سیرت و خصائص:
حجۃ الاولیاء، برہان الاتقیاء، زبدۃ الاصفیاء، سند الاولیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، برکت الزماں، قطب الزماں، حضرت خواجہ شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے عظیم مشائخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ذاتِ والا برکات سے سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے حضرات آپ کی صحبت کی بدولت واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا فیضان عام تھا ۔ خاندانی نسبت اعلیٰ تھی ۔ آپ پر بچپن سے ہی آثارِ سعادت نمایاں تھے ۔ آباء کا تعلق امراء سے تھا ۔ اس لئے گھر میں ہر قسم کی فروانی و خوشحالی تھی ۔ ابتداءً اپنی ذات کے لئے بے دریغ پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ آپ کا معیار رہائش اونچا تھا ۔ آپ کا لباس اعلیٰ قسم کا ہوتا تھا ۔ آپ لباس پر کافی پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت مخدوم شرف الدین قلندر ایک عام گزر گاہ پر رونق افروز تھے ۔ آپ گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرے، تو حضرت قلندر نے جب آپ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تو فرمایا: ’’ زہے اسپ و زہے سوار ‘‘ ۔ (کیسا خوش قسمت گھوڑا اور کیسا خوش قسمت سوار ہے) ۔ یہ سن کر آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ گھوڑے سے فوراً اترے، گریبان چاک کرکے جنگل کی راہ لی ۔ چالیس سال آپ نے سفر میں گزارے ۔ بہت سے درویشوں سے ملے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔
ایک دن حضرت شمس الدین ترک پانی پتی اپنے حجرے کے دروازے پر رونق افروز تھے ۔ مریدین و معتقدین حاضرِ خدمت تھے ۔ آپ لباس فاخرہ پہنے گھوڑے پر سوار ان کے سامنے سے گزرے، انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی حاضرین سے فرمایا: ’’ میں اپنی نعمت اس لڑکے کی پیشانی میں تاباں کو دیکھتا ہوں ‘‘ ۔ ان کا یہ فرمانا تھا کہ آپ کی نظر ان پر پڑی ۔ نظر کا پڑنا تھا کہ آپ بے اختیار ہو گئے ۔ گھوڑے سے اترے اور سر نیاز ان کے قدموں پر رکھا، انہوں نے اپنے دست مبارک سے آپ کا سر اٹھایا اور آپ کو حکم دیا کہ ’’ گھوڑے پر سوار رہو اور گھوڑے کو پھیرو ‘‘ ۔ آپ حکم بجا لائے ۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پتی نے اسی وقت آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا اور کلاہ چرمی جو اس وقت پہنے ہوئے تھے اتار کر اپنے ہاتھ سے آپ کے سر پر رکھا اور فرمایا ۔ ’’ ترا ایں ہم دادم وآں ہم دادم ‘‘ (میں نے تمہیں یہ بھی دیا اور وہ بھی دیا) ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں عطاء کر دی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتاہے: ’’علاء الدین صابر کلیری کی کمائی، شیخ جلال الدین نے لٹائی ‘‘ ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:111) ـ
جود و سخا:
آپ بہت سخی تھے ۔ ہر وقت لنگر جاری رہتا ۔ ہزاروں افراد لنگر کھاتے تھے ۔ مسافر، نادار، یتیم بیوہ اور مستحق افراد کوبا عزت کھانا ملتا تھا۔اس میں نئی چیز یہ تھی کہ جو شخص جس برتن میں کھانا کھاتا وہ اسی کی ملکیت ہوتا تھا۔اس کو دوبارہ لنگر میں استعمال نہیں کیا جاتاتھا۔دنیا حیران تھی کہ روزانہ اتنا برتن اور اناج کہاں سے آتا ہے۔یہاں خرچ کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ اِس پر فِتن اور مہنگائی کے زمانے میں بھی اولیاء اللہ کے آستانوں سے غریبوں اور مسافروں کو بلا امتیاز کھانا ملتا ہے۔پاک وہند کی اکثر خانقاہوں پر ہروقت لنگر جاری رہتاہے۔لاہور پاکستان میں داتا گنج بخش کے مزار شریف پر دن رات لنگرجاری رہتاہے۔جن کے پاس دنیاوی خزانے اور سلطنتیں ہیں،انہوں نے تو غریبوں سے روزی روٹی چھین لی ہے۔ لیکن اللہ کے فقیر آج بھی غریب پرور اور محسنِ انسانیت ہیں،اور ان کے مزاروں سے انسانیت کی خدمت ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدیاں بِیت گئیں ،لیکن ان کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
خانقاہ میں ہزاروں لوگ اعلیٰ قسم کھانا کھاتےتھے۔لیکن حضرت مخدوم الاولیاء کے گھر والوں پر اکثر فاقے رہتےتھے۔ ایک کیمیا گرشخص نے آپ کے صاحبزادے کو دیکھا تو کہنے لگا: اے مخدوم زادے! تمھاری صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کئی دن سے فاقے سے ہو۔تم مجھ سے کیمیا بنانا سیکھ لو۔تاکہ خوش حال زندگی بسر کرو۔حضرت دیوار کے پیچھے سب باتیں سن رہےتھے۔اس کے چلے جانے کے بعد فرزند کوبلایا اور فرمایا: ’’ کہ اس حجرے کی طرف نظر کرو۔جب انہوں نے آنکھ اٹھاکر دیکھا تو پورا حجرہ سونے کا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے فرزند! یہ اکسیر پیدا کرو کہ جس پر نظر ڈالو،وہ کندن ہوجائے‘‘۔(تذکرہ اولیائے برصغیر ، ص:225) ـ
حجۃ الاولیاء، برہان الاتقیاء، زبدۃ الاصفیاء، سند الاولیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، برکت الزماں، قطب الزماں، حضرت خواجہ شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے عظیم مشائخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ذاتِ والا برکات سے سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے حضرات آپ کی صحبت کی بدولت واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا فیضان عام تھا ۔ خاندانی نسبت اعلیٰ تھی ۔ آپ پر بچپن سے ہی آثارِ سعادت نمایاں تھے ۔ آباء کا تعلق امراء سے تھا ۔ اس لئے گھر میں ہر قسم کی فروانی و خوشحالی تھی ۔ ابتداءً اپنی ذات کے لئے بے دریغ پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ آپ کا معیار رہائش اونچا تھا ۔ آپ کا لباس اعلیٰ قسم کا ہوتا تھا ۔ آپ لباس پر کافی پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت مخدوم شرف الدین قلندر ایک عام گزر گاہ پر رونق افروز تھے ۔ آپ گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرے، تو حضرت قلندر نے جب آپ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تو فرمایا: ’’ زہے اسپ و زہے سوار ‘‘ ۔ (کیسا خوش قسمت گھوڑا اور کیسا خوش قسمت سوار ہے) ۔ یہ سن کر آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ گھوڑے سے فوراً اترے، گریبان چاک کرکے جنگل کی راہ لی ۔ چالیس سال آپ نے سفر میں گزارے ۔ بہت سے درویشوں سے ملے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔
ایک دن حضرت شمس الدین ترک پانی پتی اپنے حجرے کے دروازے پر رونق افروز تھے ۔ مریدین و معتقدین حاضرِ خدمت تھے ۔ آپ لباس فاخرہ پہنے گھوڑے پر سوار ان کے سامنے سے گزرے، انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی حاضرین سے فرمایا: ’’ میں اپنی نعمت اس لڑکے کی پیشانی میں تاباں کو دیکھتا ہوں ‘‘ ۔ ان کا یہ فرمانا تھا کہ آپ کی نظر ان پر پڑی ۔ نظر کا پڑنا تھا کہ آپ بے اختیار ہو گئے ۔ گھوڑے سے اترے اور سر نیاز ان کے قدموں پر رکھا، انہوں نے اپنے دست مبارک سے آپ کا سر اٹھایا اور آپ کو حکم دیا کہ ’’ گھوڑے پر سوار رہو اور گھوڑے کو پھیرو ‘‘ ۔ آپ حکم بجا لائے ۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پتی نے اسی وقت آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا اور کلاہ چرمی جو اس وقت پہنے ہوئے تھے اتار کر اپنے ہاتھ سے آپ کے سر پر رکھا اور فرمایا ۔ ’’ ترا ایں ہم دادم وآں ہم دادم ‘‘ (میں نے تمہیں یہ بھی دیا اور وہ بھی دیا) ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں عطاء کر دی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتاہے: ’’علاء الدین صابر کلیری کی کمائی، شیخ جلال الدین نے لٹائی ‘‘ ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:111) ـ
جود و سخا:
آپ بہت سخی تھے ۔ ہر وقت لنگر جاری رہتا ۔ ہزاروں افراد لنگر کھاتے تھے ۔ مسافر، نادار، یتیم بیوہ اور مستحق افراد کوبا عزت کھانا ملتا تھا۔اس میں نئی چیز یہ تھی کہ جو شخص جس برتن میں کھانا کھاتا وہ اسی کی ملکیت ہوتا تھا۔اس کو دوبارہ لنگر میں استعمال نہیں کیا جاتاتھا۔دنیا حیران تھی کہ روزانہ اتنا برتن اور اناج کہاں سے آتا ہے۔یہاں خرچ کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ اِس پر فِتن اور مہنگائی کے زمانے میں بھی اولیاء اللہ کے آستانوں سے غریبوں اور مسافروں کو بلا امتیاز کھانا ملتا ہے۔پاک وہند کی اکثر خانقاہوں پر ہروقت لنگر جاری رہتاہے۔لاہور پاکستان میں داتا گنج بخش کے مزار شریف پر دن رات لنگرجاری رہتاہے۔جن کے پاس دنیاوی خزانے اور سلطنتیں ہیں،انہوں نے تو غریبوں سے روزی روٹی چھین لی ہے۔ لیکن اللہ کے فقیر آج بھی غریب پرور اور محسنِ انسانیت ہیں،اور ان کے مزاروں سے انسانیت کی خدمت ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدیاں بِیت گئیں ،لیکن ان کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
خانقاہ میں ہزاروں لوگ اعلیٰ قسم کھانا کھاتےتھے۔لیکن حضرت مخدوم الاولیاء کے گھر والوں پر اکثر فاقے رہتےتھے۔ ایک کیمیا گرشخص نے آپ کے صاحبزادے کو دیکھا تو کہنے لگا: اے مخدوم زادے! تمھاری صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کئی دن سے فاقے سے ہو۔تم مجھ سے کیمیا بنانا سیکھ لو۔تاکہ خوش حال زندگی بسر کرو۔حضرت دیوار کے پیچھے سب باتیں سن رہےتھے۔اس کے چلے جانے کے بعد فرزند کوبلایا اور فرمایا: ’’ کہ اس حجرے کی طرف نظر کرو۔جب انہوں نے آنکھ اٹھاکر دیکھا تو پورا حجرہ سونے کا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے فرزند! یہ اکسیر پیدا کرو کہ جس پر نظر ڈالو،وہ کندن ہوجائے‘‘۔(تذکرہ اولیائے برصغیر ، ص:225) ـ
❤1
اسی طرح ایک دن آپ دریا کےکنارےتشریف لےگئے۔وہاں ایک جوگی آنکھیں بندکئے بیٹھاتھا۔آپ کے وہاں پہنچنےپرجوگی نے آنکھیں کھولیں اور آپ کوسنگ پارس دیا۔آپ نےاس پتھرکو دریا میں پھینک دیا۔ جوگی خفاہوا۔ آپ نےجوگی سےفرمایاکہ دریا میں جا کر اپنا پتھر لےلے۔ لیکن اس کے علاوہ اور کوئی پتھر نہ لینا۔جب جوگی دریامیں گیاتواس نےوہاں ہزاروں اس سے اعلیٰ قسم کے پتھرپائے۔ اس نے اپنےپتھرکےعلاوہ ایک اورپتھراٹھالیااورباہرآگیا۔آپ نے اس سے فرمایاکہ وہ دوسراپتھرکیوں چھپا کرلایااس نےدونوں پتھرآپ کےسامنےرکھ دیئےاورآپ کامریدہوگیا۔ (ایضا:228)
فضل و کمال:
ایک دن حضرت شیخ جلال الدین کہیں جا رہے تھے کہ ایک ضعیف عورت سر پر پانی کا گھڑا رکھے جا رہی تھی، اس کے پاؤں کانپ رہے تھے آپ نے پوچھا کیا آپ کا کوئی اور آدمی پانی نہیں لاسکتا، کہنے لگی میں بے کس اور بے سہارا ہوں، حضرت نے پانی کا گھڑا اٹھایا اور اپنے کندھے پر رکھ کر چلنے لگے اور اس کے گھر پہنچے گھڑا رکھ کر فرمایا آج کے بعد ان شاء اللہ یہ گھڑا پانی سے بھرا رہے گا تمہیں پانی لانے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ ضعیف عورت اس گھڑے سے پانی استعمال کرتی رہی مگر پانی کبھی کم نہ ہوا۔
آپ کوبہ نورباطن حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی بیماری کاعلم ہوا،آپ بقوت روحانی ایک ساعت میں دہلی پہنچے، مخدوم جہانیاں کوحالت نزع میں پایا، آپ نےان کی صحت کے لئے دعا فرمائی اور اپنی عمرکے چندسال ان کودےکراسی طر ایک ساعت میں پانی پت واپس تشریف لائے ۔ اسی وقت حضرت مخدوم جہانیاں صحت یاب ہوگئے ۔ حضرت کی صحت یابی کی خبر سن کر سلطان فیروز الدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صورت حال معلوم کرنے پر آپ نے بتایا کہ مجھے شیخ جلال الدین نے اپنی زندگی کے دس سال دیے ہیں ورنہ میرا وقت آ پہنچا تھا۔ سلطان فیروزالدین کو حضرت شیخ جلال الدین کی زیارت کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ وہ چل کر پانی پت آیا اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ (ایضا:225) مشہور مفسر عارف باللہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (صاحبِ تفسیرِ مظہری)، اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی آپ کی اولاد میں سے تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب 1857:127) ـ
تاریخِ وصال:
13 ربیع الاول 765ھ مطابق 18 جنوری 1364ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
سیر الاقطاب ۔ تاریخ مشائخِ چشت ۔ اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر ۔خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-kabir-auliya
فضل و کمال:
ایک دن حضرت شیخ جلال الدین کہیں جا رہے تھے کہ ایک ضعیف عورت سر پر پانی کا گھڑا رکھے جا رہی تھی، اس کے پاؤں کانپ رہے تھے آپ نے پوچھا کیا آپ کا کوئی اور آدمی پانی نہیں لاسکتا، کہنے لگی میں بے کس اور بے سہارا ہوں، حضرت نے پانی کا گھڑا اٹھایا اور اپنے کندھے پر رکھ کر چلنے لگے اور اس کے گھر پہنچے گھڑا رکھ کر فرمایا آج کے بعد ان شاء اللہ یہ گھڑا پانی سے بھرا رہے گا تمہیں پانی لانے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ ضعیف عورت اس گھڑے سے پانی استعمال کرتی رہی مگر پانی کبھی کم نہ ہوا۔
آپ کوبہ نورباطن حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی بیماری کاعلم ہوا،آپ بقوت روحانی ایک ساعت میں دہلی پہنچے، مخدوم جہانیاں کوحالت نزع میں پایا، آپ نےان کی صحت کے لئے دعا فرمائی اور اپنی عمرکے چندسال ان کودےکراسی طر ایک ساعت میں پانی پت واپس تشریف لائے ۔ اسی وقت حضرت مخدوم جہانیاں صحت یاب ہوگئے ۔ حضرت کی صحت یابی کی خبر سن کر سلطان فیروز الدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صورت حال معلوم کرنے پر آپ نے بتایا کہ مجھے شیخ جلال الدین نے اپنی زندگی کے دس سال دیے ہیں ورنہ میرا وقت آ پہنچا تھا۔ سلطان فیروزالدین کو حضرت شیخ جلال الدین کی زیارت کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ وہ چل کر پانی پت آیا اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ (ایضا:225) مشہور مفسر عارف باللہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (صاحبِ تفسیرِ مظہری)، اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی آپ کی اولاد میں سے تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب 1857:127) ـ
تاریخِ وصال:
13 ربیع الاول 765ھ مطابق 18 جنوری 1364ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
سیر الاقطاب ۔ تاریخ مشائخِ چشت ۔ اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر ۔خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-kabir-auliya
❤1
حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
❤1
شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں: ’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی ، وعلم ِدل من ذات ِ شیخ علاء الدین احمدسرایت کردہ‘‘۔یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے،اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:67/خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)۔شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی،تواضع وانکساری،اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔تو آپ نے خوش ہوکر فرمایا: نظام الدین محبوبِ الہ ہیں،اور علاء الدین عاشق ِ الہ ہیں۔(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
scholars.pk
Hazrat Khawaja Makhdoom Alauddin Ali Ahmad Sabir Kaliyari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-03-1445 ᴴ | 28-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1