Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت صدر المشائخ مولانا فضل عثمان فاروقی مجددی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مجاہد ملت، صدر المشائخ حضرت مولانا پیر فضل عثمان مجددی ابن حضرت نور المشائخ مولانا فضل اعمر المعروف بہ ملا شور بازار (متولد ۱۳۰۲ھ / ۱۸۸۵ء) قدس سرہما ماہ جمادی الاولیٰ، اگست (۱۳۱۹ھ / ۱۹۰۱ء) میں شور بازار کابل خاندان مجددیہ میں پیدا ہوئے آپ کے جد امجد سلسلۂ عالیہ مجددیہ کے بر گزیدہ بزرگ حضرت مولانا قیوم قدس سرہ نے آپ کی پرورش فرمائی ۔
سن شعور کو پہنچنے پر شور بازار کابل کہ مشہور مدرسہ مجددیہ میں داخل ہوئے اور اپنے دور کے ممتاز افاضل سے علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی ۔ منازل سلوطے کرنے کے لئے والد گرامی حضرت نور المشائخ کے دست اقدس پر طریقہ نقشبندیہ مجددیہ معصومیہ میں بیعت ہوئے اور جلد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
دوسری جنگ عظیم میں والد ماجد کے ہمراہ جنوبی افغانستان میںتل کے مقام پر انگریزوں کے خلاف عملی جہاد میں حصہ لیا ۔ ان حضرات کی برکت اور فضل ایزدی سے انگریزوں کو شکست تسلیم کرنا پڑی اور افغانستان کو حقیقی آزادی نصیب ہوئی ۔ جب بچہ سقہ نے غازی امان اللہ کے خلاف بغاوت کی تو حضرت صدر المشائخ پیر فضل عثمان، افغانستان کے شمالی علقاہ ترکستان میں مقیم تھے۔ آپ نے باغیوں کے خلاف جزل غلام نبی خاں سے مکمل تعاون کیا ترکستان میں بچہ سقہ کے گور نر عطا محمد نے حضرت صدر المشائخ کو قید کردیا اور جبرو تشددکے ذریعے بچہ سقہ کی حمایت پر مجبور کیا، آپ نے واضح طور پر فرمایا:
’’ وہ لڑی اور غاصب کو کسی قیمت پر بھی مسلمانوں کا بادشاہ تسلیم نہیں کریں گے، بد طینت بچہ سقہ کے سامنے کبھی بھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے ‘‘[1]
گورنر عطا محمد نے آپ کے ناقابل شکست خیالات سے آگاہ ہو کر پھانسی کا حکم دے دیا اسی اثنا میں جنرل غلام نبی خاں نے زبر دست حملہ کر کے مزار شریف، بلخ اور ترکستان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس طرح آپ بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہے، چند دن غازی امان اللہ نے اقتدار سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجد یا اس لئے حضرت صدر المشائخ افغان معززین کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ تا شقند کا عزم کیا ۔
حکومت روس نے یہ پابندی عائد کردی کہ آپ تا شقند کے علاوہ نہ تو کسی جگہ قیام کر سکتے ہیں اور نہ نقل و حرکت کی اجازت ہے ۔ آپ نے اہل و عیال سمیت آٹھ ماہ اس پابندی میں گزارے ، اتنے میں نادر شاہ نے بچہ سقہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر بادشاہت قائم کرلی اور آپ کو کامل بلا کر وزارت انصاف (عدلیہ) میں اصلاح امور شرعیہ کا رکن نامزد کر دیا ۔ آپ نے محسوس کیا کہ وزارت اپنے فرائض کما حقہ ادا نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو کر ارشاد و تبلیغ کا کام شروع کر دیا ۔
۱۹۴۸ء میں جب یہودیوں نے فلسطین کے عرب مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر انہیں بے دخل کرنا شروع کیا تو حضرت صدر المشائخ نے اپنے والد ماجد کے ساتھ مل کر پورے افغانستان کا دورہ کیا اور لاکھوں روپے جمع کر کے مفتیٔ اعظم فلسطین سید امین الحسینی کے تو سط سے مظلوم مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے لئے بھجوائے ۔
حضرت المشائخ مولانا فضل عمر قدس سرہ نے جب غزنی میں ایک دینی ادارہ نور المدارس کے قیام کا ارادہ کیا تو حضرت صدر المشائخ نے بے پناہ کوشش سے اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور ایک عرصہ تک اس مدرسہ کے نائب صدر رہے ۔ تحریک خلافت کے سلسلے میں مولانا محمد علی جواہر اور دوسرے لیڈروں نے افغانستان کا دورہ کیا تو آپ نے پورا پورا تعاون کیا، تحریک پاکستان کی حمایت میں آپ نے تمام مریدوں کو خاص ہدایات جاری کیں چنانچہ آپ کی تحریک پر قبائلی اور پو ہندہ افغانوں نے کشمیر کے محاذ پر بڑھ چھوڑ کر حصہ لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بعض عناصر کے پیدا کردہ اختلافات کو ختم کرنے کے لئے آپ نے مسلسل جد و جہد کی اور کوشش تا حیات جاری رکھی ۔
۱۳۷۶ھ / ۱۹۵۶ء میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ واپسی پر جب کراچی پہنچے تو حسین شہید سہروری، فیروز خاں نون اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسروں نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا ۔ اس موقع پر آپ نے دوران تقریر آزادیٔ کشمیر کا اعلان فرمادیا اور کہا کہ ہم اس تحریک کے لئے کو جاری رکھیں گے ۔
بعض مریدن کی خواہش پر آپ نے دہلی،کاٹھیا واڑ ، بمبئی ، کلکتہ او مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور جا بجا عالم اسلام اور افغانستان و پاکستان کے اتحاد پر زور دیا اس دورے سے واپسی پر جب کراچی میں افغانستان کے سفار تخانے میں پاسپورٹ پیش کیا تو سفیر نے حکومت افغانستان کے امتنا عی حکم کی بنا پر پاسپورٹ کی تجدیدیا تو سیع سے انکار کر دیا ۔ ان حالات میں آپ نے ایک سال کراچی میں قیام فرما کر گلبرگ لاہور میں مستقل رہائش اختیار کرلی، نو سال بعد جب حالات معمول پر آئے تو آپ نے اہل و عیال کو بھی اپنے پاس بلایا ۔
مجاہد ملت، صدر المشائخ حضرت مولانا پیر فضل عثمان مجددی ابن حضرت نور المشائخ مولانا فضل اعمر المعروف بہ ملا شور بازار (متولد ۱۳۰۲ھ / ۱۸۸۵ء) قدس سرہما ماہ جمادی الاولیٰ، اگست (۱۳۱۹ھ / ۱۹۰۱ء) میں شور بازار کابل خاندان مجددیہ میں پیدا ہوئے آپ کے جد امجد سلسلۂ عالیہ مجددیہ کے بر گزیدہ بزرگ حضرت مولانا قیوم قدس سرہ نے آپ کی پرورش فرمائی ۔
سن شعور کو پہنچنے پر شور بازار کابل کہ مشہور مدرسہ مجددیہ میں داخل ہوئے اور اپنے دور کے ممتاز افاضل سے علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی ۔ منازل سلوطے کرنے کے لئے والد گرامی حضرت نور المشائخ کے دست اقدس پر طریقہ نقشبندیہ مجددیہ معصومیہ میں بیعت ہوئے اور جلد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔
دوسری جنگ عظیم میں والد ماجد کے ہمراہ جنوبی افغانستان میںتل کے مقام پر انگریزوں کے خلاف عملی جہاد میں حصہ لیا ۔ ان حضرات کی برکت اور فضل ایزدی سے انگریزوں کو شکست تسلیم کرنا پڑی اور افغانستان کو حقیقی آزادی نصیب ہوئی ۔ جب بچہ سقہ نے غازی امان اللہ کے خلاف بغاوت کی تو حضرت صدر المشائخ پیر فضل عثمان، افغانستان کے شمالی علقاہ ترکستان میں مقیم تھے۔ آپ نے باغیوں کے خلاف جزل غلام نبی خاں سے مکمل تعاون کیا ترکستان میں بچہ سقہ کے گور نر عطا محمد نے حضرت صدر المشائخ کو قید کردیا اور جبرو تشددکے ذریعے بچہ سقہ کی حمایت پر مجبور کیا، آپ نے واضح طور پر فرمایا:
’’ وہ لڑی اور غاصب کو کسی قیمت پر بھی مسلمانوں کا بادشاہ تسلیم نہیں کریں گے، بد طینت بچہ سقہ کے سامنے کبھی بھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے ‘‘[1]
گورنر عطا محمد نے آپ کے ناقابل شکست خیالات سے آگاہ ہو کر پھانسی کا حکم دے دیا اسی اثنا میں جنرل غلام نبی خاں نے زبر دست حملہ کر کے مزار شریف، بلخ اور ترکستان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس طرح آپ بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہے، چند دن غازی امان اللہ نے اقتدار سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجد یا اس لئے حضرت صدر المشائخ افغان معززین کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ تا شقند کا عزم کیا ۔
حکومت روس نے یہ پابندی عائد کردی کہ آپ تا شقند کے علاوہ نہ تو کسی جگہ قیام کر سکتے ہیں اور نہ نقل و حرکت کی اجازت ہے ۔ آپ نے اہل و عیال سمیت آٹھ ماہ اس پابندی میں گزارے ، اتنے میں نادر شاہ نے بچہ سقہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر بادشاہت قائم کرلی اور آپ کو کامل بلا کر وزارت انصاف (عدلیہ) میں اصلاح امور شرعیہ کا رکن نامزد کر دیا ۔ آپ نے محسوس کیا کہ وزارت اپنے فرائض کما حقہ ادا نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو کر ارشاد و تبلیغ کا کام شروع کر دیا ۔
۱۹۴۸ء میں جب یہودیوں نے فلسطین کے عرب مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر انہیں بے دخل کرنا شروع کیا تو حضرت صدر المشائخ نے اپنے والد ماجد کے ساتھ مل کر پورے افغانستان کا دورہ کیا اور لاکھوں روپے جمع کر کے مفتیٔ اعظم فلسطین سید امین الحسینی کے تو سط سے مظلوم مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے لئے بھجوائے ۔
حضرت المشائخ مولانا فضل عمر قدس سرہ نے جب غزنی میں ایک دینی ادارہ نور المدارس کے قیام کا ارادہ کیا تو حضرت صدر المشائخ نے بے پناہ کوشش سے اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور ایک عرصہ تک اس مدرسہ کے نائب صدر رہے ۔ تحریک خلافت کے سلسلے میں مولانا محمد علی جواہر اور دوسرے لیڈروں نے افغانستان کا دورہ کیا تو آپ نے پورا پورا تعاون کیا، تحریک پاکستان کی حمایت میں آپ نے تمام مریدوں کو خاص ہدایات جاری کیں چنانچہ آپ کی تحریک پر قبائلی اور پو ہندہ افغانوں نے کشمیر کے محاذ پر بڑھ چھوڑ کر حصہ لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بعض عناصر کے پیدا کردہ اختلافات کو ختم کرنے کے لئے آپ نے مسلسل جد و جہد کی اور کوشش تا حیات جاری رکھی ۔
۱۳۷۶ھ / ۱۹۵۶ء میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ واپسی پر جب کراچی پہنچے تو حسین شہید سہروری، فیروز خاں نون اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسروں نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا ۔ اس موقع پر آپ نے دوران تقریر آزادیٔ کشمیر کا اعلان فرمادیا اور کہا کہ ہم اس تحریک کے لئے کو جاری رکھیں گے ۔
بعض مریدن کی خواہش پر آپ نے دہلی،کاٹھیا واڑ ، بمبئی ، کلکتہ او مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور جا بجا عالم اسلام اور افغانستان و پاکستان کے اتحاد پر زور دیا اس دورے سے واپسی پر جب کراچی میں افغانستان کے سفار تخانے میں پاسپورٹ پیش کیا تو سفیر نے حکومت افغانستان کے امتنا عی حکم کی بنا پر پاسپورٹ کی تجدیدیا تو سیع سے انکار کر دیا ۔ ان حالات میں آپ نے ایک سال کراچی میں قیام فرما کر گلبرگ لاہور میں مستقل رہائش اختیار کرلی، نو سال بعد جب حالات معمول پر آئے تو آپ نے اہل و عیال کو بھی اپنے پاس بلایا ۔
❤2