🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
کیا حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو ہوئی؟

میلاد النبی ﷺ پر اعتراض کرنے والے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ چوں کہ حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو ہوئی، اس لیے میلاد کی خوشی منانا صحیح نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی اور دوسری بات یہ کہ اگر ہوتی بھی تو اس وجہ سے میلاد کی خوشی منانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بخاری شریف کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کی وفات ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی اور جس سال حجۃ الوداع تھا، اس سال یوم عرفہ جمعہ کے دن تھا یعنی ذوالحجہ کی نو تاریخ جمعہ کو تھی۔
اب ربیع الاول کو تین مہینے رہ جاتے ہیں، ذوالحجہ، محرم اور صفر؛ اب حساب لگایا جائے تو ربیع الاول کے مہینے میں پیر کا دن کسی طرح بارہ تاریخ کو نہیں آتا۔
اگر تینوں مہینے تیس دن کے تسلیم کر لیے جائیں تو پیر کا دن چھے ربیع الاول ہوگی اور اگر تینوں مہینے انتیس دن کے تسلیم کر لیے جائیں تو پیر کے دن دو ربیع الاول ہوگی اور اگر دو مہینے تیس کے اور ایک انتیس کا تسلیم کیا جائے تو پیر کے دن سات ربیع الاول ہوگی اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ دو مہینے انتیس کے اور ایک مہینہ تیس کا تھا (اور یہی صحیح ہے) تو پیر کے دن ایک ربیع الاول ہوگی۔ کسی بھی طرح حساب لگایا جائے تو پیر کا دن بارہ ربیع الاول کو نہیں اتا جس سے صاف ظاہر ہے کہ وفات بارہ تاریخ کو نہیں ہوئی۔

کئی علماے اہل سنت نے بھی تصریح کی ہے کہ تاریخ وفات یا تو ایک ربیع الاول ہے یا دو؛ حتی کہ اعتراض کرنے والوں کے علما نے بھی واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ کسی طرح حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی۔ حوالے ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔

(انظر: الطبقات الکبری، ج2، ص208، 209،
دلائل النبوۃ، ج7، ص235،
مختصر تاریخ دمشق، ج2، ص387،
تہذیب الکمال، ج1، ص55،
الاشارۃ الی سیرت المصطفی، ص351،
الروض الانف مع السیرۃ النبویۃ، ج4، ص439، 440،
البدایہ والنھایہ، ج4، ص228،
فتح الباری، ج8، ص473، 474،
عمدۃ القاری، ج18، ص60،
التوشیح، ج4، ص143،
سبل الہدی والرشاد، ج12، ص305،
المرقاۃ، ج1، ص238،
انسان العیون، ج3، ص473،
سیرت رسول عربی، ص226،
اشرف علی تھانوی، نشر الطیب، ص241،
شبلی نعمانی، سیرت النبی، ج2، ص106، 107)

(ماخذ: علامہ غلام رسول سعیدی، تبیان القرآن، ج7، ص576 تا 578)

عبد مصطفی
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
شمس العلماء مولانا سید ابو سعید رحمانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
مولانا سید ابو سعید رحمانی ۔ لقب: شمس العلماء، بدر الصلحاء ۔

سلسلۂ نسب:
آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام کے عظیم خاندان سے ہے ۔ آپ کاوطن ’’قصبہ ایرایاں‘‘ ضلع فتح پور (انڈیا) ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت کی تاریخ وسن کسی کتاب میں نہیں ملا ۔ قیاس یہی کہتا ہے کہ تیرہویں صدی کے وسط یا اس کے قریب قریب ہوئی ہوگی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی ۔ پھر استاذ العلماء، مرجع الفضلاء، امام المعقولات والمنقولات حضرت علامہ مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے مروجہ علوم میں تحصیل و تکمیل کی ۔ آپ کا شمار مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے ارشد تلامذہ میں ہوتا ہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت علامہ مولانا مخدوم شاہ فضل ِ رحمن گنج مراد آبادی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔ آپ شاہ صاحب کے اکابر و اعاظم خلفاء میں سے تھے۔شاہ صاحب آپ سے بہت محبت فرماتےتھے ۔ آپ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب شاہ صاحب نے عنایت فرمایا تھا ۔

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، شمس العلماء، بدر الفضلاء، مرجع الصلحاء، عارفِ اسرارِ یزدانی حضرت علا مہ مولانا سید شاہ ابو سعید رحمانی ۔ آپ اپنے وقت کے جید عالم اور کہنہ مشق مدرس،اور تجربہ کا مدرس تھے۔اسی طرح نظم ونثر میں مہارت تامہ حاصل تھی۔آپ کا کلام نہایت عمدہ اور دل کو چھو لینے والا ہوتا تھا ۔

آپ علیہ الرحمہ امامِ اہل سنت، مجدد ملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت محبت فرماتے، اور آپ سے خصوصی روابط تھے ۔

اس وقت کے تمام ملکی وسیاسی اور مذہبی معماملات میں فکری ہم آہنگی اور یکسانیت تھی۔یہی وجہ ہے کہ ندوۃ العلماء جب صراطِ مستقیم سے برگشتہ ہوا تو آپ نے اس کے رد میں ’’قطع الحجہ رد ندوہ‘‘ تحریر فرمائی۔ حضرت گنج مراد آبادی کو مسئلہ تیمم میں ایک مرتبہ کچھ خلجان ہوا ۔ افاضلِ وقت نے اپنی تحقیقات پیش کیں،مگر آپ کی تسکین خاطر نہ ہوئی صاحبِ ترجمہ (مولانا ابو سعید رحمانی) کی طلبی ہوئی، آپ نے حاضر ہوکر مسئلہ کے مالہ وما علیہ کی ایسی نفیس وضاحت فرمائی کہ حضرت وفورِ مسرت سے جھوم اُٹھے، اور آپ سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’آپ تو شمس العلماء ہیں‘‘ ۔ آپ کی تصانیف میں سے کئی کتابیں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں۔دیوانِ سعید آپ کے دیوان کا نام ہے۔قطع الحُجۃ رد ندوہ میں آپ کی مشہور کتاب ہے ۔

تاریخِ وصال:
8 ربیع الاول 1338ھ مطابق اوائل ماہِ دسمبر1919ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ اپنے گاؤں ایرایاں ضلع فتح پور (انڈیا) میں آخری آرام گاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔

محمد عبد الغفور نہال بَلَندوی نے تاریخ وفات ان الفاظ میں فرمائی۔

شُد، زگیتی جانبِ عرش مجید
آنکہ در علم و عمل بودہ وحید

ہاتفِ غیبی بگفتہ از نہال
در اِرَم رفتہ جناب بُو سعید
1338 ہجری

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abu-saeed-rehmani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حج کا سفر:

حضرت قبلہ حاجی صاحب دیرہ غازی خان کے رہنے والے تھے۔ ایک روز فرماتے تھے کہ ہماری عمر تقریباً بیس سال کی تھی۔ جب ہم اور ہمارے چھوٹے بھائی حاجی حامد اپنے والد ماجد اور بہن کے ساتھ اپنے گھر ڈیرہ غازی خان سے حج کو مکہ شریف تشریف لے گئے۔ ہم دونوں بھائی چلتے تھے۔ اور شام کو عرب کے کسی گاؤں کی مسجد میں یا اور کسی جگہ ٹھہر جاتے۔ لوگ ہماری خدمت کرتے تھے۔ ایک روز ہم نجدیوں کو مسجد میں ٹھہرے۔ ہمارے درود اور کلمہ پڑھنے سے وہ لوگ ناراض ہوگئے۔ ہم پر حملہ کر کے مارنے کو آئے۔ ہم بھی کمر باندھ کر مستعد ہوگئے۔ وہاں کے نمبر دار نے ہمیں بچایا۔ پھر ہم منزل بمنزل چلتے ہوئے مکہ شریف پہنچے۔ وہاں ہمیں ہمارے والد صاحب بھی مل گئے۔ ہم نے حج ادا کیا اور واپس بمبئی میں آئے تو وہاں ہمارے والد صاحب اور بہن کا انتقال ہوگیا۔

رجوع الی اللہ:
ہم دونوں بھائیوں کو ایک ٹھگ وہاں سے جالندھر میں لے آیا۔ ہم یہاں رہنے لگے۔ یہاں مولوی محمد شریف صاحب ہوشیار پور سے تشریف لاتے تھے۔ ہم ان کی خدمت کرنے لگے۔ انہوں نے ہمیں اللہ کا نام بتایا۔ اللہ کے نام نے ہمیں پکڑلیا۔ جب اُس کا کچھ اثر ظاہر ہوا۔ تو ہمارے مرشد صاحب نے ہم سے دریافت کیا کہ تم پہلے پہلے کس کے مرید ہوئے ہو۔ ہم نے اُن کا نام لیا جن کے ہم مرید پہلے اپنے دیس میں ہوئے تھے۔ فرمایا۔ نہیں تم ہمارے مرید ہو۔ تمہیں اللہ کا نام ہم سے پہنچا ہے۔ پھر حضرت مولوی صاحب نے ہمیں اپنا مرید کیا۔ اور ہمارا سلوک اپنی توجہ سے ختم کرایا۔ جب جالندھر میں تشریف لاتے۔ بڑی عنایت اور توجہ دلی فرماتے تھے۔ پھر ہم سے فرمایا۔ کہ تم لوگوں کو اللہ کا نام بتایا کرو اور توجہ باطنی اُن کو دیا کرو۔‘‘

اللہ کا نام:
ایک روز فرمایا کہ ہمارے پیر ہمارے پیشوا مولوی محمد شریف صاحب جالندھر تشریف لائے اور یہاں کے پیر زادوں سے کہا کہ اللہ کا نام ہم سے سیکھ لو۔ تو پیر زادوں نے کہا۔ لو جی! پٹھان ہمارا پیر بنتا ہے۔ ہم آپ پیر زادے ہیں۔ ہمارے پیشوا نے فرمایا کہ میں پیر نہیں بنتا۔ اللہ کا نام سکھاتا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ ہمیں اللہ کا نام آتا ہے۔ تم کیا سکھاؤ گے۔ پھر ہمارے پیر نے فرمایا اچھا نہ سیکھو۔ ایک حاجی مسکین ہمارا طالب ہے وہ یہاں رہے گا۔ اور لوگوں کو اللہ کا نام سکھائے گا۔ ہم یہاں رہے لگے۔ اور اپنے پیشوا کے ارشاد کی تعمیل میں لوگوں کو اللہ کا نام بتانے لگے۔ ان کو توجہ دینے لگے۔ مقام ولایت صغریٰ میں ہم پر نسبت کی وہ تیزی ہوئی اور اُس کا وہ زور شور ہوا کہ جو کوئی سامنے آتا تھا اور توجہ اُس پر پڑتی تھی لوٹ پوٹ ہوجاتا تھا۔ توجہ کے وقت دس بیس آدمی ایسے زمین پر لوٹتے تھے جیسے نیم بسمل لوٹتا ہے۔ اور بڑا وجد و حال صرف توجہ سے ان پر وارد ہوتا تھا۔ ایک شور اس کا ہوگیا تو مولویوں اور پیر زادوں نے لوگوں سے کہا کہ حاجی صاحب کے پاس کوئی جن ہے کہ بدون سماع کے لوگوں کو وجد و حال ہوتا ہے۔

اشاعت طریقہ:
آپ نہایت حلیم و بردبار اور خلیق تھے۔ طالبانِ حق کو ایسی تربیت فرماتے تھے جیسے والدہ اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ آپ کی کشش باطنی تھی کہ طالبانِ خدا گرد و نواح اور دور دراز جگہوں سے استفاضہ کے لیے کھنچے چلے آتے تھے۔ مگر شہر جالندھر اس نعمت سے محروم رہا۔ وہاں کے مولوی اور پیر زادے حسد کے مارے آپ کے راستے میں روڑے اٹکاتے تھے۔ اور آپ کو شہر سے نکالنا چاہتے تھے۔ کیونکہ آپ کی موجودگی میں اُن کو کوئی پوچھتا نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود تباہ ہوگئے۔

چراغے را کہ ایزد بر فروزد
ہر آنکہ پف زند ریشش بسوزد
مشکلات کا دور:

چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں کہ اللہ کی قدرت ہے باہر روشنیاں ہوتی ہیں۔ اور مشعلیں جل کر یہاں سے چلی جاتی ہیں۔ اور یہاں جالندھر میں اندھیرا ہے۔ یہ ان لوگوں کے عقیدہ کا نتیجہ ہے۔ جالندھر میں ہمارے ساتھ پیر زادوں نے بڑی بڑی زیادتیاں اور سختیاں کی ہیں۔ اور ہمیں بڑی تکلیفیں دی ہیں۔ سکھوں کے وقت میں ہمارے ساتھ فساد اتنا بڑھا کہ شمس الدین مولوی نے ہمارا حقہ پانی بند کردیا۔ اور جولاہوں سے اور اپنے لوگوں سے کہا کہ ان کے ساتھ تم حقہ پانی نہ پیو۔ ہم حقہ نہ پیتے تھے۔ اور پانی خدا کا تھا۔ سکھوں کی ایک پلٹن یہاں رہتی تھی۔ اُس کا اجیٹن سید امیر شاہ تھا۔ وہ ہمارا مرید اور طالب تھا۔ اور قادر بخش جہانخیلاں والا بھی ہمارا مرید اور طالب تھا جو اُسی پلٹن میں تھا۔ اور بہت سے لوگ بستیوں کے ہمارے طالب تھے۔ اُن کو یہ خبر ہوئی کہ حاجی صاحب کا حقہ پانی مولوی نے بند کردیا ہے۔ یہ سُن کر اُن کو بڑا رنج ہوا اور لڑائی کے لیے پلٹن میں ترم ہوگیا۔ پلٹن تیار ہوگئی۔ اُدھر بستیوں میں خبر ہوئی۔ بستیوں کے پٹھان چڑھ آئے۔ بارہ ہزار آدمی خدا کے حکم سے ہماری طرف سے لڑنے کو تیار ہوگئے۔ اور کہا کہ مولوی کو اور جالندھر شہر کو آج ہم قتل و غارت کریں گے۔ مولوی کی طرف دو ہزار آدمی جو لاہے وغیرہ تھے۔ جب یہ خبر کرم بخش جالندھر کے صوبہ کو ہوئی وہ بھاگے آئے۔ اور ہماری طرف والوں کو سمجھایا کہ حاجی صاحب ہماری حفاظت میں ہیں
1
۔ کیا مجال کسی کی ہے جو اُن کو نقصان پہنچائے۔ جب وہ بلوہ اور فساد رفع دفع ہوا۔ پھر بھی لوگ نہیں مانتے تھے۔ اور بڑی بڑی تکلیفیں ہمیں دیتے تھے۔ ایک بار ذکر کیا کہ جب ہم توجہ میں بیٹھتے تھے تو مفسدین ہمارے گرد اگرد شور مچاتے تھے۔ کرم بخش صوبہ کو یہ خبر ہوئی۔ اُس نے دس سپاہی ہماری حفاظت کے لیے بھیجے جب وہ توجہ کے وقت ہمارے گرد اگرد غل مچانے لگے تو سپاہیوں نے ان کو خوب مارا۔ اسی طرح بہت سی تکلیفیں ہمیں دیں۔ آخر ہم تنگ آکر جہاں پہلے رہتے تھے وہاں سے اُٹھے اور جہاں اب رہتے ہیں یہاں آکر ایک کوٹھا بنایا۔ یہ جگہ ویران پڑی تھی۔ کوئی آبادی یہاں نہ تھی۔ اب دیکھو کس قدر آبادی یہاں ہوگئی ہے۔ یہاں دروازے کے سامنے جو کچھ ہے۔ یہ بھی ہم نے بنوائی تھی۔ یہاں آکر بھی لوگ ہمیں تکلیف دیتے تھے۔ ایک دن ایک شخص نے کوئیں میں جوتی ڈال دی۔ سپاہی نے دیکھ لیا۔ اُس کو خوب مارا۔ جن پیرزادوں اور مولویوں نے ہمیں تکلیف دی وہ سب خراب ہوگئے ان کا کچھ بھی نہ رہا۔

خلفاء:

باوجود ایسی تکالیف کے آپ کا فیض بذریعہ خلفاء دور دور پہنچا۔ خواجہ قادر بخش جہانخیلی حاجی مظفر علی خاں صاحب مراد آبادی مولوی محمد جمال صاحب فیرروز پوری، مولوی رحیم بخش صاحب سیالکوٹی، حافظ انور علی صاحب رہتکی، فقیر شہاب الدین صاحب لاہوری، خواجہ عبد الخالق صاحب جہانخیلی وغیرہ نے آپ ہی سے خلافت پائی اور لوگوں کو فیض پہنچایا۔ بہت سے ولایتی لوگ بھی آپ سے فیض یاب ہوئے آپ کا ایک خلیفہ شیر محمد نام ملک چٹہا کو گیا اور ایک خلیفہ دوست محمد نام یار قند کو گیا۔

واضح رہے کہ آپ کے خلفاء میں سے ایک مولوی احمد علی صاحب بھی ہیں جن کے خلیفہ حضرت غلام جیلانی قدس سرہ ہیں۔ حضرت غلام جیلانی نے بیعت بے شک حضرت مولوی احمد علی صاحب سے کی مگر سلوک بالتفصیل حضرت قبلہ حاجی صاحب قدس سرہ کی خدمت میں تمام کیا آپ بستی دانشمندوں میں پیدا ہوئے اور وہیں یکم جمادی الاخریٰ ۱۳۳۲ھ میں نوے برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ انا للہِ وانا الیہ راجعون جناب مفتی عبد الحمید صاحب لدہیانوی کو ارادت و اجازت حضرت غلام جیلانی قدس سرہ سے ہے۔

کشف و کرامات

(۱) فرمایا کہ جن دونوں میں لوگ ہمیں اِس غرض سے تکلیف دیتے تھے کہ یہ یہاں سے چلا جائے کیوں کہ اِس کی موجودگی میں ہمیں کوئی نہیں پوچھتا ایک دن ہمیں خواب میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہم اور ہمارا چھوٹا بھائی حاجی حامد مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ منورہ کا پردہ لٹکتا تھا اُس کو ہم نے سر پر لے کر فریاد کی کہ یا رسول اللہ! لوگ ہمیں بہت تکلیف دیتے ہیں اور ہم مسکین غریب الوطن ان کے ہاتھوں سے تنگ آگئے ہیں روضہ منورہ سے آواز آئی یا شیخ لا تخف۔ پھر ہماری آنکھ کھل گئی اور ہم نہایت خوش اور بشاش اُٹھے ان ہی دنوں میں ہمیں امام ناصر الدین رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی جن کا مزار مبارک شہر جالندھر میں ہے یہ باطن میں دو آبہ جالندھر کے حاکم ہیں اور بڑے ولی اللہ ہیں یہ قبر سے باہر بھی ملتے ہیں اور اندر بھی ملتے ہیں ہمیں امام ممدوح ملے او فرمایا کہ تیری کمان اب چڑھی ہے ہم نے عرض کیا خوب کمان چڑھی ہے لوگ تکلیف دیتے ہیں انہوں نے ہماری تسلی کی پھر بڑا فیض لوگوں میں جاری ہوا اور نور کی روشنیاں ملکوں میں پھیلیں مگر جالندھر میں اندھیرا ہی رہا۔

علم لدنی:

فرمایا کہ میانوالی پر گنہ رعیہ ضلع سیالکوٹ سے ایک مولوی غلام حسین بھی ہمارے پاس آیا۔ اُس نے امتحاناً ہم سے علمی سوالات کیے وہ جو جو سوال کرتا تھا۔ اُس کا جواب غیب سے ہمارے سامنے آجاتا تھا ہم اُس کے بموجب جواب دیتے جاتے تھے یہ علم لدنی تھا جو برکت متابعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عطا کیا گیا علم درسی یا مکتبی نہ تھا اُس مولوی کو ہمارے جوابوں سے تسلی ہوگئی وہ بھی بیعت ہوگیا اور اچھا آدمی ہوگیا۔

عہدے پر بحالی اور معزولی:

فرمایا کہ ایک ہندو جو کسی اچھے عہدے پر یہاں اہل کار تھا موقوف ہوگیا وہ ہمارے پاس آیا اور کہا کہ مجھے بتاؤ ہم نے کہا کہ رات کو ایک سو بار یہ پڑھ کر سورہنا۔ ’’نہیں کوئی مقصود میرا سوائے تیرے۔ مقصود میرا تو ہی ہے۔ رضا تیری مطلوب ہے۔‘‘ اُس نے رات کو یہی پڑھا۔ صبح ہی حاکم پیادہ اُس کو بلالے گیا اور اُسی عہدے پر بحال کردیا وہ بہت خوش ہوا۔ ایک مولوی شمس الدین یہاں جالندھر میں تھے انہوں نے پوچھا کہ تیرا کام کس طرح بن گیا اس نے کہا کہ حاجی صاحب نے مجھے کچھ بتایا تھا اس کے پڑھنے سے میرا کام ایک ہی رات میں بن گیا مولوی نے کہا ہمیں بھی سنادے کیا بتایا تھا اس نے بتادیا مولوی نے سن کے کہا کہ یہ تو کلمہ ہے۔ یہ سن کر ہندو کے دل میں شک پڑگیا شک کا پڑنا تھا کہ پھر اُسی وقت وہ ہندو نوکری سے موقوف ہوگیا اور پھر ہمارے پاس بھاگا آیا اور ہم سے سب حال بیان کیا ہم نے کہا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا بعد ازاں وہ ہندو بڑا خراب اور تباہ ہوا بات یہ کہ سارا کام محبت پر ہے جب شک آیا تو محبت کہاں۔

حرام مال کا معلوم ہون
2
ا:

فرمایا: ہم چاؤنی جالندھر میں رات کو ایک شخص کے ہاں ٹھہرے اُس نے ایک پلنگ ہمارے سونے کے لیے لاکر بچھایا جب ہم اس پلنگ پر لیٹے ایسا معلوم ہوا کہ ہم گندگی میں چلے گئے۔ ہم اسی وقت اس پر سے اٹھے اور وہاں سے چلے آئے معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسب حلال کا مال نہ تھا۔

غیب سے الہام:

۸ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ کو آپ نے فرمایا کہ یہاں سے بہت فیض جاری ہوا۔ جس کی قسمت ہوتی ہے لے جاتا ہے۔ دو برس ہوئے ہمیں غیب سے یہ الہام ہوا تھا کہ جب تیرے دو سو اور طالب ہوجائیں گے تو تیرا انتقال ہوجائے گا۔ ہم نے خیال نہیں کیا کہ اس کے بعد کتنے طالب ہوچکے ہیں اور معلوم نہیں کہ کون ایسا طالب ہوگا جو سب سے آخر ہوگا۔

نگاہ کامل کا اثر:

جناب مفتی عبد الحمید صاحب لدہیانوی بروایت حضرت حاجی انور شاہ سجادہ نشین بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب قدس سرہ کی توجہ نہایت تیز تھی آپ جس پر نظر ڈالتے بیہوش ہوجاتا۔ ایک روز ایک شخص کوئیں میں سے پانی نکال رہا تھا۔ آپ نے اُس سے فرمایا کہ پانی لوٹے میں بھی ڈال دو وہ دالنے لگا آپ کی نظر اُس پر پڑی بیہوش ہوگیا اور کوئیں میں گر پڑا۔ اس کو کوئیں میں سے نکال کر کسی نے حاکمِ وقت کو اطلاع دی کہ یہ ساحر ہے جس پر نظر ڈالتا ہے وہ بیہوش ہوجاتا ہے آپ کو طلب کیا گیا حاکم نے کہا کہ لوگ آپ کو ساحر بتاتے ہیں آپ نے کہا میں ساحر نہیں اللہ اللہ کرتا ہوں۔ یہ سُن کر حاکم بولا کہ جاؤ یہ خدا پرست شخص ہے۔ جناب مفتی صاحب موصوف کے مرشد حضرت غلام جیلانی کا بیان ہے کہ حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ جب میں توجہ چاہتا ہوں تو حضرت مولانا محمد شریف قدس سرہ میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ بازار تشریف لے گئے ایک سبزی فروش کی دکان سے سبزی طلب فرمائی اُس نے کہا کیا چاہتے ہو آپ نے جو نظر اُٹھا کر دیکھا تو وہ بیہوش ہوکر گر پڑا اُسی روز سے حضرت حاجی صاحب نے عہد کرلیا کہ میں ایسے معمولی کاموں کے لیے باہر نہ نکلا کروں گا۔

توجہ کی کیفیت:

ایک روز ایک بنگالی آیا وہ ایک ہفتہ حضرت حاجی صاحب کے پاس ٹھہرا بعد ازاں اس نے کہ کہ ہمیں اس قدر فرصت نہیں کہ مہینوں یہاں بیٹھے رہیں ہم چلتے ہیں نام تو بڑا سنا تھا مگر مدت مدید چاہیے ہم جاتے ہیں ہمیں اتنی فرصت نہیں امید لے کر آئے تھے مگر مایوس جاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ کل کا روز اور ٹھہرو دوسرے روز اُس پر توجہ ڈالی اور تمام مقامات طے کرادیئے اور خلافت عطا فرما کر اُسے رخصت کردیا حاضرین نے عرض کیا کہ ایک شخص یہاں آتا ہے اور ایک ہفتہ میں کامل مکمل ہوکر چلا جاتا ہے دوسرے مدت سے یہاں پڑے ہیں آپ نے فرمایا تم اس راز کو نہیں سمجھتے اُس کے لیے دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حکم ہوا کہ اُسے اس کا حصہ جلد دے کر رخصت کردو۔

مولوی صاحب کی تلاش مرشد:

جناب مفتی عبد الحمید صاحب لدہیانوی بروایت حاجی انور شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ مولوی کمال الدین صاحب فیروز پوری ہمدرسِ جناب مولوی ولی محمد صاحب جالندھری تلاشِ مرشد میں نکلے بہت جگہ پھرے مگر کہیں تسلی نہ ہوئی آخر کار انبالہ میں حضرت سائیں توکل شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرضِ حال کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ تم عالم ہو میں کچھ پڑھا ہوا نہیں۔ تم جالندھر میں حضرت حاجی محمود کی خدمت میں جاؤ مولوی صاحب جالندھر پہنچے اور مولوی ولی محمد صاحب سے حاجی صاحب کا تذکرہ کیا انہوں نے کہا وہ بیعت تو کرتے ہیں مگر علم ظاہر سے واقف نہیں عالم کو عالم کی بیعت کرنی چاہیے مولوی کمال الدین صاحب نے حضرت سائیں صاحب کا ارشاد بیان کیا اور کہا کہ میں تو ضرور وہاں حاضر ہوں گا پس حاضر خدمت ہوئے حضرت حاجی صاحب اس وقت بوقت دوپہر دولت خانہ میں تھے بذریعہ خادم اطلاع کی جواب ملا کہ ظہر کے وقت ملوں گا۔ چنانچہ ظہر کے وقت آپ تشریف لائے اور وضو فرما کر نماز معمولی طور پر ادا کی یہ دیکھ کر مولوی صاحب کے دل میں آیا کہ یہاں بھی نہیں جن کی نماز ایسی ہے وہاں کیا ہوگا حضرت نے نماز سے فارغ ہوکر فرمایا کہ میری عمر سو سال سے متجاوز ہے اس عمر میں مسجد میں آکر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا غنیمت ہے پھر مولوی صاحب سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا علم پڑھا ہے اس پر مولوی صاحب نے کئی علموں کے نام لیے بعد ازاں حضرت نے فرمایا کہ تم تو بڑے عالم ہو ہمیں نماز ہی سنادو۔ مولوی صاحب کی زبان سے صرف سبحانک اللہ ہی نکلا، آگے حیران ہیں کچھ دیر تک سکتہ کا عالم رہا پھر حضرت نے فرمایا مولوی! تم تو کہتے تھے میں نے فلاں فلاں علم پڑھا ہے تم تو نماز بھی نہیں سنا سکتے۔ اچھا الحمد شریف ہی سناؤ۔ مولوی صاحب کی زبان سے فقط الحمد نکلا آگے حیران ہیں سب کچھ بھول گئے حضرت نے فرمایا کہ کیا اس علم سے فقیر کی شناخت ہوسکتی ہے دنیا میں فقیر ہیں اللہ والے ہیں اگر اللہ والے نہ ہوں تو قیامت برپا ہوجائے اس فقرہ کو کئی بار دُہرایا۔ آخر جناب حاجی صاحب کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اب میرے وظیفہ کا وقت ہے مولوی صاحب نے آپ کے پاؤں پکڑ لیے اور چیخ ماری حضرت کو رحم آیا او
2
ر فرمایا کہ تم نے فقیر کا قدم پکڑ لیا ہے فقیر کسی کو محروم نہیں کیا کرتے کل کو تمہیں داخل سلسلہ کروں گا۔ چناں چہ دوسرے روز بیعت ہوئے چند روز کے بعد رخصت کرتے وقت اپنی ریش مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ مولوی! اِس داڑی کی لاج رکھنا بعد ازاں مولوی صاحب اپنے شہر میں چلے گئےکچھ عرصہ کے بعد قبض وارد ہوئی اور حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا آپ نے اُس کو دو دو ہزارہ کا ورد فرمایا۔ جس سے حالت بحال ہوگئی۔

وصال مُبارک:

وفات شریف سے دو تین دن پہلے آپ کی داڑھ جو دکھتی تھی ایک شخص سے نکلوائی داڑھ کو دیکھتے ہی آپ پر فالج گرا اور آپ بے ہوش ہوگئے۔ حضرت قبلہ توکل شاہ صاحب انبالوی کو آپ کی بیماری کی اطلاع دی گئی وہ تشریف لائے۔ ۸ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ کو آپ کا وصال ہوگیا شہر میں کہرام مچ گیا قیامت کا نمونہ تھا کچھ دن چڑھے آپ کا جنازہ اُٹھایا گیا شہر کے اور بستیوں کے خاص و عام بڑی کثرت سے آپ کے جنازہ کے ساتھ تھے بستی شیخ کے راستہ پر جو ایک قبرستان ہے وہاں آپ کو دفن کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ارشاداتِ عالیہ

(۱) ایک روز ہم توجہ اور مراقبہ میں بیٹھے تھے ایک شخص نا واقف نے پاس آکر کہا۔ السلام علیکم۔ جب ہم مراقبہ سے اٹھے تو ہم نے اس سے کہا کہ سن تو میاں! جب کوئی نماز میں ہو اُس سے سلام علیک کہنا جائز ہے یا نہیں اُس نے کہا نہیں ہم نے کہا توجہ و مراقبہ ہماری طریقت کی نماز ہے اس میں بھی سلام کہنا درست نہیں۔

(۲) آپ کے مرید و خلیفہ حافظ انور علی رہتکی کا بیان ہے کہ ایک روز حضرت نے مجھے استغفار اور آمنت باللہ بتایا اور اس کو صحیح کرایا اس کے بعد مجھے سے فرمایا آج تم ایسے پڑھتے ہو جیسے نادان پڑھتے ہیں میں نے عرض کی۔ حضرت نادان ہی ہوں یہ سن کر آپ بہت خوش ہوئے فرمایا اہا! نادان ہی سب کچھ پاتا ہے دانا ہوا اور گیا گزرا پھر فرمایا نہ ہونا تیرا منظور۔ ہونا تیرا نا منظور۔

(۳) جب اللہ کے نام کا تذکرہ ہوتا تھا تو حضرت یہ پنجابی بیت اکثر پڑھا کرتے تھے۔؎

رب جہاں دے ول انہاں نوں غم کیں دا وے لوکا
وہڑے چنن رُکھ لگا مسافر آ بہندا وے لوکا
یعنی اے لوگو! رب جن کی طرف ہے انہیں کس کا غم ہے۔ اے لوگو! ان کے آنگن میں تو چندن کا درخت لگ گیا ہے۔ جس کے نیچے مسافر آخر بیٹھتا ہے۔ اس بیت میں بظاہر وہڑے سے مراد قلبِ سالک ہے اور چنن رُکھ سے مراد اللہ کا نام ہے۔ جس میں سب سے زیادہ خوشی ہے اور مسافر سے مراد واردات غیبی ہیں۔

(۴) جب تم اولیاء اللہ میں سے کسی کے مزار مبارک پر جاؤ تو قبر کی طرف منہ کرکے اور قبلہ کو پسِ پشت کرکے ایسے بیٹھو کہ دو حصہ قبر کے پاؤں کی طرف اور ایک حصہ سر کی طرف رہے پھر ایک بار سورہ الحمد شریف پڑھ کر اُس کا ثواب اُس بزرگ کی روح کو بخشو۔ پھر ایسے متوجہ ہوکر بیٹھ جاؤ جیسے یہاں توجہ میں بیٹھتے ہیں اور ہماری صورت کو پیش نظر رکھو۔ ابتدا میں تھوڑے دن اس کی ضرورت ہے پھر نہیں کیوں کہ مبتدی پر جو شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ پیشوا کی صورت کو خیال میں رکھنے سے وہ بھاگ جاتا ہے توجہ کے وقت وسوسہ دل میں نہ ڈالو جب تم دل کی طرف اچھی طرح متوجہ ہوجاؤ گے۔ تو اگر وہ بزرگ صاحب مزار توجہ لیتا مرگیا ہے تو تمہارے دل کا نور اس کی طرف جائے گا اور اگر وہ بزرگ فیض دیتا مرگیا ہے اور صاحب ارشاد ہوا ہے تو اس کا نور تمہاری طرف آئے گا اس سے ایک سرور اور بیہوشی تمہیں ہوگی۔ اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بات نہ ہو یعنی نہ تمہارا نور اس کی طرف جائے نہ مزار سے کوئی نور تمہاری طرف آئے تو سمجھو کہ اس قبر میں کچھ نہیں ہے وہاں سے اٹھ کھڑے ہو۔ جب حضرت نے یہ ارشاد فرمایا تو عرض کیا گیا کہ اگر قبض ہوجائے تو کیا علاج کیا جائے فرمایا اول تو قبض نہ ہوگا۔ اور اگر ہو تو درود ہزارہ پڑھ لینا کھل جائے گا۔

(۵) ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ کو حضرت نے ایک شخص کو حسب معمول لطیفہ سر کا سبق پڑھایا۔ زیر قدم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معنی یہ بتائے کہ اس راہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچے تھے اور سرکا نور سفید ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سے مناسبت تھی کہ طبیعت ان کی تیز تھی۔

(۶) شخص امیر الدین نامی نے عرض کیا کہ حضرت! مجھے بھی کچھ بتاؤ فرمایا دل کی جگہ سے خیال سے اللہ اللہ کیا کر کوڑے میں لعل چھپا ہوا ہے اور نور سوتا ہے۔ جب نور جاگتا ہے تو مومن ہوتا ہے پھر حضرت نے فرمایا کہ میراں سید بھیکہ فرماتے ہیں۔؎

بھیکھا بھوکا کوئی نہیں سب کی کٹھڑی لال
گرہ کھول نہیں جانتے ایسی بُدھ بھئی کنگال
(۷) ایک روز حضرت نے حافظ انور علی رہتکی سے فرمایا کہ جس طرح تمہیں اب ہماری زندگی میں توجہ اور صحبت میں نور اور فیض پہنچتا ہے اسی طرح ہمارے انتقال کے بعد تم کو نور اور فیض پہنچے گا۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ اب جس طرح ہم تم سے باتیں کر رہے ہیں اس طرح باتیں نہ کرسکیں گے۔ ہمارے انتقال کے بعد جو بات تمہیں دریافت کرنی ہو ہمارے صاحبزادے محمد انور شاہ سے دریافت کرلینا۔

(۸) ایک روز آپ کی خدمت میں ایک صاحب آئے
2
اور عرض کیا کہ دل میں خطرہ آنا بند نہیں ہوتا بہت آتا رہتا ہے حضرت نے فرمایا ایک عورت چکی پیستی جاوے اور گاتی جاوے تو آٹا نکلتا رہتا ہے اور ایک مسافر راستہ بھی چلتا جاوے اور راہ میں تماشا بھی دیکھتا جاوے تو منزل ختم ہوجاتی ہے تم اپنے کام کیے جاؤ خطرہ کو آنے دو جب تم سلوک کا اپنا سبق پڑھتے جاؤگے تو آٹا پستا جائے گا۔ منزل ختم ہوجائے گی خطرہ آپ پر بند ہوجائے گا۔ اُس کے لیے دل میں جگہ نہ رہے گی۔

جناب مولوی محبوب عالم صاحب ذکرِ خیر میں لکھتے ہیں کہ ایک روز کسی شخص نے حضرت سائیں صاحب علیہ الرحمۃ سے عرض کیا کہ حضور! خطرات نفس مجھے بہت آتے ہیں۔ ہر چند میں ہٹاتا ہوں مگر جاتے نہیں اس لیے میں ذکر نہیں کرتا کیوں کہ خطرات سے دل پاک ہو تو ذکر کروں حضور نے فرمایا کہ اسی طرح ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں خطراتِ نفس کی شکایت کی تھی تو حضرت حاجی صاحب علیہ الرحمۃ نے اُس پر یہ مثال بیان فرمائی تھی کہ جس طرح گداگروں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک ہاتھ سے بھیک لینے کے واسطے کاسہ وغیرہ رکھتے ہیں سوال کے وقت اُس ہاتھ کو بھیک دینے والے کی طرف بڑھائے رکھتے ہیں مگر دوسرے ہاتھ میں لاٹھی لیے ہوئے پیچھے کتوں کو بھی ہٹاتے رہتے ہیں کیوں کہ اگر بھیک ہی لیں اور کتوں کو نہ ہٹائیں تو ان کے کاٹ کھانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور جو کتوں کو ہی ہٹاتے رہیں اور بھیک کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بھیک سے محروم رہنے کا خوف ہے اس لیے ایک ہی وقت میں دونوں کام کیے جاتے ہیں اسی طرح خطرات کے دور کرنے کی یہ ترکیب ہے کہ ادھر تو ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے اور ادھر دل میں خطرات کو برا جانتے رہے۔ ذکر الٰہی کرنے سے فوراً خناس کے منہ میں آگ لگتی ہے اور خطرہ سے باز رہتا ہے او ر سب خطرات سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خطرات سے پاک ہوں تو ذکر کروں بلکہ خطرات کے وقت زیادہ ذکر کرنا چاہیے۔

(۹) آپ اکثر یہ فرمایا کرتے تھے کہ جس قدر کسی سے ہوسکے ہم سے توجہ لے۔ توجہ ذکر فکر سب پر فوقیت رکھتی ہے لوگ بڑے بڑے ذکر اور چلے کرتے ہیں وہ بات ان سے حاصل نہیں ہوتی جو توجہ سے حاصل ہوتی ہے اسی موقع پر حضرت زبانِ مباک سے میراں سید بھیک رحمۃ اللہ کا یہ دہرہ پڑھتے تھے۔؎

آدھی سے آدھی گھڑی اور آدھی سے بھی آدھ
بھیکھا سنگت سادھ کی کاٹے کوٹ اپر ادھ
(۱۰) ۲۲ رجب ۱۳۰۴ھ کولد ہیانہ کے مریدوں کا ذکر آیا کہ کون کون ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ لدہیانہ میں ہمارے بہت سے مرید ہوئے۔ نام یاد نہین رہے پھر فرمایا ہم کو کیا اوگھائی کرنی ہے جو نام یاد رکھیں نام مریدوں کے وہ لکھے جس کو سلیپ کرنی ہو خدا کے واسطے کوئی ہمارے پاس آیا ہم نے خدا کا نام بتادیا۔ آگے اس کی محنت رہی سینکڑوں آئے اور سینکڑوں چلے گئے۔ کس کس کا نام یاد رکھیں ۔ (مقامات المحمود ۔ تذکرۃ المحمود وغیرہ) ۔

( مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-hafiz-mehmood
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:
خواجہ محمد فیض اللہ۔لقب: شیخ العارفین۔ علاقہ تیراہ کی نسبت سے’’تیراہی‘‘ کہلاتے ہیں۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ محمد فیض اللہ بن خان محمد بن علی محمد بن شیخ سلیمان بن سلطان شیخ الاسلام بن عبدالرسول بن عبدالحئی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ امام رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبداللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ کابلی بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبداللہ (الواعظ الاصغر) بن شیخ عبداللہ (الواعظ الاکبر) بن شیخ ابوالفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبداللہ بن سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔آپ کا شجرۂ نسب 34 واسطوں سے خلیفہ دوم امیر المؤنین سیّدنا عمر فاروق اعظم ﷜ٰ عنہ سے ملتا ہے۔(تاریخ مشائخِ نقشبند:456)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1143ھ مطابق 1730ء کو تیزئی شریف نزد وادیِ تیراہ (اس وادی کا اکثر کاحصہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر مشتمل ہے،اور کچھ حصہ افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں ہے)میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کا خاندان ایک علمی وروحانی خاندان تھا۔ درس وتدریس وعظ ونصیحت ان کا آبائی سلسلہ تھا۔آپ کے والد ماجد حضرت قاضی خان محمد موضع شادی خیل نزد شہر کوہاٹ (سرحد) میں درس دیا کرتے تھے اور فتویٰ نویسی میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ فنِ تحریر میں اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ عالم اجل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ حلقہ درس و تدریس اتنا وسیع تھا کہ دُور دُور سے لوگ آکر استفادہ کرتے تھے۔ آپ نے بھی علومِ متداولہ کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کرکے اکیس سال کی عمر میں فراغت حاصل کرلی۔

بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت وتلاش مرشد کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ آپ علومِ ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد علومِ باطنی کے حصول کے لیے پیرِ کامل کی تلاش شروع فرمائی۔ چونکہ آپ شریعت مطہرہ پر سختی کے ساتھ پابند تھے اور خلافِ شرع ذرّہ برابر بھی بات گوارا نہ تھی لہذااس پر عمل پیرا ہو کر تلاش میں نکلے۔ ایک بزرگ کی شہرت سُن کر اُن کی زیارت کےلئے گئے۔ وہ اُس وقت نماز میں مشغول تھے اور اُن کے پاؤں کا درمیانی فاصلہ حدِ شرع کے خلاف تھا۔ آپ یہ دیکھ کر برداشت نہ کرسکے اور اُلٹے پاؤں واپس آگئے اور فرمایا کہ جس فقیر میں شرع کی پابندی نہیں ہے وہ مجھے کیا فیض پہنچائے گا۔ بعد ازاں ایک بزرگ کا شہرہ سُن کر وہاں گئے تو دیکھا کہ اُس کے مرید بھنگ رگڑ رہے ہیں اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ’’آؤ بابا! خوب وقت پر آئے‘‘۔ وہ فقیر صاحبِ کشف تھے، یہ سُن کر آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ بھائی ان کو مت پلاؤ۔ یہ تو نماز میں پاؤں کے خلافِ شرع معمولی فاصلہ سے بھاگے ہیں یہاں تو فرسنگوں اور کوسوں کا فاصلہ ہے۔ یہاں یہ کیوں کر آنے لگے ہیں۔ ان کا حصّہ تو حافظ محمد جمال اللہ رام پوری صاحب کے پاس ہے۔

حضرت شاہ جمال اللہ رام پوری کی خدمت میں:
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرّہ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی کے حملہ کی خبر سُن کر آپ نے فنون سپہ گری کی تربیّت حاصل کی اور احمد شاہ ابدالی کی فوج میں بھرتی ہوگئے۔ نہایت ہی قلیل عرصہ میں سپہ سالاری کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوکر قلعۂ رام پور میں تعینات ہوگئے۔ ماہانہ تنخواہ کا اکثر حصہ فقراء و صلحاء کی خدمت میں نذر کردیتے تھے۔ اپنی گوناگوں خوبیوں اور قدسی صفات کی بدولت ادب و احترام کے مستحق گردانے جاتے تھے اور ہر کوئی دیدہ و دل فرشِ راہ کرتا تھا۔ ایک دن حضرت اقدس (شاہ جمال اللہ) قلعہ کی سیر کو نکلے تو اُن کے ساتھ بہت سے خلفاء و مریدین تھے۔ جب آپ نے حضرت اقدس شاہ جمال قدس سرّہ کو ایک نظر دیکھا تو دل کا دروازہ کھل گیا۔ دل کا دروازہ کھلنا ہی کرم کی علامت ہوتی ہے۔ کرم کا ہاتھ اٹھا اور صدا مقبول ہو گئی۔ فوراً قلعہ کی دیوار سے اُترے اور حاضر خدمت ہوکر سر قدموں میں رکھ دیا۔ بے ہوش ہوگئے، جب ہوش میں آئے تو عجیب کیفیت تھی۔

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہونے کی استدعا کی۔ میخانۂ مرشد سے ایک لازوال نشہ اور سرشاری عطا ہوئی۔ بیعت کرنے کے بعد شاہ جمال اللہ قدس سرّہ نے آپ کو حضرت شاہ محمد عیسیٰ ﷫ کے سپرد کردیا کہ اس کی تکمیل تمہارے ذمّے ہے۔کچھ عرصہ بعد حضرت خواجہ محمد عیسیٰ قدس سرہ اپنے وطن مالوف واپس ہوئے تو خواجہ محمد فیض اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت شاہ جمال اللہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر باشی پر مامور کردیا۔ آپ نے ملازمت کو خیر باد کہہ دیا اور ہمہ تن مرشدِ گرامی کی خدمت میں کمر بستہ ہوگئے۔ چار سال خدمت میں رہنے کے بعد حضرت شاہ جمال اللہ نے آپ کو وطن واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس طرح آپ تقریباً اٹھارہ سال بعد وطن واپس آئے تو کوہاٹ شہر کے نواحی گاؤں ڈوڈہ (دادر شریف) میں تشریف لائے جہاں، آپ کے بزرگوں کے واقف کار لوگ رہتے تھے ۔ اُن دنوں
1
وہاں تپ شدید کی وبا پھیلی ہوئی تھی بدیں وجہ خلقت نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر تعویذات و دم کرانا شروع کردیا۔ جو کہ بہت اثر پذیر ثابت ہوا۔ آپ وہاں چھ ماہ ٹھہرے اور خلقِ خدا کو ظاہری و باطنی فیض سے نوازا۔

سیرت وخصائص: صاحبِ فیضِ اثر،عالم وعارفِ اکمل،شیخ العلماء والصلحاء،قدوۃ الاولیاء حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی﷫۔آپ﷫ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےعظیم روحانی شیخ ہیں۔سلسلہ عالیہ کےفروغ میں آپ کا اہم کردار ہے۔بالخصوص سرحد،افغانستان،اور شمالی مغربی علاقہ جات میں اس سلسلے کو عام کیا۔آپ کے فیض سےایک کثیر مخلوق خدا فیض یاب ہوئی۔فساق وفجار آپ کی دعوت وارشاد سے تائب متقی فرمانبردار بن گئے۔دین اسلام کی خوب خدمت فرمائی۔آپ کےوالد گرامی اپنے علاقے کےعالم ربانی تھے،درس وتدریس ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ان علاقوں کے اکثر جید علماء آپ کے والد صاحب کے شاگردتھے۔

شادی ونکاح: آپ رام پور سے واپسی پر کوہاٹ تشریف لائے،اور دورانِ قیام قاضی عبدالحمید مفتیِ علاقہ کوہاٹ نے اپنی صاحبزادی آپ کے نکاح میں دینے کی خواہش ظاہر کی جو علم فقہ و حدیث میں مہارتِ تامہ اور یدِ طولیٰ رکھتی تھی۔ آپ نے ارشاد کیا کہ میں آج استخارہ کروں گااور مجھے جو کچھ حکم ہوگا، اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ چنانچہ آپ کو استخارہ میں ارشارہ ہوا کہ یہ نکاح سرزمینِ ہند کے لیے باعثِ برکت و رحمت ہوگا اور اس کے نُور سے ارد گرد کے ملکوں میں اسلام کی روشنی پھیلے گی چنانچہ استخارے کی یہ خبر سُن کر مفتی صاحب خوش ہوئے اور آپ سے اپنی لڑکی کا نکاح کردیا۔ پھر آپ اپنے گھر تیزئی شریف علاقہ تیراہ(افغانستان) تشریف لے گئے۔

آپ کی پہلی بیوی جو کہ آپ کے والد مکرّم کی حیاتِ مبارکہ میں نکاح میں آئی تھیں، کے بطن سے ایک لڑکی تھی جو اب انیس برس کی ہوچکی تھی۔ جب آپ اپنے مکان پر پہنچے تو پہلی تو پہلی بیوی نے اٹھارہ برس کی طویل مدّت کے بعد آپ کو دیکھا تو پہنچاننے سے انکار کردیا کہ آپ جوانی کے عالم میں لباسِ سپہ گری میں گھر سے روانہ ہوئے تھے اور ڈاک کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے اپنی خیریّت کی کوئی اطلاع گھر نہ دے سکے تھے۔ پہلی بیوی نے کہا کہ میں کیسے یقین کروں کے آپ میرے خاوند ہیں۔ میں غیر محرم کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

اسی طرح تین ماہ تک آپ اپنی چھوٹی بیوی صاحبہ کے ہمراہ دوسری جگہ اُسی گاؤں میں رہے۔ اتفاقاً ایک دن ایک جنازہ پر مولوی شیر محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوگئی جوکہ ایّام تعلیم میں آپ کے ہم درس رہے تھے۔ آپ نے مولوی صاحب کو تمام ماجرا سنایا کہ قدرتِ الٰہی ہے کہ کوئی شخص مجھے پہچان نہیں رہا ہے۔ اور تو اور بیوی نے بھی پہچاننے سے انکار کردیا ہے اور مجھے غیر محرم گردانتے ہوئے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اب اپنے ہی گاؤں میں ایک مسافر کی سی زندگی بسر کر رہا ہوں۔مولوی شیر محمد رحمۃ اللہ علیہ نے گاؤں کے لوگوں کو اکھٹا کیا اور بتایا کہ یہ خواجہ محمد فیض اللہ ہی ہیں۔ میں نے عرصہ تک اِن کے والد بزرگوار کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا ہے اور یہ میرے ہم سبق رہے ہیں۔ یہ سن کر سب لوگوں کو تصدیق اور اطمینان ہوا اور آپ کی پہلی بیوی نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ اور سب خوش و خرم رہنے لگے۔ دونوں بیویاں باہم شیر و شکر ہوگئیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ فرزندوں سے نوازا جو سب برگزیدہ اور صاحب باطن تھے خواجہ نور محمد، خواجہ گل محمد، خواجہ جان محمد، خواجہ صالح محمد، خواجہ محمد نور رحمۃ اللہ علیہم۔

اللہ جل شانہ نے آپ کو روحانیت علم اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ ایسے کمالات عطاء فرمائے تھے،جن سے اکابر صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔آپ اپنی کرامات کو بہت پوشیدہ رکھتےتھے۔اس کےباوجود آپ کی بہت سی کرامات زبان و عام ہیں۔

خشک درخت سرسبز ہوگیا: ایک دفعہ دورانِ سفر آپ تھک کر بیٹھ گئے۔ چند مسافر اور بھی آکر وہاں ٹھہر گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اُن میں سے ایک نے آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون شخص ہے؟ دوسرے نے کہا کہ کوئی فقیر و درویش ہوگا! تیسرے نے کہا کہ اگر یہ فقیر ہوتا تو وہ سامنے والا خشک درخت، سر سبز نہ ہوجاتا۔ یہ سن کر آپ نے دعا فرمائی تو وہ درخت اسی وقت سر سبز و شاداب ہوگیا۔ پھُول پھل بھی لگ گئے۔(2)تیزئی شریف میں مسجد کے قریب ایک بلند چبوترے پر زیتون کے دو بڑے موٹے موٹے درخت تھے جو کہ عرصۂ دراز سے خشک ہوگئے تھے۔ آپ نے ان درختوں کے سہارے بیٹھ کر مطالعہ فرمایا کرتے تھے اور جب کبھی پانی نوش فرماتے تو باقی ماندہ پانی اُن کے دامن میں ڈال دیتے تھے۔ آپ کی برکت سے دونوں درخت ایک ماہ کے اندر اندر سر سبز و شاداب ہوگئے اور اب تک اُسی حالت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ زیارت کرچکے ہیں۔

آپ کی برکت سے پانی کا چشمہ ظاہر ہوا: پانی کی سخت قلّت و تکلیف کی وجہ سے تیزئی شریف کے لوگوں نے عرض کیا کہ دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کہیں سے چشمہ نکل آئے۔ آپ نے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ جگہ کھودو
۔ حسب الحکم عمل کیا گیا۔ ابھی چند گز ہی زمین کھودی گئی تھی کہ آبِ شیریں کا چشمہ نمودار ہوا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ آپ کے کشف و کرامات کے قائل ہوگئے اور بہت سے مخالف لوگ بھی حلقہ میں داخل ہوکر سعادتِ بیعت سے مشرف ہوئے۔ وہ چشمہ تاحال جاری و ساری ہے۔

آپ نے اپنی زندگی مبارک کا بیشتر حصہ دور رداز کے سفر میں گزارا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر سعادت دین و دنیا سے مشرف ہوئے۔ آخری عمر میں کمزور ہوگئے تھے جس کی وجہ سے پالکی میں سوار ہوکر سفر فرمایا کرتے تھے۔ زبانِ اقدس میں اتنی تاثیر تھی جو کچھ بھی ارشاد فرماتے پُورا ہوجاتا اور نہایت شیریں اور شخصیّت جاذبِ نظر تھی۔ اکثر لوگ تو روئے انور کو دیکھ کر ہی بیعت کرلیتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 8 ربیع الاول 1245ھ مطابق اوائل ماہِ ستمبر 1829ء کو تیزئی شریف وادیِ تیراہ افغانستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faizullah-teerahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حاجی محمد قادری نوشہ گنج بخش علوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اوصافِ جمیلہ

آپ سراج العارفین، شمس العاشقین، دلیل المتورّعین، جلیل المتصوّفین، قطب الثقلین، غوث الفریقین، سلطان الاولیا، برہان الاتقیا، امامِ صدرِ ولایت، ضیائے بدرِ ہدایت، علالۂ اصحابِ شریعت، سلالۂ اربابِ طریقت، واقفِ رموزِ حقیقت، کاشفِ اسرارِ معرفت، ہادیٔ راہِ ارشاد، وَلی مادر زاد، صاحبِ جذب و صحو و سُکر و عشق و محبت و ذوق و شوق و زُھد و ریاضت و تقوٰے و عبادت و خوارق و کرامات تھے، فقر میں مقاماتِ بلند اور شانِ ارجمند رکھتے تھے، حضرت سخی شاہ سلیمان نوری قادری بھلوالی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفۂ اعظم تھے۔

نام و لقب

آپ کا اسمِ گرامی حاجی محمد، لقبِ سامی نوشہ، خطاب گنج بخش، وارث الانبیا، غالب الاولیا، مجددِ اکبر، پہلوانِ سخی، بھُورے والہ تھا۔

نسب نامہ پدری:
آپ خاندانِ عالیشان ساداتِ صحیح النسب علوی عباسی کے معزز رکن تھے، سیادت و نجابت موروثی رکھتے تھے۔

آپ کے والد بزرگوار کا نام حاجی الحرمین الشریفین حضرت سید ابو اسمٰعیل علاو الدین حسین غازی رحمۃ اللہ علیہ تھا جو اکابر اولیائے وقت سے تھے، سات حج پیادہ چل کر کیے، اِن کا مزار گھگانوالی سے جانب نیرت ایک میل کے فاصلہ پر، موضِع بھیکھے والہ سے مغرب کی طرف اور موضع دُھنی سے مشرق کی طرف بنام ’’درگاہِ حاجی غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ‘‘ مشہور و زیارت گاہِ خلائق ہے ابن سید ابو العلاء شمس الدین سنگی شہید بن سید ابو سلیمان جلال الدین سید ابو محمد عبد اللہ ذاکِر ھُوْ بن سید صاحب الدین المعروف بہ شاہنشاہ بن سید گل محمد بن سید معز الدین بن سید اوحد الدین عبد الصمد الملقب بہ شاہ سوہند ابن سید عطاء اللہ بن سید عبد الاول زاہد بن سید محمود شاہ الملقب بہ پیر جالب بن سید کمال الدین احمد شاہ بن سید ابو المنصور جلال الدین سلطان شاہ بن سید امین الدین محمد شاہ بخت مند الملقب بہ منوّر بن سید سعید الدین سکندر شاہ بن سید برہان الدین ہبیرہ بن سید جلال الدین گوہر شاہ بن سید غر الدین الملقب بہ شاہ عزت بن سید جمال الدین اسحاق روشن ضمیر بن سید عبد الحق سجن بن سید ابو العباس زمان علی محسن بن سید ابو عبد اللہ عون قطب شاہ بغدادی بن سید یعلٰے قاسمِ بن سید حمزہ ثانی بن سید طمیار بن سید قاسم بن سید علی بن سید جعفر بن سید ابو القاسم حمزۃ الاکبر بن سید ابو العباس حسن بن سید ابو علی عُبید اللہ المدنی بن سید ابو الفضل عباسی علم دار شہیدِ کربلا بن حضرت سید امام ابو الحسن علی المرتضیٰ علیھم السلام والرضوان۔

ف آپ کے آبا و اجداد کے حالات میں میں نے (شرافت نے) ایک علیٰحدہ کتاب بنام تاریخ عباسی لکھی ہے۔ جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوشہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک بلکہ اپنے تک سب بزرگوں کے حالات مستند تذکروں سے لکھے ہیں۔

نسب نامہ مادری:
حضرت نوشاہِ عالیجاہ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت بی بی جیونی رحمۃ اللہ علیہ تھا جو عارفات کا ملات سے تھیں بنت شیخ عبد اللہ مفتی قصبہ بیلاں ضلع گجرات (نو مسلم) بن فرن بن جیون بن چنگا بن چوکھا بن کالا بن سٹھو بن منہاس [مورث قوم منہاس راجپوت] بن بھاؤ بن اوپر چند بن بھدر بن لوہ بن راجہ کرن بن سورج حاکم جموں۔

خاندانی حالات:
سادات علوی پہلے مدینہ طیبہ میں سکونت گزین تھے۔ ان میں سے پہلے سید ابو القاسم حمزۃ الاکبر بن حسن علوی بغداد شریف میں آبسے اور کثیر الاولاد ہوئے۔

عرس شریف:
حضرت نوشہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اعراس مبارک متعدد جگہ ہوتے ہیں۔

۱۔ بتاریخ پنجم ربیع الاول نوشہرہ شریف میں ہر سال آپ کا عُرس شریف نہایت تزک و احتشام سے ہوتا چلا آتا ہے، چنانچہ زمانہ حاضرہ میں حضرت میاں محمد فاضِل صاحب فقیر نوشاہی نوشہروی خاص اہتمام سے کیا کرتے ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-muhammad-qadri-nosha-ganj-bakhsh-alvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سخی شاہ سلیمان نوری علیہ الرحمۃ
اوصافِ جمیلہ

آپ سلطان الراسخین، دلیل العارفین، زبدۃ الاولیاء والمتقین، عمدۃ الاصفیا والموحدین، خزینۃ العلوم و الانوار، سفینۃ الارشاد و الاسرار، قطب الواصلین، غوث العالمین، سید الاوتاد، امام الافراد، صاحب جودو کرم جذب و عشق و محبت و سکر و وجد و سماع تھے۔ حضرت مخدوم شاہ معروف چشتی خوشابی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔

نام و نسب

آپ کا نام نامی سلیمان، لقب گرامی سخی بادشاہ، سخی پیر، [۱] [۱۔ حدیث شریف میں سخی کے بڑے فضایل مروی ہیں چنانچہ السخی حبیب اللہ۔ اور السخی قریب اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس (گنجینہ عرفان)] نوری، حضوری، شیخ صاحب، شاہِ شاہاں تھا۔

آپ معزز خاندان قریشی کے چشم و چراغ تھے، اور آبا و اجداد سے نعمتِ فقر موروثی رکھتے تھے، والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ المعروف میاں منگو صاحب تھا، ابن جلال الدین بن شمس الدین بن محمد مراد بن محمد صالح بن شیخ حسین بن عبد الخالق بن خدایار بن سلطان علی بن عَون بن قاسِم بن اسمٰعیل بن مظہر بن ادم بن عبد الشکور بن عبد العلی بن مطرف بن خزیمہ بن خادم بن مطرف بن عبد الرحیم بن عبد الرحمٰن بن عیار صحابی بن اسد بن مطلب بن اسد بن عبد العزّٰی بن قصَیّ بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب القرشی [۱] [۱۔ خلاصۃ العارفین ۱۲ شرافت] آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت مائی بھاگ بھری صاحبہ رحمۃ اللہ علیہ تھا۔

ولادت

آپ کی ولادت با سعادت [۱] [۱۔ تقویم ہجری و عیسوی کے رُو سے وہ جمعہ کا دن تھا اور ۷؍ جولائی ۱۵۰۸ء ماہ؍ ہاطِ ۱۵۶۵ ب تاریخ تھی ۱۲ شرافت] بتاریخ ہشتم (۸) ربیع الاول ۹۱۴ھ نو سو چودہ ہجری [۱] [۱۔ مناقباتِ نوشاہیہ ۱۲] مطابق ۱۵۰۸ء ایک ہزار پانسو آٹھ عیسوی میں بمقام بھلوال شریف ہوئی۔

تربیتِ ظاہری و باطنی

آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے آغوش عاطفت میں پرورش پائی شروع سے طبیعت میں سکریہ جذبات تھے، جب چار سالہ [۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اول ص ۱۶۹] ہوئے تو ایک دن حضرت شاہ معروف خوشابی رحمۃ اللہ علیہ سیر فرماتے ہوئے بھلوال شریف پہنچے، اور آپ کے والد رحمۃ اللہ علیہ کے گھر شب باش ہوئے، صبح آپ کو صحن خانہ میں کھیلتے دیکھ کر کمال خوش ہوئے، اور بُشرہ سے پہچان لیا کہ یہی وہ انسان ہے، جس کے لیے ہمیں اِس علاقہ میں بھیجا گیا ہے نہایت محبت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا، اور پیشانی پر بوسہ دیا، اور آپ کے باپ کو فرمایا میاں منگو! یہ لڑکا ہماری امانت ہے، اس کو بحفاظت رکھنا، یہ ایسامرد ہوگا کہ تمام جہان اس سے مستفیض ہوگا، اگر اس کو کسی وقت بیہوشی ہوجایا کرے تو آسیب یا بیماری نہ خیال کرنا، یہ ہماری توجہ کی علامت ہوگی، اور ہم بھی اس کے حال سے غافل نہیں رہیں گے، چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت مہربانی فرما کر رخصت ہوگئے، اور بعد ازاں گاہے گاہے بھلوال شریف آکر خبر گیری اور تربیت روحانی کرتے رہے۔ [۱] [۱۔ الاعجاز (رسالہ احمد بیگ قلمی ص ۲۴)]

عالمِ بیخودی

جیسا کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا، آپ پر بیخودی طاری ہو جاتی، مدہوشی میں زمین پر گر پڑتے، منہ سے کف ظاہرہوتی، اعضا ٹیڑھے ہوجاتے سر مبارک پھر جاتا، چہرہ مونڈہوں پر جا لگتا۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۵]

واقعہ بیعت

اسی طرح جب آپ جوان ہوئے تو جذبہ الٰہی نے کشش کی، تلاش ہادی میں صحرا نور دی کرتے ہوئے خوشاب شریف میں حضرت شیخ المشایخ مجمع البحرین مخدوم شاہ معروف فارقی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے، اور اُن کے دستِ حق پرست پر بیعت طریقت کی۔ [۱] [۱۔ ایضًا ص ۲۷ شرافت]

خلافت و اجازت

حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ عرصہ آپ کو اپنے پاس رکھا، اور توجہات کیں، آپ کا شوق دن بدن بڑھتا گیا، اور ہر گھڑی و ہر لمحہ مراتب و درجات میں ترقی ہوتی رہی یہاں تک کہ مقصد حقیقی کو پالیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے علو مرتبت اور سمّوِ مناصب کو دیکھ کر آپ کو خلعت خلافت و اجازت سے مفتخر کیا اور فرمایا اے فرزند! جو امانت ہم کو قبلۃ العارفین حضرت مخدوم سید مبارک حقانی اوچی رحمۃ اللہ علیہ سے ملی تھی، اور اُن کو سلسلہ وار اپنے آبا و اجداد سے موصول ہوئی تھی، وہ سب تم کو دے دی ہے، اب دو تلواریں ایک نیام میں گنجائش نہیں رکھتیں، تم یہاں سے جا کر کچھ عرصہ ملکِ الٰہی کا سیر کرو، اور پھر وطنِ مالوف مقیم ہوکر لوگوں کو خدا کی طرف راہ نمائی کرو۔ [۱] [۱۔ رسالہ احمد بیگ ص ۲۸ شرافت]

بشارت خلیفہ

آخر جب آپ وداع ہونے لگے تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بیٹا! ذرا اپنی دائیں طرف نظر کرو جب مڑ کر دیکھا، تو ایک بلند قامت، یوسف صورت خضر سیرت نوجوان نظر آیا، جس کی پیشانی سے نور کے تجلیات ظاہر ہو رہے تھے، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو کچھ تم کو عنایت کیا گیا ہے، وہ سب اسی جوان کا نصیبہ ہے، یہ تمہارا خلیفہ اور روحانی جانشین ہوگا، اِس کا نام حاجی محمد نوشہ گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ہے، زمانہ میں لاثانی ہوگا، اس جوا
1