پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔
جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔
جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔
جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔
جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
❤1
نمونۂ اسلاف:
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔
تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔
امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔
انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔
آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔
بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔
آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔
چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ
وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔
تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔
امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔
انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔
آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔
بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔
آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔
چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ
وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
scholars.pk
Hazrat Allama Qari Muslehuddin Siddiqui
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام…
https://t.me/islaamic_Knowledge/60222
قاری مصلح الدین صدیقی علیہالرحمہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
قاری مصلح الدین صدیقی علیہالرحمہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
❤1
حضرت مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی۔لقب:استاذا لعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی بن مولانا حبیب احمد دہلوی بن مولانا حسن علی علیہم الرحمہ۔مولانا نسیم احمد صاحب کے دادا مولانا حسن علی صاحب تھے۔ جو دہلی کے قدیمی باشندے تھے۔ انہوں نےحضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر دہلوی سے علوم دینی کی تعلیم حاصل کی۔ دہلی میں فوت ہوئے۔ مولانا حسن علی صاحب کے صاحبزادے مولانا حبیب احمد صاحب تھے جو دہلی میں 1270ھ کو پیدا ہوئے۔ مولانا شاہ کرامت اللہ دہلوی سے تکمیل علوم کی۔ پہلے مدرسہ فتح پوری دہلی میں مدرس قائم ہوئے۔ بعد میں صدر مدرس مقرر ہوئے۔ دہلی ہی میں آپ کا انتقال ہوا۔ مولانا حبیب احمد صاحب کے چار صاحبزادے بشیر احمد، مولانا حافظ نسیم احمد، حافظ جمیل احمد اور شفیق احمد ہوئے۔بشیر احمد صاحب پہلے دہلی میں ملازم ہوئے دہلی سے ملتان میں تبادلہ ہوا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد دہلی پہلے آئے تھے۔ ملک کی تقسیم کے بعد 1947ء میں ملتان چلے گئے وہیں انتقال ہوا۔ حافظ جمیل احمد صاحب نقشہ نویس تھے، اسی کام میں زندگی بسر کی۔ شفیق احمد صاحب، مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ صاحب امام مسجد فتح پوری دہلی کے داماد تھے، اور یہ بھی نقشہ نویس تھے۔ یہ دونوں ملک کی تقسیم کے بعد 1971ء کو کراچی چلے گئے۔ وہیں شفیق احمد صاحب 1976ء اور حافظ جمیل احمد صاحب 1971ء میں فوت ہوئے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی تاریخِ ولادت کتب میں نہیں ملی۔تقریباً چودہویں صدی کےاوائل میں ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم: مولانا نسیم احمد صاحب نے قرآن مجید اپنے والدماجد مولانا مفتی حبیب احمد صاحب سے حفظ کیا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ فتح پوری، دہلی میں اپنے والد کی نگرانی میں پائی، دہلی سے لاہور چلے گئے تو وہاں ایک مقامی کالج میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے دہلی تشریف لائے تو آپ کے والد نے اپنی جگہ شاہی سنہری مسجد چاندنی چوک، دہلی کی امامت آپ کے سپرکر دی۔
بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت شاہ کرامت اللہ دہلوی سےبیعت تھے۔مولانا کرامت اللہ نے مولانا نسیم کو اپنی زندگی میں خلافت عطا فرمائی۔اسی طرح مولانا شاہ نسیم حضرت کےداماد بھی تھے۔
سیرت وخصائص: خطیبِ اہل سنت،عالم وعامل،حضرت علامہ مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی۔آپخاندانی طور پرایک علمی خانوادے سےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےوالد گرامی اور دادا صاحبِ علم وفضل تھے۔بالخصوص آپ کےدادا محترم مولانا حسن علی صاحب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےشاگرد اور جید عالم دین تھے۔اسی طرح آپ کے والد گرامی مولانا مفتی حبیب احمد ایک ماہر مدرس تھے۔مولانا شاہ نسیم احمد فراغت علم کے بعد درس وتدریس وعظ ونصیحت اورا شاعتِ دین میں مصروف ہوگئے۔
آپ میں ایک برج والی مسجد میں 30-35 سال تک محرم کے مہینے 15 محرم سے لے کر 25 محرم تک شہادت کا ذکر فرمایا۔ آپ سے پہلے اس مسجد میں مولانا شاہ محمد کرامت اللہ دہلوی انہی دونوں میں عرصہ تک شہادت کا بیان فرمایا۔ 1947ء کے پُر آشوب زمانہ میں مولانا نسیم احمد دہلی سے کراچی چلے گئے تو اس وقت سے حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ کے صاحبزادے مولانا مشرف احمد صاحب نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔جو آج تک جاری ہے۔یہ ایک برج کی مسجد 1311ھ مطابق 1718ء سے قبل شاہی زمانہ میں تعمیر ہوئی تھی جس میں ایک مقبرہ ہے۔ اس مقبرہ میں تین مزار ہیں۔ ایک مزار شاہ محمدعلی صاحب کا اور دوسرا ان کے بھائی اسد اللہ کا ہے۔ تیسری قبر زمین کے برابر ہو گئی ہے وہ خبر نہیں کس کی ہے۔شاہ صاحب بڑے بزرگ تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد وعظ و تلقین ہی رکھا تھا۔ آپ گجرات میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ گجرات کے صوبیدار چنیت سنگھ کے مظالم سے تنگ آکر آپ مع اپنے ساتھیوں کے دہلی چلے آئے تھے۔ یہاں آنے کے بعد چنیت سنگھ کے اشتعال دلانے اور غلط قسم کی اطلاع دینے پر فرخ شیر نے آپ کو قلعہ کی چوبی مسجد میں قید کر دیا تھا۔ بادشاہ کو اس ناشائستہ حرکت کرنے پر حوّاب میں عتاب ہوا۔ اس سے متاثر ہو کر بادشاہ نے آپ کو مع آپ کے ہمراہیوں کے فوراً رہا کر دیا۔ اس کے بعد آپ جامع مسجد دہلی میں رہنے لگے اور وہیں درس و تدریس اور وعظ کا سلسلہ جاری کیا۔ شاہ صاحب عالمگیر ثانی کے مرشد بھی تھے۔ یہ 1131ھ مطابق 1718ء میں فوت ہوئے۔
1718ھ مطابق 1792ء کو دہلی میں ”انجمن موئید الاسلام“ قائم ہوئی جس کے بانی منشی کرم اللہ خان، مولانا عبد الحق صاحب، مؤلف تفسیر حقانی حافظ عبد الغنی اور حافظ اسحاق صاحبان وغیرہ تھے اس انجمن کے مقاصد یتیم خانہ قائم کرنا، لڑکیوں اور لڑکوں کو تعلیم دلانا، نو مسلموں کو تربیت دلانا اور اس کی نگرانی کرنا اور لا وارث مسلمان میتوں کو اپنے ہاتھوں دفنانا تھا۔ یہ انجمن اسلام کی تبلیغ کے لیے مبلغ بھی رکھتی تھی اس کام کے لیے مولانا نسیم صاحب نے بھی خدمات انجام دیں انہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی۔لقب:استاذا لعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی بن مولانا حبیب احمد دہلوی بن مولانا حسن علی علیہم الرحمہ۔مولانا نسیم احمد صاحب کے دادا مولانا حسن علی صاحب تھے۔ جو دہلی کے قدیمی باشندے تھے۔ انہوں نےحضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر دہلوی سے علوم دینی کی تعلیم حاصل کی۔ دہلی میں فوت ہوئے۔ مولانا حسن علی صاحب کے صاحبزادے مولانا حبیب احمد صاحب تھے جو دہلی میں 1270ھ کو پیدا ہوئے۔ مولانا شاہ کرامت اللہ دہلوی سے تکمیل علوم کی۔ پہلے مدرسہ فتح پوری دہلی میں مدرس قائم ہوئے۔ بعد میں صدر مدرس مقرر ہوئے۔ دہلی ہی میں آپ کا انتقال ہوا۔ مولانا حبیب احمد صاحب کے چار صاحبزادے بشیر احمد، مولانا حافظ نسیم احمد، حافظ جمیل احمد اور شفیق احمد ہوئے۔بشیر احمد صاحب پہلے دہلی میں ملازم ہوئے دہلی سے ملتان میں تبادلہ ہوا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد دہلی پہلے آئے تھے۔ ملک کی تقسیم کے بعد 1947ء میں ملتان چلے گئے وہیں انتقال ہوا۔ حافظ جمیل احمد صاحب نقشہ نویس تھے، اسی کام میں زندگی بسر کی۔ شفیق احمد صاحب، مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ صاحب امام مسجد فتح پوری دہلی کے داماد تھے، اور یہ بھی نقشہ نویس تھے۔ یہ دونوں ملک کی تقسیم کے بعد 1971ء کو کراچی چلے گئے۔ وہیں شفیق احمد صاحب 1976ء اور حافظ جمیل احمد صاحب 1971ء میں فوت ہوئے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی تاریخِ ولادت کتب میں نہیں ملی۔تقریباً چودہویں صدی کےاوائل میں ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم: مولانا نسیم احمد صاحب نے قرآن مجید اپنے والدماجد مولانا مفتی حبیب احمد صاحب سے حفظ کیا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ فتح پوری، دہلی میں اپنے والد کی نگرانی میں پائی، دہلی سے لاہور چلے گئے تو وہاں ایک مقامی کالج میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے دہلی تشریف لائے تو آپ کے والد نے اپنی جگہ شاہی سنہری مسجد چاندنی چوک، دہلی کی امامت آپ کے سپرکر دی۔
بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت شاہ کرامت اللہ دہلوی سےبیعت تھے۔مولانا کرامت اللہ نے مولانا نسیم کو اپنی زندگی میں خلافت عطا فرمائی۔اسی طرح مولانا شاہ نسیم حضرت کےداماد بھی تھے۔
سیرت وخصائص: خطیبِ اہل سنت،عالم وعامل،حضرت علامہ مولانا شاہ نسیم احمد دہلوی۔آپخاندانی طور پرایک علمی خانوادے سےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےوالد گرامی اور دادا صاحبِ علم وفضل تھے۔بالخصوص آپ کےدادا محترم مولانا حسن علی صاحب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےشاگرد اور جید عالم دین تھے۔اسی طرح آپ کے والد گرامی مولانا مفتی حبیب احمد ایک ماہر مدرس تھے۔مولانا شاہ نسیم احمد فراغت علم کے بعد درس وتدریس وعظ ونصیحت اورا شاعتِ دین میں مصروف ہوگئے۔
آپ میں ایک برج والی مسجد میں 30-35 سال تک محرم کے مہینے 15 محرم سے لے کر 25 محرم تک شہادت کا ذکر فرمایا۔ آپ سے پہلے اس مسجد میں مولانا شاہ محمد کرامت اللہ دہلوی انہی دونوں میں عرصہ تک شہادت کا بیان فرمایا۔ 1947ء کے پُر آشوب زمانہ میں مولانا نسیم احمد دہلی سے کراچی چلے گئے تو اس وقت سے حضرت مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اللہ کے صاحبزادے مولانا مشرف احمد صاحب نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔جو آج تک جاری ہے۔یہ ایک برج کی مسجد 1311ھ مطابق 1718ء سے قبل شاہی زمانہ میں تعمیر ہوئی تھی جس میں ایک مقبرہ ہے۔ اس مقبرہ میں تین مزار ہیں۔ ایک مزار شاہ محمدعلی صاحب کا اور دوسرا ان کے بھائی اسد اللہ کا ہے۔ تیسری قبر زمین کے برابر ہو گئی ہے وہ خبر نہیں کس کی ہے۔شاہ صاحب بڑے بزرگ تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد وعظ و تلقین ہی رکھا تھا۔ آپ گجرات میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ گجرات کے صوبیدار چنیت سنگھ کے مظالم سے تنگ آکر آپ مع اپنے ساتھیوں کے دہلی چلے آئے تھے۔ یہاں آنے کے بعد چنیت سنگھ کے اشتعال دلانے اور غلط قسم کی اطلاع دینے پر فرخ شیر نے آپ کو قلعہ کی چوبی مسجد میں قید کر دیا تھا۔ بادشاہ کو اس ناشائستہ حرکت کرنے پر حوّاب میں عتاب ہوا۔ اس سے متاثر ہو کر بادشاہ نے آپ کو مع آپ کے ہمراہیوں کے فوراً رہا کر دیا۔ اس کے بعد آپ جامع مسجد دہلی میں رہنے لگے اور وہیں درس و تدریس اور وعظ کا سلسلہ جاری کیا۔ شاہ صاحب عالمگیر ثانی کے مرشد بھی تھے۔ یہ 1131ھ مطابق 1718ء میں فوت ہوئے۔
1718ھ مطابق 1792ء کو دہلی میں ”انجمن موئید الاسلام“ قائم ہوئی جس کے بانی منشی کرم اللہ خان، مولانا عبد الحق صاحب، مؤلف تفسیر حقانی حافظ عبد الغنی اور حافظ اسحاق صاحبان وغیرہ تھے اس انجمن کے مقاصد یتیم خانہ قائم کرنا، لڑکیوں اور لڑکوں کو تعلیم دلانا، نو مسلموں کو تربیت دلانا اور اس کی نگرانی کرنا اور لا وارث مسلمان میتوں کو اپنے ہاتھوں دفنانا تھا۔ یہ انجمن اسلام کی تبلیغ کے لیے مبلغ بھی رکھتی تھی اس کام کے لیے مولانا نسیم صاحب نے بھی خدمات انجام دیں انہ
❤1
وں نے کافی عرصہ تک تبلیغ کا کام کیا مبلغ کی حیثیت سے انجمن کی طرف سے آپ رنگون و برما وغیرہ میں بھی تشریف لے گئے تھے، والد صاحب کی علالت کی وجہ سے آپ نے باہر کے تبلیغی دورے منسوخ کر دیئے اور دہلی تک تبلیغی کام محدود کر دیا ور مستقل طور پر سنہری مسجد کی امامت کی ذمے داری لے لی۔
مولانا نسیم صاحب مثنوی مولانا روم سے بہت عشق تھا آپ روزانہ بعد نمازِ فجر باڑہ ہندو راؤ کی چھوٹی مسجد میں حضرت مولانا محمد کرامت اللہکے یہاں مثنوی شریف کے درس میں حاضر ہوئے تھے۔ مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ کو آپ سے بے حد محبت تھی مولانا نے اپنی منجھلی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کر دیا تھا۔ اس کے بعد مولانا نسیم احمد نے مولانا کے مکان کے قریب باڑہ ہند راؤ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور روزانہ مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ سے مثنوی کا سبق حاصل کرتے رہے۔
مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ کے انتقال کے بعد چھوٹی مسجد باڑہ ہندو راؤ میں مسلسل بیس سال تک بعد نماز فجر ترجمہ قرآن مجید اور مثنوی کا درس دیتے رہے۔ آپ روزانہ بعد نماز عشاء مسجد نواب دوجانہ ہاؤس بازار مٹیا محل میں درس دیا کرتے تھے اور بعد نماز عصر شاہی مسجد سنہری چاندنی چوک متصل فواراہ اپنےحجروں میں مخصوص حضرات مولانا احمد غزالی، جو بنگالی کوارٹرز کی ایک اونچی مسجد میں مقیم تھے، دوسرے مولانا عبد الرحمٰن کا ملی اور مولانا عبد الحق کاملی وغیرہ کو مثنوی مولانا روم کا سبق دیا کرتے تھے
مولانا نسیم احمد صاحب نے اپنے والد ماجد مولانا حبیب احمد صاحب کے انتقال کے بعد تقریباً 35 سال سنہری مسجد چاندنی چوک دہلی میں امامت فرمائی ایک مرتبہ آپ دہلی میں سخت بیمار ہوئے تو آپ اپنے بھتیجے اور چھوٹے داماد مولانا بشیر احمد صاحب کو اپنی جگہ سنہری مسجد میں امام مقرر کر دیا تھا۔ 1947ء کے پر آشوب زمانہ میں مولانا ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے گئے۔ کراچی میں مقیم ہوئے وہاں مارٹن روڈ پر ایک مسجد کی بنیاد ڈالی اس کا نام موتی مسجد رکھا اور اس مسجد کی تعمیر میں خودبھی حصہ لیا اور اپنی بقایا زندگی اس مسجد کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ اس مسجد میں بھی بعد نماز درس قرآن مجید اور درس مثنوی دیتے رہے۔الغرض مولانا ساری زندگی اشاعتِ دین متین میں مصروف رہے۔جب آپ پر فالج کاحملہ ہوا،علاج کےبعد جب قدرےطبیعت سنبھلی درس قرآن کا سلسلہ شروع کردیا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11/ربیع الاول 1375ھ مطابق آخر ماہ اکتوبر 1955ء کو کراچی میں ہوا۔آخری آرام گاہ فردوس کالونی کے قبرستان میں ہے۔
ماخذ ومراجع: روشن دریچے۔
مولانا نسیم صاحب مثنوی مولانا روم سے بہت عشق تھا آپ روزانہ بعد نمازِ فجر باڑہ ہندو راؤ کی چھوٹی مسجد میں حضرت مولانا محمد کرامت اللہکے یہاں مثنوی شریف کے درس میں حاضر ہوئے تھے۔ مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ کو آپ سے بے حد محبت تھی مولانا نے اپنی منجھلی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کر دیا تھا۔ اس کے بعد مولانا نسیم احمد نے مولانا کے مکان کے قریب باڑہ ہند راؤ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور روزانہ مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ سے مثنوی کا سبق حاصل کرتے رہے۔
مولانا محمد کرامت اللہ علیہ الرحمۃ کے انتقال کے بعد چھوٹی مسجد باڑہ ہندو راؤ میں مسلسل بیس سال تک بعد نماز فجر ترجمہ قرآن مجید اور مثنوی کا درس دیتے رہے۔ آپ روزانہ بعد نماز عشاء مسجد نواب دوجانہ ہاؤس بازار مٹیا محل میں درس دیا کرتے تھے اور بعد نماز عصر شاہی مسجد سنہری چاندنی چوک متصل فواراہ اپنےحجروں میں مخصوص حضرات مولانا احمد غزالی، جو بنگالی کوارٹرز کی ایک اونچی مسجد میں مقیم تھے، دوسرے مولانا عبد الرحمٰن کا ملی اور مولانا عبد الحق کاملی وغیرہ کو مثنوی مولانا روم کا سبق دیا کرتے تھے
مولانا نسیم احمد صاحب نے اپنے والد ماجد مولانا حبیب احمد صاحب کے انتقال کے بعد تقریباً 35 سال سنہری مسجد چاندنی چوک دہلی میں امامت فرمائی ایک مرتبہ آپ دہلی میں سخت بیمار ہوئے تو آپ اپنے بھتیجے اور چھوٹے داماد مولانا بشیر احمد صاحب کو اپنی جگہ سنہری مسجد میں امام مقرر کر دیا تھا۔ 1947ء کے پر آشوب زمانہ میں مولانا ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے گئے۔ کراچی میں مقیم ہوئے وہاں مارٹن روڈ پر ایک مسجد کی بنیاد ڈالی اس کا نام موتی مسجد رکھا اور اس مسجد کی تعمیر میں خودبھی حصہ لیا اور اپنی بقایا زندگی اس مسجد کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ اس مسجد میں بھی بعد نماز درس قرآن مجید اور درس مثنوی دیتے رہے۔الغرض مولانا ساری زندگی اشاعتِ دین متین میں مصروف رہے۔جب آپ پر فالج کاحملہ ہوا،علاج کےبعد جب قدرےطبیعت سنبھلی درس قرآن کا سلسلہ شروع کردیا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11/ربیع الاول 1375ھ مطابق آخر ماہ اکتوبر 1955ء کو کراچی میں ہوا۔آخری آرام گاہ فردوس کالونی کے قبرستان میں ہے۔
ماخذ ومراجع: روشن دریچے۔
❤1
سیّد سردار علی شاہ شہید مقیم شاہی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
جامع سیادت و شرافت تھے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ اور شجاعت و سخاوت میں یگانۂ آفاق تھے۔ تمام عمر ہدایت و ارشادِ خلق میں گزاری۔
۱۲۲۸ھ میں شہادت پائی۔ یہ سانحہ اس طرح پر ہوا کہ جب رنجیت سنگھ تمام پنجاب پر قابض ہوگیا تو صاحب سنگھ بیدی جو گورو نانک کی اولاد سے تھا اور موضع اونہ میں مقیم تھا اور رنجیت سنگھ اس کی بڑی عزّت و توقیر کرتا تھا۔
اس وجہ سے وُہ اکثر و بیشتر مسلمانوں پر نار وا ظلم و ستم کرتا رہتا تھا۔ اس بد اندیش نے چاہا کہ حضرات پیرانِ حجرہ کی بھی زمین و جائداد پر قابض ہوجائے۔ اس وجہ سے وُہ اِن حضرات سے معاندانہ رویّہ اختیار کیے رہتا۔ پہلے تو حضرت سردار علی شاہ نے ’’بہ دہنِ سگ لقمہ دوختہ بہ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اسے کچھ زرو و نقد دے کر اہلِ حجرہ کو اس کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھا۔
لیکن جب وہ اس پر بھی باز نہ آیا تو آپ چند خدام اپنے ہمراہ لے کر اس مفسد و حریص کی افہام و تفہیم کے لیے اونہ تشریف لے گئے۔ اس نے وہاں نہایت مکاری سے کام لیتے ہوئے آپ کو اور آپ کے خدام کو گرفتار کرکے قلعہ میں قید کردیا۔ اس پر اہلِ حجرہ بڑے مشوش ہوئے اور آپ کی ربائی کے لیے سوچنے لگے۔
آخر طے پایا کہ یہاں سے چودھری قادر بخش لاہور کو اونہ بھیجا جائے اور وہ کسی نہ کسی طرح حضرت کو وہاں سے رہا کرائے۔ چنانچہ اس تجویز کے تحت اس نے اونہ میں جاکر رہائش اختیار کرلی اور چند روز کے بعد ایک رات کو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح قلعہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور داخل ہوتے ہی تمام پابہ زنجیر اسیروں کی زنجیر کاٹنی شروع کر دیں۔
مگر حضرت نے ازراہِ شفقت و عنایت یہ نہ چاہا کہ پہلے اُن کی رہائی عمل میں آئے۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پہلے دوسرے قیدیوں کو رہا کرایا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ آپ کی اور آپ کے ہم جد ڈھولن شاہ کی اور ایک خادم کی رہائی عمل میں نہ آسکی اور صبح نمودار ہوگئی۔ چودھری قادر بخش۔ اس کے ہمرا ہی اور دیگر خدام تو قلعہ کی دیوار پھاند کر بھاگ گئے۔
مگر آپ اور آپ کا ایک بھائی قلعہ کے اندر ہی رہ گئے۔ ڈھولن شاہ نے پابہ زنجیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو قلعہ کی دیوار کے نیچے گِرا دیا جس سے وہ سخت مجروح ہُوئے اور ایک خادم انھیں اپنے گھوڑے پر اٹھا کر لے گیا۔ اتفاقاً راستے میں گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور سیّد ڈھولن شاہ گھوڑے سے گِر پڑے۔ خادم نے اس خوف سے کہ صاحب سنگھ بیدی کے آدمی اسے آکر پکڑ نہ لیں اُنہیں وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔
ڈھولن شاہ نے بہ ہزار دقّت اپنے آپ کو ایک کھیت میں چھپایا اور دن بھر وہیں پڑے رہے۔ رات کو کھیت کے مالک کا لڑکا وہاں آیا اس نے ڈھولن شاہ کو وہاں نہایت خستہ حالت میں پڑے ہوئے پایا اور یہ حالت جاکر اپنے باپ سے کہی باپ بیٹا سکھ ہونے کے باجود انہیں اٹھا کر لے گئے اور صلاح یہ ٹھہری کہ رات گزرنے پر صبح کو انہیں اپنے گاؤں پہنچا دیا جائے۔ اُس سکھ نے اپنے ایک مسلمان ہمسایہ کو جو زراعت میں بھی اس کا شریکِ کار تھا یہ بات بتاکر اُسے تاکید کی یہ راز کسی پر کھلنے نہ پائے۔
مگر اس غدار اور لالچی مسلمان نے صبح ہوتے ہی اُسی ظالم و مفسد صاحب سنگھ بیدی کو جاکر اس کی اطلاع دے دی۔ اُس نے فوراً اپنے سوار بھیجے کہ ڈھولن شاہ، اُس سکھ کو اور اس کے لڑکے کو گرفتار کر کے میرے پاس لایا جائے۔ چنانچہ یہ تینوں اسیر ہوکر اُس کے سامنے آئے۔ اُس نے بلا توقّف اِن تینوں کو نیز حضرت سردار شاہ کو اور ان کے ایک بھائی کو قلعہ کے اندر قتل کرادیا اور اس مقتول سِکّھ کی تمام جائداد اس مخبر مسلمان کو دے دی۔
صاحبِ اسرار الاولیاء کے قول کے مطابق آپ کی ولادت ۱۱۹۵ھ اور شہادت ۱۲۲۸ھ میں واقع ہُوئی۔ اِن کے بعد ان کے فرزند سیّد مدد علی شاہ سجادہ نشین ہوئے جو علم و فضل اور ارشاد و ہدایتِ خلق میں اپنے پدربزرگوار کے صحیح جانشین تھے۔
قطعۂ تاریخِ ولادت و وفات:
شہ و سردار محبوب الٰہی
شد از دل عارفِ مشتاق پیدا
بوصلش ’’متقی زاہد شہنشاہ‘‘
۲۸ ھ ۱۲
شریف و سیّد و اشراف و دیندار
پَے تویدِ آں سردار و ابرار
وگر برخواں ’’مقدس پیر اخیار‘‘
۲۸ ھ ۱۲
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-sardar-ali-shah-shaheed
جامع سیادت و شرافت تھے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ اور شجاعت و سخاوت میں یگانۂ آفاق تھے۔ تمام عمر ہدایت و ارشادِ خلق میں گزاری۔
۱۲۲۸ھ میں شہادت پائی۔ یہ سانحہ اس طرح پر ہوا کہ جب رنجیت سنگھ تمام پنجاب پر قابض ہوگیا تو صاحب سنگھ بیدی جو گورو نانک کی اولاد سے تھا اور موضع اونہ میں مقیم تھا اور رنجیت سنگھ اس کی بڑی عزّت و توقیر کرتا تھا۔
اس وجہ سے وُہ اکثر و بیشتر مسلمانوں پر نار وا ظلم و ستم کرتا رہتا تھا۔ اس بد اندیش نے چاہا کہ حضرات پیرانِ حجرہ کی بھی زمین و جائداد پر قابض ہوجائے۔ اس وجہ سے وُہ اِن حضرات سے معاندانہ رویّہ اختیار کیے رہتا۔ پہلے تو حضرت سردار علی شاہ نے ’’بہ دہنِ سگ لقمہ دوختہ بہ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اسے کچھ زرو و نقد دے کر اہلِ حجرہ کو اس کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھا۔
لیکن جب وہ اس پر بھی باز نہ آیا تو آپ چند خدام اپنے ہمراہ لے کر اس مفسد و حریص کی افہام و تفہیم کے لیے اونہ تشریف لے گئے۔ اس نے وہاں نہایت مکاری سے کام لیتے ہوئے آپ کو اور آپ کے خدام کو گرفتار کرکے قلعہ میں قید کردیا۔ اس پر اہلِ حجرہ بڑے مشوش ہوئے اور آپ کی ربائی کے لیے سوچنے لگے۔
آخر طے پایا کہ یہاں سے چودھری قادر بخش لاہور کو اونہ بھیجا جائے اور وہ کسی نہ کسی طرح حضرت کو وہاں سے رہا کرائے۔ چنانچہ اس تجویز کے تحت اس نے اونہ میں جاکر رہائش اختیار کرلی اور چند روز کے بعد ایک رات کو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح قلعہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور داخل ہوتے ہی تمام پابہ زنجیر اسیروں کی زنجیر کاٹنی شروع کر دیں۔
مگر حضرت نے ازراہِ شفقت و عنایت یہ نہ چاہا کہ پہلے اُن کی رہائی عمل میں آئے۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پہلے دوسرے قیدیوں کو رہا کرایا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ آپ کی اور آپ کے ہم جد ڈھولن شاہ کی اور ایک خادم کی رہائی عمل میں نہ آسکی اور صبح نمودار ہوگئی۔ چودھری قادر بخش۔ اس کے ہمرا ہی اور دیگر خدام تو قلعہ کی دیوار پھاند کر بھاگ گئے۔
مگر آپ اور آپ کا ایک بھائی قلعہ کے اندر ہی رہ گئے۔ ڈھولن شاہ نے پابہ زنجیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو قلعہ کی دیوار کے نیچے گِرا دیا جس سے وہ سخت مجروح ہُوئے اور ایک خادم انھیں اپنے گھوڑے پر اٹھا کر لے گیا۔ اتفاقاً راستے میں گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور سیّد ڈھولن شاہ گھوڑے سے گِر پڑے۔ خادم نے اس خوف سے کہ صاحب سنگھ بیدی کے آدمی اسے آکر پکڑ نہ لیں اُنہیں وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔
ڈھولن شاہ نے بہ ہزار دقّت اپنے آپ کو ایک کھیت میں چھپایا اور دن بھر وہیں پڑے رہے۔ رات کو کھیت کے مالک کا لڑکا وہاں آیا اس نے ڈھولن شاہ کو وہاں نہایت خستہ حالت میں پڑے ہوئے پایا اور یہ حالت جاکر اپنے باپ سے کہی باپ بیٹا سکھ ہونے کے باجود انہیں اٹھا کر لے گئے اور صلاح یہ ٹھہری کہ رات گزرنے پر صبح کو انہیں اپنے گاؤں پہنچا دیا جائے۔ اُس سکھ نے اپنے ایک مسلمان ہمسایہ کو جو زراعت میں بھی اس کا شریکِ کار تھا یہ بات بتاکر اُسے تاکید کی یہ راز کسی پر کھلنے نہ پائے۔
مگر اس غدار اور لالچی مسلمان نے صبح ہوتے ہی اُسی ظالم و مفسد صاحب سنگھ بیدی کو جاکر اس کی اطلاع دے دی۔ اُس نے فوراً اپنے سوار بھیجے کہ ڈھولن شاہ، اُس سکھ کو اور اس کے لڑکے کو گرفتار کر کے میرے پاس لایا جائے۔ چنانچہ یہ تینوں اسیر ہوکر اُس کے سامنے آئے۔ اُس نے بلا توقّف اِن تینوں کو نیز حضرت سردار شاہ کو اور ان کے ایک بھائی کو قلعہ کے اندر قتل کرادیا اور اس مقتول سِکّھ کی تمام جائداد اس مخبر مسلمان کو دے دی۔
صاحبِ اسرار الاولیاء کے قول کے مطابق آپ کی ولادت ۱۱۹۵ھ اور شہادت ۱۲۲۸ھ میں واقع ہُوئی۔ اِن کے بعد ان کے فرزند سیّد مدد علی شاہ سجادہ نشین ہوئے جو علم و فضل اور ارشاد و ہدایتِ خلق میں اپنے پدربزرگوار کے صحیح جانشین تھے۔
قطعۂ تاریخِ ولادت و وفات:
شہ و سردار محبوب الٰہی
شد از دل عارفِ مشتاق پیدا
بوصلش ’’متقی زاہد شہنشاہ‘‘
۲۸ ھ ۱۲
شریف و سیّد و اشراف و دیندار
پَے تویدِ آں سردار و ابرار
وگر برخواں ’’مقدس پیر اخیار‘‘
۲۸ ھ ۱۲
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-sardar-ali-shah-shaheed
scholars.pk
Hazrat Syed Sardar Ali Shah Shaheed
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید بہاؤ الدین جھولن شاہ بخاری سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
المشہور بابا گھوڑے شاہ کا اسم گر امی محمد حفیظ بتایا جا تا ہے اور جھولن شاہ کے نام سے موسوم تھے،آپ کے والد گرامی کا نام سید شاہ محمد سید عثمان جھولہ بخاری جن کا مزار شاہی قلعہ کے اندر ے ہے تھے،اصل نام سید بہاء الدین رحمتہ اللہ علیہ تھا، پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو گھو ڑے کی سواری کا بہت شوق تھا اور یہ شو ق عشق کی صورت اختیار کر گیا تو جو کوئی بھی آپ کے پاس مٹی کا بنا ہوا گھوڑ لے کر آتا تو اس کے حق میں دعا کرتے جو مقبول ہوتی اس سے آپ کے مستحاب الد عوات ہونے کی شہرت ہوگئی اور خلقت خدا کا ہجوم ہونے لگا، جب سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد کو پتہ چلا تو بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ لڑکا اسرار الہیٰ کو راز میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس قابل ہے، آپ نے یہ کلمات فرمائے ہی تھے کہ آپ کا وصال ہوگیا،لکھا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر مبارک پانچ سال کی تھی۔
سید عماد الملک آپ کے بھائی تھے، بقول مصنف، تاریخ لاہور،مادر زاد ولی بھی تھے،آپ کے مزار کے پاس ہی آپ کے مرشد حضرت جان محمد صاحب لاہور ی رحمتہ اللہ علیہ کی بھی قبر موجود ہے۔
مسجد گھوڑے شاہ
مسجد مذکور آپ کے مزار کے بالکل سامنے برلب سڑک گھوڑے شاہ روڈ پر واقع ہے،مسجد قدیم اور وسیع و عریض ہے،اس کے تین گنبد ہیں ،ساتھ ہی کمرہ جات بھی ہیں، مسجد کے ساتھ ہی چاہ میراں کی جانب مقبرہ محمود شاہ نقشبند ی رحمتہ اللہ علیہ بھی واقع ہے۔
وفات اور ملحقہ قبرستان:
آپ کا مزار ایک اونچے چبو ترے پر واقع ہے،یہ چبو ترہ گھوڑے شاہ روڈ پر جو ریلوے سٹیشن لاہور سے نکل کر سید ھی بھو گیو ال پہنچتی ہے باغ راجہ دینا ناتھ سے اس طرف اس سڑک کے مقام اتصال پر واقع ہے جو گھو ڑے شاہ روڈ سے چاہ میراں کی طرف نکلتی ہے، مزار اقدس برلب سڑک واقع ہے،ساتھ ہی ایک کمرہ ہے،اس چبو ترہ پر تین قبور ہیں جن میں سے ایک آپ کی اور دوسری دو آپ کے اقر با کی ہیں، مزار کے اوپر ایک قدیم پیپل کا درخت موجود ہے،نیچے ایک دوسرے احاطہ میں بھی آپ کے اہل خاندان کی قبور ہیں۔
وفات:
آپ کی وفات ۱۵۹۴ءمیں بعہد جلال الدین اکبر بادشاہ لاہور میں ہوئی اور علاقہ تیزاب احاطہ میں مدفون ہوئے جہاں آپ کے مزار کے ساتھ وسیع قبرستان بھی ہے۔آپ کے مزار کے پاس حاجت مند لوگوں نے ہزار کے جمع کر رکھے ہیں جوکہ چڑھاوے کے طور پر وہاں نذر کیئے گئے تھے، یہ جوکہا جاتا ہے کہ آپ کو مزار لاہور کی ایک طوائف سودان نے عقید ت کے پیش نظر بنوایا تھا نیز مسجد بنوائی تھی یہ غلط ہے، ہاں اس علا قہ کو بھی کبھی چوہڑ سو دان کہا جا تا تھا۔
آپ کے مزار اقدس کے پاس ایک بہت بڑا قبر ستان ہے جس کو ،قبرستان گھوڑے شاہ، کہاجاتا ہے،اس قبرستان میں حضرت مولانا مطیع الحق پیامی نقشبندی کی بھی قبر ہے نیز سید شہبا ز بن عبد الملک المتو فی ۱۰۴۱ھ بمطابق ۱۶۳۱ء اور گوہر شاہ بن عارف رحمتہ اللہ علیہ شاہ بن عما د الملک المتوفی ۱۰۵۰ھ بمطابق ۱۶۴۰ء کی بھی قبو ر ہیں۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jhulan-shah-bukhari-soharwardi
المشہور بابا گھوڑے شاہ کا اسم گر امی محمد حفیظ بتایا جا تا ہے اور جھولن شاہ کے نام سے موسوم تھے،آپ کے والد گرامی کا نام سید شاہ محمد سید عثمان جھولہ بخاری جن کا مزار شاہی قلعہ کے اندر ے ہے تھے،اصل نام سید بہاء الدین رحمتہ اللہ علیہ تھا، پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو گھو ڑے کی سواری کا بہت شوق تھا اور یہ شو ق عشق کی صورت اختیار کر گیا تو جو کوئی بھی آپ کے پاس مٹی کا بنا ہوا گھوڑ لے کر آتا تو اس کے حق میں دعا کرتے جو مقبول ہوتی اس سے آپ کے مستحاب الد عوات ہونے کی شہرت ہوگئی اور خلقت خدا کا ہجوم ہونے لگا، جب سید شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد کو پتہ چلا تو بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ یہ لڑکا اسرار الہیٰ کو راز میں نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس قابل ہے، آپ نے یہ کلمات فرمائے ہی تھے کہ آپ کا وصال ہوگیا،لکھا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر مبارک پانچ سال کی تھی۔
سید عماد الملک آپ کے بھائی تھے، بقول مصنف، تاریخ لاہور،مادر زاد ولی بھی تھے،آپ کے مزار کے پاس ہی آپ کے مرشد حضرت جان محمد صاحب لاہور ی رحمتہ اللہ علیہ کی بھی قبر موجود ہے۔
مسجد گھوڑے شاہ
مسجد مذکور آپ کے مزار کے بالکل سامنے برلب سڑک گھوڑے شاہ روڈ پر واقع ہے،مسجد قدیم اور وسیع و عریض ہے،اس کے تین گنبد ہیں ،ساتھ ہی کمرہ جات بھی ہیں، مسجد کے ساتھ ہی چاہ میراں کی جانب مقبرہ محمود شاہ نقشبند ی رحمتہ اللہ علیہ بھی واقع ہے۔
وفات اور ملحقہ قبرستان:
آپ کا مزار ایک اونچے چبو ترے پر واقع ہے،یہ چبو ترہ گھوڑے شاہ روڈ پر جو ریلوے سٹیشن لاہور سے نکل کر سید ھی بھو گیو ال پہنچتی ہے باغ راجہ دینا ناتھ سے اس طرف اس سڑک کے مقام اتصال پر واقع ہے جو گھو ڑے شاہ روڈ سے چاہ میراں کی طرف نکلتی ہے، مزار اقدس برلب سڑک واقع ہے،ساتھ ہی ایک کمرہ ہے،اس چبو ترہ پر تین قبور ہیں جن میں سے ایک آپ کی اور دوسری دو آپ کے اقر با کی ہیں، مزار کے اوپر ایک قدیم پیپل کا درخت موجود ہے،نیچے ایک دوسرے احاطہ میں بھی آپ کے اہل خاندان کی قبور ہیں۔
وفات:
آپ کی وفات ۱۵۹۴ءمیں بعہد جلال الدین اکبر بادشاہ لاہور میں ہوئی اور علاقہ تیزاب احاطہ میں مدفون ہوئے جہاں آپ کے مزار کے ساتھ وسیع قبرستان بھی ہے۔آپ کے مزار کے پاس حاجت مند لوگوں نے ہزار کے جمع کر رکھے ہیں جوکہ چڑھاوے کے طور پر وہاں نذر کیئے گئے تھے، یہ جوکہا جاتا ہے کہ آپ کو مزار لاہور کی ایک طوائف سودان نے عقید ت کے پیش نظر بنوایا تھا نیز مسجد بنوائی تھی یہ غلط ہے، ہاں اس علا قہ کو بھی کبھی چوہڑ سو دان کہا جا تا تھا۔
آپ کے مزار اقدس کے پاس ایک بہت بڑا قبر ستان ہے جس کو ،قبرستان گھوڑے شاہ، کہاجاتا ہے،اس قبرستان میں حضرت مولانا مطیع الحق پیامی نقشبندی کی بھی قبر ہے نیز سید شہبا ز بن عبد الملک المتو فی ۱۰۴۱ھ بمطابق ۱۶۳۱ء اور گوہر شاہ بن عارف رحمتہ اللہ علیہ شاہ بن عما د الملک المتوفی ۱۰۵۰ھ بمطابق ۱۶۴۰ء کی بھی قبو ر ہیں۔
( لاہور کے اولیائے سہروردیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-jhulan-shah-bukhari-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Syed Bahauddin Jhulan Shah Bukhari Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔
شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خلاف ہی سوچتا رہتا آپ کا نام حقارت سے لیتا اور طرح طرح کے دل آزار ا قدام کرتا حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں نے کئی بار آپ سے اجازت لی کہ اسے درست کریں مگر آپ نے کبھی اجازت نہ دی اور اُس سے بدلا لینے کی کبھی خواہش نہ کی اتفاقاً وہ ہمسایہ مرگیا آپ کو خود بڑا صدمہ ہوا کئی روز آپ ماتم اور گریہ کرتے رہے کھانا بھی نہ کھاتے آپ کے خادم اور مریدوں نے اِس غم کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ عالم ناسوت میں اولیاء کے اکثر دامن دنیا کے غبار سے ملوث ہوں گے اور یہ غبار بدگو اور بد خوانسانوں کی گالیوں کی وجہ سے دُور ہوگا اب وہ شخص فوت ہوگیا ہے میرے دامن کے غبار کو رب تو دُور کرے گا مجھے اسی بات کا غم اور صدمہ ہے۔
حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں اکثر یاد الٰہی میں غرق اور محور رہتے تھے آپ کو دنیا اور مافیا کی خبر نہ تھی ایک بار تو ایسا ہوا کہ تین ماہ تک آپ نے کچھ نہ کھایا پیا نماز کا وقت ہوتا تو آپ کے خادم آپ کو بڑی مشکل سے آگاہ کرتے وضو کرواتے اور مصلےٰ پر کھڑا کردیتے یہ کیفیت آپ پر تین سال تک رہی پھر جاکر دینی اور دنیاوی امور سے واقف ہوئے مریدوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا اب فرض اور سُنتیں خود مثالی مشکل میں میرے سامنے آکر مجھے آگاہ تربیت میں ادائیگی پر مجبور کردیتی ہیں اب مجھے تمہاری طرف سے کسی آگاہی کی ضرورت نہیں۔
حضرت شاہ ابو المعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اس قدر تنگ دستی اور بے سرو سامانی کا دور دورہ تھا کہ کئی کئی دن فقرو فاقہ میں گزاردیتے بعض خاص لوگوں میں آپ کے خلیفہ سیّد میران بہیکہ تک پہنچائی انہوں نے یہ بات سن کر شاہ صاحب کے گھر گئے اور آپ کے غلہ دان میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ اس میں غلہ موجود ہے آپ نے فرمایا یہ غلّہ قیامت تک کم نہیں ہوگا اِسے نکالتے جاؤ اور پکاتے جاؤ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے گھر والوں سے پوچھا کہ دو مہینے گزر گئے گھر میں غلّے کی کمی کی شکایت آئی اس کی کیا وجہ ہے گھر والوں نے صورتِ حال سنائی تو آپ نے غلہ دان منگوا کر اُسے اُلٹا کردیا فرمایا کہ سید میران بہیکہ ہمارے توکل میں خلل ڈال دیتے ہیں۔
ایک دن قصبہ تھانیسر میں مشائخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی اس میں حضرت شاہ ابوالمعالیٰ میران سید بہیکہ شیخ ابو الفتح شیخ ثوندھا بوہری شیخ بلاکی شیخ محمد شاہ محمد شاہ۔ محمد یوسف شیخ عبدالقدر سنوری شاہ نصیر الدین کھڑی والا اور سید غریب کیرانوی جیسے بزرگ موجود تھے اس مجلس میں کلمۂ طیبہ لا اِلا الہ الااللہ کا ذکر ہورہا تھا حضرت شاہ ابو المعالی نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اِس کلمے کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا ہے اگر وہ لفظ لا پڑھ کر کسی جاندار کے کان میں پھونک دیں تو وہ مر جائے گا اور اگر اِلا اللہ پڑھ کر پھونک ماریں تو وہ پھر زندہ ہوجائے گا۔ حاضرین مجلس میں اِس بات کا امتحان لینے کے لیے حضرت شاہ کی خدمت میں التماس کی کہ ہمیں آپ ایسا کر دکھائیے آپ اٹھے تو اپنے گھر کے صحن میں جو گائے کھڑی تھی اس کے کان میں لاء کا لفظ کہا وہ اُسی وقت گر پڑی اور تڑپ کر مرگئی جب سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ ٹھنڈی ہوگئی ہے تو آپ نے اُس کے دوسرے کان میں اِلاللہ کہا تو وہ زندہ ہوکر اٹھی اور سب کے سامنے گھاس چرنا شروع کردیا۔
شاہ ابو المعالی کی وفات ۱۱۸۶ھ میں ہوئی صاحبِ شجرۂ چشتیہ نے آپ کا سالِ وفات شہنشاہ مجتبےٰ سے نکالا ہے۔
رفت از دنیا چو در خلد بریں
پیر رہبر ابو المعالی اہل فیض
سال وصل اوست تاج التارکین
۱۱۱۶ھ
بار دیگر بو المعالی اہل فیض
۱۱۱۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abul-maali-chishti-ambethvi
آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔
شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خلاف ہی سوچتا رہتا آپ کا نام حقارت سے لیتا اور طرح طرح کے دل آزار ا قدام کرتا حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں نے کئی بار آپ سے اجازت لی کہ اسے درست کریں مگر آپ نے کبھی اجازت نہ دی اور اُس سے بدلا لینے کی کبھی خواہش نہ کی اتفاقاً وہ ہمسایہ مرگیا آپ کو خود بڑا صدمہ ہوا کئی روز آپ ماتم اور گریہ کرتے رہے کھانا بھی نہ کھاتے آپ کے خادم اور مریدوں نے اِس غم کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ عالم ناسوت میں اولیاء کے اکثر دامن دنیا کے غبار سے ملوث ہوں گے اور یہ غبار بدگو اور بد خوانسانوں کی گالیوں کی وجہ سے دُور ہوگا اب وہ شخص فوت ہوگیا ہے میرے دامن کے غبار کو رب تو دُور کرے گا مجھے اسی بات کا غم اور صدمہ ہے۔
حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں اکثر یاد الٰہی میں غرق اور محور رہتے تھے آپ کو دنیا اور مافیا کی خبر نہ تھی ایک بار تو ایسا ہوا کہ تین ماہ تک آپ نے کچھ نہ کھایا پیا نماز کا وقت ہوتا تو آپ کے خادم آپ کو بڑی مشکل سے آگاہ کرتے وضو کرواتے اور مصلےٰ پر کھڑا کردیتے یہ کیفیت آپ پر تین سال تک رہی پھر جاکر دینی اور دنیاوی امور سے واقف ہوئے مریدوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا اب فرض اور سُنتیں خود مثالی مشکل میں میرے سامنے آکر مجھے آگاہ تربیت میں ادائیگی پر مجبور کردیتی ہیں اب مجھے تمہاری طرف سے کسی آگاہی کی ضرورت نہیں۔
حضرت شاہ ابو المعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اس قدر تنگ دستی اور بے سرو سامانی کا دور دورہ تھا کہ کئی کئی دن فقرو فاقہ میں گزاردیتے بعض خاص لوگوں میں آپ کے خلیفہ سیّد میران بہیکہ تک پہنچائی انہوں نے یہ بات سن کر شاہ صاحب کے گھر گئے اور آپ کے غلہ دان میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ اس میں غلہ موجود ہے آپ نے فرمایا یہ غلّہ قیامت تک کم نہیں ہوگا اِسے نکالتے جاؤ اور پکاتے جاؤ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے گھر والوں سے پوچھا کہ دو مہینے گزر گئے گھر میں غلّے کی کمی کی شکایت آئی اس کی کیا وجہ ہے گھر والوں نے صورتِ حال سنائی تو آپ نے غلہ دان منگوا کر اُسے اُلٹا کردیا فرمایا کہ سید میران بہیکہ ہمارے توکل میں خلل ڈال دیتے ہیں۔
ایک دن قصبہ تھانیسر میں مشائخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی اس میں حضرت شاہ ابوالمعالیٰ میران سید بہیکہ شیخ ابو الفتح شیخ ثوندھا بوہری شیخ بلاکی شیخ محمد شاہ محمد شاہ۔ محمد یوسف شیخ عبدالقدر سنوری شاہ نصیر الدین کھڑی والا اور سید غریب کیرانوی جیسے بزرگ موجود تھے اس مجلس میں کلمۂ طیبہ لا اِلا الہ الااللہ کا ذکر ہورہا تھا حضرت شاہ ابو المعالی نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اِس کلمے کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا ہے اگر وہ لفظ لا پڑھ کر کسی جاندار کے کان میں پھونک دیں تو وہ مر جائے گا اور اگر اِلا اللہ پڑھ کر پھونک ماریں تو وہ پھر زندہ ہوجائے گا۔ حاضرین مجلس میں اِس بات کا امتحان لینے کے لیے حضرت شاہ کی خدمت میں التماس کی کہ ہمیں آپ ایسا کر دکھائیے آپ اٹھے تو اپنے گھر کے صحن میں جو گائے کھڑی تھی اس کے کان میں لاء کا لفظ کہا وہ اُسی وقت گر پڑی اور تڑپ کر مرگئی جب سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ ٹھنڈی ہوگئی ہے تو آپ نے اُس کے دوسرے کان میں اِلاللہ کہا تو وہ زندہ ہوکر اٹھی اور سب کے سامنے گھاس چرنا شروع کردیا۔
شاہ ابو المعالی کی وفات ۱۱۸۶ھ میں ہوئی صاحبِ شجرۂ چشتیہ نے آپ کا سالِ وفات شہنشاہ مجتبےٰ سے نکالا ہے۔
رفت از دنیا چو در خلد بریں
پیر رہبر ابو المعالی اہل فیض
سال وصل اوست تاج التارکین
۱۱۱۶ھ
بار دیگر بو المعالی اہل فیض
۱۱۱۶ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abul-maali-chishti-ambethvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abul Maali Chishti Ambethvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ بدر گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولادِ امجاد سے تھے۔ بعہدِ اکبر لاہور تشریف لائے۔
کمالاتِ ظاہری و باطنی سے مزین تھے۔ لاہور و پنجاب کے لوگوں کی ایک کثیر جماعت آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئی۔ ۱۰۱۸ھ میں بہ زمانۂ جہانگیر وفات پائی۔ مزار موضع ستانیان علاقہ پٹیالہ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔
چوں بدر الدین از دنیائے فانی
رقم کن فضلِ حق یا شیخِ حق سال
۱۰۱۸ھ
سفر ور زید و شد روشن بجنت
دگر سیّد ولی بدر الکرامت
۱۰۱۸ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-badar-gilani
غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولادِ امجاد سے تھے۔ بعہدِ اکبر لاہور تشریف لائے۔
کمالاتِ ظاہری و باطنی سے مزین تھے۔ لاہور و پنجاب کے لوگوں کی ایک کثیر جماعت آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئی۔ ۱۰۱۸ھ میں بہ زمانۂ جہانگیر وفات پائی۔ مزار موضع ستانیان علاقہ پٹیالہ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔
چوں بدر الدین از دنیائے فانی
رقم کن فضلِ حق یا شیخِ حق سال
۱۰۱۸ھ
سفر ور زید و شد روشن بجنت
دگر سیّد ولی بدر الکرامت
۱۰۱۸ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-badar-gilani
scholars.pk
Hazrat Shah Badar Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1