🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں:  ’’علم ِ سینہ من در ذاتِ  شیخ نظام الدین بدایونی ،  وعلم ِدل من ذات ِ شیخ علاء الدین احمدسرایت کردہ‘‘۔یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر﷫ فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے،اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:67/خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)۔شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر﷫  کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی،تواضع وانکساری،اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔تو آپ نے خوش ہوکر فرمایا: نظام الدین محبوبِ الہ ہیں،اور علاء الدین عاشق ِ الہ ہیں۔(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)

آپ﷫ ایک درویش کی طرح  کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک  بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ﷫ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز  ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔

اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل  و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر  لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں  جس نے حضرت شیخ فرید الدین ﷫ کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے  یہ کام کیسے کرسکتاہے۔

تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ﷫ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-03-1445 ᴴ | 28-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1