🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💕 *"معراج کے دولہا میرے نبیﷺ"* 💕
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم ؐ کا سفر مبارک آپ ؐ کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم ؐ کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور ؐ اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہاکر رکھی تھی لیکن آپ ؐ بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ ؐ نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی ؓ سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ ؐ اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی ؐ نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ ؐ کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ ؐبہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ ؐ ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غارؓ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ؓ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ ؐ کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل ؑ آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم ؐ نے آپ ؓ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
معراج جسمانی کے دلائل:
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور پس جہاں تمہیں حکم دیا جاتا ہے چلے جاؤ “
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم ؐ کا سفر مبارک آپ ؐ کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم ؐ کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور ؐ اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہاکر رکھی تھی لیکن آپ ؐ بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ ؐ نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی ؓ سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ ؐ اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی ؐ نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ ؐ کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ ؐبہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ ؐ ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غارؓ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ؓ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ ؐ کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل ؑ آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم ؐ نے آپ ؓ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
معراج جسمانی کے دلائل:
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور پس جہاں تمہیں حکم دیا جاتا ہے چلے جاؤ “
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات
نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہو گا اور نہ غرق ہونے کا ڈر“
”فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾“ (الدخان 44:23)
” حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل پڑو، تمہارا پیچھا کیا جائے گا “
”وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿۵۲﴾“ (الشعراء 26:52)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے “
درج بالا سب مقامات پر اسری کو روح اور جسد کے مجموعے پر بولا گیا ہے.
اور قاضی عیاض فرماتے ہیں لانہ لایقال فی النوم اسریٰ (شفاص 191) کہ یہ واقعہ معراج جسم کے ساتھ ہے کیونکہ اسریٰ کا لفظ خواب پر نہیں بولا جاتا۔
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
”فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾“ (الدخان 44:23)
” حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل پڑو، تمہارا پیچھا کیا جائے گا “
”وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿۵۲﴾“ (الشعراء 26:52)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے “
درج بالا سب مقامات پر اسری کو روح اور جسد کے مجموعے پر بولا گیا ہے.
اور قاضی عیاض فرماتے ہیں لانہ لایقال فی النوم اسریٰ (شفاص 191) کہ یہ واقعہ معراج جسم کے ساتھ ہے کیونکہ اسریٰ کا لفظ خواب پر نہیں بولا جاتا۔
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عوام اہلسنت میں چند مشہور واقعات و مسائل کی تحقیق
عوام میں بہت سے مسائل و واقعات انتہائی معروف ہیں جبکہ ان کی کوئی حقیقت نہیں
ذیل میں چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں
معراج شریف کے حوالے سے چند بے اصل واقعات
1) *مشہور ہے کہ*
_حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب شب معراج آسمان پر پہونچے تو نعلین شریف اتارنا چاہا آواز آئی آپ نعلین شریف پہن کر تشریف_ لائیں تاکہ آپ کے نعلین کی برکت عرش اعظم کو فضیلت حاصل ہو
تحقیق
*اعلحضرت فرماتے ہیں کہ یہ من گھڑت اور بے اصل ہے*
(حوالہ الملفوظ کامل و احکام شریعت حصہ دوم ص 9 فتاوی شارح بخاری اول ص306)
2) *مشہور ہیکہ*
_حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت تھی جسکی وجہ سے آپ شین کو سین پڑھتے تھے بعض یہودیوں نے طعنہ دیا کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم نے مؤذن ایسا رکھا ہے جسے شین اور سین کی تمیز تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے سے منع کردیا تو اس روز صبح نہیں ہورہی تھی پھر صحابی بارگاہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوکر رات کے حوالے سے عرض کیا پھر جبریل علیہ السلام حاضر ہوے اور فرمایا جب تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان نہیں دیں گے صبح نہیں ہو گی الخ_
تحقیق
نائب حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
یہ واقعہ کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بہت فصیح تھے اور آپ کی آواز بہت پیاری تھی
(فتاوی شارح بخاری)
3) *مشہور ہے کہ*
_کچھ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اپنے کاندھے پر بٹھاے جارہے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھ کر فرمایا کہ جنتی باپ کے کاندھے پر جہنمی بیٹا ہے_
*تحقیق*
یہ من گھڑت اور سفید جھوٹ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سن 11ھ میں وصال فرما گئے تھے
اور یزید 25ھ میں پیدا ہوا یعنی آپ صل اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال شریف کے 14یا 15سال بعد یزید پیدا ہوا پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے
4) *مشہور ہے کہ*
عوام الناس میں مجنوں کا ذکر لیلی کے حوالے سے کثرت سے کیا جاتا ہے
بلکہ یہاں تک لوگ کہتے ہیں کہ
*مجنوں ہوا بدنام لیلی کو دل دےکر*
*میرے آقا کو دل دیا ہوتا تو کیا ہوتا*
*تحقیق یہ ہے کہ*
امام اہل سنت فاضل بریلوی فرماتے ہیں کہ
_حضرت قیس المعروف مجنوں رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک مجنوں بنی عامر اولیاے کرام میں سے تھے آپنے لیلی کے سبب اپنے جنون کے ذریعہ اپنے معاملے کو چھپایا ہوا تھا_
(حوالہ - کیا آپ کو معلوم ہے؟ بحوالہ فتاوی رضویہ
*عوام اہلسنت میں مشہور چند واقعات و مسائل کی تحقیق* پارٹ2
معزز قارئین کرام '' اس حوالے سے آپ پارٹ نمبر 1میں چار مشہور واقعات کی تحقیق ملاحظہ کر چکے ہیں مزید مشہور واقعات و مسائل حاضر ہیں
4) *مشہور ہیکہ*
جنگ احد میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے چار دندان شریف شہید ہوگئے تھے
*تحقیق یہ ہے کہ*
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی دانت شریف مکمل شہید نہ ہوا تھا یعنی جڑسے نہ اکھڑا تھا
*بلکہ اس حوالے سے شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کہ دانت ٹوٹنے کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ جڑ سے اکھڑ گیا ہوگا اور وہاں رخنہ پیدا ہوگیا ہوگا بلکہ ایک ٹکڑا شریف جدا ہوا تھا*
(اشعتۃ اللمعات شرح مشکوۃ ج4ص515)
اس حوالے سے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے داہنی کے نیچے کی چوکڑی کے ایک دانت شریف کا کنگرہ ٹوٹا تھا یہ دانت شریف شہید نہ ہوا تھا
(مراۃ المناجیح ج8 ص107)
5) *مشہور ہے کہ*
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دانت شریف جنگ احد میں شہید ہوگیا تو آپ نے اپنے سارے دانت حضور کی محبت میں شہید کر ڈالے پھر آپ کے لیے اللہ تعالٰی نے کیلا پید کیا
*تحقیق یہ ہے کہ*
یہ واقعہ سراسر من گھڑت اور وضع جہال ہے بعض تذکرہ کی کتابوں میں اگرچہ موجود ہے لیکن وہ بے دینوں کی ملاوٹ ہے
فتاوی بریلی شریف میں ہے کہ
ایسی روایت نظر سے نہ گزری اور نہ ہی ایسی روایت ہے
(فتاوی بریلی شریف ص301)
اسی طرح جب اوپر یہ واضح ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی دانت شریف مکمل شہید نہ تو یہ واقعہ بھی باطل ٹھرا
اسی طرح دانت کو شہید کرنا کفار کا کام تھا پھر اسکو خیر التابعین کیوں نقل کریں گے؟
اس واقعہ کو سب سے پہلے شیخ عطار علیہ الرحمہ کی تصنیف '' تذکرۃ الاولیاء '' میں دیکھا جاسکتا ہے اور یہ کتاب رافضیوں کے ظلم کا شکار رہی ہے
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں
(تحقیقی فتوی از علامہ مفتی فضل احمد چشتی)
6) *مشہور ہے کہ*
نماز جنازہ میں دائیں جانب سلام پھیر کر داہنا ہاتھ اور بائیں جانب سلام پھیر کر بایاں ہاتھ چھوڑا جاتا ہے
*تحقیق یہ ہے کہ*
بہتر یہ ہے کہ جب چوتھی تکبیر ہوجاے تو
عوام میں بہت سے مسائل و واقعات انتہائی معروف ہیں جبکہ ان کی کوئی حقیقت نہیں
ذیل میں چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں
معراج شریف کے حوالے سے چند بے اصل واقعات
1) *مشہور ہے کہ*
_حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب شب معراج آسمان پر پہونچے تو نعلین شریف اتارنا چاہا آواز آئی آپ نعلین شریف پہن کر تشریف_ لائیں تاکہ آپ کے نعلین کی برکت عرش اعظم کو فضیلت حاصل ہو
تحقیق
*اعلحضرت فرماتے ہیں کہ یہ من گھڑت اور بے اصل ہے*
(حوالہ الملفوظ کامل و احکام شریعت حصہ دوم ص 9 فتاوی شارح بخاری اول ص306)
2) *مشہور ہیکہ*
_حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت تھی جسکی وجہ سے آپ شین کو سین پڑھتے تھے بعض یہودیوں نے طعنہ دیا کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم نے مؤذن ایسا رکھا ہے جسے شین اور سین کی تمیز تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے سے منع کردیا تو اس روز صبح نہیں ہورہی تھی پھر صحابی بارگاہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوکر رات کے حوالے سے عرض کیا پھر جبریل علیہ السلام حاضر ہوے اور فرمایا جب تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان نہیں دیں گے صبح نہیں ہو گی الخ_
تحقیق
نائب حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
یہ واقعہ کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بہت فصیح تھے اور آپ کی آواز بہت پیاری تھی
(فتاوی شارح بخاری)
3) *مشہور ہے کہ*
_کچھ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اپنے کاندھے پر بٹھاے جارہے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھ کر فرمایا کہ جنتی باپ کے کاندھے پر جہنمی بیٹا ہے_
*تحقیق*
یہ من گھڑت اور سفید جھوٹ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سن 11ھ میں وصال فرما گئے تھے
اور یزید 25ھ میں پیدا ہوا یعنی آپ صل اللہ علیہ والہ و سلم کے وصال شریف کے 14یا 15سال بعد یزید پیدا ہوا پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے
4) *مشہور ہے کہ*
عوام الناس میں مجنوں کا ذکر لیلی کے حوالے سے کثرت سے کیا جاتا ہے
بلکہ یہاں تک لوگ کہتے ہیں کہ
*مجنوں ہوا بدنام لیلی کو دل دےکر*
*میرے آقا کو دل دیا ہوتا تو کیا ہوتا*
*تحقیق یہ ہے کہ*
امام اہل سنت فاضل بریلوی فرماتے ہیں کہ
_حضرت قیس المعروف مجنوں رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک مجنوں بنی عامر اولیاے کرام میں سے تھے آپنے لیلی کے سبب اپنے جنون کے ذریعہ اپنے معاملے کو چھپایا ہوا تھا_
(حوالہ - کیا آپ کو معلوم ہے؟ بحوالہ فتاوی رضویہ
*عوام اہلسنت میں مشہور چند واقعات و مسائل کی تحقیق* پارٹ2
معزز قارئین کرام '' اس حوالے سے آپ پارٹ نمبر 1میں چار مشہور واقعات کی تحقیق ملاحظہ کر چکے ہیں مزید مشہور واقعات و مسائل حاضر ہیں
4) *مشہور ہیکہ*
جنگ احد میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے چار دندان شریف شہید ہوگئے تھے
*تحقیق یہ ہے کہ*
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی دانت شریف مکمل شہید نہ ہوا تھا یعنی جڑسے نہ اکھڑا تھا
*بلکہ اس حوالے سے شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کہ دانت ٹوٹنے کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ جڑ سے اکھڑ گیا ہوگا اور وہاں رخنہ پیدا ہوگیا ہوگا بلکہ ایک ٹکڑا شریف جدا ہوا تھا*
(اشعتۃ اللمعات شرح مشکوۃ ج4ص515)
اس حوالے سے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے داہنی کے نیچے کی چوکڑی کے ایک دانت شریف کا کنگرہ ٹوٹا تھا یہ دانت شریف شہید نہ ہوا تھا
(مراۃ المناجیح ج8 ص107)
5) *مشہور ہے کہ*
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دانت شریف جنگ احد میں شہید ہوگیا تو آپ نے اپنے سارے دانت حضور کی محبت میں شہید کر ڈالے پھر آپ کے لیے اللہ تعالٰی نے کیلا پید کیا
*تحقیق یہ ہے کہ*
یہ واقعہ سراسر من گھڑت اور وضع جہال ہے بعض تذکرہ کی کتابوں میں اگرچہ موجود ہے لیکن وہ بے دینوں کی ملاوٹ ہے
فتاوی بریلی شریف میں ہے کہ
ایسی روایت نظر سے نہ گزری اور نہ ہی ایسی روایت ہے
(فتاوی بریلی شریف ص301)
اسی طرح جب اوپر یہ واضح ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی دانت شریف مکمل شہید نہ تو یہ واقعہ بھی باطل ٹھرا
اسی طرح دانت کو شہید کرنا کفار کا کام تھا پھر اسکو خیر التابعین کیوں نقل کریں گے؟
اس واقعہ کو سب سے پہلے شیخ عطار علیہ الرحمہ کی تصنیف '' تذکرۃ الاولیاء '' میں دیکھا جاسکتا ہے اور یہ کتاب رافضیوں کے ظلم کا شکار رہی ہے
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں
(تحقیقی فتوی از علامہ مفتی فضل احمد چشتی)
6) *مشہور ہے کہ*
نماز جنازہ میں دائیں جانب سلام پھیر کر داہنا ہاتھ اور بائیں جانب سلام پھیر کر بایاں ہاتھ چھوڑا جاتا ہے
*تحقیق یہ ہے کہ*
بہتر یہ ہے کہ جب چوتھی تکبیر ہوجاے تو
دونوں ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیریں
(فتاوی رضویہ و دیگر عامہ کتب)
7) *مشہور ہے کہ*
کہا جاتا ہے وہ کونسا افضل کام ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی نہیں کیا؟؟ پھر جواب دیا جاتا ہے کہ وہ اذان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی نہ دیا
*تحقیق یہ ہے کہ*
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو بار سفر میں اذان دی ہے
(درمختار و دیگر کتب)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
(فتاوی رضویہ و دیگر عامہ کتب)
7) *مشہور ہے کہ*
کہا جاتا ہے وہ کونسا افضل کام ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی نہیں کیا؟؟ پھر جواب دیا جاتا ہے کہ وہ اذان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی نہ دیا
*تحقیق یہ ہے کہ*
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو بار سفر میں اذان دی ہے
(درمختار و دیگر کتب)
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عقل کو دخل دیتے ہیں
یاد رکھئے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادِر ہے۔ یہ زمین وآسمان، یہ پہاڑ وسمندر، یہ چاند وسورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اُسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے، عقلیں اس کا اِحَاطہ کرنے سے قاصِر ہیں
*صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ کی تصدیق*
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب سرکارِ ﷺ نے لوگوں کو واقعہ مِعْرَاج کی خبر دی تو عقل پرست کُفّار ومُشْرِکین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ کوئی شخص رات کے مختصر سے حصّے میں بیت المقدس کی سیر کیسے کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اُنہوں آپ ﷺکی تکذیب کی آپ ﷺ کے سفرِ مِعْرَاج کا اِعْلان فرمانے پر بعض لوگ دوڑتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں جو آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)نے کہی، تو بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کے فوراً پیارے آقا ﷺ کی تصدیق کر دی، اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ صِدِّیق مشہور ہو گئے۔
*(خلاصہ از فیضان معراج)*
منجانب سوشل میڈیا، دعوت اسلامی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
یاد رکھئے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادِر ہے۔ یہ زمین وآسمان، یہ پہاڑ وسمندر، یہ چاند وسورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اُسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے، عقلیں اس کا اِحَاطہ کرنے سے قاصِر ہیں
*صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ کی تصدیق*
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب سرکارِ ﷺ نے لوگوں کو واقعہ مِعْرَاج کی خبر دی تو عقل پرست کُفّار ومُشْرِکین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ کوئی شخص رات کے مختصر سے حصّے میں بیت المقدس کی سیر کیسے کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اُنہوں آپ ﷺکی تکذیب کی آپ ﷺ کے سفرِ مِعْرَاج کا اِعْلان فرمانے پر بعض لوگ دوڑتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں جو آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)نے کہی، تو بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کے فوراً پیارے آقا ﷺ کی تصدیق کر دی، اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ صِدِّیق مشہور ہو گئے۔
*(خلاصہ از فیضان معراج)*
منجانب سوشل میڈیا، دعوت اسلامی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو
شیخ ابو بكر ورّاق رحمہ اللہ نے ایک روز اپنی مجلس میں حاضر مریدین سے فرمایا:
اے لوگو! تمھیں بڑی بشارت اور عمدہ کرامت مبارک ہو، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کسی حال میں اور کسی بھی عزت و جلال والے مقام پر تم کو بھولے نہیں؛ اگر آپ ﷺ نے ایک لمحے کے لیے بھی تمھیں بھولنا ہوتا تو جب آپ مقام ہیبت و جلال میں (شب معراج) اللہ تعالی کے حضور حاضر تھے تو اس وقت بھول جاتے (مگر) آپ ﷺ نے اس وقت بھی تم پر شفقت کرتے ہوئے فرمایا "السلام علینا" ہم سب پر سلام ہو۔
(الفتوحات الربانیہ علی الاذکار النواویہ، ج2، ص221 بہ حوالہ فتاوی منصوریہ، ج1، ص20)
ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے نبی کو ہمیشہ یاد کریں۔ کوئی لمحہ ان کی یاد سے خالی نہ ہو۔
شیخ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجیے
عبد مصطفی
شیخ ابو بكر ورّاق رحمہ اللہ نے ایک روز اپنی مجلس میں حاضر مریدین سے فرمایا:
اے لوگو! تمھیں بڑی بشارت اور عمدہ کرامت مبارک ہو، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کسی حال میں اور کسی بھی عزت و جلال والے مقام پر تم کو بھولے نہیں؛ اگر آپ ﷺ نے ایک لمحے کے لیے بھی تمھیں بھولنا ہوتا تو جب آپ مقام ہیبت و جلال میں (شب معراج) اللہ تعالی کے حضور حاضر تھے تو اس وقت بھول جاتے (مگر) آپ ﷺ نے اس وقت بھی تم پر شفقت کرتے ہوئے فرمایا "السلام علینا" ہم سب پر سلام ہو۔
(الفتوحات الربانیہ علی الاذکار النواویہ، ج2، ص221 بہ حوالہ فتاوی منصوریہ، ج1، ص20)
ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے نبی کو ہمیشہ یاد کریں۔ کوئی لمحہ ان کی یاد سے خالی نہ ہو۔
شیخ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجیے
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاریخ الاسرأ والمعراج
✍ڈاکٹر رضوان بن فضل الرحمٰن
بن ضیاء الدین، الشیخ حفظہ اللہ
مترجم مولانا افتخار احمد قادری
وہ عظمت والے آقا نبی گرامی ﷺ آپ کو رات کے تھوڑے حصے میں مسجد حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی گئی،وہ مسجدِ اقصیٰ جس کے گرد اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہیں۔پھر وہاں سے بلند آسمانوں پر آپ تشریف لے گئے۔پھر آپ کو آپ کے رب نے اپنے قرب ِ خاص میں بلایا اور نوازا۔
قرآن ناطق ہے
(سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلاََ مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدْ الْاَقْصیٰ الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا طھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ (بنی اسرائیل ایۃ ۱) )
’’تاریخ الاسرأ و المعراج‘‘
ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جس کے گِرد دو نواح میں ہم نے برکت دی ،تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں دیکھائیں، بیشک وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔اس مقام پر ہرصاحبِ فکر و دانش پورے یقین کے ساتھ جانتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبندے کو روح و جسم کے ساتھ ہی یہ تاریخی سیر کرائی واضح بات ہے کہ جسم و روح کے مجموعہ کو ہی بشر و عبد کہتے ہیں،رب تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا (بروحہ) روح کو سیر کرایا، اور نہ یہ فرمایا: بجسدہ ،کہ آپ کے جسم کو سیر کرائی بلکہ فرمایا:(بعبدہ) ،اور لفظ عبد جسم و روح دونوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔
بلکہ غور کیا جائے تو اس لفظ میں ہمارے نبی ﷺ کا ایک عظیم اعزاز و اکرام ہے، وہ یہ ہے خود رب تعالیٰ نے ’’عبد‘‘ کو اپنی طرف منسوب کیا ،فرمایا۔’’اپنے بندہ‘‘کو اس نے سیر کرائی،ظاہر سی بات ہے جو مخلوق اپنے خالق کی طرف منسوب ہو جائے اس کے لیے تو بذاتِ خود یہ ایک معراج ہے۔
امام المفسّیرین طبری نے اپنی تفسیر ’’جامع البیان ‘‘ میں فرمایا:معراج جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوئی، جو یہ کہتا ہے کہ صرف روح کومعراج ہوئی وہ بے معنیٰ بات کہتا ہے،اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس میں نُبُوّت کی دلیل نہ ہوتی اور معراج کو معجزہ ٔ نبوت نہ کہا جاتا اور نہ ہی یہ واقعہ رسالت کے لیے حجت و دلیل بنتا اور نہ ہی کفار ِ مکہ اس کی حقیقت کا انکار کرتے، اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ایک سال کی مسافت کا بھی کوئی انکار نہ کرتا اور یہاں تو ایک ماہ یا اس سے کم کی مسافت کا انکارکیا گیا ہے،کفارِ مکہ کو اعتراض یہ تھا کہ ایک ماہ کی مسافت ایک رات کے تھوڑے حصہ میں کیسے طے ہوگئی ، مزید ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا اس نے’’اپنے بندے‘‘ کو سیر کرائی اس نے یہ نہ فرمایا کہ اس نے ’’اپنے بندے‘‘ کی روح کو سیر کرائی اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے آگےبڑھے۔[1]
’’واقعۂ معراج کب پیش آیا‘‘
اس میں روایتیں بھی مختلف ہیں اور علماء کے اقوال بھی متعددہیں۔
ایک روایت ہے کہ واقعہ معراج رمضان المبارک میں پیش آیا
ایک قول یہ ہے کہ شوال کا یہ واقعہ ہے ،تیسرا قول یہ ہے کہ ربیعُ الاول میں واقعہ رونما ہوا، چوتھا قول یہ ہے کہ رجب میں معراج ہوئی جمہور علماء نے فرمایا یہ ہجرت سے ایک سال قبل معراج ہوئی ،امام نوری نے پورے جزم و یقین کے ساتھ فرمایا کہ معراج رجب میں ہوئی ۔[2]
ماہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں روزہ رکھنا فضیلت کا باعث ہے،یہ مہینہ حرمت والے مہینوںمیں سے ایک ہے اورنبی ﷺ نے حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا مسنون فرمایا ہے،ہاں یہ فضیلت اُنہیں کو نصیب ہوتی ہے جو زیادہ اجرو ثواب کے متلاشی ہوتےہیں۔[3]
واقعۂ معراجاس وقت رونما ہوا جب آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کی محبوب زوجۂ مطہرہ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا وفات پاچکے تھے اور ان دونوں کی وفات سے رسول اللہ ﷺکی بہت سی حمایت اور ظاہری قوت و توانائی میں کمی واقع ہوگئی تھی، دوسری طرف سفرِ طائف سے آپ کی واپسی پر یہ واقعہ وقوع پزیر ہوا ، جہاں قبیلۂ ثقیف نے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تھیں ،اس طرح آپ کے لیے انسانی مدد و نصرت کے دروازے بند ہوچکے تھے۔
اس وقت آپ نے اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔
(اَللّٰھُمَ اِلَیْکَ اَشْکُرْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلیَ النَّاسِ ،یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّیْ اِلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ؟ اِلیٰ بَعِیْدِ یَتَجَھَّمُنِیْ ؟ اَمْ اِلیٰ عَدُوَّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ ؟ اِنْ لَمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہٗ الظُّلْمَاتُ ، وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبَکَ اَوْیَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَیَّ تَرْضیٰ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ)۔
✍ڈاکٹر رضوان بن فضل الرحمٰن
بن ضیاء الدین، الشیخ حفظہ اللہ
مترجم مولانا افتخار احمد قادری
وہ عظمت والے آقا نبی گرامی ﷺ آپ کو رات کے تھوڑے حصے میں مسجد حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی گئی،وہ مسجدِ اقصیٰ جس کے گرد اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہیں۔پھر وہاں سے بلند آسمانوں پر آپ تشریف لے گئے۔پھر آپ کو آپ کے رب نے اپنے قرب ِ خاص میں بلایا اور نوازا۔
قرآن ناطق ہے
(سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلاََ مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدْ الْاَقْصیٰ الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا طھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ (بنی اسرائیل ایۃ ۱) )
’’تاریخ الاسرأ و المعراج‘‘
ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جس کے گِرد دو نواح میں ہم نے برکت دی ،تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں دیکھائیں، بیشک وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔اس مقام پر ہرصاحبِ فکر و دانش پورے یقین کے ساتھ جانتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبندے کو روح و جسم کے ساتھ ہی یہ تاریخی سیر کرائی واضح بات ہے کہ جسم و روح کے مجموعہ کو ہی بشر و عبد کہتے ہیں،رب تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا (بروحہ) روح کو سیر کرایا، اور نہ یہ فرمایا: بجسدہ ،کہ آپ کے جسم کو سیر کرائی بلکہ فرمایا:(بعبدہ) ،اور لفظ عبد جسم و روح دونوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔
بلکہ غور کیا جائے تو اس لفظ میں ہمارے نبی ﷺ کا ایک عظیم اعزاز و اکرام ہے، وہ یہ ہے خود رب تعالیٰ نے ’’عبد‘‘ کو اپنی طرف منسوب کیا ،فرمایا۔’’اپنے بندہ‘‘کو اس نے سیر کرائی،ظاہر سی بات ہے جو مخلوق اپنے خالق کی طرف منسوب ہو جائے اس کے لیے تو بذاتِ خود یہ ایک معراج ہے۔
امام المفسّیرین طبری نے اپنی تفسیر ’’جامع البیان ‘‘ میں فرمایا:معراج جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوئی، جو یہ کہتا ہے کہ صرف روح کومعراج ہوئی وہ بے معنیٰ بات کہتا ہے،اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس میں نُبُوّت کی دلیل نہ ہوتی اور معراج کو معجزہ ٔ نبوت نہ کہا جاتا اور نہ ہی یہ واقعہ رسالت کے لیے حجت و دلیل بنتا اور نہ ہی کفار ِ مکہ اس کی حقیقت کا انکار کرتے، اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ایک سال کی مسافت کا بھی کوئی انکار نہ کرتا اور یہاں تو ایک ماہ یا اس سے کم کی مسافت کا انکارکیا گیا ہے،کفارِ مکہ کو اعتراض یہ تھا کہ ایک ماہ کی مسافت ایک رات کے تھوڑے حصہ میں کیسے طے ہوگئی ، مزید ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا اس نے’’اپنے بندے‘‘ کو سیر کرائی اس نے یہ نہ فرمایا کہ اس نے ’’اپنے بندے‘‘ کی روح کو سیر کرائی اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے آگےبڑھے۔[1]
’’واقعۂ معراج کب پیش آیا‘‘
اس میں روایتیں بھی مختلف ہیں اور علماء کے اقوال بھی متعددہیں۔
ایک روایت ہے کہ واقعہ معراج رمضان المبارک میں پیش آیا
ایک قول یہ ہے کہ شوال کا یہ واقعہ ہے ،تیسرا قول یہ ہے کہ ربیعُ الاول میں واقعہ رونما ہوا، چوتھا قول یہ ہے کہ رجب میں معراج ہوئی جمہور علماء نے فرمایا یہ ہجرت سے ایک سال قبل معراج ہوئی ،امام نوری نے پورے جزم و یقین کے ساتھ فرمایا کہ معراج رجب میں ہوئی ۔[2]
ماہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں روزہ رکھنا فضیلت کا باعث ہے،یہ مہینہ حرمت والے مہینوںمیں سے ایک ہے اورنبی ﷺ نے حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا مسنون فرمایا ہے،ہاں یہ فضیلت اُنہیں کو نصیب ہوتی ہے جو زیادہ اجرو ثواب کے متلاشی ہوتےہیں۔[3]
واقعۂ معراجاس وقت رونما ہوا جب آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کی محبوب زوجۂ مطہرہ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا وفات پاچکے تھے اور ان دونوں کی وفات سے رسول اللہ ﷺکی بہت سی حمایت اور ظاہری قوت و توانائی میں کمی واقع ہوگئی تھی، دوسری طرف سفرِ طائف سے آپ کی واپسی پر یہ واقعہ وقوع پزیر ہوا ، جہاں قبیلۂ ثقیف نے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تھیں ،اس طرح آپ کے لیے انسانی مدد و نصرت کے دروازے بند ہوچکے تھے۔
اس وقت آپ نے اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔
(اَللّٰھُمَ اِلَیْکَ اَشْکُرْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلیَ النَّاسِ ،یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّیْ اِلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ؟ اِلیٰ بَعِیْدِ یَتَجَھَّمُنِیْ ؟ اَمْ اِلیٰ عَدُوَّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ ؟ اِنْ لَمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہٗ الظُّلْمَاتُ ، وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبَکَ اَوْیَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَیَّ تَرْضیٰ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ)۔
ترجمہ:اے اللہ میں تجھ سے اپنی ناتوانی ، کم تدبیری اور لوگوں میں بے وقاری کا شکوہ کرتا ہوں ،اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تو ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا بھی رب ہے تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے؟کیا اس بعید و اجنبی کے جو ترشروئی کے ساتھ پیش آئے ؟یا اس دشمن کے جس کو تونے میرا معاملہ سونپ دیا ہے؟اگر میرے اوپر تیرا غضب نہیں تب تو مجھے کوئی پرواہ نہیں لیکن تیری عافیت میرے لیے بہت زیادہ وسیع ہے ، میں تیرے رُخ ِانوار کی پناہ میں آتا ہوں جس سے تاریکیاں چَھٹ گئیں اور جس سے دنیا وآخرت کے معاملے درست ہوگئے اس سے پناہ مانگتاہوں کہ تو میرے اوپر اپنا غضب نازل فرمائے یا مجھ پر تیری ناراضگی آپڑے ،تیری ہی رضاہیں چاہتا ہوں کہ تو راضی ہو جا ئے اور کوئی طاقت اور کوئی قُوَّت نہیں مگر تجھ سے ہی ہے۔
اس دعا کے بعد صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا اور رسول اللہ ﷺ کو مطلع کردیا کہ فرشتہ آپ کی دعا پوری کرنے کے لیے مامور ہے اور ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہے لیکن قربان جائیں رسول اللہ ﷺ کی رحمۃُلّلعالمینی پر کہ آپ نے اپنی مقبول دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کرلی،اس عظیم دن کے لیے جس دن ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہوگا اور ہمارے نبی ﷺ فرمارہے ہوں گے ۔میں ہوں شفاعت کے لیے،اس لیےکہ آپ کے ربّ نے آپ کو یہ منصب و اعزاز عطا فرمادیا ہے نتیجۃََ آپ نے قبیلۂ ثقیف اور قریش کے لیے دعاءِہلاکت نہ فرمائی اس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ ان کی پُشتوں سے ایسی نسلوں کو پیدا فرمائے گا جو اللہ کی عبادت کریں گی۔[4]
’’الاسراء‘‘
نبی اکرم ﷺ کی مذکورہ دعاسے اہلِ کفر کے ظلم و طغیان کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس واقعۂطائف کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج کا اعزاز عطا فرمایا اور اس سفر میں رب تعالیٰ نے آپ کو اپنی عظیم بادشاہی اور بے مثل سلطنت کا مشاہدہ کرایا اور اپنی رِضا عطا کی۔
اس واقعہ سے یہ بھی واضح کرنا تھا کہ اگر اہلِ زمین آپ پر ظلم و جفا کر رہے ہیں تو اہلِ سما ءآپ کا اکرام و اعزاز کر رہے ہیں اور آسمانوں پر فرشتے اور انبیاء علیہم السلام آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔[5]
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے واقعۂ معراج اس طرح بیان فرمایا ،میں مکہ میں تھا میرے گھر کی چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ۔پھر انہوں نے میرا سینہ کھولا اور اس کو آبِ زمزم سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے،یہ طشت حکمت و ایمان سے لبریز تھا ۔پھر اس طشت کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔[6]
امام بخاری نے اپنی صحیح میں وضاحت کی ہے کہ شقِ صدر آپکےسینۂ مبارکہ کے نشان (گڑھے) سےشکم کے نیچے کی طرف تھا اور یہ بھی واضح کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مصطفیٰﷺ کے قلب مبارک کو نکالا اور اس کو آبِ زمزم سے دھوکر حکمت و ایمان سے بھر دیا۔[7]
صحیح روایت سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کے شقِ صدر کے واقعات متعدد مرتبہ رونما ہوئے۔
(1)۔مسلم کی روایت کے مطابق پہلا شقِ صدر ایامِ طفولت میں واقع ہوا اور شقِ صدر کے بعد حضرت جبرائیلعلیہ السلام نے قلب مبارک بندھا ہوا خون نکالا اور فرمایا:یہ شیطان کا حصہ ہے۔[8]
(2)۔دوسرا شقِ صدر بعثت کے وقت ہوا یہ خالقِ قدیر کی طرف سے ایک بڑا اکرام و اعزاز تھا اس میں حکمت یہ تھی کہ کامل ترین پاکیزگی کے عالم میں طاقتور قلب کے ساتھ آپ وحی کا استقبال کریں ،اس میں بحیثیت مُبشّر آپ کا یہ بڑا اعزاز ہے۔
(3)۔تیسرا شقِ صدر لطیف و خبیر کی طرف سے آپ کے اعزاز میں اس وقت پیش آیا جب آپ معراج کے لیے تشریف لےجانے والے تھے،اس میں حکمت یہ تھی کہ آپ اپنے رب کے پاس پوری توانائیکے ساتھ مناجات کر سکیں۔[9]
علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے توثیق کردی ہے کہ شقِ صدر اور قلب مبارک نکالے جانے اور اس طرح کے دیگر معجزات کو تسلیم کرنا ہر مومن کے لیے فرض ہے، ان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ قادرِ مطلق کی قدرت کے نمونے ہیں،ابنِ ابو جمرہ بیان کرتے ہیں کہ قادرِ مطلق اور خالقِ کائنات قلبِ مصطفیٰ ﷺ کو شق صدر کے بغیر بھی ایمان و حکمت سے بھر سکتا تھا پھر بھی شقِ صدر ہوا، اس کی حکمت یہ ہے کہ ایمان ویقین کی قوت میں مزید اضافہ ہو جائے، ظاہر سی بات ہے کہ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کا شکم مبارک چاک کیا گیا اور اس سے آپ پر کوئی اثر نہ ہوا، اس واقعہ کے بعد آپ خوف وہراس کی تمام چیزوں سے اور زیادہ بے خوف ہوگئے،اسی لیے نبی ﷺ سب سے زیادہ شجاع و بہادر اور اپنی وضع اور گفتگو میں سب سے زیادہ بلند تھے۔[10]
صحیح روایت میں ہے کہ نبیﷺ کے پاس بُراق ایسے عالم میں لایا گیا کہ اس کی زِین بھی کَسِی تھی اور لگام بھی پڑی تھی جب رسول اللہ ﷺنے اس پر سواری کا ارادہ کیا تو بُراق نے سرکشی کا انداز اختیار کیا حضرت جبرائیل علیہ السلام بول پڑے کہ تم سیِّدُنا محمد ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہے ہو؟تمھارے اوپر ان سے برگزیدہ ہستی کوئی سوار نہ ہوئی، اس کے بعد وہ پسینہ پسینہ ہوگیا، ابن منیر اس کی وضاحت کرتے ہیں
اس دعا کے بعد صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا اور رسول اللہ ﷺ کو مطلع کردیا کہ فرشتہ آپ کی دعا پوری کرنے کے لیے مامور ہے اور ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہے لیکن قربان جائیں رسول اللہ ﷺ کی رحمۃُلّلعالمینی پر کہ آپ نے اپنی مقبول دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کرلی،اس عظیم دن کے لیے جس دن ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہوگا اور ہمارے نبی ﷺ فرمارہے ہوں گے ۔میں ہوں شفاعت کے لیے،اس لیےکہ آپ کے ربّ نے آپ کو یہ منصب و اعزاز عطا فرمادیا ہے نتیجۃََ آپ نے قبیلۂ ثقیف اور قریش کے لیے دعاءِہلاکت نہ فرمائی اس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ ان کی پُشتوں سے ایسی نسلوں کو پیدا فرمائے گا جو اللہ کی عبادت کریں گی۔[4]
’’الاسراء‘‘
نبی اکرم ﷺ کی مذکورہ دعاسے اہلِ کفر کے ظلم و طغیان کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس واقعۂطائف کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج کا اعزاز عطا فرمایا اور اس سفر میں رب تعالیٰ نے آپ کو اپنی عظیم بادشاہی اور بے مثل سلطنت کا مشاہدہ کرایا اور اپنی رِضا عطا کی۔
اس واقعہ سے یہ بھی واضح کرنا تھا کہ اگر اہلِ زمین آپ پر ظلم و جفا کر رہے ہیں تو اہلِ سما ءآپ کا اکرام و اعزاز کر رہے ہیں اور آسمانوں پر فرشتے اور انبیاء علیہم السلام آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔[5]
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے واقعۂ معراج اس طرح بیان فرمایا ،میں مکہ میں تھا میرے گھر کی چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ۔پھر انہوں نے میرا سینہ کھولا اور اس کو آبِ زمزم سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے،یہ طشت حکمت و ایمان سے لبریز تھا ۔پھر اس طشت کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔[6]
امام بخاری نے اپنی صحیح میں وضاحت کی ہے کہ شقِ صدر آپکےسینۂ مبارکہ کے نشان (گڑھے) سےشکم کے نیچے کی طرف تھا اور یہ بھی واضح کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مصطفیٰﷺ کے قلب مبارک کو نکالا اور اس کو آبِ زمزم سے دھوکر حکمت و ایمان سے بھر دیا۔[7]
صحیح روایت سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کے شقِ صدر کے واقعات متعدد مرتبہ رونما ہوئے۔
(1)۔مسلم کی روایت کے مطابق پہلا شقِ صدر ایامِ طفولت میں واقع ہوا اور شقِ صدر کے بعد حضرت جبرائیلعلیہ السلام نے قلب مبارک بندھا ہوا خون نکالا اور فرمایا:یہ شیطان کا حصہ ہے۔[8]
(2)۔دوسرا شقِ صدر بعثت کے وقت ہوا یہ خالقِ قدیر کی طرف سے ایک بڑا اکرام و اعزاز تھا اس میں حکمت یہ تھی کہ کامل ترین پاکیزگی کے عالم میں طاقتور قلب کے ساتھ آپ وحی کا استقبال کریں ،اس میں بحیثیت مُبشّر آپ کا یہ بڑا اعزاز ہے۔
(3)۔تیسرا شقِ صدر لطیف و خبیر کی طرف سے آپ کے اعزاز میں اس وقت پیش آیا جب آپ معراج کے لیے تشریف لےجانے والے تھے،اس میں حکمت یہ تھی کہ آپ اپنے رب کے پاس پوری توانائیکے ساتھ مناجات کر سکیں۔[9]
علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے توثیق کردی ہے کہ شقِ صدر اور قلب مبارک نکالے جانے اور اس طرح کے دیگر معجزات کو تسلیم کرنا ہر مومن کے لیے فرض ہے، ان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ قادرِ مطلق کی قدرت کے نمونے ہیں،ابنِ ابو جمرہ بیان کرتے ہیں کہ قادرِ مطلق اور خالقِ کائنات قلبِ مصطفیٰ ﷺ کو شق صدر کے بغیر بھی ایمان و حکمت سے بھر سکتا تھا پھر بھی شقِ صدر ہوا، اس کی حکمت یہ ہے کہ ایمان ویقین کی قوت میں مزید اضافہ ہو جائے، ظاہر سی بات ہے کہ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کا شکم مبارک چاک کیا گیا اور اس سے آپ پر کوئی اثر نہ ہوا، اس واقعہ کے بعد آپ خوف وہراس کی تمام چیزوں سے اور زیادہ بے خوف ہوگئے،اسی لیے نبی ﷺ سب سے زیادہ شجاع و بہادر اور اپنی وضع اور گفتگو میں سب سے زیادہ بلند تھے۔[10]
صحیح روایت میں ہے کہ نبیﷺ کے پاس بُراق ایسے عالم میں لایا گیا کہ اس کی زِین بھی کَسِی تھی اور لگام بھی پڑی تھی جب رسول اللہ ﷺنے اس پر سواری کا ارادہ کیا تو بُراق نے سرکشی کا انداز اختیار کیا حضرت جبرائیل علیہ السلام بول پڑے کہ تم سیِّدُنا محمد ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہے ہو؟تمھارے اوپر ان سے برگزیدہ ہستی کوئی سوار نہ ہوئی، اس کے بعد وہ پسینہ پسینہ ہوگیا، ابن منیر اس کی وضاحت کرتے ہیں
کہ بُراق کا یہ نَخْرَہ حضور ﷺ کی سواری کے فخر و اعزاز میں تھا ورنہ اس کی کیا مجال تھی کہ سرتابی کرتا، جس طرح پہاڑ جھوم اٹھا تھا جب رسول اللہ ﷺ اس پر چڑھے تھے، ظاہرہے یہ پہاڑ غصہ سے نہ ہلا تھا بلکہ عالمِ طُرب میں جھوم اٹھا تھا۔[11]
پھر آپ اپنے رفیقِ سیر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس )کی سیرپر روانہ ہوئے ،جب آپ وہاں پہنچے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سُوراخ کیااور بُراق کو اس سے باندھ دیا۔[12]
بُراق گدھے سے چھوٹا اور خچر کے برابر ایک سفید رنگ کا چوپایہ ہے اس کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ تا حد ِ نظر اس کا ایک قدم ہوتا ، جب وہ کسی پہاڑ پر پہنچتا تو اس کے دونوں پاؤں بلند ہوجاتے اور جب نیچے کو آتا تو اس کے دونوں ہاتھ بلند ہو جاتے غرض نبی کریم ﷺاس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر آپ باہر تشریف لائے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں تین برتن پیش کئے ، ایک برتن میں شراب ،دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں پانی ،نبی ﷺ نے دودھ کا برتن منتخب کیا ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کیا آپ نے فطرت کا انتخاب کیا،مزید عرض کیا حضور ﷺ نے شراب منتخب کی ہوتی تو ان کی امت گمراہ ہو جاتی۔نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہدایت کی توفیق بخشی ،صحیح روایت میں ہے کہ جب نمازکا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی ،ان حضرات نے آپ کی تشریف آوری پر مرحباکہا اور مسرت و شادمانی کا مظاہرہ کیا ، اس طرح امام الانبیاء کے منصب پر فائز ہوئے ، طبرانی نے ’’اُوسَط‘‘ میں نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی نماز میں انبیاء کرام علیہم السلام نبی اعظم ﷺ کو امام بنانے کے لیے سب کے سب ایک دوسرے کی تائید فرمارہے تھے۔[13]
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گِرد و نواح کو اس نے بابرکت بنایا ابن ابو جمرہ نے نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ تک نبی ﷺکی سیر میں حکمت یہ ہے کہ سید کائنات ﷺ کے دشمنوں کے اوپر حق پورے طور سے ظاہر ہو جائے ۔اگر آپ مکہ مکرمہ سے براہِ راست آسمانوں پر تشریف لے جاتے تو نبی ﷺ کے دشمنوں کے سامنے بیت المقدس کی تفصیلات اور معلومات بیان کرنے کی کیا شکل ہوتی جن دشمنوں نے بیت المقدس کی جزئیات کے بارے میں سوال کیا تھا وہ پہلے اسے دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ محمد ﷺ نے انہیں نہیں دیکھا ہے ،اس کے بعد جب نبی ﷺ نے بیت المقدس کی جزیات بیان کر کے ان پر حجت قائم کردی تو اب ان کے لیے واقعۂِاسراء کی تصدیق کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہ گیا اور یہ بھی کُھل کر سامنےآگیا کہ اگر یہ لوگ انصاف پسند ہوتے تو سیدُ الانبیاءﷺ کی تصدیق اس کے علاوہ دیگر چیزوں میں بھی کردیتے، اس طرح یہ عظیم تاریخی واقعہ اہل ایمان کی ایمانی طاقت میں اضافہ اور منکرین کی بدبختی کے اضافہ کا سبب بن گیا۔[14]
جس وقت سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے ۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی آواز آئی آپ کے ساتھ کوئی اور ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ،میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔
پھر آواز آئی ،کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ،ہاں ان کو بلایا گیا ہے، پھر دروازہ کُھلا ،حضور ﷺبیان فرماتے ہیں :وہاں ہم کیا دیکھتے ہیں،کہ ایک شخص ہے انکی دائیں جانب بہت سے وجودہیں اور بائیں جانب بھی بہت سے وجود ہیں، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو خوشی سے ہنستے ہیں اور بائیں طرف نظر کرتے ہیں رو پڑتے ہیں ،یہ دیکھ کر نبی ﷺنے فرمایا یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ، یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ دائیں بائیں کے وجود ان کی اولاد ہیں ،دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں ،جب وہ اپنی دائیں جانب نظر کرتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں،اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں ، حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام نے اس پہلے آسمان پر مجھے خوش آمدید کہا اور دعا ِٔخیر کی اور یہ الفاظ استعمال فرمائے:(مَرْحَباَ مبِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَ الْاِبْنِ الصَّالِحِ)[15]
ترجمہ: اے نبی صالح خوش آمدید اور اے فرزند ِ دلبند مرحبا۔
پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی ،آواز آئی آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل!پھر سوال ہوا آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا ،محمد ﷺ، پھر آواز آئی کیا ان کو بلایا گیاہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں ،ان کو بلایا گیا ہے۔پھردروازہ کُھلا تو عالم یہ ہے کہ وہاں خالہ زاد کے دونوں صاحبزادے ،عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام تشریف فرما ہیں ،ان دونوں حضرات نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا ِٔ خیر کی۔
پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے باِ بِ آسمان کھٹکھٹایا آواز آئی آپ کون ؟انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے سا
پھر آپ اپنے رفیقِ سیر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس )کی سیرپر روانہ ہوئے ،جب آپ وہاں پہنچے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سُوراخ کیااور بُراق کو اس سے باندھ دیا۔[12]
بُراق گدھے سے چھوٹا اور خچر کے برابر ایک سفید رنگ کا چوپایہ ہے اس کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ تا حد ِ نظر اس کا ایک قدم ہوتا ، جب وہ کسی پہاڑ پر پہنچتا تو اس کے دونوں پاؤں بلند ہوجاتے اور جب نیچے کو آتا تو اس کے دونوں ہاتھ بلند ہو جاتے غرض نبی کریم ﷺاس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر آپ باہر تشریف لائے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں تین برتن پیش کئے ، ایک برتن میں شراب ،دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں پانی ،نبی ﷺ نے دودھ کا برتن منتخب کیا ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کیا آپ نے فطرت کا انتخاب کیا،مزید عرض کیا حضور ﷺ نے شراب منتخب کی ہوتی تو ان کی امت گمراہ ہو جاتی۔نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہدایت کی توفیق بخشی ،صحیح روایت میں ہے کہ جب نمازکا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی ،ان حضرات نے آپ کی تشریف آوری پر مرحباکہا اور مسرت و شادمانی کا مظاہرہ کیا ، اس طرح امام الانبیاء کے منصب پر فائز ہوئے ، طبرانی نے ’’اُوسَط‘‘ میں نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی نماز میں انبیاء کرام علیہم السلام نبی اعظم ﷺ کو امام بنانے کے لیے سب کے سب ایک دوسرے کی تائید فرمارہے تھے۔[13]
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گِرد و نواح کو اس نے بابرکت بنایا ابن ابو جمرہ نے نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ تک نبی ﷺکی سیر میں حکمت یہ ہے کہ سید کائنات ﷺ کے دشمنوں کے اوپر حق پورے طور سے ظاہر ہو جائے ۔اگر آپ مکہ مکرمہ سے براہِ راست آسمانوں پر تشریف لے جاتے تو نبی ﷺ کے دشمنوں کے سامنے بیت المقدس کی تفصیلات اور معلومات بیان کرنے کی کیا شکل ہوتی جن دشمنوں نے بیت المقدس کی جزئیات کے بارے میں سوال کیا تھا وہ پہلے اسے دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ محمد ﷺ نے انہیں نہیں دیکھا ہے ،اس کے بعد جب نبی ﷺ نے بیت المقدس کی جزیات بیان کر کے ان پر حجت قائم کردی تو اب ان کے لیے واقعۂِاسراء کی تصدیق کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہ گیا اور یہ بھی کُھل کر سامنےآگیا کہ اگر یہ لوگ انصاف پسند ہوتے تو سیدُ الانبیاءﷺ کی تصدیق اس کے علاوہ دیگر چیزوں میں بھی کردیتے، اس طرح یہ عظیم تاریخی واقعہ اہل ایمان کی ایمانی طاقت میں اضافہ اور منکرین کی بدبختی کے اضافہ کا سبب بن گیا۔[14]
جس وقت سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے ۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی آواز آئی آپ کے ساتھ کوئی اور ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ،میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔
پھر آواز آئی ،کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ،ہاں ان کو بلایا گیا ہے، پھر دروازہ کُھلا ،حضور ﷺبیان فرماتے ہیں :وہاں ہم کیا دیکھتے ہیں،کہ ایک شخص ہے انکی دائیں جانب بہت سے وجودہیں اور بائیں جانب بھی بہت سے وجود ہیں، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو خوشی سے ہنستے ہیں اور بائیں طرف نظر کرتے ہیں رو پڑتے ہیں ،یہ دیکھ کر نبی ﷺنے فرمایا یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ، یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ دائیں بائیں کے وجود ان کی اولاد ہیں ،دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں ،جب وہ اپنی دائیں جانب نظر کرتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں،اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں ، حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام نے اس پہلے آسمان پر مجھے خوش آمدید کہا اور دعا ِٔخیر کی اور یہ الفاظ استعمال فرمائے:(مَرْحَباَ مبِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَ الْاِبْنِ الصَّالِحِ)[15]
ترجمہ: اے نبی صالح خوش آمدید اور اے فرزند ِ دلبند مرحبا۔
پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی ،آواز آئی آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل!پھر سوال ہوا آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا ،محمد ﷺ، پھر آواز آئی کیا ان کو بلایا گیاہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں ،ان کو بلایا گیا ہے۔پھردروازہ کُھلا تو عالم یہ ہے کہ وہاں خالہ زاد کے دونوں صاحبزادے ،عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام تشریف فرما ہیں ،ان دونوں حضرات نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا ِٔ خیر کی۔
پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے باِ بِ آسمان کھٹکھٹایا آواز آئی آپ کون ؟انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے سا
تھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہےپِھر دروازہ کُھلا،اس آسمان پر ہم کیا دیکھتے کہ یوسف علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضورﷺ فرماتے ہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہااور دعأِ خیر کی۔
پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس آسمان پر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر دروازہ کُھلا، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر آسمان کُھلا ،وہاں ہم دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعأِ خیر کی۔نبی ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے،آواز آئی ،آپ نے گِریہ کیوں کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،اے میرے رب یہ کتنے کم عمر ہیں ،ان کو تو نے میرے بعد بھیجا اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔
پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس کے بعد آسمان کا دروازہ کُھلا ،وہاں میں کیادیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔انکا اندازِ نشیست یہ ہے کہ اپنی پُشت ’’بیت معمور‘‘
کی طرف کئے ہوئے ہیں ،اس ’’بیت معمور‘‘ میں روزانہ ایسے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو پھر دوبارہ یہ موقع نہیں ملتا پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتھیٰ تک لے گئے ،اس شجرِمبارک کے پتےّ ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل مٹکے جیسے،حضور ﷺ فرماتے ہیں ،اللہ کے حکم سے اس کو کسی شئے نے ڈھک لیا ،یہ اللہ تعالیٰ ہی جانے۔اس کا عالم ہی بدل گیا ،کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی صفت و حسن بیان کر سکے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وحی کی ۔[16]
’’اس کا نام سدرۃُ المنتھیٰ ‘‘کیوں ہے اس کی وجہ امام نووی نے یہ بتائی ہے کہ ملائکہ کا علم اس سدرہ‘‘تک اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے آگے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہ جاسکا اس لیے اسے ’’سدرۃ المنتھیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔[17]
وَلَیْلَۃُ الْمِعْرَاجِ اَجْلیٰ آٰیَۃِ اِذْ سَارَ مِنْ مَّکَّۃَلَیْلَاَ وَّسَریٰ
شب معراج روشن ترین معجزہ ہے، جب آپ مکہ مکرمہ سے رات میں اس سفر پر روانہ ہوئے۔
فَاخْتَرَقَ السَّبْعَ الطِّبَاقَ صَاعِدَا حَتَّی انْتَھٰی مِنْھَا لِأَعْلیٰ مُنْتَھٰی
آسمان کے ساتوں طبقوں کو چڑھتے ہوئے سدرۃالمنتہیٰ سے کہیں اعلیٰ مقام تک آپ تشریف لے گئے۔
وَائْتَمَّ سُکَّانُ السَّمٰوَاتِ بِہِ مِنْ مَّلَکِ وَّمِنْ نَبِیِّ مُّجْتَبٰی
آسمان کے سب بسنے والے فرشتے اور برگزیدہ انبیاء آپ کی پیروی میں رہے۔
سَاَیَرَہٗ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَشْرَفَا مَعَا عَلیٰ بِجَارِ نُوْرِوَّ سَنَا
جبرائیل امین آپ کے رفیقِ سیر رہے اور پھر یہ دونوں حضرات نور کے سمندروں سے گزر کر بلند رفعتوں تک پہنچے۔
فَقَالَ جِبْرِیْلُ تَقَدَّمْ رَاشِدَا ھَذٰا مَقَامِیْ فِیْ السَّمٰوَاتِ الْعُلَا
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے عرض کیا آپ اور آگے بڑھیں اپنی منزل کی جانب میں تو اپنی بلند آسمانوں کی آخری منزل تک پہنچ چکا۔
فَاخْتَرَقَ الْأَنْوَارَیَمْشِیْ وَحْدَہٗ وَالْحُجْبُ تَنْجَابُ لَہٗ حَیْثُ انْتَھٰی
اب تنھا عالمِ انوار شق کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور جس رُخ پرجارہے ہیں حجا بات اُٹھتے جاتے ہیں۔
وَقَامَتِ الْاَمْلَاکُ اِجْلَالَا لَّہٗ أَمَامَہٗ یَسْعَوْنَ حَیْثُ مَاسَعٰی
آپ کی تعظیم میں فر
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہےپِھر دروازہ کُھلا،اس آسمان پر ہم کیا دیکھتے کہ یوسف علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضورﷺ فرماتے ہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہااور دعأِ خیر کی۔
پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس آسمان پر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر دروازہ کُھلا، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔
پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر آسمان کُھلا ،وہاں ہم دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعأِ خیر کی۔نبی ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے،آواز آئی ،آپ نے گِریہ کیوں کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،اے میرے رب یہ کتنے کم عمر ہیں ،ان کو تو نے میرے بعد بھیجا اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔
پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس کے بعد آسمان کا دروازہ کُھلا ،وہاں میں کیادیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔انکا اندازِ نشیست یہ ہے کہ اپنی پُشت ’’بیت معمور‘‘
کی طرف کئے ہوئے ہیں ،اس ’’بیت معمور‘‘ میں روزانہ ایسے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو پھر دوبارہ یہ موقع نہیں ملتا پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتھیٰ تک لے گئے ،اس شجرِمبارک کے پتےّ ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل مٹکے جیسے،حضور ﷺ فرماتے ہیں ،اللہ کے حکم سے اس کو کسی شئے نے ڈھک لیا ،یہ اللہ تعالیٰ ہی جانے۔اس کا عالم ہی بدل گیا ،کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی صفت و حسن بیان کر سکے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وحی کی ۔[16]
’’اس کا نام سدرۃُ المنتھیٰ ‘‘کیوں ہے اس کی وجہ امام نووی نے یہ بتائی ہے کہ ملائکہ کا علم اس سدرہ‘‘تک اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے آگے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہ جاسکا اس لیے اسے ’’سدرۃ المنتھیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔[17]
وَلَیْلَۃُ الْمِعْرَاجِ اَجْلیٰ آٰیَۃِ اِذْ سَارَ مِنْ مَّکَّۃَلَیْلَاَ وَّسَریٰ
شب معراج روشن ترین معجزہ ہے، جب آپ مکہ مکرمہ سے رات میں اس سفر پر روانہ ہوئے۔
فَاخْتَرَقَ السَّبْعَ الطِّبَاقَ صَاعِدَا حَتَّی انْتَھٰی مِنْھَا لِأَعْلیٰ مُنْتَھٰی
آسمان کے ساتوں طبقوں کو چڑھتے ہوئے سدرۃالمنتہیٰ سے کہیں اعلیٰ مقام تک آپ تشریف لے گئے۔
وَائْتَمَّ سُکَّانُ السَّمٰوَاتِ بِہِ مِنْ مَّلَکِ وَّمِنْ نَبِیِّ مُّجْتَبٰی
آسمان کے سب بسنے والے فرشتے اور برگزیدہ انبیاء آپ کی پیروی میں رہے۔
سَاَیَرَہٗ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَشْرَفَا مَعَا عَلیٰ بِجَارِ نُوْرِوَّ سَنَا
جبرائیل امین آپ کے رفیقِ سیر رہے اور پھر یہ دونوں حضرات نور کے سمندروں سے گزر کر بلند رفعتوں تک پہنچے۔
فَقَالَ جِبْرِیْلُ تَقَدَّمْ رَاشِدَا ھَذٰا مَقَامِیْ فِیْ السَّمٰوَاتِ الْعُلَا
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے عرض کیا آپ اور آگے بڑھیں اپنی منزل کی جانب میں تو اپنی بلند آسمانوں کی آخری منزل تک پہنچ چکا۔
فَاخْتَرَقَ الْأَنْوَارَیَمْشِیْ وَحْدَہٗ وَالْحُجْبُ تَنْجَابُ لَہٗ حَیْثُ انْتَھٰی
اب تنھا عالمِ انوار شق کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور جس رُخ پرجارہے ہیں حجا بات اُٹھتے جاتے ہیں۔
وَقَامَتِ الْاَمْلَاکُ اِجْلَالَا لَّہٗ أَمَامَہٗ یَسْعَوْنَ حَیْثُ مَاسَعٰی
آپ کی تعظیم میں فر
شتے آپ کے سامنے کھڑے ہو جاتےہیں جہاں آپ تشریف لے جاتے ہیں آپ کے ساتھ فرشتے جاتے ہیں۔
نَادَاہُ فِیْ ذَاکَ الْمَقَامِ رَبُّہٗ یَاصَفْوَۃَالْخَلْقِ اَدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا
بارگاہِ ذولجلال میں آپ حاضر ہوتے ہیں آپ کا رب آپ کو آواز دیتا ہےاے افضل خلق مجھ سے قریب ہوجا اور آپ قربِ خاص میں پہنچ گئے۔
فَکَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ عُلَا مَا کَذَبَ اِذْ ذَاکَ الْقُوادُمَارَأیٰ
پھر آپ اس قدر قریب ہوئے کہ قابَ قوسین دو کمانوں کا فاصلہ میں پہنچے،اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی۔
اس قرب خاص میں حبیب کریم ﷺ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ،اس کے بعد آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟نبی ﷺ نے فرمایا ،پچاس نمازیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؟آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس میں کمی کرائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی متحمل نہ ہوگی ، میرے پاس بنی اسرائیل کا تجربہ ہے، نبیﷺ اپنے خالق و مالک کے پاس واپس گئے اور عرض کیا ،میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،میرے رب میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں ،پھر نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آکر خبر دی کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہ رکھ سکےگی آپ پھرواپس تشریف لے جائیں اور اس میں کمی کرائیں ،نبیﷺ پھر اپنے رب کے پاس حاضر ہوئے اور کم کرنے کے لیے درخواست کی اور اس مرتبہ اور ہر مرتبہ آپ نے یہی عرض کیا ،میری آمت یہ نہ کرسکے گی ،میری امت یہ نہ کرسکے گی، میری امت یہ نہ کرسکے گی،اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آپ واپس آتے رہے اور وہ حضورﷺ کو ان کے رب کے پاس بھیجتے رہے جب بات پانچ نمازوں پر آگئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا ،اے محمد ﷺیہ شب و روز میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے اس طرح یہ پچاس کے برابر ہیں ،اور اسی طرح جس شخص نے ایک نیکی کا ارادہ کیا اور پوری نہ کی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی گئی اور اگر نیکی اس نے کر ڈالی تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور برائی نہ کی اس کے لیے کچھ نہ لکھا گیا اور اگر برائی کر ڈالی تو اس کے لیے ایک برائی لکھ دی گئی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور یہ تفصیل بتائی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ،آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور نماز کم کرائیں ،نبی ﷺ نے فرمایا ،میں رب کے پاس کتنی دفعہ جاچکا ہوں اور اب مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی و ضاحت کرتے ہیں کہ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس رات میں فرشتوں کی عبادت کا مشاہدہ کیا ہے ،آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے وہ ہیں جو کھڑے کھڑے عبادت میں مصروف ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم ِ رکوع میں مصروف ِ عبادت ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم سجدہ میں ہیں اور سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ،رب تعالیٰ نے عبادت کے یہ انداز آپ کو دیکھائے اور پھر ان سب عبادتوں کو ایک رکعت میں جمع کردیا بشرطیکہ بندہ اطمینان و اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرے۔[18]
نبی گرامیﷺجنت میں تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں کا عالم یہ دیکھا کہ جنت کے گنبدموتی کے ہیں اور زمین مشک کی ہے۔[19]
وفی لیلۃ المعراج اعطی منصبا رفیعا من التشریف لیس یضاھی
شبِ معراج صاحب ِمعراج نبی مکرم ﷺ کو شرف و مَجد کا وہ عظیم مرتبہ ملا جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔
رای جنۃ الماوی وما فوقھا ولو رای بعض مراہ سواہ لتا ھا
آپ نے جنت اور اس کے اوپر کے ایسے مناظر و مشاہد دیکھے کہ ان مسحور کُن مناظر کو اگر آپ کے علاوہ کوئی دیکھتا تو اس کے حواس گم ہو جاتے۔
فما خانہ قلب ولا بصر طغی ولا زاع عن اشیائ کان یراھا
جو مناظر آپ نے دیکھے دل نے اس کی تصدیق کی اور چشم مبارک ان مناظر کے دیکھنے میں نہ کج ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے ہم شکل تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا، وہ تویل قامت اور گندم گوں تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے سلسلے میں فرمایا، ان کا قد درمیانہ اور بال گھنگریالے تھے، اسی ضمن میں حضور ﷺنے دارو غۂ جہنم مالک کا بھی تذکرہ کیا معراج کی تاریخی سیر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل باروعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں فرمایا، کہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی تعداد ۶۰۰ ہے، کہ سارے ہی پر زبر جد، موتی اور یاقوت سے پروئے ہوئے ہیں اور ان کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ جبرئیل ان پروں سے اُفَقِ آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ سے روا
نَادَاہُ فِیْ ذَاکَ الْمَقَامِ رَبُّہٗ یَاصَفْوَۃَالْخَلْقِ اَدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا
بارگاہِ ذولجلال میں آپ حاضر ہوتے ہیں آپ کا رب آپ کو آواز دیتا ہےاے افضل خلق مجھ سے قریب ہوجا اور آپ قربِ خاص میں پہنچ گئے۔
فَکَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ عُلَا مَا کَذَبَ اِذْ ذَاکَ الْقُوادُمَارَأیٰ
پھر آپ اس قدر قریب ہوئے کہ قابَ قوسین دو کمانوں کا فاصلہ میں پہنچے،اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی۔
اس قرب خاص میں حبیب کریم ﷺ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ،اس کے بعد آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟نبی ﷺ نے فرمایا ،پچاس نمازیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؟آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس میں کمی کرائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی متحمل نہ ہوگی ، میرے پاس بنی اسرائیل کا تجربہ ہے، نبیﷺ اپنے خالق و مالک کے پاس واپس گئے اور عرض کیا ،میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،میرے رب میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں ،پھر نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آکر خبر دی کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہ رکھ سکےگی آپ پھرواپس تشریف لے جائیں اور اس میں کمی کرائیں ،نبیﷺ پھر اپنے رب کے پاس حاضر ہوئے اور کم کرنے کے لیے درخواست کی اور اس مرتبہ اور ہر مرتبہ آپ نے یہی عرض کیا ،میری آمت یہ نہ کرسکے گی ،میری امت یہ نہ کرسکے گی، میری امت یہ نہ کرسکے گی،اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آپ واپس آتے رہے اور وہ حضورﷺ کو ان کے رب کے پاس بھیجتے رہے جب بات پانچ نمازوں پر آگئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا ،اے محمد ﷺیہ شب و روز میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے اس طرح یہ پچاس کے برابر ہیں ،اور اسی طرح جس شخص نے ایک نیکی کا ارادہ کیا اور پوری نہ کی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی گئی اور اگر نیکی اس نے کر ڈالی تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور برائی نہ کی اس کے لیے کچھ نہ لکھا گیا اور اگر برائی کر ڈالی تو اس کے لیے ایک برائی لکھ دی گئی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور یہ تفصیل بتائی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ،آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور نماز کم کرائیں ،نبی ﷺ نے فرمایا ،میں رب کے پاس کتنی دفعہ جاچکا ہوں اور اب مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی و ضاحت کرتے ہیں کہ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس رات میں فرشتوں کی عبادت کا مشاہدہ کیا ہے ،آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے وہ ہیں جو کھڑے کھڑے عبادت میں مصروف ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم ِ رکوع میں مصروف ِ عبادت ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم سجدہ میں ہیں اور سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ،رب تعالیٰ نے عبادت کے یہ انداز آپ کو دیکھائے اور پھر ان سب عبادتوں کو ایک رکعت میں جمع کردیا بشرطیکہ بندہ اطمینان و اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرے۔[18]
نبی گرامیﷺجنت میں تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں کا عالم یہ دیکھا کہ جنت کے گنبدموتی کے ہیں اور زمین مشک کی ہے۔[19]
وفی لیلۃ المعراج اعطی منصبا رفیعا من التشریف لیس یضاھی
شبِ معراج صاحب ِمعراج نبی مکرم ﷺ کو شرف و مَجد کا وہ عظیم مرتبہ ملا جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔
رای جنۃ الماوی وما فوقھا ولو رای بعض مراہ سواہ لتا ھا
آپ نے جنت اور اس کے اوپر کے ایسے مناظر و مشاہد دیکھے کہ ان مسحور کُن مناظر کو اگر آپ کے علاوہ کوئی دیکھتا تو اس کے حواس گم ہو جاتے۔
فما خانہ قلب ولا بصر طغی ولا زاع عن اشیائ کان یراھا
جو مناظر آپ نے دیکھے دل نے اس کی تصدیق کی اور چشم مبارک ان مناظر کے دیکھنے میں نہ کج ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے ہم شکل تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا، وہ تویل قامت اور گندم گوں تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے سلسلے میں فرمایا، ان کا قد درمیانہ اور بال گھنگریالے تھے، اسی ضمن میں حضور ﷺنے دارو غۂ جہنم مالک کا بھی تذکرہ کیا معراج کی تاریخی سیر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل باروعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں فرمایا، کہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی تعداد ۶۰۰ ہے، کہ سارے ہی پر زبر جد، موتی اور یاقوت سے پروئے ہوئے ہیں اور ان کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ جبرئیل ان پروں سے اُفَقِ آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ سے روا