چند ایام کے بعد جب حضرت خواجہ غریب نواز دہلی سے اجمیر تشریف لے جانے لگے تو حضرت قطب الاقطاب کو بھی ساتھ لے جانے لگے ۔ یہ دیکھ کر خَلقِ خدا میں شور برپا ہو گیا اور تمام خاص و عام بمع سلطان شمس الدین روتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے ۔ حضرت خواجہ قطب الدین جس جگہ قدم رکھتے تھے لوگ وہاں کی خاک اٹھا کر منہ پر ملتے تھے ۔
جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ ۔ تمہارے چلے جانے سے خَلق خدا پریشان اور بے حال ہے ۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے دل جل کر کباب ہو جائیں ۔ جاؤ ۔ میں نے اس شہر کو ’’ تمہاری پناہ میں دے دیا ‘‘ ۔
حضرت خواجہ غریب نواز کا یہ ارشاد آج تک اپنی عظمت منوا رہا ہے ۔ حکومتیں بدلیں، سرحدیں تبدیل ہوئیں، لوگ بٹ گئے، لیکن یہ محبت و عقیدت آج بھی جولانی پر ہے ـ
قطب الاقطاب کی وہابیوں سے نفرت: سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا ۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کِس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر ’’ شیاطینِ وہابیہ ‘‘ کا قلع قمع کر دو ۔
آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتابِ مستطاب ’’ بوارقِ محمدیہ ‘‘ تالیف فرمائی ‘‘ ۔ ( نور نور چہرے، ص:203) ۔
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمہ کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ولادت کی بشارت عطاء فرمائی ’’ تمہارے یہاں فرزند پیدا ہوگا اُس کا نام قطبُ الدِین احمد رکھنا ‘‘ ۔ ( اَنفاسُ العارفین، ص:44) ۔
حضرت محبوبِ الٰہی فرماتے ہیں:
میں ایک مرتبہ آپ کی مرقد کی زیارت کے لئے جا رہا تھا تو دل میں ایک وسوسہ پیدا ہوا کہ آیا صاحبِ قبر ہماری طرف توجہ بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
جب میں روضے میں داخل ہوا ۔ تو ایک شعر سنائی دیا ۔ جس کا مفہوم یہ ہے: ’’ تم مجھے اپنی طرح زندہ جانو، اگر تم میری قبر پر جسم کے ساتھ آتے ہو، تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں ‘‘ ۔ (سیر الاولیاء، ص:109) ـ
تاریخِ وصال:
بروز پیر 14 ربیع الاول 635ھ / مطابق 30 نومبر 1237ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
نماز جنازہ کی وصیت:
سیر الاقطاب میں ہے کہ جب جنازہ تیار ہو گیا تو خواجہ ابو سعید نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرا یہ راز کسی پر فاش نہ ہو ۔ مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کر دیا ۔ (سیر الاقطاب، ص:183) ـ
آپ کی برکت سے امتِ محمدیہ کے تمام مُردوں سے عذابِ قبر اٹھا لیا گیا: مجمع البحرین، شیخ المحققین میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ قاضی حمید الدین علیہ الرحمہ کی روایت سے فرماتے ہیں: ’’ میں دفن کے بعد آپ کی قبر پر موجود رہا، منکر نکیر آئے اور نہایت ادب سے بیٹھ گئے ۔
اسی دوران دو فرشتے اور آگئے ۔ حق تعالیٰ جل شانہ کا سلام حضرت قطب الاقطاب کو پہنچایا ۔ پھر ایک تحریر آپ کو دے دی ۔
اس میں لکھا ہوا تھا کہ اے قطب الدین! ہم تم سے راضی ہیں، اور تمھاری برکت سے امتِ مصطفیٰ ﷺ کے تمام گنہگاروں کی قبر سے عذاب اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے کہ جس طرح زِندوں نے تم سے بہت فیض حاصل کیا ہے اسی طرح مردے بھی تم سے فیض پائیں، اور تمھاری قدر جانیں ‘‘ ۔ (سبع سنابل شریف مترجم، ص: 448) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-qutbuddin-bakhtiyar-kaki
جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ ۔ تمہارے چلے جانے سے خَلق خدا پریشان اور بے حال ہے ۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے دل جل کر کباب ہو جائیں ۔ جاؤ ۔ میں نے اس شہر کو ’’ تمہاری پناہ میں دے دیا ‘‘ ۔
حضرت خواجہ غریب نواز کا یہ ارشاد آج تک اپنی عظمت منوا رہا ہے ۔ حکومتیں بدلیں، سرحدیں تبدیل ہوئیں، لوگ بٹ گئے، لیکن یہ محبت و عقیدت آج بھی جولانی پر ہے ـ
قطب الاقطاب کی وہابیوں سے نفرت: سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا ۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کِس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر ’’ شیاطینِ وہابیہ ‘‘ کا قلع قمع کر دو ۔
آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتابِ مستطاب ’’ بوارقِ محمدیہ ‘‘ تالیف فرمائی ‘‘ ۔ ( نور نور چہرے، ص:203) ۔
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمہ کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ولادت کی بشارت عطاء فرمائی ’’ تمہارے یہاں فرزند پیدا ہوگا اُس کا نام قطبُ الدِین احمد رکھنا ‘‘ ۔ ( اَنفاسُ العارفین، ص:44) ۔
حضرت محبوبِ الٰہی فرماتے ہیں:
میں ایک مرتبہ آپ کی مرقد کی زیارت کے لئے جا رہا تھا تو دل میں ایک وسوسہ پیدا ہوا کہ آیا صاحبِ قبر ہماری طرف توجہ بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
جب میں روضے میں داخل ہوا ۔ تو ایک شعر سنائی دیا ۔ جس کا مفہوم یہ ہے: ’’ تم مجھے اپنی طرح زندہ جانو، اگر تم میری قبر پر جسم کے ساتھ آتے ہو، تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں ‘‘ ۔ (سیر الاولیاء، ص:109) ـ
تاریخِ وصال:
بروز پیر 14 ربیع الاول 635ھ / مطابق 30 نومبر 1237ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
نماز جنازہ کی وصیت:
سیر الاقطاب میں ہے کہ جب جنازہ تیار ہو گیا تو خواجہ ابو سعید نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرا یہ راز کسی پر فاش نہ ہو ۔ مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کر دیا ۔ (سیر الاقطاب، ص:183) ـ
آپ کی برکت سے امتِ محمدیہ کے تمام مُردوں سے عذابِ قبر اٹھا لیا گیا: مجمع البحرین، شیخ المحققین میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ قاضی حمید الدین علیہ الرحمہ کی روایت سے فرماتے ہیں: ’’ میں دفن کے بعد آپ کی قبر پر موجود رہا، منکر نکیر آئے اور نہایت ادب سے بیٹھ گئے ۔
اسی دوران دو فرشتے اور آگئے ۔ حق تعالیٰ جل شانہ کا سلام حضرت قطب الاقطاب کو پہنچایا ۔ پھر ایک تحریر آپ کو دے دی ۔
اس میں لکھا ہوا تھا کہ اے قطب الدین! ہم تم سے راضی ہیں، اور تمھاری برکت سے امتِ مصطفیٰ ﷺ کے تمام گنہگاروں کی قبر سے عذاب اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے کہ جس طرح زِندوں نے تم سے بہت فیض حاصل کیا ہے اسی طرح مردے بھی تم سے فیض پائیں، اور تمھاری قدر جانیں ‘‘ ۔ (سبع سنابل شریف مترجم، ص: 448) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-qutbuddin-bakhtiyar-kaki
scholars.pk
Hazrat Khwaja Syed Muhammad Qutbuddin Bakhtiyar Kaki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2