🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.87K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ مولانا عبید اللہ جانفداء نقیبی نہر کاریزی مدظلہ العالی

حضرت مولانا اعظم حضرت مولانا محمد عبید اللہ جانفداء نقیبی 26 مارچ 1945ء بروز پیر بمطابق 11 ربیع الثانی 1364 ہجری پیدا ہوئے ـ

جنہوں نے اپنی ساری زندگی اخلاص واللیت پر دین و معاشرے کی خدمت میں گزاری ہے۔ حصول علم کی خاطر اسفارعموماً علمائے اسلام کا طریقہ کار رہا ہے، لیکن علمائے اسلام میں بعض ایسے بھی ہستیاں ملتی ہیں جو کہ مجمع علماء میں پیدا ہونے کی وجہ انہیں زیادہ سفر کے تگ ورد اورعلمی اسفار کی ضرورت پیش نہیں آئی، انہیمیں سے ایک حضرت وملانا اعظم بھی ہیں جو کہ ایک مشہور اور مستحکم علمی روحانی اور فلاھی گھرانے میں پیدا ہوئے ـ

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی شاگردوں اور اپنے وقت کے جید علماء کرام سےاپنے گھر پر ہی حاصل کی اور 20 جولائی 1967ء بروز جمعہ رات بمطابق 12ر بیع الثانی 1387 ہجری کو اعلیٰ دینی تحصیلات کیلیے صوبہ بلوچستان، ضلع پیشن کے علاقہ منزکی کے مشہور و معروف شیخ القرآن و الحدیث ، حامل علم لدنی ، حضرت علامہ الشاہ السید محمد علی آقا رحمۃ اللہ علیہ کی بابابرکت علمی حلقہ میں زانوئے تلمذ طے کیا اور قرآن و حدیث میں مزید

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ubaidullah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، عارف ربانی، حضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید فتح علی شاہ علیہ الرحمہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ المشائخ حضرت مولانا سید فتح علی شاہ بن سید امیر شاہ بن قیوم زمان شاہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الاول 1296ھ، مطابق 1879ء کو " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اور جدا امجد اپنے دور کے مقتدرفضلاء میں شمار کئے جاتے تھے ، آپ نے پرائمری پاس کرنے کے بعد درس نظامی کی ابتدائی کتابیں جد امجد سے پڑھیں پھرحضرت مولانا عبد الرحمن کوٹلوی (والدِ گرامی فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلوی) سے فقہ و حدیث کا درس لیا، بعدازاں "جامعہ حنفیہ "گجرات میں مولانا محمد عبد اللہ سے اکتساب فیض کیا، کچھ عرصہ "جامعہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی" میں رہے ۔پھر "مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف "میں دورۂ حدیث کیا اور 1914ء میں سند حدیث حاصل کی ، 1917 میں"جامعہ طبیہ،دہلی" سے طب کی سند حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
1918ء میں دوبارہ بریلی شریف حاضر ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور 1920ء میں اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، عارفِ کامل، مجاہدِ اسلام، حامیِ دینِ متین، واقفِ شرع متین، غیظ المنافقین خلیفۂ اعلی ٰحضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے اجلہ خلفاء تلامذہ میں ہوتا ہے ۔ تکمیلِ علوم کے بعد اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف کردی۔آپ نے امامِ اہلِ سنت کی تعلیمات کو پنجاب، آزاد، وجموں کشمیر میں عام کیا ۔

ان علاقوں میں عوامِ اہلِ سنت تک اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مبارکہ کو متعارف کرایا ۔ کہ اس صدی میں معیارِ حق امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ہیں ۔

بالخصوص ان علاقوں میں نائبِ اعلیٰ حضرت نے بدمذہبی وبدعقیدگی کے خلاف بند باندھا،اور عوامِ اہلِ سنت کے ایمان کو محفوظ کیا ۔ 1926ء سے 1940ء تک سیالکوٹ چھاؤنی کی جامع مسجد میں فرائض خطابت انجام دیتے رہے اور فوجی جوانوں کے دلوں کو حب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جذبۂ جہاد سے گرماتے رہے ۔

1935ء میں" مسجد شہید گنج "کی تحریک میں امیرملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ قدس سرہ کی قیادت میں شاہی مسجد لاہور کے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ 4 اکتوبر 1939ء کو مراد آباد میں حجۃ الاسلام مولانا حامد بریلوی قدس سرہ کی صدار ت میں" مو تمر العلماء" کا اجلاس ہوا ـ

آپ علماء سیالکوٹ کے ساتھ اس عظیم الشان اجلاس میں شریک ہوئے۔ اپریل 1946ء میں آل انڈیاسنی کانفرنس بنارس کے فقید المثال اجلاس میں شریک ہوئے ، قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں "نظریۂ پاکستان "کی تبلیغ کی اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے زبردست جد و جہد فرمائی ـ

1953ء میں سیالکوٹ میں "تحریک ختم نبوت" کو بڑی کامیابی سے چلایا ۔ الغرض یہ کہ ملک و ملت کی بہتری کے لئے جو تحریک بھی اٹھی ،حضرت شاہ صاحب نے دل و جان سے اس کے لئے کام کیا ۔

تاریخِ وصال:
8 رجب المرجب 1377ھ، مطابق 18 جنوری 1958ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-molana-syed-fatah-ali-shah-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: احمد بن محمد ۔ کنیت: ابو جعفر ۔ القاب: الامام، الحافظ، المجتہد ۔

آپ کا پورا نام و نسب اس طرح ہے:
الامام الحافظ ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن عبد الملک بن سلمہ بن سلیم بن جناب الازدی المصری الطحاو ی الحنفی ۔ آپ کا نسبی تعلق یمن کے مشہور قبیلہ ازد کی شاخ حجر سے تھا اسلامی فتوحات کے بعد آپ کا خاندان مصر منتقل ہو کر سکونت گزیں ہو گیا اور یہیں "طحا" نامی ایک گاؤں میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ جس کی نسبت سے آپ " طحاوی " کہلاتے ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت علامہ ابن خلکان کے مطابق 239ھ میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
امام طحاوی نے جس وقت آنکھ کھولی پوری فضا علوم و فنون کی عطر بیزیوں سے معطر تھی آپ نے اپنے ماموں ابو ابراہیم مزنی تلمیذ امام شافعی سے علوم اسلامی کی تحصیل کی اور مسلکاً شافعی رہے ۔ مصر کے بعد امام طحاوی شام چلے گئے جہاں قاضی القضاۃ ابو حازم سے فقہ کی تحصیل کی مصر کے علاوہ آپ کے کثیر اساتذہ خراسان، یمن، کوفہ، بصرہ، حجاز شام کے تھے شام سے واپسی کے بعد آپ کے ذوق و جستجوئے علم کا یہ حال تھا کہ مصر کے اندر جب بھی کوئی فقیہ یا محدث وارد ہوتا تو اس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اکتساب علم کرتے۔ اسی لیے آپ کے شیوخ و اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے چند کے اسماء یہ ہیں ۔ ہارون بن سعید عیلی، عبد الغنی بن رفاعہ، یونس بن عبد الاعلیٰ، عیسیٰ بن مشرور، محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم، بحر بن نصر، ابو بکر بن قتیبہ سلیمان بن شعیب ابراہیم مزنی، احمد بن ابی عمران (علیہم الرحمہ)

تبدیلیِ مسلک:
شافعی مسلک ترک کرنے کی وجہ علامہ عبد العزیز پر ہاروی علیہ الرحمہ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔

‘‘ ان الطحاوی کان شافعی المذہب فقرأفی کتابہ ان الحاملۃ اذا ماتت ولدا فی بطنھا ولد حتی لم فی بطنھا خلافا لابی حنیفۃ وکان الطحاوی ولدا مشقوقا فقال لا ارضی بمذھب رجل یرضی بھلا کی فترک مذہب الشافعی وصارمن عظماء الجتھدین علی مذھب ابی حنفیۃ’’۔

امام طحاوی ابتداءً شافعی المذھب تھے ایک دن انہوں نے شافعی کی کتاب میں پڑھا کہ جب حاملہ عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو بچہ نکالنے کے لیے اس کے پیٹ کو چیرا نہیں جائے گا ۔ بر خلاف مذہب امام اعظم ابو حنیفہ ۔ اور امام طحاوی کو مذہب حنفی پر پیٹ چیر کر نکالا گیا تھا ۔ امام طحاوی نے اس کو پڑھ کر کہا میں اس شخص کے مذہب سے راضی نہیں جو میری ہلاکت پر راضی ہو پھر انہوں نے شافعیت کو چھوڑ دیا اور حنفی مسلک کو اختیار کیا اور اس مسلک کے عظیم مجتہد بن گئے ۔ (نبراس، ص۱۱۰) ـ

امام طحاوی کی ذات حدیث و فقہ کی جامع تھی آپ کے تبحر علمی کا شہرہ بلاد اسلامیہ کے دور درواز گوشوں تک پھیلا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کی بارگاہ میں اسلامی ممالک کے تشنگان علم کھنچ کھنچ کر چلے آرہے تھے آپ نے اپنے تلامذہ کی بہت بڑی جماعت چھوڑی ہے۔

علم و فضل:
امام طحاوی نے علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں وہ مرتبہ بلند حاصل کرلیا تھا کہ عوام و خواص ۔ علماء و عمال سبھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ اور کی جلالت علم کے سامنے جبین عقیدت خم کرتے تھے علاوہ ازیں آپ کے علم و فضل کا اعتراف اسلامی دنیا کی مشہور و معروف علمی ہستیوں نے ہر دور میں کیا ہے علامہ عینی فرماتے ہیں۔ ‘‘جن محدثین اور مورخین نے ان کا تذکرہ کیا ہے وہ سب ان کی مدح و توصیف میں متفق ہیں’’۔

حافظ ذہبی:
الامام العلامۃ الحافظ صاحب التصانیف البدیعۃ۔ امام طحاوی بہت بڑے عالم بلند پایہ حافظ حدیث اور اور بہت سی عجیب و غریب کتابوں کے مصنف ہیں (تذکرۃ الحفاظ، ج۳، ص۲۸)

ابن یونس:
‘‘کان ثقۃ ثبتا فقیھا عاقلا لم یخلف مثلہ، ثقہ، ثبت، فقیہ اور عقلمند تھے انہوں نے اپنے پیچھے اپنے جیسا کوئی آدمی نہیں چھوڑا ۔ (ایضاً)

ابو اسحاق شیرازی:
انتھت الی ابی جعفر ریاسۃ اصحاب ابی حنیفہ بمصر، مصر میں امام ابو حنیفہ کے پیرؤں کی سرداری ابو جعفر پر ختم ہے۔ (ایضاً)

علامہ سیوطی:
وہ حدیث و فقہ میں امام، علوم دینیہ کے ماویٰ اور احادیث نبوی کےملجا تھے۔

حافظ عبد البر:
وہ کوفیوں کی روایت اور مسائل فقہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے اور تمام مذاہب فقہاء کے عالم تھے۔ (لسان المیزان، ج۱، ص۲۷۵)

شاہ عبد العزیز:
نہایت پر ہیزگار۔ فقیہ اور دانشمند تھے۔ مصر میں ریاست حنفیہ کا سہرا انہیں کے سر تھا۔
1👍1
امام طحاوی کی علمی عظمت کا سکہ پورے مصر پر چلتا تھا ان کی شہرت زندگی ہی میں اسلامی دنیا کے ہر ہر گوشے میں پہونچ چکی گھی۔ صرف طبقۂ علماء اور عوام ہی میں ان کی مقبولیت نہ تھی بلکہ اعیان سلطنت اور اصحاب جاہ و منصب آپ کی تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھتے۔ اپنے طرز عمل اور اعزاز و احترام کے رویہ سے آپ کی علمی شوکت اقتدار کا اعتراف کرتے۔

شرح معانی الآثار:
علامہ طحاوی کی جملہ تصنیفات میں شہرت و قبول عام شرح معانی الآثار کو حاصل ہوا وہ دوسری تصانیف کے حصہ میں نہ آسکا بلاریب یہ کتاب فن حدیث میں ایک عظیم تصنیف اور حزب احناب کا سرمایۂ افتخار ہے اس کتاب میں حدیث، فقہ اور رجال کے متعدد علوم کو جس حسن اور عمدگی کے ساتھ جمع کردیا گیا ہے صرف مسلک حنفی ہی میں نہیں بلکہ دیگر مکاتبِ فکر میں بھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ علامہ امیر اتقانی فرماتے ہیں: ‘‘فانظر شرح معانی الآثار ھل تری لہ نظیرا فی سائر المذاہب فضلا عن مذھبنا ھذا’’ شرح معانی الآثار پر غور کرو کیا تم ہمارے مذہب حنفی کے علاوہ دوسری مذہب میں بھی اس کی نظیر پاسکتے ہو؟

وصال:
آپ کا وصال 82 سال کی عمر میں یکم ذیقعدہ 321ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار بمقام " قرافہ " مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے ساتھ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات خدمات ۔ تذکرۃ المحدثین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-jafar-ahmad-bin-muhammad-tahawi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام علی رضا رضی الله تعالیٰ عنه

نام و نسب:
اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ القابات: صابر، ولی، ذکی، ضامن، مرتضیٰ اور سب سے مشہور لقب امام علی رضا ہے ۔ آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر اور آئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ) ۔

آپ کی والدہ کے ناموں میں اختلاف ہے۔مثلاً: نجمہ، ارویٰ، شمانہ، ام البنین، استقراء ۔ اصح ’’ نجمہ ‘‘ ہے ۔ یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں ۔ (بارہ امام ص:166)

ولادت کی بشارت:
ایک رات حضرت حمیدہ﷜ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح اپنے بیٹے موسیٰ کاظم سے کردو۔ اللہ اس سے ایک ایسا بیٹا دے گا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب میں حاملہ ہوئی تو کبھی بھی اپنے شکمِ میں گرانی محسوس نہ کی اور جب میں سوجاتی تو اپنے شکم سے سبحان اللہ،سبحان اللہ کی آواز سنتی جس سے میرے دل میں خوف کا غلبہ طاری ہوجاتا لیکن جب میں بیدار ہوجاتی تو پھر کوئی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔(خزینۃ الاصفیاء:100/اقتباس الانوار/بارہ امام166)۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 11/ربیع الاول 153ھ،مطابق 12/مارچ 770ء کومدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ اور ان کی علمی وروحانی وراثتوں کے مالک تھے۔اپنے والد گرامی اور فقہاء ومحدثینِ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفا وتکریما)سے تمام علوم دینیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی ذہین وفطین اور اعلیٰ درجے کے عالم وفاضل تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو رب کریم نے فہمِ قرآن کی عظیم دولت سے ایسا نوازاتھا کہ آپ اکثرسوالات کے جوابات آیاتِ قرآنی سے دیا کرتےتھے۔آپ اپنے وقت کےعظیم محدث اورفقیہ تھے۔(جامع کرامات اولیاء:ج2،ص،312)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کےآٹھویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اپنے والد گرمی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ کےخلیفۂ اعظم اور اپنے وقت کےامامِ برحق تھے۔شجرہ شریف میں اس طرح منظوم ہے:

؏:صِدقِ صادق کاتصدق صادق ُالاسلام کر۔۔۔۔۔۔۔ بے غَضَب راضی ہو کاظِم اور رضا کے واسطے

سیرت و خصائص:
امام الھدیٰ، منبعِ جود و سخا، جانشینِ مرتضیٰ،وارث علوم و کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا، جامع کمالاتِ علمیہ و روحانیہ، عارف اسرار ورموزِ قرآنیہ حضرت امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنھما ۔

آپ رضی اللہ عنہ جامع کمالات اور عظیم اوصاف کے مالک تھے ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو صوری ومعنوی خوبیوں سے بے حساب مالامال کیا تھا ۔ پہلی مرتبہ دیکھنے والا ہی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ خاندان نبوت کا چشم وچراغ ہیں۔جب کسی موضوع پر سخن فرماتےتوعلم کے دریا بہاتے،جب مامون کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا،قاضیوں کی ایک جماعت جواب نہ دے سکی،جب آپ نےجواب ارشاد فرمایا تو حاضرین و سامعین عش عش کر اٹھے، اور علماء کو آپ کےعلم وفضل اور تفقہ فی الدین کا علم الیقین ہوگیا، اور خلیفہ مأمون نے آپ کےعلمی کمالات دیکھ کر اپنی صاحبزادی کا اسی وقت آپ سے نکاح کردیا ۔ (شریف التواریخ)

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے، چہرہ مبارک کے سامنے ایک پردہ تھا، حافظانِ حدیث امام ابوذرعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبانِ علم وحدیث حاضرِ خدمتِ انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا جمالِ مبارک ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایک حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے، امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و گیسو شانہ مبارک پر لٹک رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے، کوئی خاک پر لوٹتا ہے، کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی :خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔
1
دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا: حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الٰہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔ یعنی امام علی رضا امام موسٰی  کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی  رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول ﷲ ﷺ نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے ﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الٰہ الا ﷲ میرا قلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔یہ حدیث روایت فرماکر حضور امام علی رضا رواں ہوئے اور پردہ چھوڑ دیا گیا، دواتوں والے جو ارشاد مبارک لکھ رہے تھے شمار کئے گئے ، بیس 20ہزار سے زائد تھے۔

امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔ یہ مبارک سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہوجائے۔( الصواعق المحرقہ الفصل الثالث فی الاحادیث الواردۃ فی بعض اہل البیت مطبوعہ مکتبہ مجددیہ ملتان ص ۲۰۵)۔

اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وُہ برکات ہیں، حالانکہ وُہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا، اُن کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔(فتاویٰ رضویہ: ج9،کتاب الجنائز)۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ماہ اہتمام کے ساتھ تینروزے رکھا کرتے ۔اس قدر عاجزی پسند تھے کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انفرادی کوشش نے بے شمار کفارکودامنِ اسلام سے وابستہ کیا ۔مشہور بزرگ حضرت سیدنا معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی کی دعوتِ اسلام پر مسلمان ہوئے اور آسمان ولایت کے روشن ستارے بن کر چمکے ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی ومکاشفات ومغیبات کا خاص علم عطاء فرمایا تھا۔آپ آئندہ کےرونما ہونے والے واقعات کوپہلے ہی دیکھ اور معلوم کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح جب مامون الرشید نےاپنے بعد آپ کو اپنا ولی عہد منتخب کیا،تو آپ نے اس کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا:قبول العھدالذی کتبہ علی بن موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما الی المامون انک قد عرفت من حقوقنا ما لم یعرفہ اباؤک فقلبت منک عھدک الا ان الجفروالجامعۃ یدلان علی انہ لایتم۔ یعنی مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا بن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد و لیعہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)۔(فتاویٰ رضویہ:ج29،کتاب الشتٰی)۔

تاریخِ وصال:
امام علی رضا رحمۃ رضی اللہ عنہ کو انگوروں میں زہر ملا کر دیا گیا جس سے آپ 21/ رمضان المبارک 203ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ آپ کا مزار شریف مشہد مقدس (ایران) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
بارہ امام ۔ جامع کرامات اولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ اقتباس الانوار ـ شریف التواریخ ۔ فتاویٰ رضویہ شریف ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-ali-raza-bin-imam-musa-kazim
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پیر طریقت ، علامہ قاری مصلح الدین صدیقی

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ۔ لقب: مصلحِ اہلسنت، مصلحِ ملت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی، بن محمد نور الدین، بن شاہ محمد حسین، بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد، بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف، بن شاہ محمد، بن محمد یوسف (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
11 ربیع الاول 1336ھ، مطابق 24 دسمبر 1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیر ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے تحصیل ِ علم کیا۔

جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

بیعت و خلافت:
تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت و اجازت سےمشرف ہوئے۔

سیرت و خصائص:
پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، عالمِ ربانی، صاحبِ فضائل و کمالات صوری و معنوی، مصلحِ ملت، مصلحِ اہلسنت، خطیبِ شیریں بیان، قاریِ قرآن، مدرسِ باکمال، علم و تقویٰ میں بے مثال، خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ، و مفتیِ اعظم ہند، منظورِ نظر حضور حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا قار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہر ہر لمحہ اشاعتِ دین میں مصروف رہے ۔ بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔

جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے، کہ آپ کو اس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف، وعظ ونصیحت کے ذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔

ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدر الشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں ۔ حضرت صدر الشریعہ نے فرمایا: درس و تدریس ہی آپ کے لئے سب سے بڑا وظیفہ ہے ۔
1
نمونۂ اسلاف:
حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ، سلفِ صالحین کی مبارک زندگیوں کا جیتا جاگتا ثبوت تھے ۔ ان کی نشست و برخو است، ان کا ملنا جلنا، ہر عمل میں  نہایت سادگی اور جاذبیت (کشش ) تھی ۔

تصنع ، بناوٹ اور خود ستائی جیسی چیزوں کا ان کی ذات سے دور کا بھی کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا، یہ ولایت کی علامت بھی ہے ۔

امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہوں نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض خدمتِ دین، اشاعتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظریہ سے زند گی بھر بخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے ۔

انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال، حاجت مندوں کی درد بھری باتیں سُن کر تڑپ جاتے اور ان کے حق میں دعاء و تعویذ اور ہمدردی و خیر خواہی کرنے میں کوئی کسر نہ رکھتے تھے ۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے: "مجھے دل کا مرض، ان پریشان حال، اہلِ حاجت ہی کی وجہ سے لگا ہے " ۔

آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت، زہد و تقویٰ، عہد و وفا، تسلیم و رضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔ آپ کی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے ۔

بالخصوص رسولِ اکرم ﷺ، اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا ۔ اس لئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا ۔

آپ کی ہر محفل اولیاء کرام کے تذکروں سے منور و معطر ہوتی تھی ۔ پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے ۔ آپ کے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب و نمایاں تھا ۔

چالیس برس خلوص و محبت کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے ۔ (آمین) ـ

وصال:
7 جمادی الثانی 1403ھ / مطابق 23 مارچ 1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار مصلح الدین گارڈن (سابق کھوڑی گارڈن) کراچی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت (سندھ) ۔ تذکرہ مصلحِ اہلسنت ۔ فقہائے سندھ کی علمی خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-qari-muslehuddin-siddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1