Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ صفی اللہ سیف الرحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سیّد شاہ مقیم محکم الدین صاحب حجرہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ جامع علومِ ظاہر و باطنی اور واقفِ رموزِ صوری و معنوی تھے۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ آپ کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا ویسا ہی ظہور میں آتا تھا اس لیے سیف الرحمٰن مشہور ہُوئے۔
نقل ہے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے باغ کا فلاں درخت خشک ہوگیا ہے۔ فرمایا: نہیں سرسبز ہے۔ وہ شخص فوراً بنظرِ امتحان وہاں پہنچا، دیکھا کہ وہ درخت واقعی سرسبز و شاداب ہے۔ نقل ہے آپ نے جب اپنے پدر بزگوار کا مقبرہ تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو معمار کو بلا کر کہا کہ تعمیرِ مقبرہ کا تمام تخمینہ کاغذ پر لکھ دو تاکہ تمام خرچ یک بار تمھیں پیشگی دے دیا جائے۔ معمار نے اسی وقت تخمینہ لگا کر اور کاغذ پر لکھ کر حاضرِ خدمت کیا جو چند ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ آپ نے کاغذ کو دیکھ کر مصلّے کا کنارہ اٹھایا اور کہا: اپنے تخمینے کے مطابق مطلوبہ رقم لے لو۔ معمار نے جب وُہ رقم شمار کی تو عین اپنے حساب کے مطابق پائی۔ مقبرہ کی تعمیر شروع ہو گئی مگر چند روز بعد معمار پھر حاضرِ خدمت ہُوا اور عرض کیا: حضرت وُہ رقم اندازے کے مطابق پوری نہیں ہوگی، کچھ مزید ضرورت پڑے گی۔ فرمایا: تیرے لکھے ہوئے کے مطابق مجھے غیب سے جو عطا ہُوا تھا۔ تجھے دے دیا۔ اب دوبارہ مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اِن شاءاللہ اسی میں سب کچھ پُورا ہوگا۔
۱۰۸۰ھ میں بعہدِ عالمگیر وفات پائی۔ مزار بمقام حجرہ واقع ہے۔
چوں صفی شد از جہاں باصد صفا
واں ’’صفی اللہ ولیِ محتشم‘‘!
۱۰۸۰ھ
رحلت آں شاہِ مخدومِ سعید
ہم ’’صفی اللہ مخدومِ سعید‘‘
۱۰۸۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safi-allah-saif-ur-rehman
سیّد شاہ مقیم محکم الدین صاحب حجرہ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ جامع علومِ ظاہر و باطنی اور واقفِ رموزِ صوری و معنوی تھے۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ آپ کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا ویسا ہی ظہور میں آتا تھا اس لیے سیف الرحمٰن مشہور ہُوئے۔
نقل ہے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے باغ کا فلاں درخت خشک ہوگیا ہے۔ فرمایا: نہیں سرسبز ہے۔ وہ شخص فوراً بنظرِ امتحان وہاں پہنچا، دیکھا کہ وہ درخت واقعی سرسبز و شاداب ہے۔ نقل ہے آپ نے جب اپنے پدر بزگوار کا مقبرہ تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو معمار کو بلا کر کہا کہ تعمیرِ مقبرہ کا تمام تخمینہ کاغذ پر لکھ دو تاکہ تمام خرچ یک بار تمھیں پیشگی دے دیا جائے۔ معمار نے اسی وقت تخمینہ لگا کر اور کاغذ پر لکھ کر حاضرِ خدمت کیا جو چند ہزار روپے پر مشتمل تھا۔ آپ نے کاغذ کو دیکھ کر مصلّے کا کنارہ اٹھایا اور کہا: اپنے تخمینے کے مطابق مطلوبہ رقم لے لو۔ معمار نے جب وُہ رقم شمار کی تو عین اپنے حساب کے مطابق پائی۔ مقبرہ کی تعمیر شروع ہو گئی مگر چند روز بعد معمار پھر حاضرِ خدمت ہُوا اور عرض کیا: حضرت وُہ رقم اندازے کے مطابق پوری نہیں ہوگی، کچھ مزید ضرورت پڑے گی۔ فرمایا: تیرے لکھے ہوئے کے مطابق مجھے غیب سے جو عطا ہُوا تھا۔ تجھے دے دیا۔ اب دوبارہ مانگتے ہوئے شرم آتی ہے اِن شاءاللہ اسی میں سب کچھ پُورا ہوگا۔
۱۰۸۰ھ میں بعہدِ عالمگیر وفات پائی۔ مزار بمقام حجرہ واقع ہے۔
چوں صفی شد از جہاں باصد صفا
واں ’’صفی اللہ ولیِ محتشم‘‘!
۱۰۸۰ھ
رحلت آں شاہِ مخدومِ سعید
ہم ’’صفی اللہ مخدومِ سعید‘‘
۱۰۸۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safi-allah-saif-ur-rehman
scholars.pk
Hazrat Shah Safi Allah Saif-ur-Rehman
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ محمد اعظم چشتی احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حضرت شیخ محمد چشتی قدس سرہ کے فرزند بھی تھے اور خلیفہ بھی آپ چشتیہ سلسلہ کے علاوہ قادریہ نقشبندیہ اور سہروردیہ سلسلوں سے بھی خلافت ملی تھی آپ نے اپنے والد کے سجادہ نشین ہوئے ظاہری اور باطنی علوم میں درجۂ کمال کو پہنچے۔آپ کی چالیس کتابیں یادگارِ علمی رہیں اور ہزاروں مرید سلسلہ کو پھیلاتے رہے سماع کی مجالس میں آپ کو وجد اور رقت طاری رہتی نو ربیع الاوّل ۱۰۴۲ھ میں فوت ہوئے اور آپ کا مزار احمد آباد میں ہے۔
بعطمت شد چو در خلد معلّی
محمد اعظم آن فرخندہ انجام
وصالش فضل اسلام است پیدا
۱۰۴۲ھ
دگر از دل عیاں شد شیخ اسلام
۱۰۴۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-azam-chishti-ahmedabadi
آپ حضرت شیخ محمد چشتی قدس سرہ کے فرزند بھی تھے اور خلیفہ بھی آپ چشتیہ سلسلہ کے علاوہ قادریہ نقشبندیہ اور سہروردیہ سلسلوں سے بھی خلافت ملی تھی آپ نے اپنے والد کے سجادہ نشین ہوئے ظاہری اور باطنی علوم میں درجۂ کمال کو پہنچے۔آپ کی چالیس کتابیں یادگارِ علمی رہیں اور ہزاروں مرید سلسلہ کو پھیلاتے رہے سماع کی مجالس میں آپ کو وجد اور رقت طاری رہتی نو ربیع الاوّل ۱۰۴۲ھ میں فوت ہوئے اور آپ کا مزار احمد آباد میں ہے۔
بعطمت شد چو در خلد معلّی
محمد اعظم آن فرخندہ انجام
وصالش فضل اسلام است پیدا
۱۰۴۲ھ
دگر از دل عیاں شد شیخ اسلام
۱۰۴۲ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-azam-chishti-ahmedabadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Azam Chishti Ahmedabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1