🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
رئیس العلماء حضرت مولانا سید محمد سلیمان اشرف بہاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
سید سلیمان اشرف بہاری۔لقب: رئیس المتکلمین، شمس المحققین ۔

سلسلۂ نسب:
مولانا سید سلیمان اشرف بہاری بن مولانا حکیم سید محمد عبد اللہ قدس سرہما ۔ والدہ محترمہ حضرت بی بی صائمہ خواہرِ حقیقی ( سگی بہن) حضرت غوث العالم مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کے خلف و فرزند و درویش حضرت مخدوم سید دوریش بھیہ شریف کی اولاد امجاد سے خاندانی تعلق ہے ۔ (حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوب ربانی:425) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو ’’ محلہ میر داد ، قصبہ بہار شریف، ضلع نالندہ (انڈیا) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
فارسی اور ابتدائی عربی درسیات پڑھنے کے بعد اسکول میں داخل ہوئے ۔ آپ کے ابتدائی استاذ مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی فخری (م 1316ھ) تھے، اور انہیں سے بیعت ہوئے ۔

مولانا فضل حق خیر آبادی کے نامور شاگرد مولانا محمد احسن استھانوی سے متوسطات تک درسِ نظامی پڑھ کر کانپور گئے ۔ وہاں حضرت استاذ العلماء حضرت مولانا ہدایت اللہ رام پوری کی خدمت میں رہ کر علوم و فنون میں مجتہدانہ بصیرت حاصل فرمائی ۔

پھر مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی سےدورۂ حدیث کیا ۔

آپ کے ہم درسوں میں ایک نام صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی کا بھی ہے ۔ (ایضا:425) ـ

فائدہ:
سلیمان ندوی نے تحریر کیا ہے کہ آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بھی پڑھا ہے، جبکہ ندوۃ العلماء کا ابتدائی درجہ 9 جمادی الاولیٰ 1316ھ / 16 ستمبر 1898ء میں کھولا گیا تھا ۔ حضرت موصوف تکمیلِ علوم کے بعد 1314ھ میں مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت سے دورۂ حدیث کرکے وطن آگئے تھے ۔ ربیع الاول 1318ھ میں مدرسہ حنفیہ کے آغاز و افتتاح کے وقت افتتاحی تقریر بھی فرمائی ۔

اسی طرح آپ کو استاذ العلماء حضرت مولانا یار محمد بندیالوی کے شاگردوں میں شمار کیا جاتاہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سید سلیمان اشرف نے جس مدرسے کی افتتاحی تقریر فرمائی، اسی مدرسے میں محرم 1323ھ میں مولانا بندیالوی شرح اشارات مع المحکمات، شرح مطالع، تلویح توضیح، طحاوی شریف، حاشیہ بیضاوی پڑھتے تھے ۔ (ایضا:425) ـ

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ سلیمانیہ میں حضرت مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی سے بیعت ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ مخدوم الاولیاء، شبیہِ غوث الاعظم، حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی سے بھی خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:101 / عظمتوں کے پاسباں، ص:95 / حیات مخدوم الاولیاء، ص:425) ـ

سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین، شمس المحققین، سندالعلماء الکاملین، جامع المنقول والمعقول، فخر اہل سنت، محسنِ ملت، حضرت علامہ مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری ۔

آپ چودہویں صدی کے جید عالم دین، اور عصری و دینی علوم کا حسین امتزاج تھے ۔ آپ کی ہمہ گیر اور مثالی شخصیت کا اگر تحلیل و تجزیہ کیا جائے تو علم و فضل، زہد و تقویٰ، شرافت و نجابت، اور ذوق و وجدان کی نفاست، آپ کی شخصیت کے عناصر اربعہ قرار پاتے ہیں ۔

علم و حکمت، فضل و کمال، مال و منال، جود و نوال، تقریر و تحریر، تعلیم و تدریس، تحقیق و تنقید، تنقیح و تدوین، غرض کہ ہر جہت سے آپ اعلیٰ و اشرف تھے ۔

عالم، فاضل، ادیب و کامل، نقاد و محقق، اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے آپ کی عظمت مسلم ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہم عصر علماء و مشائخ اور بعد کے اربابِ علم و بصیرت نے آپ کے فضائل و محاسن اور کمالات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے ۔

آپ کی جاذب نظر شخصیت نے صرف دینی طبقے کو نہیں بلکہ کالجز، یونیورسٹیز، کے ادباء و محققین، اور اپنوں کے علاوہ بیگانوں نے بھی آپ کی علمی و روحانی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔

آپ 1908ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین مقر ہوئے ۔ یونیورسٹی آف علی گڑھ کے خلاف جب ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو آپ نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سرضیاء الدین کے ساتھ مل کر اس ادارےکی بھر پور حمایت اور مکمل دفاع کیا ۔

بِالخصوص اگر آپ میدان میں نہ آتے تو جو ملک و ملت کا نقصان ہوتا وہ سب کے سامنے عیاں ہے ۔ آپ نے تا حیات بڑے جاہ و جلال کے ساتھ فرضِ منصبی ادا کیا ۔ قدرتِ ایزدی نے آپ کو حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ خطابت میں بلا کا زور تھا ۔

جس وقت گفتگو فرماتے تو دریا کی روانی کا نقشہ سامنے آ جاتا تھا ۔ جَون پور کے ایک جلسہ میں آپ تقریر فرما رہے تھے، استاذ العلماء مولانا ہدایت اللہ رام پوری کا ادھر سے گذر ہوا، آپ کی آواز سن کر رُک گئے، جب آپ تقریر ختم کر چکے تو استاذ العلماء منبر کے قریب آئے، اور فرط خوشی سے بادیدۂ تر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور ہاتھ چومے ۔
1
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے جمعیۃ علماء کا جلسہ منعقدہ بریلی میں مولوی ابو الکلام آزاد جیسے تیز لِسان کے مقابلے میں آپ کو منتخب فرمایا تھا ۔

مولوی ابو الکلام نے آپ کی تقریر کا وزن محسوس کیا ۔ آپ نے دو قومی نظریئے سے منحرف گانگریسی مولویوں کی خوب خبر لی ۔

دو قومی نظریے کی ابتدا:
1921ء میں جمعیۃ العلماء ہند کا اجلاس بریلی میں ہونا طے پایا ۔ پروپیگنڈے کے طور پر دو اشتہار سامنے آئے ۔ ایک اشتہار بنام ’’ زندگی مستعار کی چند ساعتیں ‘‘ اور دوسرا اِشتہار بہ عنوان ’’ آفتاب صداقت کا طلوع ‘‘ شائع ہوا ۔

بڑا شور شرابہ کیا گیا ۔ مسلم ہندو اِتحاد کے مخالفین کو لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان اشتہارات کے جوابات میں جماعت رضائے مصطفی بریلی شریف کی جانب سے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی نے ستر سوالات پر مشتمل اعلان مناظرہ بنام ’’ اتمام حجت ‘‘ شائع کرکے جمعیہ علماء ہند کے ناظم کو بھیج دیا ۔ لیکن بار بار تقاضوں کے باوجود عمائدین جمعیۃ مناظرہ کے لئے تیار نہ ہوئے اور بلنگ بانگ دعاوی کو صاف نظر انداز کر گئے ۔

13 رجب 1339ھ کو مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ابو الکلام آزاد کے پاس تشریف لے گئے، لیکن وہ ان سوالات کے جوابات دینے کی بجائے غیر متعلقہ مسائل کا تذکرہ چھیڑ دِیا اور کسی طرح ان نزاعی مسائل پر گفتگو کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔

بالآخر 14 رجب کو حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری، مولانا برہان الحق جبل پوری وغیرہ حضرات شان و شوکت کے ساتھ جمعیۃ العلماء ہند کے پنڈال میں تشریف لے گئے ۔

صدر جلسہ مولوی ابوالکلام آزاد نے جماعت رضائے مصطفیٰ کے اراکین کو خطاب کا وقت نہ دیا اور مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کو پینتیس منٹ کا وقت اس لئے دیا کہ ان کے نام دعوت نامہ پہنچ چکا تھا ۔ اس اجتماع میں مولانا سید محمد سلیمان اشرف نے خطاب فرمایا اور علماء اہل سنت کا موقف بڑی خوبی سے واضح کیا ۔

اس خطاب میں آپ نے فرمایا:
’’ بت پرست اور بت شکن کا اتحاد نہیں ہو سکتا ۔ لعنت ہے ایسی سلطنت پر جو دین بیچ کر حاصل کی جائے ‘‘ ۔ (عظمتوں کے پاسبان ، ص:100) ۔

یہ تقریر جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی نے تحریراً شائع کی ۔ اس تقریر کو پڑھ کر مولانا کی حق گوئی، صلابت رائے اور چھا جانے والی شخصیت کا گہرا اِحساس دل پر نقش ہو جاتا ہے ۔

صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے امام اہل سنت امام احمد رضا خان کے نام ایک مکتوب میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ جناب مولانا سید شاہ سلیمان اشرف بہاری نے اس خوبی سے تقریر فرمائی کہ اپنے اعتراض بھی پیش کر دیئے اور ان کی غلطیاں بھی دِکھلائیں، اور مجمع میں کوئی بے چینی بھی نہ ہوئی، بلکہ مجمع قبول کے کانوں سے حضرت مولانا کی تقریر سنتا رہا ۔ بار بار اللہُ اکبر کے نعرے اور تحسین و آفرین کی صدائیں سننے میں آ رہی تھیں ۔

مولانا سید سلیمان اشرف صاحب نے اس بحث ( گائے کی قربانی ترک کرنے، شعائر اسلام کو چھوڑنے، اور شعائرِ کفریہ میں مبتلا ہونے ) پر نہایت چست اور زبردست و مؤثر تقریر فرمائی ۔

میں اپنی مسرت کا اظہار نہیں کر سکتا، جو مجھے اس فتح سے حاصل ہوئی ۔ میدان مولانا سلیمان اشرف صاحب کے ہاتھ رہا ۔ حضرت کے غلاموں کی ہمت قابلِ تعریف ہے ‘‘ ۔ ( عظمتوں کے پاسبان، ص:106) ۔

یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
’’ مولانا سلیمان اشرف، جب تنقیحات کرتے ہیں تو مخالفین کو شکست ہو جاتی ہے ‘‘ ۔ ( علامہ سید سلیمان اشرف بہاری اہل علم کی نظر میں، ص:8) ـ

یہی وہ دو قومی نظریہ کا نعرہ تھا جو پہلے پہل علماء اہل سنت کی طرف سے بلند ہوا اور اسی نظریئے کی بناء پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ۔

اعلیٰ حضرت کی کی بلند پایہ تصنیف ’’ الحجۃ الموتمنہ ‘‘ اور مولانا سید سلیمان اشرف کی تصنیف لطیف ’’ النور ‘‘ اور ’’ الرشاد ‘‘ کا مطالعہ کیجئے یہ حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آجائےگی ۔

علامہ اقبال مرحوم نے دو قومی نظریہ 1930ء کو پیش کیا، اور علماء اہل سنت نے 1920ء بلکہ اس سے بھی پہلے پیش کر چکے تھے ۔

اُس وقت عوام تو عوام خواص بھی گانگریسی لیڈر اور ان کے ہمنوا ملاؤں کی باتوں میں آ چکے تھے ۔ انہوں نے اس بات پر یقین کر لیا تھا کہ جُو کچھ یہ کہ رہے ہیں وہی سَو فیصد درست ہے، اور وہ وقت ایسا تھا کہ ان کی بدمعاشی، مالی و افرادی قوت سب پر واضح تھی ۔

لیکن علماء اہل سنت نے جان و مال کی پرواہ کیے بغیر حق کا دامن نہ چھوڑا ۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ اِحساس یقین کی حد کو پہنچنے لگا کہ اس افرا تفری کے دور میں علماء اہل سنت نے کو کچھ کہا تھا، وہی حقیقت تھا ۔
1
پروفیسر خورشید احمد صدیقی لکھتے ہیں:
’’ سیلاب گزر گیا، جو کچھ ہونے والا تھا، وہ بھی ہوا ۔ لیکن مرحوم (مولانا سید سلیمان اشرف) نےاس عہد سراسیمگی میں جو کچھ لکھ دیا تھا، بعد میں معلوم ہوا کہ حقیقت وہی تھی، اس کا ایک ایک حرف صحیح تھا، آج تک اس کی سچائی اپنی جگہ پر قائم ہے، سارے علماء (وہابی و دیوبندی، گانگریس کے) سیلاب کی زد میں آ چکے تھے، صرف مرحوم اپنی جگہ پر قائم تھے ‘‘ ۔

مولانا سید محمد سلیمان اشرف مشرکین ہنود سے کس قدر متنفر تھے، اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔

جناب ڈاکٹر عابد علی عابد بیان کرتے ہیں:
ایک مرتبہ علی گڑھ یونیورسٹی کی مسجد میں بعض لوگوں نے گاندھی کو تقریر کے لئے بلایا، تو مولانا سید سلیمان اشرف بہاری نے بعد میں خود اپنے ہاتھ سے ساری مسجد کو دھو کر صاف کیا ۔ (عظمتوں کے پاسبان، ص:99) ـ

تصنیفات:
مولانا سید محمد سلیمان اشرف بہاری کی تصنیف و تالیف میں بھی عظیم خدمات ہیں ۔ ان میں سے ایک اہم کتاب ’’ المبین ‘‘ ہے ۔ یہ کتاب عربی زبان کی فضیلت و برتری میں اپنی مثال آپ ہے ۔

مشہور مشترق پروفیسر مسٹر ’’ براؤن ‘‘ نے ’’ المبین ‘‘ کو دیکھ کر کہا:
’’ مولانا نے اس عظیم موضوع پر اردو میں یہ کتاب لکھ کر ستم کیا، عربی یا انگریزی میں ہوتی تو کتاب کا وزن اور وقار بڑھ جاتا ۔ مولانا نے المبین کا ایک نسخہ ڈاکٹر اقبال کو بھی بھجوایا تھا ۔ اتفاقاً کچھ دن بعد علامہ اقبال، علی گڑھ گئے تو دورانِ ملاقات اس کتاب کی بڑی تعریف کی اور کہا: ’’ مولانا آپ نے عربی زبان کے بعض ایسے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے، جن کی طرف پہلے کبھی میرا ذہن منتقل نہیں ہوا تھا ‘‘ ـ (ایضا:108) ـ

الغرض!
مولانا سید سلیمان اشرف بہاری نے علمی، قلمی، اور فکری لحاظ سے جہاد کا حق ادا کر دیا اور مسلمان قوم اور ان کی نسلوں، اور اسلامی درس گاہوں کو بچانے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا ۔ آپ نے قومی و ملی فریضے کو بخوبی نبھایا ۔ اس میں کسی مصلحت پسندی، اور ابن الوقتی کا شکار نہ ہوئے ۔

آپ کی عظیم خدمات ہیں، اور یہ صفحات تفصیل سے قاصر ہیں ۔ مزید تفصیل کے لیے ’’ عظمتوں کے پاسباں ۔ حیات سید سلیمان اشرف بہاری ‘‘ کا مطالعہ مفید ہے ۔

تاریخِ وصال:
5 ربیع الاول 1358ھ / مطابق 25 اپریل 1939ء کو آپ واصل باللہ ہوئے ۔

مزارِ مبارک:
علی گڑھ کے قبرستان میں آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
عظمتوں کے پاسبان ۔ سید سلیمان اشرف بہاری اہل علم کی نظر میں ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مخدوم الاولیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-suleman-ashraf-bihari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ کبیر چشتی احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نسب:
آپ حضرت شیخ فرید بن عبد العزیز صوفی حمید الدین ناگوری قدس سرہم کی اولاد میں سے تھے ـ

بیعت:
اور اسی سلسلہ میں مرید بھی تھے ـ

تعلیم:
علوم ظاہری اور باطنی میں کمال حاصل تھا۔

تصنیف:
آپ کی کتاب ضوء المصباح بڑی بلند پایہ تصنیف ہے ـ

آپ کافی عرصہ ناگور میں رہے مگر جب ناگور میں ہندو مسلم فساد ہوا تو آپ ناگور کو چھوڑ کر گجرات چلے گئے اور وہاں بتاریخ پنجم ماہ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے ۔

بجنت چو رفت از جہاں فنا
کبیر آں شہ پیر برناد پیر

بتاریخ ترحیل آن شاہ دین
بگو قبلہ اہل جنت کبیر ۸۵۸ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-kabir-chishti-ahmedabadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا شاہ محب احمد قادری بدایونی قدس سرہ کے فرزند، بدایوں میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
درس نظامی کی تکمیل مدرسہ شمس العلوم بدایوں میں والد ماجد سے کر کے سند فراغت حاصل کی ـ

۱۳۲۱ھ میں آپ کے والد کے نامور رفیقِ درس حضرت مولانا شاہ سید عبد الصمد پھپھوندوی نے اپنے فرزند حضرت مولانا سید مصباح الحسن مرحوم کی تعلیم کے لیے پھپھوند ضلع اٹاوہ میں اپنی خانقاہ میں بُلاکر مدرس رکھا ـ

نواب حاجی غلام محمد حافظی مرحوم رئیس دادوں علی گڈھ کے مدرسہ دار العلوم حافظیہ سعیدیہ میں بہ مشورہ حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن ۵۴۔۱۳۵۵ھ صدر مدرس کے عہدہ پر فائز رہے ـ

وہاں سے علالتِ شدیدہ کی وجہ سے مستعفی ہو کر بدایوں واپس گئے، مدتِ دراز تک مدرسہ شمس العلوم میں مدرس عربی رہے ـ ضعف جسمانی اور پیرانہ سالی کے باعث وطن بدایوں آ گئے ـ

وصال:
اسی ۸۰ سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد ۵ ربیع الاوّل ۱۳۷۶ھ مطابق ۱۱ اکتوبر ۱۹۵۶ھ یوم پنجشنبہ انتقال ہوا ـ درگاہ قادری کے قبرستان میں دفن ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے مرید اور حضرت مولانا شاہ مطیع الرسول محمد عبد المقتدر اور حضرت سید مرتضیٰ احموی قدس سرہما کے خلیفہ تھے ـ

تصنیف:
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہٗ کے ملفوظات کبیر کا اردو ترجمہ ” سیفِ دستگیر “ کے نام سے کیا، اور اس کو شائع کیا ۔

( افادہ حضرت مولانا محمد ابراہیم فریدی مدظلہٗ بیاض مرتب )

( رپورٹ دار العلوم سعیدیہ حافظیہ، دادوں، علی گڈھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-ibrahim-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ سید سلیمان اشرف بہاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خلیفۂ اعلی حضرت، مفکر اسلام، اشرف المحققین، حضرت علامہ پروفیسر سید محمد سلیمان اشرف بہاری چشتی نظامی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1295ھ میں محلہ میر داد، بہار شریف، ضلع نالندہ، ہندستان میں ہوئی ۔

آپ عالمِ باعمل، مایہ ناز مصنف، عظیم مدبر، بہترین معلم، نامور خطیب، قادر الکلام مقرر، خوش لباس، خوش طبع، نفاست پسند، منکسر مزاج، نہایت خوددار، معزز، باوقار شخصیت اور علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے سب سے پہلے صدر تھے ۔

آپ کی کئی کتب مثلاً المبین، النور، الرشاد وغیرہ یادگار ہیں۔ اعلی حضرت کی تجہیز و تکفین کا شرف بھی آپ کو نصیب ہوا۔

وصال:
5 ربیع الاول 1358ھ بروز بدھ وصال فرمایا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں آرام فرما ہوئے ۔

( تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، سید سلیمان اشرف بہاری حیات و کارنامے ) ـ

Khalifah of AlaHazrat, Islamic Thinker, Leader of Researchers, Allamah Professor Sayyid Muhammad Sulayman Ashraf Bihari (RadiyAllahu Anhu) was born in 1295 AH in Meerdad, Bihar Sharif, Nalanda District, India. He was a pious practicing scholar, renowned author, genius intellectual, excellent educator, eloquent orator, well-dressed, cheerful, sophisticated, gentle, dignified personality, and the first president of the theology department of Aligarh University. His various books, such as Al-Mubeen, An-Noor, Ar-Rashaad, etc., are his monumental works. He was also blessed with the honor of tajheez and takfeen of AlaHazrat. He passed away on 5th Rabi’ al-Awwal 1358 AH and was laid to rest in the Shayrwaniyon Walay Graveyard situated inside Aligarh Muslim University. [Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat, Sayyid Sulayman Asharaf Bihari Hayat wa Karnamay]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=643377124028602&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-03-1445 ᴴ | 21-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-03-1445 ᴴ | 22-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1