🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
قطب الدین ابو عبداللہ محمد بن سلطان دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

قطب الدین ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن محمد بن عمر بن سلطان دمشقی صالح المعروف بہ ابن سلطان: علامہ، فقیہ، مؤرخ، مدرس تھے ۔

ولادت:
۱۲ ربیع الاول ۸۷۰ھ کو پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
عبد البر بن شحنہ وغیرہ سے تحصیل علم کی، مدرسہ قصاعیہ، مدرسہ ظاہریہ اور جامع اموی میں درس دیا، دمشق کے مفتی رہے ـ

وصال:
۱۷ ذیقعدہ ۹۵۰ھ کو وفات پائی ۔

آپ کی تصانیف میں شرح کنز الدقائق نسفی، رسالہ فی تحریم افیون، البرق اللامع فی المنع من البرکۃ فی الجامع، فتح الملک العالم المنان علی ملک مظفر سلیمان اور تشویق الساجد الیٰ زیارۃ اشرف المساجد مشہور ہیں ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/qutubuddin-abu-abdullah-muhammad-bin-sultan-dimashqi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبدالکریم مگسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
استاد العلماء حضرت مولانا عبد الکریم بن غلام حسین مگسی ۱۲ ، ربیع الاول ۱۳۰۲ھ میں گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم نحو میر تک مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں میاں گلاب الدین صاحب چنہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد تین تلائو حیدراؓاد (سندھ) میں مولانا عبداللطیف صاحب کے پاس ایک سال تک رہے۔ اس کے بعد تعلیم کی خاطر مولانا محمد صالح سیال کے پا س مدرسہ ٹوڑی پوٹھ متصل دادو میں چھ ماہ تک رہے۔ اس کے بعد گوٹھ بانھو لاکھیر میں مولانا الحاج الٰہی بخش صاحب کے پاس پڑھتے رہے۔ مدرسہ دارالفیوض صوبھوخان مگسی میں مولانا محمد اسماعیل مگسی کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر اپنی مادر علمی مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن چنہ کے پاس رہ کر فارغ التحصیل ہوئے۔

درس و تدریس:
ایک سال تک استاد محترم کے زیر سایہ مدرسہ میں تعلیم بھی دی ۔ اس کے بعد مدرسہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ ٹھلاء متصل باقرانی اسٹیشن (لاڑکانہ) میں دو سال تک تعلیم دی۔ ۱۳۳۶ھ/۱۹۱۷ء میں خلیفہ غلام مصطفی کے توسل سے گوٹھ صوبھو خان مگسی متصل شاہ پنجو سلطان تحصیل میہڑ میں مدرسہ دارالفیوض میں مدرس رہے اور آخر تک وہاں پر دس نظامی کی تعلیم دیتے رہے۔

بیعت:
تصوف کے سلسلے میں تین طریقوں سے وابستہ تھے۔ قادری طریقے میں آپ کے مرشد میاں محمد کامل قادری خانقاہ کٹبار شریف (بلوچستان) والے تھے۔ نقشبندی طریقے میں حضرت خواجہ محمد عمرجان نقشبندی خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹ) سے فیض حاصل کیا اور چشتیہ طرقیے میں ہندوستان کے کسی بزرگ سے غائبانہ خط و کتاب کے ذریعے تعلق قائم کیا۔

تصنیف و تالیف:
علامہ عبدالکریم مگسی کا زیادہ عرصہ درس و تدریس میں گزرا اس کے باجود لکھنے سے غافل نہ رہے آپ نے مندرہ ذیل کتب قلمی صورت میں یادگارہ چھوڑیں۔

٭ فتاویٰ کریمی (سندھی)
٭ کتاب النحو (سندھی)
٭ ہاتھ اور پائوں چومنے کا مسئلہ
٭ قصیدہ غوثیہ کی شرح

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کا سلسلہ بھی وسیع ہے ان میںسے بعض کے نام یہ ہیں:

٭ مولانا عبد الحکیم (بلوچستان)
٭ مولانا محدم دائود پپری (گوٹھ پپری تحصیل میہڑ)
٭ مولانا محمد سلیمان (جھل مگسی)
٭ مولانا عبدالحکیم قرانی
٭ مولانا محمد دائود
٭ مولانا محدم دادوی
٭ مولانا احمد مگسی
٭ مولانا محمد عیسیٰ (دڑو)
٭ مولانا ہدایت اللہ تونیہ
٭ مولانا رضا محمد مگسی کھیر تھری ثم مدنی
٭ مولانا مفتی کریم بخش مگسی (صدر مدرس دارالقرآن جامع مسجد میہڑ ضلع دادو)
٭ مفتی محمد مہیسر
٭ مولانایار محمد جویو
٭ مولانا محمد چنا
٭ مولانا غلام رسول مری

اولاد:
مولانا عبدالکریم کو چار بیٹے تولد ہوئے:

۱۔ عبدالباقی
۲۔ نور النبی
۳۔ غلام حسین
۴۔ عبدالباری (مشاہیر دادو)

وصال:
حضرت علامہ عبد الکریم مگسی نے علم کی روشنی دور دور تک بکھیر کر مدرسہ دارالفیوض صوبھو خان مگسی تحصیل میہڑ میں ۲، صفر المظفر۱۳۹۲ھ بمطابق مارچ ۱۹۷۲ء کو ۵۶ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں آپ کا مزار شریف ہے۔ ہر سال ۲ صفر المظفر کو عرس مبارک کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مولانا مفتی کریم بخش مگسی نے اپنے استاد محترم و ماموں جان علامہ عبدالکریم مگسی کا سال وفات ’’مفور اللہ‘‘ (۱۳۹۲ھ) سے نکالا ۔

[ مولانا ڈاکٹر عبد الرسول قادری، سکرنڈ کے ذریعہ مواد میسر ہوا ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-kareem-magsi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتی پیر محمد قاسم مشوری علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا مفتی محمد قاسم مشوری علیہ الرحمۃ ۔ لقب: فقیہِ اعظم سندھ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری بن حاجی محمد عثمان بن نہال خان بن اللہ بخش بن یار محمد بن پیارو خان بن شاہ محمد مشوری (علیہم الرحمۃ) ۔ آپ کا خاندانی تعلّق: ’’ رندبلوچ‘‘ کی شاخ ’’ مشوری ‘‘ سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر 12 ربیع الاوّل 1316ھ مطابق یکم اگست 1898ء کو درگاہِ عالیہ مشوری شریف ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ نہایت ہی ذہین وفطین تھے ۔ اپنی والدہ محترمہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا۔آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ ، زاہدہ اور شب خیز اور قرآن مجید کی عاملہ خاتون تھیں ۔ اس کے بعد قریب ہی ’’گوٹھ ملا ابڑا‘‘ میں صوفیِ باصفا حضرت مولانا محمد عالم ابڑو سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔بَعْدَہٗ بارہ سال کی عمر میں اس وقت کی سندھ کی مشہور دینی درس گاہ ’’مدرسہ دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ ) میں داخلہ لیا۔

حضرت علامہ مفتی غلام محمد جتوئی اور سراج الفقہاء استاذ الاساتذہ عارف باللہ علامہ مولانا مفتی ابو الفیض غلام عمر جتوئی (علیہما الرحمۃ) سے 1339ھ / 1920ء میں تحصیل علم کرکے سندِ فراغ حاصل فرمائی ۔ آپ کی دستارِ فضیلت میں اس وقت کےجیّد علما و مشائخ نے شرکت فرمائی تھی ۔

بیعت و خلافت:
امام العرفا، رئیس الصلحا، عارف باللہ حضرت خواجہ سیّد محمد امام الدین شاہ راشدی قادری علیہ الرحمۃ (درگاہِ ٹھلا شریف لاڑکانہ) کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیّہ میں بیعت ہوئے اور 1931ء میں خلافت واجازت اور تبرکات سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
فقیہ العصر، مفتیِ اعظم سندھ، عالم و عارف، استاذ العلما، رئیس الصلحا، محققِ دوراں، قاسم العلمِ والعرفاں، فقیہِ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اُن نفوسِ قدسیّہ میں سے ہیں جنہوں نے باب الاسلام سر زمینِ اولیا سندھ میں دینِ اسلام کی آبیاری فرمائی، مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ساری زندگی درس و تدریس تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور مسلکِ حق اہلِ سنّت و جماعت کی ترویج و اشاعت میں گزری ۔

مفتی صاحب کا فیضان عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اکثر علما بلا واسطہ یابالواسطہ آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ آپ نے تحصیلِ علم کے بعد اپنےاستاذِ محترم سراج الفقہا حضرت علامہ مولانا غلام عمر جتوئی کےارشاد پر،مدرسۂ جامعہ عربیہ قاسم العلوم قائم کیا۔ دیگر مدارس کے برعکس آپ کا طریقۂ کاریکسر منفرد تھا۔ آپ کے ہاں طلبہ کے داخلے کا رجسٹر تھا اور نہ ہی روزانہ حاضری کا معمول ، طلبہ کاشش ماہی یا سالانہ امتحان ہوتا تھا اور فارغ ہونے والے فضلا کو سند بھی نہیں دی جاتی تھی، اس کے باوجود نتیجہ سو فیصد ہوتا، وہاں سے فارغ ہونے والا ہر فاضل تدریس کے قابل ہوتا۔

دور دراز علاقوں سے طلبہ سفر کرکے حاضرِ خدمت ہوتے اورعلم کی لازوال دولت سےمشرف ہوکراپنے علاقوں کی طرف لوٹتے تھے۔اس درس گاہ سے آج تک علم و عرفان کی نہریں جاری ہیں جن سے بے شمار تشنگان ِعلمِ ظاہری و باطنی اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔ بے شمار علما فارغ التحصیل ہوئے اور اس جامعہ کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں کئی شاخیں سرگرم ہیں۔ جب آپ نے فارسی کی تعلیم مکمّل کی تو آپ کے والدِ ماجد حاجی محمد عثمان مشوری اپنے صاحبزادے کو اپنے خاندانی مُرشِد، عارف باللہ، سراج العارفین حضرت خواجہ سیّد امام الدین شاہ راشدی کے حضور دعا کے واسطے لے آئے اور عرض کیا: ’’قبلۂ من! میں اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتا ہوں آپ اجازت بھی عنایت فرمائیں اور دعا بھی فرمائیں۔‘‘

حضرت قبلہ نے آپ کی طرف نظر کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بیٹا!علم دین پڑھ،لیکن خشک ملا نہ ہونا‘‘یعنی علم دین کے ساتھ ساتھ راہِ سلوک بھی طے کرنا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ علم کےساتھ عرفان کی دولت سےبھی مالا مال تھے۔قدرت نےحُسنِ ظاہری کے ساتھ ساتھ جمال ِ باطنی سےبھی خوب نوازا تھا۔ آپ کے حسن و جمال میں ایسی کشش تھی جس سے دنیا کے صاحبِ حسن و جمال میں آپ ممتاز و منفرد نظر آتے تھے، گفتگو و تبسم میں چہرے پر ایسانور چمکتا تھا کہ دلوں کی تاریکیاں دھل جاتی تھیں۔
1
روحانی طور پر ایسا جلال و جمال ، آنکھوں میں حشمت وہیبت تھی کہ بڑے سے بڑے جاگیردار، وزیر،مشیر، بیورو کریٹ بھی سامنے بات کرنے سے پہلے بار بار سوچتے تھے کہ کوئی ناگوار بات منہ سے نہ نکل جائے ، اور بات کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے اور بولنے میں ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی، وہ لڑکھڑاتے اور ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ آپ کا سینۂ اطہر تجلیاتِ الٰہیہ کامرکز تھا۔ آپ کا قلبِ مبارک معارفِ خدا وندی کا گنجینہ تھا۔ نگاہوں میں حُسنِ یار کے جلوے تھے، دل میں محبّتِ خدا وندی اور عشقِ نبوی کا دریا موجزن تھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر عمل تسلیم ورضا کا گوہرِ نایاب تھا۔ آپ رحم و کرم اور عفوو درگذر کا پیکرِ جمیل تھے۔ وعظ و نصیحت ، درس و تدریس ، فتویٰ نویسی ، دعا و تعویذ، تلقین و ارشاد ، اوراد و وظائف اور شب بیداری وغیرہ مشاغل آپ کے ہاں نہایت وسیع وسعت رکھتے ہیں ۔ اتنے مشاغل کثیرہ کے باوجود آپ نے تیس سےزائددینی،تحقیقی و ادبی تصانیف تحریر فرمائیں جو کہ اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں۔آپ کی کتب ورسائل کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کی صورت میں جوآپ نے ایک مشن دیا تھا اس کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال یکم رمضان المبارک 1410ھ،مطابق 28؍مارچ1990ء بروز بدھ،صبح تقریباًچھ بجےروزے کی حالت میں اِس طرح ہوا کہ آپ اسم ذات’’اللہ اللہ‘‘ کاورد کرتےہوئےروح ربّ العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوگئی۔درگاہِ عالیہ مشوری شریف میں تدفین ہوئی ،مزارشریف مرجعِ خلائق ہے۔

ماٰخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-muhammad-qasim-mashoori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطبِ ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما ۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی ۔

بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابو مخدوم سید طاہر اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ، سراجیہ ، اشرفیہ، میں اجازت و خلافت سے مشرف فرما دیا ۔

سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل، مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے ۔ اپنے پیر و مرشد سے انتہا درجے کی عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔

آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔ 1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔

آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔

اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔

تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 جمادی الاولیٰ 1381ھ / بمطابق اکتوبر 1961ء کو ہوا ۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اکابرِ اہلسنت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
محمد نور بخش ۔ لقب: حضرت توکل شاہ انبالوی علیہ الرحمہ کی نسبت سے " توکلی" کہلاتے ہیں ۔

والد کا اسمِ گرامی:
آپ کے والدِ گرامی میاں شادی شاہ صاحب علیہ الرحمہ ایک صوفی منش، زراعت پیشہ انسان تھے، اور حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مریدِ خاص تھے۔

تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی علیہ الرحمۃ 12 ربیع الاوّل 1288ھ ، مطابق 2 جون 1871ء، بروز جمعۃ المبارک "چک قاضیاں" ضلع لدھیانہ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
حضرت علامہ توکلی علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے مقامی سکول و مدرسہ میں حاصل کی۔ سکول میں اپنی خداداد صلاحیت و ذہانت، محنت اور شرافت کی وجہ سے مقبول تھے ۔ مقامی سکول و کالج اور مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخل ہوئے اور ایم اے عربی میں نمایاں اور امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ۔

حضرت توکلی علیہ الرحمۃ علی گڑھ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور آپ ضلع لدھیانہ میں پہلے مسلمان تھے جنہوں نے ایم اے پاس کیا تھا ۔ علوم دینیہ سے والہانہ محبت کا عالم یہ تھا کہ میونسپل بورڈ کالج کے پروفیسر ہونے کے باوجود مولانا غلام رسول امر تسری کے پاس حاضر ہوتے اور طلباء کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر تفسیر و حدیث اور فقہ کا درس لیتے۔

بیعت و خلافت:
آپ آستانہ توکلیہ پرحاضر ہوئے تو حضرت شیخ توکل شاہ علیہ الرحمہ نے پوچھا کہ آپ کے والد کس آستانہ سے عقیدت وارادت رکھتے ہیں؟ آپ نے بتایا کہ حضرت خواجہ عبد الخالق جہاں خیلاں نقشبندی علیہ الرحمۃ کے مرید ہیں، تو شیخ نے فرمایا: آ جاؤ! یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے اور مجھے فوراً بیعت کر لیا۔ اس طرح آپ پر نورو عرفان اور فیوض و برکات کے دروازے کھل گئے۔ شیخِ طریقت نے کچھ عرصہ بعد سندِ خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ ان کے وصال کے بعد مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ صابریہ میں فیض یاب ہوئے۔

سیرت و خصائص:
عالمِ باعمل، صاحبِ تقویٰ و فضیلت، عاشقِ خیرالانام، حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ ایک عالمِ باعمل اور اپنے وقت کی قدر کرنے والے، اس کا صحیح استعمال جاننے اور کرنے والوں میں سے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی جو سب سے بڑی خوبی و فضیلت ہے، وہ ہے عشقِ مصطفیٰ ﷺ، اور عشق کے بغیر اتباع کے کامل نہیں ہوتا ہے۔ حضرت مولانا توکلی علیہ الرحمہ کی ساری زندگی اتباعِ رسول ﷺ میں گزری، اور لوگوں میں اتباع و عشق کا جذبہ زندہ کرتے رہے۔

آپ بے حد ذہین تھے ۔ ہمیشہ اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی ۔ بڑی ٹھوس صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، لیکن اپنی تمام تر صلاحیتیں دینِ اسلام کی خدمت و اشاعت، کے لئے وقف کر دی تھیں۔ آپ نے دینِ اسلام کی تعلیم عام کرنے کے لئے "آستانے" کی بجائے ایک مدرسہ بنام "مدرسہ اسلامیہ توکلیہ" قائم کیا ۔ جس سے کثیر طلباء مستفید ہوئے، اور عوامِ اہلسنت کے عقائد محفوظ ہوئے۔ کیونکہ جس علاقے میں اہلسنت کی درسگاہ ہوگی وہاں بد عقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے ۔

اسی طرح علامہ توکلی تصنیف وتالیف کی ضرورت و اہمیت، اور افادیت سے پوری طرح باخبر تھے ۔ اس لئے آپ نے اس طرف خصوصی توجہ فرمائی،اور اس میدان میں خاصاکام کیا۔قدرت نے انہیں وسیع معلومات،قوتِ استدلال اورعام فہم اندازِ تحریر کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔

ان کی تصانیف کے مطالعے سے پتہ چلتاہے کہ آپ کامطالعہ بہت وسیع اورعلومِ دینیہ پربہت گہری نظرتھی۔اس دعوےپران کی تمام تصانیف شاہد ہیں۔آپ کی تمام تصانیف بہت مفید اورنافع ہیں۔ان میں سے ج وقبولِ عام و محبوبیت " سیرتِ رسولِ عربی ﷺ " کو ملی، وہ اسی کاخاصہ ہے،اور ایسا کیوں نہ ہوتا! کہ یہ کتاب تو محبوبِ رب العالمین ﷺ کی شان وتوصیف میں ہے۔

جس چیز کی نسبت رب کے حبیب ﷺ سے ہوگی، وہ بھی ان کے صدقے میں محبوبیت کے درجے پر فائز ہو جائےگی ۔ آپ کی دینی خدمات میں یہ ایک نہایت اہم کام ہے کہ آپ نے گورنمنٹ گزٹ اور سرکاری کاغذات میں "بارہ وفات" کی غلط العوامی اصطلاح کو "عید میلاد النبی ﷺ" کے نام سے تبدیل کرنے کی سعیِ جمیل فرمائی، اور اس میں یہاں تک کامیاب ہوئے، کہ اس دن کو بطورِ مقدس دن منانے اور عام تعطیل منظور کروائی ۔ (تقدیم تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ)
1👍1
انعامِ خداوندی:
محترم جناب مفتی عبد الحمید صاحب نقشبندی مجددی، جوایک متقی و پرہیزگار عالمِ دین تھے ۔ ملتان شریف میں رہائش رکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں: میں نےحضرت توکلی صاحب کوتقریباً وصال کے ایک ماہ بعد ، ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مولانا ایک خوبصورت معطرباغ میں ایک سنہری تخت پرجلوہ افروز ہیں۔

میں نے دریافت کیا کہ مولانا صاحب! یہ سرفرازی کیسے نصیب ہوئی؟ فرمانے لگے:" کہ مفتی صاحب! یہ انعام سیرتِ رسولِ عربی ﷺ کی وجہ سے نصیب ہوا ہے"۔

تاریخِ وصال:
سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے بعد سورۃ البقرہ کی تفسیر کے چند رکوع ہی لکھے تھے کہ 13 جمادی الاولیٰ 1367ھ، مطابق 24 مارچ 1948ء کو آپ کا وصال ہو گیا ۔

مدفن:
آپ کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں حضرت نور شاہ ولی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف کے احاطہ میں آپ کو دفن کیا گیا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ سیرت رسول عربی ﷺ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-noor-bakhsh-tawakkali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید الانبیاء رحمۃ للعالمین سیدنا محمد مصطفی ﷺ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضور امامُ الاولیاء، سرورِ انبیاء، باعثِ ایجاد عالم، فخر موجودات، محبوب رب العالمین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، منبع فیض انبیاء و مرسلین، معدن علوم اولین و آخرین، واسطہ ہر فضل و کمال، مظہر ہر حسن و جمال اور خلیفہ مطلق و نائب کل حضرت باری تعالیٰ جل جلالہ کے ہیں ۔

اوّل تخلیق:
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کے نور کو پیدا کیا ۔ پھر اسی نور کو واسطہ خلقِ عالم ٹھہرایا ۔ عالم ارواح ہی میں اس نور کو خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے عہد لیا گیا کہ اگر وہ حضور اقدس ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں ۔ جیسا کہ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِینَ الآیہ میں مذکور ہے ۔ اسی واسطے تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے ہیں ۔

نورِ مصطفیٰ ﷺ کی منتقلی:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اپنے حبیب پاک ﷺ کا نور ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے وہ نور حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رحم پاک میں منتقل ہوا ۔ پھر حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت شیث علیہ السلام کی پشت میں منتقل ہوا ۔ اس طرح یہ نور انور پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل ہوتا ہوا حضور اکرم ﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالہٰ عنہ کی پشت مبارک میں منتقل ہوا ۔ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل ہوا ۔

برکاتِ نورِ مصطفیٰ ﷺ:
اسی نور کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام مسجودِ ملائکہ بنے ۔ اور اسی نور کے وسیلہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی غرق ہونے سے بچی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتشِ نمرود گلزار ہو گئی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبت دور ہو گئی ۔ اور اسی نور کی برکت سے حضرات انبیائے سابقین علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بغایت ہوئیں ۔ حضور ﷺ اپنی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک میں ہی تھے کہ آپ کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالہٰ عنہ نے انتقال فرمایا ۔

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ:
حضور اقدس ﷺ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے ۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ ’’ اصحابِ فیل ‘‘ سے پچپن روز بعد 12 ربیع الاول بمطابق 20 اپریل 571ء ولادت باسعادت کی تاریخ ہے ۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عمل ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں، اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں ۔ (مدارج النبوۃ، جلد 2، 14) ـ

تاریخ عالم میں یہ وہ نرالا اور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث ، گردش لیل ونہار کا مطلوب، خلق آدم کا رمز ، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانیِ کعبہ کی دعا ، ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا ۔ کائنات کے وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا ، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی ؎

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ماوٰی، ضعیفو ں کا ملجا
یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ
سندالاصفیا ء ، اشرف الانبیاء ، احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ وجود کائنات میں رونق افروز ہوئے تو پاکیزہ بدن ، ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے ، خوشبو میں بسے ہوئے، بحالت سجدہ ، مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین میں اپنے والد ماجد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کے اندر پیدا ہوئے ، باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نو نہال کو دیکھ کر نہال ہوتے ، وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طواف کعبہ میں مشغول تھے ۔ یہ خوشخبری سن کر دادا ’’ حضرت عبد المطلب ‘‘ خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگایا ۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیرو برکت کی دعا مانگی اور ’’ محمد (ﷺ) ‘‘ نام رکھا ۔ آپ کے چچا ابو لہب کے پاس لونڈی ’’ ثویبہ ‘‘ خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی ۔ اور ’’ابو لہب ‘‘ کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کا اشارہ سے ثویبہ کو آزاد کر دیا ۔ جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملا کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ :

’’ تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ کھانے پینے کو نہیں ملا بجز اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتا ہوں ‘‘ (بخاری جلد 2، باب و امہاتکم التی ارضعنکم) ـ

اس موقع پر حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہل محبت کے لیے نہایت ہی لذت بخش ہے آپ لکھتے ہیں:

اس جگہ میلاد کرنے والوں کے لیے ایک سند ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی شب ولادت میں خوشی مناتے ہیں اور اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابو لہب کو جو کافر تھا اور اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ۔ آنحضرت ﷺ کی ولادت پر خوشی منانے اور باندی کا دودھ خرچ کرنے پر جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا آنحضرت ﷺ محبت میں سرشار ہوکر خوشی مناتا ہے اور اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ جلد2، ص 19) ـ

حلیۂ مصطفیٰ ﷺ:
عاشقِ صادق حضرت شاہ ابو المعالی قادری کرمانی اہوری رحمۃ اللہ علیہ حضور اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کی تعریف میں یوں فرماتے ہیں:

ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیر الانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ واصحابہ اجمعین.

حضور اکرم ﷺکا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا ۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا ۔

آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھ کر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل ۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے ۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے ۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے ۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیر و سعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’ خیر الانام ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین ۔
نسب پاک مصطفیٰ ﷺ:
حضور اقدس ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے ۔ حضرت محمد ﷺ ، بن عبداللہ ، بن عبد المطلب، بن ہاشم، بن عبدمناف، بن قصی، بن کلاب ، بن کعب ، بن لوی، بن غالب، بن فہر، بن مالک، بن نضر، بن کنانہ، بن خزیمہ، بن مدرکہ ، بن الیاس، بن مضر،بن نزار، بن معد، بن عدنان ۔ (بخاری جلد 1،ص باب مبعث النبی ﷺ) ـ

والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ بن آمنہ ، بنت وہب، بن عبد مناف، بن زہرہ، بن کلاب ، بن مرہ ۔

حضور علیہ السلام کے والدین کا نسب نامہ ’’ کلاب بن مرہ ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں ’’ عدنان ‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے ۔ اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’ عدنان ‘‘  تک ہی ذکر فرماتے تھے ۔ (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری جلد1 ص 543) ـ

مگر اس پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ’’ عدنان ‘‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں ۔

خاندانی شرافت:
حضور اکرم ﷺ کا خاندان نسب و نجابت اور شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کرسکے چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب انہوں نے اسلام قبول نہ فرمایا تھا ۔ بادشاہِ روم ہر قل کے بھر ے دربار میں اس حقیقیت کا اقرار کیا کہ ’’ ھو فینا ذو نسب ‘‘ یعنی نبی ﷺ ہم سب میں عالی خاندان والے ہیں۔(بخاری ، جلد:1 ، ص:4) ـ

حالانکہ اس وقت وہ آپ (ﷺ) کے بد ترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں میں وقار گرا دیں ۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ‘‘ کنانہ ’’ کو برگزیدہ بنایا ۔ اور ‘‘بنی ہاشم ’’ میں سے مجھ کو چن لیا ۔ (مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین ﷺ ) ـ

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎
لہ النسب العالی فلیس کمثلہ
حسیب نسیب منعم متکرم

یعنی حضور انور ﷺ کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی جسب و نسب والا، اور نعمت و بزرگی والا آپ کے مثل نہیں ہے ۔

بچپن کے واقعات:
سب سے پہلے آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے کچھ دن دودھ پلایا ۔ پھر آپ نے چند روز ابو لہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا ۔ بعد ازاں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے قبیلے بنی سعد میں لے گئیں ۔ وہیں پہلی بار حضور کا شق صدر ہوا ۔ دوسرا شق صدر دس برس کی عمر شریف میں اور تیسرا غارِ حراء میں بعثت کے وقت اور چوتھا شبِ معراج میں ہوا ۔ جب آپ ﷺ کی عمر شریف چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انتقال فرما گئیں ۔ اور آپ کے دادا جناب عبد المطلب آپ کی پرورش کے کفیل ہوئے ۔ جب آٹھ سال کے ہوئے تو جناب عبد المطلب نے بھی وفات پائی ۔ پھر حضور اپنے چچا جناب ابو طالب کے ہاں پرورش پاتے رہے ۔ بارہ سال کی عمر شریف میں آپ جناب ابو طالب کے ساتھ ملک شام کو تشریف لے گئے ۔ اس سفر میں بحیرہ راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ یہ رسول رب العالمین ہیں ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں کے ساتھ حربِِ فجّار میں شرکت فرمائی ۔ پچیس سال کی عمر شریف میں آپ ﷺ حضرت خدیجہ کی طرف سے بغرض تجارت شام کو تشریف لے گئے ۔ اس سفر میں نسطور راہب نے آپ کی نسبت کہا کہ یہ آخر الانبیاء ہیں ۔ اس سفر سے واپسی کے قریباً تین ماہ بعد حضور ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہو گیا ۔ جب آپ کی عمر مبارک 35 سال کی ہوئی تو قریش نے عمارتِ کعبہ کو ازسرِ نو بنایا ۔ اس تعمیر میں حضور ﷺ بھی شریک تھے ۔ اور اپنے چچا حضرت عباس کے ساتھ کندھے پر پتھر اٹھاکر لا رہے تھے ۔

خفیہ دعوتِ اسلام:
جب عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو (اظہارِ) اعلانِ نبوت کا حکم دیا ۔ چنانچہ آپ ﷺ خفیہ طور پر چند لوگوں کو دعوت اسلام دینے لگے ۔ اس دعوت پر کئی مرد و زن آپ پر ایمان لائے ۔ چنانچہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ لڑکوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ۔ آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔
👍1
اعلانِیہ دعوت اسلام:
خفیہ دعوت کے تین سال بعد اعلانیہ دعوتِ اسلام  کا حکم آیا ۔ تبلیغ علی الاعلان پر قریش برا فروختہ ہوگئے اور آپ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اذیت دیتے رہے ۔ نبوت کے پانچویں سال حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو چاہیں ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں ۔ چنانچہ پہلے پہل گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے ہجرت کی ۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے اور ان کے تین دن بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی مشرف باسلام ہوئے ۔ اسلام کی ترقی پر قریش مسلمانوں کو اور ایذا ئیں دینے لگے ۔ اس لیے ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتوں نے دوسری بار حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ قریش نے نجاشی کے پاس اپنے بھیجے کہ مہاجرین کو واپس کر دو ۔ مگر وہ سفیر بے نیل و مرام واپس آئے ۔ اس لیے قریش نے اب بالاتفاق یہ قرار دیا کہ (حضرت) محمد ﷺ کو اعلانیہ قتل کر دیا جائے ۔ بنو ہاشم و بنو مطلب حضور ﷺ کو بغرضِ حفاظت شعبِ ابی طالب میں لے گئے ۔ اس پر قریش نے بنو ہاشم و بنو مطلب سے مقاطعہ کردیا تاکہ تنگ آکر حضور ﷺ کو ان کے حوالہ کر دیں ۔ اور اس بارے میں ایک تحریری معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ کی چھت میں لٹکا دیا ۔ قریش نے نہایت سختی سےا س معاہدہ کی پابندی کی ۔ تین سال کے بعد حضور ﷺ نے خبر دی کہ اس معاہدہ کو دیمک چاٹ گئی ہے اور سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں چھوڑا ۔ جب معاہدہ کو دیکھا گیا تو حضور ﷺ کا ارشاد صحیح نکلا ۔ مگر مخالفین بجائے روبراہ ہونے کے اور درپے ایذا ہو گئے ۔ ماہ رمضان ۱۰ نبوی میں جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اس کے تین دن بعد سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بھی انتقال فرمایا ۔ حضور ﷺ نے پریشانی کی حالت میں طائف کا سفر کیا ۔ مگر اشرافِ ثقیف نے آپ کی دعوت کا بری طرح سے جواب دیا۔ اور واپسی پر اس قدر پتھر برسائے کہ نعلین شریفین خون سے آلودہ ہو گئیں ۔

واقعہ معراج:
آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ ہر سال موسم حج میں تمام قبائل عرب کو جو مکہ اور نواح مکہ میں موجود ہوتے دعوت اسلام دیا کرتے تھے اور میلوں میں بھی اسی غرض سے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ نبوت کے گیارہویں سال آپ ﷺ نے حسبِ عادت منیٰ میں عقبہ کے نزدیک جہاں اب مسجد عقبہ ہے ۔ قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں کو دعوت اسلام دی ۔ وہ مسلمان ہو گئے ۔ انہوں نے مدینہ میں اپنے بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی ۔ اس لیے آئندہ سال بارہ مرد ایامِ حج میں مکہ آئے اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی ۔ بقولِ مشہور اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات حضور ﷺ کو حالتِ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ معراج عطا ہوا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں ۔ نبوت کے تیرہویں سال انصار میں سے 73 مرد اور عورتوں نے حضور ﷺ کی بیعت کی ۔

ہجرتِ مدینۃ المنورہ:
قریش کی ایذاء رسانی سے اب مسلمانوں کا قیام مکہ میں دشوار ہو گیا ۔ اس لیے حضور ﷺ کی اجازت سے صحابہ کرام متفرق طور پر رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے ۔ اور مکہ میں حضور ﷺ کے علاوہ حضرات ابو بکر، علی رضی اللہ عنہما اور کچھ بیمار و غیرہ رہ گئے ۔

قریش نے جب دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے ہیں ۔ تو وہ ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی وہاں چلے جائیں اور اپنے مددگاروں کو ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوں ۔ اس لیے انہوں نے دار الندوہ میں جمع ہو کر شیخ نجدی کے مشورہ سے یہ قرار دیا کہ رات کو حضور ﷺ کو قتل کر دیا جائے ۔ حضور کو بذریعہ وحی خبر ہوگئی ۔ کفار نے حسب قرار داد رات ہوتے ہی حضور ﷺ کے دولت خانہ کو گھیر لیا ۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر چھوڑا اور ایک مشت خاک لے کر سورہ یٰسین شریف کی شروع کی آیات پڑھ کر کفار پر پھینک دی ۔ کفار کو کچھ نظر نہ آیا اور آپ وہاں سے نکل کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ تین رات غار ثور میں رہے ۔ قدید کے قریب سراقہ بن مالک آپ کے تعاقب میں آیا ۔ آپ کی دعاء سے اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ۔ اور وہ معافی مانگ کر واپس چلا آیا ۔ قدید ہی میں حضور ﷺ کا گزر اُمِّ مَعبد کے خیمہ پر ہوا ۔

مسجد قباء کی بنیاد:
رسول اللہ ﷺ قباء میں 12 ربیع الاول دو شنبہ کے دن پہنچے ۔ یہی اسلامی تاریخ کی ابتداء بنی ۔ آپ نے بستی قباء میں مسجدِ قباء کی بنیاد رکھی ۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے ۔ مدینہ میں آپ ﷺ کی تشریف آوری سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ بیان نہیں ہو سکتی ۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا ۔ اسی سال مسجد نبوی ۔ ازواج مطہرات کے لیے حجرے اور مہاجرین کے لیے مکانات بن کر تیار ہو گئے ۔ اذان مشروع ہو گئی ۔ حضور ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی ۔
1