Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-03-1445 ᴴ | 01-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ مدرسے کے لئے وقف زمین پر مسجد بنانا جنازے کے بعد دعا مانگنے کا حکم بچہ پیدا ہو کر فوت ہو جائے تو اس کا تیجہ کرنا بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرنے کا حکم داڑھی مونڈنے یا مٹھی سے کم کرنے کی اجرت درندے جانوروں کے متعلق فقہی…
15-03-1445 ᴴ | 01-10-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نعت خوانوں پر پیسے اڑانے کا حکم
کنپٹی پر موجود داڑھی کے بال کاٹنا
ہاتھ پاؤں میں بلا وجہ دھاگہ باندھنا
مرد کا ہاتھوں میں کڑے پہننا / کڑا
عورت کا شوہر کے لئے کھانا بنانا
کسی غیر مسلم سے تعلیم حاصل کرنا
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا
دم کیا ہوا دھاگہ ڈوری ہاتھ میں باندھنا
قرآن شریف صرف ترجمہ سے پڑھنا
عورت کا مخصوص ایام میں موئے مبارک کی زیارت کرنا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الرضا قرآن و فقہ اکیڈمی آن لائن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نعت خوانوں پر پیسے اڑانے کا حکم
کنپٹی پر موجود داڑھی کے بال کاٹنا
ہاتھ پاؤں میں بلا وجہ دھاگہ باندھنا
مرد کا ہاتھوں میں کڑے پہننا / کڑا
عورت کا شوہر کے لئے کھانا بنانا
کسی غیر مسلم سے تعلیم حاصل کرنا
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا
دم کیا ہوا دھاگہ ڈوری ہاتھ میں باندھنا
قرآن شریف صرف ترجمہ سے پڑھنا
عورت کا مخصوص ایام میں موئے مبارک کی زیارت کرنا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الرضا قرآن و فقہ اکیڈمی آن لائن
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ ابو عبد اللہ عثمان مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے اور حضرت حسین بن منصور حلّاج کے استاد و مرشد تھے، حضرت ابو سعید قدس سرہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔
آپ علوم حقائق کے عالم تھے، اسرار الٰہیہ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ کی باتیں بڑی باریک اور پُر اسرار ہوا کرتی تھیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، لوگوں نے آپ کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر دیا، مکہ معظّمہ سے باہر نکال دیا، آپ جدہ میں آ رہے یہی آپ کا مولد اور مسکن تھا، آپ اس شہر کے قاضی مقرر ہوئے، بزرگانِ تصوّف کہتے ہیں کہ حضرت منصور حلّاج آپ کی رنجیدگی کا نشانہ بنے اور آپ کی ناراضگی سے ابتلا میں پڑے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۶ھ میں بغداد میں ہوئی، ایک اور قول میں حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے سال وفات ۲۹۷ھ میں آپ کا وصال ہوا تھا۔
جناب شیخ عمر و ابن عثمان
چو از دار الفناء عزم سفر کرد
منور نامور سالِ وصالش
۲۹۶ھ ۲۹۶ھ ۲۹۶ھ
رئیس اولیاء قطب معلیٰ
بصد ا غزاز در فردوس اعلیٰ
دگر ہم راہنما گردود ہویدا
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-abdullah-usman-makki
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے اور حضرت حسین بن منصور حلّاج کے استاد و مرشد تھے، حضرت ابو سعید قدس سرہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے ۔
آپ علوم حقائق کے عالم تھے، اسرار الٰہیہ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ کی باتیں بڑی باریک اور پُر اسرار ہوا کرتی تھیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، لوگوں نے آپ کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر دیا، مکہ معظّمہ سے باہر نکال دیا، آپ جدہ میں آ رہے یہی آپ کا مولد اور مسکن تھا، آپ اس شہر کے قاضی مقرر ہوئے، بزرگانِ تصوّف کہتے ہیں کہ حضرت منصور حلّاج آپ کی رنجیدگی کا نشانہ بنے اور آپ کی ناراضگی سے ابتلا میں پڑے تھے ۔
وصال:
آپ کی وفات ۲۹۶ھ میں بغداد میں ہوئی، ایک اور قول میں حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے سال وفات ۲۹۷ھ میں آپ کا وصال ہوا تھا۔
جناب شیخ عمر و ابن عثمان
چو از دار الفناء عزم سفر کرد
منور نامور سالِ وصالش
۲۹۶ھ ۲۹۶ھ ۲۹۶ھ
رئیس اولیاء قطب معلیٰ
بصد ا غزاز در فردوس اعلیٰ
دگر ہم راہنما گردود ہویدا
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-abdullah-usman-makki
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Abdullah Usman Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ سعد الدین چشتی خیرآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ مینار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حدودِ شریعت کی حفاظت اور آداب طریقت کی نگہداشت میں عالی ہمت رکھتے تھے، آپ نے دنیا سے الگ رہ کر مجروانہ زندگی بسر کی، اپنے مُرشد کی طرح سماع کے بہت رسیا تھے ـ
آپ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، عالم نحو، فقہ اور اصول میں آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں، جیسے 1۔ شرح مصباح 2۔ شرح کافیہ 3۔ شرح حسامی 4۔ شرح بزدوی وغیرہ 5۔ رسالہ مکیہ کی شرح مجمع السلوک، خزانہ جلالی کے طرز پر لکھی جس میں مخدوم جہانیاں کے ملفوظات کو جمع کیا ہے اور شیخ مینا کے بہت سے ملفوظات و حالات کو قلم بند کیا ہے، جب شیخ مینا کا ذکر کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ میرے مُرشِد کے مُرشِد نے یوں فرمایاتو اس سے شیخ قوام الدین لکھنؤی مراد ہوتے ہیں ۔
شیخ سعد الدین نے ظاہری علوم کی تحصیل و تکمیل مولانا اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ اور عالم تھے، حضرت شیخ مینا نے بھی عوارف المعارف مولانا اعظم ہی سے پڑھی تھی، ایک دفعہ آپ نے اپنے مُرشِد سے عرض کیا کہ مقصود تو آپ کی خدمت ہے اور پڑھنے سے مقصود تصحیح الفاظ ہوتی ہے سو وہ ہو چکی اب مولویوں کے پاس رہنے سے کیا فائدہ، آپ نے فرمایا کہ بابا تمہاری دیانتداری تو یہ ہے کہ علم ہوتے ہوئے بھی علم کا دعویٰ نہ کی جائے اور اپنے علم پر اکتفا نہ کیا جائے ۔
آپ سے کثرت سے لوگ مرید ہوا کرتے تھے چنانچہ شیخ صفی الدین جو صاحب حال بزرگ تھے اور شیخ مبارک سندیلوی جو احکامِ شریعت و آداب طریقت میں کامل تھے اور شیخ سالار سے بھی تربیت حاصل کی تھی ۔
سید صفی الدین انبالہ کے رہنے والے تھے، جو درویشوں کے اوصاف سے موصوف اور انہیں کے احوال میں متحقق تھے اور بہت پوشیدہ رہا کرتے تھے، یہ شیخ مبارک سندیلوی کے مرید تھے اور شیخ سعد الدین کے مریدوں میں سے ایک شیخ اللہ دیا تھے جو بہت بوڑھے اور معمر تھے، آپ اپنے والی عہد کے حکم سے ان دیار میں تشریف لائے اور تکریم و تعظیم کے ساتھ مخصوص ہوئے، آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہوا ـ
وصال:
۹۹۳ھ میں اس دُنیائے ناپائیدار سے عالم پائیدار کی طرف چلے گئے، اللہ عَزَوَّجَل ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saaduddin-chishti-khairabadi
آپ شیخ مینار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حدودِ شریعت کی حفاظت اور آداب طریقت کی نگہداشت میں عالی ہمت رکھتے تھے، آپ نے دنیا سے الگ رہ کر مجروانہ زندگی بسر کی، اپنے مُرشد کی طرح سماع کے بہت رسیا تھے ـ
آپ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، عالم نحو، فقہ اور اصول میں آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں، جیسے 1۔ شرح مصباح 2۔ شرح کافیہ 3۔ شرح حسامی 4۔ شرح بزدوی وغیرہ 5۔ رسالہ مکیہ کی شرح مجمع السلوک، خزانہ جلالی کے طرز پر لکھی جس میں مخدوم جہانیاں کے ملفوظات کو جمع کیا ہے اور شیخ مینا کے بہت سے ملفوظات و حالات کو قلم بند کیا ہے، جب شیخ مینا کا ذکر کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ میرے مُرشِد کے مُرشِد نے یوں فرمایاتو اس سے شیخ قوام الدین لکھنؤی مراد ہوتے ہیں ۔
شیخ سعد الدین نے ظاہری علوم کی تحصیل و تکمیل مولانا اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ اور عالم تھے، حضرت شیخ مینا نے بھی عوارف المعارف مولانا اعظم ہی سے پڑھی تھی، ایک دفعہ آپ نے اپنے مُرشِد سے عرض کیا کہ مقصود تو آپ کی خدمت ہے اور پڑھنے سے مقصود تصحیح الفاظ ہوتی ہے سو وہ ہو چکی اب مولویوں کے پاس رہنے سے کیا فائدہ، آپ نے فرمایا کہ بابا تمہاری دیانتداری تو یہ ہے کہ علم ہوتے ہوئے بھی علم کا دعویٰ نہ کی جائے اور اپنے علم پر اکتفا نہ کیا جائے ۔
آپ سے کثرت سے لوگ مرید ہوا کرتے تھے چنانچہ شیخ صفی الدین جو صاحب حال بزرگ تھے اور شیخ مبارک سندیلوی جو احکامِ شریعت و آداب طریقت میں کامل تھے اور شیخ سالار سے بھی تربیت حاصل کی تھی ۔
سید صفی الدین انبالہ کے رہنے والے تھے، جو درویشوں کے اوصاف سے موصوف اور انہیں کے احوال میں متحقق تھے اور بہت پوشیدہ رہا کرتے تھے، یہ شیخ مبارک سندیلوی کے مرید تھے اور شیخ سعد الدین کے مریدوں میں سے ایک شیخ اللہ دیا تھے جو بہت بوڑھے اور معمر تھے، آپ اپنے والی عہد کے حکم سے ان دیار میں تشریف لائے اور تکریم و تعظیم کے ساتھ مخصوص ہوئے، آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہوا ـ
وصال:
۹۹۳ھ میں اس دُنیائے ناپائیدار سے عالم پائیدار کی طرف چلے گئے، اللہ عَزَوَّجَل ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saaduddin-chishti-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Saaduddin Chishti Khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا محمد عمر چنا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا محمد عمر چنہ گوٹھ ابراہیم چنہ نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۲۸۸ھ کو تولد ہوئے ۔ (مہران سوانح نمبر) سوانح میں نام عمر الدین ہے جب کہ مشاہیر دادو میں محمد عمر ہے ۔ واللہ اعلم ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عمر نے ابتدائی تعلیم مولانا خیر محمد فیروز شاہی کے پاس حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے علامۃ الزمان حضرت مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی ؒ کے ہاں تعلیم حاصل کیاور مختصر مدت حضرت مولانا محمد آگرو کی خدمت میں رہے اور آخر میں حضرت علامہ قمر الدین اندھڑ سہروردی ( گھوٹکی ) کی خدمت میں رہ کر نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد عمر فارغ التحصیل ہونے کے بعد عمر کا نصف حصہ لاڑ کے طرف مختلف مقامات و بستیوں میں تعلیم دینے میں بسر کیا۔گوٹھ رتو کوٹ تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ میں ایک عرصہ تک درس دیا ۔ تدریس کا مشغلہ آب و تاب سے جاری رکھا۔ ان علاقوں میں تعلیم قرآن عا م کی ، بچے بڑے بوڑھے سبھی مولانا کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
ظاہری علوم میں دسترس رکھنے کے بعد باطنی علوم کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کی تکمیل کیلئے مرد کامل اکمل ، غوث الزمان ، استاد العلماء والفضلاء ، مفتی اعظم حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس ( صاحب فتاویٰ جنگ ) کے حضور حاضر ہوئے اور سلسلۂ قادریہ میں دست بیعت ہو کر تھوڑے دنوں بعد خلافت سے سر فراز ہوئے ۔
آپ انتہائی درجے کے متقی پرہیز گار تھے جس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ کے ہاتھ پر کافی بندگان خدا مرید ہو کر فیضیاب ہوئے ۔
تلامذہ:
آپ کے بعض مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں :
٭ فقیر محمد ابراہیم ہنگورجہ چیف ایڈیٹر روز نامہ مہران حیدرآباد
٭ فقیر حاجی جمال الدین ہنگورجہ
٭ مولوی محمد اڑھوڑ گوٹھ احمد شاہ گرو ہڑی تحصیل کھپرو
٭ مولوی محمد یعقوب ہنگورجہ کھپرو
٭ مولوی عبدالحلیم پہنور میہڑ
٭ مولوی محمد علی لانڈر سانگھڑ
٭ مولوی غلام محمد ببر گوٹھ لدھان نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولوی نجم الدین ریگستانی ضلع تھر پارکر
اولاد:
مولانا محمد عمر چنہ کر رب کریم نے تین بیٹے عطا کئے تھے جو کہ بفضلہ تعالیٰ علم دین کے زیور سے آراستہ ہیں ۔
۱) مولوی محمد
۲) مولوی نصیرالدین
۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی حافظ محمد عیسیٰ چنہ ، مولانا محمد عمر کے پوتے ہیں ، مدرسہ عربیہ اکبر یہ دارالقرآن جامع مسجد میہڑ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آج تک مادر علمی میں تدریس کے فرائض انجام دے دہے ہیں ۔
وصال:
مولانا محمد عمر چنہ نے ۱۶، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۲، نومبر ۱۹۵۴ء کو ۸۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-channa
حضرت مولانا محمد عمر چنہ گوٹھ ابراہیم چنہ نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۲۸۸ھ کو تولد ہوئے ۔ (مہران سوانح نمبر) سوانح میں نام عمر الدین ہے جب کہ مشاہیر دادو میں محمد عمر ہے ۔ واللہ اعلم ۔
تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عمر نے ابتدائی تعلیم مولانا خیر محمد فیروز شاہی کے پاس حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے علامۃ الزمان حضرت مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی ؒ کے ہاں تعلیم حاصل کیاور مختصر مدت حضرت مولانا محمد آگرو کی خدمت میں رہے اور آخر میں حضرت علامہ قمر الدین اندھڑ سہروردی ( گھوٹکی ) کی خدمت میں رہ کر نصاب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
مولانا محمد عمر فارغ التحصیل ہونے کے بعد عمر کا نصف حصہ لاڑ کے طرف مختلف مقامات و بستیوں میں تعلیم دینے میں بسر کیا۔گوٹھ رتو کوٹ تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ میں ایک عرصہ تک درس دیا ۔ تدریس کا مشغلہ آب و تاب سے جاری رکھا۔ ان علاقوں میں تعلیم قرآن عا م کی ، بچے بڑے بوڑھے سبھی مولانا کے شاگرد تھے ۔
بیعت:
ظاہری علوم میں دسترس رکھنے کے بعد باطنی علوم کی ضرورت محسوس کی ۔ اس کی تکمیل کیلئے مرد کامل اکمل ، غوث الزمان ، استاد العلماء والفضلاء ، مفتی اعظم حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس ( صاحب فتاویٰ جنگ ) کے حضور حاضر ہوئے اور سلسلۂ قادریہ میں دست بیعت ہو کر تھوڑے دنوں بعد خلافت سے سر فراز ہوئے ۔
آپ انتہائی درجے کے متقی پرہیز گار تھے جس کی نظیر نہیں ملتی اور آپ کے ہاتھ پر کافی بندگان خدا مرید ہو کر فیضیاب ہوئے ۔
تلامذہ:
آپ کے بعض مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں :
٭ فقیر محمد ابراہیم ہنگورجہ چیف ایڈیٹر روز نامہ مہران حیدرآباد
٭ فقیر حاجی جمال الدین ہنگورجہ
٭ مولوی محمد اڑھوڑ گوٹھ احمد شاہ گرو ہڑی تحصیل کھپرو
٭ مولوی محمد یعقوب ہنگورجہ کھپرو
٭ مولوی عبدالحلیم پہنور میہڑ
٭ مولوی محمد علی لانڈر سانگھڑ
٭ مولوی غلام محمد ببر گوٹھ لدھان نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولوی نجم الدین ریگستانی ضلع تھر پارکر
اولاد:
مولانا محمد عمر چنہ کر رب کریم نے تین بیٹے عطا کئے تھے جو کہ بفضلہ تعالیٰ علم دین کے زیور سے آراستہ ہیں ۔
۱) مولوی محمد
۲) مولوی نصیرالدین
۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی حافظ محمد عیسیٰ چنہ ، مولانا محمد عمر کے پوتے ہیں ، مدرسہ عربیہ اکبر یہ دارالقرآن جامع مسجد میہڑ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آج تک مادر علمی میں تدریس کے فرائض انجام دے دہے ہیں ۔
وصال:
مولانا محمد عمر چنہ نے ۱۶، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۲، نومبر ۱۹۵۴ء کو ۸۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-channa
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Umar Channa
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1