Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت زین الدین بن ابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
المشہور بہ ابن نجیم حنفی مصری
شیخ عمر بن ابراہیم بن محمد الشہیر بہ ابن نجیم مصری:
سراج الدین لقب تھا ـ
فقیہ ، محقق ، رشیق العبارۃ ، کامل الاطلاع ، علومِ شرعیہ میں ماہر متجر ، مسائل غریبہ میں عواص مقبولِ عالم و خاص اور مغزز و معظم عند الحکام تھے ۔
علم اپنے بھائی صاحب بحر الرائق سے حاصل کیا کتاب نہر الفقئق شرح کنز الدقائق ار اجابۃ السائل فی اختصار انفع الوسائل تصنیف کیں ـ
کتاب نہر میں اپنے بھائی کی شرح کنز پر بڑے مناقشے کیے ـ
وصال:
وفات آپ کی ۱۰ ربیع الاول ۱۰۰۵ھ میں ہوئی ـ
مزار مبارک:
آپ علیہ الرحمہ اپنے بھائی علیہ الرحمہ کے پہلے میں مدفون ہوئے ـ ’’ راسخِ قدم ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-bin-ibrahim
المشہور بہ ابن نجیم حنفی مصری
شیخ عمر بن ابراہیم بن محمد الشہیر بہ ابن نجیم مصری:
سراج الدین لقب تھا ـ
فقیہ ، محقق ، رشیق العبارۃ ، کامل الاطلاع ، علومِ شرعیہ میں ماہر متجر ، مسائل غریبہ میں عواص مقبولِ عالم و خاص اور مغزز و معظم عند الحکام تھے ۔
علم اپنے بھائی صاحب بحر الرائق سے حاصل کیا کتاب نہر الفقئق شرح کنز الدقائق ار اجابۃ السائل فی اختصار انفع الوسائل تصنیف کیں ـ
کتاب نہر میں اپنے بھائی کی شرح کنز پر بڑے مناقشے کیے ـ
وصال:
وفات آپ کی ۱۰ ربیع الاول ۱۰۰۵ھ میں ہوئی ـ
مزار مبارک:
آپ علیہ الرحمہ اپنے بھائی علیہ الرحمہ کے پہلے میں مدفون ہوئے ـ ’’ راسخِ قدم ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zainuddin-bin-ibrahim
scholars.pk
Hazrat Zainuddin Bin Ibrahim
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم ـ کنیت: ابو عبد الرحمن ـ القاب: شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اور مخدوم المخادیم ہیں ۔
آپ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:
محمد ہاشم بن عبد الغفور بن عبد الرحمن بن عبد اللطیف بن عبد الرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ) ۔
تاریخِ ولادت:
بروز جمعرات 10 ربیع الاول 1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر ( ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا، باقی علوم کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین سے کی ۔ علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سے حاصل کیے ۔ تمام علوم و فنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت نے آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباً حارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ـ
شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم و فضل، معرفت و عرفان اور تصوف و ایقان کے بے تاج بادشاہ تھے ۔
حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے ۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خدا کو بہم روشنی پہنچاتا تھا، اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔
تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد و تلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے وہاں آ کر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی ۔
آپ بتاریخ ۹ رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یاد داشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا ۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا: " وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی ۔ " اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ تھا ۔ عشق رسالت مآب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا ۔ آپ کا سب کچھ سنت رسول ﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔
آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔ آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ سنت کے عقائد آپ کی ذاتِ والا صفات سے محفوظ ہوئے ۔ آپ نے اہلِ اسلام کے لئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات 6 رجب المرجب 1174ھ / بمطابق 1716ء کو آپ کا وصال ہوا ـ
مزار مبارک:
شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-islam-allama-makhdoom-hashim-thathwi
scholars.pk
Hazrat Sheikh-ul-Islam Allama Makhdoom Hashim Thathwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1