شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی الله تعالیٰ عنه
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد بختیار ۔ لقب: قطب الدین، کاکی ۔ مکمل نام: سید محمد قطب الدین بختیار کاکی ـ آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
(سیر الاقطاب، ص:168 / اقتباس الانوار، ص:392 / خزینۃ الاصفیاء، ص:77) ـ
کاکی کی وجہ تسمیہ:
اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: کاک ’’ کُلچے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔حضرت کو ایک مرتبہ چند (دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہو گئے ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 482) ۔
اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے ۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دِن کے فاقے بھی ہو چکے تھے ۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا ۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مر جاؤ ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوںگی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کر دی ۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو ۔ (سیرالاقطاب، ص:174) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’ اوش ‘‘ وادیِ ’’ فرغانہ ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:48 / انسائیکلو پیڈیا) ـ
ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہو گیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی ۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہو گیا ۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے ۔ پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی ۔(اقتباس الانوار، ص:392 / سیر الاقطاب، ص:169) ـ
تحصیلِ علم:
ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی ۔
عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے ۔ یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سائے میں کی جائے ۔
جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابو حفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آ گئے ۔ ان سے فرمایا: ’’ احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے ۔ استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں ‘‘ ۔ (اقتباس الانوار، ص:394) ـ
سبع سنابل اور سیر الاقطاب میں ہے:
کہ جب استاد ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں ۔ استاد نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں ۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کر لئے ہیں ۔ (سیر الاقطاب، ص:169) ۔
آپ تمام علوم مروجہ کے عالمِ کامل تھے۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد بختیار ۔ لقب: قطب الدین، کاکی ۔ مکمل نام: سید محمد قطب الدین بختیار کاکی ـ آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
(سیر الاقطاب، ص:168 / اقتباس الانوار، ص:392 / خزینۃ الاصفیاء، ص:77) ـ
کاکی کی وجہ تسمیہ:
اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: کاک ’’ کُلچے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔حضرت کو ایک مرتبہ چند (دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہو گئے ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 482) ۔
اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے ۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دِن کے فاقے بھی ہو چکے تھے ۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا ۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مر جاؤ ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوںگی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کر دی ۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو ۔ (سیرالاقطاب، ص:174) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’ اوش ‘‘ وادیِ ’’ فرغانہ ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:48 / انسائیکلو پیڈیا) ـ
ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہو گیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی ۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہو گیا ۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے ۔ پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی ۔(اقتباس الانوار، ص:392 / سیر الاقطاب، ص:169) ـ
تحصیلِ علم:
ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی ۔
عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے ۔ یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سائے میں کی جائے ۔
جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابو حفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آ گئے ۔ ان سے فرمایا: ’’ احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے ۔ استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں ‘‘ ۔ (اقتباس الانوار، ص:394) ـ
سبع سنابل اور سیر الاقطاب میں ہے:
کہ جب استاد ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں ۔ استاد نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں ۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کر لئے ہیں ۔ (سیر الاقطاب، ص:169) ۔
آپ تمام علوم مروجہ کے عالمِ کامل تھے۔
❤2
بیعت و خلافت:
آپ علوم ظاہری کی تحصیل کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سترہ سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ آپ کے تذکرے میں ہے کہ سرورِ عالم ﷺ نے حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قطب الدین خدا کا دوست ہے، اس کو خرقہ پہناؤ ۔ (شمس العارفین نمبر، ص:36) ـ
سیرت و خصائص:
دلیل العارفین، سراج الکاملین، بدر الواصلین، قائد المحبین، قطب آسمانِ ولایت، غیاث الہند، نائبِ سلطان الہند، قطب الاقطاب، شیخ الاسلام حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل، اور خاندانِ رسالت کے چشم و چراغ تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ ہر شب سَو رکعت کے علاوہ تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے ۔ تین دن خانگی مجبوری کی وجہ سے یہ تحفہ ارسال نہ کرسکے تو دربارِ مصطفیٰ ﷺ سے پیغام آیا کہ تمھارا ہدیہ تین راتوں سے نہیں پہنچا ۔ (سیر العارفین، ص: 24) ۔
اس سے اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہ بزرگ کس قدر کامیاب تھے کہ محبوبِ کائنات ﷺ ان کے مشاغل سے نہ صرف خوش تھے، بلکہ انتظار فرماتےتھے ۔ اس سے بڑھ کر کامرانی کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غلامانِ مصطفیٰ دنیاوی شاہوں کو اپنے قریب ہی نہیں بھٹکنے دیتےتھے، اور پرِکاہ کے برابر بھی ان کو اہمیت نہیں دیتےتھے ۔ لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مشائخ کا معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔ (فقیر تونسوی ؔغفرلہ) ـ
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ
عنہ سے خرقۂ خلافت کا حصول:
ایک دن تمام مریدین مجلس میں جمع تھے ۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ فرمانے لگے: عارف کی مثال چمکنے والے آفتاب کی طرح ہے جس کے نور سے پوری دنیا روشن ہے ۔ پھر فرمایا کہ اے درویشو! ہمیں یہاں (ہندوستان) بھیجا گیا ہے ۔ ہماری قبر بھی یہیں ہوگی اور چند روز کے اندر ہم سفرِ آخرت کریںگے ۔
اس کے بعد شیخ علی سنجری سے فرمایا کہ ایک تحریر لکھو کہ قطب الدین دہلی روانہ ہو جائے ۔ ہم نے خلافت و سجادہ قطب الدین کو دے دی اور ان کا مقام دہلی ہوگا ۔ جب حکم نامہ مکمل ہو گیا تو اس فقیر (خواجہ قطب الدین) کو عنایت فرمایا ۔ اس فقیر نے سرِ تسلیم جھکا دیا ۔ پھر فرمایا: ذرا قریب آ جاؤ، میں قریب ہوا تو دستار و کلاہ میرے سر پر رکھ کر خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کا عصا عطا فرمایا، اور خرقہ پہنا کر قرآنِ کریم، جائے نماز اور نعلین عطا فرمائے اور فرمایا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی یہ امانت مشائخِ چشت کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے تم بھی اسے جاری رکھنا تاکہ قیامت کے دن مشائخ کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے ۔
اس فقیر نے سر جھکا دیا ۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی ۔ اس کے بعد حضرت مرشد نے میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا ۔ اب جاؤ تمہیں اللہ کے سپرد کیا ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں منزل پر پہنچائے ۔
پھر فرمایا کہ چار چیزیں نفس کا جوہر ہیں، اول درویشی میں تونگری کرنا، دوم بھوک میں سیر نظر آنا، سوم غم میں مسرور معلوم ہونا، چہارُم دشمن سے بھی دوستی کا معاملہ کرنا، پھر فرمایا جہاں بھی جاؤ کسی کا دل نہ دُکھانا، اور جہاں بھی جاؤ مَردوں کی طرح رہنا ۔ (اخبار الاخیار، ص: 75) ـ
دہلی میں ورودِ مسعود:
حضرت محبوب الہی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی میں سکونت کر لی تو وہاں کے تمام اکابر، امراء و رؤساء اور عوام آپ نیک صورت اور نیک سیرت پر شیدا ہو گئے ۔
ایک دن حضرت اقدس نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت میں خط لکھا اگر اجازت ہو تو حاضر ہو کر شرفِ قدم بوسی حاصل کروں ۔ حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ نے جواب میں لکھا المرءُ مع من اَحَبّ ( آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اُسے محبت ہو ) ۔ یعنی روحانی طور پر میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ بعد میں خود دہلی آؤں گا ۔ یہ جواب سن کر آپ نے اجمیر شریف جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔
بادشاہ کی طرف سے منصبِ شیخ الاسلام کی پیشکش: قیامِ دہلی کے کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز شیخ جمال الدین محمد بسطامی علیہ الرحمہ کا وصال ہو گیا ۔ چنانچہ سلطان شمس الدین التمش نے حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ منصبِ شیخ الاسلام قبول فرمالیں ۔ لیکن آپ نے اس کی طرف ذرہ بھر بھی توجہ نہ فرمائی ۔
آپ کے انکار کے بعد بادشاہ نے شیخ نجم الدین صغراء کو شیخ الاسلام مقرر کر دیا ۔ پھر بتقاضائے بشریت شیخ نجم الدین میں معاصرت کی منافرت پیدا ہو گئی ۔ جب شیخ نے حضرت خواجہ غریب نواز سے یہ شکایت کی کہ قطب الاقطاب کے مقابلے میں میری ’’ شیخ الاسلامی ‘‘ کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ خواجہ صاحب نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ فکر مت کو ۔ میں اس مرتبہ قطب الدین کو اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں ۔
آپ علوم ظاہری کی تحصیل کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سترہ سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ آپ کے تذکرے میں ہے کہ سرورِ عالم ﷺ نے حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قطب الدین خدا کا دوست ہے، اس کو خرقہ پہناؤ ۔ (شمس العارفین نمبر، ص:36) ـ
سیرت و خصائص:
دلیل العارفین، سراج الکاملین، بدر الواصلین، قائد المحبین، قطب آسمانِ ولایت، غیاث الہند، نائبِ سلطان الہند، قطب الاقطاب، شیخ الاسلام حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل، اور خاندانِ رسالت کے چشم و چراغ تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ ہر شب سَو رکعت کے علاوہ تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے ۔ تین دن خانگی مجبوری کی وجہ سے یہ تحفہ ارسال نہ کرسکے تو دربارِ مصطفیٰ ﷺ سے پیغام آیا کہ تمھارا ہدیہ تین راتوں سے نہیں پہنچا ۔ (سیر العارفین، ص: 24) ۔
اس سے اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہ بزرگ کس قدر کامیاب تھے کہ محبوبِ کائنات ﷺ ان کے مشاغل سے نہ صرف خوش تھے، بلکہ انتظار فرماتےتھے ۔ اس سے بڑھ کر کامرانی کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غلامانِ مصطفیٰ دنیاوی شاہوں کو اپنے قریب ہی نہیں بھٹکنے دیتےتھے، اور پرِکاہ کے برابر بھی ان کو اہمیت نہیں دیتےتھے ۔ لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مشائخ کا معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔ (فقیر تونسوی ؔغفرلہ) ـ
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ
عنہ سے خرقۂ خلافت کا حصول:
ایک دن تمام مریدین مجلس میں جمع تھے ۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ فرمانے لگے: عارف کی مثال چمکنے والے آفتاب کی طرح ہے جس کے نور سے پوری دنیا روشن ہے ۔ پھر فرمایا کہ اے درویشو! ہمیں یہاں (ہندوستان) بھیجا گیا ہے ۔ ہماری قبر بھی یہیں ہوگی اور چند روز کے اندر ہم سفرِ آخرت کریںگے ۔
اس کے بعد شیخ علی سنجری سے فرمایا کہ ایک تحریر لکھو کہ قطب الدین دہلی روانہ ہو جائے ۔ ہم نے خلافت و سجادہ قطب الدین کو دے دی اور ان کا مقام دہلی ہوگا ۔ جب حکم نامہ مکمل ہو گیا تو اس فقیر (خواجہ قطب الدین) کو عنایت فرمایا ۔ اس فقیر نے سرِ تسلیم جھکا دیا ۔ پھر فرمایا: ذرا قریب آ جاؤ، میں قریب ہوا تو دستار و کلاہ میرے سر پر رکھ کر خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کا عصا عطا فرمایا، اور خرقہ پہنا کر قرآنِ کریم، جائے نماز اور نعلین عطا فرمائے اور فرمایا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی یہ امانت مشائخِ چشت کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے تم بھی اسے جاری رکھنا تاکہ قیامت کے دن مشائخ کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے ۔
اس فقیر نے سر جھکا دیا ۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی ۔ اس کے بعد حضرت مرشد نے میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا ۔ اب جاؤ تمہیں اللہ کے سپرد کیا ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں منزل پر پہنچائے ۔
پھر فرمایا کہ چار چیزیں نفس کا جوہر ہیں، اول درویشی میں تونگری کرنا، دوم بھوک میں سیر نظر آنا، سوم غم میں مسرور معلوم ہونا، چہارُم دشمن سے بھی دوستی کا معاملہ کرنا، پھر فرمایا جہاں بھی جاؤ کسی کا دل نہ دُکھانا، اور جہاں بھی جاؤ مَردوں کی طرح رہنا ۔ (اخبار الاخیار، ص: 75) ـ
دہلی میں ورودِ مسعود:
حضرت محبوب الہی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی میں سکونت کر لی تو وہاں کے تمام اکابر، امراء و رؤساء اور عوام آپ نیک صورت اور نیک سیرت پر شیدا ہو گئے ۔
ایک دن حضرت اقدس نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت میں خط لکھا اگر اجازت ہو تو حاضر ہو کر شرفِ قدم بوسی حاصل کروں ۔ حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ نے جواب میں لکھا المرءُ مع من اَحَبّ ( آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اُسے محبت ہو ) ۔ یعنی روحانی طور پر میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ بعد میں خود دہلی آؤں گا ۔ یہ جواب سن کر آپ نے اجمیر شریف جانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔
بادشاہ کی طرف سے منصبِ شیخ الاسلام کی پیشکش: قیامِ دہلی کے کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز شیخ جمال الدین محمد بسطامی علیہ الرحمہ کا وصال ہو گیا ۔ چنانچہ سلطان شمس الدین التمش نے حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ منصبِ شیخ الاسلام قبول فرمالیں ۔ لیکن آپ نے اس کی طرف ذرہ بھر بھی توجہ نہ فرمائی ۔
آپ کے انکار کے بعد بادشاہ نے شیخ نجم الدین صغراء کو شیخ الاسلام مقرر کر دیا ۔ پھر بتقاضائے بشریت شیخ نجم الدین میں معاصرت کی منافرت پیدا ہو گئی ۔ جب شیخ نے حضرت خواجہ غریب نواز سے یہ شکایت کی کہ قطب الاقطاب کے مقابلے میں میری ’’ شیخ الاسلامی ‘‘ کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ خواجہ صاحب نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ فکر مت کو ۔ میں اس مرتبہ قطب الدین کو اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں ۔
❤2
چند ایام کے بعد جب حضرت خواجہ غریب نواز دہلی سے اجمیر تشریف لے جانے لگے تو حضرت قطب الاقطاب کو بھی ساتھ لے جانے لگے ۔ یہ دیکھ کر خَلقِ خدا میں شور برپا ہو گیا اور تمام خاص و عام بمع سلطان شمس الدین روتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے ۔ حضرت خواجہ قطب الدین جس جگہ قدم رکھتے تھے لوگ وہاں کی خاک اٹھا کر منہ پر ملتے تھے ۔
جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ ۔ تمہارے چلے جانے سے خَلق خدا پریشان اور بے حال ہے ۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے دل جل کر کباب ہو جائیں ۔ جاؤ ۔ میں نے اس شہر کو ’’ تمہاری پناہ میں دے دیا ‘‘ ۔
حضرت خواجہ غریب نواز کا یہ ارشاد آج تک اپنی عظمت منوا رہا ہے ۔ حکومتیں بدلیں، سرحدیں تبدیل ہوئیں، لوگ بٹ گئے، لیکن یہ محبت و عقیدت آج بھی جولانی پر ہے ـ
قطب الاقطاب کی وہابیوں سے نفرت: سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا ۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کِس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر ’’ شیاطینِ وہابیہ ‘‘ کا قلع قمع کر دو ۔
آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتابِ مستطاب ’’ بوارقِ محمدیہ ‘‘ تالیف فرمائی ‘‘ ۔ ( نور نور چہرے، ص:203) ۔
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمہ کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ولادت کی بشارت عطاء فرمائی ’’ تمہارے یہاں فرزند پیدا ہوگا اُس کا نام قطبُ الدِین احمد رکھنا ‘‘ ۔ ( اَنفاسُ العارفین، ص:44) ۔
حضرت محبوبِ الٰہی فرماتے ہیں:
میں ایک مرتبہ آپ کی مرقد کی زیارت کے لئے جا رہا تھا تو دل میں ایک وسوسہ پیدا ہوا کہ آیا صاحبِ قبر ہماری طرف توجہ بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
جب میں روضے میں داخل ہوا ۔ تو ایک شعر سنائی دیا ۔ جس کا مفہوم یہ ہے: ’’ تم مجھے اپنی طرح زندہ جانو، اگر تم میری قبر پر جسم کے ساتھ آتے ہو، تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں ‘‘ ۔ (سیر الاولیاء، ص:109) ـ
تاریخِ وصال:
بروز پیر 14 ربیع الاول 635ھ / مطابق 30 نومبر 1237ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
نماز جنازہ کی وصیت:
سیر الاقطاب میں ہے کہ جب جنازہ تیار ہو گیا تو خواجہ ابو سعید نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرا یہ راز کسی پر فاش نہ ہو ۔ مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کر دیا ۔ (سیر الاقطاب، ص:183) ـ
آپ کی برکت سے امتِ محمدیہ کے تمام مُردوں سے عذابِ قبر اٹھا لیا گیا: مجمع البحرین، شیخ المحققین میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ قاضی حمید الدین علیہ الرحمہ کی روایت سے فرماتے ہیں: ’’ میں دفن کے بعد آپ کی قبر پر موجود رہا، منکر نکیر آئے اور نہایت ادب سے بیٹھ گئے ۔
اسی دوران دو فرشتے اور آگئے ۔ حق تعالیٰ جل شانہ کا سلام حضرت قطب الاقطاب کو پہنچایا ۔ پھر ایک تحریر آپ کو دے دی ۔
اس میں لکھا ہوا تھا کہ اے قطب الدین! ہم تم سے راضی ہیں، اور تمھاری برکت سے امتِ مصطفیٰ ﷺ کے تمام گنہگاروں کی قبر سے عذاب اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے کہ جس طرح زِندوں نے تم سے بہت فیض حاصل کیا ہے اسی طرح مردے بھی تم سے فیض پائیں، اور تمھاری قدر جانیں ‘‘ ۔ (سبع سنابل شریف مترجم، ص: 448) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-qutbuddin-bakhtiyar-kaki
جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ ۔ تمہارے چلے جانے سے خَلق خدا پریشان اور بے حال ہے ۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے دل جل کر کباب ہو جائیں ۔ جاؤ ۔ میں نے اس شہر کو ’’ تمہاری پناہ میں دے دیا ‘‘ ۔
حضرت خواجہ غریب نواز کا یہ ارشاد آج تک اپنی عظمت منوا رہا ہے ۔ حکومتیں بدلیں، سرحدیں تبدیل ہوئیں، لوگ بٹ گئے، لیکن یہ محبت و عقیدت آج بھی جولانی پر ہے ـ
قطب الاقطاب کی وہابیوں سے نفرت: سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا ۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کِس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہوا کہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر ’’ شیاطینِ وہابیہ ‘‘ کا قلع قمع کر دو ۔
آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتابِ مستطاب ’’ بوارقِ محمدیہ ‘‘ تالیف فرمائی ‘‘ ۔ ( نور نور چہرے، ص:203) ۔
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمہ کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ولادت کی بشارت عطاء فرمائی ’’ تمہارے یہاں فرزند پیدا ہوگا اُس کا نام قطبُ الدِین احمد رکھنا ‘‘ ۔ ( اَنفاسُ العارفین، ص:44) ۔
حضرت محبوبِ الٰہی فرماتے ہیں:
میں ایک مرتبہ آپ کی مرقد کی زیارت کے لئے جا رہا تھا تو دل میں ایک وسوسہ پیدا ہوا کہ آیا صاحبِ قبر ہماری طرف توجہ بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
جب میں روضے میں داخل ہوا ۔ تو ایک شعر سنائی دیا ۔ جس کا مفہوم یہ ہے: ’’ تم مجھے اپنی طرح زندہ جانو، اگر تم میری قبر پر جسم کے ساتھ آتے ہو، تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں ‘‘ ۔ (سیر الاولیاء، ص:109) ـ
تاریخِ وصال:
بروز پیر 14 ربیع الاول 635ھ / مطابق 30 نومبر 1237ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
نماز جنازہ کی وصیت:
سیر الاقطاب میں ہے کہ جب جنازہ تیار ہو گیا تو خواجہ ابو سعید نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرا یہ راز کسی پر فاش نہ ہو ۔ مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کر دیا ۔ (سیر الاقطاب، ص:183) ـ
آپ کی برکت سے امتِ محمدیہ کے تمام مُردوں سے عذابِ قبر اٹھا لیا گیا: مجمع البحرین، شیخ المحققین میر سید عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ قاضی حمید الدین علیہ الرحمہ کی روایت سے فرماتے ہیں: ’’ میں دفن کے بعد آپ کی قبر پر موجود رہا، منکر نکیر آئے اور نہایت ادب سے بیٹھ گئے ۔
اسی دوران دو فرشتے اور آگئے ۔ حق تعالیٰ جل شانہ کا سلام حضرت قطب الاقطاب کو پہنچایا ۔ پھر ایک تحریر آپ کو دے دی ۔
اس میں لکھا ہوا تھا کہ اے قطب الدین! ہم تم سے راضی ہیں، اور تمھاری برکت سے امتِ مصطفیٰ ﷺ کے تمام گنہگاروں کی قبر سے عذاب اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے کہ جس طرح زِندوں نے تم سے بہت فیض حاصل کیا ہے اسی طرح مردے بھی تم سے فیض پائیں، اور تمھاری قدر جانیں ‘‘ ۔ (سبع سنابل شریف مترجم، ص: 448) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-qutbuddin-bakhtiyar-kaki
scholars.pk
Hazrat Khwaja Syed Muhammad Qutbuddin Bakhtiyar Kaki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-03-1445 ᴴ | 30-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2