🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
شانِ بے نیازی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ ایک دن اپنے درویشوں کے ساتھ سردیوں کے موسم میں اپنے حجرے کی چھت پر صبح کے وقت رونق افروز تھے ۔ آپ ایک درویش کی گود میں سر رَکھ کر آرام فرما رہے تھے، اور باقی درویش اپنی گودڑیوں سے جوئیں نکالنے میں مصروف تھے ۔ اتنے میں ایک درویش نے شہنشاہ ہندوستان شاہ جہاں بادشاہ کو اپنے بڑے فرزند دارا شکوہ کے ہمراہ حضرت کی زیارت کے لئے آتے دیکھا تو ہنس دیا ۔

آپ نے درویش سے ہنسی اور خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا ۔ کہ جناب بادشاہ شاہ جہاں اور دارا شکوہ آپ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ارے نادان! میں تو یہ سمجھا کہ تجھے اپنی گودڑی میں کوئی بڑی موٹی جوں مل گئی ہے ۔ جس سے تو خوش ہو رہا ہے ۔

بے وقوف بادشاہ کے آنے سے دانت دِکھا رہا ہے ۔ غرض ان لوگوں کی نظروں میں بادشاہ دنیا کی حقیقت جوں اور پسّو سے بھی کم تھی ۔ پھر بادشاہِ حقیقی اللہ جل شانہ کے نامِ پاک کی ہیبت و حشمت اور عزت و عظمت ان کے وجودِ مسعود میں اس قدر تھی کہ بادشاہ بھی تھر تھر کانپتے تھے، اور ان کی کفش برداری کو اپنے لیے سعادت اور فخر سمجھتے تھے ۔ شاہ جہاں کے آنے سے حضرت کی مجلس میں کوئی فرق نہیں آیا، جس طرح آرام فرما تھے، اسی حالت میں رہے ۔ بادشاہ حضرت کی قدم بوسی سے فارغ ہو کر ایک طرف کونے میں مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔

اس وقت حضرت میاں میر الائچی خورد منہ میں چبا رہے تھے، اور اس کا فُضلہ اپنے منہ سے نکال کر تھوکتے جاتے تھے اور شاہ جہاں اسے بطورِ تبرک اپنی شاہی چادر کے ایک کونے میں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھ کر جمع کرتے جاتے تھے ۔ یہ شاہ جہاں میاں میر کے حجرے میں آ کر بیٹھ جاتا، اور کہتا کہ جتنا سکون مجھے اس ٹوٹی چھت والے حجرے کی ٹوٹی ہوئی صفوں پہ آتا ہے، ایسا سکون شاہی تخت پر نہیں آتا ۔ (شانِ مصطفیٰ بزبانِ مصطفیٰ ، ص:731) ـ

حضرت میاں میر ورع، تقویٰ، ترک، تفرید، سیر و سلوک، فتوح و کشائش میں ممتاز تھے، آپ شریعت طریقت اور حقیقت سے آراستہ تھے ۔ آپ حقائق و معارف کی وہ باتیں بیان فرماتے جو پہلے نہیں سنی گئی تھیں ۔

آپ کی تجرید کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ عصا لے کر دو تین قدم چلے ہونگے کہ عصا پھینک دیا اور فرمایا: وہ شخص عصا پر کیوں سہارا لے، جس نے حق سبحانہ تعالیٰ کا سہارا لیا ہے ۔

حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ہر اس کام سے پرہیز فرماتے جس میں ریا کاری یا حُبِ جاہ کا شائبہ تک ہوتا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ حُبِ جاہ درویش کے لیے تباہی اور بربادی کا موجب ہے ۔ فرمایا حب جاہ کو دل سے نکالنا بڑا بھاری کام ہے ۔ آپ اکثر اپنے خلفاء کو طلبِ شہرت اور حُبِ جاہ سے بچنے کی سخت تلقین فرماتے ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:62) ـ

حضرت خواجہ بہاری آپ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ ایک دن چند احباب کے ساتھ گھر میں تشریف فرما تھے کہ چھت کی کڑیاں چڑ چڑانے لگیں ۔ انہوں نے دوستوں کو فوراً مکان سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا ۔ وہ سب باہر چلے گئے لیکن خواجہ بہاری علیہ الرحمہ خود وہیں بیٹھے بلند آواز سے کلمۂ طیبہ کا ورد کرنے لگے ۔ اندازے کے مطابق چھت گر پڑی لیکن دو کڑیاں آپس میں جُڑ گئیں اور اس تکون کے نیچے خواجہ بہاری علیہ الرحمہ محفوظ بیٹھے رہے ۔

یہ واقعہ جب حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو فرمایا: ہائے! عزت اور جاہ کی طلب! کہ اس کا خیال مرتے وقت بھی نہ گیا ۔ کلمۂ طیبہ بلند آواز سے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سن لیں کہ بہاری موت کے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا ۔ پھر فرمایا: اسے کلمہ طیبہ دل میں پڑھنا چاہیے تھا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ ، ص: 63) ـ

حضرت میاں میر قادری علیہ الرحمہ کا کرامات کے حوالے سے وہی مؤقف تھا جو جلیل القدر صوفیائے متقدمین کا تھا ۔ وہ بطورِ خاص اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ان کے مجاز اور خلفاء حضرات کرامت کے اظہار سے اجتناب کریں اور یوں شہرت اور نام و نمود سے بچنے کی کوشش کریں ۔ وہ کشف و کرامت کے اظہار کو سالکِ راہِ طریقت کے لیے حجاب قرار دیتے تھے اور فرماتے ’’ کشف بر سر او کفش ‘‘ یعنی کشف کے سر پر جوتا ۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مراتب سلوک میں کرامت کا درجہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’ خواجگانِ چشت کے نزدیک سلوک کے پندرہ درجے ہیں، ان میں پانچواں درجہ کشف و کرامت کا ہے ۔ جو شخص اپنی ذات کو پانچویں درجہ میں ہویدا کرے گا وہ بقیہ دس درجوں کو حاصل نہ کر سکے گا ‘‘ ۔ (صوفیاء اور ان کا حسن اخلاق ، ص: 123) ـ

اگر کوئی امیر نذرانہ کے لیے اصرار کرتا تو فرماتے: کیا تم نے مجھے فقیر سمجھ رکھا ہے؟ میں فقیر اور مستحق نہیں ہوں، غنی ہوں کیونکہ جو خدا کا ہو جائے وہ فقیر نہیں ہوتا ۔ یہ رقم لے جاؤ کسی مستحق کو دے دو ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:43) ـ
1
شاہ جہاں جب پہلی مرتبہ حاضرِ خدمت ہوا تو خطیر رقم بطورِ نذرانہ پیش کی ۔ آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ بادشاہ نے آپ کے ایک ہم عصر بزرگ حضرت شاہ بلاول علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر وہی رقم پیش کر دی ۔ انہوں نے یہ کہہ کر قبول کر لی کہ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ تو مَلکی صفات ہیں (یعنی فرشتہ صفت ہیں) ان کی توجہ دنیاوی حکام کی طرف نہیں، ہمارے ہاں طلباء، مسافر اور درویشوں کے لئے لنگر جاری رہتا ہے اس کے لیے رقم کی ضرورت رہتی ہے ۔ شاہ جہاں جب دوبارہ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت شاہ بلاول علیہ الرحمہ کے نذرانہ قبول کرنے کا واقعہ بیان کر دیا ۔ حضرت میاں میر نے فرمایا: ’’ شاہ بلاول ولی کامل ہیں وہ دریا کی مانند ہیں، میں ان کے سامنے ایک تالاب ہوں ۔ دریا میں اگر کوئی چیز پڑ جائے تو پلید نہیں ہوتی ۔ اس کے مقابلے میں تالاب کی کیا حیثیت ہے ۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان ، ص: 242) ـ

یہ واقعہ آپ کے استغنا اور تواضع کی روشن مثال ہے ۔

حضرت میاں میر قادری نہایت سادہ اور کم قیمت لباس استعمال کرتے، سفید پگڑی کے ساتھ سفید کھدر کی قمیض اور تہبند زیب تن فرماتے۔ لباس اگرچہ کم قیمت ہوتا لیکن ہمیشہ صاف ستھرا رہتا۔ آپ ﷫ دریا  راوی پر جا کر اپنے کپڑے خود دھو لیا کرتے۔ کھانے پینے میں کبھی تکلف نہ فرمایا جو میسر ہوتا سب احباب کے ساتھ مل کر تناول فرما لیتے۔ رہائش بھی بالکل سادہ تھی۔ عمر بھر ایک پارینہ بوریہ زیر استعمال رہا۔ (سکینۃ الاولیاء:39) ـ

دنیاوی آسائشوں سے اس طرح بے نیاز رہے کہ سید  عالم ﷺ کے ارشاد ’’الفقر فخری‘‘ کا کامل نمونہ نظر آتا تھا۔ آپ کےتوکل کایہ حال تھاکہ رات کےوقت کوزےکاپانی پھینک دیتےتھے،لوگوں سےالگ رہنا پسندفرماتےتھے،رات کوسوتےنہیں تھے،آپ بہت کم لوگوں کومریدکرتے تھے۔آپ کےفقروفاقہ کایہ حال تھاکہ کئی کئی روزتک بھوکےرہتے۔تیس سال تک آپ کےہاں کچھ نہ پکا،آپ کی خوراک بہت کم تھی،ہروقت استغراق کی حالت میں رہتےتھے۔خرقہ اورمرقع زیب تن نہیں فرماتےتھے،ایک معمولی کپڑے کی پگڑی سرپررکھتےاور موٹےکپڑے کاکرتہ پہنتےتھے۔آپ کےگھرمیں ایک پرانا بوریا بچھارہتاتھا، دنیااوردنیوی چیزوں سے کسی قسم کا لگاؤ نہیں تھا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے چند سکے بطور نذرانہ پیش کیے اس وقت مجلس میں شاہ جہاں کسی علاقے کی فتح کے لیے طلب دعا کی خاطر حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا : میاں! ہمیں ان سکوں کی ضرورت نہیں یہ تمہارے سامنے بادشاہ بیٹھا ہے۔ یہ سکے اسے دے دو کہ انہیں ان سکوں کی زیادہ ضرورت ہے انہیں کی خاطر وہ لشکر کشی کر کے قتل وغارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس واقعہ کومثنوی اسرارخودی میں تفصیل سے بیان کیاہے۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:244) ـ

تعلیمات:
(1) سالک کےلئے سلوک میں پہلا مرتبہ شریعت ہے۔ طالب کےلئےضروری ہے کہ اس کے حفظ مراتب کی کوشش کرےاورجب کوشش سےاس مرتبےکوقائم کرےگا توشریعت کےادائے حقوق کی برکت سےاس کےدل میں طریقت کی خواہش خودبخود پیداہوجائےگی اورجب طریقت کےحقوق کوبھی اچھی طرح سےاداکرےگا تواللہ تعالیٰ  بشریت کےحجاب اس کی دلی آنکھوں سےدور کردےگااورحقیقت کےمعنی اس پر منکشف ہوجائیں گے،جوروح کےمتعلق ہے۔

(2) حق کی طلب آسان نہیں، جب تک تم اس کی طلب میں یگانہ نہ ہوجاؤگے،اسےنہیں پاسکوگے۔

(3)جس کااللہ ہو،وہ فقیرنہیں۔

(4)صوفی جب کامل ہوجاتاہےاوراس کادل خطرے سے پاک ہوجاتاہے تواسے کوئی چیزضرر نہیں دے سکتی۔

(5)شریعت کے معاملات کی نگہداشت مرتبہ طریقت کےحصول کاسبب ہےاور طریقت بری خصلتوں سےباطن کوپاک کرنےاورمرتبہ حقیقت کےادراک کاموجب ہے اور حقیقت کیاہے؟وجودکوفال بنانااوردل کوماسوا اللہ سے خالی کرنا۔ (6)انسان تین چیزوں،نفس،دل اورروح کامجموعہ ہے،ان میں سےہرایک کی اصلاح خاص چیزسےہوتی ہے،چنانچہ نفس کی اصلاح شریعت سے،دل کی طریقت سےاورروح کی حقیقت سے۔(7)صوفی وجدکی حالت میں ہوتاہےتواپنی ہستی سےخالی ہوتاہےاوربقائے حق سےباقی۔(8)اولیاء کی موت ان کےنفس کامرناہےاورجب ان کانفس مرجاتاہےتوپھروہ ابدالاباد تک زندہ ہی رہتےہیں۔(9) اولیاءاللہ کاتصرف زندگی میں اورموت کےبعدیکساں ہوتاہے،بلکہ مرنےکےبعدزیادہ اوربہترہوتاہے۔(ایضا:246)

تاریخِ وصال: 7/ربیع الاول1045ھ،مطابق 21اگست1635ء،بروز منگل واصل بااللہ ہوئے۔مزار پر انوار لاہور میں مرجعِ عام ہے۔آپ اکثرفرمایاکرتےتھے: کہ وفات کےبعدمجھےشورہ زمین میں دفن کرنا،تاکہ میری ہڈیوں تک کانام ونشان باقی نہ رہےاور نہ ہی قبرکی صورت بنانا۔آپ نےیہ بھی فرمایاکہ میری ہڈیوں کونہ بیچنااورمیری قبرپردوسروں کی طرح دوکان نہ بنالینا۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:243)ـ

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ان الفاظ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں:

حضرت شیخ میاں میر ولی
ہر خفی از نور جان او جلی

بر طریق مصطفیٰ محکم پئی
نغمۂ عشق و محبت را نئی

تربتش ایمان خاکِ شہر ما
مشعل نورِ ہدایت بہرِ ما

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-mian-mir-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ شمس العلماء اسد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت علامہ اسد الحق خیر آبادی خلف اکبر شمس العلماء علامہ عبد الحق خیر آبادی تمام علوم و فنون میں کامل و فاضل، والد ماجد کے شاگرد، نہایت درجہ ذہین، والد اور بزرگوار کے علمی جانشین، ۱۳۱۷ھ میں مدرسہ عالیہ رام پور میں والد کی جگہ پر پرنسپل ہوئے، صرف ایک برس ہی یہ خدمت انجام دی تھی کہ عین شباب میں بمرض ہیضہ 7 ربیع الاوّل ۱۳۱۸ھ موافق 4 اگست 1900ء میں برو ز شنبہ انتقال فرمایا، حضرت مولانا خواجہ احمد رام پوری قدس سرہٗ کے باغ واقع بلاسپور دروازہ رام پور میں دفن کیے گئے، افسوس ہے کہ اُن کے ساتھ اُن کا خاندانی علم و فضل و کمال بھی رخصت ہو گیا، مولانا سید نجم الحسن مد ظلہ مفتیٔ خیر آباد نے ’’ خیر آباد کی ایک جھلک ‘‘ میں جائے قبر کٹرہ محمد حسین خاں غلط لکھا ہے، مگر یہ صحیح نہیں، مولانا حکیم سید عابد علی کوثر خیر آبادی نے قطعۂ تاریخ لکھا جو آپ کے اوصاف حمیدہ کا ترجمان ہے ۔

حیف آں آفتاب فضل و کمال
دفعۃ شد نہاں بزیر زمیں

بود اور فلسفہ و منطق فرد
در اصول و فروع مہر مبیں

منتخب در حدیث و فقہ وادب
فاتح قفلِ گنج دینِ متیں

در ریاضی و ہندسہ و حکمت
فاضلے درجہاں نہ بود چنیں

ماہ تابانِ عز و مجد و علا
مہر رخشانِ شوکت و تمکیں

واٹے در رام پور گشت خزاں
باغ شاداب و سبز شرع دیں

پس ہماں جا بہ خاک بسپر دند
شد غروب آفتابِ علم و یقیں

اُخت و اُم از ملال خاک بسر
ابن وزدج ملول وزار وحزیں

اقرباء از فراق نالہ زناں
دوستاں در غمش فگار و غمیں

مدرسہ از غَمَش خمیدہ پشت
طلبہ از ملال خاک نشیں

کوثرِ زار سالِ فوتش گفت
اعلم،اکمل،مقیم خلد بریں

( خیر آباد کی ایک جھلک، باغی ہندوستان )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-asad-ul-haq-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری ۔ لقب: حضرت ثانی لاثانی ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ثانی لاثانی میاں غلام اللہ شرقپوری بن میاں عزیز الدین شرقپوری بن محمد حسین بن مولانا غلام رسول بن حافظ محمد عمر بن حضرت صالح محمد علیہ الرحمہ۔

حضرت ثانی حضرت میاں شیر ربانی کےچھوٹےاورحقیقی بھائی تھے۔آپ کو اپنے برادر اکبر سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں فیض ملا۔ آپ کے والد گرامی ایک صوفی منش بزرگ اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت تھے۔ اکثر سلسلہ قادریہ کےاوراد وظائف میں مصروف رہتے۔ رہتک (انڈیا) میں ملازمت کرتے تھے۔

اسی جگہ سفر آخرت اختیار کیا۔ آپ کے جدِامجد حضرت مولانا غلام رسول اپنے وقت کےعالم و عارف اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے، ان کے والد بزرگوار جناب حافظ محمد عمر ایک ماہر کاتب اور حاذق حکیم،اور بہت ہی سعادت مند اور صالح تھے۔حضرت شیر ربانی کے جداعلیٰ حضرت میاں صالح محمد﷫قرآن مجید کی کتابت کیا کرتےتھے۔صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔حضرت شیر ربانی ﷫کےآباؤ اجداد افغانی پٹھان تھے۔

افغانستان میں شاہی خاندان کے اساتذہ و اتالیق کا شرف حاصل تھا۔ہندوستان میں جب اسلامی فتوحات کاسلسلہ شروع ہوا تو عرب وعجم کے دیگر علماء ومشائخ کی طرح یہ حضرات بھی دیپالپور میں وارد ہوئے۔کچھ عرصہ بعد دیپالور میں جب قحط سالی کا شکار ہواتو اس خانوادےنےوہاں سےنقل مکانی کرکےقصور کو اپنا مسکن بنالیا۔قصور اس وقت علم وفن کا بہت بڑا مرکز تھا۔بعد میں مولانا غلام رسول نے شرقپور کو اپنا مسکن بنالیا۔(تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:33 / انوار جمیل:49)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1309ھ مطابق 1891ء کوشرقپور شریف ضلع شیخوپورہ پنجاب پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے بھائی شیرِ ربانی حضرت میاں شیرمحمد شر قپوری سے تیس سال چھوٹے تھے ۔ ابھی پانچ سال کے تھے کہ والدِ گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا اور تمام تر پرورش حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ نے کی ۔ چونکہ حضرت میاں صاحب کی اولاد نرنیہ نہ تھی اس لئے آپ نے تمام ترتوجہ انہی پر صرف فرمائی ۔دینی تعلیم کےساتھ عصری علوم میں میٹرک پاس کرنے کے بعدآپ نے طبیہ کالج لاہور سے حکیم حاذق کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد شرقپور شریف میں علاج معالجہ شروع کردیا۔

حضرت میاں صاحب قدس سرہ انہیں روحانی طیب بناناچاہتے تھے اس لئے اس شغل سے منع فرمادیا۔آپ نے یہ سلسلہ ترک کرکے میونسپل کمیٹی میں بطور سیکرٹری ملازمت اختیار کرلی ۔ حضرت میاں صاحب کوپتہ چلا تو سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔میاں صاحب آپ کی ساری کیفیت پر گہری نظر رکھےہوئے تھےاور وہ یہ چاہتےتھے کہ جلد ازجلد اپنا سارا علم وعرفاں اپنے بھائی کےسینے میں منتقل کردیں۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے برادر اکبر حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوری﷫سےبیعت ہوئے،اور میاں شیر ربانی کےوصال کے بعد ان کے جانشین منتخب ہوئے۔

سیرت و خصائص:
محبوب ومنظورِ نظرحضرت شیر ربانی، صاحبِ اسرار ومعارفِ رحمانی، ثانی لاثانی، حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری۔

آپ نے حضرت شیر ربانی کی جانشینی کا صحیح معنوں میں حق اداکردیا۔دین اسلام کی ترویج اور عوامی فلاح وبہبود میں ایسے مصروف ہوئے کہ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آنے لگے۔ایک دفعہ حضرت خواجہ امیر الدین قدس سرہ کے بھتیجے حکیم بابا اکرام خاں نے حضرت میاں صاحب سے عرض کیا،آپ کے بعد کیا ہوگا ؟ حضرت میاں صاحب نے حضرت میاں غلام اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا’’وہ جو ہے ‘‘! حکیم صاحب نے عرض کیا ان کی طبیعت تو تبلیغ و ارشاد کی طرف مائل نہیں ہے۔آپ نے پر جوش لہجے میں فرمایا:’’میں اسی کو دوں گا ‘‘۔اور واقعی ایک مرد ِکامل کی نگاہ نے ان میں وہ صلاحیت پیدا کردی کہ دیکھنے والے حیران ششدر رہ گئے ۔

حضرت میاں صاحب نے وفات سے پہلے آپ کو خلافت اور جانشینی کا شرف بخشا ۔میاں شیر ربانی یہ چاہتےتھے کہ برادر اصغر کو اسی راستے کامسافر بنادوں جوسیدھا جنت کی طرف جاتاہے۔جمعۃ المبارک کادن تھا نماز جمعہ کے وقت سے کچھ دیر پہلے ہی میاں غلام اللہ صاحب مسجد میں داخل ہوئے وضو فرمایا دونوں بھائیوں کا مسجد میں آمنا سامنا ہوگیا۔

حضرت میاں صاحب نےآپ کوپہلی مرتبہ خاص توجہ کی نظر سے دیکھا۔توجہ کافرمانا ہی تھا کہ آپ کا عجیب حال ہوگیا۔ کھڑے کھڑے گر پڑے،اور فرش پر مرغ بسمل کی طرح لوٹ پوٹ ہوگئے۔گریبان چاک کرلیا۔اسی حالت میں لوگ آپ کو مسجد کی چھت پرلےگئے۔حضرت میاں صاحب نمازِ جمعہ سےفراغت حاصل کرنےکےبعد مسجد کی چھت پرتشریف لےگئےاور اپنے بھائی کواسی حالت میں پایا۔

آپ نے انہیں اٹھاکر سینے سےلگایاتو یکدم طبیعت کوقرار آگیا۔بس سینے سےلگانا ہی تھا کہ آپ کی کایا پلٹ گئی۔ طبیعت میں روحانی طورپرایسا انقلاب برپا ہوگیا کہ جس سےایک زمانہ فیض یاب ہوا ۔
1
پھر ایسی صلاحیت و کمال پیدا ہو گیا کہ آپ نے حضرت میاں شیر ربانی کی روشن کی ہوئی شمع کو بجھنے نہ دیا اور اسی طرح تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔

اس سلسلے میں دور دراز کے سفر بھی کئے اور خلقِ خدا کو فیض یاب کیا ۔ آپ کی شخصیت پُرکشش اور گفتگو پر تاثیر ہوا کرتی تھی۔ ایک دہر یہ لڑکا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ آپ نے اسے صرف اتنا فرمایا ’’نماز پڑھا کرو ‘‘ اس مختصر سے جملے کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ لڑکا دین متین کا پابند ہو گیا اور وجود باری تعالیٰ پر ایسی ایسی دلیلیں قائم کرتا کہ سننے والے حیران رہ جاتے ـ

حضرت میاں صاحب سادہ لباس زیب تن فرماتے اور کسر ِنفسی کا یہ حال تھا کہ صاحب سجادہ ہونے کے باوجود فرمایا کرتے تھے کہ میں تو اسی قدر ہوں کہ جو کوئی حضرتِ اعلیٰ کامہمان آئے اس کے ہاتھ دھلا دیا کروں اور کھانا کھلادیا کروں!

حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ نے شرق پور شریف میں جو متعدد مساجد تعمیر کرائی تھیں انہیں آپ نے پختہ بنادیا ور بعض مساجد کو وسیع کردیا ۔ حضرت میاں شیر محمد صاحب شر قپور ی قدس سرہ کے ایک خلیفہ حضرت الحاج عبد الرحمن نے آپ کو ثانی لاثانی کا لقب دیا جو زبان زد خاص و عام ہے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:297)

صاحبزادہ محمد عمر بریلوی فرماتےہیں: مرض الموت میں حضرت شیر ربانی نے اپنے برادرِاصغر کو بلا کر فرمایا : ’’میاں جمعہ پڑھایا کرنا اور مسجد شریف کو آباد رکھنا،کوئی آجائے تو اس کو کچھ بتلا دینا ‘‘۔ پھر کیاتھا کہ ان کے وصال کے بعد آپ نے خانقاہ کا نظام اپنے ہاتھ میں لیا، اور حضرت کے چالیسویں پر بہت بڑے اجتماع سے پر اثر خطاب کیا۔

مخلصین کو ایسی امید نہ تھی کہ حضرت کا خلا پر ہو جائےگا۔ لیکن شرقپور شریف کے مئے خانہ عشق میں پھر سے وہی بہاریں و رونقیں نظر آنے لگیں۔

ہر طرف انوار و روحانیت کی بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ حضرت میاں غلام اللہ ثانی لاثانی کےلقب سے ملقب ہوکر اس دنیاسے رخصت ہوگئے۔آپ نےعلاقے میں مساجد و مدارس کی تعمیر میں خوب حصہ لیا۔

شرقپور میں بدمذہبی کےجراثیم ظاہر ہونےلگےتو آپ نے’’جامعہ حضرت میاں صاحب‘‘ کی بنیاد رکھی،جس میں اس وقت کےجید علماء کرام تدریس کےلیے مدعو کئےگئے۔بہت قلیل عرصے میں ایک عظیم الشان اہل سنت کامرکز بن گیا ۔ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آنے لگیں، اسلام کےانوار سے لوگوں کے قلوب منور ہونے لگے۔ اس کی برکت سےلادینیت و بدمذہبیت کے اندھیرے دور ہو گئے ۔

تحریکِ پاکستان میں خدمات:
تحریک پاکستان ایک ایسی تاریخ ہے جس کے پیچھے علماء، صوفیاء، اور مشائخِ اہل سنت کی بھر پور کوششیں اور قربانیاں ہیں۔یہ ایک سنہری باب ہے جس میں علماء و مشائخ اہل سنت کا عظیم کردار ہے ۔

اس تحریک میں کسی دوسرے مسلک کاکوئی لیڈرنہیں ملےگا۔ البتہ اس کی مخالفت میں ان کی پوری تاریخ ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ اگر علماء ومشائخ اہل سنت تحریک پاکستان کی حمایت نہ کرتے توپاکستان کاخواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا۔

تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے ہزاروں علماء و مشائخ میں سے ایک نام حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری کا بھی ہے ۔

سر زمین شرقپور میں پاکستان کی حمایت میں ہونے والا پہلاجلسہ آپ کی صدارت میں ہوا۔اس کےجملہ اخراجات آپ نےاپنی گرہ سےادا فرمائے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جس میں پاکستان کانام لینا جرم تھا۔مگر آپ کی ہمت واستقامت نےمسلم لیگ کواس علاقےمیں عوام کی دلوں کی دھڑکن بنادیا۔ آپ اکثر مسلم لیگ کی مالی مددفرماتےرہے۔ (انوار جمیل:169)

ان علاقوں میں آپ کی کوشش سےمسلم لیگ کو کامیابی ہوئی۔ بالآخر پاکستان دنیا کے نقشےپر نظام مصطفی ﷺ کے لئے معرض وجود میں آگیا ۔ لیکن جس مقصد کےلئے اسے حاصل کیاگیا تھا،وہ حاصل نہ ہوا۔مخلصین توبناکرپیچھےہٹ گئے،وہ سادہ لوح،پاک باطن یہ سمجھےتھے کہ ہم اپنا فرض اداکرچکے، اب اس ملک میں اسلام کانفاذ ہوگا۔لیکن اس پر جاگیر داروں، انگریز کے غلاموں، وڈیروں، اور چوہدریوں کاقبضہ ہوگیا۔

ستر سال ہوگئے اس ملک کوقائم ہوئے۔لیکن جس مقصد کےلئےاس کوحاصل کیاگیا تھا وہ پورا نہ ہوا۔اس وقت ملک میں جمہوریت کےنام پر وڈیرہ شاہی، خاندانی، اور انگریز کا قانون چل رہاہے۔حکمران طبقہ اس ملک کوسیکولر بنانے میں مصروف ہیں،بےحیائی،بےراہ روی،اور دین سےدوری کا سلسلہ عروج پرہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اس ملک کو نظام مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بنائے ۔

تاریخِ وصال:
7 ربیع الاول 1377ھ / مطابق 12 اکتوبر 1957ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ حضرت شیر ربانی کے پہلو میں آخری آرامگاہ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ انوارِ جمیل ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ghulamullah-sharaqpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ منتخب الدین چشتی (حضرت زر زری زر بخش دولہا، خلد آبار) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خلافت:
آپ حضرت گنج شکر کے مشہور خلیفہ تھے ـ

آپ کو آقائے منتخب بھی کہتے ہیں ـ

آپ شیخ برہان الدین غریب کے بڑے بھائی ہیں اور زرے زرین اور زر بخش کے لقب ملقب ہوئے ۔

معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ یہ لقب آپ کو اس لیے ملا کہ آپ بڑے ریاضت اور مجاہدہ کے عادی تھے ۔

شیخ منتخب الدین رحمۃ اللہ علیہ محبوبی کے مرتبے پر پہنچے ہوئے تھے خزانۂ غیب سے انہیں ہر روز صبح و شام دو سنہری خلعتیں آیا کرتی تھیں، آپ انہیں بیچ دیتے اور درویشوں اور مسکینوں میں خرچ کر دیتے ۔ اور خود استعمال نہ کرتے اس لیے آپ کا لقب زرے زرین زر بخش پڑ گیا ۔

جن دنوں ملک دیو گیر میں کفر و بدعت کا دور دورا تھا تو حضرت خواجہ فرید گنج شکر نے آپ کو دیو گیر کی طرف روانہ فرمایا آپ نے وہاں پہنچ کر مخلوق کو ہدایت دی اور بہت سے لوگوں کو راہ راست پر لے آئے ـ

جن لوگوں نے ضد میں آ کر اِنکار کر دیا، ان کے لیے بَد دُعا کی اُن کی صورتیں مسخ ہو گئیں، آج تک دیوگیر کے پہاڑوں میں پتھر کی بنی ہوئی مسخ صورتیں پائی جاتی ہیں ـ

آپ فوت ہوئے تو حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے شیخ برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی جگہ مقرر فرمایا، آپ نے اتنی محنت کی کہ اس ملک میں کفر و بدعت کا نام و نشان نہ رہا ۔

وصال:
7 ربیع الاول شریف 695 ھ
معارج الولایت کے مصنف نے آپ کی تاریخ وفات سات ربیع الاول چھ سو پچانوے لکھی ہے ۔

شیخ عالم پیرِ دوران منتخب
شد چو از دنیا سوئے دار البقا

کاشف حق صوفی آمد رحلتش
ہم نجوان مہدی کامل مقتدا

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-zar-zari-zar-baksh-dulha
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1445 ᴴ | 23-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-03-1445 ᴴ | 24-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1