حضرت سید بہاؤ الدین جھولن شاہ بخاری سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
المشہور بابا گھوڑے شاہ کا اسم گر امی محمد حفیظ بتایا جا تا ہے اور جھولن شاہ کے نام سے موسوم تھے،آپ کے والد گرامی کا نام سید شاہ محمد سید عثمان جھولہ بخاری جن کا مزار شاہی قلعہ کے اندر ے ہے تھے،اصل نام سید بہاء الدین رحمتہ اللہ علیہ تھا، پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو گھو ڑے کی سواری کا بہت شوق تھا اور یہ شو ق عشق کی صورت اختیار کر گیا تو جو کوئی بھی آپ کے پاس مٹی کا بنا ہوا گھوڑ لے کر آتا تو اس کے حق میں دعا کرتے جو مقبول ہوتی اس سے آپ کے مستحاب الد عوات ہونے کی شہرت ہوگئی اور خلقت خدا کا ہجوم ہونے لگا، جب سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد کو پتہ چلا تو بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ لڑکا اسرار الہیٰ کو راز میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس قابل ہے، آپ نے یہ کلمات فرمائے ہی تھے کہ آپ کا وصال ہوگیا،لکھا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر مبارک پانچ سال کی تھی۔
سید عماد الملک آپ کے بھائی تھے، بقول مصنف، تاریخ لاہور،مادر زاد ولی بھی تھے،آپ کے مزار کے پاس ہی آپ کے مرشد حضرت جان محمد صاحب لاہور ی رحمتہ اللہ علیہ کی بھی قبر موجود ہے۔
مسجد گھوڑے شاہ
مسجد مذکور آپ کے مزار کے بالکل سامنے برلب سڑک گھوڑے شاہ روڈ پر واقع ہے،مسجد قدیم اور وسیع و عریض ہے،اس کے تین گنبد ہیں ،ساتھ ہی کمرہ جات بھی ہیں، مسجد کے ساتھ ہی چاہ میراں کی جانب مقبرہ محمود شاہ نقشبند ی رحمتہ اللہ علیہ بھی واقع ہے۔
وفات اور ملحقہ قبرستان:
آپ کا مزار ایک اونچے چبو ترے پر واقع ہے،یہ چبو ترہ گھوڑے شاہ روڈ پر جو ریلوے سٹیشن لاہور سے نکل کر سید ھی بھو گیو ال پہنچتی ہے باغ راجہ دینا ناتھ سے اس طرف اس سڑک کے مقام اتصال پر واقع ہے جو گھو ڑے شاہ روڈ سے چاہ میراں کی طرف نکلتی ہے، مزار اقدس برلب سڑک واقع ہے،ساتھ ہی ایک کمرہ ہے،اس چبو ترہ پر تین قبور ہیں جن میں سے ایک آپ کی اور دوسری دو آپ کے اقر با کی ہیں، مزار کے اوپر ایک قدیم پیپل کا درخت موجود ہے،نیچے ایک دوسرے احاطہ میں بھی آپ کے اہل خاندان کی قبور ہیں۔
وفات:
آپ کی وفات ۱۵۹۴ءمیں بعہد جلال الدین اکبر بادشاہ لاہور میں ہوئی اور علاقہ تیزاب احاطہ میں مدفون ہوئے جہاں آپ کے مزار کے ساتھ وسیع قبرستان بھی ہے۔آپ کے مزار کے پاس حاجت مند لوگوں نے ہزار کے جمع کر رکھے ہیں جوکہ چڑھاوے کے طور پر وہاں نذر کیئے گئے تھے، یہ جوکہا جاتا ہے کہ آپ کو مزار لاہور کی ایک طوائف سودان نے عقید ت کے پیش نظر بنوایا تھا نیز مسجد بنوائی تھی یہ غلط ہے، ہاں اس علا قہ کو بھی کبھی چوہڑ سو دان کہا جا تا تھا۔
آپ کے مزار اقدس کے پاس ایک بہت بڑا قبر ستان ہے جس کو ،قبرستان گھوڑے شاہ، کہاجاتا ہے،اس قبرستان میں حضرت مولانا مطیع الحق پیامی نقشبندی کی بھی قبر ہے نیز سید شہبا ز بن عبد الملک المتو فی ۱۰۴۱ھ بمطابق ۱۶۳۱ء اور گوہر شاہ بن عارف رحمتہ اللہ علیہ شاہ بن عما د الملک المتوفی ۱۰۵۰ھ بمطابق ۱۶۴۰ء کی بھی قبو ر ہیں۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jhulan-shah-bukhari-soharwardi
المشہور بابا گھوڑے شاہ کا اسم گر امی محمد حفیظ بتایا جا تا ہے اور جھولن شاہ کے نام سے موسوم تھے،آپ کے والد گرامی کا نام سید شاہ محمد سید عثمان جھولہ بخاری جن کا مزار شاہی قلعہ کے اندر ے ہے تھے،اصل نام سید بہاء الدین رحمتہ اللہ علیہ تھا، پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو گھو ڑے کی سواری کا بہت شوق تھا اور یہ شو ق عشق کی صورت اختیار کر گیا تو جو کوئی بھی آپ کے پاس مٹی کا بنا ہوا گھوڑ لے کر آتا تو اس کے حق میں دعا کرتے جو مقبول ہوتی اس سے آپ کے مستحاب الد عوات ہونے کی شہرت ہوگئی اور خلقت خدا کا ہجوم ہونے لگا، جب سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد کو پتہ چلا تو بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ لڑکا اسرار الہیٰ کو راز میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس قابل ہے، آپ نے یہ کلمات فرمائے ہی تھے کہ آپ کا وصال ہوگیا،لکھا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر مبارک پانچ سال کی تھی۔
سید عماد الملک آپ کے بھائی تھے، بقول مصنف، تاریخ لاہور،مادر زاد ولی بھی تھے،آپ کے مزار کے پاس ہی آپ کے مرشد حضرت جان محمد صاحب لاہور ی رحمتہ اللہ علیہ کی بھی قبر موجود ہے۔
مسجد گھوڑے شاہ
مسجد مذکور آپ کے مزار کے بالکل سامنے برلب سڑک گھوڑے شاہ روڈ پر واقع ہے،مسجد قدیم اور وسیع و عریض ہے،اس کے تین گنبد ہیں ،ساتھ ہی کمرہ جات بھی ہیں، مسجد کے ساتھ ہی چاہ میراں کی جانب مقبرہ محمود شاہ نقشبند ی رحمتہ اللہ علیہ بھی واقع ہے۔
وفات اور ملحقہ قبرستان:
آپ کا مزار ایک اونچے چبو ترے پر واقع ہے،یہ چبو ترہ گھوڑے شاہ روڈ پر جو ریلوے سٹیشن لاہور سے نکل کر سید ھی بھو گیو ال پہنچتی ہے باغ راجہ دینا ناتھ سے اس طرف اس سڑک کے مقام اتصال پر واقع ہے جو گھو ڑے شاہ روڈ سے چاہ میراں کی طرف نکلتی ہے، مزار اقدس برلب سڑک واقع ہے،ساتھ ہی ایک کمرہ ہے،اس چبو ترہ پر تین قبور ہیں جن میں سے ایک آپ کی اور دوسری دو آپ کے اقر با کی ہیں، مزار کے اوپر ایک قدیم پیپل کا درخت موجود ہے،نیچے ایک دوسرے احاطہ میں بھی آپ کے اہل خاندان کی قبور ہیں۔
وفات:
آپ کی وفات ۱۵۹۴ءمیں بعہد جلال الدین اکبر بادشاہ لاہور میں ہوئی اور علاقہ تیزاب احاطہ میں مدفون ہوئے جہاں آپ کے مزار کے ساتھ وسیع قبرستان بھی ہے۔آپ کے مزار کے پاس حاجت مند لوگوں نے ہزار کے جمع کر رکھے ہیں جوکہ چڑھاوے کے طور پر وہاں نذر کیئے گئے تھے، یہ جوکہا جاتا ہے کہ آپ کو مزار لاہور کی ایک طوائف سودان نے عقید ت کے پیش نظر بنوایا تھا نیز مسجد بنوائی تھی یہ غلط ہے، ہاں اس علا قہ کو بھی کبھی چوہڑ سو دان کہا جا تا تھا۔
آپ کے مزار اقدس کے پاس ایک بہت بڑا قبر ستان ہے جس کو ،قبرستان گھوڑے شاہ، کہاجاتا ہے،اس قبرستان میں حضرت مولانا مطیع الحق پیامی نقشبندی کی بھی قبر ہے نیز سید شہبا ز بن عبد الملک المتو فی ۱۰۴۱ھ بمطابق ۱۶۳۱ء اور گوہر شاہ بن عارف رحمتہ اللہ علیہ شاہ بن عما د الملک المتوفی ۱۰۵۰ھ بمطابق ۱۶۴۰ء کی بھی قبو ر ہیں۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jhulan-shah-bukhari-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Syed Bahauddin Jhulan Shah Bukhari Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔
شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خلاف ہی سوچتا رہتا آپ کا نام حقارت سے لیتا اور طرح طرح کے دل آزار ا قدام کرتا حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں نے کئی بار آپ سے اجازت لی کہ اسے درست کریں مگر آپ نے کبھی اجازت نہ دی اور اُس سے بدلا لینے کی کبھی خواہش نہ کی اتفاقاً وہ ہمسایہ مرگیا آپ کو خود بڑا صدمہ ہوا کئی روز آپ ماتم اور گریہ کرتے رہے کھانا بھی نہ کھاتے آپ کے خادم اور مریدوں نے اِس غم کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ عالم ناسوت میں اولیاء کے اکثر دامن دنیا کے غبار سے ملوث ہوں گے اور یہ غبار بدگو اور بد خوانسانوں کی گالیوں کی وجہ سے دُور ہوگا اب وہ شخص فوت ہوگیا ہے میرے دامن کے غبار کو رب تو دُور کرے گا مجھے اسی بات کا غم اور صدمہ ہے۔
حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں اکثر یاد الٰہی میں غرق اور محور رہتے تھے آپ کو دنیا اور مافیا کی خبر نہ تھی ایک بار تو ایسا ہوا کہ تین ماہ تک آپ نے کچھ نہ کھایا پیا نماز کا وقت ہوتا تو آپ کے خادم آپ کو بڑی مشکل سے آگاہ کرتے وضو کرواتے اور مصلےٰ پر کھڑا کردیتے یہ کیفیت آپ پر تین سال تک رہی پھر جاکر دینی اور دنیاوی امور سے واقف ہوئے مریدوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا اب فرض اور سُنتیں خود مثالی مشکل میں میرے سامنے آکر مجھے آگاہ تربیت میں ادائیگی پر مجبور کردیتی ہیں اب مجھے تمہاری طرف سے کسی آگاہی کی ضرورت نہیں۔
حضرت شاہ ابو المعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اس قدر تنگ دستی اور بے سرو سامانی کا دور دورہ تھا کہ کئی کئی دن فقرو فاقہ میں گزاردیتے بعض خاص لوگوں میں آپ کے خلیفہ سیّد میران بہیکہ تک پہنچائی انہوں نے یہ بات سن کر شاہ صاحب کے گھر گئے اور آپ کے غلہ دان میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ اس میں غلہ موجود ہے آپ نے فرمایا یہ غلّہ قیامت تک کم نہیں ہوگا اِسے نکالتے جاؤ اور پکاتے جاؤ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے گھر والوں سے پوچھا کہ دو مہینے گزر گئے گھر میں غلّے کی کمی کی شکایت آئی اس کی کیا وجہ ہے گھر والوں نے صورتِ حال سنائی تو آپ نے غلہ دان منگوا کر اُسے اُلٹا کردیا فرمایا کہ سید میران بہیکہ ہمارے توکل میں خلل ڈال دیتے ہیں۔
ایک دن قصبہ تھانیسر میں مشائخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی اس میں حضرت شاہ ابوالمعالیٰ میران سید بہیکہ شیخ ابو الفتح شیخ ثوندھا بوہری شیخ بلاکی شیخ محمد شاہ محمد شاہ۔ محمد یوسف شیخ عبدالقدر سنوری شاہ نصیر الدین کھڑی والا اور سید غریب کیرانوی جیسے بزرگ موجود تھے اس مجلس میں کلمۂ طیبہ لا اِلا الہ الااللہ کا ذکر ہورہا تھا حضرت شاہ ابو المعالی نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اِس کلمے کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا ہے اگر وہ لفظ لا پڑھ کر کسی جاندار کے کان میں پھونک دیں تو وہ مر جائے گا اور اگر اِلا اللہ پڑھ کر پھونک ماریں تو وہ پھر زندہ ہوجائے گا۔ حاضرین مجلس میں اِس بات کا امتحان لینے کے لیے حضرت شاہ کی خدمت میں التماس کی کہ ہمیں آپ ایسا کر دکھائیے آپ اٹھے تو اپنے گھر کے صحن میں جو گائے کھڑی تھی اس کے کان میں لاء کا لفظ کہا وہ اُسی وقت گر پڑی اور تڑپ کر مرگئی جب سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ ٹھنڈی ہوگئی ہے تو آپ نے اُس کے دوسرے کان میں اِلاللہ کہا تو وہ زندہ ہوکر اٹھی اور سب کے سامنے گھاس چرنا شروع کردیا۔
شاہ ابو المعالی کی وفات ۱۱۸۶ھ میں ہوئی صاحبِ شجرۂ چشتیہ نے آپ کا سالِ وفات شہنشاہ مجتبےٰ سے نکالا ہے۔
رفت از دنیا چو در خلد بریں
پیر رہبر ابو المعالی اہل فیض
سال وصل اوست تاج التارکین
۱۱۱۶ھ
بار دیگر بو المعالی اہل فیض
۱۱۱۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abul-maali-chishti-ambethvi
آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔
شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خلاف ہی سوچتا رہتا آپ کا نام حقارت سے لیتا اور طرح طرح کے دل آزار ا قدام کرتا حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں نے کئی بار آپ سے اجازت لی کہ اسے درست کریں مگر آپ نے کبھی اجازت نہ دی اور اُس سے بدلا لینے کی کبھی خواہش نہ کی اتفاقاً وہ ہمسایہ مرگیا آپ کو خود بڑا صدمہ ہوا کئی روز آپ ماتم اور گریہ کرتے رہے کھانا بھی نہ کھاتے آپ کے خادم اور مریدوں نے اِس غم کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ عالم ناسوت میں اولیاء کے اکثر دامن دنیا کے غبار سے ملوث ہوں گے اور یہ غبار بدگو اور بد خوانسانوں کی گالیوں کی وجہ سے دُور ہوگا اب وہ شخص فوت ہوگیا ہے میرے دامن کے غبار کو رب تو دُور کرے گا مجھے اسی بات کا غم اور صدمہ ہے۔
حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں اکثر یاد الٰہی میں غرق اور محور رہتے تھے آپ کو دنیا اور مافیا کی خبر نہ تھی ایک بار تو ایسا ہوا کہ تین ماہ تک آپ نے کچھ نہ کھایا پیا نماز کا وقت ہوتا تو آپ کے خادم آپ کو بڑی مشکل سے آگاہ کرتے وضو کرواتے اور مصلےٰ پر کھڑا کردیتے یہ کیفیت آپ پر تین سال تک رہی پھر جاکر دینی اور دنیاوی امور سے واقف ہوئے مریدوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا اب فرض اور سُنتیں خود مثالی مشکل میں میرے سامنے آکر مجھے آگاہ تربیت میں ادائیگی پر مجبور کردیتی ہیں اب مجھے تمہاری طرف سے کسی آگاہی کی ضرورت نہیں۔
حضرت شاہ ابو المعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اس قدر تنگ دستی اور بے سرو سامانی کا دور دورہ تھا کہ کئی کئی دن فقرو فاقہ میں گزاردیتے بعض خاص لوگوں میں آپ کے خلیفہ سیّد میران بہیکہ تک پہنچائی انہوں نے یہ بات سن کر شاہ صاحب کے گھر گئے اور آپ کے غلہ دان میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ اس میں غلہ موجود ہے آپ نے فرمایا یہ غلّہ قیامت تک کم نہیں ہوگا اِسے نکالتے جاؤ اور پکاتے جاؤ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے گھر والوں سے پوچھا کہ دو مہینے گزر گئے گھر میں غلّے کی کمی کی شکایت آئی اس کی کیا وجہ ہے گھر والوں نے صورتِ حال سنائی تو آپ نے غلہ دان منگوا کر اُسے اُلٹا کردیا فرمایا کہ سید میران بہیکہ ہمارے توکل میں خلل ڈال دیتے ہیں۔
ایک دن قصبہ تھانیسر میں مشائخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی اس میں حضرت شاہ ابوالمعالیٰ میران سید بہیکہ شیخ ابو الفتح شیخ ثوندھا بوہری شیخ بلاکی شیخ محمد شاہ محمد شاہ۔ محمد یوسف شیخ عبدالقدر سنوری شاہ نصیر الدین کھڑی والا اور سید غریب کیرانوی جیسے بزرگ موجود تھے اس مجلس میں کلمۂ طیبہ لا اِلا الہ الااللہ کا ذکر ہورہا تھا حضرت شاہ ابو المعالی نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اِس کلمے کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا ہے اگر وہ لفظ لا پڑھ کر کسی جاندار کے کان میں پھونک دیں تو وہ مر جائے گا اور اگر اِلا اللہ پڑھ کر پھونک ماریں تو وہ پھر زندہ ہوجائے گا۔ حاضرین مجلس میں اِس بات کا امتحان لینے کے لیے حضرت شاہ کی خدمت میں التماس کی کہ ہمیں آپ ایسا کر دکھائیے آپ اٹھے تو اپنے گھر کے صحن میں جو گائے کھڑی تھی اس کے کان میں لاء کا لفظ کہا وہ اُسی وقت گر پڑی اور تڑپ کر مرگئی جب سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ ٹھنڈی ہوگئی ہے تو آپ نے اُس کے دوسرے کان میں اِلاللہ کہا تو وہ زندہ ہوکر اٹھی اور سب کے سامنے گھاس چرنا شروع کردیا۔
شاہ ابو المعالی کی وفات ۱۱۸۶ھ میں ہوئی صاحبِ شجرۂ چشتیہ نے آپ کا سالِ وفات شہنشاہ مجتبےٰ سے نکالا ہے۔
رفت از دنیا چو در خلد بریں
پیر رہبر ابو المعالی اہل فیض
سال وصل اوست تاج التارکین
۱۱۱۶ھ
بار دیگر بو المعالی اہل فیض
۱۱۱۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abul-maali-chishti-ambethvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abul Maali Chishti Ambethvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ بدر گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولادِ امجاد سے تھے۔ بعہدِ اکبر لاہور تشریف لائے۔
کمالاتِ ظاہری و باطنی سے مزین تھے۔ لاہور و پنجاب کے لوگوں کی ایک کثیر جماعت آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئی۔ ۱۰۱۸ھ میں بہ زمانۂ جہانگیر وفات پائی۔ مزار موضع ستانیان علاقہ پٹیالہ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔
چوں بدر الدین از دنیائے فانی
رقم کن فضلِ حق یا شیخِ حق سال
۱۰۱۸ھ
سفر ور زید و شد روشن بجنت
دگر سیّد ولی بدر الکرامت
۱۰۱۸ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-badar-gilani
غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولادِ امجاد سے تھے۔ بعہدِ اکبر لاہور تشریف لائے۔
کمالاتِ ظاہری و باطنی سے مزین تھے۔ لاہور و پنجاب کے لوگوں کی ایک کثیر جماعت آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئی۔ ۱۰۱۸ھ میں بہ زمانۂ جہانگیر وفات پائی۔ مزار موضع ستانیان علاقہ پٹیالہ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔
چوں بدر الدین از دنیائے فانی
رقم کن فضلِ حق یا شیخِ حق سال
۱۰۱۸ھ
سفر ور زید و شد روشن بجنت
دگر سیّد ولی بدر الکرامت
۱۰۱۸ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-badar-gilani
scholars.pk
Hazrat Shah Badar Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا شاہ احمد سعید مجددی رام پوری
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید مجددی ۔ کنیت: ابو المکارم ۔ لقب: مظہر یزداں، سند الاولیاء، امام العرفاء ۔ آپ کے نانا حضرت شاہ محمد صدیقی جونہایت ہی متقی وپرہیزگار اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے بذریعہ مکاشفۂ باطنی آپ کانام ’’غلام غوث ‘‘ رکھا۔لیکن آپ شاہ احمد سعید مجددی کےنام سے معروف ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم ربیع الاول 1217ھ،مطابق جولائی 1802ء کوبمقام رام پور میں پیدا ہوئے۔تاریخِ ولادت مادہ ’’مظہر ِ یزداں‘‘ سے نکلتی ہے۔
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔جب حفظ قرآن کریم میں مشغول تھے۔اس وقت صغر سنی میں حضرت شاہ درگاہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے۔شاہ صاحب خوب عنایت فرماتے،اور اپنے قریب بٹھاکر قرآن شریف سنا کرتےتھے۔پھر دس سال کی عمر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ سےاکثر کتب تصوف جیسے رسالہ قشیریہ، احیاء العلوم، عوارف المعارف، نفحات الانس، رشحات، مکتوبات امام ربانی، مثنوی مولانا روم وغیرہ پڑھیں اور بعض کی سماعت کی، ترمذی اور مشکوٰۃ المصابیح پڑھیں، باقی کتب منقول ومعقول علمائے دہلی مولانا فضل امام خیر آبادی،شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر، مولانا نور فرنگی محلی، مولانا رشیدالدین ۔ رام پور میں مفتی شرف الدین اور مولانا سراج احمد بن حضرت محمد مرشد،لکھنؤ میں مولانا اشرف اور مولانا نور قُدِّس اسررہم سے درسیات پڑھ کر حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ سے حدیث کا دور کیا۔بیس سال کی عمر میں دستارِ فضیلت باندھی گئی۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:23/تذکرہ کاملان رام پور:15)
بیعت و خلافت:
دس سال کی عمر میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔سلوک کی منازل طے کرنے کےبعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں صاحبِ مجاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، فاضل، کامل، فقیہ، محدث، مفسر، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، جامع شریعت و طریقت، عارف بااللہ، واصل بااللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حامی دین متین، صاحبِ اخلاق محمدی حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کےعظیم خانوادے،اور علمی وروحانی امانتوں کے وارث ِ کامل اور دینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناءﷺ کےعظیم داعی تھے۔تمام علوم کےجامع،اوراسرار و معرفت کےبحرِ بے کنارتھے۔درس وتدریس وعظ ونصیحت اور تربیت ِ سالکین میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔آپ حضرت شاہ غلام علی کے خلیفہ اور امورِ الطافِ خاص تھے حضرت شاہ غلام علی آپ کوعلو استعداد میں آپ کے والد شاہ ابو سعید مجددی سے افضل فرماتے تھے۔ایک مرتبہ دونوں باپ بیٹے حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے،حاضرین سے ارشاد ہوا کون افضل ہےسب لوگ خاموش رہے۔پھر خود ہی فرمایا:بیٹا باپ سے افضل ہے۔(تذکرہ کاملان رام پور:16)
بعد نمازِفجر،ظہر،مغرب تین وقت حلقہ مراقبہ قائم فرماتے،اس کے بعد حدیث وتفسیر و فقہ کا درس دیتے،فتاویٰ بھی لکھا کرتے تھے،فرماتے تھے: فتویٰ نویسی میرا کام نہیں،مگر کیا کروں جاہل عالم بن گئے ہیں۔رات کے پچھلے حصے میں نماز تہجد اہتمام کےساتھ اداکرتے تھے۔نمازِ فجر طویل قرأت کےساتھ ادافرماتے۔مسجد شریف میں ہی تشریف فرما رہتے،اشراق،چاشت پڑھ کر جلسہ عام میں بیٹھ جاتے،حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے،پھر طلبہ کو منقول ومعقول کی کتب کا درس دیتے۔معقول قطبی تک پڑھاتے،زیادہ نہیں پڑھاتے تھے،فرماتے اگرچہ میں معقولات پر قادر ہوں مگر اس کی تعلیم پسند نہیں ہے۔علوم تفسیر وحدیث فقہ واصول فقہ میں بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ تقریر فرماتے۔اسی طرح کتب تصوف میں حقائق ومعارف کےدریا بہا دیتے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید مجددی ۔ کنیت: ابو المکارم ۔ لقب: مظہر یزداں، سند الاولیاء، امام العرفاء ۔ آپ کے نانا حضرت شاہ محمد صدیقی جونہایت ہی متقی وپرہیزگار اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے بذریعہ مکاشفۂ باطنی آپ کانام ’’غلام غوث ‘‘ رکھا۔لیکن آپ شاہ احمد سعید مجددی کےنام سے معروف ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم ربیع الاول 1217ھ،مطابق جولائی 1802ء کوبمقام رام پور میں پیدا ہوئے۔تاریخِ ولادت مادہ ’’مظہر ِ یزداں‘‘ سے نکلتی ہے۔
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔جب حفظ قرآن کریم میں مشغول تھے۔اس وقت صغر سنی میں حضرت شاہ درگاہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے۔شاہ صاحب خوب عنایت فرماتے،اور اپنے قریب بٹھاکر قرآن شریف سنا کرتےتھے۔پھر دس سال کی عمر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ سےاکثر کتب تصوف جیسے رسالہ قشیریہ، احیاء العلوم، عوارف المعارف، نفحات الانس، رشحات، مکتوبات امام ربانی، مثنوی مولانا روم وغیرہ پڑھیں اور بعض کی سماعت کی، ترمذی اور مشکوٰۃ المصابیح پڑھیں، باقی کتب منقول ومعقول علمائے دہلی مولانا فضل امام خیر آبادی،شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر، مولانا نور فرنگی محلی، مولانا رشیدالدین ۔ رام پور میں مفتی شرف الدین اور مولانا سراج احمد بن حضرت محمد مرشد،لکھنؤ میں مولانا اشرف اور مولانا نور قُدِّس اسررہم سے درسیات پڑھ کر حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ سے حدیث کا دور کیا۔بیس سال کی عمر میں دستارِ فضیلت باندھی گئی۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:23/تذکرہ کاملان رام پور:15)
بیعت و خلافت:
دس سال کی عمر میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔سلوک کی منازل طے کرنے کےبعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں صاحبِ مجاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، فاضل، کامل، فقیہ، محدث، مفسر، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، جامع شریعت و طریقت، عارف بااللہ، واصل بااللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حامی دین متین، صاحبِ اخلاق محمدی حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کےعظیم خانوادے،اور علمی وروحانی امانتوں کے وارث ِ کامل اور دینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناءﷺ کےعظیم داعی تھے۔تمام علوم کےجامع،اوراسرار و معرفت کےبحرِ بے کنارتھے۔درس وتدریس وعظ ونصیحت اور تربیت ِ سالکین میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔آپ حضرت شاہ غلام علی کے خلیفہ اور امورِ الطافِ خاص تھے حضرت شاہ غلام علی آپ کوعلو استعداد میں آپ کے والد شاہ ابو سعید مجددی سے افضل فرماتے تھے۔ایک مرتبہ دونوں باپ بیٹے حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے،حاضرین سے ارشاد ہوا کون افضل ہےسب لوگ خاموش رہے۔پھر خود ہی فرمایا:بیٹا باپ سے افضل ہے۔(تذکرہ کاملان رام پور:16)
بعد نمازِفجر،ظہر،مغرب تین وقت حلقہ مراقبہ قائم فرماتے،اس کے بعد حدیث وتفسیر و فقہ کا درس دیتے،فتاویٰ بھی لکھا کرتے تھے،فرماتے تھے: فتویٰ نویسی میرا کام نہیں،مگر کیا کروں جاہل عالم بن گئے ہیں۔رات کے پچھلے حصے میں نماز تہجد اہتمام کےساتھ اداکرتے تھے۔نمازِ فجر طویل قرأت کےساتھ ادافرماتے۔مسجد شریف میں ہی تشریف فرما رہتے،اشراق،چاشت پڑھ کر جلسہ عام میں بیٹھ جاتے،حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے،پھر طلبہ کو منقول ومعقول کی کتب کا درس دیتے۔معقول قطبی تک پڑھاتے،زیادہ نہیں پڑھاتے تھے،فرماتے اگرچہ میں معقولات پر قادر ہوں مگر اس کی تعلیم پسند نہیں ہے۔علوم تفسیر وحدیث فقہ واصول فقہ میں بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ تقریر فرماتے۔اسی طرح کتب تصوف میں حقائق ومعارف کےدریا بہا دیتے ۔
❤1
1249ھ میں والد کی جگہ پر خانقاہ شاہ غلام علی کے سجادہ نشین ہوئے، مریدوں کے حال پر بہت شفیق تھے، مریدین کا ہجوم ہو گیا، لوگوں کو آپ کی ذات سے بہت فائدہ پہنچا ۔ ستاون برس کی عمر ہوئی تھی کہ 1272ھ /1857ء میں غدر کابگل بج گیا،حفاظت کے خیال سے اہل وعیال کو شہر سے باہر دیہات میں بھیج دیا،اور خود خانقاہ ہی میں مقیم رہے،لوگوں نےچلنے کےلیے عرض کیا، فرمایا جب تک بزرگوں کا حکم نہ ہوگا نہیں جاؤں گا،ایک شب بعد از تہجد فرمایا،اب نکلنے کی اجازت ہوگئی ہے خانقاہ کا انتظام حاجی دوست محمد قندھاری کو سپرد کرکے سواری تلاش کرائی،مگر نہ ملی،خادم نے کہا کہ حضرت امیر وغریب ،مردو زن سب پیدل جارہے ہیں۔آپ نےفرمایا میں تو پیدل نہیں چل سکتا ۔ پھر تھوڑی دیر مراقبے میں بیٹھ گئے، اسی اثناء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے دوگھوڑے آپ کو مل گئے، آپ ان پر سوار ہوکر قطب صاحب میں آئے،یہاں پر اہل وعیال پہلےہی سے مقیم تھے،یہیں پر بیوی صاحبہ کا انتقال ہوا،حضرت سید محمد نور بد ایونی قدس سرہ کےپہلو میں دفن کر کے مریدین کی جمعیت کو ہمرکاب لے کر با ارادۂ ہجرت عازم ِمکہ ہوئے۔
دورانِ سفر پنجاب میں داخل ہوئے،جس علاقے سے گزر ہوتا لوگ جوق در جو ق قدم بوس ہوتے،اور داخلِ سلسلہ ہوتے،آپ اپنے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری کےہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسمعیل خان تشریف لے گئے،وہاں سے کراچی اورکراچی سےممبئی،اور بذریعہ جہاز آخر شوال میں جدہ پہنچے،رمضان سمندر میں گزارا،تراویح میں قرآن پڑھا،معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔حج کا شرف حاصل کیا،چار ماہ بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے،خالد پاشا محافظ مدینہ منورہ داخل سلسلہ ہوئے،اور ایک مکان کرایہ پر لےکر رہائش کے لیے پیش کیا،رجب کے مہینے میں اہل وعیال کو مکہ مکرمہ سے بلاکر اس مکان میں مقیم ہوگئے۔یاد رہے کہ آپ نےبھی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کیے تھے،اور اس فتوے کی توثیق فرمائی تھی۔
آپ نےوصال سےقبل قیام دہلی میں وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضرت مرزا جان جاناں کےزیر قدم دفن کرنا۔مدینہ منورہ میں وصیت فرمائی تھی کہ حضرت عثمان غنی کےقرب میں دفن کرنا۔ آپ نے وہابیوں کے رد میں مشہور کتاب’’ حق المبین فی رد علی الوھابیین‘‘ تصنیف فرمائی۔حضرت کے اکسٹھ خلفاء تھے جو افغانستان بخارا وغیرہ میں پھیلے ہوئے تھے،مولوی رشید احمد گنگوہی نے آپ سے اکتساب علم کیا تھا مگر بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کا تذکرہ اہانت آمیز کرتاتھا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال بروزمنگل 2/ربیع الاول 1277ھ،مطابق 18/ستمبر 1860ء کومدینۃ المنورہ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-saeed-mujaddidi
دورانِ سفر پنجاب میں داخل ہوئے،جس علاقے سے گزر ہوتا لوگ جوق در جو ق قدم بوس ہوتے،اور داخلِ سلسلہ ہوتے،آپ اپنے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری کےہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسمعیل خان تشریف لے گئے،وہاں سے کراچی اورکراچی سےممبئی،اور بذریعہ جہاز آخر شوال میں جدہ پہنچے،رمضان سمندر میں گزارا،تراویح میں قرآن پڑھا،معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔حج کا شرف حاصل کیا،چار ماہ بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے،خالد پاشا محافظ مدینہ منورہ داخل سلسلہ ہوئے،اور ایک مکان کرایہ پر لےکر رہائش کے لیے پیش کیا،رجب کے مہینے میں اہل وعیال کو مکہ مکرمہ سے بلاکر اس مکان میں مقیم ہوگئے۔یاد رہے کہ آپ نےبھی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کیے تھے،اور اس فتوے کی توثیق فرمائی تھی۔
آپ نےوصال سےقبل قیام دہلی میں وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضرت مرزا جان جاناں کےزیر قدم دفن کرنا۔مدینہ منورہ میں وصیت فرمائی تھی کہ حضرت عثمان غنی کےقرب میں دفن کرنا۔ آپ نے وہابیوں کے رد میں مشہور کتاب’’ حق المبین فی رد علی الوھابیین‘‘ تصنیف فرمائی۔حضرت کے اکسٹھ خلفاء تھے جو افغانستان بخارا وغیرہ میں پھیلے ہوئے تھے،مولوی رشید احمد گنگوہی نے آپ سے اکتساب علم کیا تھا مگر بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کا تذکرہ اہانت آمیز کرتاتھا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال بروزمنگل 2/ربیع الاول 1277ھ،مطابق 18/ستمبر 1860ء کومدینۃ المنورہ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-saeed-mujaddidi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ahmad Saeed Mujaddidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قطب الدین ابو عبداللہ محمد بن سلطان دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قطب الدین ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن محمد بن عمر بن سلطان دمشقی صالح المعروف بہ ابن سلطان: علامہ، فقیہ، مؤرخ، مدرس تھے ۔
ولادت:
۱۲ ربیع الاول ۸۷۰ھ کو پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
عبد البر بن شحنہ وغیرہ سے تحصیل علم کی، مدرسہ قصاعیہ، مدرسہ ظاہریہ اور جامع اموی میں درس دیا، دمشق کے مفتی رہے ـ
وصال:
۱۷ ذیقعدہ ۹۵۰ھ کو وفات پائی ۔
آپ کی تصانیف میں شرح کنز الدقائق نسفی، رسالہ فی تحریم افیون، البرق اللامع فی المنع من البرکۃ فی الجامع، فتح الملک العالم المنان علی ملک مظفر سلیمان اور تشویق الساجد الیٰ زیارۃ اشرف المساجد مشہور ہیں ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qutubuddin-abu-abdullah-muhammad-bin-sultan-dimashqi
قطب الدین ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن محمد بن عمر بن سلطان دمشقی صالح المعروف بہ ابن سلطان: علامہ، فقیہ، مؤرخ، مدرس تھے ۔
ولادت:
۱۲ ربیع الاول ۸۷۰ھ کو پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
عبد البر بن شحنہ وغیرہ سے تحصیل علم کی، مدرسہ قصاعیہ، مدرسہ ظاہریہ اور جامع اموی میں درس دیا، دمشق کے مفتی رہے ـ
وصال:
۱۷ ذیقعدہ ۹۵۰ھ کو وفات پائی ۔
آپ کی تصانیف میں شرح کنز الدقائق نسفی، رسالہ فی تحریم افیون، البرق اللامع فی المنع من البرکۃ فی الجامع، فتح الملک العالم المنان علی ملک مظفر سلیمان اور تشویق الساجد الیٰ زیارۃ اشرف المساجد مشہور ہیں ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/qutubuddin-abu-abdullah-muhammad-bin-sultan-dimashqi
scholars.pk
Qutbuddin Abu Abdullah Muhammad Bin Sultan Dimashqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا عبدالکریم مگسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
استاد العلماء حضرت مولانا عبد الکریم بن غلام حسین مگسی ۱۲ ، ربیع الاول ۱۳۰۲ھ میں گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم نحو میر تک مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں میاں گلاب الدین صاحب چنہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد تین تلائو حیدراؓاد (سندھ) میں مولانا عبداللطیف صاحب کے پاس ایک سال تک رہے۔ اس کے بعد تعلیم کی خاطر مولانا محمد صالح سیال کے پا س مدرسہ ٹوڑی پوٹھ متصل دادو میں چھ ماہ تک رہے۔ اس کے بعد گوٹھ بانھو لاکھیر میں مولانا الحاج الٰہی بخش صاحب کے پاس پڑھتے رہے۔ مدرسہ دارالفیوض صوبھوخان مگسی میں مولانا محمد اسماعیل مگسی کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر اپنی مادر علمی مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن چنہ کے پاس رہ کر فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
ایک سال تک استاد محترم کے زیر سایہ مدرسہ میں تعلیم بھی دی ۔ اس کے بعد مدرسہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ ٹھلاء متصل باقرانی اسٹیشن (لاڑکانہ) میں دو سال تک تعلیم دی۔ ۱۳۳۶ھ/۱۹۱۷ء میں خلیفہ غلام مصطفی کے توسل سے گوٹھ صوبھو خان مگسی متصل شاہ پنجو سلطان تحصیل میہڑ میں مدرسہ دارالفیوض میں مدرس رہے اور آخر تک وہاں پر دس نظامی کی تعلیم دیتے رہے۔
بیعت:
تصوف کے سلسلے میں تین طریقوں سے وابستہ تھے۔ قادری طریقے میں آپ کے مرشد میاں محمد کامل قادری خانقاہ کٹبار شریف (بلوچستان) والے تھے۔ نقشبندی طریقے میں حضرت خواجہ محمد عمرجان نقشبندی خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹ) سے فیض حاصل کیا اور چشتیہ طرقیے میں ہندوستان کے کسی بزرگ سے غائبانہ خط و کتاب کے ذریعے تعلق قائم کیا۔
تصنیف و تالیف:
علامہ عبدالکریم مگسی کا زیادہ عرصہ درس و تدریس میں گزرا اس کے باجود لکھنے سے غافل نہ رہے آپ نے مندرہ ذیل کتب قلمی صورت میں یادگارہ چھوڑیں۔
٭ فتاویٰ کریمی (سندھی)
٭ کتاب النحو (سندھی)
٭ ہاتھ اور پائوں چومنے کا مسئلہ
٭ قصیدہ غوثیہ کی شرح
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کا سلسلہ بھی وسیع ہے ان میںسے بعض کے نام یہ ہیں:
٭ مولانا عبد الحکیم (بلوچستان)
٭ مولانا محدم دائود پپری (گوٹھ پپری تحصیل میہڑ)
٭ مولانا محمد سلیمان (جھل مگسی)
٭ مولانا عبدالحکیم قرانی
٭ مولانا محمد دائود
٭ مولانا محدم دادوی
٭ مولانا احمد مگسی
٭ مولانا محمد عیسیٰ (دڑو)
٭ مولانا ہدایت اللہ تونیہ
٭ مولانا رضا محمد مگسی کھیر تھری ثم مدنی
٭ مولانا مفتی کریم بخش مگسی (صدر مدرس دارالقرآن جامع مسجد میہڑ ضلع دادو)
٭ مفتی محمد مہیسر
٭ مولانایار محمد جویو
٭ مولانا محمد چنا
٭ مولانا غلام رسول مری
اولاد:
مولانا عبدالکریم کو چار بیٹے تولد ہوئے:
۱۔ عبدالباقی
۲۔ نور النبی
۳۔ غلام حسین
۴۔ عبدالباری (مشاہیر دادو)
وصال:
حضرت علامہ عبد الکریم مگسی نے علم کی روشنی دور دور تک بکھیر کر مدرسہ دارالفیوض صوبھو خان مگسی تحصیل میہڑ میں ۲، صفر المظفر۱۳۹۲ھ بمطابق مارچ ۱۹۷۲ء کو ۵۶ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں آپ کا مزار شریف ہے۔ ہر سال ۲ صفر المظفر کو عرس مبارک کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مولانا مفتی کریم بخش مگسی نے اپنے استاد محترم و ماموں جان علامہ عبدالکریم مگسی کا سال وفات ’’مفور اللہ‘‘ (۱۳۹۲ھ) سے نکالا ۔
[ مولانا ڈاکٹر عبد الرسول قادری، سکرنڈ کے ذریعہ مواد میسر ہوا ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-kareem-magsi
ولادت:
استاد العلماء حضرت مولانا عبد الکریم بن غلام حسین مگسی ۱۲ ، ربیع الاول ۱۳۰۲ھ میں گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم نحو میر تک مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں میاں گلاب الدین صاحب چنہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد تین تلائو حیدراؓاد (سندھ) میں مولانا عبداللطیف صاحب کے پاس ایک سال تک رہے۔ اس کے بعد تعلیم کی خاطر مولانا محمد صالح سیال کے پا س مدرسہ ٹوڑی پوٹھ متصل دادو میں چھ ماہ تک رہے۔ اس کے بعد گوٹھ بانھو لاکھیر میں مولانا الحاج الٰہی بخش صاحب کے پاس پڑھتے رہے۔ مدرسہ دارالفیوض صوبھوخان مگسی میں مولانا محمد اسماعیل مگسی کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر اپنی مادر علمی مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن چنہ کے پاس رہ کر فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
ایک سال تک استاد محترم کے زیر سایہ مدرسہ میں تعلیم بھی دی ۔ اس کے بعد مدرسہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ ٹھلاء متصل باقرانی اسٹیشن (لاڑکانہ) میں دو سال تک تعلیم دی۔ ۱۳۳۶ھ/۱۹۱۷ء میں خلیفہ غلام مصطفی کے توسل سے گوٹھ صوبھو خان مگسی متصل شاہ پنجو سلطان تحصیل میہڑ میں مدرسہ دارالفیوض میں مدرس رہے اور آخر تک وہاں پر دس نظامی کی تعلیم دیتے رہے۔
بیعت:
تصوف کے سلسلے میں تین طریقوں سے وابستہ تھے۔ قادری طریقے میں آپ کے مرشد میاں محمد کامل قادری خانقاہ کٹبار شریف (بلوچستان) والے تھے۔ نقشبندی طریقے میں حضرت خواجہ محمد عمرجان نقشبندی خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹ) سے فیض حاصل کیا اور چشتیہ طرقیے میں ہندوستان کے کسی بزرگ سے غائبانہ خط و کتاب کے ذریعے تعلق قائم کیا۔
تصنیف و تالیف:
علامہ عبدالکریم مگسی کا زیادہ عرصہ درس و تدریس میں گزرا اس کے باجود لکھنے سے غافل نہ رہے آپ نے مندرہ ذیل کتب قلمی صورت میں یادگارہ چھوڑیں۔
٭ فتاویٰ کریمی (سندھی)
٭ کتاب النحو (سندھی)
٭ ہاتھ اور پائوں چومنے کا مسئلہ
٭ قصیدہ غوثیہ کی شرح
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کا سلسلہ بھی وسیع ہے ان میںسے بعض کے نام یہ ہیں:
٭ مولانا عبد الحکیم (بلوچستان)
٭ مولانا محدم دائود پپری (گوٹھ پپری تحصیل میہڑ)
٭ مولانا محمد سلیمان (جھل مگسی)
٭ مولانا عبدالحکیم قرانی
٭ مولانا محمد دائود
٭ مولانا محدم دادوی
٭ مولانا احمد مگسی
٭ مولانا محمد عیسیٰ (دڑو)
٭ مولانا ہدایت اللہ تونیہ
٭ مولانا رضا محمد مگسی کھیر تھری ثم مدنی
٭ مولانا مفتی کریم بخش مگسی (صدر مدرس دارالقرآن جامع مسجد میہڑ ضلع دادو)
٭ مفتی محمد مہیسر
٭ مولانایار محمد جویو
٭ مولانا محمد چنا
٭ مولانا غلام رسول مری
اولاد:
مولانا عبدالکریم کو چار بیٹے تولد ہوئے:
۱۔ عبدالباقی
۲۔ نور النبی
۳۔ غلام حسین
۴۔ عبدالباری (مشاہیر دادو)
وصال:
حضرت علامہ عبد الکریم مگسی نے علم کی روشنی دور دور تک بکھیر کر مدرسہ دارالفیوض صوبھو خان مگسی تحصیل میہڑ میں ۲، صفر المظفر۱۳۹۲ھ بمطابق مارچ ۱۹۷۲ء کو ۵۶ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں آپ کا مزار شریف ہے۔ ہر سال ۲ صفر المظفر کو عرس مبارک کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ مولانا مفتی کریم بخش مگسی نے اپنے استاد محترم و ماموں جان علامہ عبدالکریم مگسی کا سال وفات ’’مفور اللہ‘‘ (۱۳۹۲ھ) سے نکالا ۔
[ مولانا ڈاکٹر عبد الرسول قادری، سکرنڈ کے ذریعہ مواد میسر ہوا ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-kareem-magsi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Kareem Magsi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1