Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ صفی اللہ سیف الرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سیّد شاہ مقیم محکم الدین صاحب حجرہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ جامع علومِ ظاہر و باطنی اور واقفِ رموزِ صوری و معنوی تھے۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ آپ کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا ویسا ہی ظہور میں آتا تھا اس لیے سیف الرحمٰن مشہور ہُوئے۔
نقل ہے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے باغ کا فلاں درخت خشک ہوگیا ہے۔ فرمایا: نہیں سرسبز ہے۔ وہ شخص فوراً بنظرِ امتحان وہاں پہنچا، دیکھا کہ وہ درخت واقعی سرسبز و شاداب ہے۔ نقل ہے آپ نے جب اپنے پدر بزگوار کا مقبرہ تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو معمار کو بلا کر کہا کہ تعمیرِ مقبرہ کا تمام تخمینہ کاغذ پر لکھ دو تاکہ تمام خرچ یک بار تمھیں پیشگی دے دیا جائے۔ معمار نے اسی وقت تخمینہ لگا کر اور کاغذ پر لکھ کر حاضرِ خدمت کیا جو چند ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ آپ نے کاغذ کو دیکھ کر مصلّے کا کنارہ اٹھایا اور کہا: اپنے تخمینے کے مطابق مطلوبہ رقم لے لو۔ معمار نے جب وُہ رقم شمار کی تو عین اپنے حساب کے مطابق پائی۔ مقبرہ کی تعمیر شروع ہو گئی مگر چند روز بعد معمار پھر حاضرِ خدمت ہُوا اور عرض کیا: حضرت وُہ رقم اندازے کے مطابق پوری نہیں ہوگی، کچھ مزید ضرورت پڑے گی۔ فرمایا: تیرے لکھے ہوئے کے مطابق مجھے غیب سے جو عطا ہُوا تھا۔ تجھے دے دیا۔ اب دوبارہ مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اِن شاءاللہ اسی میں سب کچھ پُورا ہوگا۔
۱۰۸۰ھ میں بعہدِ عالمگیر وفات پائی۔ مزار بمقام حجرہ واقع ہے۔
چوں صفی شد از جہاں باصد صفا
واں ’’صفی اللہ ولیِ محتشم‘‘!
۱۰۸۰ھ
رحلت آں شاہِ مخدومِ سعید
ہم ’’صفی اللہ مخدومِ سعید‘‘
۱۰۸۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safi-allah-saif-ur-rehman
سیّد شاہ مقیم محکم الدین صاحب حجرہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ جامع علومِ ظاہر و باطنی اور واقفِ رموزِ صوری و معنوی تھے۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ آپ کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا ویسا ہی ظہور میں آتا تھا اس لیے سیف الرحمٰن مشہور ہُوئے۔
نقل ہے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے باغ کا فلاں درخت خشک ہوگیا ہے۔ فرمایا: نہیں سرسبز ہے۔ وہ شخص فوراً بنظرِ امتحان وہاں پہنچا، دیکھا کہ وہ درخت واقعی سرسبز و شاداب ہے۔ نقل ہے آپ نے جب اپنے پدر بزگوار کا مقبرہ تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو معمار کو بلا کر کہا کہ تعمیرِ مقبرہ کا تمام تخمینہ کاغذ پر لکھ دو تاکہ تمام خرچ یک بار تمھیں پیشگی دے دیا جائے۔ معمار نے اسی وقت تخمینہ لگا کر اور کاغذ پر لکھ کر حاضرِ خدمت کیا جو چند ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ آپ نے کاغذ کو دیکھ کر مصلّے کا کنارہ اٹھایا اور کہا: اپنے تخمینے کے مطابق مطلوبہ رقم لے لو۔ معمار نے جب وُہ رقم شمار کی تو عین اپنے حساب کے مطابق پائی۔ مقبرہ کی تعمیر شروع ہو گئی مگر چند روز بعد معمار پھر حاضرِ خدمت ہُوا اور عرض کیا: حضرت وُہ رقم اندازے کے مطابق پوری نہیں ہوگی، کچھ مزید ضرورت پڑے گی۔ فرمایا: تیرے لکھے ہوئے کے مطابق مجھے غیب سے جو عطا ہُوا تھا۔ تجھے دے دیا۔ اب دوبارہ مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اِن شاءاللہ اسی میں سب کچھ پُورا ہوگا۔
۱۰۸۰ھ میں بعہدِ عالمگیر وفات پائی۔ مزار بمقام حجرہ واقع ہے۔
چوں صفی شد از جہاں باصد صفا
واں ’’صفی اللہ ولیِ محتشم‘‘!
۱۰۸۰ھ
رحلت آں شاہِ مخدومِ سعید
ہم ’’صفی اللہ مخدومِ سعید‘‘
۱۰۸۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safi-allah-saif-ur-rehman
scholars.pk
Hazrat Shah Safi Allah Saif-ur-Rehman
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ محمد اعظم چشتی احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حضرت شیخ محمد چشتی قدس سرہ کے فرزند بھی تھے اور خلیفہ بھی آپ چشتیہ سلسلہ کے علاوہ قادریہ نقشبندیہ اور سہروردیہ سلسلوں سے بھی خلافت ملی تھی آپ نے اپنے والد کے سجادہ نشین ہوئے ظاہری اور باطنی علوم میں درجۂ کمال کو پہنچے۔آپ کی چالیس کتابیں یادگارِ علمی رہیں اور ہزاروں مرید سلسلہ کو پھیلاتے رہے سماع کی مجالس میں آپ کو وجد اور رقت طاری رہتی نو ربیع الاوّل ۱۰۴۲ھ میں فوت ہوئے اور آپ کا مزار احمد آباد میں ہے۔
بعطمت شد چو در خلد معلّی
محمد اعظم آن فرخندہ انجام
وصالش فضل اسلام است پیدا
۱۰۴۲ھ
دگر از دل عیاں شد شیخ اسلام
۱۰۴۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-azam-chishti-ahmedabadi
آپ حضرت شیخ محمد چشتی قدس سرہ کے فرزند بھی تھے اور خلیفہ بھی آپ چشتیہ سلسلہ کے علاوہ قادریہ نقشبندیہ اور سہروردیہ سلسلوں سے بھی خلافت ملی تھی آپ نے اپنے والد کے سجادہ نشین ہوئے ظاہری اور باطنی علوم میں درجۂ کمال کو پہنچے۔آپ کی چالیس کتابیں یادگارِ علمی رہیں اور ہزاروں مرید سلسلہ کو پھیلاتے رہے سماع کی مجالس میں آپ کو وجد اور رقت طاری رہتی نو ربیع الاوّل ۱۰۴۲ھ میں فوت ہوئے اور آپ کا مزار احمد آباد میں ہے۔
بعطمت شد چو در خلد معلّی
محمد اعظم آن فرخندہ انجام
وصالش فضل اسلام است پیدا
۱۰۴۲ھ
دگر از دل عیاں شد شیخ اسلام
۱۰۴۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-azam-chishti-ahmedabadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Azam Chishti Ahmedabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ نجم الدین محمد الامکانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ علاء الدولۃ سمنانی کے مرید تھے کشف و کرامت، زہدوتقویٰ میں بے مثال تھے آپ (۸۰) سال کی عمر میں ۷۷۸ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار حصار میں مرجع خلائق رہا ہے۔
مقتدائے جہاں ولی اللہ
سالِ تاریخ رحلت آں شاہ
شیخ اکبر شریف نجم الدین
گفت سرور شریف نجم الدین
۷۷۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najamuddin-muhammad-al-makani
آپ شیخ علاء الدولۃ سمنانی کے مرید تھے کشف و کرامت، زہدوتقویٰ میں بے مثال تھے آپ (۸۰) سال کی عمر میں ۷۷۸ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار حصار میں مرجع خلائق رہا ہے۔
مقتدائے جہاں ولی اللہ
سالِ تاریخ رحلت آں شاہ
شیخ اکبر شریف نجم الدین
گفت سرور شریف نجم الدین
۷۷۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-najamuddin-muhammad-al-makani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Najamuddin Muhammad Al-Makani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ محمد معصوم سرہندی۔ کنیت: ابوالخیر۔لقب: قیوم ثانی،عروۃ الوثقیٰ،مجددالدین۔سلسلہ نسب: اس طرح ہے:خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی بن شیخ عبدالاحدبن شیخ زین العابدین بن شیخ عبدالحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیرالدین بن شیخ سلیمان۔آپ کاشجرۂ نسب امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق اعظم سےجاکر ملتا ہے۔الیٰ آخرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 10/شوال المکرم 1007ھ مطابق اوائل مئی 1599ء کوہوئی۔کیونکہ ان کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہم حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کی ملازمت سے مشرف ہوئے اور ان کی خدمت میں دیکھا جو کچھ دیکھا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبند: 344)
ایام طفولیت: لڑکپن ہی میں آپ کے والد بزرگوار آپ کی بلند استعداد کی تعریف کیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ لڑکا محمدی المشرب ہے۔ چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :از فرزندی محمد معصوم چہ نویسد کہ وے بالذات قابل ایں دولت است یعنی ولایت خاصہ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے قابل ہے۔ اور یہ بھی فرماتے تھے کہ محمد معصوم کی بلند استعداد کی وجہ یہ تھی کہ تین سال کی عمر میں حرف توحید آپ کی زبان سے نکلا۔ اور یوں کہنے لگے کہ میں آسمان ہوں، میں زمین ہوں، میں یہ ہوں، میں وہ ہوں،دیوار حق ہے۔ حضرت شیخ نے اُس وقت فرمایا کہ اس طریق میں پیر و جوان برابر ہیں۔ اور انوار فیوض کے وصول میں عورتیں اور بچے مساوی ہیں۔
تحصیلِ علم: حضرت مجدد آثارِ رشد کو دیکھ کر آپ پرنظر ِعنایت رکھتے، اور فرماتے تھے کہ چونکہ علم مبدءِ حال ہے۔ا س کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے حضرت نے آپ کو علوم معقول و منقول کی تحصیل کی ہدایت کی۔ اکثر علوم آپ نے اپنے والد بزرگوار سے اور کچھ اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد صادق اور شیخ محمد طاہر لاہوری سے پڑھے۔چودہ سال کی عمر میں آپ نے واقعہ میں دیکھا کہ میرے بدن سے ایک نور نکلتا ہے کہ اُس سے تمام عالم منور ہے۔ اور وہ نور عالم کے ہر ذرہ میں ساری ہے۔ مثل آفتاب کے کہ اگر وہ غروب ہوجائے تو عالم تاریک ہے۔ آپ نے یہ واقعہ اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں عرض کیا۔ تو حضرت نے آ پ کو بدیں الفاظ بشارت دی۔ تو قطب وقت خویش مے شوی و ایں سخن از من یاد دار (مکتوبات معصومیہ۔ جلد اول۔ مکتوب ۸۶)
چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا کہ ایک جہان آپ کے انوار و برکات سے معمور ہوگیا۔ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔ کہ بابا! تحصیل علوم سے جلدی فارغ التحصیل ہوجاؤ۔ کیونکہ ہم کو تم سے بڑے بڑے کام لینے ہیں۔ غرض حضرت کی توجہ سے آپ سولہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔بعد ازاں ہمہ تن متوجہ باطن ہوئے۔ اور عنایت الٰہی سے اپنے والد بزرگوار کے احوال و اسرار خاصہ سے حظ وافر حاصل کیا۔صاحب زبدۃ المقامات نے لکھا ہے کہ ایک روز میں نے خود حضرت مجدد سے سنا کہ فرماتے تھے کہ محمد معصوم کا حال روز بروز میری نسبتوں کے حاصل کرنے میں صاحب شرح وقایہ (صدرالشریعہ عبیداللہ) کا سا ہے۔ جو شرح وقایہ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ میرے دادا (تاج الشریعہ محمود) بمقدار سبق تصنیف کرتے تھے۔ میں اُسی قدر حفظ کرلیتا تھا۔ یہاں تک کہ جس روز وقایہ کی تصنیف ختم ہوئی اسی روز میرا حفظ کرنا ختم ہوا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:345)
بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی امام ربانی مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کی تربیت وتوجہ سے قیومِ زمان اور غوث دوراں کے منصب پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص: قیومِ ثانی،غوثِ صمدانی،عارفِ اسرار رحمانی،جانشینِ امام ربانی،جگر گوشۂ مجدد الفِ ثانی، ابوالخیر حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نقشبندی مجددی۔ آپ اپنے والد ِ گرامی حضرت امام ربانی کےجانشین کامل اور عُلُوِّمرتبہ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ نے
حضرت مجدد الفِ ثانی کی جانشینی اور دینِ اسلام کی خدمت اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی کی ترویج واشاعت کا حق ادا کردیا۔آپ کی برکت سے سلسلہ عالیہ ہند سندھ،ایران،افغانستان،اور مشرق ِ وُسطیٰ،حجاز ویمن اور روم وغیرہ تک جا پہنچا۔
فضائل و مناقب:آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو خلعت قیومیت کی بشارت دی۔ چنانچہ ایک مکتوب میں آپ کو اور خواجہ محمد سعید رحمہا اللہ تعالیٰ کو یوں تحریر فرماتے ہیں: ’’کل نماز فجر کے بعد میں خاموش بیٹھا تھا کہ ظاہر ہوا کہ جو خلعت مجھ پر تھی وہ مجھ سے جدا ہوگئی۔ اور یہ آرزو ہوئی کہ اگر وہ دی جائے تو میرے فرزند ارشد محمد معصوم کو دی جائے۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ میرے بیٹے کو عطا کی گئی۔ اور اُسے پوری پوری پہنادی گئی۔ اس خلعت زائلہ سے مراد معاملہ قیومیت تھا۔ جس کا تعلق تربیت و ارشاد سے تھا۔ اور اس مجمع گاہ سے تعلق کا سبب یہی معاملہ قیومیت تھا۔ا ور اس نئی خلعت کا معاملہ جب انجام کو پہنچے گا اور اتارنے کے لائق ہوجائے
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ محمد معصوم سرہندی۔ کنیت: ابوالخیر۔لقب: قیوم ثانی،عروۃ الوثقیٰ،مجددالدین۔سلسلہ نسب: اس طرح ہے:خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی بن شیخ عبدالاحدبن شیخ زین العابدین بن شیخ عبدالحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیرالدین بن شیخ سلیمان۔آپ کاشجرۂ نسب امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق اعظم سےجاکر ملتا ہے۔الیٰ آخرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 10/شوال المکرم 1007ھ مطابق اوائل مئی 1599ء کوہوئی۔کیونکہ ان کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہم حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کی ملازمت سے مشرف ہوئے اور ان کی خدمت میں دیکھا جو کچھ دیکھا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبند: 344)
ایام طفولیت: لڑکپن ہی میں آپ کے والد بزرگوار آپ کی بلند استعداد کی تعریف کیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ لڑکا محمدی المشرب ہے۔ چنانچہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :از فرزندی محمد معصوم چہ نویسد کہ وے بالذات قابل ایں دولت است یعنی ولایت خاصہ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے قابل ہے۔ اور یہ بھی فرماتے تھے کہ محمد معصوم کی بلند استعداد کی وجہ یہ تھی کہ تین سال کی عمر میں حرف توحید آپ کی زبان سے نکلا۔ اور یوں کہنے لگے کہ میں آسمان ہوں، میں زمین ہوں، میں یہ ہوں، میں وہ ہوں،دیوار حق ہے۔ حضرت شیخ نے اُس وقت فرمایا کہ اس طریق میں پیر و جوان برابر ہیں۔ اور انوار فیوض کے وصول میں عورتیں اور بچے مساوی ہیں۔
تحصیلِ علم: حضرت مجدد آثارِ رشد کو دیکھ کر آپ پرنظر ِعنایت رکھتے، اور فرماتے تھے کہ چونکہ علم مبدءِ حال ہے۔ا س کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے حضرت نے آپ کو علوم معقول و منقول کی تحصیل کی ہدایت کی۔ اکثر علوم آپ نے اپنے والد بزرگوار سے اور کچھ اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد صادق اور شیخ محمد طاہر لاہوری سے پڑھے۔چودہ سال کی عمر میں آپ نے واقعہ میں دیکھا کہ میرے بدن سے ایک نور نکلتا ہے کہ اُس سے تمام عالم منور ہے۔ اور وہ نور عالم کے ہر ذرہ میں ساری ہے۔ مثل آفتاب کے کہ اگر وہ غروب ہوجائے تو عالم تاریک ہے۔ آپ نے یہ واقعہ اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں عرض کیا۔ تو حضرت نے آ پ کو بدیں الفاظ بشارت دی۔ تو قطب وقت خویش مے شوی و ایں سخن از من یاد دار (مکتوبات معصومیہ۔ جلد اول۔ مکتوب ۸۶)
چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا کہ ایک جہان آپ کے انوار و برکات سے معمور ہوگیا۔ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔ کہ بابا! تحصیل علوم سے جلدی فارغ التحصیل ہوجاؤ۔ کیونکہ ہم کو تم سے بڑے بڑے کام لینے ہیں۔ غرض حضرت کی توجہ سے آپ سولہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔بعد ازاں ہمہ تن متوجہ باطن ہوئے۔ اور عنایت الٰہی سے اپنے والد بزرگوار کے احوال و اسرار خاصہ سے حظ وافر حاصل کیا۔صاحب زبدۃ المقامات نے لکھا ہے کہ ایک روز میں نے خود حضرت مجدد سے سنا کہ فرماتے تھے کہ محمد معصوم کا حال روز بروز میری نسبتوں کے حاصل کرنے میں صاحب شرح وقایہ (صدرالشریعہ عبیداللہ) کا سا ہے۔ جو شرح وقایہ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ میرے دادا (تاج الشریعہ محمود) بمقدار سبق تصنیف کرتے تھے۔ میں اُسی قدر حفظ کرلیتا تھا۔ یہاں تک کہ جس روز وقایہ کی تصنیف ختم ہوئی اسی روز میرا حفظ کرنا ختم ہوا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:345)
بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی امام ربانی مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپ کی تربیت وتوجہ سے قیومِ زمان اور غوث دوراں کے منصب پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص: قیومِ ثانی،غوثِ صمدانی،عارفِ اسرار رحمانی،جانشینِ امام ربانی،جگر گوشۂ مجدد الفِ ثانی، ابوالخیر حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی نقشبندی مجددی۔ آپ اپنے والد ِ گرامی حضرت امام ربانی کےجانشین کامل اور عُلُوِّمرتبہ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ نے
حضرت مجدد الفِ ثانی کی جانشینی اور دینِ اسلام کی خدمت اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی کی ترویج واشاعت کا حق ادا کردیا۔آپ کی برکت سے سلسلہ عالیہ ہند سندھ،ایران،افغانستان،اور مشرق ِ وُسطیٰ،حجاز ویمن اور روم وغیرہ تک جا پہنچا۔
فضائل و مناقب:آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو خلعت قیومیت کی بشارت دی۔ چنانچہ ایک مکتوب میں آپ کو اور خواجہ محمد سعید رحمہا اللہ تعالیٰ کو یوں تحریر فرماتے ہیں: ’’کل نماز فجر کے بعد میں خاموش بیٹھا تھا کہ ظاہر ہوا کہ جو خلعت مجھ پر تھی وہ مجھ سے جدا ہوگئی۔ اور یہ آرزو ہوئی کہ اگر وہ دی جائے تو میرے فرزند ارشد محمد معصوم کو دی جائے۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ میرے بیٹے کو عطا کی گئی۔ اور اُسے پوری پوری پہنادی گئی۔ اس خلعت زائلہ سے مراد معاملہ قیومیت تھا۔ جس کا تعلق تربیت و ارشاد سے تھا۔ اور اس مجمع گاہ سے تعلق کا سبب یہی معاملہ قیومیت تھا۔ا ور اس نئی خلعت کا معاملہ جب انجام کو پہنچے گا اور اتارنے کے لائق ہوجائے
❤1