🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیں، میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیں، میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مخدوم بلال باغبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
❤2
شیخ نجم الدین کبری قدس سرہٗ سے ایک جہاں مستفیض ہوا ، کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے ان سے ہدایت پائی ۔ مفسر قرآن امام فخر الدین رازی صاحب ’’ تفسیر کبیر ‘‘ آپ کے مرید تھے اور انہوں نے بھی آپ سے فیض پایا ۔
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے ۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تا وقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا ۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہو گیا ۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی) ـ
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ:
راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر (حرام) ہے ۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے ۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے ۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تا وقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا ۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہو گیا ۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی) ـ
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ:
راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر (حرام) ہے ۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے ۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
❤2