🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو مِعراج النَّبِی
ﷺ خٗوب خٗوب مُبارک ہُو 🌹🌹
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💕 *"معراج کے دولہا میرے نبیﷺ"* 💕
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم ؐ کا سفر مبارک آپ ؐ کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم ؐ کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور ؐ اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہاکر رکھی تھی لیکن آپ ؐ بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ ؐ نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی ؓ سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ ؐ اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی ؐ نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ ؐ کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ ؐبہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ ؐ ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غارؓ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ؓ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ ؐ کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل ؑ آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم ؐ نے آپ ؓ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
معراج جسمانی کے دلائل:
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور پس جہاں تمہیں حکم دیا جاتا ہے چلے جاؤ “
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم ؐ کا سفر مبارک آپ ؐ کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم ؐ کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور ؐ اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہاکر رکھی تھی لیکن آپ ؐ بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ ؐ نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی ؓ سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ ؐ اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی ؐ نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ ؐ کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ ؐبہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ ؐ ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غارؓ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ؓ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ ؐ کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل ؑ آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم ؐ نے آپ ؓ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
معراج جسمانی کے دلائل:
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور پس جہاں تمہیں حکم دیا جاتا ہے چلے جاؤ “
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات