🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت پیر سیّد انور حسین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ:

آپ کی ولادت با سعادت ۱۵؍نومبر ۱۹۲۱ء مطابق ۱۴؍ربیع الاول شریف ۱۳۴۰ھ بروز منگل ہوئی۔ مدرسہ نقشبندیہ علی پور شریف سے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ کئی سال تک ’’مسجد نور‘‘ میں قرآن پاک سنایا۔ آپ بڑے عابد و زاہد، متقی و پرہیزگار اور کامل ولی اللہ تھے۔ آپ کی وفات ۵؍رمضان المبارک ۱۳۹۲ھ مطابق ۴؍اکتوبر ۱۹۷۲ء کو ہوئی اور روضۂ امیر ملّت رحمۃ اللہ علیہ سے ملحقہ حضرے میں اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔

(مزید حالات کے لیے ’’سیرِ انور‘‘ مرتبہ کلیم حیدرآبادی اور راقم الحروف کی کتاب تذکرہ اولیائے علی پور سیّداں‘‘ کا مطالعہ انتہائی سود مند رہے گا۔ قصوؔری)

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-anwar-hussain-shah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا الحاج شاہ حمیدالرحمٰن قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

دنیائے اہل سنت کی ایک عظیم ہستی محب اعلیٰ حضرت سرکار محبی پوکھریروی رحمتہ اللہ علیہ کےجانشین حضور محبوب الاولیاء مولانا الحاج الشاہ حمید الرحمن قادری کا وصال پر ملال ۱۴ ربیع الاول ۱۴۳۷ھ کوشام ۴ بج کر۱۱منٹ پرہوا تھا۔ نمازِ جنازہ ۱۶ ربیع الاول ۱۴۳۷ھ بروز پیر کو صبح ۱۰ بجے پوکھیرا شریف میں ادا کی گئی تھی۔

یہ سرکار محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی کے آخری خلیفہ مجاز تھے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-shah-hameed-ur-rehman-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ مصطفیٰ رفیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
شیخ مصطفیٰ بن طیب بن احمد بن مصطفیٰ رفیقی: ابو احمد کنیت تھی، ۱۲۲۶ھ میں پیدا ہوئے ۔

عالم عامل، فاضل کامل، فقیہ محدث، حسن المحاضرہ، بلیغ العبارہ، حاضر البدیہ، شاعر موزون، مؤرخ جید تھے ـ

تعلیم:
صحاح ستہ اور کتبِ تصوف مثل عوارف و تعرف اور احیاء العلوم کو اپنے باپ سے پڑھا اور نسخ کیا اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ کو اپنے زمانہ کے فضلاء اور حفاظ سے حاصل کیا ـ

سیرت:
ہمیشہ طاعات و عبادات میں مشغول رہتے تھے، آپ سے شیخ بہاء الدین و شیخ احمد و شیخ احسن اور شیخ عبد الشکور رفیقی وغیرہ نے اخذ کیا ـ

وصال:
جمعہ کے روز 14 ربیع الاول ۱۲۹۴ھ میں وفات پائی ۔

تاریخ وفات آپ کی ’’ ادخلہ اللہ الجنۃ بلاحساب ‘‘ سے نکلتی ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-mustafa-rafeeqi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ محمد عیسیٰ جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ جونپور کے بڑے اولیاء اللہ میں سے تھے۔ ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ کی راہ پر صدق دل سے چلتے ہیں آپ صاحب مقامات عالیہ اور احوال مفیدہ تھے ۔ آپ کی ولایت اور عظمت و کرامت پر سب کا اتفاق ہے ۔

بیعت:
آپ شیخ فتح اللہ اودھی کے مرید تھے ۔

آپ کے والد بزرگوار شیخ احمد عیسیٰ دہلی کے باعزت لوگوں میں سے تھے ۔ امیر تیمور جب دہلی آیا تو اکثر بڑے بڑے لوگ جونپور چلے گئے تھے ۔ انہیں لوگوں میں شیخ احمد عیسیٰ بھی شامل تھے ۔ جس وقت دہلی میں فسادات شروع ہوئے اور شیخ محمد عیسیٰ کے والد جونپور کی طرف روانہ ہوئے اس وقت آپ کی عمر سات آٹھ برس کے لگ بھگ تھی ۔

آپ بچپن ہی کے سعادت ازلی اور طبعی استعداد کی وجہ سے شیخ فتح اللہ کے مرید ہو گئے اور شیخ کے ارشاد پر ہی آپ نے ایک دراز مدت تک ملک العلماء قاضی شہاب الدین سے علوم نقلیہ اور عقلیہ کی تعلیم حاصل کی ۔

قاضی صاحب نے اصول بزد دی کی شرح بحث امر تک لکھی تھی ۔ آپ نے اس کے مطابق اس کی تکمیل کردی تھی ۔ علوم ظاہری سے فراغت حاصل کرنے کے بعد پھر تذکیہ قلب کے لیے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور باطنی علوم کو مکمل طور پر حاصل کیا اور باطن کی صفائی میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ ظاہر سے یکسر بے خبر ہوگئے ۔

مشہور ہے کہ اتفاق سے آپ کے کمرے میں سامنے ایک درخت خود بخود پیدا ہوا اور خوب بڑھا مگر آپ کو مدت دراز تک اس درخت کی خبر نہ ہوئی چنانچہ ایک دن جس جگہ پر آپ بیٹھے تھے اس درخت کے چند پتے گرے تو لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ پتے کہاں سے آئے ہیں؟ پھر لوگوں نے تمام کیفیت سے آگاہ کیا تب جاکر آپ کو خبر ہوئی کہ یہ پتے اس درخت کے ہیں جو اس مکان کے دروازے پرہی اگا اور بڑھا ہے ۔

آپ ہمیشہ مراقبہ میں رہا کرتے تھے ۔ جسم کی تمام ہڈیاں اُبھر آئی تھیں اسی طرح سینہ اور ٹھوڑی بھی اندر کو گھس گئے تھے ۔ آپ کا مزار جونپور میں ہے ۔

میں عِشق میں یوں گم ہوجاؤں ہرگز نہ پتہ اپنا پاؤں (آمین)

( اخبار الاخیار )

آپ شیخ فتح اللہ جونپوری کے خلیفہ اعظم تھے شیخ احمد عیسیٰ آپ کے والد ماجد دہلی کے معروف افراد میں سے تھے ۔ تیمور بادشاہ کے حملہ کے وقت یہ لوگ دہلی چھوڑ کر جونپور چلے گئے اور وہاں ہی رہنے لگے ۔ شیخ محمد عیسیٰ ابھی بچے ہی تھے کہ شیخ ابو الفتح کی مجلس میں حاضری دیا کرتے تھے اس طرح آپ کو فقراء اور درویشوں سے محبت ہو گئی حضرت شیخ ابو الفتح کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہوئے ملک العلماء قاضی شہاب الدین سے ظاہری علوم حاصل کیے ۔

اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ شیخ محمد عیسیٰ کو عبادت اللہ میں اس قدر استغراق تھا کہ آپ کی نشست گاہ کے پاس ایک درخت اگا وہ بڑا ہوتا گیا حتیٰ کہ آپ نے ایک دن اپنی نشست پر کچھ پتے گرے پائے پوچھا کہ یہ پتے کہاں سے آگئے لوگوں نے بتایا آپ کے سر پر ایک درخت بلند ہوگیا ہے اس دن سے آپ کو پتہ چلا کہ یہ درخت ایک عرصہ سے آپ کی نشست گاہ پراگ ہے آپ ہمیشہ مراقبہ میں رہتے آپ کی گردن کی ہڈیاں اُبھر آئی تھیں اور آپ کی ٹھوڑی سینے کو لگتی تھی ۔

وصال:
آپ کا وصال ۹۱۱ھ کو ہوا مزار مبارک جونپور میں ہے ۔

براوج چرغ مسکن یافت آخر
چو عیسیٰ آں ولی عیسیٰ ثانی
خرد فرمود سال ارتحالش
میحادم ز کی عیسیٰ ثانی
۹۱۱ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-essa-jonpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی الله تعالیٰ عنه

نام و نسب:
اسم گرامی:
سید محمد بختیار ۔ لقب: قطب الدین، کاکی ۔ مکمل نام: سید محمد قطب الدین بختیار کاکی ـ آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔

(سیر الاقطاب، ص:168 / اقتباس الانوار، ص:392 / خزینۃ الاصفیاء، ص:77) ـ

کاکی کی وجہ تسمیہ:
اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: کاک ’’ کُلچے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔حضرت کو ایک مرتبہ چند (دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہو گئے ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 482) ۔

اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے ۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دِن کے فاقے بھی ہو چکے تھے ۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا ۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مر جاؤ ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوں‌گی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کر دی ۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو ۔ (سیرالاقطاب، ص:174) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’ اوش ‘‘ وادیِ ’’ فرغانہ ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:48 / انسائیکلو پیڈیا) ـ

ولادت سے قبل بشارت:
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہو گیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی ۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہو گیا ۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے ۔ پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی ۔(اقتباس الانوار، ص:392 / سیر الاقطاب، ص:169) ـ

تحصیلِ علم:
ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی ۔

عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے ۔ یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سائے میں کی جائے ۔

جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابو حفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آ گئے ۔ ان سے فرمایا: ’’ احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے ۔ استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں ‘‘ ۔ (اقتباس الانوار، ص:394) ـ

سبع سنابل اور سیر الاقطاب میں ہے:
کہ جب استاد ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں ۔ استاد نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں ۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کر لئے ہیں ۔ (سیر الاقطاب، ص:169) ۔

آپ تمام علوم مروجہ کے عالمِ کامل تھے۔
2