میں تعلیم دینے میں بسر کیا۔گوٹھ رتو کوٹ تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ میں ایک عرصہ تک درس دیا ۔ تدریس کا مشغلہ آب و تاب سے جاری رکھا۔ ان علاقوں میں تعلیم قرآن عا م کی ، بچے بڑے بوڑھے سبھی مولانا کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
ظاہری علوم میں دسترس رکھنے کے بعد باطنی علوم کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کی تکمیل کیلئے مرد کامل اکمل ، غوث الزمان ، استاد العلماء والفضلاء ، مفتی اعظم حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس ( صاحب فتاویٰ جنگ ) کے حضور حاضر ہوئے اور سلسلۂ قادریہ میں دست بیعت ہو کر تھوڑے دنوں بعد خلافت سے سر فراز ہوئے ۔
آپ انتہائی درجے کے متقی پرہیز گار تھے جس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ کے ہاتھ پر کافی بندگان خدا مرید ہو کر فیضیاب ہوئے ۔
تلامذہ:
آپ کے بعض مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں :
٭ فقیر محمد ابراہیم ہنگورجہ چیف ایڈیٹر روز نامہ مہران حیدرآباد
٭ فقیر حاجی جمال الدین ہنگورجہ
٭ مولوی محمد اڑھوڑ گوٹھ احمد شاہ گرو ہڑی تحصیل کھپرو
٭ مولوی محمد یعقوب ہنگورجہ کھپرو
٭ مولوی عبدالحلیم پہنور میہڑ
٭ مولوی محمد علی لانڈر سانگھڑ
٭ مولوی غلام محمد ببر گوٹھ لدھان نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولوی نجم الدین ریگستانی ضلع تھر پارکر
اولاد:
مولانا محمد عمر چنہ کر رب کریم نے تین بیٹے عطا کئے تھے جو کہ بفضلہ تعالیٰ علم دین کے زیور سے آراستہ ہیں ۔
۱) مولوی محمد
۲) مولوی نصیرالدین
۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی حافظ محمد عیسیٰ چنہ ، مولانا محمد عمر کے پوتے ہیں ، مدرسہ عربیہ اکبر یہ دارالقرآن جامع مسجد میہڑ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آج تک مادر علمی میں تدریس کے فرائض انجام دے دہے ہیں ۔
وصال:
مولانا محمد عمر چنہ نے ۱۶، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۲، نومبر ۱۹۵۴ء کو ۸۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-channa
حضرت مولانا محمد عمر چنہ گوٹھ ابراہیم چنہ نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۲۸۸ھ کو تولد ہوئے ۔ (مہران سوانح نمبر) سوانح میں نام عمر الدین ہے جب کہ مشاہیر دادو میں محمد عمر ہے ۔ واللہ اعلم ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عمر نے ابتدائی تعلیم مولانا خیر محمد فیروز شاہی کے پاس حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے علامۃ الزمان حضرت مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی ؒ کے ہاں تعلیم حاصل کیاور مختصر مدت حضرت مولانا محمد آگرو کی خدمت میں رہے اور آخر میں حضرت علامہ قمر الدین اندھڑ سہروردی ( گھوٹکی ) کی خدمت میں رہ کر نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد عمر فارغ التحصیل ہونے کے بعد عمر کا نصف حصہ لاڑ کے طرف مختلف مقامات و بستیوں میں تعلیم دینے میں بسر کیا۔گوٹھ رتو کوٹ تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ میں ایک عرصہ تک درس دیا ۔ تدریس کا مشغلہ آب و تاب سے جاری رکھا۔ ان علاقوں میں تعلیم قرآن عا م کی ، بچے بڑے بوڑھے سبھی مولانا کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
ظاہری علوم میں دسترس رکھنے کے بعد باطنی علوم کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کی تکمیل کیلئے مرد کامل اکمل ، غوث الزمان ، استاد العلماء والفضلاء ، مفتی اعظم حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس ( صاحب فتاویٰ جنگ ) کے حضور حاضر ہوئے اور سلسلۂ قادریہ میں دست بیعت ہو کر تھوڑے دنوں بعد خلافت سے سر فراز ہوئے ۔
آپ انتہائی درجے کے متقی پرہیز گار تھے جس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ کے ہاتھ پر کافی بندگان خدا مرید ہو کر فیضیاب ہوئے ۔
تلامذہ:
آپ کے بعض مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں :
٭ فقیر محمد ابراہیم ہنگورجہ چیف ایڈیٹر روز نامہ مہران حیدرآباد
٭ فقیر حاجی جمال الدین ہنگورجہ
٭ مولوی محمد اڑھوڑ گوٹھ احمد شاہ گرو ہڑی تحصیل کھپرو
٭ مولوی محمد یعقوب ہنگورجہ کھپرو
٭ مولوی عبدالحلیم پہنور میہڑ
٭ مولوی محمد علی لانڈر سانگھڑ
٭ مولوی غلام محمد ببر گوٹھ لدھان نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولوی نجم الدین ریگستانی ضلع تھر پارکر
اولاد:
مولانا محمد عمر چنہ کر رب کریم نے تین بیٹے عطا کئے تھے جو کہ بفضلہ تعالیٰ علم دین کے زیور سے آراستہ ہیں ۔
۱) مولوی محمد
۲) مولوی نصیرالدین
۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی حافظ محمد عیسیٰ چنہ ، مولانا محمد عمر کے پوتے ہیں ، مدرسہ عربیہ اکبر یہ دارالقرآن جامع مسجد میہڑ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آج تک مادر علمی میں تدریس کے فرائض انجام دے دہے ہیں ۔
وصال:
مولانا محمد عمر چنہ نے ۱۶، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۲، نومبر ۱۹۵۴ء کو ۸۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-channa
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Umar Channa
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ ابو المعالی قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید خیر الدین محمد ۔ کنیت: ابو المعالی ۔ لقب: اسد الدین ۔ تخلص: اشعار میں معالی کے علاوہ ’’ غربتی ‘‘ بھی بطورِ تخلص استعمال کرتے تھے ۔ لیکن شاہ ابو المعالی کے نام سے زیادہ معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ ابو المعالی قادری بن سید رحمت اللہ بن سید فتح اللہ ۔ علیہم الرحمہ ۔ شیخ المشائخ حضرت داؤد کرمانی علیہ الرحمہ آپ کے حقیقی چچا تھے ۔ آپ ان کے داماد اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ بزرگوں کا وطن ’’ کرمان ‘‘ تھا ۔ خاندانی تعلق ساداتِ کرمان سے ہے ۔ سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی علیہ الرحمہ پر منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79 / تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص: 225) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 10 ذو الحجہ 960ھ / مطابق 16 نومبر 1553ء کو ’’ شیر گڑھ ‘‘ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت شاہ ابوالمعالی لاہوری علیہ الرحمہ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو صدیوں سے علم و فضل میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے والدِ محترم سید رحمت اللہ علیہ الرحمہ ایک عالمِ متبحر و عارف باللہ تھے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ تمام علومِ منقولات و معقولات انہیں سے حاصل کیے ۔ اس وقت کے تمام مروجہ علوم کے ماہر کامل اور عربی و فارسی ادب کے بہترین ادیب تھے ۔
بیعت و خلافت:
علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد سلسلۂ عالیہ قادریہ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے چچا شیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ تیس سال کے مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت عطاء فرمائی ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79) ـ
سیرت و خصائص:
صاحبِ اسرار و معارفِ یزدانی، شہبازِ لامکانی، حضرت شاہ ابو المعالی قادری لاہوری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخِ کامل اور عالمِ اکمل تھے ۔ آپ کی ذات والا صفات سے دینِ اسلام اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا ۔ خرقۂ خلافت کے بعد شیخ کی طرف سے لاہور میں رشد و ہدایت پر مامور کیے گئے ۔ چنانچہ شیر گڑھ سے لاہور تک جہاں قیام فرمایا وہاں سرائے، کنواں، تالاب اور باغ لگواتے گئے ۔
آج بھی راستے میں ایسے مقامات و سرائے اور مکانات و بستیاں موجود ہیں جو آپ کے نام سے ہیں ۔ جب آپ لاہور میں تشریف لائے تو مخلوقِ خدا جوق در جوق حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگی، اور آپ نے بڑی قبولیت حاصل کی ۔
آپ کی بڑی کرامت یہ تھی کہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا اس کو اسی رات محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دیدار نصیب ہوتا ۔
علمی خدمات:
آپ عربی و فارسی ادب کے بلند پایہ ماہر تھے ۔ آپ نے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کے لئے صوفیانہ طرز کی کتب تحریر فرمائیں ۔ جن کا مقصد لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور حقائق سے روشناس کرانا تھا ۔ آپ کی خانقاہ شریف ایک علمی درسگاہ تھی جہاں قال اللہ، و قال رسول اللہ کی صدائیں ہر وقت بلند رہتی تھیں ۔
آپ ذوقِ شعری بھی رکھتے تھے ۔ زیادہ تر اشعار سید الانبیاء ﷺ اور سید الاولیاء کی شان میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے امام المحققین حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی کو مشکوٰۃ کی شرح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا اس کو جلد پورا کرو ۔
پھر اسی خط میں لکھا کہ ’’ ان شاء اللہ کتابے شود کہ اہلِ عالَم ہمہ از آں مستفید شوند ‘‘ ۔ پھر مشورہ دیا کہ شرح میں جا بجا اشعار درج کیے جائیں ۔ تاکہ طرزِ بیاں دل چسپ اور اثر انگیز ہو ۔
فضل و کمال:
آپ صاحبِ کشف و کرامات تھے، حضرت غوث الاعظم کے سچے عاشق، اور اپنے پیر و مرشد سے والہانہ عقیدت تھی ۔ بلکہ آپ فنافی الشیخ کے درجے پر فائز تھے ۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ عارفِ حق آگاہ حضرت ملا شاہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم اپنے استاد مُلا نعمت اللہ کے ہمراہ جو عالمِ باعمل تھے آپ کی زیارت کے لئے گئے ۔ ہم سب حاضرِ خدمت تھے، کہ ایک شخص تسبیح آپ کے لئے لایا ۔ آپ نے وہ قبول فرمالی اور اپنے سامنے رکھ دی ۔ میرے دل میں گزرا اگر آپ کو کشفِ قلوب حاصل ہے تو یہ تسبیح مجھے عنایت فرما دیں ۔
جب میں رخصت کے لیے کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھے اپنے پاس بلایا ۔ فرمایا: اپنے حسبِ مدّعا یہ تسبیح لے لو ۔ اگر ہو سکے تو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کرنا ۔ تمہیں اور لانے والے دونوں کو ثواب ہوگا ۔
اسی طرح صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں: مولانا اخوند نعمت اللہ فرماتے تھے کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضرت غوث الاعظم سے ارادت و عقیدت رکھتا ہوں ۔ یقیناً وہ بھی میری اس ارادت مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں اور میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی سرپوشی کروں گا ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید خیر الدین محمد ۔ کنیت: ابو المعالی ۔ لقب: اسد الدین ۔ تخلص: اشعار میں معالی کے علاوہ ’’ غربتی ‘‘ بھی بطورِ تخلص استعمال کرتے تھے ۔ لیکن شاہ ابو المعالی کے نام سے زیادہ معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ ابو المعالی قادری بن سید رحمت اللہ بن سید فتح اللہ ۔ علیہم الرحمہ ۔ شیخ المشائخ حضرت داؤد کرمانی علیہ الرحمہ آپ کے حقیقی چچا تھے ۔ آپ ان کے داماد اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ بزرگوں کا وطن ’’ کرمان ‘‘ تھا ۔ خاندانی تعلق ساداتِ کرمان سے ہے ۔ سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی علیہ الرحمہ پر منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79 / تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص: 225) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 10 ذو الحجہ 960ھ / مطابق 16 نومبر 1553ء کو ’’ شیر گڑھ ‘‘ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت شاہ ابوالمعالی لاہوری علیہ الرحمہ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو صدیوں سے علم و فضل میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے والدِ محترم سید رحمت اللہ علیہ الرحمہ ایک عالمِ متبحر و عارف باللہ تھے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ تمام علومِ منقولات و معقولات انہیں سے حاصل کیے ۔ اس وقت کے تمام مروجہ علوم کے ماہر کامل اور عربی و فارسی ادب کے بہترین ادیب تھے ۔
بیعت و خلافت:
علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد سلسلۂ عالیہ قادریہ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے چچا شیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ تیس سال کے مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت عطاء فرمائی ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79) ـ
سیرت و خصائص:
صاحبِ اسرار و معارفِ یزدانی، شہبازِ لامکانی، حضرت شاہ ابو المعالی قادری لاہوری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخِ کامل اور عالمِ اکمل تھے ۔ آپ کی ذات والا صفات سے دینِ اسلام اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا ۔ خرقۂ خلافت کے بعد شیخ کی طرف سے لاہور میں رشد و ہدایت پر مامور کیے گئے ۔ چنانچہ شیر گڑھ سے لاہور تک جہاں قیام فرمایا وہاں سرائے، کنواں، تالاب اور باغ لگواتے گئے ۔
آج بھی راستے میں ایسے مقامات و سرائے اور مکانات و بستیاں موجود ہیں جو آپ کے نام سے ہیں ۔ جب آپ لاہور میں تشریف لائے تو مخلوقِ خدا جوق در جوق حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگی، اور آپ نے بڑی قبولیت حاصل کی ۔
آپ کی بڑی کرامت یہ تھی کہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا اس کو اسی رات محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دیدار نصیب ہوتا ۔
علمی خدمات:
آپ عربی و فارسی ادب کے بلند پایہ ماہر تھے ۔ آپ نے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کے لئے صوفیانہ طرز کی کتب تحریر فرمائیں ۔ جن کا مقصد لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور حقائق سے روشناس کرانا تھا ۔ آپ کی خانقاہ شریف ایک علمی درسگاہ تھی جہاں قال اللہ، و قال رسول اللہ کی صدائیں ہر وقت بلند رہتی تھیں ۔
آپ ذوقِ شعری بھی رکھتے تھے ۔ زیادہ تر اشعار سید الانبیاء ﷺ اور سید الاولیاء کی شان میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے امام المحققین حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی کو مشکوٰۃ کی شرح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا اس کو جلد پورا کرو ۔
پھر اسی خط میں لکھا کہ ’’ ان شاء اللہ کتابے شود کہ اہلِ عالَم ہمہ از آں مستفید شوند ‘‘ ۔ پھر مشورہ دیا کہ شرح میں جا بجا اشعار درج کیے جائیں ۔ تاکہ طرزِ بیاں دل چسپ اور اثر انگیز ہو ۔
فضل و کمال:
آپ صاحبِ کشف و کرامات تھے، حضرت غوث الاعظم کے سچے عاشق، اور اپنے پیر و مرشد سے والہانہ عقیدت تھی ۔ بلکہ آپ فنافی الشیخ کے درجے پر فائز تھے ۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ عارفِ حق آگاہ حضرت ملا شاہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم اپنے استاد مُلا نعمت اللہ کے ہمراہ جو عالمِ باعمل تھے آپ کی زیارت کے لئے گئے ۔ ہم سب حاضرِ خدمت تھے، کہ ایک شخص تسبیح آپ کے لئے لایا ۔ آپ نے وہ قبول فرمالی اور اپنے سامنے رکھ دی ۔ میرے دل میں گزرا اگر آپ کو کشفِ قلوب حاصل ہے تو یہ تسبیح مجھے عنایت فرما دیں ۔
جب میں رخصت کے لیے کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھے اپنے پاس بلایا ۔ فرمایا: اپنے حسبِ مدّعا یہ تسبیح لے لو ۔ اگر ہو سکے تو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کرنا ۔ تمہیں اور لانے والے دونوں کو ثواب ہوگا ۔
اسی طرح صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں: مولانا اخوند نعمت اللہ فرماتے تھے کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضرت غوث الاعظم سے ارادت و عقیدت رکھتا ہوں ۔ یقیناً وہ بھی میری اس ارادت مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں اور میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی سرپوشی کروں گا ۔
👍1
رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں، سر ننگا ہے ۔ اسی وقت حضرت غوث الثقلین تشریف لائے ۔ اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ پگڑی لے لو ۔ ہم تیرے اس حال سے خبر دار تھے کہ تو ننگے سر کھڑا ہے ۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ تیرا سر ڈھانپ دیں ۔
صبح مجھے حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے پاس بلایا اور سفید دستار مجھے عنایت کرکے فرمایا: یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرت غوث الاعظم نے تجھے دی ہے ۔ (سفینۃ الاولیاء، ص:245) ـ
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی عقیدت: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی آپ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ۔ شیخ محقق نے آپ کا ذکرِ خیر جابجا فرمایا ہے ۔ حضرت شیخ محقق نے فتوح الغیب کی شرح آپ کے اصرار پر لکھی ۔ اس کے خاتمے پر حضرت شاہ ابو المعالی کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے:
’’ اسد الدین شاہ ابو المعالی کہ شیر بیشۂ جلالت، و سرہنگِ دیوانِ قدرت، واز والہان ِ آگاہ، و عاشقانِ درگاہِ قادریہ است ‘‘ ۔
اسی طرح اخبار الاخیار میں حضرت شیخ داؤد کرمانی کے تذکرے میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے ۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی آپ کی روحانی سطوت کے اس درجہ معترف تھے کہ اپنے خانگی معاملات ان سے بیان فرماتے، اور ان سے راہنمائی لیتے، اور دعاؤں کی التجا کرتے ۔
ایک مکتوب میں حضرت شاہ ابوالمعالی سے اس طرح امداد کی التجاء کرتے ہیں: ’’ بالجملہ اندوہ و تنگ دلی از حد گزشتہ، وقتِ امداد و اعانت است، فریاد رسی می باید کرد، ورائے آغاثہ کبریٰ کہ منتہیٰ بجناب حضرت غوث الاعظم است می باید پوشید، وذرع داؤدی در برکرد۔الیٰ آخرہ‘‘۔
ایک خط میں آپ کی صحبتِ کیمیا اثر کے متعلق اپنے تاثر کو اس طرح ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ذوقِ صحبتِ ایشاں، درنگِ حال ایشاں کہ در ظاہر و باطن فقیر نشستہ است بتقریر بیان گنجائش ندارد‘‘ ۔
شیخ محقق کو جو آپ سے عقیدت و محبت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ لاہور میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو وہاں سے واپس ہونے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا ۔ شاہ صاحب سے والہانہ عقیدت و محبت کے تاثر کو ایک جگہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ گرفتار ما بہ ایں شہر لاہور کہ وطن گزاشتہ ایں جا می باشیم،سبب آں ایں است کہ کسے ہست کہ گرفتار اویم‘‘۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 84) ـ
تصانیف:
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے علاوہ ایک عالم بھی تھے ۔ آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔
1 تحفۃ القادریہ ۔
جس میں حضرت غوث الثقلین کے مناقب و کرامات کو جمع کیا ہے ۔
2 حلیہ ۔
سرورِ عالم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کیا ہے ۔
اس کا ایک اقتباس ملاحظہ پیشِ خدمت ہے: ’’ ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیر الانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین ۔
ترجمہ:
حضور اکرم ﷺ کا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا ۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیروسعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’ خیر الانام ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین ۔
3 باغِ ارم ۔
4 زعفرانِ زار ۔
5 رسالہ مونسِ جاں ۔
آپ کی ایک مشہور رباعی حسب ذیل ہے:
یارب بحقِ جمالِ عبدالقادر
یارب بحقِ کمالِ عبدالقادر
برحال ابوالمعالی زاروضعیف
رحمےکن ودہ وصالِ عبدالقادر
تاریخِ وصال:
16 ربیع الاول 1024ھ مطابق مئی 1615ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-khairuddin-abul-maali-qadri-karmani-lahori
صبح مجھے حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے پاس بلایا اور سفید دستار مجھے عنایت کرکے فرمایا: یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرت غوث الاعظم نے تجھے دی ہے ۔ (سفینۃ الاولیاء، ص:245) ـ
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی عقیدت: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی آپ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ۔ شیخ محقق نے آپ کا ذکرِ خیر جابجا فرمایا ہے ۔ حضرت شیخ محقق نے فتوح الغیب کی شرح آپ کے اصرار پر لکھی ۔ اس کے خاتمے پر حضرت شاہ ابو المعالی کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے:
’’ اسد الدین شاہ ابو المعالی کہ شیر بیشۂ جلالت، و سرہنگِ دیوانِ قدرت، واز والہان ِ آگاہ، و عاشقانِ درگاہِ قادریہ است ‘‘ ۔
اسی طرح اخبار الاخیار میں حضرت شیخ داؤد کرمانی کے تذکرے میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے ۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی آپ کی روحانی سطوت کے اس درجہ معترف تھے کہ اپنے خانگی معاملات ان سے بیان فرماتے، اور ان سے راہنمائی لیتے، اور دعاؤں کی التجا کرتے ۔
ایک مکتوب میں حضرت شاہ ابوالمعالی سے اس طرح امداد کی التجاء کرتے ہیں: ’’ بالجملہ اندوہ و تنگ دلی از حد گزشتہ، وقتِ امداد و اعانت است، فریاد رسی می باید کرد، ورائے آغاثہ کبریٰ کہ منتہیٰ بجناب حضرت غوث الاعظم است می باید پوشید، وذرع داؤدی در برکرد۔الیٰ آخرہ‘‘۔
ایک خط میں آپ کی صحبتِ کیمیا اثر کے متعلق اپنے تاثر کو اس طرح ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ذوقِ صحبتِ ایشاں، درنگِ حال ایشاں کہ در ظاہر و باطن فقیر نشستہ است بتقریر بیان گنجائش ندارد‘‘ ۔
شیخ محقق کو جو آپ سے عقیدت و محبت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ لاہور میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو وہاں سے واپس ہونے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا ۔ شاہ صاحب سے والہانہ عقیدت و محبت کے تاثر کو ایک جگہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ گرفتار ما بہ ایں شہر لاہور کہ وطن گزاشتہ ایں جا می باشیم،سبب آں ایں است کہ کسے ہست کہ گرفتار اویم‘‘۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 84) ـ
تصانیف:
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے علاوہ ایک عالم بھی تھے ۔ آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔
1 تحفۃ القادریہ ۔
جس میں حضرت غوث الثقلین کے مناقب و کرامات کو جمع کیا ہے ۔
2 حلیہ ۔
سرورِ عالم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کیا ہے ۔
اس کا ایک اقتباس ملاحظہ پیشِ خدمت ہے: ’’ ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیر الانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین ۔
ترجمہ:
حضور اکرم ﷺ کا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا ۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیروسعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’ خیر الانام ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین ۔
3 باغِ ارم ۔
4 زعفرانِ زار ۔
5 رسالہ مونسِ جاں ۔
آپ کی ایک مشہور رباعی حسب ذیل ہے:
یارب بحقِ جمالِ عبدالقادر
یارب بحقِ کمالِ عبدالقادر
برحال ابوالمعالی زاروضعیف
رحمےکن ودہ وصالِ عبدالقادر
تاریخِ وصال:
16 ربیع الاول 1024ھ مطابق مئی 1615ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-khairuddin-abul-maali-qadri-karmani-lahori
scholars.pk
Hazrat Shah Khairuddin Abul Maali Qadri Kirmani Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ ازہری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ محمد عبد المصطفیٰ الازہری ۔ لقب: شیخ الحدیث، نائبِ صدر الشریعہ ۔ تخلص: ماجد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فاضلِ اجل حضرت علامہ عبد المصطفیٰ الازہری بن صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (صاحبِ بہارِ شریعت) بن علامہ جمال الدین بن مولانا خدا بخش (رحمہم اللہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ابتداءِ ماہِ محرم الحرام 1334ھ / مطابق ماہِ نومبر 1915ء کو ’’ بریلی شریف ‘‘ انڈیا میں ہوئی ۔
بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں:
جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت حضرت صدر الشریعہ ’’ منظرِ اسلام ‘‘ بریلی میں مدرس تھے ۔ ولادت کے ساتویں دن عقیقے کے موقع پر حضرت صدر الشریعہ آپ کو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں لے گئے، نام تجویز کرنے اور دعا کی درخواست کی ۔
اعلیٰ حضرت نے نو مولود کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا ۔ آپ نے بچے کی پیشانی پر بوسہ دیا اور دم فرمایا ۔ بچے کے نام میں ’’ عبد المصطفیٰ ‘‘ کا اضافہ تجویز فرمایا، اور حضرت صدر الشریعہ کو پیش گوئی فرمائی کہ تمھارا یہ بیٹا بہت ہی ذہین اور بہت ہی عظیم ہوگا، اور ان شاء اللہ یہ تمہارا نائب، عالم و فاضل بنے گا، اور جہاں تک نام کا تعلق ہے تو میں اپنا نام آپ کے بیٹے کو دیتا ہوں ۔ (شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الازہری، ص: 105) ـ
تحصیلِ علم:
آپ نے قرآن مجید اپنے مولِد بریلی شریف کے دار العلوم منظرِ اسلام میں مولانا احسان علی مظفر پوری سے پڑھا ۔ پھر والد ماجد علیہ الرحمہ کے جامعہ عثمانیہ اجمیر شریف میں مدرس مقرر ہونے پر علامہ ازہری نے اپنے آبائی وطن قصبہ گھوسی اعظم گڑھ میں محلہ کریم الدین کے مکتب میں اُردو سیکھی ۔
حضرت علامہ ازہری علیہ الرحمہ کو 1926ء میں آپ کے والد مکرم نے جامعہ عثمانیہ (اجمیر شریف) بلا لیا ۔ جہاں آپ نے کتب فارسی مولانا عارف بدایونی سے پڑھیں ۔ علومِ عربیہ اسی مدرسہ میں مولانا حکیم عبد المجید، مفتی امتیاز احمد اور مولانا عبد الحئی سواتی سے حاصل کی، اور اکثر علوم و فنون ابتدا سے انتہا تک اپنے والد مکرم سے پڑھے ۔ جب حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمہ دوبارہ بریلی شریف جانے لگے تو علامہ ازہری علیہ الرحمہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر قاہرہ (مصر) بھیج دیا ۔
چنانچہ حج کی ادائیگی اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاجہا الصلوٰۃ والسلام سے فراغت کے بعد جامعہ ازہر تشریف لے گئے، اور تین سال جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جامعہ کی طرف سے دو سندیں ’’ شہادۃ الاہلیۃ ، و شہادۃ العالیہ ‘‘ حاصل کیں ۔ (مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص:462) ـ
بیعت و خلافت:
علامہ ازہری نے بچپن میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی نور اللہ مرقدہ کے دست پاک پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا تھا اور جوانی میں مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان بریلوی اور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی کی طرف سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اجازت و خلافت حاصل کی ۔ (ایضا:463)
سیرت و خصائص:
فقیہ ابنِ فقیہ، عالمِ باعمل، مردِ حق، صاحبِ محاسنِ کثیرہ، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ ۔
آپ یادگارِ اسلاف، اور شریعتِ محمدیہ کا نمونہ تھے ۔ آپ کے تمام امور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ہوتے تھے ۔ عظیم باپ کے عظیم فرزندِ ارجمند تھے۔آپ نے حضرتِ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ کی نیابت و جانشینی کا صحیح حق ادا کیا۔
حضرت شیخ الحدیث مملکتِ پاکستان کے بطلِ جلیل، اسلام کے عظیم سپاہی، دین و مسلک کے شاندار قائد، قرآن و حدیث، فقہ، علومِ عربیہ، اور فنونِ اسلامیہ کے بحرِ ذخار، صوفی و درویش صفت، فاضلِ مدینہ، بغداد، اجمیر، بریلی اور جامعہ ازہر کی بارگاہوں اور درسگاہوں کے طالبِ علم و خوشہ چیں، سلفِ صالحین کے کردار کا عکسِ جمیل، عاشقِ محبوبِ خدا، شیدائے غوث اعظم، و امامِ اعظم، محبِ اعلیٰ حضرت، محبوبِ مفتیِ اعظم تھے۔
پچاس سال تک مسندِ درس و تدریس پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرتے رہے ۔ اسی طرح آپ دار العلوم امجدیہ کے شیخ الحدیث، جماعتِ اہل سنت پاکستان کے صدر، جماعتِ اہل سنت اور جمعیت علماء پاکستان کے بانی رکن، ممبر قومی اسمبلی، رکن مجلس شوریٰ، اور بے شمار دینی ومذہبی انجمنوں، اداروں کے سرپرستِ اعلیٰ تھے۔
آپ کی پوری زندگی ہوش سنبھالنے سے حیاتِ مستعار کی آخری سانس تک ایک تحریک، ایک انجمن، انقلابِ مصطفوی، عشقِ محمدی، اور ترویج و اشاعت مذہبِ حق کی ایک عظیم کاوش اور جہدِ مسلسل سے عبارت ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ محمد عبد المصطفیٰ الازہری ۔ لقب: شیخ الحدیث، نائبِ صدر الشریعہ ۔ تخلص: ماجد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
فاضلِ اجل حضرت علامہ عبد المصطفیٰ الازہری بن صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (صاحبِ بہارِ شریعت) بن علامہ جمال الدین بن مولانا خدا بخش (رحمہم اللہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ابتداءِ ماہِ محرم الحرام 1334ھ / مطابق ماہِ نومبر 1915ء کو ’’ بریلی شریف ‘‘ انڈیا میں ہوئی ۔
بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں:
جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت حضرت صدر الشریعہ ’’ منظرِ اسلام ‘‘ بریلی میں مدرس تھے ۔ ولادت کے ساتویں دن عقیقے کے موقع پر حضرت صدر الشریعہ آپ کو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں لے گئے، نام تجویز کرنے اور دعا کی درخواست کی ۔
اعلیٰ حضرت نے نو مولود کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا ۔ آپ نے بچے کی پیشانی پر بوسہ دیا اور دم فرمایا ۔ بچے کے نام میں ’’ عبد المصطفیٰ ‘‘ کا اضافہ تجویز فرمایا، اور حضرت صدر الشریعہ کو پیش گوئی فرمائی کہ تمھارا یہ بیٹا بہت ہی ذہین اور بہت ہی عظیم ہوگا، اور ان شاء اللہ یہ تمہارا نائب، عالم و فاضل بنے گا، اور جہاں تک نام کا تعلق ہے تو میں اپنا نام آپ کے بیٹے کو دیتا ہوں ۔ (شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الازہری، ص: 105) ـ
تحصیلِ علم:
آپ نے قرآن مجید اپنے مولِد بریلی شریف کے دار العلوم منظرِ اسلام میں مولانا احسان علی مظفر پوری سے پڑھا ۔ پھر والد ماجد علیہ الرحمہ کے جامعہ عثمانیہ اجمیر شریف میں مدرس مقرر ہونے پر علامہ ازہری نے اپنے آبائی وطن قصبہ گھوسی اعظم گڑھ میں محلہ کریم الدین کے مکتب میں اُردو سیکھی ۔
حضرت علامہ ازہری علیہ الرحمہ کو 1926ء میں آپ کے والد مکرم نے جامعہ عثمانیہ (اجمیر شریف) بلا لیا ۔ جہاں آپ نے کتب فارسی مولانا عارف بدایونی سے پڑھیں ۔ علومِ عربیہ اسی مدرسہ میں مولانا حکیم عبد المجید، مفتی امتیاز احمد اور مولانا عبد الحئی سواتی سے حاصل کی، اور اکثر علوم و فنون ابتدا سے انتہا تک اپنے والد مکرم سے پڑھے ۔ جب حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمہ دوبارہ بریلی شریف جانے لگے تو علامہ ازہری علیہ الرحمہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر قاہرہ (مصر) بھیج دیا ۔
چنانچہ حج کی ادائیگی اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاجہا الصلوٰۃ والسلام سے فراغت کے بعد جامعہ ازہر تشریف لے گئے، اور تین سال جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جامعہ کی طرف سے دو سندیں ’’ شہادۃ الاہلیۃ ، و شہادۃ العالیہ ‘‘ حاصل کیں ۔ (مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص:462) ـ
بیعت و خلافت:
علامہ ازہری نے بچپن میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی نور اللہ مرقدہ کے دست پاک پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا تھا اور جوانی میں مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان بریلوی اور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی کی طرف سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اجازت و خلافت حاصل کی ۔ (ایضا:463)
سیرت و خصائص:
فقیہ ابنِ فقیہ، عالمِ باعمل، مردِ حق، صاحبِ محاسنِ کثیرہ، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ ۔
آپ یادگارِ اسلاف، اور شریعتِ محمدیہ کا نمونہ تھے ۔ آپ کے تمام امور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ہوتے تھے ۔ عظیم باپ کے عظیم فرزندِ ارجمند تھے۔آپ نے حضرتِ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی نور اللہ مرقدہ کی نیابت و جانشینی کا صحیح حق ادا کیا۔
حضرت شیخ الحدیث مملکتِ پاکستان کے بطلِ جلیل، اسلام کے عظیم سپاہی، دین و مسلک کے شاندار قائد، قرآن و حدیث، فقہ، علومِ عربیہ، اور فنونِ اسلامیہ کے بحرِ ذخار، صوفی و درویش صفت، فاضلِ مدینہ، بغداد، اجمیر، بریلی اور جامعہ ازہر کی بارگاہوں اور درسگاہوں کے طالبِ علم و خوشہ چیں، سلفِ صالحین کے کردار کا عکسِ جمیل، عاشقِ محبوبِ خدا، شیدائے غوث اعظم، و امامِ اعظم، محبِ اعلیٰ حضرت، محبوبِ مفتیِ اعظم تھے۔
پچاس سال تک مسندِ درس و تدریس پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرتے رہے ۔ اسی طرح آپ دار العلوم امجدیہ کے شیخ الحدیث، جماعتِ اہل سنت پاکستان کے صدر، جماعتِ اہل سنت اور جمعیت علماء پاکستان کے بانی رکن، ممبر قومی اسمبلی، رکن مجلس شوریٰ، اور بے شمار دینی ومذہبی انجمنوں، اداروں کے سرپرستِ اعلیٰ تھے۔
آپ کی پوری زندگی ہوش سنبھالنے سے حیاتِ مستعار کی آخری سانس تک ایک تحریک، ایک انجمن، انقلابِ مصطفوی، عشقِ محمدی، اور ترویج و اشاعت مذہبِ حق کی ایک عظیم کاوش اور جہدِ مسلسل سے عبارت ہے ۔
❤2
عادات و خصائل:
خوش مزاج، ظریف الطبع، سادگی، تواضع، وقار علمی،مگر درویشی و استغنا لئے ہوئے، قناعت پذیر، ہر دم مسلک کی اشاعت کی دھن، کوہِ استقامت، باہمت، اور بڑے باحوصلہ، خود نمائی سے گریز مگر علم کی بے عزتی ناگوار، گھریلو معاملات کے ہر جز سے با خبر، اور اہل خانہ کی ضروریات کا انتظام خود فرماتے، مہمان نواز، بات میں بات پیدا کرنا اور وہ بھی ندرت کے انداز میں حاضر جوابی کے ساتھ ان کی ذہانت کا زندہ ثبوت تھا ۔
بہت ہی با اخلاق شریف النفس، بڑوں میں بڑے، چھوٹوں میں چھوٹے، لیکن خود دار ایسے کہ اپنے علم و کردار، فضل و کمال، اور دین ومسلک کو کبھی چند ٹکوں میں فروخت نہیں کیا ۔ آپ علماء کے قدر دان، چھوٹوں پر مشفق و مہربان ، سادگی میں سلفِ صالحین کے نقش قدم پر تھے۔ مساکین کے دکھ درد ، خوشی و غمی میں ساتھی تھے ۔ حقوق العباد کی فکر تھی، پڑوسیوں سے اخلاق و مروت سے پیش آتے تھے ۔ سماجی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔ تدریس کو عبادت سمجھتے تھے ۔ لہذا طلبہ کی تعلیم و تربیت پر نہایت توجہ فرماتے تھے ۔ وقت کی قدر ٹائم کی پابندی رکھتے تھے ۔ درس تدریس میں ناغہ نہیں کرتے روزانہ بلا نا غہ وقت سے پہلے پہلے پہنچ جاتے تاکہ پورا وقت طلبہ کی تعلیم پر صرف کیا جائے ۔
سیاسی کردار:
آپ ساری زندگی نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کوشاں رہے ۔ عام علماء کی طرح صرف مسجد و درس گاہ تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھا بلکہ رسول اللہ ﷺ کے دین کو تخت پر لانے کےلئے مصروفِ عمل رہے ۔ حضرت مذہب کی طرح سیاست اور ملکی وبین الاقوامی حالات و معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ ایک مرتبہ دورانِ تقریر فرمایا: ’’سیاست ہمارے لئے کوئی اجنبی یا انوکھا شعبہ نہیں، یہ تو دین ہی کا ایک شعبہ ہے،جس کی طرف ہم نے عملی توجہ کی ضرورت نہیں سمجھی، لیکن اس شعبۂ زندگی کے جو قائد بنے تھے وہ دین سے بیزار ی اور دوری کے باعث ناکام ہو چکے ہیں ۔ لہذا اب ہمیں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا، اور دستور ساز اسمبلی میں پہنچ کر نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا درس دینا ہوگا‘‘۔
قائدِ ملتِ اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے 1978ء کی ملتان سنی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے علامہ عبد المصطفیٰ الازہری کے متعلق فرمایا: ’’حضرت شیخ الحدیث، جانشینِ صدر الشریعہ، سیاسی ہیں ۔ شکل و صورت دیکھ لیں، لمبا کرتا دیکھ لیں، عمامہ دیکھ لیں، اگر دل دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی دیکھ لیجئے، ان کے جسم کے ہر حصے سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ نکلے گا ۔ بلکہ ان کے خون کے ہر قطرے میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روانگی ہوگی ۔ اگر یہ سیاست ہے تو ہم اس الزام کو قبول کرتے ہیں‘‘ ۔ (روئداد سنی کانفرنس) ۔
آپ دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ملک و قوم کے لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ جن میں سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے، قانون توہینِ رسالت، اور قانون شہادت، اسی طرح جمعۃ المبارک کی تعطیل اہم ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ممبر قومی اسمبلی بننے کے بعد بھی آپ کے رہن سہن میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ آج بھی لوگ گواہ ہیں، جس مکان میں حضرت پہلے رہتے تھے، بعد میں بھی اسے میں رہے ۔ اسی طرح آپ نے کسی قسم کی رعایت، کسی قسم کا لین دین، اور نہ ہی مراعات حاصل کیں ۔ ہمیشہ کی طرح روزانہ سعود آباد سے بذریعہ بس یا وگن دار العلوم امجدیہ آیا کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
16 ربیع الاول 1410ھ / مطابق 18 اکتوبر 1989ء، بروز منگل، بوقتِ فجر، یہ جلالۃ العلم واصل باللہ ہوئے ۔ دار العلوم امجدیہ کراچی میں آپ کا مزار مقدس ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء ۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الازہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadith-abdul-mustafa-azhari-rizvi
خوش مزاج، ظریف الطبع، سادگی، تواضع، وقار علمی،مگر درویشی و استغنا لئے ہوئے، قناعت پذیر، ہر دم مسلک کی اشاعت کی دھن، کوہِ استقامت، باہمت، اور بڑے باحوصلہ، خود نمائی سے گریز مگر علم کی بے عزتی ناگوار، گھریلو معاملات کے ہر جز سے با خبر، اور اہل خانہ کی ضروریات کا انتظام خود فرماتے، مہمان نواز، بات میں بات پیدا کرنا اور وہ بھی ندرت کے انداز میں حاضر جوابی کے ساتھ ان کی ذہانت کا زندہ ثبوت تھا ۔
بہت ہی با اخلاق شریف النفس، بڑوں میں بڑے، چھوٹوں میں چھوٹے، لیکن خود دار ایسے کہ اپنے علم و کردار، فضل و کمال، اور دین ومسلک کو کبھی چند ٹکوں میں فروخت نہیں کیا ۔ آپ علماء کے قدر دان، چھوٹوں پر مشفق و مہربان ، سادگی میں سلفِ صالحین کے نقش قدم پر تھے۔ مساکین کے دکھ درد ، خوشی و غمی میں ساتھی تھے ۔ حقوق العباد کی فکر تھی، پڑوسیوں سے اخلاق و مروت سے پیش آتے تھے ۔ سماجی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔ تدریس کو عبادت سمجھتے تھے ۔ لہذا طلبہ کی تعلیم و تربیت پر نہایت توجہ فرماتے تھے ۔ وقت کی قدر ٹائم کی پابندی رکھتے تھے ۔ درس تدریس میں ناغہ نہیں کرتے روزانہ بلا نا غہ وقت سے پہلے پہلے پہنچ جاتے تاکہ پورا وقت طلبہ کی تعلیم پر صرف کیا جائے ۔
سیاسی کردار:
آپ ساری زندگی نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کوشاں رہے ۔ عام علماء کی طرح صرف مسجد و درس گاہ تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھا بلکہ رسول اللہ ﷺ کے دین کو تخت پر لانے کےلئے مصروفِ عمل رہے ۔ حضرت مذہب کی طرح سیاست اور ملکی وبین الاقوامی حالات و معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ ایک مرتبہ دورانِ تقریر فرمایا: ’’سیاست ہمارے لئے کوئی اجنبی یا انوکھا شعبہ نہیں، یہ تو دین ہی کا ایک شعبہ ہے،جس کی طرف ہم نے عملی توجہ کی ضرورت نہیں سمجھی، لیکن اس شعبۂ زندگی کے جو قائد بنے تھے وہ دین سے بیزار ی اور دوری کے باعث ناکام ہو چکے ہیں ۔ لہذا اب ہمیں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا، اور دستور ساز اسمبلی میں پہنچ کر نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا درس دینا ہوگا‘‘۔
قائدِ ملتِ اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے 1978ء کی ملتان سنی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے علامہ عبد المصطفیٰ الازہری کے متعلق فرمایا: ’’حضرت شیخ الحدیث، جانشینِ صدر الشریعہ، سیاسی ہیں ۔ شکل و صورت دیکھ لیں، لمبا کرتا دیکھ لیں، عمامہ دیکھ لیں، اگر دل دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی دیکھ لیجئے، ان کے جسم کے ہر حصے سے عشقِ مصطفیٰ ﷺ نکلے گا ۔ بلکہ ان کے خون کے ہر قطرے میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روانگی ہوگی ۔ اگر یہ سیاست ہے تو ہم اس الزام کو قبول کرتے ہیں‘‘ ۔ (روئداد سنی کانفرنس) ۔
آپ دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ملک و قوم کے لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ جن میں سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے، قانون توہینِ رسالت، اور قانون شہادت، اسی طرح جمعۃ المبارک کی تعطیل اہم ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ممبر قومی اسمبلی بننے کے بعد بھی آپ کے رہن سہن میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ آج بھی لوگ گواہ ہیں، جس مکان میں حضرت پہلے رہتے تھے، بعد میں بھی اسے میں رہے ۔ اسی طرح آپ نے کسی قسم کی رعایت، کسی قسم کا لین دین، اور نہ ہی مراعات حاصل کیں ۔ ہمیشہ کی طرح روزانہ سعود آباد سے بذریعہ بس یا وگن دار العلوم امجدیہ آیا کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
16 ربیع الاول 1410ھ / مطابق 18 اکتوبر 1989ء، بروز منگل، بوقتِ فجر، یہ جلالۃ العلم واصل باللہ ہوئے ۔ دار العلوم امجدیہ کراچی میں آپ کا مزار مقدس ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء ۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الازہری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadith-abdul-mustafa-azhari-rizvi
scholars.pk
Sheikh-ul-Hadith Abdul Mustafa Azhari Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام سید محمد بن سلیمان جزولی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: شیخ الاسلام، قطبِ زمانہ، صاحبِ دلائل الخیرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید محمد بن سید عبد الرحمن بن سید ابی بکر بن سید سلیمان بن سید سعید بن یعلی بن یخلف بن موسیٰ بن علی بن یوسف بن عیسیٰ بن عبد اللہ بن جندوز بن عبد الرحمن بن محمد بن احمد بن حسان بن اسمعیل بن جعفر بن عبداللہ کامل بن حسن مثنی بن حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
آپ کا خاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے سے تھا ۔ علاقائی قبائلی تعلق ’’ بربر ‘‘ قوم کے قبیلہ ’’جزولہ‘‘ کی شاخ ’’سملالہ‘‘ سے ہے ۔ اس لیے آپ کو ’’جزولی، اور سملالی‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ کا مسکن سوسِ اقصیٰ (مراکش) تھا ۔ (نور نور چہرے:319)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 807ھ مطابق 1404ء کو بمقام ’’سوس اقصیٰ‘‘ مراکش میں ہوئی۔(ایضا: 319) تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و متمول خاندان سے تھا۔اس لیے شروع سے ہی آپ کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی گئی۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لئے شہرِ ’’فاس‘‘ میں رہائش اختیار کی اور وہاں ’’مدرسۃ الصفارین‘‘ میں داخل ہو گئے ۔ جہاں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ موجود ہے، اور لوگ برکتیں حاصل کرتے ہیں ۔ یہیں پر آپ نے علامہ ابنِ حاجب کی تصانیف اور مدونہ کبریٰ وغیرہ کتب کو زبانی یاد کہا ۔ اسی طرح آپ کو مذہبِ مالکیہ کی اہم کتب بھی یاد تھیں۔
بیعت و خلافت:
شیخ جزولی نے فاس سے ساحلی علاقہ کا رخ کیا ۔ وہاں آپ کی ملاقات یکتائے روزگار ، عارفِ کامل شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ امغار سے ہوئی ۔ سلسلہ عالیہ شاذلیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
فنافی المصطفیٰ، سند الاصفیاء، سید الاتقیاء، عارفِ کامل، قطب الاقطاب، وحید الدہر، فرید العصر، فقیہ، امام، علامہ، شیخ الاسلام ابو عبد اللہ سید محمد بن سلیمان جزولی علیہ الرحمہ ـ آپ علیہ الرحمہ کا شمار علماءِ عاملین، اور آئمۂ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ آپ کو حسب ونسب کے ساتھ ساتھ علم عمل کا شرف بھی حاصل تھا ۔ آپ ربانی احوال، بلند مقامات، عالی ہمت، پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے ۔ آپ کا طریقہ عمدہ تھا۔علم لدنی، اور اسرار ربانی کے حامل اور بڑے خرقِ عادت امور میں صاحبِ تصرفات وکرامات تھے ۔ آپ جامع مانع قطب، نافع غوث، وارثِ علوم نبوی، اور صاحبِ اسرارِ ربانی تھے۔
آپ علیہ الرحمہ چودہ سال تک خلوت گزینی اختیار کرکے عبادت و ریاضت اور منازل سلوک طے کرنے میں مصروف رہے ۔ پھر آسفی (مراکش کا ایک شہر) میں مخلوقِ خدا کی رہنمائی اور مریدین کی تربیت کا کام شروع کیا ۔ بے شمار لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔آپ کا شہرہ عام ہو گیا ۔ حیرت انگیز اور بڑی بری کرامات ظاہر ہوئیں ۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ پر سختی سے کار بند تھے ۔ کثرت سے اوراد و وظائف ادا کرتے تھے ۔ دن رات میں ڈیڑھ قرآن پاک (ایک مکمل قرآن اور نصف قرآن) کی تلاوت کرتے، بسم اللہ شریف کا وظیفہ پڑھتے اور شب و روز میں دو مرتبہ دلائل الخیرات ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔ عوام الناس کے بے پناہ ہجوم کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے حاکمِ وقت نے آسفی سے نکال دیا ۔ چنانچہ آپ آفرغال تشریف لے گئے ۔ اور پھر سے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کر دیا۔
علامہ فاسی فرماتے ہیں:
آپ کی برکت سے انوار جگمگا اٹھے۔ اسرار آشکار ہونے لگے۔ فقراء، ہر طرف پھیل گئے۔ بلادِ مغرب میں اللہ جل شانہ کے ذکر اور سرورِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں صلوٰۃ و سلام کے نغمے گونجنے لگے ۔ آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی، اور ہر طرف آپ کے مریدین دکھائی دینے لگے۔بندگانِ خدا کو نئی زندگی مل گئی ۔ ویران بستیاں اور شہر پھر سے آباد ہوگئے ۔ مغرب میں طریقت کے آثار مٹ چکے تھے اور انوار ماند پڑ چکے تھے ۔ آپ نے طریقت کی تجدید فرمائی اور بہت سے مشائخ کو خلافت سے نوازا ۔ عام مریدین کی تعداد کا تو شمار نہیں، خواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔ یہاں تک کہ آپ کے فیض یافتہ مریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پر متمکن ہوئے، اور اپنی اپنی ستعداد کے مطابق قربِ الہی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے ۔ ان میں سے شیخ ابو عبد اللہ محمد الصغیر السہیلی اور شیخ ابو محمد عبد الکریم المنذری رحمہم اللہ تعالیٰ معروف زمانہ ہوئے ہیں ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: شیخ الاسلام، قطبِ زمانہ، صاحبِ دلائل الخیرات ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید محمد بن سید عبد الرحمن بن سید ابی بکر بن سید سلیمان بن سید سعید بن یعلی بن یخلف بن موسیٰ بن علی بن یوسف بن عیسیٰ بن عبد اللہ بن جندوز بن عبد الرحمن بن محمد بن احمد بن حسان بن اسمعیل بن جعفر بن عبداللہ کامل بن حسن مثنی بن حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
آپ کا خاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے سے تھا ۔ علاقائی قبائلی تعلق ’’ بربر ‘‘ قوم کے قبیلہ ’’جزولہ‘‘ کی شاخ ’’سملالہ‘‘ سے ہے ۔ اس لیے آپ کو ’’جزولی، اور سملالی‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ کا مسکن سوسِ اقصیٰ (مراکش) تھا ۔ (نور نور چہرے:319)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 807ھ مطابق 1404ء کو بمقام ’’سوس اقصیٰ‘‘ مراکش میں ہوئی۔(ایضا: 319) تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و متمول خاندان سے تھا۔اس لیے شروع سے ہی آپ کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی گئی۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لئے شہرِ ’’فاس‘‘ میں رہائش اختیار کی اور وہاں ’’مدرسۃ الصفارین‘‘ میں داخل ہو گئے ۔ جہاں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ موجود ہے، اور لوگ برکتیں حاصل کرتے ہیں ۔ یہیں پر آپ نے علامہ ابنِ حاجب کی تصانیف اور مدونہ کبریٰ وغیرہ کتب کو زبانی یاد کہا ۔ اسی طرح آپ کو مذہبِ مالکیہ کی اہم کتب بھی یاد تھیں۔
بیعت و خلافت:
شیخ جزولی نے فاس سے ساحلی علاقہ کا رخ کیا ۔ وہاں آپ کی ملاقات یکتائے روزگار ، عارفِ کامل شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ امغار سے ہوئی ۔ سلسلہ عالیہ شاذلیہ میں ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
فنافی المصطفیٰ، سند الاصفیاء، سید الاتقیاء، عارفِ کامل، قطب الاقطاب، وحید الدہر، فرید العصر، فقیہ، امام، علامہ، شیخ الاسلام ابو عبد اللہ سید محمد بن سلیمان جزولی علیہ الرحمہ ـ آپ علیہ الرحمہ کا شمار علماءِ عاملین، اور آئمۂ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ آپ کو حسب ونسب کے ساتھ ساتھ علم عمل کا شرف بھی حاصل تھا ۔ آپ ربانی احوال، بلند مقامات، عالی ہمت، پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے ۔ آپ کا طریقہ عمدہ تھا۔علم لدنی، اور اسرار ربانی کے حامل اور بڑے خرقِ عادت امور میں صاحبِ تصرفات وکرامات تھے ۔ آپ جامع مانع قطب، نافع غوث، وارثِ علوم نبوی، اور صاحبِ اسرارِ ربانی تھے۔
آپ علیہ الرحمہ چودہ سال تک خلوت گزینی اختیار کرکے عبادت و ریاضت اور منازل سلوک طے کرنے میں مصروف رہے ۔ پھر آسفی (مراکش کا ایک شہر) میں مخلوقِ خدا کی رہنمائی اور مریدین کی تربیت کا کام شروع کیا ۔ بے شمار لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔آپ کا شہرہ عام ہو گیا ۔ حیرت انگیز اور بڑی بری کرامات ظاہر ہوئیں ۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ پر سختی سے کار بند تھے ۔ کثرت سے اوراد و وظائف ادا کرتے تھے ۔ دن رات میں ڈیڑھ قرآن پاک (ایک مکمل قرآن اور نصف قرآن) کی تلاوت کرتے، بسم اللہ شریف کا وظیفہ پڑھتے اور شب و روز میں دو مرتبہ دلائل الخیرات ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔ عوام الناس کے بے پناہ ہجوم کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے حاکمِ وقت نے آسفی سے نکال دیا ۔ چنانچہ آپ آفرغال تشریف لے گئے ۔ اور پھر سے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کر دیا۔
علامہ فاسی فرماتے ہیں:
آپ کی برکت سے انوار جگمگا اٹھے۔ اسرار آشکار ہونے لگے۔ فقراء، ہر طرف پھیل گئے۔ بلادِ مغرب میں اللہ جل شانہ کے ذکر اور سرورِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں صلوٰۃ و سلام کے نغمے گونجنے لگے ۔ آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی، اور ہر طرف آپ کے مریدین دکھائی دینے لگے۔بندگانِ خدا کو نئی زندگی مل گئی ۔ ویران بستیاں اور شہر پھر سے آباد ہوگئے ۔ مغرب میں طریقت کے آثار مٹ چکے تھے اور انوار ماند پڑ چکے تھے ۔ آپ نے طریقت کی تجدید فرمائی اور بہت سے مشائخ کو خلافت سے نوازا ۔ عام مریدین کی تعداد کا تو شمار نہیں، خواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی ۔ یہاں تک کہ آپ کے فیض یافتہ مریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پر متمکن ہوئے، اور اپنی اپنی ستعداد کے مطابق قربِ الہی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے ۔ ان میں سے شیخ ابو عبد اللہ محمد الصغیر السہیلی اور شیخ ابو محمد عبد الکریم المنذری رحمہم اللہ تعالیٰ معروف زمانہ ہوئے ہیں ۔
❤1
امام جزولی علیہ الرحمہ خوش عقیدہ بزرگ ہیں۔ جن کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے ۔ اللہ جل شانہ کی عظمت و الوہیت کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے علم ، اختیارات، کمالات، تصرفات، معجزات، آپ کی عند اللہ وجاہت و محبوبیت، آپ کا حاضر و ناضر ہونا، آپ کی شفاعت، اسی طرح توسل و استعانت، اور آپ ﷺ کی عظمت و شوکت کو بڑے حسین پیرائے میں بیان کیا ہے ۔
ایک مقام پر بطورِ تحدیثِ نعمت اپنی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں: ’’ونفیت عن قلبی فی ھذا النبی الکریم الشک والارتیاب، وغلبت حبہ عندی، علی حب جمیعِ الاقرباء والاحباء‘‘۔ اے اللہ! تونے میرے دل کو اس نبی کریم ﷺ کے بارے میں ہر قسم کے شک وشبہ سے دور رکھا ہے، اور آپ ﷺ کی محبت کو میرے نزدیک تمام رشتے داروں اور پیاروں کی محبت پر غالب کر دیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات:6) ـ
تاریخِ وصال:
شیخ جزولی کی مقبولیت، شہرت، علم و فضل، اور طریقت میں اعلیٰ مقام کی وجہ سے حاسدین کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا ۔ انہوں نے آپ کو زہر دے دیا ۔ جس سے آپ کو درجۂ شہادت نصیب ہوا۔ یہ بھی قول ہے کہ حاکمِ وقت نے ہی زہر دلوایا تھا ۔
چنانچہ 16 ربیع الاول 870ھ / مطابق 1465ء کو نمازِ فجر ادا کرتے ہوئے، حالتِ سجدہ میں واصل باللہ ہوئے ۔
اسی روز بعد نمازِ ظہر آپ کو ’’سوس‘‘ میں آپ کی بنا کردہ مسجد کے صحن میں دفن کیا گیا ۔ (نور نور چہرے:322)
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا:
آپ کے وصال کے ستتر (77) سال بعد سلطان احمد الاعرج نے آپ کے جسم اطہر کو سوس سے لے جاکر مراکش کے قبرستان ’’ریاض العروس‘‘ میں دفن کر دیا، اور آپ کے مزار پر گنبد تعمیر کرایا۔ ستتر سال بعد جب آپ کو قبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسم ترو تازہ تھا۔جیسے آج ہی دفن کیا گیا ہو۔ اتنی طویل مدت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم متغیر نہ ہوا تھا ۔ آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حجامت بنائی ہو ۔
ایک شخص نے آپ کے چہرے کو انگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خون ہٹ گیا اور جب انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا ۔ جیسے زندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے ۔ اسی طرح پوری فضاء معطر ہو گئی۔ (جامع کرامات الاولیاء ج1، ص:276) ـ
دُورد شریف کی برکت سے کستوری کی خوشبو:
مراکش میں آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے ۔ مزار پر بڑے رعب و جلال کا سماں ہے ۔ لوگ زیارت کے لئے جوق در جوق حاضری دیتے ہیں، اور دلائل الخیرات کا بکثرت ورد ہوتا ہے ۔ آپ کی ساری عمر حضور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھتے، درود کی ترغیب دیتے، اور درود شریف کی برکت سے آپ کی قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو آتی ہے ۔ (صاحبِ دلائل)
تصانیف:
خلقِ خداکی ہدایت و راہنمائی کے ساتھ ساتھ آپ نے مریدین کی تربیت کےلئے تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا۔
1 تصوف میں ایک کتاب اس کا نام معلوم نہیں۔ 2۔ حزب سبحان الدائم لایزول، المعروف بحزب الجزولی۔اس حزب کی اہمیت کا اندازہ شیخ جزولی علیہ الرحمہ سے منسوب اس قول سے لگایا جا سکتا ہے: ’’وما واظب علیہ الا ولی و مبارک‘‘۔ اسے پابندی سے وہی پڑھے گا، جو ولی اور صاحبِ خیر و برکت ہوگا ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات) ۔ 3۔ حزب الفلاح۔
4۔ دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ علی النبی المختار۔ امام جزولی علیہ الرحمہ کی اس شہرہ آفاق تالیف کو جو قبولیتِ عام نصیب ہوئی وہ اسی کا خاصہ ہے۔ اس کتاب کی غرض و غایت امام جزولی خود بیان فرماتے ہیں: ابتغاء لمرضات اللہ تعالی ، و محبۃ فی رسولہ الکریم سیدنا محمد ﷺ ۔
یعنی اس کتاب کے مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی رضا، اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت نصیب ہو۔ (مقدمہ دلائل الخیرات)۔
سببِ تالیفِ دلائل الخیرات شریف:
عارف باللہ شیخ احمد صاوی علیہ الرحمہ نے ’’ صلوات الشیخ الدردیر ‘‘ کی شرح میں بیان کیا، اور علامہ نبہانی کے شیخ، علامہ حسن عددی نے دلائل الخیرات کا سببِ تالیف بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ايک مرتبہ حضرت شیخ جَزولی علیہ الرحمہ وُضُو کرنے کے لئے ایک کنویں پر گئے مگر اُس سے پانی نکالنے کے لئے کوئی چيز پاس نہ تھی ۔
شیخ پريشان تھے کہ کیا کريں؟ اتنے ميں ايک اونچے مکان سے بچی نے ديکھا تو کہنے لگی: ’’یا شیخ! آپ وہی ہيں نا،جن کی نيکیوں کا بڑا چَرچا ہے، اِس کے باوجود آپ پريشان ہيں کہ کنويں سے پانی کس طرح نکالوں! ’’ پھراس بچی نے کنويں ميں اپنا لُعاب ڈال ديا۔ تھوڑی ہی دیر میں کنويں کا پانی بڑھنا شروع ہوگیا حتی کہ کناروں سے نکل کر زمين پر بہنے لگا ۔
شيخ نے وضو کیا اور اس بچی سے کہنے لگے : ’’ميں تمہيں قسم دے کر پُوچھتا ہوں کہ تم نے يہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟ ’’اس بچی نے جواب دیا: ’’ميں رسولِ کریم ﷺ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتی ہوں۔‘‘ يہ سُن کر شيخ سلیمان جزولی علیہ الرحمہ نے قَسَم کھائی کہ ميں دربارِ رِسالت ميں پيش کرنے کے لئے درود و سلام کی کتاب ضرور لکھوں گا ۔ (نور نور چہرے، ص: 324) ـ
ایک مقام پر بطورِ تحدیثِ نعمت اپنی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں: ’’ونفیت عن قلبی فی ھذا النبی الکریم الشک والارتیاب، وغلبت حبہ عندی، علی حب جمیعِ الاقرباء والاحباء‘‘۔ اے اللہ! تونے میرے دل کو اس نبی کریم ﷺ کے بارے میں ہر قسم کے شک وشبہ سے دور رکھا ہے، اور آپ ﷺ کی محبت کو میرے نزدیک تمام رشتے داروں اور پیاروں کی محبت پر غالب کر دیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات:6) ـ
تاریخِ وصال:
شیخ جزولی کی مقبولیت، شہرت، علم و فضل، اور طریقت میں اعلیٰ مقام کی وجہ سے حاسدین کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا ۔ انہوں نے آپ کو زہر دے دیا ۔ جس سے آپ کو درجۂ شہادت نصیب ہوا۔ یہ بھی قول ہے کہ حاکمِ وقت نے ہی زہر دلوایا تھا ۔
چنانچہ 16 ربیع الاول 870ھ / مطابق 1465ء کو نمازِ فجر ادا کرتے ہوئے، حالتِ سجدہ میں واصل باللہ ہوئے ۔
اسی روز بعد نمازِ ظہر آپ کو ’’سوس‘‘ میں آپ کی بنا کردہ مسجد کے صحن میں دفن کیا گیا ۔ (نور نور چہرے:322)
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا:
آپ کے وصال کے ستتر (77) سال بعد سلطان احمد الاعرج نے آپ کے جسم اطہر کو سوس سے لے جاکر مراکش کے قبرستان ’’ریاض العروس‘‘ میں دفن کر دیا، اور آپ کے مزار پر گنبد تعمیر کرایا۔ ستتر سال بعد جب آپ کو قبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسم ترو تازہ تھا۔جیسے آج ہی دفن کیا گیا ہو۔ اتنی طویل مدت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم متغیر نہ ہوا تھا ۔ آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حجامت بنائی ہو ۔
ایک شخص نے آپ کے چہرے کو انگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خون ہٹ گیا اور جب انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا ۔ جیسے زندوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے ۔ اسی طرح پوری فضاء معطر ہو گئی۔ (جامع کرامات الاولیاء ج1، ص:276) ـ
دُورد شریف کی برکت سے کستوری کی خوشبو:
مراکش میں آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے ۔ مزار پر بڑے رعب و جلال کا سماں ہے ۔ لوگ زیارت کے لئے جوق در جوق حاضری دیتے ہیں، اور دلائل الخیرات کا بکثرت ورد ہوتا ہے ۔ آپ کی ساری عمر حضور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھتے، درود کی ترغیب دیتے، اور درود شریف کی برکت سے آپ کی قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو آتی ہے ۔ (صاحبِ دلائل)
تصانیف:
خلقِ خداکی ہدایت و راہنمائی کے ساتھ ساتھ آپ نے مریدین کی تربیت کےلئے تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا۔
1 تصوف میں ایک کتاب اس کا نام معلوم نہیں۔ 2۔ حزب سبحان الدائم لایزول، المعروف بحزب الجزولی۔اس حزب کی اہمیت کا اندازہ شیخ جزولی علیہ الرحمہ سے منسوب اس قول سے لگایا جا سکتا ہے: ’’وما واظب علیہ الا ولی و مبارک‘‘۔ اسے پابندی سے وہی پڑھے گا، جو ولی اور صاحبِ خیر و برکت ہوگا ۔ (صاحبِ دلائل الخیرات) ۔ 3۔ حزب الفلاح۔
4۔ دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ علی النبی المختار۔ امام جزولی علیہ الرحمہ کی اس شہرہ آفاق تالیف کو جو قبولیتِ عام نصیب ہوئی وہ اسی کا خاصہ ہے۔ اس کتاب کی غرض و غایت امام جزولی خود بیان فرماتے ہیں: ابتغاء لمرضات اللہ تعالی ، و محبۃ فی رسولہ الکریم سیدنا محمد ﷺ ۔
یعنی اس کتاب کے مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی رضا، اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت نصیب ہو۔ (مقدمہ دلائل الخیرات)۔
سببِ تالیفِ دلائل الخیرات شریف:
عارف باللہ شیخ احمد صاوی علیہ الرحمہ نے ’’ صلوات الشیخ الدردیر ‘‘ کی شرح میں بیان کیا، اور علامہ نبہانی کے شیخ، علامہ حسن عددی نے دلائل الخیرات کا سببِ تالیف بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ايک مرتبہ حضرت شیخ جَزولی علیہ الرحمہ وُضُو کرنے کے لئے ایک کنویں پر گئے مگر اُس سے پانی نکالنے کے لئے کوئی چيز پاس نہ تھی ۔
شیخ پريشان تھے کہ کیا کريں؟ اتنے ميں ايک اونچے مکان سے بچی نے ديکھا تو کہنے لگی: ’’یا شیخ! آپ وہی ہيں نا،جن کی نيکیوں کا بڑا چَرچا ہے، اِس کے باوجود آپ پريشان ہيں کہ کنويں سے پانی کس طرح نکالوں! ’’ پھراس بچی نے کنويں ميں اپنا لُعاب ڈال ديا۔ تھوڑی ہی دیر میں کنويں کا پانی بڑھنا شروع ہوگیا حتی کہ کناروں سے نکل کر زمين پر بہنے لگا ۔
شيخ نے وضو کیا اور اس بچی سے کہنے لگے : ’’ميں تمہيں قسم دے کر پُوچھتا ہوں کہ تم نے يہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟ ’’اس بچی نے جواب دیا: ’’ميں رسولِ کریم ﷺ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتی ہوں۔‘‘ يہ سُن کر شيخ سلیمان جزولی علیہ الرحمہ نے قَسَم کھائی کہ ميں دربارِ رِسالت ميں پيش کرنے کے لئے درود و سلام کی کتاب ضرور لکھوں گا ۔ (نور نور چہرے، ص: 324) ـ
❤1
دلائل الخیرات کی مقبولیت:
شیخ قیطونی اس کی مقبولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دلائل الخیرات حضور نبی کریم ﷺ پر درود کے متعلق ایک ایسی کتاب ہے، جو اللہ کی نشانیوں میں ایک بڑی نشانی ہے ۔ جسے تمام روئے زمین پر بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ اسی طرح حاجی خلیفہ نے بھی اس کی شرق و غرب میں مقبولیت کا تذکرہ کیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل 9، بحوالہ کشف الظنون جلد1، ص759) ۔
اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض خوش نصیبوں کو براہِ راست حضور ﷺ نے اس کتاب کی اجازت عطاء فرمائی۔ شیخ صدیق فلالی جو ایک امی بزرگ تھے، دلائل الخیرات حفظ تھی۔ انہیں خواب میں صاحبِ علم ماکان وما یکون ﷺ نے دلائل الخیرات پڑھائی تھی۔ (ایضا:10)
سیدی محمد مغربی تلمسانی، اور سیدی محمد اندلسی رحمہم اللہ نے آپ ﷺ سے اجازت حاصل کی ۔ مشائخِ عظام نہ صرف دلائل الخیرات کو بطورِ ورد پڑھتے رہے ہیں، بلکہ اپنے مشائخ سے بطورِ سند باقاعدہ اجازت بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایسے حضرات ’’شیخ الدلائل‘‘ کے محترم لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔
طریقہ و آداب:
شرفِ ملت حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’بندۂ مؤمن کے لئے اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر الہی اور اتباعِ سنت کے بعد سب سے زیادہ اہم وظیفہ درود ِ پاک ہے، جس کے دنیاوی اور اخروی بے شمار فوائد ہیں۔دلائل الخیرات کی برکتیں حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ انسان، اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لائے ۔ سرکارِ دو عالم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہو، بندوں کے حقوق ادا کرے، مسواک کے ساتھ وضو کرے، پاک صاف کپڑے پہنے،خوشبو لگائے،قبلہ رخ بیٹھ کر پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف پڑھے‘‘۔ یہ کتاب آٹھ حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ہر حصے کو ’’حزب‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے، تو ہر روز پوری دلائل الخیرات پڑھی جائے۔ نہیں تو دو دن یا چار دن میں پڑھی جائے۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہفتے میں مکمل کی جائے۔ پیر کے دن ’’فصل کیفیۃ الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ‘‘ شروع کی جائے ۔ آئندہ پیر کو آٹھواں حزب پڑھ کر اسی دن پہلا حزب پڑھا جائے۔ (نور نور چہرے: 330) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syekh-abi-abdillah-muhammad-bin-sulaiman-al-jazuli
شیخ قیطونی اس کی مقبولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دلائل الخیرات حضور نبی کریم ﷺ پر درود کے متعلق ایک ایسی کتاب ہے، جو اللہ کی نشانیوں میں ایک بڑی نشانی ہے ۔ جسے تمام روئے زمین پر بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ اسی طرح حاجی خلیفہ نے بھی اس کی شرق و غرب میں مقبولیت کا تذکرہ کیا ہے ۔ (صاحبِ دلائل 9، بحوالہ کشف الظنون جلد1، ص759) ۔
اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض خوش نصیبوں کو براہِ راست حضور ﷺ نے اس کتاب کی اجازت عطاء فرمائی۔ شیخ صدیق فلالی جو ایک امی بزرگ تھے، دلائل الخیرات حفظ تھی۔ انہیں خواب میں صاحبِ علم ماکان وما یکون ﷺ نے دلائل الخیرات پڑھائی تھی۔ (ایضا:10)
سیدی محمد مغربی تلمسانی، اور سیدی محمد اندلسی رحمہم اللہ نے آپ ﷺ سے اجازت حاصل کی ۔ مشائخِ عظام نہ صرف دلائل الخیرات کو بطورِ ورد پڑھتے رہے ہیں، بلکہ اپنے مشائخ سے بطورِ سند باقاعدہ اجازت بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایسے حضرات ’’شیخ الدلائل‘‘ کے محترم لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔
طریقہ و آداب:
شرفِ ملت حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’بندۂ مؤمن کے لئے اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات، تلاوتِ قرآنِ کریم، ذکر الہی اور اتباعِ سنت کے بعد سب سے زیادہ اہم وظیفہ درود ِ پاک ہے، جس کے دنیاوی اور اخروی بے شمار فوائد ہیں۔دلائل الخیرات کی برکتیں حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ انسان، اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لائے ۔ سرکارِ دو عالم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہو، بندوں کے حقوق ادا کرے، مسواک کے ساتھ وضو کرے، پاک صاف کپڑے پہنے،خوشبو لگائے،قبلہ رخ بیٹھ کر پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف پڑھے‘‘۔ یہ کتاب آٹھ حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ہر حصے کو ’’حزب‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطاء فرمائے، تو ہر روز پوری دلائل الخیرات پڑھی جائے۔ نہیں تو دو دن یا چار دن میں پڑھی جائے۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہفتے میں مکمل کی جائے۔ پیر کے دن ’’فصل کیفیۃ الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ‘‘ شروع کی جائے ۔ آئندہ پیر کو آٹھواں حزب پڑھ کر اسی دن پہلا حزب پڑھا جائے۔ (نور نور چہرے: 330) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syekh-abi-abdillah-muhammad-bin-sulaiman-al-jazuli
scholars.pk
Hazrat Syekh Abi Abdillah Muhammad Bin Sulaiman Al-Jazuli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1