🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیں، میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیں، میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مخدوم بلال باغبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ / ۱۶ جون ۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے ۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی ۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے ۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا ۔
مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں ۔ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبد الغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں ۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی (تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (مخدوم بلال باغبانی (سندھی) میمن عبد الغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء) ـ
پروفیسر ڈاکٹر میمن
عبد المجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی ۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی ۔
(مخدوم بلال مضمون نویس: ڈاکٹر عبد المجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر) ـ
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ) ـ
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے ۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا ۔ پیغام لطیف (کتاب) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابو المکارم علاؤ الدین سمنانی ۲۲، رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے ۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا ۔ (سیرت بہاؤ الدین زکریا ۔ مہران سالگرہ نمبر) ـ
❤2