مخدوم بلال باغبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
❤2
شیخ نجم الدین کبری قدس سرہٗ سے ایک جہاں مستفیض ہوا ، کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے ان سے ہدایت پائی ۔ مفسر قرآن امام فخر الدین رازی صاحب ’’ تفسیر کبیر ‘‘ آپ کے مرید تھے اور انہوں نے بھی آپ سے فیض پایا ۔
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے ۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تا وقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا ۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہو گیا ۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی) ـ
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ:
راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر (حرام) ہے ۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے ۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے ۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تا وقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا ۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہو گیا ۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی) ـ
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ:
راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر (حرام) ہے ۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے ۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
❤2
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت میں سے ایک نام دستیاب ہوا ہے:
٭ مولانا قاضی الہ دتہ سیوہانی
جو کہ شہ حسن ارغون بن شہ بیگ ارغون حاکم سندھ اور ’’تاریخ معصومی‘‘ کے مصنف میر محمد معصوم شاہ بکھری بن سید صفائی کے استاد تھے ۔ (مخدوم بلال باغبانی ص۲۳، عبدالغفور سندھی)
وصال:
حضرت مخدوم بلال کی شہادت سیاسی انتقام تھا۔ مخدوم کے ابتدائی دور میں نظام الدین ثانی عرف نندو کی حکومت تھی۔ سندھ کیلئے جام ثانی کا دور امن و شانتی ، عدل و انصاف اور اشاعت علم کے حوالے سے بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ ان دنوں سندھ کی اراضی بھی وسیع تھی، بلوچستان کا کچھ حصہ، ملتان اور بہاولپور کا کچھ حصہ ، لسبیلہ اور کَچھ کا کُچھ حصہ سندھ حکومت میں شامل تھا۔ اس سے سندھ کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سنہری دو رمیں ٹھٹہ کی نئے سرے سے دوبارہ تعمیر ہوئی، علم و فضل کا دور دورہ تھا، مدارس دینیہ ترقی پذیر تھے۔ صنعت کاری کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی ۔
ٹھٹھہ کے علاوہ بکھر، روہڑی، نصر پور، مٹیاری، دربیلو، پاٹ، باغبان، سیوہن اور سن اسلامی تہذیب اور علم و ادب کے اہم مراکز تھے۔ جام ثانی کے دور میں قندھار (افغانستان) سے شہ بیگ ارغون نے سندھ میں داخل ہو کر ڈاکوؤں کی طرح لوٹ مار کی۔ جام صاحب نے بہادر سپاہ پر مشتمل ایک بڑالشکر بھیج دیا۔ سیوی(ضلع سکھر) کے قلعہ کے پاس فیصلہ کن لڑائی ہوئی جس سے شہ بیگ کا بھائی قتل ہوا اور دیگر سپاہی ڈر کر بھاگ گئے۔ جام ثانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جام فیروز صغیر سنی میں سندھ کے حاکم ہوئے۔ صغیر سنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی رشتہ دار جام صلاح الدین اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف سازشیں بُن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کمزور ہوگئی۔ جام ثانی کے وزیر ’’دریا خان‘‘ اپنی حکمت و دانش سے حکومت چلا رہے تھے لیکن جیسے ہی فیروز بڑے ہوئے سازشی ٹولہ نے اس کے اور دریا خان کے درمیان ناراضگی پیدا کردی جس کی وجہ سے دریا خان استعفٰی دے کر اپنی گوٹھ چلے گئے سازشی ٹولہ شہ بیگ سے ملے ہوئے تھے شاید اُنہیں کی غلط صحبت کی وجہ سے شاہ فیروز شراب و کباب کا متوالہ ہوگیا۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۹۲۶ھ کوٹھٹہ پر حملہ کیا یہ سن کر جام فیروز ، دریا خان آپکے پاس خود جا کر منوا کر لائے۔ دریا خان لشکر کے ساتھ میدان میں آئے لیکن کمزور حکومت کے سپاہی بھی کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا جام فیروز کو اپنی عیاشیوں خوش گپیوں کے سبب شکست ملی ۔ (تاریخ سندھ قدوسی) ـ
دریاں خان قتل ہوئے جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر بھاگ گئے بہر حال فیروز نے سندھ کا ایک حصہ شہ بیگ کو دے کر اپنی جان بچالی۔ شہ بیگ نے قبضہ جمانے کے بعد ۱۱ محرم الحرام تا ۲۰ محرم تک ٹھٹہ میں رہ کر ٹھٹہ کو تہس نہس کیا۔ اسلامی مرکز ٹھٹہ میں قتل عام کیا اور شہریوں کو خوب لوٹا ۔
(تاریخ معصومی بحوالہ مخدوم بلال سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ) ـ
آپ کے تلامذہ کی جماعت میں سے ایک نام دستیاب ہوا ہے:
٭ مولانا قاضی الہ دتہ سیوہانی
جو کہ شہ حسن ارغون بن شہ بیگ ارغون حاکم سندھ اور ’’تاریخ معصومی‘‘ کے مصنف میر محمد معصوم شاہ بکھری بن سید صفائی کے استاد تھے ۔ (مخدوم بلال باغبانی ص۲۳، عبدالغفور سندھی)
وصال:
حضرت مخدوم بلال کی شہادت سیاسی انتقام تھا۔ مخدوم کے ابتدائی دور میں نظام الدین ثانی عرف نندو کی حکومت تھی۔ سندھ کیلئے جام ثانی کا دور امن و شانتی ، عدل و انصاف اور اشاعت علم کے حوالے سے بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ ان دنوں سندھ کی اراضی بھی وسیع تھی، بلوچستان کا کچھ حصہ، ملتان اور بہاولپور کا کچھ حصہ ، لسبیلہ اور کَچھ کا کُچھ حصہ سندھ حکومت میں شامل تھا۔ اس سے سندھ کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سنہری دو رمیں ٹھٹہ کی نئے سرے سے دوبارہ تعمیر ہوئی، علم و فضل کا دور دورہ تھا، مدارس دینیہ ترقی پذیر تھے۔ صنعت کاری کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی ۔
ٹھٹھہ کے علاوہ بکھر، روہڑی، نصر پور، مٹیاری، دربیلو، پاٹ، باغبان، سیوہن اور سن اسلامی تہذیب اور علم و ادب کے اہم مراکز تھے۔ جام ثانی کے دور میں قندھار (افغانستان) سے شہ بیگ ارغون نے سندھ میں داخل ہو کر ڈاکوؤں کی طرح لوٹ مار کی۔ جام صاحب نے بہادر سپاہ پر مشتمل ایک بڑالشکر بھیج دیا۔ سیوی(ضلع سکھر) کے قلعہ کے پاس فیصلہ کن لڑائی ہوئی جس سے شہ بیگ کا بھائی قتل ہوا اور دیگر سپاہی ڈر کر بھاگ گئے۔ جام ثانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جام فیروز صغیر سنی میں سندھ کے حاکم ہوئے۔ صغیر سنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی رشتہ دار جام صلاح الدین اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف سازشیں بُن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کمزور ہوگئی۔ جام ثانی کے وزیر ’’دریا خان‘‘ اپنی حکمت و دانش سے حکومت چلا رہے تھے لیکن جیسے ہی فیروز بڑے ہوئے سازشی ٹولہ نے اس کے اور دریا خان کے درمیان ناراضگی پیدا کردی جس کی وجہ سے دریا خان استعفٰی دے کر اپنی گوٹھ چلے گئے سازشی ٹولہ شہ بیگ سے ملے ہوئے تھے شاید اُنہیں کی غلط صحبت کی وجہ سے شاہ فیروز شراب و کباب کا متوالہ ہوگیا۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۹۲۶ھ کوٹھٹہ پر حملہ کیا یہ سن کر جام فیروز ، دریا خان آپکے پاس خود جا کر منوا کر لائے۔ دریا خان لشکر کے ساتھ میدان میں آئے لیکن کمزور حکومت کے سپاہی بھی کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا جام فیروز کو اپنی عیاشیوں خوش گپیوں کے سبب شکست ملی ۔ (تاریخ سندھ قدوسی) ـ
دریاں خان قتل ہوئے جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر بھاگ گئے بہر حال فیروز نے سندھ کا ایک حصہ شہ بیگ کو دے کر اپنی جان بچالی۔ شہ بیگ نے قبضہ جمانے کے بعد ۱۱ محرم الحرام تا ۲۰ محرم تک ٹھٹہ میں رہ کر ٹھٹہ کو تہس نہس کیا۔ اسلامی مرکز ٹھٹہ میں قتل عام کیا اور شہریوں کو خوب لوٹا ۔
(تاریخ معصومی بحوالہ مخدوم بلال سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ) ـ
❤2
افسوس ناک المیہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں انگریز سے برسوں پہلے ہماری دھرتی پر ظالمانہ قبضہ جمانے اور ڈاکوئوں کی طرح لوٹنے والے اسلامی مراکز کو تباہ کرنے والے، اسلامی تاریخی ورثہ کو جلانے والے فقط اپنے دبدبہ اور اپنی سلطنت کو وسیع دکھانے اور اپنی نفسانی غرضوں کو پورا کرنے کیخاطر مسلمان ریاستوں پرخونی حملہ کرنے والے شہروں کو تاراج کرنے والے غیر نہیں تھے بلکہ اپنے نام نہاد سرکش مسلمان حکمران ہی ہیں ان میں ایک شہ بیگ بھی تھا (راشدی)
شہ بیگ ٹھٹہ پر قبضہ کرنے کے بعد ٹلٹی پہنچا ٹلٹی میں کوئی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن حضرت مخدوم بلال کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے بعض لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے اور یہ رپورٹ شہ بیگ کو پہنچائی گئی ۔ (تاریخ معصومی) ـ
اور یقینا ان باتوں نے شہ بیگ کے وجود میں آگ لگائی ہوگی ۔
بہر حال بعض سامنے آنے والوں کو لشکرشہ بیگ نے بے دردی سے شہید کر دیا اور ٹلٹی قلعہ پر قبضہ جما لیا طویل اقتباس دینے کی وجہ یہ ہے کہ مخدوم بلال کی شہادت کے دوسبب سامنے آتے ہیں:
۱۔ شاہی خاندان جام صاحب سے مخدوم صاحب کی قریبی رشتہ داری
۲۔ ٹلٹی پر قبضہ کے دوران وہاں کے لڑنے والوں میں سپہ سالار حقیقت میں حضرت مخدوم تھے ۔
لہٰذا شہ بیگ نے اپنے دشمن کو پہلے سخت ذہنی تکلیف دینا چاہی، اس کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا۔ بھاری جرمانے بھی حضرت مخدوم اور ان کے خلفاء نے ادا کئے جنہیں غنڈہ ٹیکس کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود بیگ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بالآخر ایک روز بیگ نے درباری مولویوں سے حضرت مخدوم کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کراکے ۹۲۹ھ کو حضرت مخدوم بلال کو تیل کی چکی میں ڈال کر سخت تکلیف دے کر شہید کروا دیا ۔
(تاریخ معصومی ، مخدوم بلال مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ) ـ
مولانا مشتاق مٹیاروی کے نوٹ بُک مطابق آپ نے یکم محرم الحرام ۹۲۹ھ / ۱۵۲۲ء کو شہادت کا جام نوش کیا اور آپ کا سالانہ عرس بھی یکم محرم کو ہوتا ہے جس سے مذکورہ تاریخ کو تقویت ملتی ہے۔
آپ نے جان تو دے دی لیکن ظالم حاکم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کا درباری بننا منظور نہیں کیا، حقیقت میں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ یہی سبق تاریخ کربلا سے ملتا ہے ، جس پر ہر دور میں علمائے حق اہل سنت، مشائخ طریقت اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے دور میں عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔
باغبان میں شہید ہوئے اور وہیں مدفون ہوئے لیکن اب یہ علاقہ آپ کے نام سے موسوم ہے۔ ضلع دادو کے قریب آپ کی عظیم الشان خانقاہ ہے۔ چند سال پہلے درگاہ شریف ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے اور جامع مسجد بلال وہی ہے جو کہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو رئیس محبوب خان وگن نے اس دور میں ایک لاکھ روپے میں بنوائی تھی۔ (مخدوم بلال باغبانی) آج بھی درگاہ شریف مرجع خلائق ہے ہر وقت لوگوں کا مجمع نظر آتا ہے۔ زائرین تلاوت قرآن حکیم ذکر شریف اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہوتے ہیں۔ کئی عرصہ تک سالانہ عرس میں فقیر راقم الحروف راشدی نے شرکت کی سعادت حاصل کی ، سالانہ عرس مبارک مسجد شریف کے وسیع و عریض صحن میں منعقد ہوتا ہے اور تمام بدعات و خرافات سے پاک ہوتا ہے۔ ساری رات مدح خوانی نعت خوانی اور علماء اہل سنت کے خطابات ہوتے ہیں۔ مثلاً مناظر اسلام مفتی عبدالرحیم سکندری، مفسر قرآن مولانا محمد ادریس ڈاہری، خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو مرحوم وغیرہ۔
مولانا مشتاق مٹیاروی (متوفی ۱۹۳۵ئ) تقریباً ستر اسی سال قبل آپ کی شان میں برزبان فارسی منقبت کہی ہے وہ درج ذیل ہے
شہنشاہ باغبان مخدوم مشفق
غریق بحر عرفان پائے تافرق
بلال ابن الحسن سلطان سمہ
بتائیدات سبحانی موفق
چوبہرہ اشنر، ما اوذیت، موھوب
نمودہ اش قتل قوم چغدہ ناحق
شدہ چغدہ، چو چغدان چغدو یران
دھو جی مع الشھداء یرزق
بعزہ ماہ عاشورا مکرم
شہادت شد نصیبش قدرت حق
چو پر سیدم زھا تف وصف سالش
بجو از لفط خوش آں خاسہ حق
اگر جوئی تو تاریخ وصالش
بجو از لفظ خوش آں خاصہ حق
ازاں منظوم شد تاریخ مذکور
کہ ارد صالح رحمت حق
توجہ فرمائیں:
آخر میں تاریخ کو درست رکھنے کی غرض سے گذارش ہے کہ درگاہ شیخ جمالی واقع مکلی ٹھٹہ کے صحن میں مدفون مخدوم بلال اور ہمارے ممدوح بزرگ مخدوم بلال باغبانی دو الگ الگ بزرگ ہیں ایک نہیں ہیں۔ مؤلف تذکرۂ صوفیائے سندھ مولانا اعجاز الحق قدوسی کو سخت مغالطہ ہوا ہے، انہوں نے دونوں کو ایک ہی شمار کیا ہے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/makhdoom-bilal-baghbani
شہ بیگ ٹھٹہ پر قبضہ کرنے کے بعد ٹلٹی پہنچا ٹلٹی میں کوئی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن حضرت مخدوم بلال کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے بعض لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے اور یہ رپورٹ شہ بیگ کو پہنچائی گئی ۔ (تاریخ معصومی) ـ
اور یقینا ان باتوں نے شہ بیگ کے وجود میں آگ لگائی ہوگی ۔
بہر حال بعض سامنے آنے والوں کو لشکرشہ بیگ نے بے دردی سے شہید کر دیا اور ٹلٹی قلعہ پر قبضہ جما لیا طویل اقتباس دینے کی وجہ یہ ہے کہ مخدوم بلال کی شہادت کے دوسبب سامنے آتے ہیں:
۱۔ شاہی خاندان جام صاحب سے مخدوم صاحب کی قریبی رشتہ داری
۲۔ ٹلٹی پر قبضہ کے دوران وہاں کے لڑنے والوں میں سپہ سالار حقیقت میں حضرت مخدوم تھے ۔
لہٰذا شہ بیگ نے اپنے دشمن کو پہلے سخت ذہنی تکلیف دینا چاہی، اس کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا۔ بھاری جرمانے بھی حضرت مخدوم اور ان کے خلفاء نے ادا کئے جنہیں غنڈہ ٹیکس کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود بیگ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بالآخر ایک روز بیگ نے درباری مولویوں سے حضرت مخدوم کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کراکے ۹۲۹ھ کو حضرت مخدوم بلال کو تیل کی چکی میں ڈال کر سخت تکلیف دے کر شہید کروا دیا ۔
(تاریخ معصومی ، مخدوم بلال مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ) ـ
مولانا مشتاق مٹیاروی کے نوٹ بُک مطابق آپ نے یکم محرم الحرام ۹۲۹ھ / ۱۵۲۲ء کو شہادت کا جام نوش کیا اور آپ کا سالانہ عرس بھی یکم محرم کو ہوتا ہے جس سے مذکورہ تاریخ کو تقویت ملتی ہے۔
آپ نے جان تو دے دی لیکن ظالم حاکم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کا درباری بننا منظور نہیں کیا، حقیقت میں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ یہی سبق تاریخ کربلا سے ملتا ہے ، جس پر ہر دور میں علمائے حق اہل سنت، مشائخ طریقت اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے دور میں عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔
باغبان میں شہید ہوئے اور وہیں مدفون ہوئے لیکن اب یہ علاقہ آپ کے نام سے موسوم ہے۔ ضلع دادو کے قریب آپ کی عظیم الشان خانقاہ ہے۔ چند سال پہلے درگاہ شریف ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے اور جامع مسجد بلال وہی ہے جو کہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو رئیس محبوب خان وگن نے اس دور میں ایک لاکھ روپے میں بنوائی تھی۔ (مخدوم بلال باغبانی) آج بھی درگاہ شریف مرجع خلائق ہے ہر وقت لوگوں کا مجمع نظر آتا ہے۔ زائرین تلاوت قرآن حکیم ذکر شریف اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہوتے ہیں۔ کئی عرصہ تک سالانہ عرس میں فقیر راقم الحروف راشدی نے شرکت کی سعادت حاصل کی ، سالانہ عرس مبارک مسجد شریف کے وسیع و عریض صحن میں منعقد ہوتا ہے اور تمام بدعات و خرافات سے پاک ہوتا ہے۔ ساری رات مدح خوانی نعت خوانی اور علماء اہل سنت کے خطابات ہوتے ہیں۔ مثلاً مناظر اسلام مفتی عبدالرحیم سکندری، مفسر قرآن مولانا محمد ادریس ڈاہری، خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو مرحوم وغیرہ۔
مولانا مشتاق مٹیاروی (متوفی ۱۹۳۵ئ) تقریباً ستر اسی سال قبل آپ کی شان میں برزبان فارسی منقبت کہی ہے وہ درج ذیل ہے
شہنشاہ باغبان مخدوم مشفق
غریق بحر عرفان پائے تافرق
بلال ابن الحسن سلطان سمہ
بتائیدات سبحانی موفق
چوبہرہ اشنر، ما اوذیت، موھوب
نمودہ اش قتل قوم چغدہ ناحق
شدہ چغدہ، چو چغدان چغدو یران
دھو جی مع الشھداء یرزق
بعزہ ماہ عاشورا مکرم
شہادت شد نصیبش قدرت حق
چو پر سیدم زھا تف وصف سالش
بجو از لفط خوش آں خاسہ حق
اگر جوئی تو تاریخ وصالش
بجو از لفظ خوش آں خاصہ حق
ازاں منظوم شد تاریخ مذکور
کہ ارد صالح رحمت حق
توجہ فرمائیں:
آخر میں تاریخ کو درست رکھنے کی غرض سے گذارش ہے کہ درگاہ شیخ جمالی واقع مکلی ٹھٹہ کے صحن میں مدفون مخدوم بلال اور ہمارے ممدوح بزرگ مخدوم بلال باغبانی دو الگ الگ بزرگ ہیں ایک نہیں ہیں۔ مؤلف تذکرۂ صوفیائے سندھ مولانا اعجاز الحق قدوسی کو سخت مغالطہ ہوا ہے، انہوں نے دونوں کو ایک ہی شمار کیا ہے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/makhdoom-bilal-baghbani
scholars.pk
Makhdoom Bilal Baghbani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
فارمد نزد طوس شہر / طوس ایران
( ۴۳۴ھ / ۱۰۴۳ء ۔۔۔ ۴۷۷ھ/ ۱۰۸۴ء )
قطعۂ تاریخِ وصال:
شیخ ابو علی تھے وہ سلطانِ اولیاء
سایہ فگن ہیں اپنے مریدوں پہ بالیقیں
روشن ہے جن سے طوس و خراساں کی ہرگلی
’’شیریں کلام عالی مناقب ابو علی‘‘
۱۰۸۴ء
( صاؔبر براری، کراچی )
آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے ۔ آپ ۴۳۴ھ میں طوس کے نواحی گاؤں فارمد میں پیدا ہوئے جس کی نسبت سے فارمدی کہا جاتا ہے ۔
آپ نے فقۂ امام ابو حامد غزالی کبیر رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی اور ابو عبد اللہ بن باکو شیرازی، ابو منصور تمیمی، ابو حامد غزالی کبیر، ابو عبد الرحمان نیلی ابوعثمان صابونی (رحمۃ اللہ علیہم) سے سماعِ حدیث کیا ۔ وعظ و تذکیر میں آپ حضرت امام ابو القاسم قشیری رحمہ اللہ صاحبِ رسالہ قشیریہ کے شاگر دہیں ۔
علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریقوں سے ہے۔ ایک حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ سے اور دوسرے حضرت امام ابوالقاسم کرگانی رحمہ اللہ سے ۔ یہ دونوں بزرگ اپنے زمانے کے قطب اور پیشوائے مشائخ تھے ۔
آپ نے اپنی تعلیم کی داستان یوں بیان فرمائی ہے:
’’میں اوائل عمری میں نیشاپور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ حضرت شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ تشریف لائے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتے ہیں۔ میں شوقِ زیارت سے بیتاب ہوکر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُن کے مقدس اور نورانی چہرے پر پہلی نظر پڑتے ہی دل و جان سے شیدا ہوگیا اور حضرات صوفیہ کرام کی محبت میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی ؎
ایک ہی بار ہوئیں وجۂ بربادیِٔ دل
التفات اُن کی نظروں نے دوبارہ نہ کیا
ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں حضرت شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا میں نے صبر کرنا چاہا مگر نہ ہو سکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا او رجب چوراہا میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ حضرت شیخ ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ تشریف لے جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ شیخ ایک جگہ پر پہنچ کر تشریف فرما ہوگئے تو میں بھی ایک کونہ میں خاموشی سے بیٹھ گیا جہاں حضرت شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی، محفل سماع شروع ہوئی اور شیخ کو وجد آگیا اور حالتِ وجد میں شیخ نے اپنے کپڑے تار تار کردیے، جب سماع سے فارغ ہوئے تو پھٹے ہوئے کپڑے اتار ڈالے۔
شیخ نے ایک آستیں علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابو علی طوسی کہاں ہیں؟ میں نے خیال کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں شاید اُن کے مرید کا نام ابو علی ہوگا، بدی وجہ میں بالکل خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری آواز دی تو پھر بھی میں خاموش رہا، تیسری بار آواز دی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ تم کو جانتے ہیں اس لیے تمہیں ہی بلا رہے ہیں میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا تو شیخ نے وہ آستین مجھے مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ یہ تیر احصہ ہے، میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالای اور اُسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور اُن سے فیوض و برکات حاصل کرتا رہا۔ اُن کی صحبت سے بہت فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات وارد ہوئے۔
جب شیخ نیشا پور سے تشریف لے گئے تو میں استاد امام ابو القاسم قشیری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن سے وہ تمام حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم حاصل کرنے میں مصروف رہ، مگر وہ روشنی جو شیخ ابو سعید کی صحبت سے ملی تھی روز بروز زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ میں تین سال تک مزید علم حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ ایک روز میں نے جب قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام معاملہ عرض کیا، آپ نے فرمایا کہ اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا ہے لہٰذا تو بھی اُس سے الگ ہوجا اور طریقت کے کام میں مصروف ہو جا ۔
چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور حضرت امام کی خدمتِ بابرکت میں رہنے لگا۔ ایک روز حضرت امام، حمام میں نہا رہے تھے اور کوئی اور آس پاس نہ تھا۔ میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔ جب حضرت امام نہا کر باہر نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں اس خوف سے کہ کہیں خلافِ مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں تب بھی خاموش رہا جب آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یہ خادم تھا، حضرت امام نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو علی رحمہ اللہ! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا تو نے پانی کے ایک ڈول سے پا لیا۔ کچھ عرصہ میں حضرت امام کی خدمت میں مجاہد کرتا رہا ۔
( ۴۳۴ھ / ۱۰۴۳ء ۔۔۔ ۴۷۷ھ/ ۱۰۸۴ء )
قطعۂ تاریخِ وصال:
شیخ ابو علی تھے وہ سلطانِ اولیاء
سایہ فگن ہیں اپنے مریدوں پہ بالیقیں
روشن ہے جن سے طوس و خراساں کی ہرگلی
’’شیریں کلام عالی مناقب ابو علی‘‘
۱۰۸۴ء
( صاؔبر براری، کراچی )
آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے ۔ آپ ۴۳۴ھ میں طوس کے نواحی گاؤں فارمد میں پیدا ہوئے جس کی نسبت سے فارمدی کہا جاتا ہے ۔
آپ نے فقۂ امام ابو حامد غزالی کبیر رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی اور ابو عبد اللہ بن باکو شیرازی، ابو منصور تمیمی، ابو حامد غزالی کبیر، ابو عبد الرحمان نیلی ابوعثمان صابونی (رحمۃ اللہ علیہم) سے سماعِ حدیث کیا ۔ وعظ و تذکیر میں آپ حضرت امام ابو القاسم قشیری رحمہ اللہ صاحبِ رسالہ قشیریہ کے شاگر دہیں ۔
علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریقوں سے ہے۔ ایک حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ سے اور دوسرے حضرت امام ابوالقاسم کرگانی رحمہ اللہ سے ۔ یہ دونوں بزرگ اپنے زمانے کے قطب اور پیشوائے مشائخ تھے ۔
آپ نے اپنی تعلیم کی داستان یوں بیان فرمائی ہے:
’’میں اوائل عمری میں نیشاپور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ حضرت شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ تشریف لائے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتے ہیں۔ میں شوقِ زیارت سے بیتاب ہوکر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُن کے مقدس اور نورانی چہرے پر پہلی نظر پڑتے ہی دل و جان سے شیدا ہوگیا اور حضرات صوفیہ کرام کی محبت میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی ؎
ایک ہی بار ہوئیں وجۂ بربادیِٔ دل
التفات اُن کی نظروں نے دوبارہ نہ کیا
ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں حضرت شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا میں نے صبر کرنا چاہا مگر نہ ہو سکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا او رجب چوراہا میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ حضرت شیخ ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ تشریف لے جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ شیخ ایک جگہ پر پہنچ کر تشریف فرما ہوگئے تو میں بھی ایک کونہ میں خاموشی سے بیٹھ گیا جہاں حضرت شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی، محفل سماع شروع ہوئی اور شیخ کو وجد آگیا اور حالتِ وجد میں شیخ نے اپنے کپڑے تار تار کردیے، جب سماع سے فارغ ہوئے تو پھٹے ہوئے کپڑے اتار ڈالے۔
شیخ نے ایک آستیں علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابو علی طوسی کہاں ہیں؟ میں نے خیال کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں شاید اُن کے مرید کا نام ابو علی ہوگا، بدی وجہ میں بالکل خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری آواز دی تو پھر بھی میں خاموش رہا، تیسری بار آواز دی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ تم کو جانتے ہیں اس لیے تمہیں ہی بلا رہے ہیں میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا تو شیخ نے وہ آستین مجھے مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ یہ تیر احصہ ہے، میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالای اور اُسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور اُن سے فیوض و برکات حاصل کرتا رہا۔ اُن کی صحبت سے بہت فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات وارد ہوئے۔
جب شیخ نیشا پور سے تشریف لے گئے تو میں استاد امام ابو القاسم قشیری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن سے وہ تمام حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم حاصل کرنے میں مصروف رہ، مگر وہ روشنی جو شیخ ابو سعید کی صحبت سے ملی تھی روز بروز زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ میں تین سال تک مزید علم حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ ایک روز میں نے جب قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام معاملہ عرض کیا، آپ نے فرمایا کہ اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا ہے لہٰذا تو بھی اُس سے الگ ہوجا اور طریقت کے کام میں مصروف ہو جا ۔
چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور حضرت امام کی خدمتِ بابرکت میں رہنے لگا۔ ایک روز حضرت امام، حمام میں نہا رہے تھے اور کوئی اور آس پاس نہ تھا۔ میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔ جب حضرت امام نہا کر باہر نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں اس خوف سے کہ کہیں خلافِ مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں تب بھی خاموش رہا جب آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ یہ خادم تھا، حضرت امام نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو علی رحمہ اللہ! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا تو نے پانی کے ایک ڈول سے پا لیا۔ کچھ عرصہ میں حضرت امام کی خدمت میں مجاہد کرتا رہا ۔
❤2
ایک روز مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میں اس میں گم ہو گیا۔ میں نے یہ واقعہ حضرت امام سے عرض کیا تو فرمایا اے ابو علی رحمہ اللہ! سلوک میں میری بھاگ دوڑ اس مقام سے اُوپر نہیں اور جو کچھ اس مقام سے اوپر ہے مجھے وہاں تک رسائی کا راستہ معلوم نہیں۔
یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے شیخ، پیرومرشد اور راہنما کی ضرورت ہے جو اس مقام سے اوپر لے جائے چونکہ میری حالت روز افزوں تھی اور میں حضرت شیخ ابو القاسم کرگانی رحمہ اللہ کا نام سنا ہوا تھا لہٰذا طوس کی طرف روانہ ہو گیا جب میں وہاں پہنچا تو اپنے مریدوں کے ہجومِ نجوم کے ساتھ مسجد میں جلوہ افروز تھے۔ میں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔
آپ مراقبہ میں تھے، سر اٹھا کر فرمایا:
ابو علی رحمہ اللہ! آؤ ، کیا چاہتے ہو ؟
میں سلام کرکے اُن کے حضور بیٹھ گیا اور اپنے تمام حالات اور قلبی واردات عرض کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو ابھی تم کسی مرتبہ پر نہیں پہنچے ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہی ہیں اور وہیں قیام کیا، انہوں نے مدتوں تک مجھ سے طرح طرح کی ریاضت و مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھے وعظ کرنے کی اجازت نہ بخشی تھی کہ ایک روز شیخ ابو سعید اپنے گاؤں میہنہ سے طوس تشریف لائے ہوئے تھے ۔
میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا، ابو علی رحمہ اللہ! وہ وقت آگیا ہے کہ تم طوطیِ شیریں مقال کی طرح باتیں کرو گے۔ اس کے چند دن بعد ہی شیخ ابو القاسم نے مجھے وعظ کہنے کی اجازت بخش دی اور شیخ ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر افشاء ہوگیا‘‘۔
اس کے بعد آپ طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے اور اپنے پُرتاثیر وعظ کی وجہ سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد شرفِ قبولیت حاصل کیا، کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ صوفیہ کرام پر خرچ کر دیتے تھے، آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے ابن سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی رحمہ اللہ لسانِ خراسان و شیخ خراسان تھے اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے، آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ ہوتا تھا جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے ہوں ۔
امام غزالی آپ کے مریدوں میں تھے ۔
آپ کی وفات ۴ ربیع الاوّل ۴۷۷ھ / ۱۰۸۴ء بعمر شریف ۴۳ سال ہوئی ۔ مزار مقدس طوس میں مرجعٔ خاص و عام ہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
شیخ ابو علی فارمدی طوسی قدس سرہ
نام و کنیت:
آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے اور فامد کی طرف منسوب ہیں جو طوس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے ۔
علم کا حصول:
آپ نے فقہ امام ابو حامد غزالی کبیر سے پڑھی ۔ اور ابو عبید اللہ بن باکو شیرازی ۔ ابو منصور تمیمی، ابو حامد غزالی کبیر ۔ ابو عبد الرحمٰن نیلی اور ابو عثمان صابونی وغیرہ سے سماع حدیث کیا ۔
فضل و کمال:
عبد الغافہ فارسدی ۔ عبداللہ بن علی خرکوشی ۔ عبد اللہ بن محمد کوفی علوی اور ابو الخیر جامع الشفاء وغیرہ نے آپ سے روایت کی ہے ۔ وعظ و تذکیر میں آپ استاد امام ابو القاسم قشیری صاحب رسالہ کے شاگر دہیں ۔ عبد الغافر کا بیان ہے کہ ابو علی اپنے زمانے میں شیخ اور وعظ و تذکیر میں اپنے طریقہ کے ساتھ منفرد ہیں۔ عبارت و تہذیب و حسن ادب و ملیح استعار و دقیق اشارہ و رقت الفاظ میں کوئی آپ سے سبقت نہیں لے گیا ۔ آپ کا کلام پر تاثیر ہے ۔
علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریق سے ہے۔ ایک شیخ بزرگوار ابو القاسم کرگانی سے۔ دوسرے شیخ ابوالحسن خرقانی سے جو قطب وقت اور اپنے زمانے کے مشائخ کے پیشوا تھے۔
تعلیم کی کیفیت:
آپ اپنی تعلیم کی کیفیت یوں بیان فرماتے ہیں:
’’میں آغاز جوانی میں نیشاپور میں طالب علم تھا۔ میں نے سنا کہ شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ آئے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتےہیں میں ان کی زیارت کے لیے گیا۔ جب میری نظر ان کے جمال پر پڑی میں ان پر شیدا ہوگیا۔ اور طائفہ صوفیہ کی محبت میرے دل میں زیادہ ہوگئی۔ ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا۔ میں نے چاہا کہ صبر کروں مگر نہ کرسکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا جب چوراہہ پر پہنچاتو میں نے دیکھا کہ شیخ ایک بڑی جماعت کے ساتھ جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔
شیخ ایک جگہ پہنچے میں بھی ساتھ چلا گیا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا۔ جہاں شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی۔ وہاں سماع شروع ہوگیا اور شیخ کو وجد آگیا۔ اور حالت وجد میں آپنے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ جب سماع سے فارغ ہوئے تو شیخ نے کپڑے اتار ڈالے اور وہ آپ کے سامنے پارہ پارہ کیے گئے۔
شیخ نے ایک آستین علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابوعلی طوسی کہاں ہیں۔ میں نے خیال کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں۔ شاید ان کے کسی مرید کا نام ابوعلی ہوگا۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری بار آواز دی۔
یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے شیخ، پیرومرشد اور راہنما کی ضرورت ہے جو اس مقام سے اوپر لے جائے چونکہ میری حالت روز افزوں تھی اور میں حضرت شیخ ابو القاسم کرگانی رحمہ اللہ کا نام سنا ہوا تھا لہٰذا طوس کی طرف روانہ ہو گیا جب میں وہاں پہنچا تو اپنے مریدوں کے ہجومِ نجوم کے ساتھ مسجد میں جلوہ افروز تھے۔ میں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔
آپ مراقبہ میں تھے، سر اٹھا کر فرمایا:
ابو علی رحمہ اللہ! آؤ ، کیا چاہتے ہو ؟
میں سلام کرکے اُن کے حضور بیٹھ گیا اور اپنے تمام حالات اور قلبی واردات عرض کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو ابھی تم کسی مرتبہ پر نہیں پہنچے ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہی ہیں اور وہیں قیام کیا، انہوں نے مدتوں تک مجھ سے طرح طرح کی ریاضت و مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھے وعظ کرنے کی اجازت نہ بخشی تھی کہ ایک روز شیخ ابو سعید اپنے گاؤں میہنہ سے طوس تشریف لائے ہوئے تھے ۔
میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا، ابو علی رحمہ اللہ! وہ وقت آگیا ہے کہ تم طوطیِ شیریں مقال کی طرح باتیں کرو گے۔ اس کے چند دن بعد ہی شیخ ابو القاسم نے مجھے وعظ کہنے کی اجازت بخش دی اور شیخ ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر افشاء ہوگیا‘‘۔
اس کے بعد آپ طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے اور اپنے پُرتاثیر وعظ کی وجہ سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد شرفِ قبولیت حاصل کیا، کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ صوفیہ کرام پر خرچ کر دیتے تھے، آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے ابن سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی رحمہ اللہ لسانِ خراسان و شیخ خراسان تھے اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے، آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ ہوتا تھا جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے ہوں ۔
امام غزالی آپ کے مریدوں میں تھے ۔
آپ کی وفات ۴ ربیع الاوّل ۴۷۷ھ / ۱۰۸۴ء بعمر شریف ۴۳ سال ہوئی ۔ مزار مقدس طوس میں مرجعٔ خاص و عام ہے ۔
( تاریخِ مشائخ نقشبند )
شیخ ابو علی فارمدی طوسی قدس سرہ
نام و کنیت:
آپ کا اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی ہے اور فامد کی طرف منسوب ہیں جو طوس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے ۔
علم کا حصول:
آپ نے فقہ امام ابو حامد غزالی کبیر سے پڑھی ۔ اور ابو عبید اللہ بن باکو شیرازی ۔ ابو منصور تمیمی، ابو حامد غزالی کبیر ۔ ابو عبد الرحمٰن نیلی اور ابو عثمان صابونی وغیرہ سے سماع حدیث کیا ۔
فضل و کمال:
عبد الغافہ فارسدی ۔ عبداللہ بن علی خرکوشی ۔ عبد اللہ بن محمد کوفی علوی اور ابو الخیر جامع الشفاء وغیرہ نے آپ سے روایت کی ہے ۔ وعظ و تذکیر میں آپ استاد امام ابو القاسم قشیری صاحب رسالہ کے شاگر دہیں ۔ عبد الغافر کا بیان ہے کہ ابو علی اپنے زمانے میں شیخ اور وعظ و تذکیر میں اپنے طریقہ کے ساتھ منفرد ہیں۔ عبارت و تہذیب و حسن ادب و ملیح استعار و دقیق اشارہ و رقت الفاظ میں کوئی آپ سے سبقت نہیں لے گیا ۔ آپ کا کلام پر تاثیر ہے ۔
علم باطن میں آپ کا انتساب دو طریق سے ہے۔ ایک شیخ بزرگوار ابو القاسم کرگانی سے۔ دوسرے شیخ ابوالحسن خرقانی سے جو قطب وقت اور اپنے زمانے کے مشائخ کے پیشوا تھے۔
تعلیم کی کیفیت:
آپ اپنی تعلیم کی کیفیت یوں بیان فرماتے ہیں:
’’میں آغاز جوانی میں نیشاپور میں طالب علم تھا۔ میں نے سنا کہ شیخ ابوسعید بن ابی الخیر قدس سرہ آئے ہوئے ہیں اور وعظ فرماتےہیں میں ان کی زیارت کے لیے گیا۔ جب میری نظر ان کے جمال پر پڑی میں ان پر شیدا ہوگیا۔ اور طائفہ صوفیہ کی محبت میرے دل میں زیادہ ہوگئی۔ ایک روز میں مدرسہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے دل میں شیخ ابوسعید کی زیارت کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ وقت شیخ کے باہر نکلنے کا نہ تھا۔ میں نے چاہا کہ صبر کروں مگر نہ کرسکا۔ ناچار اُٹھ کر باہر آیا جب چوراہہ پر پہنچاتو میں نے دیکھا کہ شیخ ایک بڑی جماعت کے ساتھ جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔
شیخ ایک جگہ پہنچے میں بھی ساتھ چلا گیا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا۔ جہاں شیخ کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تھی۔ وہاں سماع شروع ہوگیا اور شیخ کو وجد آگیا۔ اور حالت وجد میں آپنے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ جب سماع سے فارغ ہوئے تو شیخ نے کپڑے اتار ڈالے اور وہ آپ کے سامنے پارہ پارہ کیے گئے۔
شیخ نے ایک آستین علیحدہ کرلی اور آواز دی کہ ابوعلی طوسی کہاں ہیں۔ میں نے خیال کیا کہ شیخ تو مجھے دیکھتے اور جانتے بھی نہیں۔ شاید ان کے کسی مرید کا نام ابوعلی ہوگا۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ شیخ نے دوسری بار آواز دی۔
❤2
میں نے جواب نہ دیا تیسری مرتبہ آواز دی تو لوگوں نے کہا کہ شیخ تم کو جانتے ہیں۔
میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا۔
شیخ نے وہ تریز و آستین مجھے عطا کی اور فرمایا کہ یہ تیرا حصہ ہے میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالایا اور اسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ شیخ کی خدمت میں حاضرہوتا تھا۔ مجھے ان کی خدمت میں بہت سے فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات و ارد ہوئے۔ جب شیخ نیشاپور سے چلے گئے تو میں استاد امام ا بوالقاسم قشیری کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے وہ حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم پڑھنے میں مشغول رہ۔ مگر وہ روشنی روز بروز زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں تین سال اور علم پڑھنے میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ ایک روز میں نے قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا کہہ سنایا۔ آپ نے فرمایا اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا تو بھی علم سے دستبردار ہوجا اور طریقت کے کام میں لگ جا اور معاملہ میں مشغول ہوجا۔ چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور استاد امام کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز استاد امام حمام میں تنہا تھے۔میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔ جب حضرت امام نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں بدیں خیال کہ شاید خلاف مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں نے جواب نہ دیا۔ آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ خادم تھا۔ امام نے فرمایا کہ اے ابو علی! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا۔ تو نے پانی کے ایک ڈول سے پالیا۔ میں کچھ عرصہ امام کی خدمت میں مجاہدہ کرتا رہا۔ ایک روز مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میں اس میں گم ہو گیا۔ یہ واقعہ میں نے حضرت امام سے عرض کیا تو فرمایا اے ابوعلی! سلوک میں میری دوڑ دھوپ اس مقام سے اوپر نہیں، جو کچھ اس مقام سے اوپر ہے مجھے اس کی رسائی کا راستہ معلوم نہیں۔ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے پیر کی ضرورت ہے جو اس مقام سے اوپر لے جائے۔ وہ حالت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں نے شیخ ابوالقاسم کرگانی کا نام سنا ہوا تھا اس لیے طوس کی طرف روانہ ہوا۔ شہر میں پہنچ کر میں نے ان کا مکان دریافت کیا۔ میں وہاں چلا گیا، آپ اپنے مریدوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں دو رکعت تحیہ مسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ مراقبہ میں تھے میرے جانے پر سر اٹھاکر فرمایا ابوعلی! آؤ کیا چاہتے ہو؟ میں سلام کرکے بیٹھ گیا اور اپنے حالات بیان کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو۔ابھی تم کسی درجہ پر نہیں پہنچے۔ ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہ ہیں اور وہیں قیام کیا انہوں نے مدتوں مجھ سے طرح طرح کی ریاضت اور مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھ سے وعظ کہنے کے لیے ارشاد نہ فرمایا تھا کہ ایک روز شیخ ابوسعید میہنہ[۱] سے طوس میں آئے ہوئے تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا ابوعلی! وہ زمانہ آگیا ہے کہ تم کو طوطی کی طرح گویا کریں گے۔ اس بات کو بہت دن نہ گزرے تھے کہ شیخ ابوالقاسم نے مجھ سے فرمایا کہ وعظ کہو، اس وقت ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر ظاہر ہوگیا۔‘‘
اس کے بعد ابوعلی طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے۔ اور اپنے پر تاثیر وعظ کے سبب سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد قبولیت حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ اکثر صوفیہ کرام پر صرف کردیتے تھے۔ آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے۔ ابن سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی لسان خراسان و شیخ خراسان تھے۔ اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے۔ آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ تھا جس میں طرح طرح کے شگوفے تھے۔
[۱۔ میہنہ بفتح میم و سکون یا و فتح ہا ونون د یہات خابران سے ہے۔ اور خابران خراسان میں سرخس وابیورو کے درمیان ایک شہر و علاقہ کا نام ہے۔ اہل علم و تصوف کی ایک جماعت اس سے منسوب ہے۔ جن میں ابو سعید بن ابی الخیر اور ابوالفتح طاہر اہل تصوف میں مشہور ہیں۔ کذا فی معجم البلدان۔]
وصال مبارک:
آپ کی ولادت ۴۰۷ھ میں اور وفات ربیع الثانی ۴۷۷ھ میں طوس میں ہوئی۔
(طبقات الشافیۃ الکبریٰ للتاج السبکی۔ نفحات الانس)
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ali-fazal-farmadi-toosi
میں اٹھ کر شیخ کے سامنے آیا۔
شیخ نے وہ تریز و آستین مجھے عطا کی اور فرمایا کہ یہ تیرا حصہ ہے میں نے وہ کپڑا لیا اور آداب بجالایا اور اسے لے جاکر ایک محفوظ جگہ میں رکھ دیا۔ میں ہمیشہ شیخ کی خدمت میں حاضرہوتا تھا۔ مجھے ان کی خدمت میں بہت سے فائدے اور روشنی ظاہر ہوئی اور حالات و ارد ہوئے۔ جب شیخ نیشاپور سے چلے گئے تو میں استاد امام ا بوالقاسم قشیری کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے وہ حالات بیان کیے جو مجھ پر وارد ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لڑکے! جا علم پڑھنے میں مشغول رہ۔ مگر وہ روشنی روز بروز زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں تین سال اور علم پڑھنے میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ ایک روز میں نے قلم دوات سے نکالا تو سفید نکلا۔ میں امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا کہہ سنایا۔ آپ نے فرمایا اب علم تجھ سے دستبردار ہوگیا تو بھی علم سے دستبردار ہوجا اور طریقت کے کام میں لگ جا اور معاملہ میں مشغول ہوجا۔ چنانچہ میں اپنا سامان مدرسہ سے خانقاہ میں لے آیا اور استاد امام کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز استاد امام حمام میں تنہا تھے۔میں نے جاکر چند ڈول پانی کے حمام میں ڈالے۔ جب حضرت امام نکلے تو نماز پڑھ کر پوچھا کہ کون شخص تھا جس نے حمام میں پانی ڈالا۔ میں بدیں خیال کہ شاید خلاف مرضی ہو خاموش رہا۔ آپ نے پھر پوچھا میں نے جواب نہ دیا۔ آپ نے تیسری بار پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ خادم تھا۔ امام نے فرمایا کہ اے ابو علی! جو کچھ میں نے ستر سال میں پایا۔ تو نے پانی کے ایک ڈول سے پالیا۔ میں کچھ عرصہ امام کی خدمت میں مجاہدہ کرتا رہا۔ ایک روز مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میں اس میں گم ہو گیا۔ یہ واقعہ میں نے حضرت امام سے عرض کیا تو فرمایا اے ابوعلی! سلوک میں میری دوڑ دھوپ اس مقام سے اوپر نہیں، جو کچھ اس مقام سے اوپر ہے مجھے اس کی رسائی کا راستہ معلوم نہیں۔ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے ایسے پیر کی ضرورت ہے جو اس مقام سے اوپر لے جائے۔ وہ حالت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ میں نے شیخ ابوالقاسم کرگانی کا نام سنا ہوا تھا اس لیے طوس کی طرف روانہ ہوا۔ شہر میں پہنچ کر میں نے ان کا مکان دریافت کیا۔ میں وہاں چلا گیا، آپ اپنے مریدوں کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں دو رکعت تحیہ مسجد پڑھ کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ مراقبہ میں تھے میرے جانے پر سر اٹھاکر فرمایا ابوعلی! آؤ کیا چاہتے ہو؟ میں سلام کرکے بیٹھ گیا اور اپنے حالات بیان کیے، آپ نے فرمایا تمہیں یہ ابتدا مبارک ہو۔ابھی تم کسی درجہ پر نہیں پہنچے۔ ہاں اگر تربیت پاؤ گے تو بڑے درجہ پر پہنچ جاؤ گے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے پیر یہ ہیں اور وہیں قیام کیا انہوں نے مدتوں مجھ سے طرح طرح کی ریاضت اور مجاہدہ کرایا۔ بعد ازاں اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ ابھی آپ نے مجھ سے وعظ کہنے کے لیے ارشاد نہ فرمایا تھا کہ ایک روز شیخ ابوسعید میہنہ[۱] سے طوس میں آئے ہوئے تھے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا ابوعلی! وہ زمانہ آگیا ہے کہ تم کو طوطی کی طرح گویا کریں گے۔ اس بات کو بہت دن نہ گزرے تھے کہ شیخ ابوالقاسم نے مجھ سے فرمایا کہ وعظ کہو، اس وقت ابوسعید کے ارشاد کا مطلب مجھ پر ظاہر ہوگیا۔‘‘
اس کے بعد ابوعلی طوس سے نیشاپور تشریف لے گئے۔ اور اپنے پر تاثیر وعظ کے سبب سے امراء بالخصوص نظام الملک کے ہاں بے حد قبولیت حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ اکثر صوفیہ کرام پر صرف کردیتے تھے۔ آپ صوفیہ کرام و غرباء کے مرجع اور لسان الوقت تھے۔ ابن سمعانی کا قول ہے کہ ابو علی لسان خراسان و شیخ خراسان تھے۔ اور اپنے اصحاب و مریدین کی تربیت میں طریقہ حسنہ رکھتے تھے۔ آپ کے وعظ کی مجلس گویا ایک باغ تھا جس میں طرح طرح کے شگوفے تھے۔
[۱۔ میہنہ بفتح میم و سکون یا و فتح ہا ونون د یہات خابران سے ہے۔ اور خابران خراسان میں سرخس وابیورو کے درمیان ایک شہر و علاقہ کا نام ہے۔ اہل علم و تصوف کی ایک جماعت اس سے منسوب ہے۔ جن میں ابو سعید بن ابی الخیر اور ابوالفتح طاہر اہل تصوف میں مشہور ہیں۔ کذا فی معجم البلدان۔]
وصال مبارک:
آپ کی ولادت ۴۰۷ھ میں اور وفات ربیع الثانی ۴۷۷ھ میں طوس میں ہوئی۔
(طبقات الشافیۃ الکبریٰ للتاج السبکی۔ نفحات الانس)
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ali-fazal-farmadi-toosi
scholars.pk
Hazrat Abu Ali Fazal Farmadi Toosi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
فارمد نزد طوس شہر / طوس ایران ( ۴۳۴ھ / ۱۰۴۳ء ۔۔۔ ۴۷۷ھ/ ۱۰۸۴ء ) قطعۂ تاریخِ وصال: شیخ ابو علی تھے وہ سلطانِ اولیاء سایہ فگن ہیں اپنے مریدوں پہ بالیقیں روشن ہے جن سے طوس و خراساں کی ہرگلی ’’شیریں کلام عالی مناقب ابو علی‘‘ ۱۰۸۴ء ( صاؔبر براری، کراچی ) آپ…
حضرت ابو علی فضیل فارمدی طوسی
https://t.me/islaamic_Knowledge/59559
https://t.me/islaamic_Knowledge/59559
❤2
حضرت خواجہ توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
( مشتمل بردوازدہ باب )
ولادت اور نسب شریف:
آپ موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابا نانک کے درمیان واقع ہے۔
ولادت:
قریباً ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
والدین کا سایۂ عاطفت نہایت خرد سالی میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ایک موقع پر خود آپ نے فرمایا:
’’میرے نانا صاحب کے صرف دو بچے تھے۔ ایک والدہ صاحبہ دوسرے ماموں صاحب جو دو مرتبہ انبالہ میں میرے ملنے کو تشریف لائے۔ ماموں صاحب نے شادی نہیں کی ۔ تمام عمر تجرد میں بسر کردی ۔ [۱]
[۱۔ تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر ۶۲۱۔]
نام مبارک:
آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی چنداں ضرورت نہیں ۔ جناب مولوی حاجی سید ظہور الدین بن حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ سید سخاوت علی انبیٹوی رحمۃ اللہ علیہ [۱] کا بیان ہے کہ حضرت قبلہ سائیں صاحب ایک روز ارشاد فرمانے لگے:
’’مولوی! ہمارا نام توکل شاہ نہ تھا، ہمیں خدا کی طرف سے یہ لقب عطا ہوا ہے۔‘‘
[۱۔ سید صاحب موصوف گورنمنٹ مڈل اسکول انبالہ میں مدرس تھے ۔ نومرب ۱۸۸۷ء سے فروری ۱۸۹۴ء تک شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں بلا فصل حاضر ہوتے رہے ۔ اور فیض حاصل کرتے رہے ۔ راقم الحروف کی التماس پر آپ نے حضرت شاہ صاحب کے مختصر حالات قلم بند فرمائے ہیں۔ جن کا قلمی نسخہ اس وقت زیر نظر ہے۔] ـ
معلوم ہوا ہے کہ آپ سید نہ تھے۔ چنانچہ جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جو خطوط آپ کے نام آئے تھے ۔ ان میں آپ کا نام مبارک سید توکل شاہ لکھا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو منع کردو، آیندہ مجھے سید نہ لکھیں، میں سید نہیں ہوں۔ ؎
بندۂ عشق شدی ترکِ نسب کن جاؔمی
کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست
درویشی کا مفہوم:
درویشی تو اس کا نام ہے کہ ہر فعل اور قول اور حرکت اور سکون رضائے الٰہی میں ہو۔ اور دل میں یہ تصور ٹھہرائے کہ اس حیات میں میرا مقصود خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس طور پر مولا راضی ہو ۔
راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشادات تو اور بھی بکثرت ہیں ۔ مگر نظر بر اختصار ان کا یہیں ختم کر دینا مناسب معلوم ہوا ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-tawakkal-shah-ambalvi
( مشتمل بردوازدہ باب )
ولادت اور نسب شریف:
آپ موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابا نانک کے درمیان واقع ہے۔
ولادت:
قریباً ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے ۔
والدین کا سایۂ عاطفت نہایت خرد سالی میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ایک موقع پر خود آپ نے فرمایا:
’’میرے نانا صاحب کے صرف دو بچے تھے۔ ایک والدہ صاحبہ دوسرے ماموں صاحب جو دو مرتبہ انبالہ میں میرے ملنے کو تشریف لائے۔ ماموں صاحب نے شادی نہیں کی ۔ تمام عمر تجرد میں بسر کردی ۔ [۱]
[۱۔ تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر ۶۲۱۔]
نام مبارک:
آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی چنداں ضرورت نہیں ۔ جناب مولوی حاجی سید ظہور الدین بن حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ سید سخاوت علی انبیٹوی رحمۃ اللہ علیہ [۱] کا بیان ہے کہ حضرت قبلہ سائیں صاحب ایک روز ارشاد فرمانے لگے:
’’مولوی! ہمارا نام توکل شاہ نہ تھا، ہمیں خدا کی طرف سے یہ لقب عطا ہوا ہے۔‘‘
[۱۔ سید صاحب موصوف گورنمنٹ مڈل اسکول انبالہ میں مدرس تھے ۔ نومرب ۱۸۸۷ء سے فروری ۱۸۹۴ء تک شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت میں بلا فصل حاضر ہوتے رہے ۔ اور فیض حاصل کرتے رہے ۔ راقم الحروف کی التماس پر آپ نے حضرت شاہ صاحب کے مختصر حالات قلم بند فرمائے ہیں۔ جن کا قلمی نسخہ اس وقت زیر نظر ہے۔] ـ
معلوم ہوا ہے کہ آپ سید نہ تھے۔ چنانچہ جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جو خطوط آپ کے نام آئے تھے ۔ ان میں آپ کا نام مبارک سید توکل شاہ لکھا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو منع کردو، آیندہ مجھے سید نہ لکھیں، میں سید نہیں ہوں۔ ؎
بندۂ عشق شدی ترکِ نسب کن جاؔمی
کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست
درویشی کا مفہوم:
درویشی تو اس کا نام ہے کہ ہر فعل اور قول اور حرکت اور سکون رضائے الٰہی میں ہو۔ اور دل میں یہ تصور ٹھہرائے کہ اس حیات میں میرا مقصود خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے جس طور پر مولا راضی ہو ۔
راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشادات تو اور بھی بکثرت ہیں ۔ مگر نظر بر اختصار ان کا یہیں ختم کر دینا مناسب معلوم ہوا ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-tawakkal-shah-ambalvi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Tawakkal Shah Ambalvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالصمد میتلو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء حضرت مولانا علامہ عبد الصمد بن عبد اللہ میتلو کی ولادت تحصیل ڈوکری (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ’’بڈو واہن ‘‘ میں تقریبا ۱۹۱۸ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے آبائی گوٹھ میں حکیم حاذق اور عالم دین مولانا اللہ بخش پنجابی کے پاس قرآن مجید ناظرہ پڑھا ۔ اس کے بعد قریب میں گوٹھ ’’ چھتوواہن ‘‘ میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں شیخ الادب حضرت مولانا تاج محمد کھوکھر کی خدمت میں رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی اور فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی درسگاہ سے فن کتابت میں مہارت حاصل کی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے استاد محترم نے آپ کو اسی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا ۔ وہیں مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا ۔ آپ نہایت ذکی محنتی اور فن تدریس کے قابل فخر اساتذہ میں سے ایک تھے ۔ تھوڑے عرصے میں آپ نے مثالی استاد کے حوالہ سے شہرت حاصل کر لی تو سندھ کی مرکزی او ر معیاری درسگاہ جامعہ راشدیہ، درگاہ شریف پیر جو گوٹھ کے مہتمم حضرت مولانا محمد صالح نے جامعہ راشدیہ کے لئے مولانا عبدالصمد کا انتخاب کیا اور مدرس مقرر کیا ، جہاں مولانا نے ۲۳ برس تدریسی خدمات سر انجام دے کر اپنا لوہا منوایا ۔
مولانا عبد الصمد جامعہ میں دوران تدریس چھٹیاں منانے اپنے گھر نہیں جاتے بلکہ جامعہ میں رہ کر طلباء کو فن کتابت سکھاتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے تلامذہ عمدہ خوش خط ہیں ۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے منتہی طلباء پر ڈیوٹی عائد فرماتے کہ وہ مبتدی طلباء کو پڑھائیں ۔ اس کا مطلب مولانا ، قابل فخر اساتذہ کی کھیپ تیار کرنا چاہتے تھے جو ان کے بعد سندھ میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ میرے خیال میں مولانا اس پر خلوص کوشش میں یقینا کامیابی سے ہمکنا ر ہوئے ۔ ان کے تلامذہ آج بھی تدریس کے شغل میں مصروف عمل ہیں ۔
مولانا عبد الصمد صرف ونحو اور ترکیب کے فن میں ماہر تھے، فارسی میں کافی دسترس رکھتے تھے اور علم میراث میں بھی کافی عبور تھا ۔
جامعہ راشدیہ میں عرصہ دراز کی تدریس کے بعد ڈوکری کی جامع مسجد میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد دوبارہ جامعہ راشدیہ تدریس کے لئے تشریف لے گئے اور انہی دنوں حج مبارک کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔ ۱۳۸۰ھ ماہ شوال میں حضرت مولانا ہدایت اللہ کی دعوت پر جامعہ راشدیہ سے رخصت ہو کر مدرسہ حسینیہ تشریف لے گئے جہاں تقریباً چھ ماہ مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ اس کے بعد جامع ماجد سکرنڈ (ضلع نوابشاہ) میں ڈھائی سال، مدرسہ عین العلوم امینائی شریف (ضلع دادو) میں تین سال، اور اس کے علاوہ لاڑکانہ شہر کے مدرسہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی میں چار سال درس دیا ۔ یعنی زندگی قال اللہ اور قال رسول ﷺ میں صر ف ہوئی، جہالت کی کالی رات میں علم کے دئے جلائے اور ہر چار سو روشنی پھیلائی ۔
تلامذہ:
درج ذیل حضرات نے جامعہ راشدیہ اور دیگر اداروں میں آپ سے شر ف تلمیذ حاصل کیا ۔
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مفتی در محمد سکندری سانگھڑ
٭ مفتی عبدالرحمن ٹھٹوی مہتمم مدرسہ مجدد یہ عثمانیہ ٹھٹہ
٭ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑ کانہ
٭ مولانا سید غلام مجتبی شاہ عرف مصری شاہ مدرس جامعہ راشد یہ
٭ مولانا محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا بشیر احمد سکندری لیکچر ارپبلک اسکول حیدر آباد
٭ مولانا حافظ نو راحمد جیسر سکندری مہتمم مدرسہ صبغۃالعرفان احسان واہن تحصیل ڈوکری
٭ مولانا الہی بخش سکندری خطیب جامع مسجد بھلیڈنہ ضلع جیکب آباد
٭ مولانا قاری خدا بخش قاسمی خطیب جامع مسجد بہان سید آباد ضلع دادو
٭ مولانا حافظ محمد آدم مہر مہتمم مدرسہ حنفیہ صدیقیہ نور مسجد نزد سول ہسپتال ڈہر کی سندھ
٭ حافظ قاری ارباب علی عباسی نو شہرو فیروز
٭ مولانا حافظ عبد الخالق پیر زادہ جو ہی ضلع دادو
٭ مولانا عزیز الرحمن مرحوم سابق خطیب جامع مسجد حنفیہ شہباز روڈ بدین
٭ مولانا حافظ رب ڈنہ پھنور خطیب جیکب آباد
٭ استاد الحفاظ حافظ الہڈ نہ جنہ مرحوم مہتمم مدرسہ انوار القرآن ڈوکری
استاد العلماء حضرت مولانا علامہ عبد الصمد بن عبد اللہ میتلو کی ولادت تحصیل ڈوکری (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ ’’بڈو واہن ‘‘ میں تقریبا ۱۹۱۸ء میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے آبائی گوٹھ میں حکیم حاذق اور عالم دین مولانا اللہ بخش پنجابی کے پاس قرآن مجید ناظرہ پڑھا ۔ اس کے بعد قریب میں گوٹھ ’’ چھتوواہن ‘‘ میں پرائمری کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں شیخ الادب حضرت مولانا تاج محمد کھوکھر کی خدمت میں رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی اور فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی درسگاہ سے فن کتابت میں مہارت حاصل کی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے استاد محترم نے آپ کو اسی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا ۔ وہیں مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا ۔ آپ نہایت ذکی محنتی اور فن تدریس کے قابل فخر اساتذہ میں سے ایک تھے ۔ تھوڑے عرصے میں آپ نے مثالی استاد کے حوالہ سے شہرت حاصل کر لی تو سندھ کی مرکزی او ر معیاری درسگاہ جامعہ راشدیہ، درگاہ شریف پیر جو گوٹھ کے مہتمم حضرت مولانا محمد صالح نے جامعہ راشدیہ کے لئے مولانا عبدالصمد کا انتخاب کیا اور مدرس مقرر کیا ، جہاں مولانا نے ۲۳ برس تدریسی خدمات سر انجام دے کر اپنا لوہا منوایا ۔
مولانا عبد الصمد جامعہ میں دوران تدریس چھٹیاں منانے اپنے گھر نہیں جاتے بلکہ جامعہ میں رہ کر طلباء کو فن کتابت سکھاتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے تلامذہ عمدہ خوش خط ہیں ۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے منتہی طلباء پر ڈیوٹی عائد فرماتے کہ وہ مبتدی طلباء کو پڑھائیں ۔ اس کا مطلب مولانا ، قابل فخر اساتذہ کی کھیپ تیار کرنا چاہتے تھے جو ان کے بعد سندھ میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ میرے خیال میں مولانا اس پر خلوص کوشش میں یقینا کامیابی سے ہمکنا ر ہوئے ۔ ان کے تلامذہ آج بھی تدریس کے شغل میں مصروف عمل ہیں ۔
مولانا عبد الصمد صرف ونحو اور ترکیب کے فن میں ماہر تھے، فارسی میں کافی دسترس رکھتے تھے اور علم میراث میں بھی کافی عبور تھا ۔
جامعہ راشدیہ میں عرصہ دراز کی تدریس کے بعد ڈوکری کی جامع مسجد میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد دوبارہ جامعہ راشدیہ تدریس کے لئے تشریف لے گئے اور انہی دنوں حج مبارک کی سعادت سے سرفراز ہوئے ۔ ۱۳۸۰ھ ماہ شوال میں حضرت مولانا ہدایت اللہ کی دعوت پر جامعہ راشدیہ سے رخصت ہو کر مدرسہ حسینیہ تشریف لے گئے جہاں تقریباً چھ ماہ مسند تدریس پر رونق افروز رہے ۔ اس کے بعد جامع ماجد سکرنڈ (ضلع نوابشاہ) میں ڈھائی سال، مدرسہ عین العلوم امینائی شریف (ضلع دادو) میں تین سال، اور اس کے علاوہ لاڑکانہ شہر کے مدرسہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی میں چار سال درس دیا ۔ یعنی زندگی قال اللہ اور قال رسول ﷺ میں صر ف ہوئی، جہالت کی کالی رات میں علم کے دئے جلائے اور ہر چار سو روشنی پھیلائی ۔
تلامذہ:
درج ذیل حضرات نے جامعہ راشدیہ اور دیگر اداروں میں آپ سے شر ف تلمیذ حاصل کیا ۔
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مفتی در محمد سکندری سانگھڑ
٭ مفتی عبدالرحمن ٹھٹوی مہتمم مدرسہ مجدد یہ عثمانیہ ٹھٹہ
٭ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم جامعہ حسینیہ رضویہ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑ کانہ
٭ مولانا سید غلام مجتبی شاہ عرف مصری شاہ مدرس جامعہ راشد یہ
٭ مولانا محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا بشیر احمد سکندری لیکچر ارپبلک اسکول حیدر آباد
٭ مولانا حافظ نو راحمد جیسر سکندری مہتمم مدرسہ صبغۃالعرفان احسان واہن تحصیل ڈوکری
٭ مولانا الہی بخش سکندری خطیب جامع مسجد بھلیڈنہ ضلع جیکب آباد
٭ مولانا قاری خدا بخش قاسمی خطیب جامع مسجد بہان سید آباد ضلع دادو
٭ مولانا حافظ محمد آدم مہر مہتمم مدرسہ حنفیہ صدیقیہ نور مسجد نزد سول ہسپتال ڈہر کی سندھ
٭ حافظ قاری ارباب علی عباسی نو شہرو فیروز
٭ مولانا حافظ عبد الخالق پیر زادہ جو ہی ضلع دادو
٭ مولانا عزیز الرحمن مرحوم سابق خطیب جامع مسجد حنفیہ شہباز روڈ بدین
٭ مولانا حافظ رب ڈنہ پھنور خطیب جیکب آباد
٭ استاد الحفاظ حافظ الہڈ نہ جنہ مرحوم مہتمم مدرسہ انوار القرآن ڈوکری
❤2
بیعت:
مولانا عبد الصمد میتلو سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی مجددی سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
مولانا عبد اللہ میتلو او ر ماسٹر عبد المجید میتلو آپ کے لخت جگر ہیں ۔ اور اپنے والد کا سالانہ عرس نہایت عقیدت سے منعقد کر تے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصانیف کے سلسلہ میں درج ذیل کتب کا علم ہو سکا ہے ۔
٭ رہبر فارسی
٭ القول الانور فی بحثالنور والبشر (سندھی) مطبوعہ غوثیہ کتب خانہ سانگھڑ
وصال:
حضرت مولانا عبد الصمد نے ۴ ربیع الاول ۱۳۹۳ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۳ء کو دوپہر کے وقت ۵۱ سال کی عمر میں سول ہسپتال لاڑکانہ میں حرکت قلب بند ہونے کی صورت میں انتقال کیا ۔ گوٹھ بڈوواہن میں نماز جنازہ ہوئی، وہیں قبرستان میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے ۔ جہاں ہر سال ۴ ربیع الاول شریف کو عرس منایا جاتا ہے ۔
[محترم حافظ نور احمد صاحب جیسر کا مشکور ہوں جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں اپنے استاد گرامی سے متعلق تفصیلی مواد فراہم کیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-samad-metlo
مولانا عبد الصمد میتلو سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی مجددی سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
مولانا عبد اللہ میتلو او ر ماسٹر عبد المجید میتلو آپ کے لخت جگر ہیں ۔ اور اپنے والد کا سالانہ عرس نہایت عقیدت سے منعقد کر تے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
آپ کی تصانیف کے سلسلہ میں درج ذیل کتب کا علم ہو سکا ہے ۔
٭ رہبر فارسی
٭ القول الانور فی بحثالنور والبشر (سندھی) مطبوعہ غوثیہ کتب خانہ سانگھڑ
وصال:
حضرت مولانا عبد الصمد نے ۴ ربیع الاول ۱۳۹۳ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۳ء کو دوپہر کے وقت ۵۱ سال کی عمر میں سول ہسپتال لاڑکانہ میں حرکت قلب بند ہونے کی صورت میں انتقال کیا ۔ گوٹھ بڈوواہن میں نماز جنازہ ہوئی، وہیں قبرستان میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے ۔ جہاں ہر سال ۴ ربیع الاول شریف کو عرس منایا جاتا ہے ۔
[محترم حافظ نور احمد صاحب جیسر کا مشکور ہوں جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں اپنے استاد گرامی سے متعلق تفصیلی مواد فراہم کیا] ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-samad-metlo
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Samad Metlo
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Ustaz-ul-Ulama Hazrat Allama Molana Abdul Samad Metlo
❤2
مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد اکرم رضوی شہیدِ اہلسنت (گوجرانوالہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شہید میلادِ مصطفٰی ﷺ:
نا مناسب ہوگا اگر ذکر میلاد پاک کے ضمن میں فقیر راقم الحروف (حفیظ نیازی صاحب) ایک ایسی عظیم شخصیت کا تذکرہ نہ کرے کہ جنہوں نے اپنے شب و روز میلاد مصطفٰی ﷺ کے پروگراموں کے لئے وقف کر رکھے تھے اور ان مبارک پروگراموں کی ابتداء ہی میں (۴ ربیع الاوّل ۱۴۱۵ھ / ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء کو) انہوں نے موضع نینوال ضلع قصور میں نماز ظہر با جماعت ادا کی، پہلے مسجد کی صفائی کی اور اذان بھی خود کہی اور بعد نماز میلاد پاک و نورانیت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے موضوع پر ایمان افروز خطاب فرمایا اور نماز عصر با جماعت ادا کر کے ٹھینگ موڑ جلسہ میلاد مصطفٰی ﷺ میں خطاب فرمانے کے لئے روانہ ہوئے……
تو ابھی آپ کی گاڑی نینوال سے باہر نکلی ہی تھی کہ ریلوے پھاٹک کے قریب کماد میں چھپے ہوئے منکرین میلاد ’’اہلِ حدیثوں‘‘ نے آپ کو شہید کر دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون o گویا کہ میلاد مصطفٰیﷺ کے مقدس مہینہ میں عاشق ِمصطفٰی ﷺ منصب شہادت پر فائز ہو گئے ۔
؎شہید ملت اسلامیہ کی ہے یاد سینے میں
شہادت ان کو راس آئی نبی کے اس مہینے میں
میری مراد……
عاشق مصطفٰی ﷺ، غلامِ غوث الوریٰ، محبّ اولیاء، نقیب فکر رِضا، شہید ملت اسلامیہ، فیض یافتہ پاسبان مسلک رضا، شیر اسلام، شمشیر بے نیام، فخر اہلِ سنت، مجاہد ملت، فدائے رضویت، گل گلستان صادق، حضرت مولانا علامہ الحاج ابو الحامد محمد اکرم رضوی (نور اللہ مرقدہٗ) کی ذات گرامی ہے۔؎
مہینہ تب بھی تھا ربیع الاوّل کا
جب ایک روز اچانک ہی وہ شہید ہوئے
غلام حضرتِ صادق کے تھے دل و جان سے
شہید ہو کے مکرم وہ کچھ مزید ہوئے
بفضلہٖ تعالٰی سوادِ اعظم اہلِ سنت میں مبلغین و واعظین اور خطباء و مقررین کی کمی نہیں لیکن شہید میلاد مصطفٰی ﷺ میں جو اخلاص و محبت و تبلیغ دین کے لئے جذبۂ صادقہ اور اخلاص و ایثار تھا وہ کم مقررین میں ہوگا۔ علامہ شہید اپنے ہم عصرخطباء و مقررین میں اپنی مثال آپ تھے اور آج کل کے خطباء و مقررین کے لئے رضوی شہید کا تذکرہ مبارکہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلاشبہ وہ اخلاص و مروّت اور وفا وحیاء کے پیکر حسین تھے ……
اس سلسلہ میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک یادگار خطاب میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’…… علامہ محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے لئے سرمایۂ افتخار تھے، اصل میں یہ ان کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ ان کی رگ رگ میں عشق مصطفٰی ﷺ تھا، دل میں نور تھا اور عشق مصطفٰی ﷺ کی شمع روشن تھی، یہ نورانی تعلیم و تربیت انہوں نے فخر اہلِ سنت شیخ طریقت حضرت مولانا ابو داؤد محمد صادق صاحب سے حاصل کی تھی، یہ ان کی برکت تھی……‘‘
؎ وہ پیر و کار تھے قبلہ ابوداؤد صادق کے
جبھی تو باصداقت حضرتِ علامہ رضوی تھے
دیدارِ مصطفٰی ﷺ:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ عاشق رسول تھے …… حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر خیر کرتے کرتے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رُلا دیتے اور جب بھی کسی عاشق سے حضور ﷺ کی نعت پاک سنتے تو محبت میں اشک بار ہو جاتے، ان کا یہی سچا جذبہ رنگ لایا کہ جس کی بدولت انہیں خواب میں توبا رہا حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہوا اور بیداری میں بھی ایک مرتبہ یہ عظیم المرتبت شرف حاصل ہوگیا اور کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ (اسی عشق و محبت کی بدولت) آپ کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے ’’مجاہد ملت‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا گیا (فالحمدللہ علیٰ ذالک)، جس کی تفصیل علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت نباض قوم مدظلہ کی کتاب ’’سوانح شہید اہلِ سنت‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ے۔
؎بھرا تھا عشق اپنا مصطفٰی نے اس کے سینے میں
سراپا عشق تھا، ایمان تھا، عرفان تھا رضوی
پیر خانے سے وابستگی:
کے سلسلہ میں صاحبزادہ محمد عطاء الرحمٰن رضوی رقم طراز ہیں ’’علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ، سرمایۂ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا مفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ العالی کے کامل مرید تھے، اٹھتے بیٹھتے مرشد کامل کی عظمت و عنایت کا اعتراف کرتے رہتے تھے، مرکز اہلِ سنت زینت المساجد (گوجر انوالہ) میں ہونے والے جلسوں میں حاضری دیتے تو خود کو خطیب پاکستان کہنے نہ دیتے بکہ سگ دربار رضویت کہلانے پر اصرار کرتے، اکثر بغیر دعوت ہی جلسہ میں حاضر ہوجاتے، خود راقم الحروف نے دیکھا کہ کبھی تو جلسہ میں تلاوت کرتے، کبھی نعت شریف پڑھتے، حکم ہوتا تو بیان بھی کرتے، کبھی نقیب محفل کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی ۔
ان کی ہی نیاز مندی اور فرماں برداری تھی جس کی بدولت حضرت صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ۔ ان کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کو بھی بڑا فروغ ملا ۔ کئی برادر ان طریقت سے جب بیعت ہونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے رضوی صاحب سے متاثر ہو کر یا ان کے ترغیب دینے پر حضرت صاحب سے بیعت ہونے کا ذکر کیا‘‘ ۔
شہید میلادِ مصطفٰی ﷺ:
نا مناسب ہوگا اگر ذکر میلاد پاک کے ضمن میں فقیر راقم الحروف (حفیظ نیازی صاحب) ایک ایسی عظیم شخصیت کا تذکرہ نہ کرے کہ جنہوں نے اپنے شب و روز میلاد مصطفٰی ﷺ کے پروگراموں کے لئے وقف کر رکھے تھے اور ان مبارک پروگراموں کی ابتداء ہی میں (۴ ربیع الاوّل ۱۴۱۵ھ / ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء کو) انہوں نے موضع نینوال ضلع قصور میں نماز ظہر با جماعت ادا کی، پہلے مسجد کی صفائی کی اور اذان بھی خود کہی اور بعد نماز میلاد پاک و نورانیت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے موضوع پر ایمان افروز خطاب فرمایا اور نماز عصر با جماعت ادا کر کے ٹھینگ موڑ جلسہ میلاد مصطفٰی ﷺ میں خطاب فرمانے کے لئے روانہ ہوئے……
تو ابھی آپ کی گاڑی نینوال سے باہر نکلی ہی تھی کہ ریلوے پھاٹک کے قریب کماد میں چھپے ہوئے منکرین میلاد ’’اہلِ حدیثوں‘‘ نے آپ کو شہید کر دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون o گویا کہ میلاد مصطفٰیﷺ کے مقدس مہینہ میں عاشق ِمصطفٰی ﷺ منصب شہادت پر فائز ہو گئے ۔
؎شہید ملت اسلامیہ کی ہے یاد سینے میں
شہادت ان کو راس آئی نبی کے اس مہینے میں
میری مراد……
عاشق مصطفٰی ﷺ، غلامِ غوث الوریٰ، محبّ اولیاء، نقیب فکر رِضا، شہید ملت اسلامیہ، فیض یافتہ پاسبان مسلک رضا، شیر اسلام، شمشیر بے نیام، فخر اہلِ سنت، مجاہد ملت، فدائے رضویت، گل گلستان صادق، حضرت مولانا علامہ الحاج ابو الحامد محمد اکرم رضوی (نور اللہ مرقدہٗ) کی ذات گرامی ہے۔؎
مہینہ تب بھی تھا ربیع الاوّل کا
جب ایک روز اچانک ہی وہ شہید ہوئے
غلام حضرتِ صادق کے تھے دل و جان سے
شہید ہو کے مکرم وہ کچھ مزید ہوئے
بفضلہٖ تعالٰی سوادِ اعظم اہلِ سنت میں مبلغین و واعظین اور خطباء و مقررین کی کمی نہیں لیکن شہید میلاد مصطفٰی ﷺ میں جو اخلاص و محبت و تبلیغ دین کے لئے جذبۂ صادقہ اور اخلاص و ایثار تھا وہ کم مقررین میں ہوگا۔ علامہ شہید اپنے ہم عصرخطباء و مقررین میں اپنی مثال آپ تھے اور آج کل کے خطباء و مقررین کے لئے رضوی شہید کا تذکرہ مبارکہ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلاشبہ وہ اخلاص و مروّت اور وفا وحیاء کے پیکر حسین تھے ……
اس سلسلہ میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک یادگار خطاب میں کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’…… علامہ محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے لئے سرمایۂ افتخار تھے، اصل میں یہ ان کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ ان کی رگ رگ میں عشق مصطفٰی ﷺ تھا، دل میں نور تھا اور عشق مصطفٰی ﷺ کی شمع روشن تھی، یہ نورانی تعلیم و تربیت انہوں نے فخر اہلِ سنت شیخ طریقت حضرت مولانا ابو داؤد محمد صادق صاحب سے حاصل کی تھی، یہ ان کی برکت تھی……‘‘
؎ وہ پیر و کار تھے قبلہ ابوداؤد صادق کے
جبھی تو باصداقت حضرتِ علامہ رضوی تھے
دیدارِ مصطفٰی ﷺ:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ عاشق رسول تھے …… حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر خیر کرتے کرتے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رُلا دیتے اور جب بھی کسی عاشق سے حضور ﷺ کی نعت پاک سنتے تو محبت میں اشک بار ہو جاتے، ان کا یہی سچا جذبہ رنگ لایا کہ جس کی بدولت انہیں خواب میں توبا رہا حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہوا اور بیداری میں بھی ایک مرتبہ یہ عظیم المرتبت شرف حاصل ہوگیا اور کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ (اسی عشق و محبت کی بدولت) آپ کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے ’’مجاہد ملت‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا گیا (فالحمدللہ علیٰ ذالک)، جس کی تفصیل علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت نباض قوم مدظلہ کی کتاب ’’سوانح شہید اہلِ سنت‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ے۔
؎بھرا تھا عشق اپنا مصطفٰی نے اس کے سینے میں
سراپا عشق تھا، ایمان تھا، عرفان تھا رضوی
پیر خانے سے وابستگی:
کے سلسلہ میں صاحبزادہ محمد عطاء الرحمٰن رضوی رقم طراز ہیں ’’علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ، سرمایۂ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا مفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ العالی کے کامل مرید تھے، اٹھتے بیٹھتے مرشد کامل کی عظمت و عنایت کا اعتراف کرتے رہتے تھے، مرکز اہلِ سنت زینت المساجد (گوجر انوالہ) میں ہونے والے جلسوں میں حاضری دیتے تو خود کو خطیب پاکستان کہنے نہ دیتے بکہ سگ دربار رضویت کہلانے پر اصرار کرتے، اکثر بغیر دعوت ہی جلسہ میں حاضر ہوجاتے، خود راقم الحروف نے دیکھا کہ کبھی تو جلسہ میں تلاوت کرتے، کبھی نعت شریف پڑھتے، حکم ہوتا تو بیان بھی کرتے، کبھی نقیب محفل کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی ۔
ان کی ہی نیاز مندی اور فرماں برداری تھی جس کی بدولت حضرت صاحب نے ان کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ۔ ان کی وجہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کو بھی بڑا فروغ ملا ۔ کئی برادر ان طریقت سے جب بیعت ہونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے رضوی صاحب سے متاثر ہو کر یا ان کے ترغیب دینے پر حضرت صاحب سے بیعت ہونے کا ذکر کیا‘‘ ۔
❤2
ابو داؤؔد نے اس کو بنایا عاشق صادؔق
صداقت کا حسیں اس دور میں عنوان تھا رضوی
گویا کہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ’’ فنافی الشیخ ‘‘ کے منصب پر فائز تھے اور جہاں ان کو حضرت نباض قوم مدظلہ کا شاگرد خاص و مرید صادق ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں ان کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ ان کا نکاح بھی ان کے پیر و مرشد نے پڑھایا اور ان کی اپنے شیخ کامل سے اسی والہانہ عقیدت و محبت ہی کا نظارہ تھا کہ شہادت کے بعد ان کا جنازہ مبارکہ اپنے آقائے نعمت (حضرت نباض قوم مدظلہ) کے دفتر کے دروازہ کے سامنے رکھ کر اٹھایا گیا تو اس بات کا عملی مظاہرہ و مشاہدہ ہو گیا کہ
؎ عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور کوچۂ محبوب سے ذرا گھوم کے نکلے
بعد ازاں علامہ رضوی شہید کا تاریخی جنازہ ان کے محسن و مربی علامہ ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ نے پڑھایا، جس میں جید علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی سعادت حاصل کی اور رضوی شہید اس شرف میں بھی منفرد ہیں کہ ان کے پیر و مرشد اپنے مرید با وفا کا عرس مبارک ہر سال منا کر ان کی عظمت و شان کو مزید اجاگر فرماتے ہیں……
کیونکہ حضرت صاحب مدظلہ نے رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے والد محترم سے خصوصی طور پر مانگ کر لیا تھا اور پھر ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ علامہ رضوی شہید عالمی شہرت یافتہ خطیب و مناظر و عالم باعمل بن گئے۔ اپنے مرید پر بے حد شفقت و نوازش فرماتے ہوئے حضرت نباض قوم مدظلہ رقم طراز ہیں: ’’ ……
میرے نہایت ہی عزیز و قریب روحانی فرزند، باحیاؤ باوفا، مجاہد ملت، محبوب اہلِ سنت، عالم باعمل، شیر اسلام، عاشق رسول و شہید فی سبیل اللہ مولانا صوفی محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو قدرت نے خوف خدا، عشق مصطفٰی ﷺدردِ دین و جذبۂ تبلیغ و استقلال و خلوص بفضلہٖ تعالیٰ تمام علماء خطباء کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا تھا۔ فقیر (ابوداؤد محمد صادق) نے مرحوم کو خدمت دین کے لئے ان کے والد صاحب (حاجی محمد بشیر بٹ) سے مانگ کر لیا تھا جب انہوں نے مولانا مرحوم کو کسی دنیاوی کاروبار میں مشغول کرنے اک ارادہ کیا تو فقیر نے مولانا مرحوم کے والد سے کہا کہ ’’خدا تعالٰی نے آپ کو اور بھی فرزند عطا کئے ہیں، جو دنیاوی کاروبار کے لئے کافی ہیں، لہٰذا محمد اکرم کو علم دین پڑھنے اور خدمت دین کرنے کے لئے ہمیں دے دیں اور اسے فی سبیل اللہ وقف کردیں‘‘۔
خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے فقیر کی بات مان لی اور اپنا یہ ہونہار بیٹا ہمیں دے دیا، جسے مولیٰ تعالیٰ نے بہت جلد اپنے ہم جماعت طلباء و پھر علماء خطباء میں بہت ممتاز و قابل رشک مقام عطا فرمایا، یہاں تک کہ وہ اپنے خلوص و جذبۂ عشق اور نیکو کاری و حق گوئی کی بناء پر آسمان علم و خطابت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکنے لگا اور جہالت و ضلالت کی ظلمتوں کے پردے چاک کرنے لگا……
وہ فیض رضا سے مالا مال ہوگیا اور اس نسبتِ رضوی کی اتنی شہرت ہوئی کہ ’’سنی رضوی بریلوی‘‘ علماء کرام میں وہ پہلے عالم و خطیب ہی کہ ’’رضوی‘‘ جن کے نام کا جزو بن گیا ہے اور انہیں بین الاقوامی اور دائمی طور پر مولانا محمد اکرم رضوی، محمد اکرم رضوی اور اکرم رضوی کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی ہے۔
؎ ایں سعادت بزور باز و نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشذہ
(خادم اہلِ سنت ابو داؤد محمد صادق)‘‘
المختصر:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خوش قسمتی و سعادت مندی ہے کہ جب بھی ربیع الاوّل شریف کا مبارک مہینہ تشریف لائے گا تو میلاد پاک کی برکت سے شہید میلاد مصطفٰی ﷺ کی یاد بھی ہمیشہ تازہ ہوتی رہے گی کیونکہ
؎ آفتاب رضویت تابندہ تھا، تابندہ ہے
سن لیں اعداء آج بھی، اکؔرم رضوی زندہ ہے
؎ جب تک سورج چاند رہے گا، رضوی تیرا نام رہے گا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-akram-rizvi
صداقت کا حسیں اس دور میں عنوان تھا رضوی
گویا کہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ’’ فنافی الشیخ ‘‘ کے منصب پر فائز تھے اور جہاں ان کو حضرت نباض قوم مدظلہ کا شاگرد خاص و مرید صادق ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہاں ان کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ ان کا نکاح بھی ان کے پیر و مرشد نے پڑھایا اور ان کی اپنے شیخ کامل سے اسی والہانہ عقیدت و محبت ہی کا نظارہ تھا کہ شہادت کے بعد ان کا جنازہ مبارکہ اپنے آقائے نعمت (حضرت نباض قوم مدظلہ) کے دفتر کے دروازہ کے سامنے رکھ کر اٹھایا گیا تو اس بات کا عملی مظاہرہ و مشاہدہ ہو گیا کہ
؎ عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور کوچۂ محبوب سے ذرا گھوم کے نکلے
بعد ازاں علامہ رضوی شہید کا تاریخی جنازہ ان کے محسن و مربی علامہ ابو داؤد محمد صادق صاحب مدظلہ نے پڑھایا، جس میں جید علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں عشاقانِ مصطفیٰ ﷺ نے شرکت کی سعادت حاصل کی اور رضوی شہید اس شرف میں بھی منفرد ہیں کہ ان کے پیر و مرشد اپنے مرید با وفا کا عرس مبارک ہر سال منا کر ان کی عظمت و شان کو مزید اجاگر فرماتے ہیں……
کیونکہ حضرت صاحب مدظلہ نے رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے والد محترم سے خصوصی طور پر مانگ کر لیا تھا اور پھر ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ علامہ رضوی شہید عالمی شہرت یافتہ خطیب و مناظر و عالم باعمل بن گئے۔ اپنے مرید پر بے حد شفقت و نوازش فرماتے ہوئے حضرت نباض قوم مدظلہ رقم طراز ہیں: ’’ ……
میرے نہایت ہی عزیز و قریب روحانی فرزند، باحیاؤ باوفا، مجاہد ملت، محبوب اہلِ سنت، عالم باعمل، شیر اسلام، عاشق رسول و شہید فی سبیل اللہ مولانا صوفی محمد اکرم رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو قدرت نے خوف خدا، عشق مصطفٰی ﷺدردِ دین و جذبۂ تبلیغ و استقلال و خلوص بفضلہٖ تعالیٰ تمام علماء خطباء کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا تھا۔ فقیر (ابوداؤد محمد صادق) نے مرحوم کو خدمت دین کے لئے ان کے والد صاحب (حاجی محمد بشیر بٹ) سے مانگ کر لیا تھا جب انہوں نے مولانا مرحوم کو کسی دنیاوی کاروبار میں مشغول کرنے اک ارادہ کیا تو فقیر نے مولانا مرحوم کے والد سے کہا کہ ’’خدا تعالٰی نے آپ کو اور بھی فرزند عطا کئے ہیں، جو دنیاوی کاروبار کے لئے کافی ہیں، لہٰذا محمد اکرم کو علم دین پڑھنے اور خدمت دین کرنے کے لئے ہمیں دے دیں اور اسے فی سبیل اللہ وقف کردیں‘‘۔
خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے فقیر کی بات مان لی اور اپنا یہ ہونہار بیٹا ہمیں دے دیا، جسے مولیٰ تعالیٰ نے بہت جلد اپنے ہم جماعت طلباء و پھر علماء خطباء میں بہت ممتاز و قابل رشک مقام عطا فرمایا، یہاں تک کہ وہ اپنے خلوص و جذبۂ عشق اور نیکو کاری و حق گوئی کی بناء پر آسمان علم و خطابت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکنے لگا اور جہالت و ضلالت کی ظلمتوں کے پردے چاک کرنے لگا……
وہ فیض رضا سے مالا مال ہوگیا اور اس نسبتِ رضوی کی اتنی شہرت ہوئی کہ ’’سنی رضوی بریلوی‘‘ علماء کرام میں وہ پہلے عالم و خطیب ہی کہ ’’رضوی‘‘ جن کے نام کا جزو بن گیا ہے اور انہیں بین الاقوامی اور دائمی طور پر مولانا محمد اکرم رضوی، محمد اکرم رضوی اور اکرم رضوی کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی ہے۔
؎ ایں سعادت بزور باز و نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشذہ
(خادم اہلِ سنت ابو داؤد محمد صادق)‘‘
المختصر:
علامہ رضوی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی خوش قسمتی و سعادت مندی ہے کہ جب بھی ربیع الاوّل شریف کا مبارک مہینہ تشریف لائے گا تو میلاد پاک کی برکت سے شہید میلاد مصطفٰی ﷺ کی یاد بھی ہمیشہ تازہ ہوتی رہے گی کیونکہ
؎ آفتاب رضویت تابندہ تھا، تابندہ ہے
سن لیں اعداء آج بھی، اکؔرم رضوی زندہ ہے
؎ جب تک سورج چاند رہے گا، رضوی تیرا نام رہے گا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-akram-rizvi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Akram Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Munazir-e-Islam Hazrat Molana Muhammad Akram Rizvi Shaheed-e-Ahlesunnat Gujranwala
❤2