🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت جمال الدین محمود بن علی العجمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و القاب:
محمود بن علی بن عبد اللہ قیسرانی رومی المعروف بہ بالعجمی : جمال الدین لقب تھا ۔ علامۂ زمانہ، فقیہ محدث، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ تھے ـ

تعلیم:
قاہرہ میں تشریف لائے او تحصیل علوم میں مصروف ہو کر ماہر و باہر ہوئے ۔ عہدہ تدابیر امور اور قضاء حنفیہ کا آپ کے تفویض ہوا ۔ مدت تک درسِ تفسیر و حدیث کا دیتے رہے یہاں تک کہ ۷ ماہ ربیع الاول ۷۹۹ھ کو فوت ہو گئے ۔

’’ لمعات انوار ‘‘ تاریخ وفت ہے ۔

ابن حجر عسقلانی کتاب مجمع اللمؤسس للمعجم المفہرس میں آپ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ میں نے۷۸۶ھ میں آپ سے ملاقات کی اور کچھ پڑھا ۔

قیسرانی طرف شہر قیسر یہ کے منسوب ہے جو شام کے ملک میں ساحلِ بحر پر واقع ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

وصال:
بتاریخ 7 ربیع الاول 799 ھ
لمعات انوار تاریخ وفت ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jamaluddin-mehmood-bin-ali-al-ajmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ میر محمد ۔ کنیت: میاں میر ۔ القابات: شیخ الاسلام، آفتاب اولیاء، غوث و جنید ثانی، میاں جیو ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام میاں میر بن قاضی سائیں دتا فاروقی بن قاضی قلندر فاروقی ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کے والد گرامی قاضی سائیں دتہ فاروقی اپنے علم و فضل، تقویٰ و تقدس کی بناء پر نہ صرف سیہون شریف بلکہ پورے سندھ میں ممتاز مانے جاتے تھے ۔

آپ کے جدِ بزرگوار قاضی قلندر فاروقی جید عالم اور صوفی منش بزرگ تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا ہے ۔

آپ کی والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا ـ جو قاضی قادن کی لختِ جگر اور رابعہ ثانی تھیں ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:36 / صوفیائے پنجاب ، ص:565) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 957ھ مطابق 1550ء اکثر تذکرہ نگاروں نے تحریرکی ہے ۔ شہزادہ دارا شکوہ نے 938ھ / 1531ء سکینۃ الاولیاء میں لکھی ہے ـ مقامِ ولادت سیوستان موجودہ ’’ سیہون شریف ‘‘ ضلع جام شورو، سندھ پاکستان ہے ۔

تحصیلِ علم:
جب حضرت میاں میر کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آ گئی ۔

آپ کی والدہ محترمہ زاہدہ عابدہ اور وقت کی رابعہ تھیں ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدہ کی زیر نگرانی ہوئی ۔ انہوں نے تعلیمِ ظاہری کے ساتھ ساتھ باطنی تربیت، تزکیۂ نفس پر خصوصی توجہ دی ۔ والدہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ کم عمری میں ہی میلانِ طبیعت اللہ جل شانہ کی ذات کی طرف ہو گیا ۔ مجاہدات و ریاضات میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔

حضرت شیخ خضر سیوستانی کے زیر تربیت ایک عرصہ گزارا، اور پھر انہیں کی اجازت و حکم سے مزید علومِ ظاہری کے حصول کے لئے عازم لاہور ہوئے ۔ کیونکہ اس وقت لاہور علوم و معارف کا مرکز تھا ۔ بڑے بڑے علماء درس و تدریس کی مسندیں آراستہ کیے ہوئے تھے ۔

اس وقت آپ کی عمر پچیس سال ہو چکی تھی ۔ ابتداءً مسجدوں میں وقت گزارنے لگے ۔ اس وقت لاہور میں مولانا سعد اللہ کے علم و فضل کا شہرہ تھا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تعلیم میں مصروف ہو گئے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں حضرت میاں میر علوم منقول و معقول میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ۔ آپ اپنے ہم سبقوں پر علمی اعتبار سے فائق تھے ۔ ان کے علاوہ مولانا عبد السلام لاہوری مصنف حاشیہ بیضاوی جو اپنے وقت میں پورے ہندوستان میں فاضل اجل تھے، ان سے بھی علمی استفادہ کیا ۔ اسی مولانا سعد اللہ لاہوری کے تلمیذ رشید مولانا نعمت اللہ سے بھی ایک عرصے تک تحصیلِ علم کیا ۔ مولانا نعمت اللہ فرماتے تھے: ’’حضرت میاں میر میرے درس میں کئی سال تک رہے، اور میں نے انہیں پڑھایا اور ان کی رہنمائی کی ۔ انہوں نے مجھ سے تمام علوم حاصل کیے ۔ لیکن اس عرصے میں ان کی حقیقتِ حال مجھ پر ظاہر نہ ہو سکی اور یہ ان کا کمالِ ستر ہے ‘‘ ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:42) ـ

اللہ اکبر! ہمارے اکابرین کیسے حقیقت پسند اور تصنع سے کوسوں دور رہنے والے تھے ۔
1
حضرت میاں میر ظاہری و باطنی علوم میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ قرآن و سنت کے مفاہیم بیان کرتے تو علماء و فضلا انگشت بد نداں رہ جاتے علم فقہ میں بھی کمال دسترس تھی لیکن اس تمام تر علمی تبحر اور ثقاہت کے باوجود قیل و قال سے اجتناب فرماتے اور بحث و تمحیص سے گریزاں رہتے ۔

آپ کے تبحر علمی کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ ہندوستان میں روافض نہ ہونے کے برابر تھے، عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی کوششوں سے سنی علماء کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے ایران سے ایک مجتہد بلایا گیا ۔ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ براستہ لاہور دہلی پہنچے ۔

کیونکہ لاہور میں اکثر صوفیاء رہتے تھے، اور ان کے زعم میں یہ تھا کہ صوفیاء جاہل ہوتے ہیں، اور ان کو شکست دینا آسان ہے ۔

ایرانی مجتہد اعظم دہلی جانے سے پہلے لاہور پہنچے جہاں حکم شاہی سے ان کی خوب خاطر تواضع کی گئی ۔ انہیں ملاقات کے لیے حضرت میاں میر کی خدمت عالیہ میں لے جایا گیا ۔ حضرت بڑے اخلاق سے ملے ۔

گفتگو کے دوران آپ نے سرراہے ایرانی مجتہد ہے پوچھا ۔ کیا آپ کبھی کربلائے معلّی بھی حاضر ہوئے؟

جی ہاں اللہ کا شکر ہے کئی بار یہ سعادت حاصل کر چکا ہوں، ایرانی عالم نے بڑی بشاشت سے جواب دیا ۔

حضرت میاں میر نے فرمایا:
اس مقام کی کچھ فضیلت بیان فرما دیں ۔

ایرانی مجتہد کہنے لگے:
’’ اس خاک پاک کی ایک ادنیٰ خاصیت یہ ہے کہ اس کے ارد گرد سات کوس تک دفن ہونے والے روزِ محشر بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوں گے ۔

حضرت نے فرمایا کیا آپ کے خیال میں ایسی فضیلت انبیاء کرام کے مزارات کو بھی حاصل ہے؟ اس نے  کہا کیوں نہیں! پھر  ایرانی مجتہدنے کہا ۔ نبیوں کے مزارات کے ارد گرد دس کوس تک دفن ہونے والے بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے ۔

اب حضرت نے فرمایا:
اگر نبی مکرم ﷺ کے مزار اقدس کے چاروں طرف دس کوس تک مدفون لوگ جنتی ہیں تو پھر ان دو بزرگوں کی بھی بخشش یقینی ہے جو سید عالم ﷺ کے پہلو میں دفن ہیں ۔

آپ کی یہ گفتگو سن کر ایرانی مجتہد مبہوت ہو گیا ۔ اس سے کوئی جواب نہ بن آیا، اٹھ کر گورنر لاہور کے ساتھ چلا گیا ۔ اس نے کہا جب لاہور میں صوفیاء کے علم کا یہ کمال ہے تو دار الحکومت دہلی میں کن علماء سے واسطہ پڑے گا ۔ چنانچہ وہ لاہور سے ہی واپس ایران چلا گیا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر ، ص:86) ـ

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں غوث وقت حضرت خواجہ خضر سیوستانی سے بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔ اسی آپ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کے اویسی تھے ۔

سیرت و خصائص:
آفتابِ ولایت، ماہتابِ صداقت، واقفِ اسرارِ وحدت، غوث و جنیدِ ثانی، شیخ الاسلام حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم و عارف اور قطبِ زماں تھے ۔ آپ خاندانی طور پر ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا تعلق ان نفوس قدسیہ سے ہے جن کی سیرت و کردار مینارۂ نور ہے، اور ان کی تعلیمات کی روشنی قیامت تک دلوں کو نور، اور دماغ کو سرور، اور مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی رہےگی ۔

موروثی طور پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمی جلالت و روحانی وقار کے مالک تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہ آپ کی خدمت میں بڑی نیاز مندی سے حاضر ہوتے ۔
1
شانِ بے نیازی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ ایک دن اپنے درویشوں کے ساتھ سردیوں کے موسم میں اپنے حجرے کی چھت پر صبح کے وقت رونق افروز تھے ۔ آپ ایک درویش کی گود میں سر رَکھ کر آرام فرما رہے تھے، اور باقی درویش اپنی گودڑیوں سے جوئیں نکالنے میں مصروف تھے ۔ اتنے میں ایک درویش نے شہنشاہ ہندوستان شاہ جہاں بادشاہ کو اپنے بڑے فرزند دارا شکوہ کے ہمراہ حضرت کی زیارت کے لئے آتے دیکھا تو ہنس دیا ۔

آپ نے درویش سے ہنسی اور خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا ۔ کہ جناب بادشاہ شاہ جہاں اور دارا شکوہ آپ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ارے نادان! میں تو یہ سمجھا کہ تجھے اپنی گودڑی میں کوئی بڑی موٹی جوں مل گئی ہے ۔ جس سے تو خوش ہو رہا ہے ۔

بے وقوف بادشاہ کے آنے سے دانت دِکھا رہا ہے ۔ غرض ان لوگوں کی نظروں میں بادشاہ دنیا کی حقیقت جوں اور پسّو سے بھی کم تھی ۔ پھر بادشاہِ حقیقی اللہ جل شانہ کے نامِ پاک کی ہیبت و حشمت اور عزت و عظمت ان کے وجودِ مسعود میں اس قدر تھی کہ بادشاہ بھی تھر تھر کانپتے تھے، اور ان کی کفش برداری کو اپنے لیے سعادت اور فخر سمجھتے تھے ۔ شاہ جہاں کے آنے سے حضرت کی مجلس میں کوئی فرق نہیں آیا، جس طرح آرام فرما تھے، اسی حالت میں رہے ۔ بادشاہ حضرت کی قدم بوسی سے فارغ ہو کر ایک طرف کونے میں مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔

اس وقت حضرت میاں میر الائچی خورد منہ میں چبا رہے تھے، اور اس کا فُضلہ اپنے منہ سے نکال کر تھوکتے جاتے تھے اور شاہ جہاں اسے بطورِ تبرک اپنی شاہی چادر کے ایک کونے میں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھ کر جمع کرتے جاتے تھے ۔ یہ شاہ جہاں میاں میر کے حجرے میں آ کر بیٹھ جاتا، اور کہتا کہ جتنا سکون مجھے اس ٹوٹی چھت والے حجرے کی ٹوٹی ہوئی صفوں پہ آتا ہے، ایسا سکون شاہی تخت پر نہیں آتا ۔ (شانِ مصطفیٰ بزبانِ مصطفیٰ ، ص:731) ـ

حضرت میاں میر ورع، تقویٰ، ترک، تفرید، سیر و سلوک، فتوح و کشائش میں ممتاز تھے، آپ شریعت طریقت اور حقیقت سے آراستہ تھے ۔ آپ حقائق و معارف کی وہ باتیں بیان فرماتے جو پہلے نہیں سنی گئی تھیں ۔

آپ کی تجرید کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ عصا لے کر دو تین قدم چلے ہونگے کہ عصا پھینک دیا اور فرمایا: وہ شخص عصا پر کیوں سہارا لے، جس نے حق سبحانہ تعالیٰ کا سہارا لیا ہے ۔

حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ہر اس کام سے پرہیز فرماتے جس میں ریا کاری یا حُبِ جاہ کا شائبہ تک ہوتا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ حُبِ جاہ درویش کے لیے تباہی اور بربادی کا موجب ہے ۔ فرمایا حب جاہ کو دل سے نکالنا بڑا بھاری کام ہے ۔ آپ اکثر اپنے خلفاء کو طلبِ شہرت اور حُبِ جاہ سے بچنے کی سخت تلقین فرماتے ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:62) ـ

حضرت خواجہ بہاری آپ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ ایک دن چند احباب کے ساتھ گھر میں تشریف فرما تھے کہ چھت کی کڑیاں چڑ چڑانے لگیں ۔ انہوں نے دوستوں کو فوراً مکان سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا ۔ وہ سب باہر چلے گئے لیکن خواجہ بہاری علیہ الرحمہ خود وہیں بیٹھے بلند آواز سے کلمۂ طیبہ کا ورد کرنے لگے ۔ اندازے کے مطابق چھت گر پڑی لیکن دو کڑیاں آپس میں جُڑ گئیں اور اس تکون کے نیچے خواجہ بہاری علیہ الرحمہ محفوظ بیٹھے رہے ۔

یہ واقعہ جب حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو فرمایا: ہائے! عزت اور جاہ کی طلب! کہ اس کا خیال مرتے وقت بھی نہ گیا ۔ کلمۂ طیبہ بلند آواز سے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سن لیں کہ بہاری موت کے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا ۔ پھر فرمایا: اسے کلمہ طیبہ دل میں پڑھنا چاہیے تھا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ ، ص: 63) ـ

حضرت میاں میر قادری علیہ الرحمہ کا کرامات کے حوالے سے وہی مؤقف تھا جو جلیل القدر صوفیائے متقدمین کا تھا ۔ وہ بطورِ خاص اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ان کے مجاز اور خلفاء حضرات کرامت کے اظہار سے اجتناب کریں اور یوں شہرت اور نام و نمود سے بچنے کی کوشش کریں ۔ وہ کشف و کرامت کے اظہار کو سالکِ راہِ طریقت کے لیے حجاب قرار دیتے تھے اور فرماتے ’’ کشف بر سر او کفش ‘‘ یعنی کشف کے سر پر جوتا ۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مراتب سلوک میں کرامت کا درجہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’ خواجگانِ چشت کے نزدیک سلوک کے پندرہ درجے ہیں، ان میں پانچواں درجہ کشف و کرامت کا ہے ۔ جو شخص اپنی ذات کو پانچویں درجہ میں ہویدا کرے گا وہ بقیہ دس درجوں کو حاصل نہ کر سکے گا ‘‘ ۔ (صوفیاء اور ان کا حسن اخلاق ، ص: 123) ـ

اگر کوئی امیر نذرانہ کے لیے اصرار کرتا تو فرماتے: کیا تم نے مجھے فقیر سمجھ رکھا ہے؟ میں فقیر اور مستحق نہیں ہوں، غنی ہوں کیونکہ جو خدا کا ہو جائے وہ فقیر نہیں ہوتا ۔ یہ رقم لے جاؤ کسی مستحق کو دے دو ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:43) ـ
1
شاہ جہاں جب پہلی مرتبہ حاضرِ خدمت ہوا تو خطیر رقم بطورِ نذرانہ پیش کی ۔ آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ بادشاہ نے آپ کے ایک ہم عصر بزرگ حضرت شاہ بلاول علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر وہی رقم پیش کر دی ۔ انہوں نے یہ کہہ کر قبول کر لی کہ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ تو مَلکی صفات ہیں (یعنی فرشتہ صفت ہیں) ان کی توجہ دنیاوی حکام کی طرف نہیں، ہمارے ہاں طلباء، مسافر اور درویشوں کے لئے لنگر جاری رہتا ہے اس کے لیے رقم کی ضرورت رہتی ہے ۔ شاہ جہاں جب دوبارہ حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت شاہ بلاول علیہ الرحمہ کے نذرانہ قبول کرنے کا واقعہ بیان کر دیا ۔ حضرت میاں میر نے فرمایا: ’’ شاہ بلاول ولی کامل ہیں وہ دریا کی مانند ہیں، میں ان کے سامنے ایک تالاب ہوں ۔ دریا میں اگر کوئی چیز پڑ جائے تو پلید نہیں ہوتی ۔ اس کے مقابلے میں تالاب کی کیا حیثیت ہے ۔ (تذکرہ اولیائے پاکستان ، ص: 242) ـ

یہ واقعہ آپ کے استغنا اور تواضع کی روشن مثال ہے ۔

حضرت میاں میر قادری نہایت سادہ اور کم قیمت لباس استعمال کرتے، سفید پگڑی کے ساتھ سفید کھدر کی قمیض اور تہبند زیب تن فرماتے۔ لباس اگرچہ کم قیمت ہوتا لیکن ہمیشہ صاف ستھرا رہتا۔ آپ ﷫ دریا  راوی پر جا کر اپنے کپڑے خود دھو لیا کرتے۔ کھانے پینے میں کبھی تکلف نہ فرمایا جو میسر ہوتا سب احباب کے ساتھ مل کر تناول فرما لیتے۔ رہائش بھی بالکل سادہ تھی۔ عمر بھر ایک پارینہ بوریہ زیر استعمال رہا۔ (سکینۃ الاولیاء:39) ـ

دنیاوی آسائشوں سے اس طرح بے نیاز رہے کہ سید  عالم ﷺ کے ارشاد ’’الفقر فخری‘‘ کا کامل نمونہ نظر آتا تھا۔ آپ کےتوکل کایہ حال تھاکہ رات کےوقت کوزےکاپانی پھینک دیتےتھے،لوگوں سےالگ رہنا پسندفرماتےتھے،رات کوسوتےنہیں تھے،آپ بہت کم لوگوں کومریدکرتے تھے۔آپ کےفقروفاقہ کایہ حال تھاکہ کئی کئی روزتک بھوکےرہتے۔تیس سال تک آپ کےہاں کچھ نہ پکا،آپ کی خوراک بہت کم تھی،ہروقت استغراق کی حالت میں رہتےتھے۔خرقہ اورمرقع زیب تن نہیں فرماتےتھے،ایک معمولی کپڑے کی پگڑی سرپررکھتےاور موٹےکپڑے کاکرتہ پہنتےتھے۔آپ کےگھرمیں ایک پرانا بوریا بچھارہتاتھا، دنیااوردنیوی چیزوں سے کسی قسم کا لگاؤ نہیں تھا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے چند سکے بطور نذرانہ پیش کیے اس وقت مجلس میں شاہ جہاں کسی علاقے کی فتح کے لیے طلب دعا کی خاطر حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا : میاں! ہمیں ان سکوں کی ضرورت نہیں یہ تمہارے سامنے بادشاہ بیٹھا ہے۔ یہ سکے اسے دے دو کہ انہیں ان سکوں کی زیادہ ضرورت ہے انہیں کی خاطر وہ لشکر کشی کر کے قتل وغارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس واقعہ کومثنوی اسرارخودی میں تفصیل سے بیان کیاہے۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند ، ص:244) ـ

تعلیمات:
(1) سالک کےلئے سلوک میں پہلا مرتبہ شریعت ہے۔ طالب کےلئےضروری ہے کہ اس کے حفظ مراتب کی کوشش کرےاورجب کوشش سےاس مرتبےکوقائم کرےگا توشریعت کےادائے حقوق کی برکت سےاس کےدل میں طریقت کی خواہش خودبخود پیداہوجائےگی اورجب طریقت کےحقوق کوبھی اچھی طرح سےاداکرےگا تواللہ تعالیٰ  بشریت کےحجاب اس کی دلی آنکھوں سےدور کردےگااورحقیقت کےمعنی اس پر منکشف ہوجائیں گے،جوروح کےمتعلق ہے۔

(2) حق کی طلب آسان نہیں، جب تک تم اس کی طلب میں یگانہ نہ ہوجاؤگے،اسےنہیں پاسکوگے۔

(3)جس کااللہ ہو،وہ فقیرنہیں۔

(4)صوفی جب کامل ہوجاتاہےاوراس کادل خطرے سے پاک ہوجاتاہے تواسے کوئی چیزضرر نہیں دے سکتی۔

(5)شریعت کے معاملات کی نگہداشت مرتبہ طریقت کےحصول کاسبب ہےاور طریقت بری خصلتوں سےباطن کوپاک کرنےاورمرتبہ حقیقت کےادراک کاموجب ہے اور حقیقت کیاہے؟وجودکوفال بنانااوردل کوماسوا اللہ سے خالی کرنا۔ (6)انسان تین چیزوں،نفس،دل اورروح کامجموعہ ہے،ان میں سےہرایک کی اصلاح خاص چیزسےہوتی ہے،چنانچہ نفس کی اصلاح شریعت سے،دل کی طریقت سےاورروح کی حقیقت سے۔(7)صوفی وجدکی حالت میں ہوتاہےتواپنی ہستی سےخالی ہوتاہےاوربقائے حق سےباقی۔(8)اولیاء کی موت ان کےنفس کامرناہےاورجب ان کانفس مرجاتاہےتوپھروہ ابدالاباد تک زندہ ہی رہتےہیں۔(9) اولیاءاللہ کاتصرف زندگی میں اورموت کےبعدیکساں ہوتاہے،بلکہ مرنےکےبعدزیادہ اوربہترہوتاہے۔(ایضا:246)

تاریخِ وصال: 7/ربیع الاول1045ھ،مطابق 21اگست1635ء،بروز منگل واصل بااللہ ہوئے۔مزار پر انوار لاہور میں مرجعِ عام ہے۔آپ اکثرفرمایاکرتےتھے: کہ وفات کےبعدمجھےشورہ زمین میں دفن کرنا،تاکہ میری ہڈیوں تک کانام ونشان باقی نہ رہےاور نہ ہی قبرکی صورت بنانا۔آپ نےیہ بھی فرمایاکہ میری ہڈیوں کونہ بیچنااورمیری قبرپردوسروں کی طرح دوکان نہ بنالینا۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:243)ـ

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ان الفاظ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں:

حضرت شیخ میاں میر ولی
ہر خفی از نور جان او جلی

بر طریق مصطفیٰ محکم پئی
نغمۂ عشق و محبت را نئی

تربتش ایمان خاکِ شہر ما
مشعل نورِ ہدایت بہرِ ما

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-mian-mir-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت علامہ شمس العلماء اسد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت علامہ اسد الحق خیر آبادی خلف اکبر شمس العلماء علامہ عبد الحق خیر آبادی تمام علوم و فنون میں کامل و فاضل، والد ماجد کے شاگرد، نہایت درجہ ذہین، والد اور بزرگوار کے علمی جانشین، ۱۳۱۷ھ میں مدرسہ عالیہ رام پور میں والد کی جگہ پر پرنسپل ہوئے، صرف ایک برس ہی یہ خدمت انجام دی تھی کہ عین شباب میں بمرض ہیضہ 7 ربیع الاوّل ۱۳۱۸ھ موافق 4 اگست 1900ء میں برو ز شنبہ انتقال فرمایا، حضرت مولانا خواجہ احمد رام پوری قدس سرہٗ کے باغ واقع بلاسپور دروازہ رام پور میں دفن کیے گئے، افسوس ہے کہ اُن کے ساتھ اُن کا خاندانی علم و فضل و کمال بھی رخصت ہو گیا، مولانا سید نجم الحسن مد ظلہ مفتیٔ خیر آباد نے ’’ خیر آباد کی ایک جھلک ‘‘ میں جائے قبر کٹرہ محمد حسین خاں غلط لکھا ہے، مگر یہ صحیح نہیں، مولانا حکیم سید عابد علی کوثر خیر آبادی نے قطعۂ تاریخ لکھا جو آپ کے اوصاف حمیدہ کا ترجمان ہے ۔

حیف آں آفتاب فضل و کمال
دفعۃ شد نہاں بزیر زمیں

بود اور فلسفہ و منطق فرد
در اصول و فروع مہر مبیں

منتخب در حدیث و فقہ وادب
فاتح قفلِ گنج دینِ متیں

در ریاضی و ہندسہ و حکمت
فاضلے درجہاں نہ بود چنیں

ماہ تابانِ عز و مجد و علا
مہر رخشانِ شوکت و تمکیں

واٹے در رام پور گشت خزاں
باغ شاداب و سبز شرع دیں

پس ہماں جا بہ خاک بسپر دند
شد غروب آفتابِ علم و یقیں

اُخت و اُم از ملال خاک بسر
ابن وزدج ملول وزار وحزیں

اقرباء از فراق نالہ زناں
دوستاں در غمش فگار و غمیں

مدرسہ از غَمَش خمیدہ پشت
طلبہ از ملال خاک نشیں

کوثرِ زار سالِ فوتش گفت
اعلم،اکمل،مقیم خلد بریں

( خیر آباد کی ایک جھلک، باغی ہندوستان )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-asad-ul-haq-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری ۔ لقب: حضرت ثانی لاثانی ـ

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ثانی لاثانی میاں غلام اللہ شرقپوری بن میاں عزیز الدین شرقپوری بن محمد حسین بن مولانا غلام رسول بن حافظ محمد عمر بن حضرت صالح محمد علیہ الرحمہ۔

حضرت ثانی حضرت میاں شیر ربانی کےچھوٹےاورحقیقی بھائی تھے۔آپ کو اپنے برادر اکبر سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں فیض ملا۔ آپ کے والد گرامی ایک صوفی منش بزرگ اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت تھے۔ اکثر سلسلہ قادریہ کےاوراد وظائف میں مصروف رہتے۔ رہتک (انڈیا) میں ملازمت کرتے تھے۔

اسی جگہ سفر آخرت اختیار کیا۔ آپ کے جدِامجد حضرت مولانا غلام رسول اپنے وقت کےعالم و عارف اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے، ان کے والد بزرگوار جناب حافظ محمد عمر ایک ماہر کاتب اور حاذق حکیم،اور بہت ہی سعادت مند اور صالح تھے۔حضرت شیر ربانی کے جداعلیٰ حضرت میاں صالح محمد﷫قرآن مجید کی کتابت کیا کرتےتھے۔صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔حضرت شیر ربانی ﷫کےآباؤ اجداد افغانی پٹھان تھے۔

افغانستان میں شاہی خاندان کے اساتذہ و اتالیق کا شرف حاصل تھا۔ہندوستان میں جب اسلامی فتوحات کاسلسلہ شروع ہوا تو عرب وعجم کے دیگر علماء ومشائخ کی طرح یہ حضرات بھی دیپالپور میں وارد ہوئے۔کچھ عرصہ بعد دیپالور میں جب قحط سالی کا شکار ہواتو اس خانوادےنےوہاں سےنقل مکانی کرکےقصور کو اپنا مسکن بنالیا۔قصور اس وقت علم وفن کا بہت بڑا مرکز تھا۔بعد میں مولانا غلام رسول نے شرقپور کو اپنا مسکن بنالیا۔(تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:33 / انوار جمیل:49)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1309ھ مطابق 1891ء کوشرقپور شریف ضلع شیخوپورہ پنجاب پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے بھائی شیرِ ربانی حضرت میاں شیرمحمد شر قپوری سے تیس سال چھوٹے تھے ۔ ابھی پانچ سال کے تھے کہ والدِ گرامی کاسایہ سر سے اٹھ گیا اور تمام تر پرورش حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ نے کی ۔ چونکہ حضرت میاں صاحب کی اولاد نرنیہ نہ تھی اس لئے آپ نے تمام ترتوجہ انہی پر صرف فرمائی ۔دینی تعلیم کےساتھ عصری علوم میں میٹرک پاس کرنے کے بعدآپ نے طبیہ کالج لاہور سے حکیم حاذق کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد شرقپور شریف میں علاج معالجہ شروع کردیا۔

حضرت میاں صاحب قدس سرہ انہیں روحانی طیب بناناچاہتے تھے اس لئے اس شغل سے منع فرمادیا۔آپ نے یہ سلسلہ ترک کرکے میونسپل کمیٹی میں بطور سیکرٹری ملازمت اختیار کرلی ۔ حضرت میاں صاحب کوپتہ چلا تو سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔میاں صاحب آپ کی ساری کیفیت پر گہری نظر رکھےہوئے تھےاور وہ یہ چاہتےتھے کہ جلد ازجلد اپنا سارا علم وعرفاں اپنے بھائی کےسینے میں منتقل کردیں۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے برادر اکبر حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوری﷫سےبیعت ہوئے،اور میاں شیر ربانی کےوصال کے بعد ان کے جانشین منتخب ہوئے۔

سیرت و خصائص:
محبوب ومنظورِ نظرحضرت شیر ربانی، صاحبِ اسرار ومعارفِ رحمانی، ثانی لاثانی، حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری۔

آپ نے حضرت شیر ربانی کی جانشینی کا صحیح معنوں میں حق اداکردیا۔دین اسلام کی ترویج اور عوامی فلاح وبہبود میں ایسے مصروف ہوئے کہ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آنے لگے۔ایک دفعہ حضرت خواجہ امیر الدین قدس سرہ کے بھتیجے حکیم بابا اکرام خاں نے حضرت میاں صاحب سے عرض کیا،آپ کے بعد کیا ہوگا ؟ حضرت میاں صاحب نے حضرت میاں غلام اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا’’وہ جو ہے ‘‘! حکیم صاحب نے عرض کیا ان کی طبیعت تو تبلیغ و ارشاد کی طرف مائل نہیں ہے۔آپ نے پر جوش لہجے میں فرمایا:’’میں اسی کو دوں گا ‘‘۔اور واقعی ایک مرد ِکامل کی نگاہ نے ان میں وہ صلاحیت پیدا کردی کہ دیکھنے والے حیران ششدر رہ گئے ۔

حضرت میاں صاحب نے وفات سے پہلے آپ کو خلافت اور جانشینی کا شرف بخشا ۔میاں شیر ربانی یہ چاہتےتھے کہ برادر اصغر کو اسی راستے کامسافر بنادوں جوسیدھا جنت کی طرف جاتاہے۔جمعۃ المبارک کادن تھا نماز جمعہ کے وقت سے کچھ دیر پہلے ہی میاں غلام اللہ صاحب مسجد میں داخل ہوئے وضو فرمایا دونوں بھائیوں کا مسجد میں آمنا سامنا ہوگیا۔

حضرت میاں صاحب نےآپ کوپہلی مرتبہ خاص توجہ کی نظر سے دیکھا۔توجہ کافرمانا ہی تھا کہ آپ کا عجیب حال ہوگیا۔ کھڑے کھڑے گر پڑے،اور فرش پر مرغ بسمل کی طرح لوٹ پوٹ ہوگئے۔گریبان چاک کرلیا۔اسی حالت میں لوگ آپ کو مسجد کی چھت پرلےگئے۔حضرت میاں صاحب نمازِ جمعہ سےفراغت حاصل کرنےکےبعد مسجد کی چھت پرتشریف لےگئےاور اپنے بھائی کواسی حالت میں پایا۔

آپ نے انہیں اٹھاکر سینے سےلگایاتو یکدم طبیعت کوقرار آگیا۔بس سینے سےلگانا ہی تھا کہ آپ کی کایا پلٹ گئی۔ طبیعت میں روحانی طورپرایسا انقلاب برپا ہوگیا کہ جس سےایک زمانہ فیض یاب ہوا ۔
1