Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
رئیس العلماء حضرت مولانا سید محمد سلیمان اشرف بہاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید سلیمان اشرف بہاری۔لقب: رئیس المتکلمین، شمس المحققین ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا سید سلیمان اشرف بہاری بن مولانا حکیم سید محمد عبد اللہ قدس سرہما ۔ والدہ محترمہ حضرت بی بی صائمہ خواہرِ حقیقی ( سگی بہن) حضرت غوث العالم مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کے خلف و فرزند و درویش حضرت مخدوم سید دوریش بھیہ شریف کی اولاد امجاد سے خاندانی تعلق ہے ۔ (حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوب ربانی:425) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو ’’ محلہ میر داد ، قصبہ بہار شریف، ضلع نالندہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
فارسی اور ابتدائی عربی درسیات پڑھنے کے بعد اسکول میں داخل ہوئے ۔ آپ کے ابتدائی استاذ مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی فخری (م 1316ھ) تھے، اور انہیں سے بیعت ہوئے ۔
مولانا فضل حق خیر آبادی کے نامور شاگرد مولانا محمد احسن استھانوی سے متوسطات تک درسِ نظامی پڑھ کر کانپور گئے ۔ وہاں حضرت استاذ العلماء حضرت مولانا ہدایت اللہ رام پوری کی خدمت میں رہ کر علوم و فنون میں مجتہدانہ بصیرت حاصل فرمائی ۔
پھر مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی سےدورۂ حدیث کیا ۔
آپ کے ہم درسوں میں ایک نام صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی کا بھی ہے ۔ (ایضا:425) ـ
فائدہ:
سلیمان ندوی نے تحریر کیا ہے کہ آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بھی پڑھا ہے، جبکہ ندوۃ العلماء کا ابتدائی درجہ 9 جمادی الاولیٰ 1316ھ / 16 ستمبر 1898ء میں کھولا گیا تھا ۔ حضرت موصوف تکمیلِ علوم کے بعد 1314ھ میں مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت سے دورۂ حدیث کرکے وطن آگئے تھے ۔ ربیع الاول 1318ھ میں مدرسہ حنفیہ کے آغاز و افتتاح کے وقت افتتاحی تقریر بھی فرمائی ۔
اسی طرح آپ کو استاذ العلماء حضرت مولانا یار محمد بندیالوی کے شاگردوں میں شمار کیا جاتاہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سید سلیمان اشرف نے جس مدرسے کی افتتاحی تقریر فرمائی، اسی مدرسے میں محرم 1323ھ میں مولانا بندیالوی شرح اشارات مع المحکمات، شرح مطالع، تلویح توضیح، طحاوی شریف، حاشیہ بیضاوی پڑھتے تھے ۔ (ایضا:425) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ سلیمانیہ میں حضرت مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی سے بیعت ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ مخدوم الاولیاء، شبیہِ غوث الاعظم، حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی سے بھی خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:101 / عظمتوں کے پاسباں، ص:95 / حیات مخدوم الاولیاء، ص:425) ـ
سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین، شمس المحققین، سندالعلماء الکاملین، جامع المنقول والمعقول، فخر اہل سنت، محسنِ ملت، حضرت علامہ مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری ۔
آپ چودہویں صدی کے جید عالم دین، اور عصری و دینی علوم کا حسین امتزاج تھے ۔ آپ کی ہمہ گیر اور مثالی شخصیت کا اگر تحلیل و تجزیہ کیا جائے تو علم و فضل، زہد و تقویٰ، شرافت و نجابت، اور ذوق و وجدان کی نفاست، آپ کی شخصیت کے عناصر اربعہ قرار پاتے ہیں ۔
علم و حکمت، فضل و کمال، مال و منال، جود و نوال، تقریر و تحریر، تعلیم و تدریس، تحقیق و تنقید، تنقیح و تدوین، غرض کہ ہر جہت سے آپ اعلیٰ و اشرف تھے ۔
عالم، فاضل، ادیب و کامل، نقاد و محقق، اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے آپ کی عظمت مسلم ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ہم عصر علماء و مشائخ اور بعد کے اربابِ علم و بصیرت نے آپ کے فضائل و محاسن اور کمالات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے ۔
آپ کی جاذب نظر شخصیت نے صرف دینی طبقے کو نہیں بلکہ کالجز، یونیورسٹیز، کے ادباء و محققین، اور اپنوں کے علاوہ بیگانوں نے بھی آپ کی علمی و روحانی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
آپ 1908ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین مقر ہوئے ۔ یونیورسٹی آف علی گڑھ کے خلاف جب ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو آپ نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سرضیاء الدین کے ساتھ مل کر اس ادارےکی بھر پور حمایت اور مکمل دفاع کیا ۔
بِالخصوص اگر آپ میدان میں نہ آتے تو جو ملک و ملت کا نقصان ہوتا وہ سب کے سامنے عیاں ہے ۔ آپ نے تا حیات بڑے جاہ و جلال کے ساتھ فرضِ منصبی ادا کیا ۔ قدرتِ ایزدی نے آپ کو حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ خطابت میں بلا کا زور تھا ۔
جس وقت گفتگو فرماتے تو دریا کی روانی کا نقشہ سامنے آ جاتا تھا ۔ جَون پور کے ایک جلسہ میں آپ تقریر فرما رہے تھے، استاذ العلماء مولانا ہدایت اللہ رام پوری کا ادھر سے گذر ہوا، آپ کی آواز سن کر رُک گئے، جب آپ تقریر ختم کر چکے تو استاذ العلماء منبر کے قریب آئے، اور فرط خوشی سے بادیدۂ تر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور ہاتھ چومے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید سلیمان اشرف بہاری۔لقب: رئیس المتکلمین، شمس المحققین ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا سید سلیمان اشرف بہاری بن مولانا حکیم سید محمد عبد اللہ قدس سرہما ۔ والدہ محترمہ حضرت بی بی صائمہ خواہرِ حقیقی ( سگی بہن) حضرت غوث العالم مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کے خلف و فرزند و درویش حضرت مخدوم سید دوریش بھیہ شریف کی اولاد امجاد سے خاندانی تعلق ہے ۔ (حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوب ربانی:425) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو ’’ محلہ میر داد ، قصبہ بہار شریف، ضلع نالندہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
فارسی اور ابتدائی عربی درسیات پڑھنے کے بعد اسکول میں داخل ہوئے ۔ آپ کے ابتدائی استاذ مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی فخری (م 1316ھ) تھے، اور انہیں سے بیعت ہوئے ۔
مولانا فضل حق خیر آبادی کے نامور شاگرد مولانا محمد احسن استھانوی سے متوسطات تک درسِ نظامی پڑھ کر کانپور گئے ۔ وہاں حضرت استاذ العلماء حضرت مولانا ہدایت اللہ رام پوری کی خدمت میں رہ کر علوم و فنون میں مجتہدانہ بصیرت حاصل فرمائی ۔
پھر مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی سےدورۂ حدیث کیا ۔
آپ کے ہم درسوں میں ایک نام صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی کا بھی ہے ۔ (ایضا:425) ـ
فائدہ:
سلیمان ندوی نے تحریر کیا ہے کہ آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بھی پڑھا ہے، جبکہ ندوۃ العلماء کا ابتدائی درجہ 9 جمادی الاولیٰ 1316ھ / 16 ستمبر 1898ء میں کھولا گیا تھا ۔ حضرت موصوف تکمیلِ علوم کے بعد 1314ھ میں مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت سے دورۂ حدیث کرکے وطن آگئے تھے ۔ ربیع الاول 1318ھ میں مدرسہ حنفیہ کے آغاز و افتتاح کے وقت افتتاحی تقریر بھی فرمائی ۔
اسی طرح آپ کو استاذ العلماء حضرت مولانا یار محمد بندیالوی کے شاگردوں میں شمار کیا جاتاہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سید سلیمان اشرف نے جس مدرسے کی افتتاحی تقریر فرمائی، اسی مدرسے میں محرم 1323ھ میں مولانا بندیالوی شرح اشارات مع المحکمات، شرح مطالع، تلویح توضیح، طحاوی شریف، حاشیہ بیضاوی پڑھتے تھے ۔ (ایضا:425) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ سلیمانیہ میں حضرت مولانا قاری نور محمد چشتی نظامی سے بیعت ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ مخدوم الاولیاء، شبیہِ غوث الاعظم، حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی سے بھی خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:101 / عظمتوں کے پاسباں، ص:95 / حیات مخدوم الاولیاء، ص:425) ـ
سیرت و خصائص:
رئیس المتکلمین، شمس المحققین، سندالعلماء الکاملین، جامع المنقول والمعقول، فخر اہل سنت، محسنِ ملت، حضرت علامہ مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری ۔
آپ چودہویں صدی کے جید عالم دین، اور عصری و دینی علوم کا حسین امتزاج تھے ۔ آپ کی ہمہ گیر اور مثالی شخصیت کا اگر تحلیل و تجزیہ کیا جائے تو علم و فضل، زہد و تقویٰ، شرافت و نجابت، اور ذوق و وجدان کی نفاست، آپ کی شخصیت کے عناصر اربعہ قرار پاتے ہیں ۔
علم و حکمت، فضل و کمال، مال و منال، جود و نوال، تقریر و تحریر، تعلیم و تدریس، تحقیق و تنقید، تنقیح و تدوین، غرض کہ ہر جہت سے آپ اعلیٰ و اشرف تھے ۔
عالم، فاضل، ادیب و کامل، نقاد و محقق، اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے آپ کی عظمت مسلم ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ہم عصر علماء و مشائخ اور بعد کے اربابِ علم و بصیرت نے آپ کے فضائل و محاسن اور کمالات کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے ۔
آپ کی جاذب نظر شخصیت نے صرف دینی طبقے کو نہیں بلکہ کالجز، یونیورسٹیز، کے ادباء و محققین، اور اپنوں کے علاوہ بیگانوں نے بھی آپ کی علمی و روحانی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
آپ 1908ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین مقر ہوئے ۔ یونیورسٹی آف علی گڑھ کے خلاف جب ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو آپ نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سرضیاء الدین کے ساتھ مل کر اس ادارےکی بھر پور حمایت اور مکمل دفاع کیا ۔
بِالخصوص اگر آپ میدان میں نہ آتے تو جو ملک و ملت کا نقصان ہوتا وہ سب کے سامنے عیاں ہے ۔ آپ نے تا حیات بڑے جاہ و جلال کے ساتھ فرضِ منصبی ادا کیا ۔ قدرتِ ایزدی نے آپ کو حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ خطابت میں بلا کا زور تھا ۔
جس وقت گفتگو فرماتے تو دریا کی روانی کا نقشہ سامنے آ جاتا تھا ۔ جَون پور کے ایک جلسہ میں آپ تقریر فرما رہے تھے، استاذ العلماء مولانا ہدایت اللہ رام پوری کا ادھر سے گذر ہوا، آپ کی آواز سن کر رُک گئے، جب آپ تقریر ختم کر چکے تو استاذ العلماء منبر کے قریب آئے، اور فرط خوشی سے بادیدۂ تر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور ہاتھ چومے ۔
❤1
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے جمعیۃ علماء کا جلسہ منعقدہ بریلی میں مولوی ابو الکلام آزاد جیسے تیز لِسان کے مقابلے میں آپ کو منتخب فرمایا تھا ۔
مولوی ابو الکلام نے آپ کی تقریر کا وزن محسوس کیا ۔ آپ نے دو قومی نظریئے سے منحرف گانگریسی مولویوں کی خوب خبر لی ۔
دو قومی نظریے کی ابتدا:
1921ء میں جمعیۃ العلماء ہند کا اجلاس بریلی میں ہونا طے پایا ۔ پروپیگنڈے کے طور پر دو اشتہار سامنے آئے ۔ ایک اشتہار بنام ’’ زندگی مستعار کی چند ساعتیں ‘‘ اور دوسرا اِشتہار بہ عنوان ’’ آفتاب صداقت کا طلوع ‘‘ شائع ہوا ۔
بڑا شور شرابہ کیا گیا ۔ مسلم ہندو اِتحاد کے مخالفین کو لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان اشتہارات کے جوابات میں جماعت رضائے مصطفی بریلی شریف کی جانب سے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی نے ستر سوالات پر مشتمل اعلان مناظرہ بنام ’’ اتمام حجت ‘‘ شائع کرکے جمعیہ علماء ہند کے ناظم کو بھیج دیا ۔ لیکن بار بار تقاضوں کے باوجود عمائدین جمعیۃ مناظرہ کے لئے تیار نہ ہوئے اور بلنگ بانگ دعاوی کو صاف نظر انداز کر گئے ۔
13 رجب 1339ھ کو مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ابو الکلام آزاد کے پاس تشریف لے گئے، لیکن وہ ان سوالات کے جوابات دینے کی بجائے غیر متعلقہ مسائل کا تذکرہ چھیڑ دِیا اور کسی طرح ان نزاعی مسائل پر گفتگو کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔
بالآخر 14 رجب کو حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری، مولانا برہان الحق جبل پوری وغیرہ حضرات شان و شوکت کے ساتھ جمعیۃ العلماء ہند کے پنڈال میں تشریف لے گئے ۔
صدر جلسہ مولوی ابوالکلام آزاد نے جماعت رضائے مصطفیٰ کے اراکین کو خطاب کا وقت نہ دیا اور مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کو پینتیس منٹ کا وقت اس لئے دیا کہ ان کے نام دعوت نامہ پہنچ چکا تھا ۔ اس اجتماع میں مولانا سید محمد سلیمان اشرف نے خطاب فرمایا اور علماء اہل سنت کا موقف بڑی خوبی سے واضح کیا ۔
اس خطاب میں آپ نے فرمایا:
’’ بت پرست اور بت شکن کا اتحاد نہیں ہو سکتا ۔ لعنت ہے ایسی سلطنت پر جو دین بیچ کر حاصل کی جائے ‘‘ ۔ (عظمتوں کے پاسبان ، ص:100) ۔
یہ تقریر جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی نے تحریراً شائع کی ۔ اس تقریر کو پڑھ کر مولانا کی حق گوئی، صلابت رائے اور چھا جانے والی شخصیت کا گہرا اِحساس دل پر نقش ہو جاتا ہے ۔
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے امام اہل سنت امام احمد رضا خان کے نام ایک مکتوب میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ جناب مولانا سید شاہ سلیمان اشرف بہاری نے اس خوبی سے تقریر فرمائی کہ اپنے اعتراض بھی پیش کر دیئے اور ان کی غلطیاں بھی دِکھلائیں، اور مجمع میں کوئی بے چینی بھی نہ ہوئی، بلکہ مجمع قبول کے کانوں سے حضرت مولانا کی تقریر سنتا رہا ۔ بار بار اللہُ اکبر کے نعرے اور تحسین و آفرین کی صدائیں سننے میں آ رہی تھیں ۔
مولانا سید سلیمان اشرف صاحب نے اس بحث ( گائے کی قربانی ترک کرنے، شعائر اسلام کو چھوڑنے، اور شعائرِ کفریہ میں مبتلا ہونے ) پر نہایت چست اور زبردست و مؤثر تقریر فرمائی ۔
میں اپنی مسرت کا اظہار نہیں کر سکتا، جو مجھے اس فتح سے حاصل ہوئی ۔ میدان مولانا سلیمان اشرف صاحب کے ہاتھ رہا ۔ حضرت کے غلاموں کی ہمت قابلِ تعریف ہے ‘‘ ۔ ( عظمتوں کے پاسبان، ص:106) ۔
یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
’’ مولانا سلیمان اشرف، جب تنقیحات کرتے ہیں تو مخالفین کو شکست ہو جاتی ہے ‘‘ ۔ ( علامہ سید سلیمان اشرف بہاری اہل علم کی نظر میں، ص:8) ـ
یہی وہ دو قومی نظریہ کا نعرہ تھا جو پہلے پہل علماء اہل سنت کی طرف سے بلند ہوا اور اسی نظریئے کی بناء پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ۔
اعلیٰ حضرت کی کی بلند پایہ تصنیف ’’ الحجۃ الموتمنہ ‘‘ اور مولانا سید سلیمان اشرف کی تصنیف لطیف ’’ النور ‘‘ اور ’’ الرشاد ‘‘ کا مطالعہ کیجئے یہ حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آجائےگی ۔
علامہ اقبال مرحوم نے دو قومی نظریہ 1930ء کو پیش کیا، اور علماء اہل سنت نے 1920ء بلکہ اس سے بھی پہلے پیش کر چکے تھے ۔
اُس وقت عوام تو عوام خواص بھی گانگریسی لیڈر اور ان کے ہمنوا ملاؤں کی باتوں میں آ چکے تھے ۔ انہوں نے اس بات پر یقین کر لیا تھا کہ جُو کچھ یہ کہ رہے ہیں وہی سَو فیصد درست ہے، اور وہ وقت ایسا تھا کہ ان کی بدمعاشی، مالی و افرادی قوت سب پر واضح تھی ۔
لیکن علماء اہل سنت نے جان و مال کی پرواہ کیے بغیر حق کا دامن نہ چھوڑا ۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ اِحساس یقین کی حد کو پہنچنے لگا کہ اس افرا تفری کے دور میں علماء اہل سنت نے کو کچھ کہا تھا، وہی حقیقت تھا ۔
مولوی ابو الکلام نے آپ کی تقریر کا وزن محسوس کیا ۔ آپ نے دو قومی نظریئے سے منحرف گانگریسی مولویوں کی خوب خبر لی ۔
دو قومی نظریے کی ابتدا:
1921ء میں جمعیۃ العلماء ہند کا اجلاس بریلی میں ہونا طے پایا ۔ پروپیگنڈے کے طور پر دو اشتہار سامنے آئے ۔ ایک اشتہار بنام ’’ زندگی مستعار کی چند ساعتیں ‘‘ اور دوسرا اِشتہار بہ عنوان ’’ آفتاب صداقت کا طلوع ‘‘ شائع ہوا ۔
بڑا شور شرابہ کیا گیا ۔ مسلم ہندو اِتحاد کے مخالفین کو لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان اشتہارات کے جوابات میں جماعت رضائے مصطفی بریلی شریف کی جانب سے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی نے ستر سوالات پر مشتمل اعلان مناظرہ بنام ’’ اتمام حجت ‘‘ شائع کرکے جمعیہ علماء ہند کے ناظم کو بھیج دیا ۔ لیکن بار بار تقاضوں کے باوجود عمائدین جمعیۃ مناظرہ کے لئے تیار نہ ہوئے اور بلنگ بانگ دعاوی کو صاف نظر انداز کر گئے ۔
13 رجب 1339ھ کو مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ابو الکلام آزاد کے پاس تشریف لے گئے، لیکن وہ ان سوالات کے جوابات دینے کی بجائے غیر متعلقہ مسائل کا تذکرہ چھیڑ دِیا اور کسی طرح ان نزاعی مسائل پر گفتگو کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔
بالآخر 14 رجب کو حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری، مولانا برہان الحق جبل پوری وغیرہ حضرات شان و شوکت کے ساتھ جمعیۃ العلماء ہند کے پنڈال میں تشریف لے گئے ۔
صدر جلسہ مولوی ابوالکلام آزاد نے جماعت رضائے مصطفیٰ کے اراکین کو خطاب کا وقت نہ دیا اور مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کو پینتیس منٹ کا وقت اس لئے دیا کہ ان کے نام دعوت نامہ پہنچ چکا تھا ۔ اس اجتماع میں مولانا سید محمد سلیمان اشرف نے خطاب فرمایا اور علماء اہل سنت کا موقف بڑی خوبی سے واضح کیا ۔
اس خطاب میں آپ نے فرمایا:
’’ بت پرست اور بت شکن کا اتحاد نہیں ہو سکتا ۔ لعنت ہے ایسی سلطنت پر جو دین بیچ کر حاصل کی جائے ‘‘ ۔ (عظمتوں کے پاسبان ، ص:100) ۔
یہ تقریر جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی نے تحریراً شائع کی ۔ اس تقریر کو پڑھ کر مولانا کی حق گوئی، صلابت رائے اور چھا جانے والی شخصیت کا گہرا اِحساس دل پر نقش ہو جاتا ہے ۔
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے امام اہل سنت امام احمد رضا خان کے نام ایک مکتوب میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ جناب مولانا سید شاہ سلیمان اشرف بہاری نے اس خوبی سے تقریر فرمائی کہ اپنے اعتراض بھی پیش کر دیئے اور ان کی غلطیاں بھی دِکھلائیں، اور مجمع میں کوئی بے چینی بھی نہ ہوئی، بلکہ مجمع قبول کے کانوں سے حضرت مولانا کی تقریر سنتا رہا ۔ بار بار اللہُ اکبر کے نعرے اور تحسین و آفرین کی صدائیں سننے میں آ رہی تھیں ۔
مولانا سید سلیمان اشرف صاحب نے اس بحث ( گائے کی قربانی ترک کرنے، شعائر اسلام کو چھوڑنے، اور شعائرِ کفریہ میں مبتلا ہونے ) پر نہایت چست اور زبردست و مؤثر تقریر فرمائی ۔
میں اپنی مسرت کا اظہار نہیں کر سکتا، جو مجھے اس فتح سے حاصل ہوئی ۔ میدان مولانا سلیمان اشرف صاحب کے ہاتھ رہا ۔ حضرت کے غلاموں کی ہمت قابلِ تعریف ہے ‘‘ ۔ ( عظمتوں کے پاسبان، ص:106) ۔
یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
’’ مولانا سلیمان اشرف، جب تنقیحات کرتے ہیں تو مخالفین کو شکست ہو جاتی ہے ‘‘ ۔ ( علامہ سید سلیمان اشرف بہاری اہل علم کی نظر میں، ص:8) ـ
یہی وہ دو قومی نظریہ کا نعرہ تھا جو پہلے پہل علماء اہل سنت کی طرف سے بلند ہوا اور اسی نظریئے کی بناء پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ۔
اعلیٰ حضرت کی کی بلند پایہ تصنیف ’’ الحجۃ الموتمنہ ‘‘ اور مولانا سید سلیمان اشرف کی تصنیف لطیف ’’ النور ‘‘ اور ’’ الرشاد ‘‘ کا مطالعہ کیجئے یہ حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آجائےگی ۔
علامہ اقبال مرحوم نے دو قومی نظریہ 1930ء کو پیش کیا، اور علماء اہل سنت نے 1920ء بلکہ اس سے بھی پہلے پیش کر چکے تھے ۔
اُس وقت عوام تو عوام خواص بھی گانگریسی لیڈر اور ان کے ہمنوا ملاؤں کی باتوں میں آ چکے تھے ۔ انہوں نے اس بات پر یقین کر لیا تھا کہ جُو کچھ یہ کہ رہے ہیں وہی سَو فیصد درست ہے، اور وہ وقت ایسا تھا کہ ان کی بدمعاشی، مالی و افرادی قوت سب پر واضح تھی ۔
لیکن علماء اہل سنت نے جان و مال کی پرواہ کیے بغیر حق کا دامن نہ چھوڑا ۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ اِحساس یقین کی حد کو پہنچنے لگا کہ اس افرا تفری کے دور میں علماء اہل سنت نے کو کچھ کہا تھا، وہی حقیقت تھا ۔
❤1