حضرت خواجہ توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
( مشتمل بردوازدہ باب )
ولادت اور نسب شریف:
آپ موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابا نانک کے درمیان واقع ہے۔
ولادت:
قریباً ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
والدین کا سایۂ عاطفت نہایت خرد سالی میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ایک موقع پر خود آپ نے فرمایا:
’’میرے نانا صاحب کے صرف دو بچے تھے۔ ایک والدہ صاحبہ دوسرے ماموں صاحب جو دو مرتبہ انبالہ میں میرے ملنے کو تشریف لائے۔ ماموں صاحب نے شادی نہیں کی ۔ تمام عمر تجرد میں بسر کردی ۔ [۱]
[۱۔ تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر ۶۲۱۔]
نام مبارک:
آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی چنداں ضرورت نہیں ۔ جناب مولوی حاجی سید ظہور الدین بن حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ سید سخاوت علی انبیٹوی رحمۃ اللہ علیہ [۱] کا بیان ہے کہ حضرت قبلہ سائیں صاحب ایک روز ارشاد فرمانے لگے:
’’مولوی! ہمارا نام توکل شاہ نہ تھا، ہمیں خدا کی طرف سے یہ لقب عطا ہوا ہے۔‘‘
[۱۔ سید صاحب موصوف گورنمنٹ مڈل اسکول انبالہ میں مدرس تھے ۔ نومرب ۱۸۸۷ء سے فروری ۱۸۹۴ء تک شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں بلا فصل حاضر ہوتے رہے ۔ اور فیض حاصل کرتے رہے ۔ راقم الحروف کی التماس پر آپ نے حضرت شاہ صاحب کے مختصر حالات قلم بند فرمائے ہیں۔ جن کا قلمی نسخہ اس وقت زیر نظر ہے۔] ـ
معلوم ہوا ہے کہ آپ سید نہ تھے۔ چنانچہ جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جو خطوط آپ کے نام آئے تھے ۔ ان میں آپ کا نام مبارک سید توکل شاہ لکھا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو منع کردو، آیندہ مجھے سید نہ لکھیں، میں سید نہیں ہوں۔ ؎
بندۂ عشق شدی ترکِ نسب کن جاؔمی
کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست
درویشی کا مفہوم:
درویشی تو اس کا نام ہے کہ ہر فعل اور قول اور حرکت اور سکون رضائے الٰہی میں ہو۔ اور دل میں یہ تصور ٹھہرائے کہ اس حیات میں میرا مقصود خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس طور پر مولا راضی ہو ۔
راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشادات تو اور بھی بکثرت ہیں ۔ مگر نظر بر اختصار ان کا یہیں ختم کر دینا مناسب معلوم ہوا ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-tawakkal-shah-ambalvi
( مشتمل بردوازدہ باب )
ولادت اور نسب شریف:
آپ موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابا نانک کے درمیان واقع ہے۔
ولادت:
قریباً ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
والدین کا سایۂ عاطفت نہایت خرد سالی میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ایک موقع پر خود آپ نے فرمایا:
’’میرے نانا صاحب کے صرف دو بچے تھے۔ ایک والدہ صاحبہ دوسرے ماموں صاحب جو دو مرتبہ انبالہ میں میرے ملنے کو تشریف لائے۔ ماموں صاحب نے شادی نہیں کی ۔ تمام عمر تجرد میں بسر کردی ۔ [۱]
[۱۔ تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر ۶۲۱۔]
نام مبارک:
آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی چنداں ضرورت نہیں ۔ جناب مولوی حاجی سید ظہور الدین بن حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ سید سخاوت علی انبیٹوی رحمۃ اللہ علیہ [۱] کا بیان ہے کہ حضرت قبلہ سائیں صاحب ایک روز ارشاد فرمانے لگے:
’’مولوی! ہمارا نام توکل شاہ نہ تھا، ہمیں خدا کی طرف سے یہ لقب عطا ہوا ہے۔‘‘
[۱۔ سید صاحب موصوف گورنمنٹ مڈل اسکول انبالہ میں مدرس تھے ۔ نومرب ۱۸۸۷ء سے فروری ۱۸۹۴ء تک شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں بلا فصل حاضر ہوتے رہے ۔ اور فیض حاصل کرتے رہے ۔ راقم الحروف کی التماس پر آپ نے حضرت شاہ صاحب کے مختصر حالات قلم بند فرمائے ہیں۔ جن کا قلمی نسخہ اس وقت زیر نظر ہے۔] ـ
معلوم ہوا ہے کہ آپ سید نہ تھے۔ چنانچہ جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جو خطوط آپ کے نام آئے تھے ۔ ان میں آپ کا نام مبارک سید توکل شاہ لکھا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو منع کردو، آیندہ مجھے سید نہ لکھیں، میں سید نہیں ہوں۔ ؎
بندۂ عشق شدی ترکِ نسب کن جاؔمی
کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست
درویشی کا مفہوم:
درویشی تو اس کا نام ہے کہ ہر فعل اور قول اور حرکت اور سکون رضائے الٰہی میں ہو۔ اور دل میں یہ تصور ٹھہرائے کہ اس حیات میں میرا مقصود خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس طور پر مولا راضی ہو ۔
راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشادات تو اور بھی بکثرت ہیں ۔ مگر نظر بر اختصار ان کا یہیں ختم کر دینا مناسب معلوم ہوا ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-tawakkal-shah-ambalvi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Tawakkal Shah Ambalvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالصمد میتلو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء حضرت مولانا علامہ عبد الصمد بن عبد اللہ میتلو کی ولادت تحصیل ڈوکری (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ’’بڈو واہن ‘‘ میں تقریبا ۱۹۱۸ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے آبائی گوٹھ میں حکیم حاذق اور عالم دین مولانا اللہ بخش پنجابی کے پاس قرآن مجید ناظرہ پڑھا ۔ اس کے بعد قریب میں گوٹھ ’’ چھتوواہن ‘‘ میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں شیخ الادب حضرت مولانا تاج محمد کھوکھر کی خدمت میں رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی اور فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی درسگاہ سے فن کتابت میں مہارت حاصل کی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے استاد محترم نے آپ کو اسی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا ۔ وہیں مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا ۔ آپ نہایت ذکی محنتی اور فن تدریس کے قابل فخر اساتذہ میں سے ایک تھے ۔ تھوڑے عرصے میں آپ نے مثالی استاد کے حوالہ سے شہرت حاصل کر لی تو سندھ کی مرکزی او ر معیاری درسگاہ جامعہ راشدیہ، درگاہ شریف پیر جو گوٹھ کے مہتمم حضرت مولانا محمد صالح نے جامعہ راشدیہ کے لئے مولانا عبدالصمد کا انتخاب کیا اور مدرس مقرر کیا ، جہاں مولانا نے ۲۳ برس تدریسی خدمات سر انجام دے کر اپنا لوہا منوایا ۔
مولانا عبد الصمد جامعہ میں دوران تدریس چھٹیاں منانے اپنے گھر نہیں جاتے بلکہ جامعہ میں رہ کر طلباء کو فن کتابت سکھاتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے تلامذہ عمدہ خوش خط ہیں ۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے منتہی طلباء پر ڈیوٹی عائد فرماتے کہ وہ مبتدی طلباء کو پڑھائیں ۔ اس کا مطلب مولانا ، قابل فخر اساتذہ کی کھیپ تیار کرنا چاہتے تھے جو ان کے بعد سندھ میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ میرے خیال میں مولانا اس پر خلوص کوشش میں یقینا کامیابی سے ہمکنا ر ہوئے ۔ ان کے تلامذہ آج بھی تدریس کے شغل میں مصروف عمل ہیں ۔
مولانا عبد الصمد صرف ونحو اور ترکیب کے فن میں ماہر تھے، فارسی میں کافی دسترس رکھتے تھے اور علم میراث میں بھی کافی عبور تھا ۔
جامعہ راشدیہ میں عرصہ دراز کی تدریس کے بعد ڈوکری کی جامع مسجد میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد دوبارہ جامعہ راشدیہ تدریس کے لئے تشریف لے گئے اور انہی دنوں حج مبارک کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔ ۱۳۸۰ھ ماہ شوال میں حضرت مولانا ہدایت اللہ کی دعوت پر جامعہ راشدیہ سے رخصت ہو کر مدرسہ حسینیہ تشریف لے گئے جہاں تقریباً چھ ماہ مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ اس کے بعد جامع ماجد سکرنڈ (ضلع نوابشاہ) میں ڈھائی سال، مدرسہ عین العلوم امینائی شریف (ضلع دادو) میں تین سال، اور اس کے علاوہ لاڑکانہ شہر کے مدرسہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی میں چار سال درس دیا ۔ یعنی زندگی قال اللہ اور قال رسول ﷺ میں صر ف ہوئی، جہالت کی کالی رات میں علم کے دئے جلائے اور ہر چار سو روشنی پھیلائی ۔
تلامذہ:
درج ذیل حضرات نے جامعہ راشدیہ اور دیگر اداروں میں آپ سے شر ف تلمیذ حاصل کیا ۔
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مفتی در محمد سکندری سانگھڑ
٭ مفتی عبدالرحمن ٹھٹوی مہتمم مدرسہ مجدد یہ عثمانیہ ٹھٹہ
٭ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑ کانہ
٭ مولانا سید غلام مجتبی شاہ عرف مصری شاہ مدرس جامعہ راشد یہ
٭ مولانا محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا بشیر احمد سکندری لیکچر ارپبلک اسکول حیدر آباد
٭ مولانا حافظ نو راحمد جیسر سکندری مہتمم مدرسہ صبغۃالعرفان احسان واہن تحصیل ڈوکری
٭ مولانا الہی بخش سکندری خطیب جامع مسجد بھلیڈنہ ضلع جیکب آباد
٭ مولانا قاری خدا بخش قاسمی خطیب جامع مسجد بہان سید آباد ضلع دادو
٭ مولانا حافظ محمد آدم مہر مہتمم مدرسہ حنفیہ صدیقیہ نور مسجد نزد سول ہسپتال ڈہر کی سندھ
٭ حافظ قاری ارباب علی عباسی نو شہرو فیروز
٭ مولانا حافظ عبد الخالق پیر زادہ جو ہی ضلع دادو
٭ مولانا عزیز الرحمن مرحوم سابق خطیب جامع مسجد حنفیہ شہباز روڈ بدین
٭ مولانا حافظ رب ڈنہ پھنور خطیب جیکب آباد
٭ استاد الحفاظ حافظ الہڈ نہ جنہ مرحوم مہتمم مدرسہ انوار القرآن ڈوکری
استاد العلماء حضرت مولانا علامہ عبد الصمد بن عبد اللہ میتلو کی ولادت تحصیل ڈوکری (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ’’بڈو واہن ‘‘ میں تقریبا ۱۹۱۸ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے آبائی گوٹھ میں حکیم حاذق اور عالم دین مولانا اللہ بخش پنجابی کے پاس قرآن مجید ناظرہ پڑھا ۔ اس کے بعد قریب میں گوٹھ ’’ چھتوواہن ‘‘ میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں شیخ الادب حضرت مولانا تاج محمد کھوکھر کی خدمت میں رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی اور فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی درسگاہ سے فن کتابت میں مہارت حاصل کی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے استاد محترم نے آپ کو اسی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا ۔ وہیں مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا ۔ آپ نہایت ذکی محنتی اور فن تدریس کے قابل فخر اساتذہ میں سے ایک تھے ۔ تھوڑے عرصے میں آپ نے مثالی استاد کے حوالہ سے شہرت حاصل کر لی تو سندھ کی مرکزی او ر معیاری درسگاہ جامعہ راشدیہ، درگاہ شریف پیر جو گوٹھ کے مہتمم حضرت مولانا محمد صالح نے جامعہ راشدیہ کے لئے مولانا عبدالصمد کا انتخاب کیا اور مدرس مقرر کیا ، جہاں مولانا نے ۲۳ برس تدریسی خدمات سر انجام دے کر اپنا لوہا منوایا ۔
مولانا عبد الصمد جامعہ میں دوران تدریس چھٹیاں منانے اپنے گھر نہیں جاتے بلکہ جامعہ میں رہ کر طلباء کو فن کتابت سکھاتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے تلامذہ عمدہ خوش خط ہیں ۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے منتہی طلباء پر ڈیوٹی عائد فرماتے کہ وہ مبتدی طلباء کو پڑھائیں ۔ اس کا مطلب مولانا ، قابل فخر اساتذہ کی کھیپ تیار کرنا چاہتے تھے جو ان کے بعد سندھ میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ میرے خیال میں مولانا اس پر خلوص کوشش میں یقینا کامیابی سے ہمکنا ر ہوئے ۔ ان کے تلامذہ آج بھی تدریس کے شغل میں مصروف عمل ہیں ۔
مولانا عبد الصمد صرف ونحو اور ترکیب کے فن میں ماہر تھے، فارسی میں کافی دسترس رکھتے تھے اور علم میراث میں بھی کافی عبور تھا ۔
جامعہ راشدیہ میں عرصہ دراز کی تدریس کے بعد ڈوکری کی جامع مسجد میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد دوبارہ جامعہ راشدیہ تدریس کے لئے تشریف لے گئے اور انہی دنوں حج مبارک کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔ ۱۳۸۰ھ ماہ شوال میں حضرت مولانا ہدایت اللہ کی دعوت پر جامعہ راشدیہ سے رخصت ہو کر مدرسہ حسینیہ تشریف لے گئے جہاں تقریباً چھ ماہ مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ اس کے بعد جامع ماجد سکرنڈ (ضلع نوابشاہ) میں ڈھائی سال، مدرسہ عین العلوم امینائی شریف (ضلع دادو) میں تین سال، اور اس کے علاوہ لاڑکانہ شہر کے مدرسہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی میں چار سال درس دیا ۔ یعنی زندگی قال اللہ اور قال رسول ﷺ میں صر ف ہوئی، جہالت کی کالی رات میں علم کے دئے جلائے اور ہر چار سو روشنی پھیلائی ۔
تلامذہ:
درج ذیل حضرات نے جامعہ راشدیہ اور دیگر اداروں میں آپ سے شر ف تلمیذ حاصل کیا ۔
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مفتی در محمد سکندری سانگھڑ
٭ مفتی عبدالرحمن ٹھٹوی مہتمم مدرسہ مجدد یہ عثمانیہ ٹھٹہ
٭ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑ کانہ
٭ مولانا سید غلام مجتبی شاہ عرف مصری شاہ مدرس جامعہ راشد یہ
٭ مولانا محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا بشیر احمد سکندری لیکچر ارپبلک اسکول حیدر آباد
٭ مولانا حافظ نو راحمد جیسر سکندری مہتمم مدرسہ صبغۃالعرفان احسان واہن تحصیل ڈوکری
٭ مولانا الہی بخش سکندری خطیب جامع مسجد بھلیڈنہ ضلع جیکب آباد
٭ مولانا قاری خدا بخش قاسمی خطیب جامع مسجد بہان سید آباد ضلع دادو
٭ مولانا حافظ محمد آدم مہر مہتمم مدرسہ حنفیہ صدیقیہ نور مسجد نزد سول ہسپتال ڈہر کی سندھ
٭ حافظ قاری ارباب علی عباسی نو شہرو فیروز
٭ مولانا حافظ عبد الخالق پیر زادہ جو ہی ضلع دادو
٭ مولانا عزیز الرحمن مرحوم سابق خطیب جامع مسجد حنفیہ شہباز روڈ بدین
٭ مولانا حافظ رب ڈنہ پھنور خطیب جیکب آباد
٭ استاد الحفاظ حافظ الہڈ نہ جنہ مرحوم مہتمم مدرسہ انوار القرآن ڈوکری
❤2
بیعت:
مولانا عبد الصمد میتلو سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی مجددی سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
مولانا عبد اللہ میتلو او ر ماسٹر عبد المجید میتلو آپ کے لخت جگر ہیں ۔ اور اپنے والد کا سالانہ عرس نہایت عقیدت سے منعقد کر تے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصانیف کے سلسلہ میں درج ذیل کتب کا علم ہو سکا ہے ۔
٭ رہبر فارسی
٭ القول الانور فی بحثالنور والبشر (سندھی) مطبوعہ غوثیہ کتب خانہ سانگھڑ
وصال:
حضرت مولانا عبد الصمد نے ۴ ربیع الاول ۱۳۹۳ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۳ء کو دوپہر کے وقت ۵۱ سال کی عمر میں سول ہسپتال لاڑکانہ میں حرکت قلب بند ہونے کی صورت میں انتقال کیا ۔ گوٹھ بڈوواہن میں نماز جنازہ ہوئی، وہیں قبرستان میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے ۔ جہاں ہر سال ۴ ربیع الاول شریف کو عرس منایا جاتا ہے ۔
[محترم حافظ نور احمد صاحب جیسر کا مشکور ہوں جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں اپنے استاد گرامی سے متعلق تفصیلی مواد فراہم کیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-samad-metlo
مولانا عبد الصمد میتلو سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی مجددی سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
مولانا عبد اللہ میتلو او ر ماسٹر عبد المجید میتلو آپ کے لخت جگر ہیں ۔ اور اپنے والد کا سالانہ عرس نہایت عقیدت سے منعقد کر تے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصانیف کے سلسلہ میں درج ذیل کتب کا علم ہو سکا ہے ۔
٭ رہبر فارسی
٭ القول الانور فی بحثالنور والبشر (سندھی) مطبوعہ غوثیہ کتب خانہ سانگھڑ
وصال:
حضرت مولانا عبد الصمد نے ۴ ربیع الاول ۱۳۹۳ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۳ء کو دوپہر کے وقت ۵۱ سال کی عمر میں سول ہسپتال لاڑکانہ میں حرکت قلب بند ہونے کی صورت میں انتقال کیا ۔ گوٹھ بڈوواہن میں نماز جنازہ ہوئی، وہیں قبرستان میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے ۔ جہاں ہر سال ۴ ربیع الاول شریف کو عرس منایا جاتا ہے ۔
[محترم حافظ نور احمد صاحب جیسر کا مشکور ہوں جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں اپنے استاد گرامی سے متعلق تفصیلی مواد فراہم کیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-samad-metlo
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Samad Metlo
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Ustaz-ul-Ulama Hazrat Allama Molana Abdul Samad Metlo
❤2
مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد اکرم رضوی شہیدِ اہلسنت (گوجرانوالہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شہید میلادِ مصطفٰی ﷺ:
نا مناسب ہوگا اگر ذکر میلاد پاک کے ضمن میں فقیر راقم الحروف (حفیظ نیازی صاحب) ایک ایسی عظیم شخصیت کا تذکرہ نہ کرے کہ جنہوں نے اپنے شب و روز میلاد مصطفٰی ﷺ کے پروگراموں کے لئے وقف کر رکھے تھے اور ان مبارک پروگراموں کی ابتداء ہی میں (۴ ربیع الاوّل ۱۴۱۵ھ / ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء کو) انہوں نے موضع نینوال ضلع قصور میں نماز ظہر با جماعت ادا کی، پہلے مسجد کی صفائی کی اور اذان بھی خود کہی اور بعد نماز میلاد پاک و نورانیت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے موضوع پر ایمان افروز خطاب فرمایا اور نماز عصر با جماعت ادا کر کے ٹھینگ موڑ جلسہ میلاد مصطفٰی ﷺ میں خطاب فرمانے کے لئے روانہ ہوئے……
تو ابھی آپ کی گاڑی نینوال سے باہر نکلی ہی تھی کہ ریلوے پھاٹک کے قریب کماد میں چھپے ہوئے منکرین میلاد ’’اہلِ حدیثوں‘‘ نے آپ کو شہید کر دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون o گویا کہ میلاد مصطفٰیﷺ کے مقدس مہینہ میں عاشق ِمصطفٰی ﷺ منصب شہادت پر فائز ہو گئے ۔
؎شہید ملت اسلامیہ کی ہے یاد سینے میں
شہادت ان کو راس آئی نبی کے اس مہینے میں
میری مراد……
عاشق مصطفٰی ﷺ، غلامِ غوث الوریٰ، محبّ اولیاء، نقیب فکر رِضا، شہید ملت اسلامیہ، فیض یافتہ پاسبان مسلک رضا، شیر اسلام، شمشیر بے نیام، فخر اہلِ سنت، مجاہد ملت، فدائے رضویت، گل گلستان صادق، حضرت مولانا علامہ الحاج ابو الحامد محمد اکرم رضوی (نور اللہ مرقدہٗ) کی ذات گرامی ہے۔؎
مہینہ تب بھی تھا ربیع الاوّل کا
جب ایک روز اچانک ہی وہ شہید ہوئے
غلام حضرتِ صادق کے تھے دل و جان سے
شہید ہو کے مکرم وہ کچھ مزید ہوئے
بفضلہٖ تعالٰی سوادِ اعظم اہلِ سنت میں مبلغین و واعظین اور خطباء و مقررین کی کمی نہیں لیکن شہید میلاد مصطفٰی ﷺ میں جو اخلاص و محبت و تبلیغ دین کے لئے جذبۂ صادقہ اور اخلاص و ایثار تھا وہ کم مقررین میں ہوگا۔ علامہ شہید اپنے ہم عصرخطباء و مقررین میں اپنی مثال آپ تھے اور آج کل کے خطباء و مقررین کے لئے رضوی شہید کا تذکرہ مبارکہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلاشبہ وہ اخلاص و مروّت اور وفا وحیاء کے پیکر حسین تھے ……
اس سلسلہ میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک یادگار خطاب میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’…… علامہ محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے لئے سرمایۂ افتخار تھے، اصل میں یہ ان کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ ان کی رگ رگ میں عشق مصطفٰی ﷺ تھا، دل میں نور تھا اور عشق مصطفٰی ﷺ کی شمع روشن تھی، یہ نورانی تعلیم و تربیت انہوں نے فخر اہلِ سنت شیخ طریقت حضرت مولانا ابو داؤد محمد صادق صاحب سے حاصل کی تھی، یہ ان کی برکت تھی……‘‘
؎ وہ پیر و کار تھے قبلہ ابوداؤد صادق کے
جبھی تو باصداقت حضرتِ علامہ رضوی تھے
دیدارِ مصطفٰی ﷺ:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ عاشق رسول تھے …… حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر خیر کرتے کرتے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رُلا دیتے اور جب بھی کسی عاشق سے حضور ﷺ کی نعت پاک سنتے تو محبت میں اشک بار ہو جاتے، ان کا یہی سچا جذبہ رنگ لایا کہ جس کی بدولت انہیں خواب میں توبا رہا حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہوا اور بیداری میں بھی ایک مرتبہ یہ عظیم المرتبت شرف حاصل ہوگیا اور کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ (اسی عشق و محبت کی بدولت) آپ کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے ’’مجاہد ملت‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا گیا (فالحمدللہ علیٰ ذالک)، جس کی تفصیل علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت نباض قوم مدظلہ کی کتاب ’’سوانح شہید اہلِ سنت‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ے۔
؎بھرا تھا عشق اپنا مصطفٰی نے اس کے سینے میں
سراپا عشق تھا، ایمان تھا، عرفان تھا رضوی
پیر خانے سے وابستگی:
کے سلسلہ میں صاحبزادہ محمد عطاء الرحمٰن رضوی رقم طراز ہیں ’’علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ، سرمایۂ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا مفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ العالی کے کامل مرید تھے، اٹھتے بیٹھتے مرشد کامل کی عظمت و عنایت کا اعتراف کرتے رہتے تھے، مرکز اہلِ سنت زینت المساجد (گوجر انوالہ) میں ہونے والے جلسوں میں حاضری دیتے تو خود کو خطیب پاکستان کہنے نہ دیتے بکہ سگ دربار رضویت کہلانے پر اصرار کرتے، اکثر بغیر دعوت ہی جلسہ میں حاضر ہوجاتے، خود راقم الحروف نے دیکھا کہ کبھی تو جلسہ میں تلاوت کرتے، کبھی نعت شریف پڑھتے، حکم ہوتا تو بیان بھی کرتے، کبھی نقیب محفل کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی ۔
ان کی ہی نیاز مندی اور فرماں برداری تھی جس کی بدولت حضرت صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ۔ ان کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کو بھی بڑا فروغ ملا ۔ کئی برادر ان طریقت سے جب بیعت ہونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے رضوی صاحب سے متاثر ہو کر یا ان کے ترغیب دینے پر حضرت صاحب سے بیعت ہونے کا ذکر کیا‘‘ ۔
شہید میلادِ مصطفٰی ﷺ:
نا مناسب ہوگا اگر ذکر میلاد پاک کے ضمن میں فقیر راقم الحروف (حفیظ نیازی صاحب) ایک ایسی عظیم شخصیت کا تذکرہ نہ کرے کہ جنہوں نے اپنے شب و روز میلاد مصطفٰی ﷺ کے پروگراموں کے لئے وقف کر رکھے تھے اور ان مبارک پروگراموں کی ابتداء ہی میں (۴ ربیع الاوّل ۱۴۱۵ھ / ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء کو) انہوں نے موضع نینوال ضلع قصور میں نماز ظہر با جماعت ادا کی، پہلے مسجد کی صفائی کی اور اذان بھی خود کہی اور بعد نماز میلاد پاک و نورانیت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے موضوع پر ایمان افروز خطاب فرمایا اور نماز عصر با جماعت ادا کر کے ٹھینگ موڑ جلسہ میلاد مصطفٰی ﷺ میں خطاب فرمانے کے لئے روانہ ہوئے……
تو ابھی آپ کی گاڑی نینوال سے باہر نکلی ہی تھی کہ ریلوے پھاٹک کے قریب کماد میں چھپے ہوئے منکرین میلاد ’’اہلِ حدیثوں‘‘ نے آپ کو شہید کر دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون o گویا کہ میلاد مصطفٰیﷺ کے مقدس مہینہ میں عاشق ِمصطفٰی ﷺ منصب شہادت پر فائز ہو گئے ۔
؎شہید ملت اسلامیہ کی ہے یاد سینے میں
شہادت ان کو راس آئی نبی کے اس مہینے میں
میری مراد……
عاشق مصطفٰی ﷺ، غلامِ غوث الوریٰ، محبّ اولیاء، نقیب فکر رِضا، شہید ملت اسلامیہ، فیض یافتہ پاسبان مسلک رضا، شیر اسلام، شمشیر بے نیام، فخر اہلِ سنت، مجاہد ملت، فدائے رضویت، گل گلستان صادق، حضرت مولانا علامہ الحاج ابو الحامد محمد اکرم رضوی (نور اللہ مرقدہٗ) کی ذات گرامی ہے۔؎
مہینہ تب بھی تھا ربیع الاوّل کا
جب ایک روز اچانک ہی وہ شہید ہوئے
غلام حضرتِ صادق کے تھے دل و جان سے
شہید ہو کے مکرم وہ کچھ مزید ہوئے
بفضلہٖ تعالٰی سوادِ اعظم اہلِ سنت میں مبلغین و واعظین اور خطباء و مقررین کی کمی نہیں لیکن شہید میلاد مصطفٰی ﷺ میں جو اخلاص و محبت و تبلیغ دین کے لئے جذبۂ صادقہ اور اخلاص و ایثار تھا وہ کم مقررین میں ہوگا۔ علامہ شہید اپنے ہم عصرخطباء و مقررین میں اپنی مثال آپ تھے اور آج کل کے خطباء و مقررین کے لئے رضوی شہید کا تذکرہ مبارکہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلاشبہ وہ اخلاص و مروّت اور وفا وحیاء کے پیکر حسین تھے ……
اس سلسلہ میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک یادگار خطاب میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’…… علامہ محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے لئے سرمایۂ افتخار تھے، اصل میں یہ ان کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ ان کی رگ رگ میں عشق مصطفٰی ﷺ تھا، دل میں نور تھا اور عشق مصطفٰی ﷺ کی شمع روشن تھی، یہ نورانی تعلیم و تربیت انہوں نے فخر اہلِ سنت شیخ طریقت حضرت مولانا ابو داؤد محمد صادق صاحب سے حاصل کی تھی، یہ ان کی برکت تھی……‘‘
؎ وہ پیر و کار تھے قبلہ ابوداؤد صادق کے
جبھی تو باصداقت حضرتِ علامہ رضوی تھے
دیدارِ مصطفٰی ﷺ:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ عاشق رسول تھے …… حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر خیر کرتے کرتے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رُلا دیتے اور جب بھی کسی عاشق سے حضور ﷺ کی نعت پاک سنتے تو محبت میں اشک بار ہو جاتے، ان کا یہی سچا جذبہ رنگ لایا کہ جس کی بدولت انہیں خواب میں توبا رہا حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہوا اور بیداری میں بھی ایک مرتبہ یہ عظیم المرتبت شرف حاصل ہوگیا اور کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ (اسی عشق و محبت کی بدولت) آپ کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے ’’مجاہد ملت‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا گیا (فالحمدللہ علیٰ ذالک)، جس کی تفصیل علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت نباض قوم مدظلہ کی کتاب ’’سوانح شہید اہلِ سنت‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ے۔
؎بھرا تھا عشق اپنا مصطفٰی نے اس کے سینے میں
سراپا عشق تھا، ایمان تھا، عرفان تھا رضوی
پیر خانے سے وابستگی:
کے سلسلہ میں صاحبزادہ محمد عطاء الرحمٰن رضوی رقم طراز ہیں ’’علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ، سرمایۂ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا مفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ العالی کے کامل مرید تھے، اٹھتے بیٹھتے مرشد کامل کی عظمت و عنایت کا اعتراف کرتے رہتے تھے، مرکز اہلِ سنت زینت المساجد (گوجر انوالہ) میں ہونے والے جلسوں میں حاضری دیتے تو خود کو خطیب پاکستان کہنے نہ دیتے بکہ سگ دربار رضویت کہلانے پر اصرار کرتے، اکثر بغیر دعوت ہی جلسہ میں حاضر ہوجاتے، خود راقم الحروف نے دیکھا کہ کبھی تو جلسہ میں تلاوت کرتے، کبھی نعت شریف پڑھتے، حکم ہوتا تو بیان بھی کرتے، کبھی نقیب محفل کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی ۔
ان کی ہی نیاز مندی اور فرماں برداری تھی جس کی بدولت حضرت صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ۔ ان کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کو بھی بڑا فروغ ملا ۔ کئی برادر ان طریقت سے جب بیعت ہونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے رضوی صاحب سے متاثر ہو کر یا ان کے ترغیب دینے پر حضرت صاحب سے بیعت ہونے کا ذکر کیا‘‘ ۔
❤2
ابو داؤؔد نے اس کو بنایا عاشق صادؔق
صداقت کا حسیں اس دور میں عنوان تھا رضوی
گویا کہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ’’ فنافی الشیخ ‘‘ کے منصب پر فائز تھے اور جہاں ان کو حضرت نباض قوم مدظلہ کا شاگرد خاص و مرید صادق ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں ان کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ ان کا نکاح بھی ان کے پیر و مرشد نے پڑھایا اور ان کی اپنے شیخ کامل سے اسی والہانہ عقیدت و محبت ہی کا نظارہ تھا کہ شہادت کے بعد ان کا جنازہ مبارکہ اپنے آقائے نعمت (حضرت نباض قوم مدظلہ) کے دفتر کے دروازہ کے سامنے رکھ کر اٹھایا گیا تو اس بات کا عملی مظاہرہ و مشاہدہ ہو گیا کہ
؎ عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور کوچۂ محبوب سے ذرا گھوم کے نکلے
بعد ازاں علامہ رضوی شہید کا تاریخی جنازہ ان کے محسن و مربی علامہ ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ نے پڑھایا، جس میں جید علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی سعادت حاصل کی اور رضوی شہید اس شرف میں بھی منفرد ہیں کہ ان کے پیر و مرشد اپنے مرید با وفا کا عرس مبارک ہر سال منا کر ان کی عظمت و شان کو مزید اجاگر فرماتے ہیں……
کیونکہ حضرت صاحب مدظلہ نے رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے والد محترم سے خصوصی طور پر مانگ کر لیا تھا اور پھر ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ علامہ رضوی شہید عالمی شہرت یافتہ خطیب و مناظر و عالم باعمل بن گئے۔ اپنے مرید پر بے حد شفقت و نوازش فرماتے ہوئے حضرت نباض قوم مدظلہ رقم طراز ہیں: ’’ ……
میرے نہایت ہی عزیز و قریب روحانی فرزند، باحیاؤ باوفا، مجاہد ملت، محبوب اہلِ سنت، عالم باعمل، شیر اسلام، عاشق رسول و شہید فی سبیل اللہ مولانا صوفی محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو قدرت نے خوف خدا، عشق مصطفٰی ﷺدردِ دین و جذبۂ تبلیغ و استقلال و خلوص بفضلہٖ تعالیٰ تمام علماء خطباء کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا تھا۔ فقیر (ابوداؤد محمد صادق) نے مرحوم کو خدمت دین کے لئے ان کے والد صاحب (حاجی محمد بشیر بٹ) سے مانگ کر لیا تھا جب انہوں نے مولانا مرحوم کو کسی دنیاوی کاروبار میں مشغول کرنے اک ارادہ کیا تو فقیر نے مولانا مرحوم کے والد سے کہا کہ ’’خدا تعالٰی نے آپ کو اور بھی فرزند عطا کئے ہیں، جو دنیاوی کاروبار کے لئے کافی ہیں، لہٰذا محمد اکرم کو علم دین پڑھنے اور خدمت دین کرنے کے لئے ہمیں دے دیں اور اسے فی سبیل اللہ وقف کردیں‘‘۔
خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے فقیر کی بات مان لی اور اپنا یہ ہونہار بیٹا ہمیں دے دیا، جسے مولیٰ تعالیٰ نے بہت جلد اپنے ہم جماعت طلباء و پھر علماء خطباء میں بہت ممتاز و قابل رشک مقام عطا فرمایا، یہاں تک کہ وہ اپنے خلوص و جذبۂ عشق اور نیکو کاری و حق گوئی کی بناء پر آسمان علم و خطابت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکنے لگا اور جہالت و ضلالت کی ظلمتوں کے پردے چاک کرنے لگا……
وہ فیض رضا سے مالا مال ہوگیا اور اس نسبتِ رضوی کی اتنی شہرت ہوئی کہ ’’سنی رضوی بریلوی‘‘ علماء کرام میں وہ پہلے عالم و خطیب ہی کہ ’’رضوی‘‘ جن کے نام کا جزو بن گیا ہے اور انہیں بین الاقوامی اور دائمی طور پر مولانا محمد اکرم رضوی، محمد اکرم رضوی اور اکرم رضوی کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی ہے۔
؎ ایں سعادت بزور باز و نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشذہ
(خادم اہلِ سنت ابو داؤد محمد صادق)‘‘
المختصر:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خوش قسمتی و سعادت مندی ہے کہ جب بھی ربیع الاوّل شریف کا مبارک مہینہ تشریف لائے گا تو میلاد پاک کی برکت سے شہید میلاد مصطفٰی ﷺ کی یاد بھی ہمیشہ تازہ ہوتی رہے گی کیونکہ
؎ آفتاب رضویت تابندہ تھا، تابندہ ہے
سن لیں اعداء آج بھی، اکؔرم رضوی زندہ ہے
؎ جب تک سورج چاند رہے گا، رضوی تیرا نام رہے گا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-akram-rizvi
صداقت کا حسیں اس دور میں عنوان تھا رضوی
گویا کہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ’’ فنافی الشیخ ‘‘ کے منصب پر فائز تھے اور جہاں ان کو حضرت نباض قوم مدظلہ کا شاگرد خاص و مرید صادق ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں ان کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ ان کا نکاح بھی ان کے پیر و مرشد نے پڑھایا اور ان کی اپنے شیخ کامل سے اسی والہانہ عقیدت و محبت ہی کا نظارہ تھا کہ شہادت کے بعد ان کا جنازہ مبارکہ اپنے آقائے نعمت (حضرت نباض قوم مدظلہ) کے دفتر کے دروازہ کے سامنے رکھ کر اٹھایا گیا تو اس بات کا عملی مظاہرہ و مشاہدہ ہو گیا کہ
؎ عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور کوچۂ محبوب سے ذرا گھوم کے نکلے
بعد ازاں علامہ رضوی شہید کا تاریخی جنازہ ان کے محسن و مربی علامہ ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ نے پڑھایا، جس میں جید علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی سعادت حاصل کی اور رضوی شہید اس شرف میں بھی منفرد ہیں کہ ان کے پیر و مرشد اپنے مرید با وفا کا عرس مبارک ہر سال منا کر ان کی عظمت و شان کو مزید اجاگر فرماتے ہیں……
کیونکہ حضرت صاحب مدظلہ نے رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے والد محترم سے خصوصی طور پر مانگ کر لیا تھا اور پھر ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ علامہ رضوی شہید عالمی شہرت یافتہ خطیب و مناظر و عالم باعمل بن گئے۔ اپنے مرید پر بے حد شفقت و نوازش فرماتے ہوئے حضرت نباض قوم مدظلہ رقم طراز ہیں: ’’ ……
میرے نہایت ہی عزیز و قریب روحانی فرزند، باحیاؤ باوفا، مجاہد ملت، محبوب اہلِ سنت، عالم باعمل، شیر اسلام، عاشق رسول و شہید فی سبیل اللہ مولانا صوفی محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو قدرت نے خوف خدا، عشق مصطفٰی ﷺدردِ دین و جذبۂ تبلیغ و استقلال و خلوص بفضلہٖ تعالیٰ تمام علماء خطباء کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا تھا۔ فقیر (ابوداؤد محمد صادق) نے مرحوم کو خدمت دین کے لئے ان کے والد صاحب (حاجی محمد بشیر بٹ) سے مانگ کر لیا تھا جب انہوں نے مولانا مرحوم کو کسی دنیاوی کاروبار میں مشغول کرنے اک ارادہ کیا تو فقیر نے مولانا مرحوم کے والد سے کہا کہ ’’خدا تعالٰی نے آپ کو اور بھی فرزند عطا کئے ہیں، جو دنیاوی کاروبار کے لئے کافی ہیں، لہٰذا محمد اکرم کو علم دین پڑھنے اور خدمت دین کرنے کے لئے ہمیں دے دیں اور اسے فی سبیل اللہ وقف کردیں‘‘۔
خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے فقیر کی بات مان لی اور اپنا یہ ہونہار بیٹا ہمیں دے دیا، جسے مولیٰ تعالیٰ نے بہت جلد اپنے ہم جماعت طلباء و پھر علماء خطباء میں بہت ممتاز و قابل رشک مقام عطا فرمایا، یہاں تک کہ وہ اپنے خلوص و جذبۂ عشق اور نیکو کاری و حق گوئی کی بناء پر آسمان علم و خطابت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکنے لگا اور جہالت و ضلالت کی ظلمتوں کے پردے چاک کرنے لگا……
وہ فیض رضا سے مالا مال ہوگیا اور اس نسبتِ رضوی کی اتنی شہرت ہوئی کہ ’’سنی رضوی بریلوی‘‘ علماء کرام میں وہ پہلے عالم و خطیب ہی کہ ’’رضوی‘‘ جن کے نام کا جزو بن گیا ہے اور انہیں بین الاقوامی اور دائمی طور پر مولانا محمد اکرم رضوی، محمد اکرم رضوی اور اکرم رضوی کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی ہے۔
؎ ایں سعادت بزور باز و نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشذہ
(خادم اہلِ سنت ابو داؤد محمد صادق)‘‘
المختصر:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خوش قسمتی و سعادت مندی ہے کہ جب بھی ربیع الاوّل شریف کا مبارک مہینہ تشریف لائے گا تو میلاد پاک کی برکت سے شہید میلاد مصطفٰی ﷺ کی یاد بھی ہمیشہ تازہ ہوتی رہے گی کیونکہ
؎ آفتاب رضویت تابندہ تھا، تابندہ ہے
سن لیں اعداء آج بھی، اکؔرم رضوی زندہ ہے
؎ جب تک سورج چاند رہے گا، رضوی تیرا نام رہے گا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-akram-rizvi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Akram Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Munazir-e-Islam Hazrat Molana Muhammad Akram Rizvi Shaheed-e-Ahlesunnat Gujranwala
❤2
برادر اعلیٰ حضرت، تاجدار فکر و فن، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، حضرت علامہ حسن رضا خاں حسؔن بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه
اسمِ گرامی:
محمد حسن رضا خان ۔
لقب:
شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، تاجدارِ فکر و فن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد حسن رضا خان بن مولانا مفتی نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان (علیہم الرحمہ) ۔
ولادت:
آپ 4 ربیع الاوّل 1276ھ مطابق 19 اکتوبر 1859ء کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خان اور برادرِ اکبر شیخ الاسلام والمسلمین الشاہ امام احمد رضا خان کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ فَنِّ شاعری میں برادرِ اکبر اور مرزا داغ دہلوی سے استفادہ فرمایا ۔
بیعت و خلافت:
سراج العارفین سیّد شاہ ابوالحسین احمد نوری قادری برکاتی مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سندِ خلافت سے شرف یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ماہرِ علم وفن، شہنشاہِ سخن، اُستاذِ زمن، سخن وَرِ خوش بیاں، ناظمِ شیریں زباں مولانا محمد حسن رضا خاں علیہ الرحمہ کے نام کی علم و فن اور شعر و سخن کی کہکشاؤں میں وہی حیثیت ہے جو ستاروں کے جھرمٹ میں ماہِ تمام کی ۔
سیرت و تذکرہ نگاری میں آپ کی زبان و بیان کی جامعیت کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا ۔ ردِّ باطل اور احقاقِ حق میں آپ کی مہارت اور صلابت و پختگی اپنی نظیر آپ ہے ۔ اگر مختصر سے جملے میں مولانا کو ’’ نظم ونثر کابےتاج بادشاہ ‘‘ کہہ دیا جائے تو یقیناً کوئی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی ۔
مولانا حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا مجموعۂ نعتیہ کلام، شاعری کی بہت ساری خوبیوں اور خصوصیات سے سجا اور تمام تر فنّی محاسن سے مزیّن اور آراستہ ہے ۔ موضوعات کا تنوع، فکر کی ہمہ گیری، محبّتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات کی فراوانی کے اثرات جا بہ جا ملتے ہیں ۔
آپ کے کلام میں اندازِ بیان کی ندرت بھی ہے اور فکر و تخیل کی بلندی بھی، معنیٰ آفرینی بھی ہے، تصوّفانہ ہم آہنگی بھی، استعارہ سازی بھی ہے، پیکر تراشی بھی، طرزِ ادا کا بانکپن بھی ہے، جدّت طرازی بھی، کلاسیکیت کا عنصر بھی ہے، رنگِ تغزل کی آمیزش بھی، ایجاز و اختصار اور ترکیب سازی بھی ہے ۔ استعارہ سازی، تشبیہات، اقتباسات، فصاحت و بلاغت، حُسنِ تعلیل و حُسنِ تشبیب، حُسنِ طلب و حُسنِ تضاد، لف و نشر مرتب و لف و نشر غیر مرتب، تجانیس، تلمیحات، تلمیعات، اشتقاق، مراعاۃ النظیر وغیرہ صنعتوں کی جلوہ گری بھی عربی اور فارسی کا گہرا رچاؤ بھی ۔
الغرض، آپ کا پورا کلام خود آگہی، کائنات آگہی اور خدا آگہی کے آفاقی تصور سے ہم کنار ہے ۔
مگر کیا کہا جائے اردو ادب کے اُن مؤرّخین و ناقدین اور شعرا کے تذکرہ نگاروں کو جنھوں نے گروہی عصبیت اور جانب داریت کے تنگ حصار میں مقید و محبوس ہو کر اردو کے اس عظیم شاعر کے ذکرِ خیر سے اپنی کتابوں کو یک سر خالی رکھا ۔ آپ کا ذکرِ خیر اپنی کتابوں میں نہ کرکے اردو ادب کے ساتھ بڑی بد دیانتی اور سنگین ادبی خیانت وجُرم کا ارتکاب کیا ہے ۔
فاشتکی الی اللہ والیہ ترجع الامور ۔
وصال:
03 شوّال المکرم 1326ھ مطابق 1908ء کو 50 سال 6 ماہ کی عمر میں وصال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-maulana-hasan-raza-khan-barelvi
اسمِ گرامی:
محمد حسن رضا خان ۔
لقب:
شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، تاجدارِ فکر و فن ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد حسن رضا خان بن مولانا مفتی نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان (علیہم الرحمہ) ۔
ولادت:
آپ 4 ربیع الاوّل 1276ھ مطابق 19 اکتوبر 1859ء کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خان اور برادرِ اکبر شیخ الاسلام والمسلمین الشاہ امام احمد رضا خان کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ فَنِّ شاعری میں برادرِ اکبر اور مرزا داغ دہلوی سے استفادہ فرمایا ۔
بیعت و خلافت:
سراج العارفین سیّد شاہ ابوالحسین احمد نوری قادری برکاتی مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سندِ خلافت سے شرف یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
ماہرِ علم وفن، شہنشاہِ سخن، اُستاذِ زمن، سخن وَرِ خوش بیاں، ناظمِ شیریں زباں مولانا محمد حسن رضا خاں علیہ الرحمہ کے نام کی علم و فن اور شعر و سخن کی کہکشاؤں میں وہی حیثیت ہے جو ستاروں کے جھرمٹ میں ماہِ تمام کی ۔
سیرت و تذکرہ نگاری میں آپ کی زبان و بیان کی جامعیت کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا ۔ ردِّ باطل اور احقاقِ حق میں آپ کی مہارت اور صلابت و پختگی اپنی نظیر آپ ہے ۔ اگر مختصر سے جملے میں مولانا کو ’’ نظم ونثر کابےتاج بادشاہ ‘‘ کہہ دیا جائے تو یقیناً کوئی مبالغہ آمیزی نہ ہوگی ۔
مولانا حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا مجموعۂ نعتیہ کلام، شاعری کی بہت ساری خوبیوں اور خصوصیات سے سجا اور تمام تر فنّی محاسن سے مزیّن اور آراستہ ہے ۔ موضوعات کا تنوع، فکر کی ہمہ گیری، محبّتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات کی فراوانی کے اثرات جا بہ جا ملتے ہیں ۔
آپ کے کلام میں اندازِ بیان کی ندرت بھی ہے اور فکر و تخیل کی بلندی بھی، معنیٰ آفرینی بھی ہے، تصوّفانہ ہم آہنگی بھی، استعارہ سازی بھی ہے، پیکر تراشی بھی، طرزِ ادا کا بانکپن بھی ہے، جدّت طرازی بھی، کلاسیکیت کا عنصر بھی ہے، رنگِ تغزل کی آمیزش بھی، ایجاز و اختصار اور ترکیب سازی بھی ہے ۔ استعارہ سازی، تشبیہات، اقتباسات، فصاحت و بلاغت، حُسنِ تعلیل و حُسنِ تشبیب، حُسنِ طلب و حُسنِ تضاد، لف و نشر مرتب و لف و نشر غیر مرتب، تجانیس، تلمیحات، تلمیعات، اشتقاق، مراعاۃ النظیر وغیرہ صنعتوں کی جلوہ گری بھی عربی اور فارسی کا گہرا رچاؤ بھی ۔
الغرض، آپ کا پورا کلام خود آگہی، کائنات آگہی اور خدا آگہی کے آفاقی تصور سے ہم کنار ہے ۔
مگر کیا کہا جائے اردو ادب کے اُن مؤرّخین و ناقدین اور شعرا کے تذکرہ نگاروں کو جنھوں نے گروہی عصبیت اور جانب داریت کے تنگ حصار میں مقید و محبوس ہو کر اردو کے اس عظیم شاعر کے ذکرِ خیر سے اپنی کتابوں کو یک سر خالی رکھا ۔ آپ کا ذکرِ خیر اپنی کتابوں میں نہ کرکے اردو ادب کے ساتھ بڑی بد دیانتی اور سنگین ادبی خیانت وجُرم کا ارتکاب کیا ہے ۔
فاشتکی الی اللہ والیہ ترجع الامور ۔
وصال:
03 شوّال المکرم 1326ھ مطابق 1908ء کو 50 سال 6 ماہ کی عمر میں وصال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-maulana-hasan-raza-khan-barelvi
scholars.pk
Hazrat Maulana Hasan Raza Khan Barelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔ چونکہ اعلیٰ حضرت خدمت دینی اور تصنیف کتب و فتاوی میں بہت مشغول رہتے، اسی لیے مولانا حسن رضا خان صاحب خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام کاج کی بھی نگرانی فرماتے۔ آپ کی معرکہ آرا کتب میں ذوق نعت، آئینہ قیامت، تزک مرتضوی اور صمصام حسن وغیرہ مشہور ہیں۔ 22 رمضان المبارک یا 3 شوال المکرم 1326ھ کو 50 سال کی عمر میں وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے والدین کے پہلو میں قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ذوق نعت، تزک مرتضوی)
Brother of AlaHazrat, Shahenshah-e-Sukhan, Ustaz-e-Zaman, Mawlana Hasan Raza Khan Qadiri Barakati Noori (Alayhir Rahmah) was born on 4th Rabi’ al-Awwal 1276 AH in Mohalla Saudagiran, Bareilly Sharif. He is the disciple and caliph of Shah Abul Husayn Ahmad-e-Noori, student of Mirza Dagh Dehlavi, pious practicing scholar, remarkable author, and an outstanding poet. Since AlaHazrat was very busy serving the religion and writing books therefore Mawlana Hasan Raza looked after all the family businesses as well as the household. Zauq-e-Na’at, Aa’ina-e-Qiyamat, Tuzk-e-Murtazawi, and Samsaam-e-Hasan are some of his remarkable books. He passed away at the age of 50 on the 22nd of Ramadan or the 3rd of Shawwal al-Mukarram 1326 AH. His blessed resting place is next to his parents at the graveyard in beharipur area near police line city station, Bareilly, U.P., India. [Tazkira Ulama-e-AhleSunnat, Zauq-e-Na’at, Tuzk-e-Murtazawi]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
Brother of AlaHazrat, Shahenshah-e-Sukhan, Ustaz-e-Zaman, Mawlana Hasan Raza Khan Qadiri Barakati Noori (Alayhir Rahmah) was born on 4th Rabi’ al-Awwal 1276 AH in Mohalla Saudagiran, Bareilly Sharif. He is the disciple and caliph of Shah Abul Husayn Ahmad-e-Noori, student of Mirza Dagh Dehlavi, pious practicing scholar, remarkable author, and an outstanding poet. Since AlaHazrat was very busy serving the religion and writing books therefore Mawlana Hasan Raza looked after all the family businesses as well as the household. Zauq-e-Na’at, Aa’ina-e-Qiyamat, Tuzk-e-Murtazawi, and Samsaam-e-Hasan are some of his remarkable books. He passed away at the age of 50 on the 22nd of Ramadan or the 3rd of Shawwal al-Mukarram 1326 AH. His blessed resting place is next to his parents at the graveyard in beharipur area near police line city station, Bareilly, U.P., India. [Tazkira Ulama-e-AhleSunnat, Zauq-e-Na’at, Tuzk-e-Murtazawi]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور…
یوم ولادت 4 ربیع الاول
یوم وصال 3 شوال المکرم
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سودا گران بریلی شریف میں ہوئی۔
آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔
چونکہ اعلیٰ حضرت خدمت دینی اور تصنیف کتب و فتاوی میں بہت مشغول رہتے، اسی لیے مولانا حسن رضا خان صاحب خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام کاج کی بھی نگرانی فرماتے ۔
آپ کی معرکہ آرا کتب میں ذوق نعت، آئینہ قیامت، تزک مرتضوی اور صمصام حسن وغیرہ مشہور ہیں ۔
وصال:
22 رمضان المبارک یا 3 شوال المکرم 1326ھ کو 50 سال کی عمر میں وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے والدین کے پہلو میں قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے ۔
(تذکرہ علمائے اہل سنت، ذوق نعت، تزک مرتضوی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
یوم وصال 3 شوال المکرم
برادر اعلی حضرت، شہنشاہ سخن، استاذ زمن، مولانا حسن رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ کو بمقام محلہ سودا گران بریلی شریف میں ہوئی۔
آپ مرید و خلیفۂ شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ، تلمیذ مرزا داغ دہلوی، اپنے دور کے ممتاز عالم دین، صاحب طرز ادیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔
چونکہ اعلیٰ حضرت خدمت دینی اور تصنیف کتب و فتاوی میں بہت مشغول رہتے، اسی لیے مولانا حسن رضا خان صاحب خاندانی کاروبار کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام کاج کی بھی نگرانی فرماتے ۔
آپ کی معرکہ آرا کتب میں ذوق نعت، آئینہ قیامت، تزک مرتضوی اور صمصام حسن وغیرہ مشہور ہیں ۔
وصال:
22 رمضان المبارک یا 3 شوال المکرم 1326ھ کو 50 سال کی عمر میں وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے والدین کے پہلو میں قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے ۔
(تذکرہ علمائے اہل سنت، ذوق نعت، تزک مرتضوی)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02j6rjEyEB88LZ3H96y5gKUcsZpYbNdEuPYLDDmET3Ho8aMnxki2JSY8p3iL767rnql&id=100050689590519&mibextid=Nif5oz
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-03-1445 ᴴ | 21-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1