Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا غلام علی گوپانگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام اور ولادت:
مولانا غلام علی بن حیدر خان گوپانگ (متوفی ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ) نے ۹ ذولحجہ ۱۲۸۷ھ کو اپنے گوٹھ (جو کہ بعد میں آپ کے نام سے مشہور ہوا) ضلع بدین میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کی سرپرستی میں قائم مدرسہ دارالنور عثمانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اسی درسگاہ میں درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہویئے۔ اس مدرسہ کی بنیاد مولانا نور محمد قوم گھرانہ نے ۱۲۷۳ھ کو رکھی تھی ۔
بیعت:
شیخ طریقت قاطع نجدیت خواجہ محمد سعید صدیقی قدس سرہ سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں خواجہ محدم حسن جان سرہندی کی خدمت میں رہ کر حل لطائف اور مقامات سلوک کی تکمیل کی ۔ (مونس المخلصین) ـ
درس و تدریس:
مفتی غلام علی گوپانگ بعد فراغت درگاہ سرہندیہ ٹندو سائینداد کی درسگاہ میں مدرس مقرر ہوئے وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ عرصہ وہیں گزرنے کے بعد اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرکے درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کا سلسلہ تاحیات جاری رکھا ۔
اولاد:
مولانا غلام علی گوپانگ کو چار بیٹے تولد ہوئے ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حاجی محمد سعید گوپانگ
۲۔ غلام حسین
۳۔ عبد الرحیم
۴۔ حاجی عبد الرحمن
حاجی عبد الرحمن گوپانگ کے بیٹے مولانا عبداللہ گوپانگ ہیں جو کہ ایک عرصہ سے مدینہ جامع مسجد کے امام و خطیب اور دارالعلوم نور الاسلام مجددیہ چوھڑ جمالی (ضلع ٹھٹھہ) کے صدر مدرس ہیں۔ حاجی صٓحب کے دوسرے بیٹے کا نام مولوی غلام علی ہے جو کہ قطر مسجد بدین کے امام و خطیب ہیں عقیدے کے لحاظ سے وہابی ہیں اور رابطے کے باجود مواد فراہم نہیں کیا ۔
وصال:
مولانا غلام علی ۱۳ ربیع آخر ۱۳۶۸ھ / ۱۹۴۹ء کو انتقال کیا ۔ آخری آرام گاہ گوٹھ مولوی غلام علی گوپانگ تحصیل و ضلع بدین میں واقع ہے ۔
(مولانا عبداللہ سے ان کے جد امجد مولانا غلام علی کی سوانح حاصل کرنے چوھڑ جمالی جانے کی زحمت گورا کی لیکن ہائے افسوس انہوں نے فقط ولادت اور وصال اور اولاد کے اسماء لکھوائے۔ بقیہ معلومات محترم سائیں بخش جونیجو کی زیر ترتیب سندھی قلمی کتاب سے حاصل کی ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-gopang
نام اور ولادت:
مولانا غلام علی بن حیدر خان گوپانگ (متوفی ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ) نے ۹ ذولحجہ ۱۲۸۷ھ کو اپنے گوٹھ (جو کہ بعد میں آپ کے نام سے مشہور ہوا) ضلع بدین میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کی سرپرستی میں قائم مدرسہ دارالنور عثمانیہ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اسی درسگاہ میں درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہویئے۔ اس مدرسہ کی بنیاد مولانا نور محمد قوم گھرانہ نے ۱۲۷۳ھ کو رکھی تھی ۔
بیعت:
شیخ طریقت قاطع نجدیت خواجہ محمد سعید صدیقی قدس سرہ سجادہ نشین درگاہ لواری شریف کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں خواجہ محدم حسن جان سرہندی کی خدمت میں رہ کر حل لطائف اور مقامات سلوک کی تکمیل کی ۔ (مونس المخلصین) ـ
درس و تدریس:
مفتی غلام علی گوپانگ بعد فراغت درگاہ سرہندیہ ٹندو سائینداد کی درسگاہ میں مدرس مقرر ہوئے وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا کچھ عرصہ وہیں گزرنے کے بعد اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرکے درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کا سلسلہ تاحیات جاری رکھا ۔
اولاد:
مولانا غلام علی گوپانگ کو چار بیٹے تولد ہوئے ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حاجی محمد سعید گوپانگ
۲۔ غلام حسین
۳۔ عبد الرحیم
۴۔ حاجی عبد الرحمن
حاجی عبد الرحمن گوپانگ کے بیٹے مولانا عبداللہ گوپانگ ہیں جو کہ ایک عرصہ سے مدینہ جامع مسجد کے امام و خطیب اور دارالعلوم نور الاسلام مجددیہ چوھڑ جمالی (ضلع ٹھٹھہ) کے صدر مدرس ہیں۔ حاجی صٓحب کے دوسرے بیٹے کا نام مولوی غلام علی ہے جو کہ قطر مسجد بدین کے امام و خطیب ہیں عقیدے کے لحاظ سے وہابی ہیں اور رابطے کے باجود مواد فراہم نہیں کیا ۔
وصال:
مولانا غلام علی ۱۳ ربیع آخر ۱۳۶۸ھ / ۱۹۴۹ء کو انتقال کیا ۔ آخری آرام گاہ گوٹھ مولوی غلام علی گوپانگ تحصیل و ضلع بدین میں واقع ہے ۔
(مولانا عبداللہ سے ان کے جد امجد مولانا غلام علی کی سوانح حاصل کرنے چوھڑ جمالی جانے کی زحمت گورا کی لیکن ہائے افسوس انہوں نے فقط ولادت اور وصال اور اولاد کے اسماء لکھوائے۔ بقیہ معلومات محترم سائیں بخش جونیجو کی زیر ترتیب سندھی قلمی کتاب سے حاصل کی ہے) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-gopang
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Ali Gopang
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ ابو الفتح جون پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جو بڑے عقل مند عالم تھے اور انہیں کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے ۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے ۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے ۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں ۔
آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابو الفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے ۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہو جاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی ۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے ۔ سوائے شیخ عبد الوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابو الفتح نے اپنے دادا قاضی عبد المقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبد المقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیر الدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا ۔
اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آ گیا ۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی ۔
لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبد المقتدر کے معتقدین نے وہ روپئے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابو الفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے ۔ شیخ ابو الفتح ۱۴ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ ۱۳ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی ۔
شیخ ابو الفتح جونپوری [1]:
عالم فاضل، فصیح بلیغ، جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے ۔
شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں ۔ آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ (مرتب) ـ
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fatah-jonpuri
آپ اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جو بڑے عقل مند عالم تھے اور انہیں کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے ۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے ۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے ۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں ۔
آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابو الفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے ۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہو جاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی ۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے ۔ سوائے شیخ عبد الوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابو الفتح نے اپنے دادا قاضی عبد المقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبد المقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیر الدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا ۔
اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آ گیا ۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی ۔
لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبد المقتدر کے معتقدین نے وہ روپئے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابو الفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے ۔ شیخ ابو الفتح ۱۴ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ ۱۳ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی ۔
شیخ ابو الفتح جونپوری [1]:
عالم فاضل، فصیح بلیغ، جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے ۔
شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں ۔ آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ (مرتب) ـ
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fatah-jonpuri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Fatah Jonpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت بدر الدین یوسف بن عبد اللہ اذرعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
یوسف بن عبد اللہ بن محمد اذرعی:
بدر الدین لقب تھا ۔ عالم دہر فاضل عصر، ماہر علوم متعددہ تھے ۔ ۶۰۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ فقہ اپنے باپ قاضی القضاۃ شمس الدین عبد اللہ اور محمود حصیری سے حاصل کی ۔
وصال:
چار شنبہ کے روز ۱۳ ماہ ربیع الاول ۶۹۶ھ میں وفات پائی ۔ ’’ مقتدائے عالم ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-badruddin-yousuf
یوسف بن عبد اللہ بن محمد اذرعی:
بدر الدین لقب تھا ۔ عالم دہر فاضل عصر، ماہر علوم متعددہ تھے ۔ ۶۰۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ فقہ اپنے باپ قاضی القضاۃ شمس الدین عبد اللہ اور محمود حصیری سے حاصل کی ۔
وصال:
چار شنبہ کے روز ۱۳ ماہ ربیع الاول ۶۹۶ھ میں وفات پائی ۔ ’’ مقتدائے عالم ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-badruddin-yousuf
scholars.pk
Hazrat Badruddin Yousuf
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد ۔ لقب: جلال الدین، کبیر الاولیاء ۔ مکمل نام: شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبد اللہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کے والد ماجد شیخ محمود امرائے پانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:221) ـ
تاریخِ ولادت:
23 شوال المکرم 557ھ مطابق 23 اکتوبر 1162ء، بروز بدھ، پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔ انسائیکلوپیڈیا جلد:3، ص:61) ۔
آپ کے سنِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں ۔ صاحبِ اقتباس الانوار شیخ محمد اکرم قدوسی نے تحریر فرمایا ہے کہ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر سال سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح صاحبِ سیر الاقطاب جو آپ کی اولاد میں سے ہیں، انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت کی عمر مبارک ایک سو بہتر برس تھی ۔ (اقتباس الانوار ، ص:550 / سیر الاقطاب ، ص:226) ۔
تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت 593ھ یا اس سے قریب قریب تصور کی جا سکتی ہے ۔ مولوی زکریا کاندھلوی نے آپ کا سنِ ولادت 695ھ لکھا ہے ۔ یہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ تلاشِ مرشد میں جب حضرت کبیر الاولیاء سرگرداں تھے، اور اسی سلسلے میں شیخ جمال الدین ہانسوی (م659ھ) سے بھی ملاقات ہوئی، اور ان سے بیعت کی درخواست کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنے علاقے پانی پت جائیں وہیں آپ کو شیخِ کامل ملےگا ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملاقات 659ھ سے پہلے ہوئی ہوگی ۔ انہیں کے حکم پر 658ھ میں اپنے علاقے پانی پت واپس چلے گئے ۔ پھر شیخ شمس الدین ترک پانی پتی سے 680ھ کے بعد بیعت ہوئے، اور 712ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ حضرت علی احمد صابر کلیری، ص:109) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا تعلق ایک علمی و صاحبِ ثروت خاندان سے تھا ۔ انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ آپ اس قت کے مروجہ علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی تصانیف میں ’’ زاد الابرار ‘‘ ایک لاجواب کتاب ہے ۔ اس کے مطالعے سے آپ کی وسعتِ علمی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ (سیر الاقطاب ، ص:215) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت شرف الدین بو علی قلندر آپ سے بچپن سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ بلکہ آپ سے ملاقات کے لئے آپ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ۔ (ایضا: 215) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمد ۔ لقب: جلال الدین، کبیر الاولیاء ۔ مکمل نام: شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء پانی پتی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبد اللہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کے والد ماجد شیخ محمود امرائے پانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے بر صغیر، ص:221) ـ
تاریخِ ولادت:
23 شوال المکرم 557ھ مطابق 23 اکتوبر 1162ء، بروز بدھ، پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔ انسائیکلوپیڈیا جلد:3، ص:61) ۔
آپ کے سنِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں ۔ صاحبِ اقتباس الانوار شیخ محمد اکرم قدوسی نے تحریر فرمایا ہے کہ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر سال سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح صاحبِ سیر الاقطاب جو آپ کی اولاد میں سے ہیں، انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت کی عمر مبارک ایک سو بہتر برس تھی ۔ (اقتباس الانوار ، ص:550 / سیر الاقطاب ، ص:226) ۔
تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت 593ھ یا اس سے قریب قریب تصور کی جا سکتی ہے ۔ مولوی زکریا کاندھلوی نے آپ کا سنِ ولادت 695ھ لکھا ہے ۔ یہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ تلاشِ مرشد میں جب حضرت کبیر الاولیاء سرگرداں تھے، اور اسی سلسلے میں شیخ جمال الدین ہانسوی (م659ھ) سے بھی ملاقات ہوئی، اور ان سے بیعت کی درخواست کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنے علاقے پانی پت جائیں وہیں آپ کو شیخِ کامل ملےگا ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملاقات 659ھ سے پہلے ہوئی ہوگی ۔ انہیں کے حکم پر 658ھ میں اپنے علاقے پانی پت واپس چلے گئے ۔ پھر شیخ شمس الدین ترک پانی پتی سے 680ھ کے بعد بیعت ہوئے، اور 712ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (تذکرہ حضرت علی احمد صابر کلیری، ص:109) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا تعلق ایک علمی و صاحبِ ثروت خاندان سے تھا ۔ انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ آپ اس قت کے مروجہ علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی تصانیف میں ’’ زاد الابرار ‘‘ ایک لاجواب کتاب ہے ۔ اس کے مطالعے سے آپ کی وسعتِ علمی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ (سیر الاقطاب ، ص:215) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں شیخِ کامل حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح حضرت شرف الدین بو علی قلندر آپ سے بچپن سے بہت محبت فرماتے تھے ۔ بلکہ آپ سے ملاقات کے لئے آپ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ۔ (ایضا: 215) ـ
❤1