میع عالمیان ہے۔ عرش سے فرش تک تمام مخلوقات آپ کی محتاج ہے۔ اور آپ سے فیض یاب ہے۔ اگرچہ وہاب مطلق اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن افاضہ آپ کے توسل شریف سے ہوتا ہے۔ اورمہمات ملک و ملکوت آپ کے اہتمام سے سرانجام پاتی ہیں۔ شب و روز کافہ مخلوقات پر روضہ مطہرہ سے انعام ہوتا رہتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ آپ وما ارسلنک الا رحمۃ للعٰلمین ہیں۔ ایک روز فرمایا کہ کل سے ظہور اسرار و تلاطم امواج انوار معلوم ہوتا تھا اور آج ایک سا معاملہ اضافہ کیا گیا ہے کہ اشارہ سے بھی ظاہر نہیں کرسکتا۔ اور اگر ظاہر ہو۔ قطع البلعوم و ذبح الحلقوم کا سزاوار ہوجاؤں۔ مگر بعض مقامات رمز سے کہتا ہوں اور وہ معاملہ کمون و بروز ہے۔
پھر فرمایا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ سے روانہ ہونے لگا۔مسجد شریف میں رخصت کے واسطے حاضر ہوا۔ جدائی کے غم و الم کے سبب سے بے اختیار بار بار رونے لگا۔ اسی حالت میں حضرت رسالت خاتمیت کمال عظمت سے روضۃ مطہرہ سے حاضر ہوئے۔ اور نہایت کرم سے خلعت تاج سلاطین بکمال علو و رفعت کہ ہرگز ایسا نہیں دیکھا گیا تھا احقر کو پہنایا اور محسوس ہوا کہ اس تاج پر ایک شہپر کا طرہ لگا ہوا ہے اور اُس پر ایک لعل جڑا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوا کہ یہ خلعت خاص جسمِ اطہر آنحضرت ﷺ سے اترا ہوا ہے اور دیگر خلعتوں کی طرح نہیں۔ اور فرمایاکہ خلعت عطا کرنے سے نظر کشفی میں نسبت خاصہ مرحمت فرمانا مراد ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ جناب رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے وطن کو واپس ہوئے۔قصہ کوتاہ حضرت قیوم ثانی کی کثرت ارشاد و مشیخت بیان سے باہر ہے۔ جناب پیغمبر خدا ﷺکے زمانے کے بعد کسی ولی اللہ کو اس قدر ارشاد مشیخت نصیب نہیں ہوئی۔ چنانچہ تاریخ مرأت العالم و جہاں نماز میں جو عالمگیر کے حکم سے لکھی گئی ہیں یوں لکھا ہے کہ مشیخت کی مسند پر کوئی ایسا شیخ نہیں بیٹھا جیسا کہ شیخ محمد معصوم ﷺ جہان کے تمام اطراف و جوانب کے بادشاہ علماء مشائخ چھوٹے بڑے وضیع و شریف مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک کے آنحضرت کے مرید تھے۔ لا انتہا خاص و عام بندگان خدا صبح و شام پر وانوں کی طرح آنجناب پر جان فدا کرتے۔
ہندوستان، توران، ترکستان، بدخشان، دشت قبچاق، کا شغر، خطا، روم، شام اور یمن کے بادشاہ آنجناب کے مرید ہوئے۔ اُس وقت کے بڑے بڑے شیخ اور علماء اور گروہا گروہ اپنی اپنی مشیخت ترک کرے کے آنجناب کے مرید ہوئے۔ روئے زمین کے مختلف حصوں کے لوگ آنحضرت کو خواب میں دیکھ کر اور انبیاء اولیا سے خوشخبری پاکر حاضر خدمت ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوتے۔ مختلف ملکوں میں آنجناب کے خلفا کی خدمت میں ہزارہا آدمیوں کا مجمع رہتا۔ ہر روز سینکڑوں نئے مرید حاضر خدمت ہوتے اور فنا و بقا اور پروردگار کا پورا پورا قرب حاصل کرتے۔ حضرت کی مجلس کا رعب اور دبدبہ اس قدر تھا کہ مجلس اقدس میں بڑے بڑے بادشاہ آپس میں گفتگو نہ کرسکتے تھے۔ بغیر اجازت بات نہ کرتے۔ اگر بڑا ضروری کام ہوتا تو کاغذ پر لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے۔ عالمگیر بادشاہ پر اگرچہ آپ بدرجہ غایت مہربان تھے لیکن پھر بھی بسبب غایت ادب اُس نے آنجناب کے حضور میں کسی سے کبھی گفتگو نہ کی اور بغیر اذن نہ بیٹھا۔کہتے ہیں کہ خلفاء اور فرزندوں کی وساطت کے بغیر براہِ راست نو لاکھ آدمی حضرت قیومِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے۔ آپ کے خلفاء کی تعداد سات ہزار تھی جو سب کے سب صاحب کمالات تھے۔
وصال مُبارک:
وفات سے ایک روز پیشتر جمعہ کے دن آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ امید نہیں کہ کل اس وقت تک دنیا میں رہوں۔ اور سب کو پند و نصائح فرما کر خلوت میں تشریف لے گئے۔ صبح کو آپ نے نماز فجر کمال ارکان تعدیل کے ساتھ ادا کی۔ مراقبہ معمولہ کے بعد اشراق پڑھی۔ بعد ازاں سکرات موت آپ پر شروع ہوگئے۔ اس وقت آپ کی زبان مبارک جلد جلد چلتی تھی۔ صاحبزادوں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ آپ یٰسین شریف پڑھتے تھے۔ غرض کہ شنبہ کے دن دوپہر کے وقت 9/ ربیع الاول 1079ھ کو آپ نے وصال فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-masoom-sirhindi
پھر فرمایا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ سے روانہ ہونے لگا۔مسجد شریف میں رخصت کے واسطے حاضر ہوا۔ جدائی کے غم و الم کے سبب سے بے اختیار بار بار رونے لگا۔ اسی حالت میں حضرت رسالت خاتمیت کمال عظمت سے روضۃ مطہرہ سے حاضر ہوئے۔ اور نہایت کرم سے خلعت تاج سلاطین بکمال علو و رفعت کہ ہرگز ایسا نہیں دیکھا گیا تھا احقر کو پہنایا اور محسوس ہوا کہ اس تاج پر ایک شہپر کا طرہ لگا ہوا ہے اور اُس پر ایک لعل جڑا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوا کہ یہ خلعت خاص جسمِ اطہر آنحضرت ﷺ سے اترا ہوا ہے اور دیگر خلعتوں کی طرح نہیں۔ اور فرمایاکہ خلعت عطا کرنے سے نظر کشفی میں نسبت خاصہ مرحمت فرمانا مراد ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ جناب رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے وطن کو واپس ہوئے۔قصہ کوتاہ حضرت قیوم ثانی کی کثرت ارشاد و مشیخت بیان سے باہر ہے۔ جناب پیغمبر خدا ﷺکے زمانے کے بعد کسی ولی اللہ کو اس قدر ارشاد مشیخت نصیب نہیں ہوئی۔ چنانچہ تاریخ مرأت العالم و جہاں نماز میں جو عالمگیر کے حکم سے لکھی گئی ہیں یوں لکھا ہے کہ مشیخت کی مسند پر کوئی ایسا شیخ نہیں بیٹھا جیسا کہ شیخ محمد معصوم ﷺ جہان کے تمام اطراف و جوانب کے بادشاہ علماء مشائخ چھوٹے بڑے وضیع و شریف مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک کے آنحضرت کے مرید تھے۔ لا انتہا خاص و عام بندگان خدا صبح و شام پر وانوں کی طرح آنجناب پر جان فدا کرتے۔
ہندوستان، توران، ترکستان، بدخشان، دشت قبچاق، کا شغر، خطا، روم، شام اور یمن کے بادشاہ آنجناب کے مرید ہوئے۔ اُس وقت کے بڑے بڑے شیخ اور علماء اور گروہا گروہ اپنی اپنی مشیخت ترک کرے کے آنجناب کے مرید ہوئے۔ روئے زمین کے مختلف حصوں کے لوگ آنحضرت کو خواب میں دیکھ کر اور انبیاء اولیا سے خوشخبری پاکر حاضر خدمت ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوتے۔ مختلف ملکوں میں آنجناب کے خلفا کی خدمت میں ہزارہا آدمیوں کا مجمع رہتا۔ ہر روز سینکڑوں نئے مرید حاضر خدمت ہوتے اور فنا و بقا اور پروردگار کا پورا پورا قرب حاصل کرتے۔ حضرت کی مجلس کا رعب اور دبدبہ اس قدر تھا کہ مجلس اقدس میں بڑے بڑے بادشاہ آپس میں گفتگو نہ کرسکتے تھے۔ بغیر اجازت بات نہ کرتے۔ اگر بڑا ضروری کام ہوتا تو کاغذ پر لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے۔ عالمگیر بادشاہ پر اگرچہ آپ بدرجہ غایت مہربان تھے لیکن پھر بھی بسبب غایت ادب اُس نے آنجناب کے حضور میں کسی سے کبھی گفتگو نہ کی اور بغیر اذن نہ بیٹھا۔کہتے ہیں کہ خلفاء اور فرزندوں کی وساطت کے بغیر براہِ راست نو لاکھ آدمی حضرت قیومِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے۔ آپ کے خلفاء کی تعداد سات ہزار تھی جو سب کے سب صاحب کمالات تھے۔
وصال مُبارک:
وفات سے ایک روز پیشتر جمعہ کے دن آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ امید نہیں کہ کل اس وقت تک دنیا میں رہوں۔ اور سب کو پند و نصائح فرما کر خلوت میں تشریف لے گئے۔ صبح کو آپ نے نماز فجر کمال ارکان تعدیل کے ساتھ ادا کی۔ مراقبہ معمولہ کے بعد اشراق پڑھی۔ بعد ازاں سکرات موت آپ پر شروع ہوگئے۔ اس وقت آپ کی زبان مبارک جلد جلد چلتی تھی۔ صاحبزادوں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ آپ یٰسین شریف پڑھتے تھے۔ غرض کہ شنبہ کے دن دوپہر کے وقت 9/ ربیع الاول 1079ھ کو آپ نے وصال فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-masoom-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Masoom Sirhindi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-03-1445 ᴴ | 25-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-03-1445 ᴴ | 26-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-03-1445 ᴴ | 26-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-03-1445 ᴴ | 26-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1