🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:
خواجہ محمد فیض اللہ۔لقب: شیخ العارفین۔ علاقہ تیراہ کی نسبت سے’’تیراہی‘‘ کہلاتے ہیں۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ محمد فیض اللہ بن خان محمد بن علی محمد بن شیخ سلیمان بن سلطان شیخ الاسلام بن عبدالرسول بن عبدالحئی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ امام رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبداللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ کابلی بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبداللہ (الواعظ الاصغر) بن شیخ عبداللہ (الواعظ الاکبر) بن شیخ ابوالفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبداللہ بن سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔آپ کا شجرۂ نسب 34 واسطوں سے خلیفہ دوم امیر المؤنین سیّدنا عمر فاروق اعظم ﷜ٰ عنہ سے ملتا ہے۔(تاریخ مشائخِ نقشبند:456)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1143ھ مطابق 1730ء کو تیزئی شریف نزد وادیِ تیراہ (اس وادی کا اکثر کاحصہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر مشتمل ہے،اور کچھ حصہ افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں ہے)میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کا خاندان ایک علمی وروحانی خاندان تھا۔ درس وتدریس وعظ ونصیحت ان کا آبائی سلسلہ تھا۔آپ کے والد ماجد حضرت قاضی خان محمد موضع شادی خیل نزد شہر کوہاٹ (سرحد) میں درس دیا کرتے تھے اور فتویٰ نویسی میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ فنِ تحریر میں اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ عالم اجل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ حلقہ درس و تدریس اتنا وسیع تھا کہ دُور دُور سے لوگ آکر استفادہ کرتے تھے۔ آپ نے بھی علومِ متداولہ کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کرکے اکیس سال کی عمر میں فراغت حاصل کرلی۔

بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت وتلاش مرشد کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ آپ علومِ ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد علومِ باطنی کے حصول کے لیے پیرِ کامل کی تلاش شروع فرمائی۔ چونکہ آپ شریعت مطہرہ پر سختی کے ساتھ پابند تھے اور خلافِ شرع ذرّہ برابر بھی بات گوارا نہ تھی لہذااس پر عمل پیرا ہو کر تلاش میں نکلے۔ ایک بزرگ کی شہرت سُن کر اُن کی زیارت کےلئے گئے۔ وہ اُس وقت نماز میں مشغول تھے اور اُن کے پاؤں کا درمیانی فاصلہ حدِ شرع کے خلاف تھا۔ آپ یہ دیکھ کر برداشت نہ کرسکے اور اُلٹے پاؤں واپس آگئے اور فرمایا کہ جس فقیر میں شرع کی پابندی نہیں ہے وہ مجھے کیا فیض پہنچائے گا۔ بعد ازاں ایک بزرگ کا شہرہ سُن کر وہاں گئے تو دیکھا کہ اُس کے مرید بھنگ رگڑ رہے ہیں اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ’’آؤ بابا! خوب وقت پر آئے‘‘۔ وہ فقیر صاحبِ کشف تھے، یہ سُن کر آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ بھائی ان کو مت پلاؤ۔ یہ تو نماز میں پاؤں کے خلافِ شرع معمولی فاصلہ سے بھاگے ہیں یہاں تو فرسنگوں اور کوسوں کا فاصلہ ہے۔ یہاں یہ کیوں کر آنے لگے ہیں۔ ان کا حصّہ تو حافظ محمد جمال اللہ رام پوری صاحب کے پاس ہے۔

حضرت شاہ جمال اللہ رام پوری کی خدمت میں:
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرّہ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی کے حملہ کی خبر سُن کر آپ نے فنون سپہ گری کی تربیّت حاصل کی اور احمد شاہ ابدالی کی فوج میں بھرتی ہوگئے۔ نہایت ہی قلیل عرصہ میں سپہ سالاری کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوکر قلعۂ رام پور میں تعینات ہوگئے۔ ماہانہ تنخواہ کا اکثر حصہ فقراء و صلحاء کی خدمت میں نذر کردیتے تھے۔ اپنی گوناگوں خوبیوں اور قدسی صفات کی بدولت ادب و احترام کے مستحق گردانے جاتے تھے اور ہر کوئی دیدہ و دل فرشِ راہ کرتا تھا۔ ایک دن حضرت اقدس (شاہ جمال اللہ) قلعہ کی سیر کو نکلے تو اُن کے ساتھ بہت سے خلفاء و مریدین تھے۔ جب آپ نے حضرت اقدس شاہ جمال قدس سرّہ کو ایک نظر دیکھا تو دل کا دروازہ کھل گیا۔ دل کا دروازہ کھلنا ہی کرم کی علامت ہوتی ہے۔ کرم کا ہاتھ اٹھا اور صدا مقبول ہو گئی۔ فوراً قلعہ کی دیوار سے اُترے اور حاضر خدمت ہوکر سر قدموں میں رکھ دیا۔ بے ہوش ہوگئے، جب ہوش میں آئے تو عجیب کیفیت تھی۔

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہونے کی استدعا کی۔ میخانۂ مرشد سے ایک لازوال نشہ اور سرشاری عطا ہوئی۔ بیعت کرنے کے بعد شاہ جمال اللہ قدس سرّہ نے آپ کو حضرت شاہ محمد عیسیٰ ﷫ کے سپرد کردیا کہ اس کی تکمیل تمہارے ذمّے ہے۔کچھ عرصہ بعد حضرت خواجہ محمد عیسیٰ قدس سرہ اپنے وطن مالوف واپس ہوئے تو خواجہ محمد فیض اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت شاہ جمال اللہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر باشی پر مامور کردیا۔ آپ نے ملازمت کو خیر باد کہہ دیا اور ہمہ تن مرشدِ گرامی کی خدمت میں کمر بستہ ہوگئے۔ چار سال خدمت میں رہنے کے بعد حضرت شاہ جمال اللہ نے آپ کو وطن واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس طرح آپ تقریباً اٹھارہ سال بعد وطن واپس آئے تو کوہاٹ شہر کے نواحی گاؤں ڈوڈہ (دادر شریف) میں تشریف لائے جہاں، آپ کے بزرگوں کے واقف کار لوگ رہتے تھے ۔ اُن دنوں
1
وہاں تپ شدید کی وبا پھیلی ہوئی تھی بدیں وجہ خلقت نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر تعویذات و دم کرانا شروع کردیا۔ جو کہ بہت اثر پذیر ثابت ہوا۔ آپ وہاں چھ ماہ ٹھہرے اور خلقِ خدا کو ظاہری و باطنی فیض سے نوازا۔

سیرت وخصائص: صاحبِ فیضِ اثر،عالم وعارفِ اکمل،شیخ العلماء والصلحاء،قدوۃ الاولیاء حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی﷫۔آپ﷫ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےعظیم روحانی شیخ ہیں۔سلسلہ عالیہ کےفروغ میں آپ کا اہم کردار ہے۔بالخصوص سرحد،افغانستان،اور شمالی مغربی علاقہ جات میں اس سلسلے کو عام کیا۔آپ کے فیض سےایک کثیر مخلوق خدا فیض یاب ہوئی۔فساق وفجار آپ کی دعوت وارشاد سے تائب متقی فرمانبردار بن گئے۔دین اسلام کی خوب خدمت فرمائی۔آپ کےوالد گرامی اپنے علاقے کےعالم ربانی تھے،درس وتدریس ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ان علاقوں کے اکثر جید علماء آپ کے والد صاحب کے شاگردتھے۔

شادی ونکاح: آپ رام پور سے واپسی پر کوہاٹ تشریف لائے،اور دورانِ قیام قاضی عبدالحمید مفتیِ علاقہ کوہاٹ نے اپنی صاحبزادی آپ کے نکاح میں دینے کی خواہش ظاہر کی جو علم فقہ و حدیث میں مہارتِ تامہ اور یدِ طولیٰ رکھتی تھی۔ آپ نے ارشاد کیا کہ میں آج استخارہ کروں گااور مجھے جو کچھ حکم ہوگا، اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ چنانچہ آپ کو استخارہ میں ارشارہ ہوا کہ یہ نکاح سرزمینِ ہند کے لیے باعثِ برکت و رحمت ہوگا اور اس کے نُور سے ارد گرد کے ملکوں میں اسلام کی روشنی پھیلے گی چنانچہ استخارے کی یہ خبر سُن کر مفتی صاحب خوش ہوئے اور آپ سے اپنی لڑکی کا نکاح کردیا۔ پھر آپ اپنے گھر تیزئی شریف علاقہ تیراہ(افغانستان) تشریف لے گئے۔

آپ کی پہلی بیوی جو کہ آپ کے والد مکرّم کی حیاتِ مبارکہ میں نکاح میں آئی تھیں، کے بطن سے ایک لڑکی تھی جو اب انیس برس کی ہوچکی تھی۔ جب آپ اپنے مکان پر پہنچے تو پہلی تو پہلی بیوی نے اٹھارہ برس کی طویل مدّت کے بعد آپ کو دیکھا تو پہنچاننے سے انکار کردیا کہ آپ جوانی کے عالم میں لباسِ سپہ گری میں گھر سے روانہ ہوئے تھے اور ڈاک کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے اپنی خیریّت کی کوئی اطلاع گھر نہ دے سکے تھے۔ پہلی بیوی نے کہا کہ میں کیسے یقین کروں کے آپ میرے خاوند ہیں۔ میں غیر محرم کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

اسی طرح تین ماہ تک آپ اپنی چھوٹی بیوی صاحبہ کے ہمراہ دوسری جگہ اُسی گاؤں میں رہے۔ اتفاقاً ایک دن ایک جنازہ پر مولوی شیر محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوگئی جوکہ ایّام تعلیم میں آپ کے ہم درس رہے تھے۔ آپ نے مولوی صاحب کو تمام ماجرا سنایا کہ قدرتِ الٰہی ہے کہ کوئی شخص مجھے پہچان نہیں رہا ہے۔ اور تو اور بیوی نے بھی پہچاننے سے انکار کردیا ہے اور مجھے غیر محرم گردانتے ہوئے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اب اپنے ہی گاؤں میں ایک مسافر کی سی زندگی بسر کر رہا ہوں۔مولوی شیر محمد رحمۃ اللہ علیہ نے گاؤں کے لوگوں کو اکھٹا کیا اور بتایا کہ یہ خواجہ محمد فیض اللہ ہی ہیں۔ میں نے عرصہ تک اِن کے والد بزرگوار کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا ہے اور یہ میرے ہم سبق رہے ہیں۔ یہ سن کر سب لوگوں کو تصدیق اور اطمینان ہوا اور آپ کی پہلی بیوی نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ اور سب خوش و خرم رہنے لگے۔ دونوں بیویاں باہم شیر و شکر ہوگئیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ فرزندوں سے نوازا جو سب برگزیدہ اور صاحب باطن تھے خواجہ نور محمد، خواجہ گل محمد، خواجہ جان محمد، خواجہ صالح محمد، خواجہ محمد نور رحمۃ اللہ علیہم۔

اللہ جل شانہ نے آپ کو روحانیت علم اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ ایسے کمالات عطاء فرمائے تھے،جن سے اکابر صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ اپنی کرامات کو بہت پوشیدہ رکھتےتھے۔اس کےباوجود آپ کی بہت سی کرامات زبان و عام ہیں۔

خشک درخت سرسبز ہوگیا: ایک دفعہ دورانِ سفر آپ تھک کر بیٹھ گئے۔ چند مسافر اور بھی آکر وہاں ٹھہر گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اُن میں سے ایک نے آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون شخص ہے؟ دوسرے نے کہا کہ کوئی فقیر و درویش ہوگا! تیسرے نے کہا کہ اگر یہ فقیر ہوتا تو وہ سامنے والا خشک درخت، سر سبز نہ ہوجاتا۔ یہ سن کر آپ نے دعا فرمائی تو وہ درخت اسی وقت سر سبز و شاداب ہوگیا۔ پھُول پھل بھی لگ گئے۔(2)تیزئی شریف میں مسجد کے قریب ایک بلند چبوترے پر زیتون کے دو بڑے موٹے موٹے درخت تھے جو کہ عرصۂ دراز سے خشک ہوگئے تھے۔ آپ نے ان درختوں کے سہارے بیٹھ کر مطالعہ فرمایا کرتے تھے اور جب کبھی پانی نوش فرماتے تو باقی ماندہ پانی اُن کے دامن میں ڈال دیتے تھے۔ آپ کی برکت سے دونوں درخت ایک ماہ کے اندر اندر سر سبز و شاداب ہوگئے اور اب تک اُسی حالت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ زیارت کرچکے ہیں۔

آپ کی برکت سے پانی کا چشمہ ظاہر ہوا: پانی کی سخت قلّت و تکلیف کی وجہ سے تیزئی شریف کے لوگوں نے عرض کیا کہ دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کہیں سے چشمہ نکل آئے۔ آپ نے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ جگہ کھودو
۔ حسب الحکم عمل کیا گیا۔ ابھی چند گز ہی زمین کھودی گئی تھی کہ آبِ شیریں کا چشمہ نمودار ہوا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ آپ کے کشف و کرامات کے قائل ہوگئے اور بہت سے مخالف لوگ بھی حلقہ میں داخل ہوکر سعادتِ بیعت سے مشرف ہوئے۔ وہ چشمہ تاحال جاری و ساری ہے۔

آپ نے اپنی زندگی مبارک کا بیشتر حصہ دور رداز کے سفر میں گزارا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر سعادت دین و دنیا سے مشرف ہوئے۔ آخری عمر میں کمزور ہوگئے تھے جس کی وجہ سے پالکی میں سوار ہوکر سفر فرمایا کرتے تھے۔ زبانِ اقدس میں اتنی تاثیر تھی جو کچھ بھی ارشاد فرماتے پُورا ہوجاتا اور نہایت شیریں اور شخصیّت جاذبِ نظر تھی۔ اکثر لوگ تو روئے انور کو دیکھ کر ہی بیعت کرلیتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 8 ربیع الاول 1245ھ مطابق اوائل ماہِ ستمبر 1829ء کو تیزئی شریف وادیِ تیراہ افغانستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faizullah-teerahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حاجی محمد قادری نوشہ گنج بخش علوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اوصافِ جمیلہ

آپ سراج العارفین، شمس العاشقین، دلیل المتورّعین، جلیل المتصوّفین، قطب الثقلین، غوث الفریقین، سلطان الاولیا، برہان الاتقیا، امامِ صدرِ ولایت، ضیائے بدرِ ہدایت، علالۂ اصحابِ شریعت، سلالۂ اربابِ طریقت، واقفِ رموزِ حقیقت، کاشفِ اسرارِ معرفت، ہادیٔ راہِ ارشاد، وَلی مادر زاد، صاحبِ جذب و صحو و سُکر و عشق و محبت و ذوق و شوق و زُھد و ریاضت و تقوٰے و عبادت و خوارق و کرامات تھے، فقر میں مقاماتِ بلند اور شانِ ارجمند رکھتے تھے، حضرت سخی شاہ سلیمان نوری قادری بھلوالی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفۂ اعظم تھے۔

نام و لقب

آپ کا اسمِ گرامی حاجی محمد، لقبِ سامی نوشہ، خطاب گنج بخش، وارث الانبیا، غالب الاولیا، مجددِ اکبر، پہلوانِ سخی، بھُورے والہ تھا۔

نسب نامہ پدری:
آپ خاندانِ عالیشان ساداتِ صحیح النسب علوی عباسی کے معزز رکن تھے، سیادت و نجابت موروثی رکھتے تھے۔

آپ کے والد بزرگوار کا نام حاجی الحرمین الشریفین حضرت سید ابو اسمٰعیل علاو الدین حسین غازی رحمۃ اللہ علیہ تھا جو اکابر اولیائے وقت سے تھے، سات حج پیادہ چل کر کیے، اِن کا مزار گھگانوالی سے جانب نیرت ایک میل کے فاصلہ پر، موضِع بھیکھے والہ سے مغرب کی طرف اور موضع دُھنی سے مشرق کی طرف بنام ’’درگاہِ حاجی غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ‘‘ مشہور و زیارت گاہِ خلائق ہے ابن سید ابو العلاء شمس الدین سنگی شہید بن سید ابو سلیمان جلال الدین سید ابو محمد عبد اللہ ذاکِر ھُوْ بن سید صاحب الدین المعروف بہ شاہنشاہ بن سید گل محمد بن سید معز الدین بن سید اوحد الدین عبد الصمد الملقب بہ شاہ سوہند ابن سید عطاء اللہ بن سید عبد الاول زاہد بن سید محمود شاہ الملقب بہ پیر جالب بن سید کمال الدین احمد شاہ بن سید ابو المنصور جلال الدین سلطان شاہ بن سید امین الدین محمد شاہ بخت مند الملقب بہ منوّر بن سید سعید الدین سکندر شاہ بن سید برہان الدین ہبیرہ بن سید جلال الدین گوہر شاہ بن سید غر الدین الملقب بہ شاہ عزت بن سید جمال الدین اسحاق روشن ضمیر بن سید عبد الحق سجن بن سید ابو العباس زمان علی محسن بن سید ابو عبد اللہ عون قطب شاہ بغدادی بن سید یعلٰے قاسمِ بن سید حمزہ ثانی بن سید طمیار بن سید قاسم بن سید علی بن سید جعفر بن سید ابو القاسم حمزۃ الاکبر بن سید ابو العباس حسن بن سید ابو علی عُبید اللہ المدنی بن سید ابو الفضل عباسی علم دار شہیدِ کربلا بن حضرت سید امام ابو الحسن علی المرتضیٰ علیھم السلام والرضوان۔

ف آپ کے آبا و اجداد کے حالات میں میں نے (شرافت نے) ایک علیٰحدہ کتاب بنام تاریخ عباسی لکھی ہے۔ جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوشہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک بلکہ اپنے تک سب بزرگوں کے حالات مستند تذکروں سے لکھے ہیں۔

نسب نامہ مادری:
حضرت نوشاہِ عالیجاہ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت بی بی جیونی رحمۃ اللہ علیہ تھا جو عارفات کا ملات سے تھیں بنت شیخ عبد اللہ مفتی قصبہ بیلاں ضلع گجرات (نو مسلم) بن فرن بن جیون بن چنگا بن چوکھا بن کالا بن سٹھو بن منہاس [مورث قوم منہاس راجپوت] بن بھاؤ بن اوپر چند بن بھدر بن لوہ بن راجہ کرن بن سورج حاکم جموں۔

خاندانی حالات:
سادات علوی پہلے مدینہ طیبہ میں سکونت گزین تھے۔ ان میں سے پہلے سید ابو القاسم حمزۃ الاکبر بن حسن علوی بغداد شریف میں آبسے اور کثیر الاولاد ہوئے۔

عرس شریف:
حضرت نوشہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اعراس مبارک متعدد جگہ ہوتے ہیں۔

۱۔ بتاریخ پنجم ربیع الاول نوشہرہ شریف میں ہر سال آپ کا عُرس شریف نہایت تزک و احتشام سے ہوتا چلا آتا ہے، چنانچہ زمانہ حاضرہ میں حضرت میاں محمد فاضِل صاحب فقیر نوشاہی نوشہروی خاص اہتمام سے کیا کرتے ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-muhammad-qadri-nosha-ganj-bakhsh-alvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سخی شاہ سلیمان نوری علیہ الرحمۃ
اوصافِ جمیلہ

آپ سلطان الراسخین، دلیل العارفین، زبدۃ الاولیاء والمتقین، عمدۃ الاصفیا والموحدین، خزینۃ العلوم و الانوار، سفینۃ الارشاد و الاسرار، قطب الواصلین، غوث العالمین، سید الاوتاد، امام الافراد، صاحب جودو کرم جذب و عشق و محبت و سکر و وجد و سماع تھے۔ حضرت مخدوم شاہ معروف چشتی خوشابی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔

نام و نسب

آپ کا نام نامی سلیمان، لقب گرامی سخی بادشاہ، سخی پیر، [۱] [۱۔ حدیث شریف میں سخی کے بڑے فضایل مروی ہیں چنانچہ السخی حبیب اللہ۔ اور السخی قریب اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس (گنجینہ عرفان)] نوری، حضوری، شیخ صاحب، شاہِ شاہاں تھا۔

آپ معزز خاندان قریشی کے چشم و چراغ تھے، اور آبا و اجداد سے نعمتِ فقر موروثی رکھتے تھے، والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ المعروف میاں منگو صاحب تھا، ابن جلال الدین بن شمس الدین بن محمد مراد بن محمد صالح بن شیخ حسین بن عبد الخالق بن خدایار بن سلطان علی بن عَون بن قاسِم بن اسمٰعیل بن مظہر بن ادم بن عبد الشکور بن عبد العلی بن مطرف بن خزیمہ بن خادم بن مطرف بن عبد الرحیم بن عبد الرحمٰن بن عیار صحابی بن اسد بن مطلب بن اسد بن عبد العزّٰی بن قصَیّ بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب القرشی [۱] [۱۔ خلاصۃ العارفین ۱۲ شرافت] آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت مائی بھاگ بھری صاحبہ رحمۃ اللہ علیہ تھا۔

ولادت

آپ کی ولادت با سعادت [۱] [۱۔ تقویم ہجری و عیسوی کے رُو سے وہ جمعہ کا دن تھا اور ۷؍ جولائی ۱۵۰۸ء ماہ؍ ہاطِ ۱۵۶۵ ب تاریخ تھی ۱۲ شرافت] بتاریخ ہشتم (۸) ربیع الاول ۹۱۴ھ نو سو چودہ ہجری [۱] [۱۔ مناقباتِ نوشاہیہ ۱۲] مطابق ۱۵۰۸ء ایک ہزار پانسو آٹھ عیسوی میں بمقام بھلوال شریف ہوئی۔

تربیتِ ظاہری و باطنی

آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے آغوش عاطفت میں پرورش پائی شروع سے طبیعت میں سکریہ جذبات تھے، جب چار سالہ [۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۶۹] ہوئے تو ایک دن حضرت شاہ معروف خوشابی رحمۃ اللہ علیہ سیر فرماتے ہوئے بھلوال شریف پہنچے، اور آپ کے والد رحمۃ اللہ علیہ کے گھر شب باش ہوئے، صبح آپ کو صحن خانہ میں کھیلتے دیکھ کر کمال خوش ہوئے، اور بُشرہ سے پہچان لیا کہ یہی وہ انسان ہے، جس کے لیے ہمیں اِس علاقہ میں بھیجا گیا ہے نہایت محبت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا، اور پیشانی پر بوسہ دیا، اور آپ کے باپ کو فرمایا میاں منگو! یہ لڑکا ہماری امانت ہے، اس کو بحفاظت رکھنا، یہ ایسامرد ہوگا کہ تمام جہان اس سے مستفیض ہوگا، اگر اس کو کسی وقت بیہوشی ہوجایا کرے تو آسیب یا بیماری نہ خیال کرنا، یہ ہماری توجہ کی علامت ہوگی، اور ہم بھی اس کے حال سے غافل نہیں رہیں گے، چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت مہربانی فرما کر رخصت ہوگئے، اور بعد ازاں گاہے گاہے بھلوال شریف آکر خبر گیری اور تربیت روحانی کرتے رہے۔ [۱] [۱۔ الاعجاز (رسالہ احمد بیگ قلمی ص ۲۴)]

عالمِ بیخودی

جیسا کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا، آپ پر بیخودی طاری ہو جاتی، مدہوشی میں زمین پر گر پڑتے، منہ سے کف ظاہرہوتی، اعضا ٹیڑھے ہوجاتے سر مبارک پھر جاتا، چہرہ مونڈہوں پر جا لگتا۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۵]

واقعہ بیعت

اسی طرح جب آپ جوان ہوئے تو جذبہ الٰہی نے کشش کی، تلاش ہادی میں صحرا نور دی کرتے ہوئے خوشاب شریف میں حضرت شیخ المشایخ مجمع البحرین مخدوم شاہ معروف فارقی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے، اور اُن کے دستِ حق پرست پر بیعت طریقت کی۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۷ شرافت]

خلافت و اجازت

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ عرصہ آپ کو اپنے پاس رکھا، اور توجہات کیں، آپ کا شوق دن بدن بڑھتا گیا، اور ہر گھڑی و ہر لمحہ مراتب و درجات میں ترقی ہوتی رہی یہاں تک کہ مقصد حقیقی کو پالیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے علو مرتبت اور سمّوِ مناصب کو دیکھ کر آپ کو خلعت خلافت و اجازت سے مفتخر کیا اور فرمایا اے فرزند! جو امانت ہم کو قبلۃ العارفین حضرت مخدوم سید مبارک حقانی اوچی رحمۃ اللہ علیہ سے ملی تھی، اور اُن کو سلسلہ وار اپنے آبا و اجداد سے موصول ہوئی تھی، وہ سب تم کو دے دی ہے، اب دو تلواریں ایک نیام میں گنجائش نہیں رکھتیں، تم یہاں سے جا کر کچھ عرصہ ملکِ الٰہی کا سیر کرو، اور پھر وطنِ مالوف مقیم ہوکر لوگوں کو خدا کی طرف راہ نمائی کرو۔ [۱] [۱۔ رسالہ احمد بیگ ص ۲۸ شرافت]

بشارت خلیفہ

آخر جب آپ وداع ہونے لگے تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بیٹا! ذرا اپنی دائیں طرف نظر کرو جب مڑ کر دیکھا، تو ایک بلند قامت، یوسف صورت خضر سیرت نوجوان نظر آیا، جس کی پیشانی سے نور کے تجلیات ظاہر ہو رہے تھے، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو کچھ تم کو عنایت کیا گیا ہے، وہ سب اسی جوان کا نصیبہ ہے، یہ تمہارا خلیفہ اور روحانی جانشین ہوگا، اِس کا نام حاجی محمد نوشہ گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ہے، زمانہ میں لاثانی ہوگا، اس جوا
1
روضۂ اقدس

زمانہ دراز گذرجانے کے بعد حضرت شیخ غلام حسن بن شیخ بُڈھا سجادہ نشین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عہد خلافت میں بماہِ ہاڑ ۱۹۴۵بکرمی مطابق ۱۳۰۶ھ میں مزار پر گنبد کی تعمیر شروع کی، اثنائے تعمیر میں اُن کا انتقال ہوگیا، تو بعد  ازاں شیخ فضل حسین صاحب بھلوال نے روضہ شریف کی عمارت کو تکمیل تک پہنچایا، روضۂ اطہر عالیشان وسیع ہے، اندر چبوترہ پر پانچ قبریں ہیں، درمیانی قبر جو قدرے بلند ہے وہ حضرت سخی بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ہے، اور آپ کے متصل مشرقی قبر شیخ عبد الواحد بن شیخ رحیم داد رحمۃ اللہ علیہ کی اور اُس سے مشرقی قبر آپ کے فرزند اکبر شیخ رحیم داد رحمۃ اللہ علیہ کی، اور حضرت سخی بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ کے متصل مغربی قبر شیخ عبد الوہاب بن شیخ تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کی، اور اس سے مغربی قبر حضور کے فرزند اصغر شیخ تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔

تعالیٰ اللہ مکانے قیض دمساز
زیمنِ مقدِم اودار دآں نور



باطرافش ملائک سجدہ پرواز
کہ خاکش را فلک مے بوسد از دور

روضہ مبارک موضع بھلوال قدیم سے بفا صلہ ایک فرلانگ شمالی طرف، اور شہر بھلوال جدید منڈی سے دو میل مغرب کو برلبِ سڑک واقعہ ہے، فقیر شرافت عافاہ اللہ کئی مرتبہ زیارت سے مشرف ہوچکا ہے۔

مسجد سلیمانیہ

روضہ شریف کے متصل مسجد پختہ موجود تھی جو امتدادِ زمانہ کے باعث شہید ہوگئی، اب پھر اس سال رواں یعنی ۱۳۵۵ھ میں شیخ فضل حسین صاحب نے دوبارہ پختہ تعمیر کروائی ہے۔

ایک پورانا تالاب درگاہِ سلیمانیہ کے سامنے ہے، پہلے خام تھا، اسی سال میں شیخ صاحب مذکور نے وہ بھی پختہ بنوادیا ہے۔

تالاب سے شمالی طرف ایک حجرہ خام تھا، جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس میں حضرت نوشہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ معتکف رہے تھے، اب اِس سال میں بابا غلام رسول درویش نے بایمائے روحانی میاں محمد فاضل صاحب نوشاہی سُندر پوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے خرچ سے وہ بھی پختہ بنوادیا ہے۔

مسافروں اور مجاوروں کے لیے ایک دائرہ مسقف بنا ہوا ہے، چند مکانات بھی ہیں، سایہ دار درخت بہت ہیں، چاہِ رواں بھی پاس ہے، لیکن پانی قدرے شور ہے، سجادہ نشین کے رہایشی کے مکانات بھی وہیں موجود ہیں، روضہ شریف کے آس پاس پورانا قبرستان ہے۔

عرس شریف

آپ کا عرس مبارک ابتدا سے ہر سال بتاریخ ہفتم محرم الحرام ہوتا ہے، اب حضرت شیخ فیض احمد صاحب سجادہ نشین نے ۱۳۲۴ھ سے ہر سال درگاہِ عالیہ پر پانچویں ماہِ ہاڑ کمیلہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے، جس پر ہزاروں لوگوں کا اجتماع ہوجاتا ہے۔

ن کا شہرہ ہندو خراسان وغیرہ تمام ممالک میں ہوگا، اور اس کے مرید مشرق سے مغرب تک پھیل جائیں گے، جب یہ تمہاری ملازمت میں پہنچے تو امانت اس کے سپرد کرنا، اور ہماری یہ ساری گفتگو اس کے آگے بیان کرنا۔ [۱] [۱۔ رسالہ احمد بیگ ص ۲۸ شرافت]

روانگی بجانبِ شاہ پور

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sakhi-shah-suleman-noori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تلمیذ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ
حضرت داؤد طائی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
داؤد ۔ کنیت: ابو سلیمان ۔ لقب: طائی ۔ سلسلۂ نسب: ابو سلیمان داؤد بن نصیر طائی ۔ آپ کا خاندانی تعلق مشہور عرب سخی حاتم طائی کے خاندان سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 21 صفر المظفر 47ھ کو شام میں ہوئی ۔ لیکن آپ کی زندگی کوفہ میں گزری ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ) ـ

تحصیلِ علم:
جس زمانے میں آپ نے آنکھ کھولی اس وقت علوم کے سلاطین موجود تھے ۔ صحابۂ کرام کے چشمۂ صافی سے تشنگانِ علم و عرفان اپنی علمی پیاس بجھا رہے تھے ۔ بڑے آئمہ کرام حیات تھے ۔ تو حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کو علم حاصل کرنے کا خوب موقع میسر ہوا ۔ ہر شہر و علاقے میں علومِ نبویہ کے وارثین نے مسندیں بچھا رکھیں تھیں ۔ ابتدائی علوم حاصل کرنے کے بعد علمِ حدیث کی تحصیل کے لئے امام اعمش، ابنِ ابی لیلیٰ، اور عبد الملک بن عمیر وغیرہ کی خدمت میں پہنچے ۔ ان سے روایت و کتابت کی ۔ علمِ حدیث کے آئمہ میں شمار ہونے لگے ۔ پھر آپ سے ایک جماعت نے حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ان میں سے ایک نام مشہور محدث اسماعیل بن علیہ کا بھی ہے ۔

علم الحدیث میں مہارت حاصل کرنے کے بعد خلیفہ مہدی کے زمانے میں بغداد تشریف لائے، یہاں کے شیوخ سے اخذِ فیض کیا ۔ پھر کوفہ واپس آئے اور امام الآئمہ سراج الامہ حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالیٰ عنه کی مجلسِ درس میں شامل ہو گئے ۔ بیس سال تک حضرت امام صاحب کی خدمت میں رہ کر علمِ فقہ و اصولِ فقہ پر مہارت حاصل کی ۔

ولید بن عقبہ الشیبانی فرماتے ہیں:
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےحلقۂ درس میں بلند آواز سے بحث کرنے والا داؤد طائی کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ۔ پھر یہ خلوت نشینی اختیار کرکے عبادت میں مشغول ہو گئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ نے عظیم مشائخ کی صحبت اختیار کی ۔ جن میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت فضیل بن عیاض، اور حضرت ابراہیم بن ادھم وغیرہ کثیر مشائخِ کرام ہیں ۔ آپ حضرت خواجہ حبیب راعی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (کشف المحجوب:240) ۔

حضرت حبیب راعی حضرت حسن بصری کے مرید تھے ۔ اسی طرح حضرت امام اعظم نے آپ کی خصوصی تربیت فرمائی تھی ۔ ابتداء ہی سے انہیں دنیا سے نفرت تھی ۔ جب حضرت امام صاحب نے آپ کی یہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو ارشاد فرمایا: آپ دنیا کو چھوڑ کر گوشہ نشیں ہو جائیں ۔ چنانچہ آپ گوشہ نشیں ہو گئے ۔ اگر تصوف و طریقت اور معرفت میں امامِ اعظم کا مرتبہ دیکھنا ہو تو حضرت داؤد طائی کو دیکھ لیں ۔

حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں:
اگر حضرت داؤد طائی سابقہ امتوں میں سے ہوتے تو اللہ ﷻ آپ کے زہد و تقویٰ کی خبر ہمیں قرآن میں ضرور دیتا ـ (الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ؛ جلد اول؛ ص:278) ۔

جب شاگرد کا یہ مقام ہے، تو استاذ کا کیا مقام ہوگا ۔ امامِ اعظم صرف شریعت کے امام نہیں تھے ۔ بلکہ طریقت کے بھی امام تھے ۔

سیرت و خصائص:
عارف باللہ، واصل باللہ، امام الاولیاء، سندالفقہاء، سید الاتقیاء، زُہد الانبیاء، وارثِ علومِ مصطفیٰ، فیض یافتہ امام الہدیٰ، فقیہ، محدث، عالم، عامل، عارف، زاہد، حضرت خواجہ داؤد طائی رضی الله تعالیٰ عنه ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم محدث، جید فقیہ، اور بے مثل صوفی تھے ۔ بیس سال امام اعظم علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر علمی کمال حاصل کیا ۔ اور اس درجے پر فائز ہوئے کہ امام صاحب کے اصحاب میں سے کسی کو آپ پر تقدم حاصل نہ تھا ۔

یہاں تک کہ جب صاحبین (حضرت امام محمد اور حضرت امام یوسف) کا کسی مسئلے میں اختلاف ہو جاتا تو وہ آپ کو اپنا مُنصف مقرر کرتے ۔ آپ کا دستور تھا کہ جب صاحبین آپ کے پاس تشریف لاتے تو آپ امام محمد کی طرف منہ اور امام ابو یوسف کی طرف پیٹھ کر لیتے، اور فرماتے کہ ہمارے استاد صاحب نے تازیانے کھا کھا کر اپنے آپ کو ہلاک کرا لیا ۔ مگر عہدۂ قضا قبول نہ فرمایا، اور امام ابو یوسف نے اپنے استاد کے خلاف کیا ۔ اگر امام محمد کا قول درست ہوتا تو فرماتے امام محمد کا قول ٹھیک ہے ۔ اور اگر امام ابو یوسف کا قول ٹھیک ہوتا تو اس طرح فرماتے کہ ان کا قول درست ہے ۔ اور ان کا نام اپنی زبان پر نہ لاتے ۔ (حدائق الحنفیہ:137) ۔

عرض کیا گیا کہ یہ دونوں حضرات اپنے زمانے کے امام تسلیم کیے جاتے ہیں مگر آپ ایک سے محبت فرماتے ہیں، اور دوسرے کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا کہ امام محمد بن حسن نے دنیاوی نعمتوں کو ترک کرکے منصبِ علم کو پسند فرمایا ہے، اور میں ان کی عزت ان کے علم کی وجہ سے کرتا ہوں ۔ اور امام ابو یوسف نے علم کے سبب عہدۂ قضا حاصل کیا ہے ۔ (کشف المحجوب: 241) ۔
1
(یہ حضرت کا تقویٰ تھا ۔ حضرت امام ابو یوسف نے فقہِ حنفی کی بہت خدمت فرمائی ہے ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے وقت کا امام، اور بہت بڑا فقیہ، اُس وقت اگر سرکاری عہدۂ و منصب قبول کر لیتا تھا تو الفقر فخری کے وارث فقراء اس سے نظر پھیر لیتے تھے ۔ بادشاہ و وزراء ان کی نظر میں کتنی حقیر ہوں گے ۔ تونسویؔ غفرلہ) ـ

حضرت داتا علی ہجویری فرماتے ہیں: حضرت داؤد طائی اہل تصوف میں سید السادات تھے ۔ اپنے زمانے کے بے مثل صوفی اور امام اعظم کے شاگرد تھے ۔ آپ کو علومِ عقلیہ و نقلیہ سے وافر حصہ ملا، اور فن فقہ میں فقیہ الفقہاء مشہور تھے ۔ حکومت و ریاست چھوڑ کر آپ نے گوشہ نشینی اختیار فرمائی ۔ آپ کا زہد و ورع خصوصیت سے مشہور ہے ۔ آپ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں ۔

حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں:
کہ میں نے حضرت داؤد طائی جیسا مستغنی عن الدنیا نہیں دیکھا ۔ ان کی نظر میں تمام دنیا اور اہل دنیا کی کچھ حیثیت ہی نہیں تھی ۔ (کشف المحجوب: 241) ۔

حضرت داؤد طائی نے چالیس سال تک اس حال میں روزہ رکھا کہ گھر والوں کو خبر تک نہ ہوئی ۔ آپ صبح گھر سے اپنا کھانا ساتھ لے جاتے، اور راستے میں اسے صدقہ کر دیتے ۔ (گھر والے یہ سمجھتے کہ کھا لیا ہوگا) رات کو واپس آتے ـ (الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ؛ جلد اول؛ ص:278) ـ

اسی طرح آپ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے، اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں ‘‘ ۔ (تذکرۃ الاولیاء؛ ج1؛ ص:201 ) ۔

ایک دن ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کی چھت میں ایک شہتیر ٹوٹا ہوا ہے فرمایا: اے بھتیجے! میں نے بیس سال سے مکان کی چھت کی طرف نہیں دیکھا ۔ (احیاء العلوم:112) ـ

جب آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوا، تو اَسّی (80) درہم اور ایک مکان ورثہ میں ملا ۔ وہ درہم عمر بھر کے لیے کافی ہوئے، اور مکان کے ایک کمرے میں بیٹھا کرتے جب وہ گر گیا، دوسرے میں بیٹھنا شروع کیا ۔ جب وہ اس قابل نہ رہا تو اور درجے میں بیٹھ گئے ۔ ادھر ان کی روح نے پرواز کیا ۔ ادھر بعض صالحین نے خواب میں دیکھا کہ داؤد طائی نہایت خوشی کے ساتھ ہشاش بشاش دوڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کبھی آپ کو اس حالت میں نہ دیکھا تھا ۔ پوچھا کیا ہے، کیوں دوڑے جاتے ہو! فرمایا: ابھی جیل خانہ سے چھوٹا ہوں ۔ خبر پائی کہ وہی وقتِ انتقال کا تھا ۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ص35، ملخّصاً ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص:467) ۔

جب آپ کے پاس دس درہم باقی رہ گئے تو امام ابو یوسف نے آپ کی والدہ سے پوچھا کہ آپ کس قدر روزانہ خرچ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک درہم ۔ امام صاحب نے اس کا حساب کر لیا، اور جس دن وہ روپیہ تمام ہوا تو آپ نے بعد نماز فجر کے اپنے مصاحبین سے فرمایا کہ داؤد کی خبر لاؤ ۔ ایک آدمی گیا اور یہ خبر لایا کہ وہ آج صبح فوت ہو گئے ۔ (حدائق الحنفیہ، ص:138) ـ

جس رات میں ان کی وفات ہوئی بہت سے مشائخ نے اس رات میں یہ خواب دیکھا کہ جنت میں خوب زینت کی جا رہی ہے اور ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے ۔ تو مشائخ نے خواب ہی میں پوچھا کہ یہ کون سی رات ہے تو آواز آئی کہ اس رات میں حضرت داؤد طائی کی وفات ہو گئی ہے ۔ ہر طرف فرشتوں کا ہجوم، یہ آرائش اور چہل پہل ان کی روح کی آمد کے لیے ہے ۔ (احیاء العلوم، ج:4، ص:433) ـ

تاریخِ وصال:
ایک قول کے مطابق آپ 19 ذو القعدہ 162ھ ،اوردوسرے قول کے مطابق 8 ربیع الاول 165ھ کو واصل باللہ ہوئے ۔ یہی صحیح ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-dawood-tai
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔

خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔

سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔

اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)

وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-03-1445 ᴴ | 24-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-03-1445 ᴴ | 25-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1