🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1445 ᴴ | 23-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-03-1445 ᴴ | 23-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت جمال الدین محمود بن علی العجمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و القاب:
محمود بن علی بن عبد اللہ قیسرانی رومی المعروف بہ بالعجمی : جمال الدین لقب تھا ۔ علامۂ زمانہ، فقیہ محدث، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ تھے ـ
تعلیم:
قاہرہ میں تشریف لائے او تحصیل علوم میں مصروف ہو کر ماہر و باہر ہوئے ۔ عہدہ تدابیر امور اور قضاء حنفیہ کا آپ کے تفویض ہوا ۔ مدت تک درسِ تفسیر و حدیث کا دیتے رہے یہاں تک کہ ۷ ماہ ربیع الاول ۷۹۹ھ کو فوت ہو گئے ۔
’’ لمعات انوار ‘‘ تاریخ وفت ہے ۔
ابن حجر عسقلانی کتاب مجمع اللمؤسس للمعجم المفہرس میں آپ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ میں نے۷۸۶ھ میں آپ سے ملاقات کی اور کچھ پڑھا ۔
قیسرانی طرف شہر قیسر یہ کے منسوب ہے جو شام کے ملک میں ساحلِ بحر پر واقع ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
وصال:
بتاریخ 7 ربیع الاول 799 ھ
لمعات انوار تاریخ وفت ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jamaluddin-mehmood-bin-ali-al-ajmi
نام و القاب:
محمود بن علی بن عبد اللہ قیسرانی رومی المعروف بہ بالعجمی : جمال الدین لقب تھا ۔ علامۂ زمانہ، فقیہ محدث، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ تھے ـ
تعلیم:
قاہرہ میں تشریف لائے او تحصیل علوم میں مصروف ہو کر ماہر و باہر ہوئے ۔ عہدہ تدابیر امور اور قضاء حنفیہ کا آپ کے تفویض ہوا ۔ مدت تک درسِ تفسیر و حدیث کا دیتے رہے یہاں تک کہ ۷ ماہ ربیع الاول ۷۹۹ھ کو فوت ہو گئے ۔
’’ لمعات انوار ‘‘ تاریخ وفت ہے ۔
ابن حجر عسقلانی کتاب مجمع اللمؤسس للمعجم المفہرس میں آپ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ میں نے۷۸۶ھ میں آپ سے ملاقات کی اور کچھ پڑھا ۔
قیسرانی طرف شہر قیسر یہ کے منسوب ہے جو شام کے ملک میں ساحلِ بحر پر واقع ہے ۔
( حدائق الحنفیہ )
وصال:
بتاریخ 7 ربیع الاول 799 ھ
لمعات انوار تاریخ وفت ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jamaluddin-mehmood-bin-ali-al-ajmi
scholars.pk
Hazrat Jamaluddin Mehmood Bin Ali Al-Ajmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ میر محمد ۔ کنیت: میاں میر ۔ القابات: شیخ الاسلام، آفتاب اولیاء، غوث و جنید ثانی، میاں جیو ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام میاں میر بن قاضی سائیں دتا فاروقی بن قاضی قلندر فاروقی ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے والد گرامی قاضی سائیں دتہ فاروقی اپنے علم و فضل، تقویٰ و تقدس کی بناء پر نہ صرف سیہون شریف بلکہ پورے سندھ میں ممتاز مانے جاتے تھے ۔
آپ کے جدِ بزرگوار قاضی قلندر فاروقی جید عالم اور صوفی منش بزرگ تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا ہے ۔
آپ کی والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا ـ جو قاضی قادن کی لختِ جگر اور رابعہ ثانی تھیں ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:36 / صوفیائے پنجاب ، ص:565) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 957ھ مطابق 1550ء اکثر تذکرہ نگاروں نے تحریرکی ہے ۔ شہزادہ دارا شکوہ نے 938ھ / 1531ء سکینۃ الاولیاء میں لکھی ہے ـ مقامِ ولادت سیوستان موجودہ ’’ سیہون شریف ‘‘ ضلع جام شورو، سندھ پاکستان ہے ۔
تحصیلِ علم:
جب حضرت میاں میر کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آ گئی ۔
آپ کی والدہ محترمہ زاہدہ عابدہ اور وقت کی رابعہ تھیں ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدہ کی زیر نگرانی ہوئی ۔ انہوں نے تعلیمِ ظاہری کے ساتھ ساتھ باطنی تربیت، تزکیۂ نفس پر خصوصی توجہ دی ۔ والدہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ کم عمری میں ہی میلانِ طبیعت اللہ جل شانہ کی ذات کی طرف ہو گیا ۔ مجاہدات و ریاضات میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
حضرت شیخ خضر سیوستانی کے زیر تربیت ایک عرصہ گزارا، اور پھر انہیں کی اجازت و حکم سے مزید علومِ ظاہری کے حصول کے لئے عازم لاہور ہوئے ۔ کیونکہ اس وقت لاہور علوم و معارف کا مرکز تھا ۔ بڑے بڑے علماء درس و تدریس کی مسندیں آراستہ کیے ہوئے تھے ۔
اس وقت آپ کی عمر پچیس سال ہو چکی تھی ۔ ابتداءً مسجدوں میں وقت گزارنے لگے ۔ اس وقت لاہور میں مولانا سعد اللہ کے علم و فضل کا شہرہ تھا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تعلیم میں مصروف ہو گئے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں حضرت میاں میر علوم منقول و معقول میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ۔ آپ اپنے ہم سبقوں پر علمی اعتبار سے فائق تھے ۔ ان کے علاوہ مولانا عبد السلام لاہوری مصنف حاشیہ بیضاوی جو اپنے وقت میں پورے ہندوستان میں فاضل اجل تھے، ان سے بھی علمی استفادہ کیا ۔ اسی مولانا سعد اللہ لاہوری کے تلمیذ رشید مولانا نعمت اللہ سے بھی ایک عرصے تک تحصیلِ علم کیا ۔ مولانا نعمت اللہ فرماتے تھے: ’’حضرت میاں میر میرے درس میں کئی سال تک رہے، اور میں نے انہیں پڑھایا اور ان کی رہنمائی کی ۔ انہوں نے مجھ سے تمام علوم حاصل کیے ۔ لیکن اس عرصے میں ان کی حقیقتِ حال مجھ پر ظاہر نہ ہو سکی اور یہ ان کا کمالِ ستر ہے ‘‘ ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:42) ـ
اللہ اکبر! ہمارے اکابرین کیسے حقیقت پسند اور تصنع سے کوسوں دور رہنے والے تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ میر محمد ۔ کنیت: میاں میر ۔ القابات: شیخ الاسلام، آفتاب اولیاء، غوث و جنید ثانی، میاں جیو ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام میاں میر بن قاضی سائیں دتا فاروقی بن قاضی قلندر فاروقی ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کے والد گرامی قاضی سائیں دتہ فاروقی اپنے علم و فضل، تقویٰ و تقدس کی بناء پر نہ صرف سیہون شریف بلکہ پورے سندھ میں ممتاز مانے جاتے تھے ۔
آپ کے جدِ بزرگوار قاضی قلندر فاروقی جید عالم اور صوفی منش بزرگ تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاکر ملتا ہے ۔
آپ کی والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا ـ جو قاضی قادن کی لختِ جگر اور رابعہ ثانی تھیں ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:36 / صوفیائے پنجاب ، ص:565) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 957ھ مطابق 1550ء اکثر تذکرہ نگاروں نے تحریرکی ہے ۔ شہزادہ دارا شکوہ نے 938ھ / 1531ء سکینۃ الاولیاء میں لکھی ہے ـ مقامِ ولادت سیوستان موجودہ ’’ سیہون شریف ‘‘ ضلع جام شورو، سندھ پاکستان ہے ۔
تحصیلِ علم:
جب حضرت میاں میر کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد گرامی کا انتقال ہو گیا ۔ تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آ گئی ۔
آپ کی والدہ محترمہ زاہدہ عابدہ اور وقت کی رابعہ تھیں ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدہ کی زیر نگرانی ہوئی ۔ انہوں نے تعلیمِ ظاہری کے ساتھ ساتھ باطنی تربیت، تزکیۂ نفس پر خصوصی توجہ دی ۔ والدہ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ کم عمری میں ہی میلانِ طبیعت اللہ جل شانہ کی ذات کی طرف ہو گیا ۔ مجاہدات و ریاضات میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے ۔
حضرت شیخ خضر سیوستانی کے زیر تربیت ایک عرصہ گزارا، اور پھر انہیں کی اجازت و حکم سے مزید علومِ ظاہری کے حصول کے لئے عازم لاہور ہوئے ۔ کیونکہ اس وقت لاہور علوم و معارف کا مرکز تھا ۔ بڑے بڑے علماء درس و تدریس کی مسندیں آراستہ کیے ہوئے تھے ۔
اس وقت آپ کی عمر پچیس سال ہو چکی تھی ۔ ابتداءً مسجدوں میں وقت گزارنے لگے ۔ اس وقت لاہور میں مولانا سعد اللہ کے علم و فضل کا شہرہ تھا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر تعلیم میں مصروف ہو گئے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں حضرت میاں میر علوم منقول و معقول میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ۔ آپ اپنے ہم سبقوں پر علمی اعتبار سے فائق تھے ۔ ان کے علاوہ مولانا عبد السلام لاہوری مصنف حاشیہ بیضاوی جو اپنے وقت میں پورے ہندوستان میں فاضل اجل تھے، ان سے بھی علمی استفادہ کیا ۔ اسی مولانا سعد اللہ لاہوری کے تلمیذ رشید مولانا نعمت اللہ سے بھی ایک عرصے تک تحصیلِ علم کیا ۔ مولانا نعمت اللہ فرماتے تھے: ’’حضرت میاں میر میرے درس میں کئی سال تک رہے، اور میں نے انہیں پڑھایا اور ان کی رہنمائی کی ۔ انہوں نے مجھ سے تمام علوم حاصل کیے ۔ لیکن اس عرصے میں ان کی حقیقتِ حال مجھ پر ظاہر نہ ہو سکی اور یہ ان کا کمالِ ستر ہے ‘‘ ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:42) ـ
اللہ اکبر! ہمارے اکابرین کیسے حقیقت پسند اور تصنع سے کوسوں دور رہنے والے تھے ۔
❤1
حضرت میاں میر ظاہری و باطنی علوم میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ قرآن و سنت کے مفاہیم بیان کرتے تو علماء و فضلا انگشت بد نداں رہ جاتے علم فقہ میں بھی کمال دسترس تھی لیکن اس تمام تر علمی تبحر اور ثقاہت کے باوجود قیل و قال سے اجتناب فرماتے اور بحث و تمحیص سے گریزاں رہتے ۔
آپ کے تبحر علمی کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ ہندوستان میں روافض نہ ہونے کے برابر تھے، عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی کوششوں سے سنی علماء کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے ایران سے ایک مجتہد بلایا گیا ۔ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ براستہ لاہور دہلی پہنچے ۔
کیونکہ لاہور میں اکثر صوفیاء رہتے تھے، اور ان کے زعم میں یہ تھا کہ صوفیاء جاہل ہوتے ہیں، اور ان کو شکست دینا آسان ہے ۔
ایرانی مجتہد اعظم دہلی جانے سے پہلے لاہور پہنچے جہاں حکم شاہی سے ان کی خوب خاطر تواضع کی گئی ۔ انہیں ملاقات کے لیے حضرت میاں میر کی خدمت عالیہ میں لے جایا گیا ۔ حضرت بڑے اخلاق سے ملے ۔
گفتگو کے دوران آپ نے سرراہے ایرانی مجتہد ہے پوچھا ۔ کیا آپ کبھی کربلائے معلّی بھی حاضر ہوئے؟
جی ہاں اللہ کا شکر ہے کئی بار یہ سعادت حاصل کر چکا ہوں، ایرانی عالم نے بڑی بشاشت سے جواب دیا ۔
حضرت میاں میر نے فرمایا:
اس مقام کی کچھ فضیلت بیان فرما دیں ۔
ایرانی مجتہد کہنے لگے:
’’ اس خاک پاک کی ایک ادنیٰ خاصیت یہ ہے کہ اس کے ارد گرد سات کوس تک دفن ہونے والے روزِ محشر بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوں گے ۔
حضرت نے فرمایا کیا آپ کے خیال میں ایسی فضیلت انبیاء کرام کے مزارات کو بھی حاصل ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں! پھر ایرانی مجتہدنے کہا ۔ نبیوں کے مزارات کے ارد گرد دس کوس تک دفن ہونے والے بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے ۔
اب حضرت نے فرمایا:
اگر نبی مکرم ﷺ کے مزار اقدس کے چاروں طرف دس کوس تک مدفون لوگ جنتی ہیں تو پھر ان دو بزرگوں کی بھی بخشش یقینی ہے جو سید عالم ﷺ کے پہلو میں دفن ہیں ۔
آپ کی یہ گفتگو سن کر ایرانی مجتہد مبہوت ہو گیا ۔ اس سے کوئی جواب نہ بن آیا، اٹھ کر گورنر لاہور کے ساتھ چلا گیا ۔ اس نے کہا جب لاہور میں صوفیاء کے علم کا یہ کمال ہے تو دار الحکومت دہلی میں کن علماء سے واسطہ پڑے گا ۔ چنانچہ وہ لاہور سے ہی واپس ایران چلا گیا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر ، ص:86) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں غوث وقت حضرت خواجہ خضر سیوستانی سے بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔ اسی آپ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کے اویسی تھے ۔
سیرت و خصائص:
آفتابِ ولایت، ماہتابِ صداقت، واقفِ اسرارِ وحدت، غوث و جنیدِ ثانی، شیخ الاسلام حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم و عارف اور قطبِ زماں تھے ۔ آپ خاندانی طور پر ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا تعلق ان نفوس قدسیہ سے ہے جن کی سیرت و کردار مینارۂ نور ہے، اور ان کی تعلیمات کی روشنی قیامت تک دلوں کو نور، اور دماغ کو سرور، اور مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی رہےگی ۔
موروثی طور پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمی جلالت و روحانی وقار کے مالک تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہ آپ کی خدمت میں بڑی نیاز مندی سے حاضر ہوتے ۔
آپ کے تبحر علمی کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ ہندوستان میں روافض نہ ہونے کے برابر تھے، عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی کوششوں سے سنی علماء کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے ایران سے ایک مجتہد بلایا گیا ۔ اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ براستہ لاہور دہلی پہنچے ۔
کیونکہ لاہور میں اکثر صوفیاء رہتے تھے، اور ان کے زعم میں یہ تھا کہ صوفیاء جاہل ہوتے ہیں، اور ان کو شکست دینا آسان ہے ۔
ایرانی مجتہد اعظم دہلی جانے سے پہلے لاہور پہنچے جہاں حکم شاہی سے ان کی خوب خاطر تواضع کی گئی ۔ انہیں ملاقات کے لیے حضرت میاں میر کی خدمت عالیہ میں لے جایا گیا ۔ حضرت بڑے اخلاق سے ملے ۔
گفتگو کے دوران آپ نے سرراہے ایرانی مجتہد ہے پوچھا ۔ کیا آپ کبھی کربلائے معلّی بھی حاضر ہوئے؟
جی ہاں اللہ کا شکر ہے کئی بار یہ سعادت حاصل کر چکا ہوں، ایرانی عالم نے بڑی بشاشت سے جواب دیا ۔
حضرت میاں میر نے فرمایا:
اس مقام کی کچھ فضیلت بیان فرما دیں ۔
ایرانی مجتہد کہنے لگے:
’’ اس خاک پاک کی ایک ادنیٰ خاصیت یہ ہے کہ اس کے ارد گرد سات کوس تک دفن ہونے والے روزِ محشر بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوں گے ۔
حضرت نے فرمایا کیا آپ کے خیال میں ایسی فضیلت انبیاء کرام کے مزارات کو بھی حاصل ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں! پھر ایرانی مجتہدنے کہا ۔ نبیوں کے مزارات کے ارد گرد دس کوس تک دفن ہونے والے بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے ۔
اب حضرت نے فرمایا:
اگر نبی مکرم ﷺ کے مزار اقدس کے چاروں طرف دس کوس تک مدفون لوگ جنتی ہیں تو پھر ان دو بزرگوں کی بھی بخشش یقینی ہے جو سید عالم ﷺ کے پہلو میں دفن ہیں ۔
آپ کی یہ گفتگو سن کر ایرانی مجتہد مبہوت ہو گیا ۔ اس سے کوئی جواب نہ بن آیا، اٹھ کر گورنر لاہور کے ساتھ چلا گیا ۔ اس نے کہا جب لاہور میں صوفیاء کے علم کا یہ کمال ہے تو دار الحکومت دہلی میں کن علماء سے واسطہ پڑے گا ۔ چنانچہ وہ لاہور سے ہی واپس ایران چلا گیا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر ، ص:86) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں غوث وقت حضرت خواجہ خضر سیوستانی سے بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔ اسی آپ غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کے اویسی تھے ۔
سیرت و خصائص:
آفتابِ ولایت، ماہتابِ صداقت، واقفِ اسرارِ وحدت، غوث و جنیدِ ثانی، شیخ الاسلام حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم و عارف اور قطبِ زماں تھے ۔ آپ خاندانی طور پر ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا تعلق ان نفوس قدسیہ سے ہے جن کی سیرت و کردار مینارۂ نور ہے، اور ان کی تعلیمات کی روشنی قیامت تک دلوں کو نور، اور دماغ کو سرور، اور مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی رہےگی ۔
موروثی طور پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمی جلالت و روحانی وقار کے مالک تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہ آپ کی خدمت میں بڑی نیاز مندی سے حاضر ہوتے ۔
❤1
شانِ بے نیازی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ ایک دن اپنے درویشوں کے ساتھ سردیوں کے موسم میں اپنے حجرے کی چھت پر صبح کے وقت رونق افروز تھے ۔ آپ ایک درویش کی گود میں سر رَکھ کر آرام فرما رہے تھے، اور باقی درویش اپنی گودڑیوں سے جوئیں نکالنے میں مصروف تھے ۔ اتنے میں ایک درویش نے شہنشاہ ہندوستان شاہ جہاں بادشاہ کو اپنے بڑے فرزند دارا شکوہ کے ہمراہ حضرت کی زیارت کے لئے آتے دیکھا تو ہنس دیا ۔
آپ نے درویش سے ہنسی اور خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا ۔ کہ جناب بادشاہ شاہ جہاں اور دارا شکوہ آپ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ارے نادان! میں تو یہ سمجھا کہ تجھے اپنی گودڑی میں کوئی بڑی موٹی جوں مل گئی ہے ۔ جس سے تو خوش ہو رہا ہے ۔
بے وقوف بادشاہ کے آنے سے دانت دِکھا رہا ہے ۔ غرض ان لوگوں کی نظروں میں بادشاہ دنیا کی حقیقت جوں اور پسّو سے بھی کم تھی ۔ پھر بادشاہِ حقیقی اللہ جل شانہ کے نامِ پاک کی ہیبت و حشمت اور عزت و عظمت ان کے وجودِ مسعود میں اس قدر تھی کہ بادشاہ بھی تھر تھر کانپتے تھے، اور ان کی کفش برداری کو اپنے لیے سعادت اور فخر سمجھتے تھے ۔ شاہ جہاں کے آنے سے حضرت کی مجلس میں کوئی فرق نہیں آیا، جس طرح آرام فرما تھے، اسی حالت میں رہے ۔ بادشاہ حضرت کی قدم بوسی سے فارغ ہو کر ایک طرف کونے میں مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
اس وقت حضرت میاں میر الائچی خورد منہ میں چبا رہے تھے، اور اس کا فُضلہ اپنے منہ سے نکال کر تھوکتے جاتے تھے اور شاہ جہاں اسے بطورِ تبرک اپنی شاہی چادر کے ایک کونے میں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھ کر جمع کرتے جاتے تھے ۔ یہ شاہ جہاں میاں میر کے حجرے میں آ کر بیٹھ جاتا، اور کہتا کہ جتنا سکون مجھے اس ٹوٹی چھت والے حجرے کی ٹوٹی ہوئی صفوں پہ آتا ہے، ایسا سکون شاہی تخت پر نہیں آتا ۔ (شانِ مصطفیٰ بزبانِ مصطفیٰ ، ص:731) ـ
حضرت میاں میر ورع، تقویٰ، ترک، تفرید، سیر و سلوک، فتوح و کشائش میں ممتاز تھے، آپ شریعت طریقت اور حقیقت سے آراستہ تھے ۔ آپ حقائق و معارف کی وہ باتیں بیان فرماتے جو پہلے نہیں سنی گئی تھیں ۔
آپ کی تجرید کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ عصا لے کر دو تین قدم چلے ہونگے کہ عصا پھینک دیا اور فرمایا: وہ شخص عصا پر کیوں سہارا لے، جس نے حق سبحانہ تعالیٰ کا سہارا لیا ہے ۔
حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ہر اس کام سے پرہیز فرماتے جس میں ریا کاری یا حُبِ جاہ کا شائبہ تک ہوتا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ حُبِ جاہ درویش کے لیے تباہی اور بربادی کا موجب ہے ۔ فرمایا حب جاہ کو دل سے نکالنا بڑا بھاری کام ہے ۔ آپ اکثر اپنے خلفاء کو طلبِ شہرت اور حُبِ جاہ سے بچنے کی سخت تلقین فرماتے ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:62) ـ
حضرت خواجہ بہاری آپ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ ایک دن چند احباب کے ساتھ گھر میں تشریف فرما تھے کہ چھت کی کڑیاں چڑ چڑانے لگیں ۔ انہوں نے دوستوں کو فوراً مکان سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا ۔ وہ سب باہر چلے گئے لیکن خواجہ بہاری علیہ الرحمہ خود وہیں بیٹھے بلند آواز سے کلمۂ طیبہ کا ورد کرنے لگے ۔ اندازے کے مطابق چھت گر پڑی لیکن دو کڑیاں آپس میں جُڑ گئیں اور اس تکون کے نیچے خواجہ بہاری علیہ الرحمہ محفوظ بیٹھے رہے ۔
یہ واقعہ جب حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو فرمایا: ہائے! عزت اور جاہ کی طلب! کہ اس کا خیال مرتے وقت بھی نہ گیا ۔ کلمۂ طیبہ بلند آواز سے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سن لیں کہ بہاری موت کے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا ۔ پھر فرمایا: اسے کلمہ طیبہ دل میں پڑھنا چاہیے تھا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ ، ص: 63) ـ
حضرت میاں میر قادری علیہ الرحمہ کا کرامات کے حوالے سے وہی مؤقف تھا جو جلیل القدر صوفیائے متقدمین کا تھا ۔ وہ بطورِ خاص اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ان کے مجاز اور خلفاء حضرات کرامت کے اظہار سے اجتناب کریں اور یوں شہرت اور نام و نمود سے بچنے کی کوشش کریں ۔ وہ کشف و کرامت کے اظہار کو سالکِ راہِ طریقت کے لیے حجاب قرار دیتے تھے اور فرماتے ’’ کشف بر سر او کفش ‘‘ یعنی کشف کے سر پر جوتا ۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مراتب سلوک میں کرامت کا درجہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’ خواجگانِ چشت کے نزدیک سلوک کے پندرہ درجے ہیں، ان میں پانچواں درجہ کشف و کرامت کا ہے ۔ جو شخص اپنی ذات کو پانچویں درجہ میں ہویدا کرے گا وہ بقیہ دس درجوں کو حاصل نہ کر سکے گا ‘‘ ۔ (صوفیاء اور ان کا حسن اخلاق ، ص: 123) ـ
اگر کوئی امیر نذرانہ کے لیے اصرار کرتا تو فرماتے: کیا تم نے مجھے فقیر سمجھ رکھا ہے؟ میں فقیر اور مستحق نہیں ہوں، غنی ہوں کیونکہ جو خدا کا ہو جائے وہ فقیر نہیں ہوتا ۔ یہ رقم لے جاؤ کسی مستحق کو دے دو ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:43) ـ
آپ نے درویش سے ہنسی اور خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا ۔ کہ جناب بادشاہ شاہ جہاں اور دارا شکوہ آپ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ارے نادان! میں تو یہ سمجھا کہ تجھے اپنی گودڑی میں کوئی بڑی موٹی جوں مل گئی ہے ۔ جس سے تو خوش ہو رہا ہے ۔
بے وقوف بادشاہ کے آنے سے دانت دِکھا رہا ہے ۔ غرض ان لوگوں کی نظروں میں بادشاہ دنیا کی حقیقت جوں اور پسّو سے بھی کم تھی ۔ پھر بادشاہِ حقیقی اللہ جل شانہ کے نامِ پاک کی ہیبت و حشمت اور عزت و عظمت ان کے وجودِ مسعود میں اس قدر تھی کہ بادشاہ بھی تھر تھر کانپتے تھے، اور ان کی کفش برداری کو اپنے لیے سعادت اور فخر سمجھتے تھے ۔ شاہ جہاں کے آنے سے حضرت کی مجلس میں کوئی فرق نہیں آیا، جس طرح آرام فرما تھے، اسی حالت میں رہے ۔ بادشاہ حضرت کی قدم بوسی سے فارغ ہو کر ایک طرف کونے میں مسکینوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
اس وقت حضرت میاں میر الائچی خورد منہ میں چبا رہے تھے، اور اس کا فُضلہ اپنے منہ سے نکال کر تھوکتے جاتے تھے اور شاہ جہاں اسے بطورِ تبرک اپنی شاہی چادر کے ایک کونے میں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھ کر جمع کرتے جاتے تھے ۔ یہ شاہ جہاں میاں میر کے حجرے میں آ کر بیٹھ جاتا، اور کہتا کہ جتنا سکون مجھے اس ٹوٹی چھت والے حجرے کی ٹوٹی ہوئی صفوں پہ آتا ہے، ایسا سکون شاہی تخت پر نہیں آتا ۔ (شانِ مصطفیٰ بزبانِ مصطفیٰ ، ص:731) ـ
حضرت میاں میر ورع، تقویٰ، ترک، تفرید، سیر و سلوک، فتوح و کشائش میں ممتاز تھے، آپ شریعت طریقت اور حقیقت سے آراستہ تھے ۔ آپ حقائق و معارف کی وہ باتیں بیان فرماتے جو پہلے نہیں سنی گئی تھیں ۔
آپ کی تجرید کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ عصا لے کر دو تین قدم چلے ہونگے کہ عصا پھینک دیا اور فرمایا: وہ شخص عصا پر کیوں سہارا لے، جس نے حق سبحانہ تعالیٰ کا سہارا لیا ہے ۔
حضرت میاں میر علیہ الرحمہ ہر اس کام سے پرہیز فرماتے جس میں ریا کاری یا حُبِ جاہ کا شائبہ تک ہوتا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ حُبِ جاہ درویش کے لیے تباہی اور بربادی کا موجب ہے ۔ فرمایا حب جاہ کو دل سے نکالنا بڑا بھاری کام ہے ۔ آپ اکثر اپنے خلفاء کو طلبِ شہرت اور حُبِ جاہ سے بچنے کی سخت تلقین فرماتے ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:62) ـ
حضرت خواجہ بہاری آپ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ ایک دن چند احباب کے ساتھ گھر میں تشریف فرما تھے کہ چھت کی کڑیاں چڑ چڑانے لگیں ۔ انہوں نے دوستوں کو فوراً مکان سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا ۔ وہ سب باہر چلے گئے لیکن خواجہ بہاری علیہ الرحمہ خود وہیں بیٹھے بلند آواز سے کلمۂ طیبہ کا ورد کرنے لگے ۔ اندازے کے مطابق چھت گر پڑی لیکن دو کڑیاں آپس میں جُڑ گئیں اور اس تکون کے نیچے خواجہ بہاری علیہ الرحمہ محفوظ بیٹھے رہے ۔
یہ واقعہ جب حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو فرمایا: ہائے! عزت اور جاہ کی طلب! کہ اس کا خیال مرتے وقت بھی نہ گیا ۔ کلمۂ طیبہ بلند آواز سے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سن لیں کہ بہاری موت کے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا ۔ پھر فرمایا: اسے کلمہ طیبہ دل میں پڑھنا چاہیے تھا ۔ (تذکرہ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ ، ص: 63) ـ
حضرت میاں میر قادری علیہ الرحمہ کا کرامات کے حوالے سے وہی مؤقف تھا جو جلیل القدر صوفیائے متقدمین کا تھا ۔ وہ بطورِ خاص اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ان کے مجاز اور خلفاء حضرات کرامت کے اظہار سے اجتناب کریں اور یوں شہرت اور نام و نمود سے بچنے کی کوشش کریں ۔ وہ کشف و کرامت کے اظہار کو سالکِ راہِ طریقت کے لیے حجاب قرار دیتے تھے اور فرماتے ’’ کشف بر سر او کفش ‘‘ یعنی کشف کے سر پر جوتا ۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مراتب سلوک میں کرامت کا درجہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’ خواجگانِ چشت کے نزدیک سلوک کے پندرہ درجے ہیں، ان میں پانچواں درجہ کشف و کرامت کا ہے ۔ جو شخص اپنی ذات کو پانچویں درجہ میں ہویدا کرے گا وہ بقیہ دس درجوں کو حاصل نہ کر سکے گا ‘‘ ۔ (صوفیاء اور ان کا حسن اخلاق ، ص: 123) ـ
اگر کوئی امیر نذرانہ کے لیے اصرار کرتا تو فرماتے: کیا تم نے مجھے فقیر سمجھ رکھا ہے؟ میں فقیر اور مستحق نہیں ہوں، غنی ہوں کیونکہ جو خدا کا ہو جائے وہ فقیر نہیں ہوتا ۔ یہ رقم لے جاؤ کسی مستحق کو دے دو ۔ (سکینۃ الاولیاء ، ص:43) ـ
❤1