Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا غلام علی گوپانگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام اور ولادت:
مولانا غلام علی بن حیدر خان گوپانگ (متوفی ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ) نے ۹ ذولحجہ ۱۲۸۷ھ کو اپنے گوٹھ (جو کہ بعد میں آپ کے نام سے مشہور ہوا) ضلع بدین میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کی سرپرستی میں قائم مدرسہ دارالنور عثمانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اسی درسگاہ میں درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہویئے۔ اس مدرسہ کی بنیاد مولانا نور محمد قوم گھرانہ نے ۱۲۷۳ھ کو رکھی تھی ۔
بیعت:
شیخ طریقت قاطع نجدیت خواجہ محمد سعید صدیقی قدس سرہ سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں خواجہ محدم حسن جان سرہندی کی خدمت میں رہ کر حل لطائف اور مقامات سلوک کی تکمیل کی ۔ (مونس المخلصین) ـ
درس و تدریس:
مفتی غلام علی گوپانگ بعد فراغت درگاہ سرہندیہ ٹندو سائینداد کی درسگاہ میں مدرس مقرر ہوئے وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ عرصہ وہیں گزرنے کے بعد اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرکے درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کا سلسلہ تاحیات جاری رکھا ۔
اولاد:
مولانا غلام علی گوپانگ کو چار بیٹے تولد ہوئے ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حاجی محمد سعید گوپانگ
۲۔ غلام حسین
۳۔ عبد الرحیم
۴۔ حاجی عبد الرحمن
حاجی عبد الرحمن گوپانگ کے بیٹے مولانا عبداللہ گوپانگ ہیں جو کہ ایک عرصہ سے مدینہ جامع مسجد کے امام و خطیب اور دارالعلوم نور الاسلام مجددیہ چوھڑ جمالی (ضلع ٹھٹھہ) کے صدر مدرس ہیں۔ حاجی صٓحب کے دوسرے بیٹے کا نام مولوی غلام علی ہے جو کہ قطر مسجد بدین کے امام و خطیب ہیں عقیدے کے لحاظ سے وہابی ہیں اور رابطے کے باجود مواد فراہم نہیں کیا ۔
وصال:
مولانا غلام علی ۱۳ ربیع آخر ۱۳۶۸ھ / ۱۹۴۹ء کو انتقال کیا ۔ آخری آرام گاہ گوٹھ مولوی غلام علی گوپانگ تحصیل و ضلع بدین میں واقع ہے ۔
(مولانا عبداللہ سے ان کے جد امجد مولانا غلام علی کی سوانح حاصل کرنے چوھڑ جمالی جانے کی زحمت گورا کی لیکن ہائے افسوس انہوں نے فقط ولادت اور وصال اور اولاد کے اسماء لکھوائے۔ بقیہ معلومات محترم سائیں بخش جونیجو کی زیر ترتیب سندھی قلمی کتاب سے حاصل کی ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-gopang
نام اور ولادت:
مولانا غلام علی بن حیدر خان گوپانگ (متوفی ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ) نے ۹ ذولحجہ ۱۲۸۷ھ کو اپنے گوٹھ (جو کہ بعد میں آپ کے نام سے مشہور ہوا) ضلع بدین میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کی سرپرستی میں قائم مدرسہ دارالنور عثمانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اسی درسگاہ میں درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہویئے۔ اس مدرسہ کی بنیاد مولانا نور محمد قوم گھرانہ نے ۱۲۷۳ھ کو رکھی تھی ۔
بیعت:
شیخ طریقت قاطع نجدیت خواجہ محمد سعید صدیقی قدس سرہ سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں خواجہ محدم حسن جان سرہندی کی خدمت میں رہ کر حل لطائف اور مقامات سلوک کی تکمیل کی ۔ (مونس المخلصین) ـ
درس و تدریس:
مفتی غلام علی گوپانگ بعد فراغت درگاہ سرہندیہ ٹندو سائینداد کی درسگاہ میں مدرس مقرر ہوئے وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ عرصہ وہیں گزرنے کے بعد اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرکے درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کا سلسلہ تاحیات جاری رکھا ۔
اولاد:
مولانا غلام علی گوپانگ کو چار بیٹے تولد ہوئے ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حاجی محمد سعید گوپانگ
۲۔ غلام حسین
۳۔ عبد الرحیم
۴۔ حاجی عبد الرحمن
حاجی عبد الرحمن گوپانگ کے بیٹے مولانا عبداللہ گوپانگ ہیں جو کہ ایک عرصہ سے مدینہ جامع مسجد کے امام و خطیب اور دارالعلوم نور الاسلام مجددیہ چوھڑ جمالی (ضلع ٹھٹھہ) کے صدر مدرس ہیں۔ حاجی صٓحب کے دوسرے بیٹے کا نام مولوی غلام علی ہے جو کہ قطر مسجد بدین کے امام و خطیب ہیں عقیدے کے لحاظ سے وہابی ہیں اور رابطے کے باجود مواد فراہم نہیں کیا ۔
وصال:
مولانا غلام علی ۱۳ ربیع آخر ۱۳۶۸ھ / ۱۹۴۹ء کو انتقال کیا ۔ آخری آرام گاہ گوٹھ مولوی غلام علی گوپانگ تحصیل و ضلع بدین میں واقع ہے ۔
(مولانا عبداللہ سے ان کے جد امجد مولانا غلام علی کی سوانح حاصل کرنے چوھڑ جمالی جانے کی زحمت گورا کی لیکن ہائے افسوس انہوں نے فقط ولادت اور وصال اور اولاد کے اسماء لکھوائے۔ بقیہ معلومات محترم سائیں بخش جونیجو کی زیر ترتیب سندھی قلمی کتاب سے حاصل کی ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-gopang
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Ali Gopang
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ ابو الفتح جون پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جو بڑے عقل مند عالم تھے اور انہیں کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے ۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے ۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے ۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں ۔
آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابو الفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے ۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہو جاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی ۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے ۔ سوائے شیخ عبد الوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابو الفتح نے اپنے دادا قاضی عبد المقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبد المقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیر الدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا ۔
اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آ گیا ۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی ۔
لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبد المقتدر کے معتقدین نے وہ روپئے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابو الفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے ۔ شیخ ابو الفتح ۱۴ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ ۱۳ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی ۔
شیخ ابو الفتح جونپوری [1]:
عالم فاضل، فصیح بلیغ، جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے ۔
شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں ۔ آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ (مرتب) ـ
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fatah-jonpuri
آپ اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جو بڑے عقل مند عالم تھے اور انہیں کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے ۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے ۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے ۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں ۔
آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابو الفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے ۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہو جاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی ۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے ۔ سوائے شیخ عبد الوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابو الفتح نے اپنے دادا قاضی عبد المقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبد المقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیر الدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا ۔
اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آ گیا ۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی ۔
لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبد المقتدر کے معتقدین نے وہ روپئے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابو الفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے ۔ شیخ ابو الفتح ۱۴ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ ۱۳ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی ۔
شیخ ابو الفتح جونپوری [1]:
عالم فاضل، فصیح بلیغ، جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے ۔
شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں ۔ آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ (مرتب) ـ
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fatah-jonpuri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Fatah Jonpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت بدر الدین یوسف بن عبد اللہ اذرعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
یوسف بن عبد اللہ بن محمد اذرعی:
بدر الدین لقب تھا ۔ عالم دہر فاضل عصر، ماہر علوم متعددہ تھے ۔ ۶۰۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ فقہ اپنے باپ قاضی القضاۃ شمس الدین عبد اللہ اور محمود حصیری سے حاصل کی ۔
وصال:
چار شنبہ کے روز ۱۳ ماہ ربیع الاول ۶۹۶ھ میں وفات پائی ۔ ’’ مقتدائے عالم ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-badruddin-yousuf
یوسف بن عبد اللہ بن محمد اذرعی:
بدر الدین لقب تھا ۔ عالم دہر فاضل عصر، ماہر علوم متعددہ تھے ۔ ۶۰۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ فقہ اپنے باپ قاضی القضاۃ شمس الدین عبد اللہ اور محمود حصیری سے حاصل کی ۔
وصال:
چار شنبہ کے روز ۱۳ ماہ ربیع الاول ۶۹۶ھ میں وفات پائی ۔ ’’ مقتدائے عالم ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-badruddin-yousuf
scholars.pk
Hazrat Badruddin Yousuf
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد ۔ لقب: جلال الدین، کبیر الاولیاء ۔ مکمل نام: شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبد اللہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کے والد ماجد شیخ محمود امرائے پانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:221) ـ
تاریخِ ولادت:
23 شوال المکرم 557ھ مطابق 23 اکتوبر 1162ء، بروز بدھ، پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔ انسائیکلوپیڈیا جلد:3، ص:61) ۔
آپ کے سنِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں ۔ صاحبِ اقتباس الانوار شیخ محمد اکرم قدوسی نے تحریر فرمایا ہے کہ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر سال سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح صاحبِ سیر الاقطاب جو آپ کی اولاد میں سے ہیں، انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت کی عمر مبارک ایک سو بہتر برس تھی ۔ (اقتباس الانوار ، ص:550 / سیر الاقطاب ، ص:226) ۔
تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت 593ھ یا اس سے قریب قریب تصور کی جا سکتی ہے ۔ مولوی زکریا کاندھلوی نے آپ کا سنِ ولادت 695ھ لکھا ہے ۔ یہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ تلاشِ مرشد میں جب حضرت کبیر الاولیاء سرگرداں تھے، اور اسی سلسلے میں شیخ جمال الدین ہانسوی (م659ھ) سے بھی ملاقات ہوئی، اور ان سے بیعت کی درخواست کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنے علاقے پانی پت جائیں وہیں آپ کو شیخِ کامل ملےگا ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملاقات 659ھ سے پہلے ہوئی ہوگی ۔ انہیں کے حکم پر 658ھ میں اپنے علاقے پانی پت واپس چلے گئے ۔ پھر شیخ شمس الدین ترک پانی پتی سے 680ھ کے بعد بیعت ہوئے، اور 712ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ حضرت علی احمد صابر کلیری، ص:109) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا تعلق ایک علمی و صاحبِ ثروت خاندان سے تھا ۔ انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ آپ اس قت کے مروجہ علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی تصانیف میں ’’ زاد الابرار ‘‘ ایک لاجواب کتاب ہے ۔ اس کے مطالعے سے آپ کی وسعتِ علمی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ (سیر الاقطاب ، ص:215) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت شرف الدین بو علی قلندر آپ سے بچپن سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ بلکہ آپ سے ملاقات کے لئے آپ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ۔ (ایضا: 215) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد ۔ لقب: جلال الدین، کبیر الاولیاء ۔ مکمل نام: شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبد اللہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کے والد ماجد شیخ محمود امرائے پانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:221) ـ
تاریخِ ولادت:
23 شوال المکرم 557ھ مطابق 23 اکتوبر 1162ء، بروز بدھ، پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔ انسائیکلوپیڈیا جلد:3، ص:61) ۔
آپ کے سنِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں ۔ صاحبِ اقتباس الانوار شیخ محمد اکرم قدوسی نے تحریر فرمایا ہے کہ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر سال سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح صاحبِ سیر الاقطاب جو آپ کی اولاد میں سے ہیں، انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت کی عمر مبارک ایک سو بہتر برس تھی ۔ (اقتباس الانوار ، ص:550 / سیر الاقطاب ، ص:226) ۔
تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت 593ھ یا اس سے قریب قریب تصور کی جا سکتی ہے ۔ مولوی زکریا کاندھلوی نے آپ کا سنِ ولادت 695ھ لکھا ہے ۔ یہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ تلاشِ مرشد میں جب حضرت کبیر الاولیاء سرگرداں تھے، اور اسی سلسلے میں شیخ جمال الدین ہانسوی (م659ھ) سے بھی ملاقات ہوئی، اور ان سے بیعت کی درخواست کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنے علاقے پانی پت جائیں وہیں آپ کو شیخِ کامل ملےگا ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملاقات 659ھ سے پہلے ہوئی ہوگی ۔ انہیں کے حکم پر 658ھ میں اپنے علاقے پانی پت واپس چلے گئے ۔ پھر شیخ شمس الدین ترک پانی پتی سے 680ھ کے بعد بیعت ہوئے، اور 712ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ حضرت علی احمد صابر کلیری، ص:109) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا تعلق ایک علمی و صاحبِ ثروت خاندان سے تھا ۔ انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ آپ اس قت کے مروجہ علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی تصانیف میں ’’ زاد الابرار ‘‘ ایک لاجواب کتاب ہے ۔ اس کے مطالعے سے آپ کی وسعتِ علمی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ (سیر الاقطاب ، ص:215) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت شرف الدین بو علی قلندر آپ سے بچپن سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ بلکہ آپ سے ملاقات کے لئے آپ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ۔ (ایضا: 215) ـ
❤1
سیرت و خصائص:
حجۃ الاولیاء، برہان الاتقیاء، زبدۃ الاصفیاء، سند الاولیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، برکت الزماں، قطب الزماں، حضرت خواجہ شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے عظیم مشائخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ذاتِ والا برکات سے سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے حضرات آپ کی صحبت کی بدولت واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا فیضان عام تھا ۔ خاندانی نسبت اعلیٰ تھی ۔ آپ پر بچپن سے ہی آثارِ سعادت نمایاں تھے ۔ آباء کا تعلق امراء سے تھا ۔ اس لئے گھر میں ہر قسم کی فروانی و خوشحالی تھی ۔ ابتداءً اپنی ذات کے لئے بے دریغ پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ آپ کا معیار رہائش اونچا تھا ۔ آپ کا لباس اعلیٰ قسم کا ہوتا تھا ۔ آپ لباس پر کافی پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت مخدوم شرف الدین قلندر ایک عام گزر گاہ پر رونق افروز تھے ۔ آپ گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرے، تو حضرت قلندر نے جب آپ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تو فرمایا: ’’ زہے اسپ و زہے سوار ‘‘ ۔ (کیسا خوش قسمت گھوڑا اور کیسا خوش قسمت سوار ہے) ۔ یہ سن کر آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ گھوڑے سے فوراً اترے، گریبان چاک کرکے جنگل کی راہ لی ۔ چالیس سال آپ نے سفر میں گزارے ۔ بہت سے درویشوں سے ملے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔
ایک دن حضرت شمس الدین ترک پانی پتی اپنے حجرے کے دروازے پر رونق افروز تھے ۔ مریدین و معتقدین حاضرِ خدمت تھے ۔ آپ لباس فاخرہ پہنے گھوڑے پر سوار ان کے سامنے سے گزرے، انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی حاضرین سے فرمایا: ’’ میں اپنی نعمت اس لڑکے کی پیشانی میں تاباں کو دیکھتا ہوں ‘‘ ۔ ان کا یہ فرمانا تھا کہ آپ کی نظر ان پر پڑی ۔ نظر کا پڑنا تھا کہ آپ بے اختیار ہو گئے ۔ گھوڑے سے اترے اور سر نیاز ان کے قدموں پر رکھا، انہوں نے اپنے دست مبارک سے آپ کا سر اٹھایا اور آپ کو حکم دیا کہ ’’ گھوڑے پر سوار رہو اور گھوڑے کو پھیرو ‘‘ ۔ آپ حکم بجا لائے ۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پتی نے اسی وقت آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا اور کلاہ چرمی جو اس وقت پہنے ہوئے تھے اتار کر اپنے ہاتھ سے آپ کے سر پر رکھا اور فرمایا ۔ ’’ ترا ایں ہم دادم وآں ہم دادم ‘‘ (میں نے تمہیں یہ بھی دیا اور وہ بھی دیا) ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں عطاء کر دی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتاہے: ’’علاء الدین صابر کلیری کی کمائی، شیخ جلال الدین نے لٹائی ‘‘ ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:111) ـ
جود و سخا:
آپ بہت سخی تھے ۔ ہر وقت لنگر جاری رہتا ۔ ہزاروں افراد لنگر کھاتے تھے ۔ مسافر، نادار، یتیم بیوہ اور مستحق افراد کوبا عزت کھانا ملتا تھا۔اس میں نئی چیز یہ تھی کہ جو شخص جس برتن میں کھانا کھاتا وہ اسی کی ملکیت ہوتا تھا۔اس کو دوبارہ لنگر میں استعمال نہیں کیا جاتاتھا۔دنیا حیران تھی کہ روزانہ اتنا برتن اور اناج کہاں سے آتا ہے۔یہاں خرچ کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ اِس پر فِتن اور مہنگائی کے زمانے میں بھی اولیاء اللہ کے آستانوں سے غریبوں اور مسافروں کو بلا امتیاز کھانا ملتا ہے۔پاک وہند کی اکثر خانقاہوں پر ہروقت لنگر جاری رہتاہے۔لاہور پاکستان میں داتا گنج بخش کے مزار شریف پر دن رات لنگرجاری رہتاہے۔جن کے پاس دنیاوی خزانے اور سلطنتیں ہیں،انہوں نے تو غریبوں سے روزی روٹی چھین لی ہے۔ لیکن اللہ کے فقیر آج بھی غریب پرور اور محسنِ انسانیت ہیں،اور ان کے مزاروں سے انسانیت کی خدمت ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدیاں بِیت گئیں ،لیکن ان کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
خانقاہ میں ہزاروں لوگ اعلیٰ قسم کھانا کھاتےتھے۔لیکن حضرت مخدوم الاولیاء کے گھر والوں پر اکثر فاقے رہتےتھے۔ ایک کیمیا گرشخص نے آپ کے صاحبزادے کو دیکھا تو کہنے لگا: اے مخدوم زادے! تمھاری صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کئی دن سے فاقے سے ہو۔تم مجھ سے کیمیا بنانا سیکھ لو۔تاکہ خوش حال زندگی بسر کرو۔حضرت دیوار کے پیچھے سب باتیں سن رہےتھے۔اس کے چلے جانے کے بعد فرزند کوبلایا اور فرمایا: ’’ کہ اس حجرے کی طرف نظر کرو۔جب انہوں نے آنکھ اٹھاکر دیکھا تو پورا حجرہ سونے کا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے فرزند! یہ اکسیر پیدا کرو کہ جس پر نظر ڈالو،وہ کندن ہوجائے‘‘۔(تذکرہ اولیائے برصغیر ، ص:225) ـ
حجۃ الاولیاء، برہان الاتقیاء، زبدۃ الاصفیاء، سند الاولیاء، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، برکت الزماں، قطب الزماں، حضرت خواجہ شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے عظیم مشائخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ذاتِ والا برکات سے سلسلۂ عالیہ کو فروغ حاصل ہوا ۔ بہت سے حضرات آپ کی صحبت کی بدولت واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا فیضان عام تھا ۔ خاندانی نسبت اعلیٰ تھی ۔ آپ پر بچپن سے ہی آثارِ سعادت نمایاں تھے ۔ آباء کا تعلق امراء سے تھا ۔ اس لئے گھر میں ہر قسم کی فروانی و خوشحالی تھی ۔ ابتداءً اپنی ذات کے لئے بے دریغ پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ آپ کا معیار رہائش اونچا تھا ۔ آپ کا لباس اعلیٰ قسم کا ہوتا تھا ۔ آپ لباس پر کافی پیسہ خرچ کرتے تھے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت مخدوم شرف الدین قلندر ایک عام گزر گاہ پر رونق افروز تھے ۔ آپ گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرے، تو حضرت قلندر نے جب آپ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تو فرمایا: ’’ زہے اسپ و زہے سوار ‘‘ ۔ (کیسا خوش قسمت گھوڑا اور کیسا خوش قسمت سوار ہے) ۔ یہ سن کر آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ گھوڑے سے فوراً اترے، گریبان چاک کرکے جنگل کی راہ لی ۔ چالیس سال آپ نے سفر میں گزارے ۔ بہت سے درویشوں سے ملے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہوئے ۔
ایک دن حضرت شمس الدین ترک پانی پتی اپنے حجرے کے دروازے پر رونق افروز تھے ۔ مریدین و معتقدین حاضرِ خدمت تھے ۔ آپ لباس فاخرہ پہنے گھوڑے پر سوار ان کے سامنے سے گزرے، انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی حاضرین سے فرمایا: ’’ میں اپنی نعمت اس لڑکے کی پیشانی میں تاباں کو دیکھتا ہوں ‘‘ ۔ ان کا یہ فرمانا تھا کہ آپ کی نظر ان پر پڑی ۔ نظر کا پڑنا تھا کہ آپ بے اختیار ہو گئے ۔ گھوڑے سے اترے اور سر نیاز ان کے قدموں پر رکھا، انہوں نے اپنے دست مبارک سے آپ کا سر اٹھایا اور آپ کو حکم دیا کہ ’’ گھوڑے پر سوار رہو اور گھوڑے کو پھیرو ‘‘ ۔ آپ حکم بجا لائے ۔ حضرت شمس الدین ترک پانی پتی نے اسی وقت آپ کو بیعت سے مشرف فرمایا اور کلاہ چرمی جو اس وقت پہنے ہوئے تھے اتار کر اپنے ہاتھ سے آپ کے سر پر رکھا اور فرمایا ۔ ’’ ترا ایں ہم دادم وآں ہم دادم ‘‘ (میں نے تمہیں یہ بھی دیا اور وہ بھی دیا) ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں عطاء کر دی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتاہے: ’’علاء الدین صابر کلیری کی کمائی، شیخ جلال الدین نے لٹائی ‘‘ ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:111) ـ
جود و سخا:
آپ بہت سخی تھے ۔ ہر وقت لنگر جاری رہتا ۔ ہزاروں افراد لنگر کھاتے تھے ۔ مسافر، نادار، یتیم بیوہ اور مستحق افراد کوبا عزت کھانا ملتا تھا۔اس میں نئی چیز یہ تھی کہ جو شخص جس برتن میں کھانا کھاتا وہ اسی کی ملکیت ہوتا تھا۔اس کو دوبارہ لنگر میں استعمال نہیں کیا جاتاتھا۔دنیا حیران تھی کہ روزانہ اتنا برتن اور اناج کہاں سے آتا ہے۔یہاں خرچ کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ اِس پر فِتن اور مہنگائی کے زمانے میں بھی اولیاء اللہ کے آستانوں سے غریبوں اور مسافروں کو بلا امتیاز کھانا ملتا ہے۔پاک وہند کی اکثر خانقاہوں پر ہروقت لنگر جاری رہتاہے۔لاہور پاکستان میں داتا گنج بخش کے مزار شریف پر دن رات لنگرجاری رہتاہے۔جن کے پاس دنیاوی خزانے اور سلطنتیں ہیں،انہوں نے تو غریبوں سے روزی روٹی چھین لی ہے۔ لیکن اللہ کے فقیر آج بھی غریب پرور اور محسنِ انسانیت ہیں،اور ان کے مزاروں سے انسانیت کی خدمت ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدیاں بِیت گئیں ،لیکن ان کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
خانقاہ میں ہزاروں لوگ اعلیٰ قسم کھانا کھاتےتھے۔لیکن حضرت مخدوم الاولیاء کے گھر والوں پر اکثر فاقے رہتےتھے۔ ایک کیمیا گرشخص نے آپ کے صاحبزادے کو دیکھا تو کہنے لگا: اے مخدوم زادے! تمھاری صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کئی دن سے فاقے سے ہو۔تم مجھ سے کیمیا بنانا سیکھ لو۔تاکہ خوش حال زندگی بسر کرو۔حضرت دیوار کے پیچھے سب باتیں سن رہےتھے۔اس کے چلے جانے کے بعد فرزند کوبلایا اور فرمایا: ’’ کہ اس حجرے کی طرف نظر کرو۔جب انہوں نے آنکھ اٹھاکر دیکھا تو پورا حجرہ سونے کا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے فرزند! یہ اکسیر پیدا کرو کہ جس پر نظر ڈالو،وہ کندن ہوجائے‘‘۔(تذکرہ اولیائے برصغیر ، ص:225) ـ
❤1
اسی طرح ایک دن آپ دریا کےکنارےتشریف لےگئے۔وہاں ایک جوگی آنکھیں بندکئے بیٹھاتھا۔آپ کے وہاں پہنچنےپرجوگی نے آنکھیں کھولیں اور آپ کوسنگ پارس دیا۔آپ نےاس پتھرکو دریا میں پھینک دیا۔ جوگی خفاہوا۔ آپ نےجوگی سےفرمایاکہ دریا میں جا کر اپنا پتھر لےلے۔ لیکن اس کے علاوہ اور کوئی پتھر نہ لینا۔جب جوگی دریامیں گیاتواس نےوہاں ہزاروں اس سے اعلیٰ قسم کے پتھرپائے۔ اس نے اپنےپتھرکےعلاوہ ایک اورپتھراٹھالیااورباہرآگیا۔آپ نے اس سے فرمایاکہ وہ دوسراپتھرکیوں چھپا کرلایااس نےدونوں پتھرآپ کےسامنےرکھ دیئےاورآپ کامریدہوگیا۔ (ایضا:228)
فضل و کمال:
ایک دن حضرت شیخ جلال الدین کہیں جا رہے تھے کہ ایک ضعیف عورت سر پر پانی کا گھڑا رکھے جا رہی تھی، اس کے پاؤں کانپ رہے تھے آپ نے پوچھا کیا آپ کا کوئی اور آدمی پانی نہیں لاسکتا، کہنے لگی میں بے کس اور بے سہارا ہوں، حضرت نے پانی کا گھڑا اٹھایا اور اپنے کندھے پر رکھ کر چلنے لگے اور اس کے گھر پہنچے گھڑا رکھ کر فرمایا آج کے بعد ان شاء اللہ یہ گھڑا پانی سے بھرا رہے گا تمہیں پانی لانے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ ضعیف عورت اس گھڑے سے پانی استعمال کرتی رہی مگر پانی کبھی کم نہ ہوا۔
آپ کوبہ نورباطن حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی بیماری کاعلم ہوا،آپ بقوت روحانی ایک ساعت میں دہلی پہنچے، مخدوم جہانیاں کوحالت نزع میں پایا، آپ نےان کی صحت کے لئے دعا فرمائی اور اپنی عمرکے چندسال ان کودےکراسی طر ایک ساعت میں پانی پت واپس تشریف لائے ۔ اسی وقت حضرت مخدوم جہانیاں صحت یاب ہوگئے ۔ حضرت کی صحت یابی کی خبر سن کر سلطان فیروز الدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صورت حال معلوم کرنے پر آپ نے بتایا کہ مجھے شیخ جلال الدین نے اپنی زندگی کے دس سال دیے ہیں ورنہ میرا وقت آ پہنچا تھا۔ سلطان فیروزالدین کو حضرت شیخ جلال الدین کی زیارت کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ وہ چل کر پانی پت آیا اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ (ایضا:225) مشہور مفسر عارف باللہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (صاحبِ تفسیرِ مظہری)، اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی آپ کی اولاد میں سے تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب 1857:127) ـ
تاریخِ وصال:
13 ربیع الاول 765ھ مطابق 18 جنوری 1364ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
سیر الاقطاب ۔ تاریخ مشائخِ چشت ۔ اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر ۔خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-kabir-auliya
فضل و کمال:
ایک دن حضرت شیخ جلال الدین کہیں جا رہے تھے کہ ایک ضعیف عورت سر پر پانی کا گھڑا رکھے جا رہی تھی، اس کے پاؤں کانپ رہے تھے آپ نے پوچھا کیا آپ کا کوئی اور آدمی پانی نہیں لاسکتا، کہنے لگی میں بے کس اور بے سہارا ہوں، حضرت نے پانی کا گھڑا اٹھایا اور اپنے کندھے پر رکھ کر چلنے لگے اور اس کے گھر پہنچے گھڑا رکھ کر فرمایا آج کے بعد ان شاء اللہ یہ گھڑا پانی سے بھرا رہے گا تمہیں پانی لانے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ ضعیف عورت اس گھڑے سے پانی استعمال کرتی رہی مگر پانی کبھی کم نہ ہوا۔
آپ کوبہ نورباطن حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی بیماری کاعلم ہوا،آپ بقوت روحانی ایک ساعت میں دہلی پہنچے، مخدوم جہانیاں کوحالت نزع میں پایا، آپ نےان کی صحت کے لئے دعا فرمائی اور اپنی عمرکے چندسال ان کودےکراسی طر ایک ساعت میں پانی پت واپس تشریف لائے ۔ اسی وقت حضرت مخدوم جہانیاں صحت یاب ہوگئے ۔ حضرت کی صحت یابی کی خبر سن کر سلطان فیروز الدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صورت حال معلوم کرنے پر آپ نے بتایا کہ مجھے شیخ جلال الدین نے اپنی زندگی کے دس سال دیے ہیں ورنہ میرا وقت آ پہنچا تھا۔ سلطان فیروزالدین کو حضرت شیخ جلال الدین کی زیارت کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ وہ چل کر پانی پت آیا اور آپ کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ (ایضا:225) مشہور مفسر عارف باللہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (صاحبِ تفسیرِ مظہری)، اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی آپ کی اولاد میں سے تھے ۔ (چند ممتاز علمائے انقلاب 1857:127) ـ
تاریخِ وصال:
13 ربیع الاول 765ھ مطابق 18 جنوری 1364ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ مزار پر انوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
سیر الاقطاب ۔ تاریخ مشائخِ چشت ۔ اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر ۔خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jalaluddin-kabir-auliya
❤1
حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی احمد ۔ لقب: علاء الدین صابر، بانیِ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبد الرحیم بن سید عبد السلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم ، ص:207) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19 ربیع الاول 592ھ مطابق 22 فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ ہرات ‘‘ (افغانستان) میں ہوئی ۔ آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی ۔
بشارت قبل از ولادت:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’ علی ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ نبیِّ مُکرَّم ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’ احمد ‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا ۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والدِ گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ بچہ علاء الدین کہلائے گا ‘‘ ۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر آپ کو ’’ صابر ‘‘ کا لقب عطاء فرمایا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’ علاء الدین علی احمد صابر ‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی ۔۔۔۔ آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’ لا موجود الا اللہ ‘‘ تھا ۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے ۔ آپ انتہائی ذہین و فطین ، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرمالی ۔ حضرت شیخ العالم فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کرلئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔ (مخدوم علاء الدین احمد صابر:48) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم،زُہد الانبیاء،حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔
خلافت کی عظیم الشان محفل:
حضرت بابافرید الدین مسعود گنج شکر ماہ ِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔آپنے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرماہیں،اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نےآپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔ اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نےایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین نے اپنا خؤاب بیان فرمایا،جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کوبوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر نے شیخ علی احمد صابر کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطافرماکر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی،اور پھر علاقہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)
سیرت وخصائص: پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم ومعرفت، وارثِ علوم ومعارفِ شیخ العالم،جگر گوشۂ غوث الاعظم،آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء،منبعِ جود و سخا،عاشقِ ذاتِ الٰہ،حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے،اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔حضرت غوث الاعظم سے نسبی تعلق ہے۔آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کےپہلےسال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھےاوردوسرےدن دودھ نہیں پیتےتھے،گویا اس دن روزہ رکھتےتھے۔جب زندگی کادوسراسال شروع ہواتوتیسرےدن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتےتھےگویادودن روزہ رکھتےتھے۔جب آپ دوسال کےہوگئےتودودھ پیناچھوڑدیا، جب چوتھاسال شروع ہوااورآپ کی زبان کھلی توسب سے پہلا کلمہ جوآپ کی زبان مبارک سےنکلا وہ یہ تھا۔لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔ جب چھ سال کےہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔رات کازیادہ حصہ عبادت میں گزارنےلگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نےنمازِ تہجدپابندی سےپڑھناشروع کردی۔ (تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)
صابر کی وجہ تسمیہ:
سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ(باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء: 153) ـ
❤1
شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں: ’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی ، وعلم ِدل من ذات ِ شیخ علاء الدین احمدسرایت کردہ‘‘۔یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے،اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:67/خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)۔شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی،تواضع وانکساری،اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔تو آپ نے خوش ہوکر فرمایا: نظام الدین محبوبِ الہ ہیں،اور علاء الدین عاشق ِ الہ ہیں۔(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔نہ آپ نے کسی سےاپنا تعارف کرایا،اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جمالیا۔آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔لباس میں کرتہ، تہبند،اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جوزیبِ گلو رہتا تھا۔آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ان کی روحانیت وحسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔بہت کم گفتگو فرماتے۔اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے: ’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔بڑے اکابرین اولیاء وعلماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔
اکثر تذنگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی ،تو اس میں رطب ویابس جمع ہوگیا۔انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی،وغیرہ۔ لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین کےلنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو،اور جس کے حسنِ اخلاق ،اور صبر وقناعت،توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء کیا گیا ہو۔وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کرسکتاہے۔
تاریخِ وصال: 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارن پور(ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔سیر الاقطاب۔خزینۃ الاصفیاء۔اقتباس الانوار۔تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-makhdoom-alauddin-ali-ahmad-sabir-kaliyari
scholars.pk
Hazrat Khawaja Makhdoom Alauddin Ali Ahmad Sabir Kaliyari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-03-1445 ᴴ | 28-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1445 ᴴ | 29-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1