قیامِ لاہور:
لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کا مزار ِاقدس اولیاء صلحاء کے لیے ہر زمانے میں توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ چنانچہ جو بزرگانِ دین حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کے بعد لاہور میں تشریف لائے، انہوں نے آپ کے مزار پر ضرور حاضری دی ۔ اس لیے جب حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں تشریف لائے تو سب سے پہلے داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار پر کچھ عرصہ قیام پذیر رہے، اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔
اس کے بعد آپ نے اس جگہ قیام کیا، جہاں آج کل آپ کا مزار ہے ۔ اس وقت یہ جگہ شہر سے دور اور ویرانے میں تھی ۔ آپ کا حجرہ کچی مٹی کا بنایا گیا ۔ آپ اسی میں دن رات مصروفِ عبادت رہتے ۔ قریب کی آبادیوں میں جاکر لوگوں کو نماز روزہ اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ۔ آپ کی تبلیغ کی بدولت بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی، اور فساق و فجار تقوے کی پیکر بن جاتے ۔ اسی طرح غم زدہ، بیمار، اور پریشان حال آپ کے درِ دولت پر حاضر ہوتے، اللہ جل شانہ آپ کی برکت و دعا سے ان کی مشکلات کو آسان فرما دیتا ۔
بے شمار مخلوقِ خدا کو آپ سے فیض پہنچا ۔ آخری عمر میں یہ ویران جگہ آپ کی برکت سے انسانوں کی آمد و رفت سے با رونق ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کا تانتا بندھا رہتا ۔ کیا عوام، اور کیا خواص، سب آپ کی برکتوں سے مالا مال ہوئے ۔ اس وقت لاہور علم و فن اور علماء و محدثین کا مرکز تھا ۔ اسی طرح صوفیاء کا بھی مرکز تھا ۔ اس شہر کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی تعلیم یافتہ تھی ۔ لیکن حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کا اپنا ایک مقام تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ تمام مصروفیات سے وقت نکال کر گاہے، گاہے حضرت مخدومِ امت، داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کے آستانے پر حاضری دیتے رہتے تھے ۔ اسی طرح تبلیغ کی غرض سے نواحی علاقوں میں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں اسلام کی برکتیں عام ہوئیں، اور کفر و باطل کے اندھیرے، ان نفوسِ قدسیہ کی بدولت چھٹ گئے ۔
آج بر صغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام کی بہاریں انہیں نفوسِ قدسیہ کی مساعیِ جمیلہ کی وجہ سے ہیں ۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو مسلمان اقلیت میں ہوتے، اور پاکستان کبھی معرضِ وجود میں نہ آتا، اور یہ حقیقت ہے پاکستان اولیاء اللہ کا فیضان ہے ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں چھتیس سال ارشاد و تلقین میں مصروف رہے ۔ بامقصد زندگی گزار کر آپ علیہ الرحمہ شمس الدین التمش علیہ الرحمہ کے زمانے میں داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 612ھ مطابق 1215ء کو ہوا ۔ آخری آرام گاہ لاہور میں راوی روڈ پر بھاٹی گیٹ سے آگے، مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 9 / 10 ربیع الاول شریف کو ہوتا ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد اول ۔ تذکرہ اولیائے لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-azizuddin-peer-makki-junaidi
لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کا مزار ِاقدس اولیاء صلحاء کے لیے ہر زمانے میں توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ چنانچہ جو بزرگانِ دین حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کے بعد لاہور میں تشریف لائے، انہوں نے آپ کے مزار پر ضرور حاضری دی ۔ اس لیے جب حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں تشریف لائے تو سب سے پہلے داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار پر کچھ عرصہ قیام پذیر رہے، اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔
اس کے بعد آپ نے اس جگہ قیام کیا، جہاں آج کل آپ کا مزار ہے ۔ اس وقت یہ جگہ شہر سے دور اور ویرانے میں تھی ۔ آپ کا حجرہ کچی مٹی کا بنایا گیا ۔ آپ اسی میں دن رات مصروفِ عبادت رہتے ۔ قریب کی آبادیوں میں جاکر لوگوں کو نماز روزہ اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ۔ آپ کی تبلیغ کی بدولت بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی، اور فساق و فجار تقوے کی پیکر بن جاتے ۔ اسی طرح غم زدہ، بیمار، اور پریشان حال آپ کے درِ دولت پر حاضر ہوتے، اللہ جل شانہ آپ کی برکت و دعا سے ان کی مشکلات کو آسان فرما دیتا ۔
بے شمار مخلوقِ خدا کو آپ سے فیض پہنچا ۔ آخری عمر میں یہ ویران جگہ آپ کی برکت سے انسانوں کی آمد و رفت سے با رونق ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کا تانتا بندھا رہتا ۔ کیا عوام، اور کیا خواص، سب آپ کی برکتوں سے مالا مال ہوئے ۔ اس وقت لاہور علم و فن اور علماء و محدثین کا مرکز تھا ۔ اسی طرح صوفیاء کا بھی مرکز تھا ۔ اس شہر کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی تعلیم یافتہ تھی ۔ لیکن حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کا اپنا ایک مقام تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ تمام مصروفیات سے وقت نکال کر گاہے، گاہے حضرت مخدومِ امت، داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کے آستانے پر حاضری دیتے رہتے تھے ۔ اسی طرح تبلیغ کی غرض سے نواحی علاقوں میں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں اسلام کی برکتیں عام ہوئیں، اور کفر و باطل کے اندھیرے، ان نفوسِ قدسیہ کی بدولت چھٹ گئے ۔
آج بر صغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام کی بہاریں انہیں نفوسِ قدسیہ کی مساعیِ جمیلہ کی وجہ سے ہیں ۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو مسلمان اقلیت میں ہوتے، اور پاکستان کبھی معرضِ وجود میں نہ آتا، اور یہ حقیقت ہے پاکستان اولیاء اللہ کا فیضان ہے ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں چھتیس سال ارشاد و تلقین میں مصروف رہے ۔ بامقصد زندگی گزار کر آپ علیہ الرحمہ شمس الدین التمش علیہ الرحمہ کے زمانے میں داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 612ھ مطابق 1215ء کو ہوا ۔ آخری آرام گاہ لاہور میں راوی روڈ پر بھاٹی گیٹ سے آگے، مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 9 / 10 ربیع الاول شریف کو ہوتا ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد اول ۔ تذکرہ اولیائے لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-azizuddin-peer-makki-junaidi
scholars.pk
Hazrat Azizuddin Peer Makki Junaidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ الاسلام تقی الدین السبکی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ
وصال ہوئے 680 سال ہو گئے ـ
آٹھویں صدی ہجری کے معاون مجدد ،
ابن تیمیہ کا زبردست علمی رد کرنے والے ـ
وصال:
بتاریخ 10 ربیع الاول 765ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-taqiuddin-al-subki
وصال ہوئے 680 سال ہو گئے ـ
آٹھویں صدی ہجری کے معاون مجدد ،
ابن تیمیہ کا زبردست علمی رد کرنے والے ـ
وصال:
بتاریخ 10 ربیع الاول 765ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-taqiuddin-al-subki
scholars.pk
Sheikh-ul-Islam Hazrat Taqiuddin Al-Subki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-03-1445 ᴴ | 26-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-03-1445 ᴴ | 27-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-03-1445 ᴴ | 27-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-03-1445 ᴴ | 27-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2