🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-03-1445 ᴴ | 01-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ مدرسے کے لئے وقف زمین پر مسجد بنانا جنازے کے بعد دعا مانگنے کا حکم بچہ پیدا ہو کر فوت ہو جائے تو اس کا تیجہ کرنا بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرنے کا حکم داڑھی مونڈنے یا مٹھی سے کم کرنے کی اجرت درندے جانوروں کے متعلق فقہی…
15-03-1445 ᴴ | 01-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نعت خوانوں پر پیسے اڑانے کا حکم
کنپٹی پر موجود داڑھی کے بال کاٹنا
ہاتھ پاؤں میں بلا وجہ دھاگہ باندھنا
مرد کا ہاتھوں میں کڑے پہننا / کڑا
عورت کا شوہر کے لئے کھانا بنانا
کسی غیر مسلم سے تعلیم حاصل کرنا
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا
دم کیا ہوا دھاگہ ڈوری ہاتھ میں باندھنا
قرآن شریف صرف ترجمہ سے پڑھنا
عورت کا مخصوص ایام میں موئے مبارک کی زیارت کرنا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الرضا قرآن و فقہ اکیڈمی آن لائن
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ ابو عبد اللہ عثمان مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے اور حضرت حسین بن منصور حلّاج کے استاد و مرشد تھے، حضرت ابو سعید قدس سرہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔

آپ علوم حقائق کے عالم تھے، اسرار الٰہیہ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ کی باتیں بڑی باریک اور پُر اسرار ہوا کرتی تھیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، لوگوں نے آپ کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر دیا، مکہ معظّمہ سے باہر نکال دیا، آپ جدہ میں آ رہے یہی آپ کا مولد اور مسکن تھا، آپ اس شہر کے قاضی مقرر ہوئے، بزرگانِ تصوّف کہتے ہیں کہ حضرت منصور حلّاج آپ کی رنجیدگی کا نشانہ بنے اور آپ کی ناراضگی سے ابتلا میں پڑے تھے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۲۹۶ھ میں بغداد میں ہوئی، ایک اور قول میں حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے سال وفات ۲۹۷ھ میں آپ کا وصال ہوا تھا۔

جناب شیخ عمر و ابن عثمان
چو از دار الفناء عزم سفر کرد
منور نامور سالِ وصالش
۲۹۶ھ ۲۹۶ھ ۲۹۶ھ

رئیس اولیاء قطب معلیٰ
بصد ا غزاز در فردوس اعلیٰ
دگر ہم راہنما گردود ہویدا

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-abdullah-usman-makki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ سعد الدین چشتی خیرآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شیخ مینار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حدودِ شریعت کی حفاظت اور آداب طریقت کی نگہداشت میں عالی ہمت رکھتے تھے، آپ نے دنیا سے الگ رہ کر مجروانہ زندگی بسر کی، اپنے مُرشد کی طرح سماع کے بہت رسیا تھے ـ

آپ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، عالم نحو، فقہ اور اصول میں آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں، جیسے 1۔ شرح مصباح 2۔ شرح کافیہ 3۔ شرح حسامی 4۔ شرح بزدوی وغیرہ 5۔ رسالہ مکیہ کی شرح مجمع السلوک، خزانہ جلالی کے طرز پر لکھی جس میں مخدوم جہانیاں کے ملفوظات کو جمع کیا ہے اور شیخ مینا کے بہت سے ملفوظات و حالات کو قلم بند کیا ہے، جب شیخ مینا کا ذکر کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ میرے مُرشِد کے مُرشِد نے یوں فرمایاتو اس سے شیخ قوام الدین لکھنؤی مراد ہوتے ہیں ۔

شیخ سعد الدین نے ظاہری علوم کی تحصیل و تکمیل مولانا اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ اور عالم تھے، حضرت شیخ مینا نے بھی عوارف المعارف مولانا اعظم ہی سے پڑھی تھی، ایک دفعہ آپ نے اپنے مُرشِد سے عرض کیا کہ مقصود تو آپ کی خدمت ہے اور پڑھنے سے مقصود تصحیح الفاظ ہوتی ہے سو وہ ہو چکی اب مولویوں کے پاس رہنے سے کیا فائدہ، آپ نے فرمایا کہ بابا تمہاری دیانتداری تو یہ ہے کہ علم ہوتے ہوئے بھی علم کا دعویٰ نہ کی جائے اور اپنے علم پر اکتفا نہ کیا جائے ۔

آپ سے کثرت سے لوگ مرید ہوا کرتے تھے چنانچہ شیخ صفی الدین جو صاحب حال بزرگ تھے اور شیخ مبارک سندیلوی جو احکامِ شریعت و آداب طریقت میں کامل تھے اور شیخ سالار سے بھی تربیت حاصل کی تھی ۔

سید صفی الدین انبالہ کے رہنے والے تھے، جو درویشوں کے اوصاف سے موصوف اور انہیں کے احوال میں متحقق تھے اور بہت پوشیدہ رہا کرتے تھے، یہ شیخ مبارک سندیلوی کے مرید تھے اور شیخ سعد الدین کے مریدوں میں سے ایک شیخ اللہ دیا تھے جو بہت بوڑھے اور معمر تھے، آپ اپنے والی عہد کے حکم سے ان دیار میں تشریف لائے اور تکریم و تعظیم کے ساتھ مخصوص ہوئے، آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہوا ـ

وصال:
۹۹۳ھ میں اس دُنیائے ناپائیدار سے عالم پائیدار کی طرف چلے گئے، اللہ عَزَوَّجَل ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

( اخبار الاخیار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saaduddin-chishti-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد عمر چنا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا محمد عمر چنہ گوٹھ ابراہیم چنہ نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۲۸۸ھ کو تولد ہوئے ۔ (مہران سوانح نمبر) سوانح میں نام عمر الدین ہے جب کہ مشاہیر دادو میں محمد عمر ہے ۔ واللہ اعلم ۔

تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عمر نے ابتدائی تعلیم مولانا خیر محمد فیروز شاہی کے پاس حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے علامۃ الزمان حضرت مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی ؒ کے ہاں تعلیم حاصل کیاور مختصر مدت حضرت مولانا محمد آگرو کی خدمت میں رہے اور آخر میں حضرت علامہ قمر الدین اندھڑ سہروردی ( گھوٹکی ) کی خدمت میں رہ کر نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔

درس و تدریس:
مولانا محمد عمر فارغ التحصیل ہونے کے بعد عمر کا نصف حصہ لاڑ کے طرف مختلف مقامات و بستیوں میں تعلیم دینے میں بسر کیا۔گوٹھ رتو کوٹ تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ میں ایک عرصہ تک درس دیا ۔ تدریس کا مشغلہ آب و تاب سے جاری رکھا۔ ان علاقوں میں تعلیم قرآن عا م کی ، بچے بڑے بوڑھے سبھی مولانا کے شاگرد تھے ۔

بیعت:
ظاہری علوم میں دسترس رکھنے کے بعد باطنی علوم کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کی تکمیل کیلئے مرد کامل اکمل ، غوث الزمان ، استاد العلماء والفضلاء ، مفتی اعظم حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس ( صاحب فتاویٰ جنگ ) کے حضور حاضر ہوئے اور سلسلۂ قادریہ میں دست بیعت ہو کر تھوڑے دنوں بعد خلافت سے سر فراز ہوئے ۔

آپ انتہائی درجے کے متقی پرہیز گار تھے جس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ کے ہاتھ پر کافی بندگان خدا مرید ہو کر فیضیاب ہوئے ۔

تلامذہ:
آپ کے بعض مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں :
٭ فقیر محمد ابراہیم ہنگورجہ چیف ایڈیٹر روز نامہ مہران حیدرآباد
٭ فقیر حاجی جمال الدین ہنگورجہ
٭ مولوی محمد اڑھوڑ گوٹھ احمد شاہ گرو ہڑی تحصیل کھپرو
٭ مولوی محمد یعقوب ہنگورجہ کھپرو
٭ مولوی عبدالحلیم پہنور میہڑ
٭ مولوی محمد علی لانڈر سانگھڑ
٭ مولوی غلام محمد ببر گوٹھ لدھان نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولوی نجم الدین ریگستانی ضلع تھر پارکر

اولاد:
مولانا محمد عمر چنہ کر رب کریم نے تین بیٹے عطا کئے تھے جو کہ بفضلہ تعالیٰ علم دین کے زیور سے آراستہ ہیں ۔

۱) مولوی محمد
۲) مولوی نصیرالدین
۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولوی حافظ محمد عیسیٰ چنہ ، مولانا محمد عمر کے پوتے ہیں ، مدرسہ عربیہ اکبر یہ دارالقرآن جامع مسجد میہڑ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آج تک مادر علمی میں تدریس کے فرائض انجام دے دہے ہیں ۔

وصال:
مولانا محمد عمر چنہ نے ۱۶، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۲، نومبر ۱۹۵۴ء کو ۸۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-channa
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ ابو المعالی قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید خیر الدین محمد ۔ کنیت: ابو المعالی ۔ لقب: اسد الدین ۔ تخلص: اشعار میں معالی کے علاوہ ’’ غربتی ‘‘ بھی بطورِ تخلص استعمال کرتے تھے ۔ لیکن شاہ ابو المعالی کے نام سے زیادہ معروف ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ ابو المعالی قادری بن سید رحمت اللہ بن سید فتح اللہ ۔ علیہم الرحمہ ۔ شیخ المشائخ حضرت داؤد کرمانی علیہ الرحمہ آپ کے حقیقی چچا تھے ۔ آپ ان کے داماد اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ بزرگوں کا وطن ’’ کرمان ‘‘ تھا ۔ خاندانی تعلق ساداتِ کرمان سے ہے ۔ سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی علیہ الرحمہ پر منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79 / تذکرہ اولیائے پاک و ہند، ص: 225) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 10 ذو الحجہ 960ھ / مطابق 16 نومبر 1553ء کو ’’ شیر گڑھ ‘‘ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت شاہ ابوالمعالی لاہوری علیہ الرحمہ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو صدیوں سے علم و فضل میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے والدِ محترم سید رحمت اللہ علیہ الرحمہ ایک عالمِ متبحر و عارف باللہ تھے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ تمام علومِ منقولات و معقولات انہیں سے حاصل کیے ۔ اس وقت کے تمام مروجہ علوم کے ماہر کامل اور عربی و فارسی ادب کے بہترین ادیب تھے ۔

بیعت و خلافت:
علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد سلسلۂ عالیہ قادریہ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے چچا شیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ تیس سال کے مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت عطاء فرمائی ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 79) ـ

سیرت و خصائص:
صاحبِ اسرار و معارفِ یزدانی، شہبازِ لامکانی، حضرت شاہ ابو المعالی قادری لاہوری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخِ کامل اور عالمِ اکمل تھے ۔ آپ کی ذات والا صفات سے دینِ اسلام اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا ۔ خرقۂ خلافت کے بعد شیخ کی طرف سے لاہور میں رشد و ہدایت پر مامور کیے گئے ۔ چنانچہ شیر گڑھ سے لاہور تک جہاں قیام فرمایا وہاں سرائے، کنواں، تالاب اور باغ لگواتے گئے ۔

آج بھی راستے میں ایسے مقامات و سرائے اور مکانات و بستیاں موجود ہیں جو آپ کے نام سے ہیں ۔ جب آپ لاہور میں تشریف لائے تو مخلوقِ خدا جوق در جوق حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگی، اور آپ نے بڑی قبولیت حاصل کی ۔

آپ کی بڑی کرامت یہ تھی کہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا اس کو اسی رات محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دیدار نصیب ہوتا ۔

علمی خدمات:
آپ عربی و فارسی ادب کے بلند پایہ ماہر تھے ۔ آپ نے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کے لئے صوفیانہ طرز کی کتب تحریر فرمائیں ۔ جن کا مقصد لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور حقائق سے روشناس کرانا تھا ۔ آپ کی خانقاہ شریف ایک علمی درسگاہ تھی جہاں قال اللہ، و قال رسول اللہ کی صدائیں ہر وقت بلند رہتی تھیں ۔

آپ ذوقِ شعری بھی رکھتے تھے ۔ زیادہ تر اشعار سید الانبیاء ﷺ اور سید الاولیاء کی شان میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے امام المحققین حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی کو مشکوٰۃ کی شرح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا اس کو جلد پورا کرو ۔

پھر اسی خط میں لکھا کہ ’’ ان شاء اللہ کتابے شود کہ اہلِ عالَم ہمہ از آں مستفید شوند ‘‘ ۔ پھر مشورہ دیا کہ شرح میں جا بجا اشعار درج کیے جائیں ۔ تاکہ طرزِ بیاں دل چسپ اور اثر انگیز ہو ۔

فضل و کمال:
آپ صاحبِ کشف و کرامات تھے، حضرت غوث الاعظم کے سچے عاشق، اور اپنے پیر و مرشد سے والہانہ عقیدت تھی ۔ بلکہ آپ فنافی الشیخ کے درجے پر فائز تھے ۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ عارفِ حق آگاہ حضرت ملا شاہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم اپنے استاد مُلا نعمت اللہ کے ہمراہ جو عالمِ باعمل تھے آپ کی زیارت کے لئے گئے ۔ ہم سب حاضرِ خدمت تھے، کہ ایک شخص تسبیح آپ کے لئے لایا ۔ آپ نے وہ قبول فرمالی اور اپنے سامنے رکھ دی ۔ میرے دل میں گزرا اگر آپ کو کشفِ قلوب حاصل ہے تو یہ تسبیح مجھے عنایت فرما دیں ۔

جب میں رخصت کے لیے کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھے اپنے پاس بلایا ۔ فرمایا: اپنے حسبِ مدّعا یہ تسبیح لے لو ۔ اگر ہو سکے تو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کرنا ۔ تمہیں اور لانے والے دونوں کو ثواب ہوگا ۔

اسی طرح صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں: مولانا اخوند نعمت اللہ فرماتے تھے کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضرت غوث الاعظم سے ارادت و عقیدت رکھتا ہوں ۔ یقیناً وہ بھی میری اس ارادت مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں اور میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی سرپوشی کروں گا ۔
👍1
رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں، سر ننگا ہے ۔ اسی وقت حضرت غوث الثقلین تشریف لائے ۔ اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ پگڑی لے لو ۔ ہم تیرے اس حال سے خبر دار تھے کہ تو ننگے سر کھڑا ہے ۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ تیرا سر ڈھانپ دیں ۔

صبح مجھے حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے پاس بلایا اور سفید دستار مجھے عنایت کرکے فرمایا: یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرت غوث الاعظم نے تجھے دی ہے ۔ (سفینۃ الاولیاء، ص:245) ـ

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی عقیدت: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی آپ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ۔ شیخ محقق نے آپ کا ذکرِ خیر جابجا فرمایا ہے ۔ حضرت شیخ محقق نے فتوح الغیب کی شرح آپ کے اصرار پر لکھی ۔ اس کے خاتمے پر حضرت شاہ ابو المعالی کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے:

’’ اسد الدین شاہ ابو المعالی کہ شیر بیشۂ جلالت، و سرہنگِ دیوانِ قدرت، واز والہان ِ آگاہ، و عاشقانِ درگاہِ قادریہ است ‘‘ ۔

اسی طرح اخبار الاخیار میں حضرت شیخ داؤد کرمانی کے تذکرے میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے ۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی آپ کی روحانی سطوت کے اس درجہ معترف تھے کہ اپنے خانگی معاملات ان سے بیان فرماتے، اور ان سے راہنمائی لیتے، اور دعاؤں کی التجا کرتے ۔

ایک مکتوب میں حضرت شاہ ابوالمعالی سے اس طرح امداد کی التجاء کرتے ہیں: ’’ بالجملہ اندوہ و تنگ دلی از حد گزشتہ، وقتِ امداد و اعانت است، فریاد رسی می باید کرد، ورائے آغاثہ کبریٰ کہ منتہیٰ بجناب حضرت غوث الاعظم است می باید پوشید، وذرع داؤدی در برکرد۔الیٰ آخرہ‘‘۔

ایک خط میں آپ کی صحبتِ کیمیا اثر کے متعلق اپنے تاثر کو اس طرح ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ذوقِ صحبتِ ایشاں، درنگِ حال ایشاں کہ در ظاہر و باطن فقیر نشستہ است بتقریر بیان گنجائش ندارد‘‘ ۔

شیخ محقق کو جو آپ سے عقیدت و محبت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ لاہور میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو وہاں سے واپس ہونے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا ۔ شاہ صاحب سے والہانہ عقیدت و محبت کے تاثر کو ایک جگہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ گرفتار ما بہ ایں شہر لاہور کہ وطن گزاشتہ ایں جا می باشیم،سبب آں ایں است کہ کسے ہست کہ گرفتار اویم‘‘۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص: 84) ـ

تصانیف:
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے علاوہ ایک عالم بھی تھے ۔ آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔
1 تحفۃ القادریہ ۔
جس میں حضرت غوث الثقلین کے مناقب و کرامات کو جمع کیا ہے ۔

2 حلیہ ۔
سرورِ عالم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کیا ہے ۔

اس کا ایک اقتباس ملاحظہ پیشِ خدمت ہے: ’’ ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیر الانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین ۔

ترجمہ:
حضور اکرم ﷺ کا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا ۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیروسعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’ خیر الانام ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین ۔

3 باغِ ارم ۔
4 زعفرانِ زار ۔
5 رسالہ مونسِ جاں ۔

آپ کی ایک مشہور رباعی حسب ذیل ہے؂:

یارب بحقِ جمالِ عبدالقادر
یارب بحقِ کمالِ عبدالقادر

برحال ابوالمعالی زاروضعیف
رحمےکن ودہ وصالِ عبدالقادر

تاریخِ وصال:
16 ربیع الاول 1024ھ مطابق مئی 1615ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-khairuddin-abul-maali-qadri-karmani-lahori
1