تھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہےپِھر دروازہ کُھلا،اس آسمان پر ہم کیا دیکھتے کہ یوسف علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضورﷺ فرماتے ہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہااور دعأِ خیر کی۔
پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس آسمان پر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر دروازہ کُھلا، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر آسمان کُھلا ،وہاں ہم دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعأِ خیر کی۔نبی ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے،آواز آئی ،آپ نے گِریہ کیوں کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،اے میرے رب یہ کتنے کم عمر ہیں ،ان کو تو نے میرے بعد بھیجا اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔
پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس کے بعد آسمان کا دروازہ کُھلا ،وہاں میں کیادیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔انکا اندازِ نشیست یہ ہے کہ اپنی پُشت ’’بیت معمور‘‘
کی طرف کئے ہوئے ہیں ،اس ’’بیت معمور‘‘ میں روزانہ ایسے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو پھر دوبارہ یہ موقع نہیں ملتا پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتھیٰ تک لے گئے ،اس شجرِمبارک کے پتےّ ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل مٹکے جیسے،حضور ﷺ فرماتے ہیں ،اللہ کے حکم سے اس کو کسی شئے نے ڈھک لیا ،یہ اللہ تعالیٰ ہی جانے۔اس کا عالم ہی بدل گیا ،کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی صفت و حسن بیان کر سکے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وحی کی ۔[16]
’’اس کا نام سدرۃُ المنتھیٰ ‘‘کیوں ہے اس کی وجہ امام نووی نے یہ بتائی ہے کہ ملائکہ کا علم اس سدرہ‘‘تک اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے آگے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہ جاسکا اس لیے اسے ’’سدرۃ المنتھیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔[17]
وَلَیْلَۃُ الْمِعْرَاجِ اَجْلیٰ آٰیَۃِ اِذْ سَارَ مِنْ مَّکَّۃَلَیْلَاَ وَّسَریٰ
شب معراج روشن ترین معجزہ ہے، جب آپ مکہ مکرمہ سے رات میں اس سفر پر روانہ ہوئے۔
فَاخْتَرَقَ السَّبْعَ الطِّبَاقَ صَاعِدَا حَتَّی انْتَھٰی مِنْھَا لِأَعْلیٰ مُنْتَھٰی
آسمان کے ساتوں طبقوں کو چڑھتے ہوئے سدرۃالمنتہیٰ سے کہیں اعلیٰ مقام تک آپ تشریف لے گئے۔
وَائْتَمَّ سُکَّانُ السَّمٰوَاتِ بِہِ مِنْ مَّلَکِ وَّمِنْ نَبِیِّ مُّجْتَبٰی
آسمان کے سب بسنے والے فرشتے اور برگزیدہ انبیاء آپ کی پیروی میں رہے۔
سَاَیَرَہٗ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَشْرَفَا مَعَا عَلیٰ بِجَارِ نُوْرِوَّ سَنَا
جبرائیل امین آپ کے رفیقِ سیر رہے اور پھر یہ دونوں حضرات نور کے سمندروں سے گزر کر بلند رفعتوں تک پہنچے۔
فَقَالَ جِبْرِیْلُ تَقَدَّمْ رَاشِدَا ھَذٰا مَقَامِیْ فِیْ السَّمٰوَاتِ الْعُلَا
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے عرض کیا آپ اور آگے بڑھیں اپنی منزل کی جانب میں تو اپنی بلند آسمانوں کی آخری منزل تک پہنچ چکا۔
فَاخْتَرَقَ الْأَنْوَارَیَمْشِیْ وَحْدَہٗ وَالْحُجْبُ تَنْجَابُ لَہٗ حَیْثُ انْتَھٰی
اب تنھا عالمِ انوار شق کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور جس رُخ پرجارہے ہیں حجا بات اُٹھتے جاتے ہیں۔
وَقَامَتِ الْاَمْلَاکُ اِجْلَالَا لَّہٗ أَمَامَہٗ یَسْعَوْنَ حَیْثُ مَاسَعٰی
آپ کی تعظیم میں فر
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہےپِھر دروازہ کُھلا،اس آسمان پر ہم کیا دیکھتے کہ یوسف علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضورﷺ فرماتے ہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہااور دعأِ خیر کی۔
پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس آسمان پر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر دروازہ کُھلا، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر آسمان کُھلا ،وہاں ہم دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعأِ خیر کی۔نبی ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے،آواز آئی ،آپ نے گِریہ کیوں کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،اے میرے رب یہ کتنے کم عمر ہیں ،ان کو تو نے میرے بعد بھیجا اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔
پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس کے بعد آسمان کا دروازہ کُھلا ،وہاں میں کیادیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔انکا اندازِ نشیست یہ ہے کہ اپنی پُشت ’’بیت معمور‘‘
کی طرف کئے ہوئے ہیں ،اس ’’بیت معمور‘‘ میں روزانہ ایسے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو پھر دوبارہ یہ موقع نہیں ملتا پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتھیٰ تک لے گئے ،اس شجرِمبارک کے پتےّ ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل مٹکے جیسے،حضور ﷺ فرماتے ہیں ،اللہ کے حکم سے اس کو کسی شئے نے ڈھک لیا ،یہ اللہ تعالیٰ ہی جانے۔اس کا عالم ہی بدل گیا ،کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی صفت و حسن بیان کر سکے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وحی کی ۔[16]
’’اس کا نام سدرۃُ المنتھیٰ ‘‘کیوں ہے اس کی وجہ امام نووی نے یہ بتائی ہے کہ ملائکہ کا علم اس سدرہ‘‘تک اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے آگے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہ جاسکا اس لیے اسے ’’سدرۃ المنتھیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔[17]
وَلَیْلَۃُ الْمِعْرَاجِ اَجْلیٰ آٰیَۃِ اِذْ سَارَ مِنْ مَّکَّۃَلَیْلَاَ وَّسَریٰ
شب معراج روشن ترین معجزہ ہے، جب آپ مکہ مکرمہ سے رات میں اس سفر پر روانہ ہوئے۔
فَاخْتَرَقَ السَّبْعَ الطِّبَاقَ صَاعِدَا حَتَّی انْتَھٰی مِنْھَا لِأَعْلیٰ مُنْتَھٰی
آسمان کے ساتوں طبقوں کو چڑھتے ہوئے سدرۃالمنتہیٰ سے کہیں اعلیٰ مقام تک آپ تشریف لے گئے۔
وَائْتَمَّ سُکَّانُ السَّمٰوَاتِ بِہِ مِنْ مَّلَکِ وَّمِنْ نَبِیِّ مُّجْتَبٰی
آسمان کے سب بسنے والے فرشتے اور برگزیدہ انبیاء آپ کی پیروی میں رہے۔
سَاَیَرَہٗ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَشْرَفَا مَعَا عَلیٰ بِجَارِ نُوْرِوَّ سَنَا
جبرائیل امین آپ کے رفیقِ سیر رہے اور پھر یہ دونوں حضرات نور کے سمندروں سے گزر کر بلند رفعتوں تک پہنچے۔
فَقَالَ جِبْرِیْلُ تَقَدَّمْ رَاشِدَا ھَذٰا مَقَامِیْ فِیْ السَّمٰوَاتِ الْعُلَا
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے عرض کیا آپ اور آگے بڑھیں اپنی منزل کی جانب میں تو اپنی بلند آسمانوں کی آخری منزل تک پہنچ چکا۔
فَاخْتَرَقَ الْأَنْوَارَیَمْشِیْ وَحْدَہٗ وَالْحُجْبُ تَنْجَابُ لَہٗ حَیْثُ انْتَھٰی
اب تنھا عالمِ انوار شق کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور جس رُخ پرجارہے ہیں حجا بات اُٹھتے جاتے ہیں۔
وَقَامَتِ الْاَمْلَاکُ اِجْلَالَا لَّہٗ أَمَامَہٗ یَسْعَوْنَ حَیْثُ مَاسَعٰی
آپ کی تعظیم میں فر
شتے آپ کے سامنے کھڑے ہو جاتےہیں جہاں آپ تشریف لے جاتے ہیں آپ کے ساتھ فرشتے جاتے ہیں۔
نَادَاہُ فِیْ ذَاکَ الْمَقَامِ رَبُّہٗ یَاصَفْوَۃَالْخَلْقِ اَدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا
بارگاہِ ذولجلال میں آپ حاضر ہوتے ہیں آپ کا رب آپ کو آواز دیتا ہےاے افضل خلق مجھ سے قریب ہوجا اور آپ قربِ خاص میں پہنچ گئے۔
فَکَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ عُلَا مَا کَذَبَ اِذْ ذَاکَ الْقُوادُمَارَأیٰ
پھر آپ اس قدر قریب ہوئے کہ قابَ قوسین دو کمانوں کا فاصلہ میں پہنچے،اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی۔
اس قرب خاص میں حبیب کریم ﷺ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ،اس کے بعد آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟نبی ﷺ نے فرمایا ،پچاس نمازیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؟آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس میں کمی کرائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی متحمل نہ ہوگی ، میرے پاس بنی اسرائیل کا تجربہ ہے، نبیﷺ اپنے خالق و مالک کے پاس واپس گئے اور عرض کیا ،میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،میرے رب میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں ،پھر نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آکر خبر دی کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہ رکھ سکےگی آپ پھرواپس تشریف لے جائیں اور اس میں کمی کرائیں ،نبیﷺ پھر اپنے رب کے پاس حاضر ہوئے اور کم کرنے کے لیے درخواست کی اور اس مرتبہ اور ہر مرتبہ آپ نے یہی عرض کیا ،میری آمت یہ نہ کرسکے گی ،میری امت یہ نہ کرسکے گی، میری امت یہ نہ کرسکے گی،اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آپ واپس آتے رہے اور وہ حضورﷺ کو ان کے رب کے پاس بھیجتے رہے جب بات پانچ نمازوں پر آگئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا ،اے محمد ﷺیہ شب و روز میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے اس طرح یہ پچاس کے برابر ہیں ،اور اسی طرح جس شخص نے ایک نیکی کا ارادہ کیا اور پوری نہ کی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی گئی اور اگر نیکی اس نے کر ڈالی تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور برائی نہ کی اس کے لیے کچھ نہ لکھا گیا اور اگر برائی کر ڈالی تو اس کے لیے ایک برائی لکھ دی گئی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور یہ تفصیل بتائی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ،آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور نماز کم کرائیں ،نبی ﷺ نے فرمایا ،میں رب کے پاس کتنی دفعہ جاچکا ہوں اور اب مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی و ضاحت کرتے ہیں کہ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس رات میں فرشتوں کی عبادت کا مشاہدہ کیا ہے ،آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے وہ ہیں جو کھڑے کھڑے عبادت میں مصروف ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم ِ رکوع میں مصروف ِ عبادت ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم سجدہ میں ہیں اور سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ،رب تعالیٰ نے عبادت کے یہ انداز آپ کو دیکھائے اور پھر ان سب عبادتوں کو ایک رکعت میں جمع کردیا بشرطیکہ بندہ اطمینان و اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرے۔[18]
نبی گرامیﷺجنت میں تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں کا عالم یہ دیکھا کہ جنت کے گنبدموتی کے ہیں اور زمین مشک کی ہے۔[19]
وفی لیلۃ المعراج اعطی منصبا رفیعا من التشریف لیس یضاھی
شبِ معراج صاحب ِمعراج نبی مکرم ﷺ کو شرف و مَجد کا وہ عظیم مرتبہ ملا جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔
رای جنۃ الماوی وما فوقھا ولو رای بعض مراہ سواہ لتا ھا
آپ نے جنت اور اس کے اوپر کے ایسے مناظر و مشاہد دیکھے کہ ان مسحور کُن مناظر کو اگر آپ کے علاوہ کوئی دیکھتا تو اس کے حواس گم ہو جاتے۔
فما خانہ قلب ولا بصر طغی ولا زاع عن اشیائ کان یراھا
جو مناظر آپ نے دیکھے دل نے اس کی تصدیق کی اور چشم مبارک ان مناظر کے دیکھنے میں نہ کج ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے ہم شکل تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا، وہ تویل قامت اور گندم گوں تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے سلسلے میں فرمایا، ان کا قد درمیانہ اور بال گھنگریالے تھے، اسی ضمن میں حضور ﷺنے دارو غۂ جہنم مالک کا بھی تذکرہ کیا معراج کی تاریخی سیر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل باروعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں فرمایا، کہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی تعداد ۶۰۰ ہے، کہ سارے ہی پر زبر جد، موتی اور یاقوت سے پروئے ہوئے ہیں اور ان کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ جبرئیل ان پروں سے اُفَقِ آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ سے روا
نَادَاہُ فِیْ ذَاکَ الْمَقَامِ رَبُّہٗ یَاصَفْوَۃَالْخَلْقِ اَدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا
بارگاہِ ذولجلال میں آپ حاضر ہوتے ہیں آپ کا رب آپ کو آواز دیتا ہےاے افضل خلق مجھ سے قریب ہوجا اور آپ قربِ خاص میں پہنچ گئے۔
فَکَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ عُلَا مَا کَذَبَ اِذْ ذَاکَ الْقُوادُمَارَأیٰ
پھر آپ اس قدر قریب ہوئے کہ قابَ قوسین دو کمانوں کا فاصلہ میں پہنچے،اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی۔
اس قرب خاص میں حبیب کریم ﷺ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ،اس کے بعد آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟نبی ﷺ نے فرمایا ،پچاس نمازیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؟آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس میں کمی کرائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی متحمل نہ ہوگی ، میرے پاس بنی اسرائیل کا تجربہ ہے، نبیﷺ اپنے خالق و مالک کے پاس واپس گئے اور عرض کیا ،میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،میرے رب میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں ،پھر نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آکر خبر دی کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہ رکھ سکےگی آپ پھرواپس تشریف لے جائیں اور اس میں کمی کرائیں ،نبیﷺ پھر اپنے رب کے پاس حاضر ہوئے اور کم کرنے کے لیے درخواست کی اور اس مرتبہ اور ہر مرتبہ آپ نے یہی عرض کیا ،میری آمت یہ نہ کرسکے گی ،میری امت یہ نہ کرسکے گی، میری امت یہ نہ کرسکے گی،اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آپ واپس آتے رہے اور وہ حضورﷺ کو ان کے رب کے پاس بھیجتے رہے جب بات پانچ نمازوں پر آگئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا ،اے محمد ﷺیہ شب و روز میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے اس طرح یہ پچاس کے برابر ہیں ،اور اسی طرح جس شخص نے ایک نیکی کا ارادہ کیا اور پوری نہ کی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی گئی اور اگر نیکی اس نے کر ڈالی تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور برائی نہ کی اس کے لیے کچھ نہ لکھا گیا اور اگر برائی کر ڈالی تو اس کے لیے ایک برائی لکھ دی گئی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور یہ تفصیل بتائی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ،آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور نماز کم کرائیں ،نبی ﷺ نے فرمایا ،میں رب کے پاس کتنی دفعہ جاچکا ہوں اور اب مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی و ضاحت کرتے ہیں کہ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس رات میں فرشتوں کی عبادت کا مشاہدہ کیا ہے ،آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے وہ ہیں جو کھڑے کھڑے عبادت میں مصروف ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم ِ رکوع میں مصروف ِ عبادت ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم سجدہ میں ہیں اور سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ،رب تعالیٰ نے عبادت کے یہ انداز آپ کو دیکھائے اور پھر ان سب عبادتوں کو ایک رکعت میں جمع کردیا بشرطیکہ بندہ اطمینان و اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرے۔[18]
نبی گرامیﷺجنت میں تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں کا عالم یہ دیکھا کہ جنت کے گنبدموتی کے ہیں اور زمین مشک کی ہے۔[19]
وفی لیلۃ المعراج اعطی منصبا رفیعا من التشریف لیس یضاھی
شبِ معراج صاحب ِمعراج نبی مکرم ﷺ کو شرف و مَجد کا وہ عظیم مرتبہ ملا جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔
رای جنۃ الماوی وما فوقھا ولو رای بعض مراہ سواہ لتا ھا
آپ نے جنت اور اس کے اوپر کے ایسے مناظر و مشاہد دیکھے کہ ان مسحور کُن مناظر کو اگر آپ کے علاوہ کوئی دیکھتا تو اس کے حواس گم ہو جاتے۔
فما خانہ قلب ولا بصر طغی ولا زاع عن اشیائ کان یراھا
جو مناظر آپ نے دیکھے دل نے اس کی تصدیق کی اور چشم مبارک ان مناظر کے دیکھنے میں نہ کج ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے ہم شکل تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا، وہ تویل قامت اور گندم گوں تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے سلسلے میں فرمایا، ان کا قد درمیانہ اور بال گھنگریالے تھے، اسی ضمن میں حضور ﷺنے دارو غۂ جہنم مالک کا بھی تذکرہ کیا معراج کی تاریخی سیر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل باروعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں فرمایا، کہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی تعداد ۶۰۰ ہے، کہ سارے ہی پر زبر جد، موتی اور یاقوت سے پروئے ہوئے ہیں اور ان کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ جبرئیل ان پروں سے اُفَقِ آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ سے روا
یت ہے آپ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا، یہ کیا بات ہے کہ میں جس آسمان پر پہنچا وہاں والوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور مسرت و شادمانی کا اظہار کیا، علاوہ ایک فرشتہ کہ میں نے اسے سلام کیا اس نے جواب تو دیا اور خوش آمدید بھی کہا لیکن خوش نہ ہوا اور نہ ہنسا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا، حضور ! یہ خازنِ جہنم مالک ہے، اپنی پیدائش سے لے کر اب تک اسے کبھی ہنسی نہ آئی اگر وہ کسی کے لیے ہنستا تو آپ کے لیے ہنستا اور خوش ہوتا۔
ترمذی نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ: ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے آپ کا گزر ہوا ان سب نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم ضرور دیں گے۔[20]
سریت من حرم لیلا الی حرم کما سری البد رفی داج من الظلم
آپ رات میں ایک حرم سے دوسرے حرم کے لیے اس طرح چلے جیسے چودھویں رات کا چاند سخت تاریکی میں چلا کرتا ہے۔
وبت ترقی الی أن نلت منزلۃ من قاب قوسین لم تدرک ولم ترم
آپ شب میں مدارجِ رفعت طے کرتے کرتے قاب قوسین کے مرتبہ کو پہنچے جو نہ کسی کو ملا اور نہ کسی نے اس کا قصد کیا۔
وقد متک جمیع الأ نبیاء بھا والرسل تقدیم مخدوم علی خدم
آپ کو تمام انبیاء و رسل نے امامت کے لیے آگے بڑھایا اس طرح سے جیسے مخدوم کو خادمین پر آگے کیا جاتا ہے۔
وانت تخترق السبع الطباق بھم فی موکب کنت فیہ صاحب العلم
آپ آسمان کے ساتوں طبقوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے آپ کے ساتھ جو قافلہ تھا اس کے آپ صاحبِ پرچم اور قائدِ اعلیٰ تھے۔
اے اللہ! تو کروڑوں درود اس نبی کریم ﷺ پر نازل فرما اورہمیں ان کی شفاعت کا اعزاز عطا فرما۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خواب کے چند مناظر میں دیکھا ،یہ بھی حق ہے، ان خرابیوں کو معتبر آئمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔ امام بخاری نےنبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: رات میرے پاس دو آنے والے آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس پہنچے، وہاں ایک دوسرا شخص ایک بڑا پتھر لیے کھڑا ہے اور یکایک وہ اس پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے اور پتھرسے اس کا سر چور چور کر دیتا ہے پتھر نیچے کی طرف گرتا ہے، وہ پتھر کی طرف بڑھتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، یہ شخص پھر اس کے پاس آتا ہے۔ اس کے آتے آتے اس کا سر پہلے کی طرح درست ہوجاتا ہے، پھر یہ شخص اس کو پہلے ہی کی طرح پتھر مارتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے پوچھا، یہ دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے شخص کے پاس پہنچے، جو چت لیٹا ہوا تھا اور اس کے پاس بھی ایک دوسرا شخص لوہے کی سلاخ لے کھڑا تھا اور یکایک وہ اس کے آدھے چہرے کو سلاخ سے اس طرح کھینچتا کہ اس کے جبڑے کو پھاڑ کر اس کے پیچھے کی گُدی تک اورنرخرہ اور اس کی آنکھ کو بھی گُدی تک پہنچا دیتا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے کہا سبحان اللہ! یہ کون ہے؟ فرشتوں نے پھر مجھ سے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے مقام پر پہنچے جہاں تندور جیسی ایک عمارت تھی وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ شوروغل بپا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر ننگے مرد اور عورتیں ہیں اور آگ کے شعلے ان کے نیچے کی طرف سے آتے ہیں جب یہ شعلے بڑھ کر ان کےپاس آتے ہیں یہ شور مچاتے ہیں حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے کہا، یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا آگے چلیں، ہم اور آگے بڑھے اور خون جیسی سرخ نہر پر پہنچے، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ نہر میں ایک تیرنے والا تیرتا ہے اور ایک دوسرا شخص نہر کے کنارے پر ہے جس نے بہت سارے پتھر جمع کر رکھے ہیں، جب وہ تیرنے والا تیرتا ہے پھر وہ شخص آتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر جمع کر رکھے ہیں اور تیرنے والا شخص اپنا منہ کھولتا ہے اور یہ شخص پتھر کا ایک لقمہ دے مارتا ہے، پھر وہ تیرنے لگاتا ہے پھر واپس آتا ہے جب ،جب یہ آتا ہے اپنا منہ کھول دیتا ہے اور دوسرا شخص اس کو ایک پتھر کا لقمہ دے مارتا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا، یہ دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں آگے چلیں ،پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو انتہا درجہ کا بد شکل تھا، وہاں ہم نے یہ دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ بڑھکا رہا ہے میں نے فرشتوں سے کہا یہ کیا ہے؟ پھر ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، ہم او ر آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو سبزوں کی زیادتی کے باعث سیاہ تھا اور اس میں فصلِ بہار کی ہر طرح کی کلیاں کِھلی ہوئی تھیں اور اس باغ کے بیچ میں ایک اتنے لمبے انسان ہیں کہ فضا ئے آسمان میں ان کے سر کی بلندی نظر نہ آتی تھی اور کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس اتنی زیادہ اولاد ہےجن کو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا یہ کون ہیں؟ اور یہ کون لوگ ہیں، ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایک اتنے بڑے باغ میں پہنچے کہ اس سے بڑا اور اچھا باغ میں
ترمذی نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ: ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے آپ کا گزر ہوا ان سب نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم ضرور دیں گے۔[20]
سریت من حرم لیلا الی حرم کما سری البد رفی داج من الظلم
آپ رات میں ایک حرم سے دوسرے حرم کے لیے اس طرح چلے جیسے چودھویں رات کا چاند سخت تاریکی میں چلا کرتا ہے۔
وبت ترقی الی أن نلت منزلۃ من قاب قوسین لم تدرک ولم ترم
آپ شب میں مدارجِ رفعت طے کرتے کرتے قاب قوسین کے مرتبہ کو پہنچے جو نہ کسی کو ملا اور نہ کسی نے اس کا قصد کیا۔
وقد متک جمیع الأ نبیاء بھا والرسل تقدیم مخدوم علی خدم
آپ کو تمام انبیاء و رسل نے امامت کے لیے آگے بڑھایا اس طرح سے جیسے مخدوم کو خادمین پر آگے کیا جاتا ہے۔
وانت تخترق السبع الطباق بھم فی موکب کنت فیہ صاحب العلم
آپ آسمان کے ساتوں طبقوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے آپ کے ساتھ جو قافلہ تھا اس کے آپ صاحبِ پرچم اور قائدِ اعلیٰ تھے۔
اے اللہ! تو کروڑوں درود اس نبی کریم ﷺ پر نازل فرما اورہمیں ان کی شفاعت کا اعزاز عطا فرما۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خواب کے چند مناظر میں دیکھا ،یہ بھی حق ہے، ان خرابیوں کو معتبر آئمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔ امام بخاری نےنبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: رات میرے پاس دو آنے والے آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس پہنچے، وہاں ایک دوسرا شخص ایک بڑا پتھر لیے کھڑا ہے اور یکایک وہ اس پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے اور پتھرسے اس کا سر چور چور کر دیتا ہے پتھر نیچے کی طرف گرتا ہے، وہ پتھر کی طرف بڑھتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، یہ شخص پھر اس کے پاس آتا ہے۔ اس کے آتے آتے اس کا سر پہلے کی طرح درست ہوجاتا ہے، پھر یہ شخص اس کو پہلے ہی کی طرح پتھر مارتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے پوچھا، یہ دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے شخص کے پاس پہنچے، جو چت لیٹا ہوا تھا اور اس کے پاس بھی ایک دوسرا شخص لوہے کی سلاخ لے کھڑا تھا اور یکایک وہ اس کے آدھے چہرے کو سلاخ سے اس طرح کھینچتا کہ اس کے جبڑے کو پھاڑ کر اس کے پیچھے کی گُدی تک اورنرخرہ اور اس کی آنکھ کو بھی گُدی تک پہنچا دیتا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے کہا سبحان اللہ! یہ کون ہے؟ فرشتوں نے پھر مجھ سے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے مقام پر پہنچے جہاں تندور جیسی ایک عمارت تھی وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ شوروغل بپا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر ننگے مرد اور عورتیں ہیں اور آگ کے شعلے ان کے نیچے کی طرف سے آتے ہیں جب یہ شعلے بڑھ کر ان کےپاس آتے ہیں یہ شور مچاتے ہیں حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے کہا، یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا آگے چلیں، ہم اور آگے بڑھے اور خون جیسی سرخ نہر پر پہنچے، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ نہر میں ایک تیرنے والا تیرتا ہے اور ایک دوسرا شخص نہر کے کنارے پر ہے جس نے بہت سارے پتھر جمع کر رکھے ہیں، جب وہ تیرنے والا تیرتا ہے پھر وہ شخص آتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر جمع کر رکھے ہیں اور تیرنے والا شخص اپنا منہ کھولتا ہے اور یہ شخص پتھر کا ایک لقمہ دے مارتا ہے، پھر وہ تیرنے لگاتا ہے پھر واپس آتا ہے جب ،جب یہ آتا ہے اپنا منہ کھول دیتا ہے اور دوسرا شخص اس کو ایک پتھر کا لقمہ دے مارتا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا، یہ دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں آگے چلیں ،پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو انتہا درجہ کا بد شکل تھا، وہاں ہم نے یہ دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ بڑھکا رہا ہے میں نے فرشتوں سے کہا یہ کیا ہے؟ پھر ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، ہم او ر آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو سبزوں کی زیادتی کے باعث سیاہ تھا اور اس میں فصلِ بہار کی ہر طرح کی کلیاں کِھلی ہوئی تھیں اور اس باغ کے بیچ میں ایک اتنے لمبے انسان ہیں کہ فضا ئے آسمان میں ان کے سر کی بلندی نظر نہ آتی تھی اور کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس اتنی زیادہ اولاد ہےجن کو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا یہ کون ہیں؟ اور یہ کون لوگ ہیں، ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایک اتنے بڑے باغ میں پہنچے کہ اس سے بڑا اور اچھا باغ میں
نے کبھی دیکھا نہ تھا، ان فرشتوں نے کہا اس میں آپ اوپر کی طرف جائیں حضور ﷺ فرماتے ہیں، ہم اس کے بلند حصوں کی طرف بڑھے اور ایک ایسے شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور دروازہ کُھلوایا دروازہ کُھلا اور ہم اس میں داخل ہوئے، اس شہر میں ہم سے کچھ ایسے لوگ ملے جن کا آدھا جسم نہایت خوبصورت اور حسین تھا اور کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کا آدھا جسم انتہائی بدصورت تھا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، فرشتوں نے ان سے کہا تم سب جاؤاور اس نہر میں کود پڑو ،حضور ﷺ فرماتے، ہم وہاں دیکھتے ہیں کہ سامنے ایسی نہر بہہ رہی ہے جس کا پانی دودھ کی طرح سفید، یہ لوگ گئے اور نہر میں کود پڑے، پھر ہمارے پاس ایسے عالم میں واپس آئے کہ ان کی بدصورتی جاتی رہی تھی اور وہ خوبصورت ترین ہوچکے تھے۔
فرشتوں نے بتایا، یہ ’’جنتِ عدن ‘‘ ہے اور یہ ہے آپ کی منزل ، حضور ﷺ فرماتے ہیں ، میری نگاہ اوپر اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ سفید بادل کی طرح ایک محل ہے، فرشتوں نے کہا : یہ آپ کی منزل ہے، میں نے فرشتوں سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا کرے، مجھے اس محل میں جانے دو؟ فرشتوں نے کہا، اب اس وقت نہیں۔ ہاں آپ اس میں ضرور داخل ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نے فرشتوں سے کہا رات میں نے بڑی عجیب عجیب چیزیں دیکھیں، کیا تم بتا سکتے ہو یہ کیا چیزیں تھیں؟ فرشتوں نے عرض کیا، ہاں اب ہم ان کے بارے میں بتائیں گے۔
پہلا وہ شخص جس کے پاس سے آپ گزرے جس کا سر پتھر سے توڑا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآنِ کریم اٹھاتا ہے پھر اس پر عمل نہیں کرتا اور فرض نماز سے غافل ہو کر سوتا ہے۔
دوسرا وہ شخص جس کا جبڑا توڑ کر اس کی گُدی تک اور اس کا نرخرہ اور آنکھ کھینچ کر اس کی گُدی تک پہنچا دی تھی یہ وہ شخص ہے جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے جو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جاتا ہے۔
رہے وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تندور جیسی عمارت میں تھے یہ سب زنا کار مرد و عورت ہیں۔
رہا وہ شخص جسے آپ نے نہر میں تیرتا اور منہ میں پتھر کے لقمے کی مار کھاتے دیکھا ہے یہ سود خور ہے۔
رہا وہ بد شکل آدمی جو آگ کے پاس آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ مالک دار وغۂ جہنم ہے۔
رہے باغ کے طویل ترین شخص تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے گرد جو اولاد تھی یہ وہ لوگ تھے جن کی موت فطرت پر ہوتی تھی،رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم اچھا اور آدھا جسم بُرا تھا یہ وہ لو گ ہیں جنہوں نے کبھی نیک اعمال کیا اور کبھی برا، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔[21]
سرت من مکۃ الی القدس للعرش الی حیث شاء ذو الا لاء
آپ نے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس ہوتے ہوئے عرش کی سیر کی پھر وہاں سے جہاں نعمتوں والے رب نے چاہا۔
ببراق لوحا ول البرق إدراک مداہ لباء بالا عیاء
یہ سیر آپ نے اس بُراق سے فرمائی جس کی بَرق رفتاری کا عالم یہ تھا کہ بَرق بھی اس کی رفتار کے مقابلہ کی کوشش کرتی تو عاجز درماندہ ہوجاتی۔
جزت لما سیرت یا بدر لیلا سیدرۃ النتھی من الابتداء
اے بدرِکامل رات کے مختصر عرصے میں سدرۃ المنتہیٰ کو آپ نے عبور کیا اور یہ آپ کے اصل سفرکی ابتداء تھی۔
لم تزل ترتقی سماء سماء لمحل خلا عن الرقباء
آپ مسلسل یکے بعد دیگرے آسمانوں سے گزرتے ہوئے ایسے مقام تک پہنچے جو نگہبانوں سے خالی ہے۔
سر ت بالجسم للسموات والروح ومرقاک فوق کل ارتقاء
آپ جسم و روح دونوں کے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچے اور آپ کا یہ اوپر کا سفر ہر بلندی کے سفر سے بالاتر ہے۔
وتسامیت مستوی حیت باری الخلق یجری أقلامہ بالقضاء
آپ اس مرکز سے بھی اور اوپر تشریف لے گئے جہاں خالقِ خلق اپنے قلموں سے فیصلے جاری کرتا ہے۔
ثم أوحی الیک رب البرایا أی سر فی ذالک الا یحاء
پھر رب کائنات نے آپ کو وحی کی، کتنے ہی راض ہیں اس وحی میں۔
شعراوی نے اپنی کتاب ’’معراج میں ‘‘ نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو ہر روز فصل لگاتے اور ہر روز فصل کاٹتے ہیں، اور ایسے ہی وہ فصل تیار ہوجاتی ہے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا، یہ مجاہدین ہیں ان کی نیکیاں بڑھا کر سات سو گُنے تک کر دی جاتی ہیں ۔
اسی طرح نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کے سر پتھر سے توڑے جاتے ہیں اور جب ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر پہلے کی طرح درست ہوجاتے ہیں اور سزا کی اس کاروائی میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یعنی عذاب کا یہ سلسلہ پیہم جاری رہتا ہے اور ان لوگوں کے بارے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا سر فرض نماز سے بوجھل ہوجاتے تھے۔ اسی طرح نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے، وہ اس طرح چررہے تھے کہ جیسے اونٹ یا بکریاں چرتی ہیں، اور جہنم کے پتھر وہ کھا رہے تھے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان
فرشتوں نے بتایا، یہ ’’جنتِ عدن ‘‘ ہے اور یہ ہے آپ کی منزل ، حضور ﷺ فرماتے ہیں ، میری نگاہ اوپر اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ سفید بادل کی طرح ایک محل ہے، فرشتوں نے کہا : یہ آپ کی منزل ہے، میں نے فرشتوں سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا کرے، مجھے اس محل میں جانے دو؟ فرشتوں نے کہا، اب اس وقت نہیں۔ ہاں آپ اس میں ضرور داخل ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نے فرشتوں سے کہا رات میں نے بڑی عجیب عجیب چیزیں دیکھیں، کیا تم بتا سکتے ہو یہ کیا چیزیں تھیں؟ فرشتوں نے عرض کیا، ہاں اب ہم ان کے بارے میں بتائیں گے۔
پہلا وہ شخص جس کے پاس سے آپ گزرے جس کا سر پتھر سے توڑا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآنِ کریم اٹھاتا ہے پھر اس پر عمل نہیں کرتا اور فرض نماز سے غافل ہو کر سوتا ہے۔
دوسرا وہ شخص جس کا جبڑا توڑ کر اس کی گُدی تک اور اس کا نرخرہ اور آنکھ کھینچ کر اس کی گُدی تک پہنچا دی تھی یہ وہ شخص ہے جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے جو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جاتا ہے۔
رہے وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تندور جیسی عمارت میں تھے یہ سب زنا کار مرد و عورت ہیں۔
رہا وہ شخص جسے آپ نے نہر میں تیرتا اور منہ میں پتھر کے لقمے کی مار کھاتے دیکھا ہے یہ سود خور ہے۔
رہا وہ بد شکل آدمی جو آگ کے پاس آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ مالک دار وغۂ جہنم ہے۔
رہے باغ کے طویل ترین شخص تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے گرد جو اولاد تھی یہ وہ لوگ تھے جن کی موت فطرت پر ہوتی تھی،رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم اچھا اور آدھا جسم بُرا تھا یہ وہ لو گ ہیں جنہوں نے کبھی نیک اعمال کیا اور کبھی برا، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔[21]
سرت من مکۃ الی القدس للعرش الی حیث شاء ذو الا لاء
آپ نے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس ہوتے ہوئے عرش کی سیر کی پھر وہاں سے جہاں نعمتوں والے رب نے چاہا۔
ببراق لوحا ول البرق إدراک مداہ لباء بالا عیاء
یہ سیر آپ نے اس بُراق سے فرمائی جس کی بَرق رفتاری کا عالم یہ تھا کہ بَرق بھی اس کی رفتار کے مقابلہ کی کوشش کرتی تو عاجز درماندہ ہوجاتی۔
جزت لما سیرت یا بدر لیلا سیدرۃ النتھی من الابتداء
اے بدرِکامل رات کے مختصر عرصے میں سدرۃ المنتہیٰ کو آپ نے عبور کیا اور یہ آپ کے اصل سفرکی ابتداء تھی۔
لم تزل ترتقی سماء سماء لمحل خلا عن الرقباء
آپ مسلسل یکے بعد دیگرے آسمانوں سے گزرتے ہوئے ایسے مقام تک پہنچے جو نگہبانوں سے خالی ہے۔
سر ت بالجسم للسموات والروح ومرقاک فوق کل ارتقاء
آپ جسم و روح دونوں کے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچے اور آپ کا یہ اوپر کا سفر ہر بلندی کے سفر سے بالاتر ہے۔
وتسامیت مستوی حیت باری الخلق یجری أقلامہ بالقضاء
آپ اس مرکز سے بھی اور اوپر تشریف لے گئے جہاں خالقِ خلق اپنے قلموں سے فیصلے جاری کرتا ہے۔
ثم أوحی الیک رب البرایا أی سر فی ذالک الا یحاء
پھر رب کائنات نے آپ کو وحی کی، کتنے ہی راض ہیں اس وحی میں۔
شعراوی نے اپنی کتاب ’’معراج میں ‘‘ نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو ہر روز فصل لگاتے اور ہر روز فصل کاٹتے ہیں، اور ایسے ہی وہ فصل تیار ہوجاتی ہے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا، یہ مجاہدین ہیں ان کی نیکیاں بڑھا کر سات سو گُنے تک کر دی جاتی ہیں ۔
اسی طرح نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کے سر پتھر سے توڑے جاتے ہیں اور جب ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر پہلے کی طرح درست ہوجاتے ہیں اور سزا کی اس کاروائی میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یعنی عذاب کا یہ سلسلہ پیہم جاری رہتا ہے اور ان لوگوں کے بارے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا سر فرض نماز سے بوجھل ہوجاتے تھے۔ اسی طرح نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے، وہ اس طرح چررہے تھے کہ جیسے اونٹ یا بکریاں چرتی ہیں، اور جہنم کے پتھر وہ کھا رہے تھے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان
تاریخ الاسرا والمعراج ❽
کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں سے زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کےسامنے ہانڈی میں پکا ہوا گوشت تھا اور انہیں کے سامنے دوسری ہانڈی میں خبیث اور کچا گوشت تھا، یہ لوگ گچا اور خبیث گوشت کھا رہے تھے اور پاک پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سید کائناتﷺ کو ان کے بارے میں بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس جائز اور پاکیزہ عورتیں موجود تھیں مگر وہ خبیث عورتوں کے پاس جا کر زنا کی لعنت میں مبتلا ہوتے تھے، اسی طرح وہ عورت بھی جس کی شادی پاکیزہ مرد سے تھی مگر وہ خبیث مرد کے پاس جا کر زنا کی مرتکب ہوتی تھی۔
اسی طرح شبِ معراج میں نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی کینچی سے کاٹے جاتے تھے اور جب بھی کاٹ دیے جاتے پھر دوبارہ سہی ہو جاتے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج میں ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کے منہ کھولے جاتے اور آگ کے گیند ان کے منہوں میں ڈال دیے جاتے پھر یہ گیند ان کے نیچے سے باہر نکل جاتے، یہ وہ لوگ تھے جو یتیموں کا مال غلط طور سے کھاتے تھے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں وہ صرف اور صرف اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور وہ جلد ہی بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
[1] جامع البیان عن تاویل آیۃ القرآن ازامام طبری مطبوعہ دار الفکر بیروت1405ھ ص16,17جلد 15
[2]فتح الباری ازامام ابن حجر عسقلانی مطبوعہ دار الفکر بیروت1411ھ ص 602 جلد 7۔
[3]نیل الاوطارازعلامہ شوکانی ص 333جلد4 مطبوعہ دار الجیل لبنان1973ء۔
[4] صحیح سنن ابن ماجہ ازناصر الدین البانی ص 430-433جلد 3مطبوعہ مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض:1408مطبع طبع ثالث۔
[5] السیرۃ النبویہ فی ضؤ القرآن و السُنۃ از ابو شہبہ محمد بن محمد مطبوعہ دار القلم دمشق 1412ھ ص 407جلد 1۔طبع ثانی۔
[6] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص 218جلد1مطبوعہ دار الفکر بیروت۔
[7] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص600جلد 7 مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
[8] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص216جلد ۱ مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
[9] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 604,605 جلد 7۔
[10] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص707 جلد 7۔
[11] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص607 جلد 7۔
[12] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص609 جلد 7۔
[13] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 609 جلد 7۔
[14] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص600 جلد 7۔
[15] مسلم شریف مع شرح امام نووی (طبع بیروت) جلد 1ص 19-218
[16] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔
[17] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔
[18] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 619جلد 7۔
[19] صحیح مسلم ثقہ راویوں کے ساتھ۔
[20] صحیح سنن ترمذی ازمحمد ناصر الدین البانی مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض: 1408ھ طبع اول ص 204جلد 2۔
[21] صحیح البخاری ص 219-221 جلد 4۔
➻═══════════➻
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/articles/taareikh-ul-isra-ul-meraaj
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں سے زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کےسامنے ہانڈی میں پکا ہوا گوشت تھا اور انہیں کے سامنے دوسری ہانڈی میں خبیث اور کچا گوشت تھا، یہ لوگ گچا اور خبیث گوشت کھا رہے تھے اور پاک پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سید کائناتﷺ کو ان کے بارے میں بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس جائز اور پاکیزہ عورتیں موجود تھیں مگر وہ خبیث عورتوں کے پاس جا کر زنا کی لعنت میں مبتلا ہوتے تھے، اسی طرح وہ عورت بھی جس کی شادی پاکیزہ مرد سے تھی مگر وہ خبیث مرد کے پاس جا کر زنا کی مرتکب ہوتی تھی۔
اسی طرح شبِ معراج میں نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی کینچی سے کاٹے جاتے تھے اور جب بھی کاٹ دیے جاتے پھر دوبارہ سہی ہو جاتے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج میں ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کے منہ کھولے جاتے اور آگ کے گیند ان کے منہوں میں ڈال دیے جاتے پھر یہ گیند ان کے نیچے سے باہر نکل جاتے، یہ وہ لوگ تھے جو یتیموں کا مال غلط طور سے کھاتے تھے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں وہ صرف اور صرف اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور وہ جلد ہی بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
[1] جامع البیان عن تاویل آیۃ القرآن ازامام طبری مطبوعہ دار الفکر بیروت1405ھ ص16,17جلد 15
[2]فتح الباری ازامام ابن حجر عسقلانی مطبوعہ دار الفکر بیروت1411ھ ص 602 جلد 7۔
[3]نیل الاوطارازعلامہ شوکانی ص 333جلد4 مطبوعہ دار الجیل لبنان1973ء۔
[4] صحیح سنن ابن ماجہ ازناصر الدین البانی ص 430-433جلد 3مطبوعہ مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض:1408مطبع طبع ثالث۔
[5] السیرۃ النبویہ فی ضؤ القرآن و السُنۃ از ابو شہبہ محمد بن محمد مطبوعہ دار القلم دمشق 1412ھ ص 407جلد 1۔طبع ثانی۔
[6] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص 218جلد1مطبوعہ دار الفکر بیروت۔
[7] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص600جلد 7 مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
[8] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص216جلد ۱ مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
[9] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 604,605 جلد 7۔
[10] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص707 جلد 7۔
[11] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص607 جلد 7۔
[12] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص609 جلد 7۔
[13] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 609 جلد 7۔
[14] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص600 جلد 7۔
[15] مسلم شریف مع شرح امام نووی (طبع بیروت) جلد 1ص 19-218
[16] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔
[17] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔
[18] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 619جلد 7۔
[19] صحیح مسلم ثقہ راویوں کے ساتھ۔
[20] صحیح سنن ترمذی ازمحمد ناصر الدین البانی مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض: 1408ھ طبع اول ص 204جلد 2۔
[21] صحیح البخاری ص 219-221 جلد 4۔
➻═══════════➻
Read More At :
http://www.ziaetaiba.com/ur/articles/taareikh-ul-isra-ul-meraaj
Copyright © Zia-e-Taiba
➻═══════════➻
🅣🅣🅢 AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Ziaetaiba
Tariq ul israr w miraj
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسجد اقصی کی مختصر تاریخ و تعارف
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف(عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقییروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“
احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔
حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ
”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)
“
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔
جب عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ مسجد اقصٰی سے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔
اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔
مسجداقصٰی کا بانی حضرت یعقوب کو مانا جاتا ہے اور اسکی تجدید حضرت سلیمان نے کی۔
بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔
پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے2 اکتوبر 1187ء کو فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا
اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:
”مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطابرضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
بیت المقدس 1 اگست 1967 کو اسرائیلی قبضے میں چلا گیا جو آج تک جاری ہے۔
21 اگست 1969ء کو
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف(عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقییروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“
احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔
حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ
”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)
“
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔
جب عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ مسجد اقصٰی سے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔
اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔
مسجداقصٰی کا بانی حضرت یعقوب کو مانا جاتا ہے اور اسکی تجدید حضرت سلیمان نے کی۔
بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔
پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے2 اکتوبر 1187ء کو فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا
اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:
”مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطابرضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
بیت المقدس 1 اگست 1967 کو اسرائیلی قبضے میں چلا گیا جو آج تک جاری ہے۔
21 اگست 1969ء کو
ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔
صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مختصر واقعہ معراج
واقعہ معراج بعثت کے گيارہويں سال اور ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رَجَبُ المرجَّب، پير شريف کي سُہاني اور نُور بھري رات پیش آیا
حضور ﷺ اپني چچا زاد بہن حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر آرام فرمارہے تھےکہ حضرتِ جبرائيل علیہ السلام حاضِر ہوئے اور آپ ﷺ کو حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر سے مسجِدِ حرام ميں لے آئے اور آپ کا شَقِّ صَدْر فرمايا، حضرتِ جبرائيل علیہ السلام نے پيارے آقا ﷺ کے قلبِ اطہر کو آبِ زَم زَم سے غسل ديا اور پھر ايمان وحکمت سے بھر کر واپس اُس کي جگہ رکھ ديا
بُراق کي سواری
اس کے بعد آپ ﷺ کي بارگاہِ اقدس ميں سواري کے لئے بُراق پيش کيا گيا،پھر سيِّدِ عالَمﷺ بُراق پر سوار ہوئے اور بيت المقدس کي طرف روانہ ہوئے
دورانِ سفرآپ ﷺ نے
تين مقامات پر نماز ادا فرمائی
01: مدينہ شريف جس کي طرف
آپ ﷺ ہجرت فرمائيں گے ؟
02: طُورِ سِيْنا جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ موسي عَلَيْہِ السلام کو ہَم کلامي کا شَرَف عطا فرمايا تھا
03: بَيْتِ لَحْم : جہاں حضرتِ عیسیٰ
عَلَيْہِ السَّلَام کي وِلادت ہوئی تھی ...
بيت المقدس آمد اور انبيائے کرام علیہم السلام
واقعہ معراج بعثت کے گيارہويں سال اور ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رَجَبُ المرجَّب، پير شريف کي سُہاني اور نُور بھري رات پیش آیا
حضور ﷺ اپني چچا زاد بہن حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر آرام فرمارہے تھےکہ حضرتِ جبرائيل علیہ السلام حاضِر ہوئے اور آپ ﷺ کو حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر سے مسجِدِ حرام ميں لے آئے اور آپ کا شَقِّ صَدْر فرمايا، حضرتِ جبرائيل علیہ السلام نے پيارے آقا ﷺ کے قلبِ اطہر کو آبِ زَم زَم سے غسل ديا اور پھر ايمان وحکمت سے بھر کر واپس اُس کي جگہ رکھ ديا
بُراق کي سواری
اس کے بعد آپ ﷺ کي بارگاہِ اقدس ميں سواري کے لئے بُراق پيش کيا گيا،پھر سيِّدِ عالَمﷺ بُراق پر سوار ہوئے اور بيت المقدس کي طرف روانہ ہوئے
دورانِ سفرآپ ﷺ نے
تين مقامات پر نماز ادا فرمائی
01: مدينہ شريف جس کي طرف
آپ ﷺ ہجرت فرمائيں گے ؟
02: طُورِ سِيْنا جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ موسي عَلَيْہِ السلام کو ہَم کلامي کا شَرَف عطا فرمايا تھا
03: بَيْتِ لَحْم : جہاں حضرتِ عیسیٰ
عَلَيْہِ السَّلَام کي وِلادت ہوئی تھی ...
بيت المقدس آمد اور انبيائے کرام علیہم السلام
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
फ़ैज़़ाने मेअ़राज | फ़ैज़ाने मेराज
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4092
मेराजे मुस़्त़फ़ा ﷺ की ह़िकमतें
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4070
मेराज के जन्नती मुशाहदात
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4073
मेअ़राज के वाक़िआ़त ↴
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4076
मेराज शरीफ़ और दीदारे इलाही
मुफ़्ती सय्यिद ज़़ियाउद्दीन क़ादिरी
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7803
मेराज का सफ़र और दीदारे इलाही
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7916
मेराजे तख़य्युल मेराज ए तख़य्युल
कलाम नअ़्त नात नअ़्तिया दीवान
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7555
Divine Vision ↴
शबे मेअ़राज | मेराज के ह़वाले से
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/2539
शबे मेअ़राज ग़ौसे पाक ↴
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/8245
Shabe Meraj Ghause Pak
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/8243
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
मेराज | मेअ़्राज | Meraaj | معراج
फ़रमाइश से पहले सर्च ज़़रूर करें !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🆔 @AhleSunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4092
मेराजे मुस़्त़फ़ा ﷺ की ह़िकमतें
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4070
मेराज के जन्नती मुशाहदात
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4073
मेअ़राज के वाक़िआ़त ↴
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4076
मेराज शरीफ़ और दीदारे इलाही
मुफ़्ती सय्यिद ज़़ियाउद्दीन क़ादिरी
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7803
मेराज का सफ़र और दीदारे इलाही
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7916
मेराजे तख़य्युल मेराज ए तख़य्युल
कलाम नअ़्त नात नअ़्तिया दीवान
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/7555
Divine Vision ↴
शबे मेअ़राज | मेराज के ह़वाले से
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/2539
शबे मेअ़राज ग़ौसे पाक ↴
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/8245
Shabe Meraj Ghause Pak
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/8243
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
मेराज | मेअ़्राज | Meraaj | معراج
फ़रमाइश से पहले सर्च ज़़रूर करें !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🆔 @AhleSunnat_HindiBooks
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
جمان التاج فی بیان الصلوۃ قبل المعراج
[ تاج کے موتی، معراج سے
پہلے نماز کے بیان میں ]
📇 #المدینة_العلمیه_دعوت_اسلامی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/872
جمان التاج فی بیان الصلوة قبل المعراج
[ تاج کے موتی معراج سے
پہلے نماز کے بیان میں ]
📇 #اعلی_حضرت_نیٹ_ورک
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/1594
مسائل معراج
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2184
قصیدۂ معراج شریف
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2623
منبہ المنیہ بوصول الحبیب
الی العرش والرویۃ 📖
[ شب معراج کے حوالے سے اٹهائے جانے
والے سوالات کا علمی و مدلل جواب ]
{ المعروف بہ : دیدار الٰہی }
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2672
📖 نگارستان لطافت 📖
[ میلاد النبی ﷺ اور واقعہ
معراج پر ایک روح پرور تحریر ]
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4322
[ تاج کے موتی، معراج سے
پہلے نماز کے بیان میں ]
📇 #المدینة_العلمیه_دعوت_اسلامی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/872
جمان التاج فی بیان الصلوة قبل المعراج
[ تاج کے موتی معراج سے
پہلے نماز کے بیان میں ]
📇 #اعلی_حضرت_نیٹ_ورک
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/1594
مسائل معراج
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2184
قصیدۂ معراج شریف
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2623
منبہ المنیہ بوصول الحبیب
الی العرش والرویۃ 📖
[ شب معراج کے حوالے سے اٹهائے جانے
والے سوالات کا علمی و مدلل جواب ]
{ المعروف بہ : دیدار الٰہی }
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/2672
📖 نگارستان لطافت 📖
[ میلاد النبی ﷺ اور واقعہ
معراج پر ایک روح پرور تحریر ]
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4322
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شبِ مِعراج | شبِ بَرأت | شبِ قدر
اور نفل نمازیں 🎙سیِّد ترابُ الحق
Shab E Me'araj | BaraAt | Qadr
Nafl Namaz | Syd Turabul Haq
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اور نفل نمازیں 🎙سیِّد ترابُ الحق
Shab E Me'araj | BaraAt | Qadr
Nafl Namaz | Syd Turabul Haq
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
❤1
Audio
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
¹ امیر المؤمنین عمر بن عندالعزیز
² حـضـرت موسیٰ کاظم بن جعفر
³ آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی
⁴حضرت مفتی نجم الدین یاسینی
⁵حضرتسید موسیٰ جنگیدوست
⁶ شیخ عمادالدین ابو صالح نصر
⁷مرتضیٰ حیدر حسین میاں مارہرہ
⁸ حــضــرت خواجہ عارف ریوگری
⁹ حسان پاکستان ضیاء القادری
¹⁰ حـضرت شیخ عبدالرشید دہلوی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
² حـضـرت موسیٰ کاظم بن جعفر
³ آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی
⁴حضرت مفتی نجم الدین یاسینی
⁵حضرتسید موسیٰ جنگیدوست
⁶ شیخ عمادالدین ابو صالح نصر
⁷مرتضیٰ حیدر حسین میاں مارہرہ
⁸ حــضــرت خواجہ عارف ریوگری
⁹ حسان پاکستان ضیاء القادری
¹⁰ حـضرت شیخ عبدالرشید دہلوی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
❤1