شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
scholars.pk
Hazrat Sheikh-ul-Islam Allama Makhdoom Hashim Thathwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت پیر مکی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید عزیز الدین مکی علیہ الرحمہ ۔ لقب: پیر مکی ۔ اسی لقب سے آپ مشہور عام و خاص ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید عزیز الدین مکی بن سید عبد اللہ ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے سے ہے ۔ خاندانی نجابت، علمی شرافت، کے ساتھ ساتھ تقویٰ و فضل میں اپنی مثال آپ تھے ۔
آپ کا آبائی تعلق بغداد معلیٰ سے ہے ۔ بغداد کے نواح میں ایک قصبے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والدِ گرامی انتہائی نیک سیرت و پاک دامن اور صاحبِ علم و عمل شخصیت تھے ۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص:82) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کے بارے میں کتب خاموش ہیں ۔ قیاس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش چھٹی صدی ہجری کے وسط یا اس سے تھوڑا پہلے ہوئی ہوگی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ کی پیدائش بغداد میں ہوئی ۔ اس وقت بغداد علم و فن کا ایک عظیم مرکز تھا ۔ ابتدائی تعلیم بغداد میں شروع کی اور وہیں پر بڑے بڑے علماء علماء و مشائخ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ اسی طرح حرمین شریفین کے شیوخ سے بھی علمی استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کو تمام علوم عقلیہ و نقلیہ پر مہارت تامہ حاصل تھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ جنیدیہ میں ایک بزرگ سے بیعت ہوئے ۔ (نام معلوم نہیں ہو سکا) مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
آپ کا شجرۂ طریقت چند واسطوں سے سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص:380) ـ
سیرت و خصائص:
قدوۃ الاولیاء، زبدۃ الصلحاء، عارفِ بااللہ، واصل بااللہ، حضرت سید عزیز الدین پیر مکی علیہ الرحمہ ۔ آپ علیہ الرحمہ لاہور کے قدیم اولیاء کرام میں سے ہیں ۔ آپ علیہ الرحمہ 562ھ کو حرمین کی طرف سفر کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کی جوانی مکۃ المکرمہ میں گزری ۔ آپ علیہ الرحمہ بارہ سال مسلسل مکہ معظمہ میں مصروفِ عبادت رہے ۔ اس لئے ’’ پیر مکی ‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ اس عرصے میں عبادت و ریاضت کے علاوہ کوئی مشغلہ نہ تھا ۔ ایک دن ندائے غیبی سنی تو میرا دوست ہے، میں تیرا دوست ہوں، تم نے میرے گھر کی عزت و قدر کی، اور میرے گھر پر ہی جھکے رہے ۔ اب دنیا تیرے در پر جھکے گی ۔ تم ساری زندگی میرے نام کا ورد کرتے رہے ۔ میں نے تمھارا نام دنیا میں بلند کر دیا ۔ یہ وہی فضلِ خدا وندی ہے کہ آج دنیا حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کی چوکھٹ پر جھکتی ہے، اور صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کا نام روشن ہے ۔
مکۃ المکرمہ میں آپ کو اشارۂ غیبی ہوا کہ ہندوستان کے بت کدے کو تبلیغِ اسلام سے منور کرو ۔ چنانچہ آپ اشارۂ غیبی کے بعد مکہ معظمہ سے جدا ہوئے ۔ وہاں سے مدینۃ المنورہ حاضر ہوئے، اور کچھ عرصہ قیام کیا ۔ رسول اللہ ﷺ کے فیض اور عطاء سے خوب مالا مال ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر وہاں سے منزل بہ منزل سیاحت کرتے ہوئے اپنے وطن بغداد آئے، اور اپنے گاؤں میں گئے ۔ وہاں چند روز قیام کیا ۔ پھر ہند کی طرف روانہ ہوئے ۔
خشکی کے راستے سے مختلف علاقوں کی سیر اور بزرگوں کی زیارت کرتے ہوئے سرحد کے راستے سے 575ھ کو لاہور میں وارد ہوئے ۔ اس وقت لاہور کا حاکم خسرو ملک تاج الدولہ تھا ۔ اس وقت سلطان شہاب الدین غوری نے لاہور کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ غزنوی گورنر خسرو ظہیر الدولہ اس محاصرے سے بڑا تنگ ہو گیا تھا ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ ان دنوں لاہور میں نئے نئے تشریف لائے تھے ۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کا طالب ہوا ۔ آپ نے دعا کی اور فرمایا جاؤ تمہیں اللہ تعالیٰ نے مزید چھ سال اپنے امان و حفاظت میں لے لیا ہے اور کوئی حملہ آور تمہیں تنگ نہیں کرے گا ۔ چھ سال بعد یہ سلطنت غوری خاندان کے سپرد کر دی جائے گی چنانچہ شہاب الدین غوری اپنا مقصد حاصل کیے بغیر واپس چلا گیا ۔ پھر 580ھ میں سیالکوٹ کو فتح کرنے کے بعد لاہور پر دوبارہ حملہ آور ہوا سیالکوٹ کا قلعہ تعمیر کیا اسے اپنی چھاؤنی بنایا لاہور کا محاصرہ کیا اسے فتح کر لیا ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص:380) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید عزیز الدین مکی علیہ الرحمہ ۔ لقب: پیر مکی ۔ اسی لقب سے آپ مشہور عام و خاص ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید عزیز الدین مکی بن سید عبد اللہ ۔ علیہما الرحمہ ۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے سے ہے ۔ خاندانی نجابت، علمی شرافت، کے ساتھ ساتھ تقویٰ و فضل میں اپنی مثال آپ تھے ۔
آپ کا آبائی تعلق بغداد معلیٰ سے ہے ۔ بغداد کے نواح میں ایک قصبے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والدِ گرامی انتہائی نیک سیرت و پاک دامن اور صاحبِ علم و عمل شخصیت تھے ۔ (تذکرہ اولیائے لاہور، ص:82) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کے بارے میں کتب خاموش ہیں ۔ قیاس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش چھٹی صدی ہجری کے وسط یا اس سے تھوڑا پہلے ہوئی ہوگی ۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ کی پیدائش بغداد میں ہوئی ۔ اس وقت بغداد علم و فن کا ایک عظیم مرکز تھا ۔ ابتدائی تعلیم بغداد میں شروع کی اور وہیں پر بڑے بڑے علماء علماء و مشائخ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ اسی طرح حرمین شریفین کے شیوخ سے بھی علمی استفادہ کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کو تمام علوم عقلیہ و نقلیہ پر مہارت تامہ حاصل تھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ جنیدیہ میں ایک بزرگ سے بیعت ہوئے ۔ (نام معلوم نہیں ہو سکا) مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
آپ کا شجرۂ طریقت چند واسطوں سے سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص:380) ـ
سیرت و خصائص:
قدوۃ الاولیاء، زبدۃ الصلحاء، عارفِ بااللہ، واصل بااللہ، حضرت سید عزیز الدین پیر مکی علیہ الرحمہ ۔ آپ علیہ الرحمہ لاہور کے قدیم اولیاء کرام میں سے ہیں ۔ آپ علیہ الرحمہ 562ھ کو حرمین کی طرف سفر کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کی جوانی مکۃ المکرمہ میں گزری ۔ آپ علیہ الرحمہ بارہ سال مسلسل مکہ معظمہ میں مصروفِ عبادت رہے ۔ اس لئے ’’ پیر مکی ‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ اس عرصے میں عبادت و ریاضت کے علاوہ کوئی مشغلہ نہ تھا ۔ ایک دن ندائے غیبی سنی تو میرا دوست ہے، میں تیرا دوست ہوں، تم نے میرے گھر کی عزت و قدر کی، اور میرے گھر پر ہی جھکے رہے ۔ اب دنیا تیرے در پر جھکے گی ۔ تم ساری زندگی میرے نام کا ورد کرتے رہے ۔ میں نے تمھارا نام دنیا میں بلند کر دیا ۔ یہ وہی فضلِ خدا وندی ہے کہ آج دنیا حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کی چوکھٹ پر جھکتی ہے، اور صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کا نام روشن ہے ۔
مکۃ المکرمہ میں آپ کو اشارۂ غیبی ہوا کہ ہندوستان کے بت کدے کو تبلیغِ اسلام سے منور کرو ۔ چنانچہ آپ اشارۂ غیبی کے بعد مکہ معظمہ سے جدا ہوئے ۔ وہاں سے مدینۃ المنورہ حاضر ہوئے، اور کچھ عرصہ قیام کیا ۔ رسول اللہ ﷺ کے فیض اور عطاء سے خوب مالا مال ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر وہاں سے منزل بہ منزل سیاحت کرتے ہوئے اپنے وطن بغداد آئے، اور اپنے گاؤں میں گئے ۔ وہاں چند روز قیام کیا ۔ پھر ہند کی طرف روانہ ہوئے ۔
خشکی کے راستے سے مختلف علاقوں کی سیر اور بزرگوں کی زیارت کرتے ہوئے سرحد کے راستے سے 575ھ کو لاہور میں وارد ہوئے ۔ اس وقت لاہور کا حاکم خسرو ملک تاج الدولہ تھا ۔ اس وقت سلطان شہاب الدین غوری نے لاہور کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ غزنوی گورنر خسرو ظہیر الدولہ اس محاصرے سے بڑا تنگ ہو گیا تھا ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ ان دنوں لاہور میں نئے نئے تشریف لائے تھے ۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کا طالب ہوا ۔ آپ نے دعا کی اور فرمایا جاؤ تمہیں اللہ تعالیٰ نے مزید چھ سال اپنے امان و حفاظت میں لے لیا ہے اور کوئی حملہ آور تمہیں تنگ نہیں کرے گا ۔ چھ سال بعد یہ سلطنت غوری خاندان کے سپرد کر دی جائے گی چنانچہ شہاب الدین غوری اپنا مقصد حاصل کیے بغیر واپس چلا گیا ۔ پھر 580ھ میں سیالکوٹ کو فتح کرنے کے بعد لاہور پر دوبارہ حملہ آور ہوا سیالکوٹ کا قلعہ تعمیر کیا اسے اپنی چھاؤنی بنایا لاہور کا محاصرہ کیا اسے فتح کر لیا ۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب، ص:380) ـ
❤1
قیامِ لاہور:
لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کا مزار ِاقدس اولیاء صلحاء کے لیے ہر زمانے میں توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ چنانچہ جو بزرگانِ دین حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کے بعد لاہور میں تشریف لائے، انہوں نے آپ کے مزار پر ضرور حاضری دی ۔ اس لیے جب حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں تشریف لائے تو سب سے پہلے داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار پر کچھ عرصہ قیام پذیر رہے، اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔
اس کے بعد آپ نے اس جگہ قیام کیا، جہاں آج کل آپ کا مزار ہے ۔ اس وقت یہ جگہ شہر سے دور اور ویرانے میں تھی ۔ آپ کا حجرہ کچی مٹی کا بنایا گیا ۔ آپ اسی میں دن رات مصروفِ عبادت رہتے ۔ قریب کی آبادیوں میں جاکر لوگوں کو نماز روزہ اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ۔ آپ کی تبلیغ کی بدولت بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی، اور فساق و فجار تقوے کی پیکر بن جاتے ۔ اسی طرح غم زدہ، بیمار، اور پریشان حال آپ کے درِ دولت پر حاضر ہوتے، اللہ جل شانہ آپ کی برکت و دعا سے ان کی مشکلات کو آسان فرما دیتا ۔
بے شمار مخلوقِ خدا کو آپ سے فیض پہنچا ۔ آخری عمر میں یہ ویران جگہ آپ کی برکت سے انسانوں کی آمد و رفت سے با رونق ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کا تانتا بندھا رہتا ۔ کیا عوام، اور کیا خواص، سب آپ کی برکتوں سے مالا مال ہوئے ۔ اس وقت لاہور علم و فن اور علماء و محدثین کا مرکز تھا ۔ اسی طرح صوفیاء کا بھی مرکز تھا ۔ اس شہر کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی تعلیم یافتہ تھی ۔ لیکن حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کا اپنا ایک مقام تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ تمام مصروفیات سے وقت نکال کر گاہے، گاہے حضرت مخدومِ امت، داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کے آستانے پر حاضری دیتے رہتے تھے ۔ اسی طرح تبلیغ کی غرض سے نواحی علاقوں میں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں اسلام کی برکتیں عام ہوئیں، اور کفر و باطل کے اندھیرے، ان نفوسِ قدسیہ کی بدولت چھٹ گئے ۔
آج بر صغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام کی بہاریں انہیں نفوسِ قدسیہ کی مساعیِ جمیلہ کی وجہ سے ہیں ۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو مسلمان اقلیت میں ہوتے، اور پاکستان کبھی معرضِ وجود میں نہ آتا، اور یہ حقیقت ہے پاکستان اولیاء اللہ کا فیضان ہے ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں چھتیس سال ارشاد و تلقین میں مصروف رہے ۔ بامقصد زندگی گزار کر آپ علیہ الرحمہ شمس الدین التمش علیہ الرحمہ کے زمانے میں داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 612ھ مطابق 1215ء کو ہوا ۔ آخری آرام گاہ لاہور میں راوی روڈ پر بھاٹی گیٹ سے آگے، مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 9 / 10 ربیع الاول شریف کو ہوتا ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد اول ۔ تذکرہ اولیائے لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-azizuddin-peer-makki-junaidi
لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کا مزار ِاقدس اولیاء صلحاء کے لیے ہر زمانے میں توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ چنانچہ جو بزرگانِ دین حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کے بعد لاہور میں تشریف لائے، انہوں نے آپ کے مزار پر ضرور حاضری دی ۔ اس لیے جب حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں تشریف لائے تو سب سے پہلے داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار پر کچھ عرصہ قیام پذیر رہے، اور فیوض و برکات حاصل کیے ۔
اس کے بعد آپ نے اس جگہ قیام کیا، جہاں آج کل آپ کا مزار ہے ۔ اس وقت یہ جگہ شہر سے دور اور ویرانے میں تھی ۔ آپ کا حجرہ کچی مٹی کا بنایا گیا ۔ آپ اسی میں دن رات مصروفِ عبادت رہتے ۔ قریب کی آبادیوں میں جاکر لوگوں کو نماز روزہ اور دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ۔ آپ کی تبلیغ کی بدولت بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی، اور فساق و فجار تقوے کی پیکر بن جاتے ۔ اسی طرح غم زدہ، بیمار، اور پریشان حال آپ کے درِ دولت پر حاضر ہوتے، اللہ جل شانہ آپ کی برکت و دعا سے ان کی مشکلات کو آسان فرما دیتا ۔
بے شمار مخلوقِ خدا کو آپ سے فیض پہنچا ۔ آخری عمر میں یہ ویران جگہ آپ کی برکت سے انسانوں کی آمد و رفت سے با رونق ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مخلوقِ خدا کا تانتا بندھا رہتا ۔ کیا عوام، اور کیا خواص، سب آپ کی برکتوں سے مالا مال ہوئے ۔ اس وقت لاہور علم و فن اور علماء و محدثین کا مرکز تھا ۔ اسی طرح صوفیاء کا بھی مرکز تھا ۔ اس شہر کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی تعلیم یافتہ تھی ۔ لیکن حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ کا اپنا ایک مقام تھا ۔
آپ علیہ الرحمہ ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔ تمام مصروفیات سے وقت نکال کر گاہے، گاہے حضرت مخدومِ امت، داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ کے آستانے پر حاضری دیتے رہتے تھے ۔ اسی طرح تبلیغ کی غرض سے نواحی علاقوں میں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں اسلام کی برکتیں عام ہوئیں، اور کفر و باطل کے اندھیرے، ان نفوسِ قدسیہ کی بدولت چھٹ گئے ۔
آج بر صغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام کی بہاریں انہیں نفوسِ قدسیہ کی مساعیِ جمیلہ کی وجہ سے ہیں ۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں تو مسلمان اقلیت میں ہوتے، اور پاکستان کبھی معرضِ وجود میں نہ آتا، اور یہ حقیقت ہے پاکستان اولیاء اللہ کا فیضان ہے ۔
حضرت پیر مکی علیہ الرحمہ لاہور میں چھتیس سال ارشاد و تلقین میں مصروف رہے ۔ بامقصد زندگی گزار کر آپ علیہ الرحمہ شمس الدین التمش علیہ الرحمہ کے زمانے میں داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 612ھ مطابق 1215ء کو ہوا ۔ آخری آرام گاہ لاہور میں راوی روڈ پر بھاٹی گیٹ سے آگے، مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 9 / 10 ربیع الاول شریف کو ہوتا ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد اول ۔ تذکرہ اولیائے لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-azizuddin-peer-makki-junaidi
scholars.pk
Hazrat Azizuddin Peer Makki Junaidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ الاسلام تقی الدین السبکی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ
وصال ہوئے 680 سال ہو گئے ـ
آٹھویں صدی ہجری کے معاون مجدد ،
ابن تیمیہ کا زبردست علمی رد کرنے والے ـ
وصال:
بتاریخ 10 ربیع الاول 765ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-taqiuddin-al-subki
وصال ہوئے 680 سال ہو گئے ـ
آٹھویں صدی ہجری کے معاون مجدد ،
ابن تیمیہ کا زبردست علمی رد کرنے والے ـ
وصال:
بتاریخ 10 ربیع الاول 765ھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-hazrat-taqiuddin-al-subki
scholars.pk
Sheikh-ul-Islam Hazrat Taqiuddin Al-Subki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-03-1445 ᴴ | 26-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-03-1445 ᴴ | 27-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1