🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
پھر ایسی صلاحیت و کمال پیدا ہو گیا کہ آپ نے حضرت میاں شیر ربانی کی روشن کی ہوئی شمع کو بجھنے نہ دیا اور اسی طرح تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔

اس سلسلے میں دور دراز کے سفر بھی کئے اور خلقِ خدا کو فیض یاب کیا ۔ آپ کی شخصیت پُرکشش اور گفتگو پر تاثیر ہوا کرتی تھی۔ ایک دہر یہ لڑکا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ آپ نے اسے صرف اتنا فرمایا ’’نماز پڑھا کرو ‘‘ اس مختصر سے جملے کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ لڑکا دین متین کا پابند ہو گیا اور وجود باری تعالیٰ پر ایسی ایسی دلیلیں قائم کرتا کہ سننے والے حیران رہ جاتے ـ

حضرت میاں صاحب سادہ لباس زیب تن فرماتے اور کسر ِنفسی کا یہ حال تھا کہ صاحب سجادہ ہونے کے باوجود فرمایا کرتے تھے کہ میں تو اسی قدر ہوں کہ جو کوئی حضرتِ اعلیٰ کامہمان آئے اس کے ہاتھ دھلا دیا کروں اور کھانا کھلادیا کروں!

حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ نے شرق پور شریف میں جو متعدد مساجد تعمیر کرائی تھیں انہیں آپ نے پختہ بنادیا ور بعض مساجد کو وسیع کردیا ۔ حضرت میاں شیر محمد صاحب شر قپور ی قدس سرہ کے ایک خلیفہ حضرت الحاج عبد الرحمن نے آپ کو ثانی لاثانی کا لقب دیا جو زبان زد خاص و عام ہے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:297)

صاحبزادہ محمد عمر بریلوی فرماتےہیں: مرض الموت میں حضرت شیر ربانی نے اپنے برادرِاصغر کو بلا کر فرمایا : ’’میاں جمعہ پڑھایا کرنا اور مسجد شریف کو آباد رکھنا،کوئی آجائے تو اس کو کچھ بتلا دینا ‘‘۔ پھر کیاتھا کہ ان کے وصال کے بعد آپ نے خانقاہ کا نظام اپنے ہاتھ میں لیا، اور حضرت کے چالیسویں پر بہت بڑے اجتماع سے پر اثر خطاب کیا۔

مخلصین کو ایسی امید نہ تھی کہ حضرت کا خلا پر ہو جائےگا۔ لیکن شرقپور شریف کے مئے خانہ عشق میں پھر سے وہی بہاریں و رونقیں نظر آنے لگیں۔

ہر طرف انوار و روحانیت کی بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ حضرت میاں غلام اللہ ثانی لاثانی کےلقب سے ملقب ہوکر اس دنیاسے رخصت ہوگئے۔آپ نےعلاقے میں مساجد و مدارس کی تعمیر میں خوب حصہ لیا۔

شرقپور میں بدمذہبی کےجراثیم ظاہر ہونےلگےتو آپ نے’’جامعہ حضرت میاں صاحب‘‘ کی بنیاد رکھی،جس میں اس وقت کےجید علماء کرام تدریس کےلیے مدعو کئےگئے۔بہت قلیل عرصے میں ایک عظیم الشان اہل سنت کامرکز بن گیا ۔ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آنے لگیں، اسلام کےانوار سے لوگوں کے قلوب منور ہونے لگے۔ اس کی برکت سےلادینیت و بدمذہبیت کے اندھیرے دور ہو گئے ۔

تحریکِ پاکستان میں خدمات:
تحریک پاکستان ایک ایسی تاریخ ہے جس کے پیچھے علماء، صوفیاء، اور مشائخِ اہل سنت کی بھر پور کوششیں اور قربانیاں ہیں۔یہ ایک سنہری باب ہے جس میں علماء و مشائخ اہل سنت کا عظیم کردار ہے ۔

اس تحریک میں کسی دوسرے مسلک کاکوئی لیڈرنہیں ملےگا۔ البتہ اس کی مخالفت میں ان کی پوری تاریخ ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ اگر علماء ومشائخ اہل سنت تحریک پاکستان کی حمایت نہ کرتے توپاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا۔

تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے ہزاروں علماء و مشائخ میں سے ایک نام حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری کا بھی ہے ۔

سر زمین شرقپور میں پاکستان کی حمایت میں ہونے والا پہلاجلسہ آپ کی صدارت میں ہوا۔اس کےجملہ اخراجات آپ نےاپنی گرہ سےادا فرمائے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جس میں پاکستان کانام لینا جرم تھا۔مگر آپ کی ہمت واستقامت نےمسلم لیگ کواس علاقےمیں عوام کی دلوں کی دھڑکن بنادیا۔ آپ اکثر مسلم لیگ کی مالی مددفرماتےرہے۔ (انوار جمیل:169)

ان علاقوں میں آپ کی کوشش سےمسلم لیگ کو کامیابی ہوئی۔ بالآخر پاکستان دنیا کے نقشےپر نظام مصطفی ﷺ کے لئے معرض وجود میں آگیا ۔ لیکن جس مقصد کےلئے اسے حاصل کیاگیا تھا،وہ حاصل نہ ہوا۔مخلصین توبناکرپیچھےہٹ گئے،وہ سادہ لوح،پاک باطن یہ سمجھےتھے کہ ہم اپنا فرض اداکرچکے، اب اس ملک میں اسلام کانفاذ ہوگا۔لیکن اس پر جاگیر داروں، انگریز کے غلاموں، وڈیروں، اور چوہدریوں کاقبضہ ہوگیا۔

ستر سال ہوگئے اس ملک کوقائم ہوئے۔لیکن جس مقصد کےلئےاس کوحاصل کیاگیا تھا وہ پورا نہ ہوا۔اس وقت ملک میں جمہوریت کےنام پر وڈیرہ شاہی، خاندانی، اور انگریز کا قانون چل رہاہے۔حکمران طبقہ اس ملک کوسیکولر بنانے میں مصروف ہیں،بےحیائی،بےراہ روی،اور دین سےدوری کا سلسلہ عروج پرہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اس ملک کو نظام مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بنائے ۔

تاریخِ وصال:
7 ربیع الاول 1377ھ / مطابق 12 اکتوبر 1957ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ حضرت شیر ربانی کے پہلو میں آخری آرامگاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ انوارِ جمیل ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ghulamullah-sharaqpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ منتخب الدین چشتی (حضرت زر زری زر بخش دولہا، خلد آبار) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خلافت:
آپ حضرت گنج شکر کے مشہور خلیفہ تھے ـ

آپ کو آقائے منتخب بھی کہتے ہیں ـ

آپ شیخ برہان الدین غریب کے بڑے بھائی ہیں اور زرے زرین اور زر بخش کے لقب ملقب ہوئے ۔

معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ یہ لقب آپ کو اس لیے ملا کہ آپ بڑے ریاضت اور مجاہدہ کے عادی تھے ۔

شیخ منتخب الدین رحمۃ اللہ علیہ محبوبی کے مرتبے پر پہنچے ہوئے تھے خزانۂ غیب سے انہیں ہر روز صبح و شام دو سنہری خلعتیں آیا کرتی تھیں، آپ انہیں بیچ دیتے اور درویشوں اور مسکینوں میں خرچ کر دیتے ۔ اور خود استعمال نہ کرتے اس لیے آپ کا لقب زرے زرین زر بخش پڑ گیا ۔

جن دنوں ملک دیو گیر میں کفر و بدعت کا دور دورا تھا تو حضرت خواجہ فرید گنج شکر نے آپ کو دیو گیر کی طرف روانہ فرمایا آپ نے وہاں پہنچ کر مخلوق کو ہدایت دی اور بہت سے لوگوں کو راہ راست پر لے آئے ـ

جن لوگوں نے ضد میں آ کر اِنکار کر دیا، ان کے لیے بَد دُعا کی اُن کی صورتیں مسخ ہو گئیں، آج تک دیوگیر کے پہاڑوں میں پتھر کی بنی ہوئی مسخ صورتیں پائی جاتی ہیں ـ

آپ فوت ہوئے تو حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے شیخ برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی جگہ مقرر فرمایا، آپ نے اتنی محنت کی کہ اس ملک میں کفر و بدعت کا نام و نشان نہ رہا ۔

وصال:
7 ربیع الاول شریف 695 ھ
معارج الولایت کے مصنف نے آپ کی تاریخ وفات سات ربیع الاول چھ سو پچانوے لکھی ہے ۔

شیخ عالم پیرِ دوران منتخب
شد چو از دنیا سوئے دار البقا

کاشف حق صوفی آمد رحلتش
ہم نجوان مہدی کامل مقتدا

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zar-zari-zar-baksh-dulha
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1445 ᴴ | 23-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-03-1445 ᴴ | 24-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-03-1445 ᴴ | 24-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-03-1445 ᴴ | 24-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1