🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ مولانا عبید اللہ جانفداء نقیبی نہر کاریزی مدظلہ العالی

حضرت مولانا اعظم حضرت مولانا محمد عبید اللہ جانفداء نقیبی 26 مارچ 1945ء بروز پیر بمطابق 11 ربیع الثانی 1364 ہجری پیدا ہوئے ـ

جنہوں نے اپنی ساری زندگی اخلاص واللیت پر دین و معاشرے کی خدمت میں گزاری ہے۔ حصول علم کی خاطر اسفارعموماً علمائے اسلام کا طریقہ کار رہا ہے، لیکن علمائے اسلام میں بعض ایسے بھی ہستیاں ملتی ہیں جو کہ مجمع علماء میں پیدا ہونے کی وجہ انہیں زیادہ سفر کے تگ ورد اورعلمی اسفار کی ضرورت پیش نہیں آئی، انہیمیں سے ایک حضرت وملانا اعظم بھی ہیں جو کہ ایک مشہور اور مستحکم علمی روحانی اور فلاھی گھرانے میں پیدا ہوئے ـ

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی شاگردوں اور اپنے وقت کے جید علماء کرام سےاپنے گھر پر ہی حاصل کی اور 20 جولائی 1967ء بروز جمعہ رات بمطابق 12ر بیع الثانی 1387 ہجری کو اعلیٰ دینی تحصیلات کیلیے صوبہ بلوچستان، ضلع پیشن کے علاقہ منزکی کے مشہور و معروف شیخ القرآن و الحدیث ، حامل علم لدنی ، حضرت علامہ الشاہ السید محمد علی آقا رحمۃ اللہ علیہ کی بابابرکت علمی حلقہ میں زانوئے تلمذ طے کیا اور قرآن و حدیث میں مزید

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ubaidullah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، عارف ربانی، حضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید فتح علی شاہ علیہ الرحمہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ المشائخ حضرت مولانا سید فتح علی شاہ بن سید امیر شاہ بن قیوم زمان شاہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الاول 1296ھ، مطابق 1879ء کو " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اور جدا امجد اپنے دور کے مقتدرفضلاء میں شمار کئے جاتے تھے ، آپ نے پرائمری پاس کرنے کے بعد درس نظامی کی ابتدائی کتابیں جد امجد سے پڑھیں پھرحضرت مولانا عبد الرحمن کوٹلوی (والدِ گرامی فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلوی) سے فقہ و حدیث کا درس لیا، بعدازاں "جامعہ حنفیہ "گجرات میں مولانا محمد عبد اللہ سے اکتساب فیض کیا، کچھ عرصہ "جامعہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی" میں رہے ۔پھر "مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف "میں دورۂ حدیث کیا اور 1914ء میں سند حدیث حاصل کی ، 1917 میں"جامعہ طبیہ،دہلی" سے طب کی سند حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
1918ء میں دوبارہ بریلی شریف حاضر ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور 1920ء میں اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، عارفِ کامل، مجاہدِ اسلام، حامیِ دینِ متین، واقفِ شرع متین، غیظ المنافقین خلیفۂ اعلی ٰحضرت مولانا سید فتح علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے اجلہ خلفاء تلامذہ میں ہوتا ہے ۔ تکمیلِ علوم کے بعد اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف کردی۔آپ نے امامِ اہلِ سنت کی تعلیمات کو پنجاب، آزاد، وجموں کشمیر میں عام کیا ۔

ان علاقوں میں عوامِ اہلِ سنت تک اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مبارکہ کو متعارف کرایا ۔ کہ اس صدی میں معیارِ حق امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ہیں ۔

بالخصوص ان علاقوں میں نائبِ اعلیٰ حضرت نے بدمذہبی وبدعقیدگی کے خلاف بند باندھا،اور عوامِ اہلِ سنت کے ایمان کو محفوظ کیا ۔ 1926ء سے 1940ء تک سیالکوٹ چھاؤنی کی جامع مسجد میں فرائض خطابت انجام دیتے رہے اور فوجی جوانوں کے دلوں کو حب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور جذبۂ جہاد سے گرماتے رہے ۔

1935ء میں" مسجد شہید گنج "کی تحریک میں امیرملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ قدس سرہ کی قیادت میں شاہی مسجد لاہور کے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ 4 اکتوبر 1939ء کو مراد آباد میں حجۃ الاسلام مولانا حامد بریلوی قدس سرہ کی صدار ت میں" مو تمر العلماء" کا اجلاس ہوا ـ

آپ علماء سیالکوٹ کے ساتھ اس عظیم الشان اجلاس میں شریک ہوئے۔ اپریل 1946ء میں آل انڈیاسنی کانفرنس بنارس کے فقید المثال اجلاس میں شریک ہوئے ، قصبہ قصبہ، گاؤں گاؤں "نظریۂ پاکستان "کی تبلیغ کی اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لئے زبردست جد و جہد فرمائی ـ

1953ء میں سیالکوٹ میں "تحریک ختم نبوت" کو بڑی کامیابی سے چلایا ۔ الغرض یہ کہ ملک و ملت کی بہتری کے لئے جو تحریک بھی اٹھی ،حضرت شاہ صاحب نے دل و جان سے اس کے لئے کام کیا ۔

تاریخِ وصال:
8 رجب المرجب 1377ھ، مطابق 18 جنوری 1958ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ " کھروٹہ سیداں " ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-molana-syed-fatah-ali-shah-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2