ہوجانا میری راہزنی سے زیادہ بُرا ہے۔
ابتدائے حال میں آپ ایک عورت پر عاشق تھے اور لوٹ مار کا جو مال حاصل ہوتا تھا آپ اس عورت کے پاس بھیج دیتے تھے۔ آپ کبھی کبھی اس کے پاس جاکر عشق و محبت کی وجہ سے رویا کرتے تھے جس قافلے میں کوئی عورت ہوتی تو آپ اُسے ہر گز نہیں لوٹتے تھے ایک دن آپ انے ساتھیوں کے ساتھ ایک قافلے کے سرپر پہنچ گئے۔ قافلے والوں میں سے ایک آدمی یہ آیت پڑھ رہا تھا: الم یان للذین اٰمنو ان تخشع قلوبھم لذکراللہ۔ (کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلب ذکر اللہ سے بیدار ہوں) یہ آیت تیر کی طرح حضرت خواجہ فضیل کے دل میں اتر گئی جس سے آپ پر رقت طاری ہوگئی اور اُسی وقت اس کام سے توبہ کرلی۔ جن جن لوگوں کو مال لوٹا جا چکا تھا آپ نے واپس کردیا اور باقیوں سے معافی طلب کرلی۔ لیکن ایک یہودی نے جس کا مال لوٹا جا چکا تھا۔ آپ کو معاف نہ کیا۔ کافی اصرار کے بعد یہودی نے کہا میں نے قسم کھارکھی ہے کہ جب تک میرا مال واپس نہ کروگے تجھے معاف نہیں کروں گا۔ اب یہ کام کرو کہ میررے سرہانے کے نیچے کچھ سونا پڑھا ہے اُسے اٹھاکر مجھے لادو۔ آپ نے سرہانے کے نیچے ہاتھ ڈال کر سونا نکالا اور یہودی کو دے دیا یہ دیکھ کر یہودی نے کہا پہلے مجھے مسلمان بناؤ پھر کوئی اور بات کرنا۔ آپ نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ میں تورات میں پڑھا تجا کہ جو شخص صدق دل سے توبہ کرتا ہے اگر مٹی کو بھی ہاتھ لگائے تو سونا بن جاتی ہے چنانچہ میں نے تمہارے امتحان کی خاطر سرہانے کے نیچے مٹی کے ڈھیلے رکھ دیئے تھے۔ چونکہ تمہارے ہاتھ لگنے سے وہ سونا ہوگئے ہیں۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تمہاری توبہ صادق ہے۔
بیعت
اس کے بعد آپ کوفہ تشریف لے گئے اور حجت الاسلام امام ابو خلیفہ کوفی کی صحبت میںرہنےلگے۔ اس دوران میں آپ کو کافی اولیاء کرام کی صحبت بھی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد آپ بصرہ گئے تاکہ خواجہ حسن بصری کی زیارت سے مشرف ہوں لیکن معلوم ہوا کہ اُن کا وصال ہوچکا ہے یہ خبر سنکر آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ روتے کیوں ہیں اگر مرید ہونے کا ارادہ رکھتے ہو تو خواجہ عبدالواحد بن زید کی خدمت میں جاؤ جو خواجہ حسن بصری کے خلیفۂ برحق اور جانشین ہیں اور ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سرور کائناتﷺ سے بھی خرقۂ خلافت ملا ہے۔ عصر حاضر میں آپ جیسا کوئی درویش اور کامل بزرگ نہیں ہے۔ حضرت خواجہ حبیب عجمی اُن کے دوست ہیں اور ہر ہفتہ اُن کے پاس جاتے ہیں اُن سے جو شخص کوئی مراد طلب کرتا ہے پاتا ہے اور مطلوب تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ آپ نے جب یہ بات سنی تو دل میں انکی زیارت کی تڑپ پیدا ہوئی اور قدم بوسی کا ھمم ارادہ کرلیا۔ آخر ایک دن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کے حال پر کرم فرمایا اور مخاطب کر کے فرمایا کہ اے فضیل تمام چیزوں سے پرہیز کرو اور کامل ترک پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ کیونکہ درویشی بے خویشی اور خاموشی کا نام ہے۔ تم اسے اختیار کرلو۔ اور ہمیشہ اپنے گناہوں کا ماتم کرتے رہو، ہر جگہ اور ہر وقت خدائے عزوجل کو حاضر و ناظر سمجھو کیونکہ تمہارا نام محبان خدا میں درج ہوچکا ہے اور ولی اللہ بن جاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ خلوقت اختیار کرو اور ذکر لا الہ اللہ کو قائم رکھو۔ حضرت شیخ کے ارشاد کے مطابق خواجہ فضیل ابن عیاض نے مکہ معظمہ کاجر خلوت اختیار کرلی اور اس ذکر کو جاری رکھا۔ تھوڑے عرصہ میں آپ نے اس قدر ترقی کی کہ اپنے وقت کے قطب بن گئے اور حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے جانشین ہوئے آپ کے ذریعے بیشمار طالبان خدا مراد کو پہنچے اور خدا رسیدہ ہوئے۔
امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق سے خلافت
بعض معتبر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض نے شیخ المشائخ حضرت ابی غیاث بن منصور بن معمر سلمی کوفی سے بھی خلافت حاصل کی۔ شیخ ابی غیاث کو حضرت شیخ محمد بن حبیبن نوفلی سے خلافت حاصل تھی۔ آپ کو شیخ حبیب مطعم القریشی سے اور آپ کو امیر المومنین خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلافت تھی۔
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض صائم الدہر اور قائم اللیل تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے اور ساری رات جاگتے تھے) آپ پر خوف خدا اس قدر الب تھا کہ ہمیشہ گریہ کرتے رہتے تھے اور جو شخص آپ پر نظر ڈالتا تھا اس پر بھی گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ شخص نہایت مصیبت زدہ ہے۔ آپ جس روز مرید ہوئے اس کے بعد آپ نے اہل دینا کو نہ دیکھا بلکہ جب راستے میں کوئی اہل دینا نظر آتا تو آپ وہ راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اگر ات فاق سے کوئی اہل دینا سامنے آجاتا تو آپ اپنے کپڑے اتار کر درویشوں کو دیدیتے تھے اس خوف سے کہ شاہد اہل دینا کے پاؤں کی خاک کپڑوں پر پڑی ہو۔ آپ صاحب سماع، صاح کرامات اور باعظمت بزرگ تھے۔ اور تین دن اور بعض اوقات چار اور پانچ روزہ کے بعد افطار کرتے تھے۔ آپ ہر روز پانچ سو رکعت نماز پڑھتے تھے اور روزانہ دو ختم قرآن کرتے تھے جس روز آپ کے گھر میں ف
ابتدائے حال میں آپ ایک عورت پر عاشق تھے اور لوٹ مار کا جو مال حاصل ہوتا تھا آپ اس عورت کے پاس بھیج دیتے تھے۔ آپ کبھی کبھی اس کے پاس جاکر عشق و محبت کی وجہ سے رویا کرتے تھے جس قافلے میں کوئی عورت ہوتی تو آپ اُسے ہر گز نہیں لوٹتے تھے ایک دن آپ انے ساتھیوں کے ساتھ ایک قافلے کے سرپر پہنچ گئے۔ قافلے والوں میں سے ایک آدمی یہ آیت پڑھ رہا تھا: الم یان للذین اٰمنو ان تخشع قلوبھم لذکراللہ۔ (کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلب ذکر اللہ سے بیدار ہوں) یہ آیت تیر کی طرح حضرت خواجہ فضیل کے دل میں اتر گئی جس سے آپ پر رقت طاری ہوگئی اور اُسی وقت اس کام سے توبہ کرلی۔ جن جن لوگوں کو مال لوٹا جا چکا تھا آپ نے واپس کردیا اور باقیوں سے معافی طلب کرلی۔ لیکن ایک یہودی نے جس کا مال لوٹا جا چکا تھا۔ آپ کو معاف نہ کیا۔ کافی اصرار کے بعد یہودی نے کہا میں نے قسم کھارکھی ہے کہ جب تک میرا مال واپس نہ کروگے تجھے معاف نہیں کروں گا۔ اب یہ کام کرو کہ میررے سرہانے کے نیچے کچھ سونا پڑھا ہے اُسے اٹھاکر مجھے لادو۔ آپ نے سرہانے کے نیچے ہاتھ ڈال کر سونا نکالا اور یہودی کو دے دیا یہ دیکھ کر یہودی نے کہا پہلے مجھے مسلمان بناؤ پھر کوئی اور بات کرنا۔ آپ نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ میں تورات میں پڑھا تجا کہ جو شخص صدق دل سے توبہ کرتا ہے اگر مٹی کو بھی ہاتھ لگائے تو سونا بن جاتی ہے چنانچہ میں نے تمہارے امتحان کی خاطر سرہانے کے نیچے مٹی کے ڈھیلے رکھ دیئے تھے۔ چونکہ تمہارے ہاتھ لگنے سے وہ سونا ہوگئے ہیں۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تمہاری توبہ صادق ہے۔
بیعت
اس کے بعد آپ کوفہ تشریف لے گئے اور حجت الاسلام امام ابو خلیفہ کوفی کی صحبت میںرہنےلگے۔ اس دوران میں آپ کو کافی اولیاء کرام کی صحبت بھی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد آپ بصرہ گئے تاکہ خواجہ حسن بصری کی زیارت سے مشرف ہوں لیکن معلوم ہوا کہ اُن کا وصال ہوچکا ہے یہ خبر سنکر آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ روتے کیوں ہیں اگر مرید ہونے کا ارادہ رکھتے ہو تو خواجہ عبدالواحد بن زید کی خدمت میں جاؤ جو خواجہ حسن بصری کے خلیفۂ برحق اور جانشین ہیں اور ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سرور کائناتﷺ سے بھی خرقۂ خلافت ملا ہے۔ عصر حاضر میں آپ جیسا کوئی درویش اور کامل بزرگ نہیں ہے۔ حضرت خواجہ حبیب عجمی اُن کے دوست ہیں اور ہر ہفتہ اُن کے پاس جاتے ہیں اُن سے جو شخص کوئی مراد طلب کرتا ہے پاتا ہے اور مطلوب تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ آپ نے جب یہ بات سنی تو دل میں انکی زیارت کی تڑپ پیدا ہوئی اور قدم بوسی کا ھمم ارادہ کرلیا۔ آخر ایک دن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کے حال پر کرم فرمایا اور مخاطب کر کے فرمایا کہ اے فضیل تمام چیزوں سے پرہیز کرو اور کامل ترک پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ کیونکہ درویشی بے خویشی اور خاموشی کا نام ہے۔ تم اسے اختیار کرلو۔ اور ہمیشہ اپنے گناہوں کا ماتم کرتے رہو، ہر جگہ اور ہر وقت خدائے عزوجل کو حاضر و ناظر سمجھو کیونکہ تمہارا نام محبان خدا میں درج ہوچکا ہے اور ولی اللہ بن جاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ خلوقت اختیار کرو اور ذکر لا الہ اللہ کو قائم رکھو۔ حضرت شیخ کے ارشاد کے مطابق خواجہ فضیل ابن عیاض نے مکہ معظمہ کاجر خلوت اختیار کرلی اور اس ذکر کو جاری رکھا۔ تھوڑے عرصہ میں آپ نے اس قدر ترقی کی کہ اپنے وقت کے قطب بن گئے اور حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے جانشین ہوئے آپ کے ذریعے بیشمار طالبان خدا مراد کو پہنچے اور خدا رسیدہ ہوئے۔
امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق سے خلافت
بعض معتبر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض نے شیخ المشائخ حضرت ابی غیاث بن منصور بن معمر سلمی کوفی سے بھی خلافت حاصل کی۔ شیخ ابی غیاث کو حضرت شیخ محمد بن حبیبن نوفلی سے خلافت حاصل تھی۔ آپ کو شیخ حبیب مطعم القریشی سے اور آپ کو امیر المومنین خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلافت تھی۔
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض صائم الدہر اور قائم اللیل تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے اور ساری رات جاگتے تھے) آپ پر خوف خدا اس قدر الب تھا کہ ہمیشہ گریہ کرتے رہتے تھے اور جو شخص آپ پر نظر ڈالتا تھا اس پر بھی گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ شخص نہایت مصیبت زدہ ہے۔ آپ جس روز مرید ہوئے اس کے بعد آپ نے اہل دینا کو نہ دیکھا بلکہ جب راستے میں کوئی اہل دینا نظر آتا تو آپ وہ راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اگر ات فاق سے کوئی اہل دینا سامنے آجاتا تو آپ اپنے کپڑے اتار کر درویشوں کو دیدیتے تھے اس خوف سے کہ شاہد اہل دینا کے پاؤں کی خاک کپڑوں پر پڑی ہو۔ آپ صاحب سماع، صاح کرامات اور باعظمت بزرگ تھے۔ اور تین دن اور بعض اوقات چار اور پانچ روزہ کے بعد افطار کرتے تھے۔ آپ ہر روز پانچ سو رکعت نماز پڑھتے تھے اور روزانہ دو ختم قرآن کرتے تھے جس روز آپ کے گھر میں ف
❤1
اقہ ہوتا آپ چند رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ بیمار ہوجاؤں تاکہ نماز جماعت کے لیے نہ جاؤں اور خلق خدا کو نہ دیکھوں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس شخص کا مجھ پر احسانِ عظیم ہوگا جو راستے میں مجھ پر سلام نہ کہے۔ اور جب بیمار ہوں تو عبادت کو نہ آئے آپ فرماتے ہیں کہ جب رات آتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ مکمل خلوت حاصل ہوگی۔ جب صبح ہوتی ہے مجھے افسوس لگتا ہے کہ اب خلق خدا سے ملاقات ہوگی۔ کیونکہ اس سے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ایک رات میں خواجہ فضیل ابن عیاض کی خدمت میں حاضر تھا اور آیات واخبار بیان کر رہا تھا۔ ناگاہ میری زبان سے یہ نکلا کہ آج کیا مبارک رات ہے اور کس قدر نیک صحبت ملی ہے حضرت خواجہ فضیل نے فرمایا بڑی بُری رات اور تباہ کن صحبت تھی۔ میں نے کہا کس وجہ سے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری خواہش یہ تھی کہ ایسی بات کہوں کہ مجھے اچھی لگے اور میری یہ آروز تھی کہ ایسا جواب دوں جو آپ کو اچھا لگے۔ اس طرح ایک دوسرے کو خوش کرنے کی خاطر ہم حق سے محروم رہے۔ اس سے تو تنہائی بہتر ہے جب حق تعالیٰ کے مناجات میں آدمی مصروف رہتا ہے۔
خلیفہ ہارون الرشید کا حاضر خدمت ہونا
مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ ایک رات خلیفہ ہارون الرشید حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ اُس وقت آپ تلاوت قرآن م یں مشغول تھے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ام حسب الذین اجتر حوا السیئات ان تجعلھم کالذیان اٰمنوا وعمل الصّٰلحٰت (جو لوگ بُرے کام کرتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر رکھیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے)۔ جب ہارون الرشید نے یہ آیت سنی تو کہنے لگا کہ بس یہی نصیحت کافی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ کا وزیر فضل بر مکی اُسے حضرت خواجہ کے کمرے میں لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے۔ فضل نے کہا امیرالمومنین ہے آپ نے فرمایا اُسے مجھ سے کیا کام اور مجھے اس سے کیا کام ہے۔ فضل بر مکی کہا کہ امیر المومنین کی اطاعت واجب ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پریشان مت کرو۔ ہارون نے کہا میں اپنی اصلاح کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور حجرہ کا دروازہ کھولا اندر جاتے ہاروں نے قدموں پر ہاتھ رکاھ۔ آپنے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا کہ کیا ہی نرم ہاتھ ہے اگر دوزخ کی آگ سے بچ جائے تو۔ یہ بات سن کر ہارون الرشید پر گریہ طاری ہوگیا اور عرض کیا کہ کچھ اور فرمائیے۔ آپ نے فرمایا تیرے دادا حضرت عباس نے جو رسول خداﷺ کے چچا تھے آپﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کسی ملک کا امیر بناکر بھیج دیا جائے۔ آنحضرتﷺ نےفرمایا اے چچا جان آپ کے اسبات سے اللہ تعالیٰ کی عبادت بہتر ہے۔ اس پر ہارون نے کہا کہ کچھ اور فرمادیں آپ نے فرمایا جب حضرت عمر بن عبدالعزیزی کو مسند خلافت پر بٹھایاگیا تو انہوں نے سالم بن عبداللہ اور محمدﷺ بن کعب کو بلاکر کہا کہ میں اس مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہوں اب بتاؤ کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ کل قیامت کے دن نجاب ملے تو بوڑھوں کو باپ کی مانند سمجھو، جوانوں کو بھائی، چھوٹوں کو بیٹوں اور عورتوں کو بہنوں کی طرح سمجھو۔ غرضیکہ کہ جب کافی نصیحت کے بعد ہارون فارغ ہوا تو ایک ہزار دینار بطور نذر پیش کیے۔ آپ نے فرمایا میری اس نصیحت نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ تم ن ے وہی ظلم پھر سے شروع کردیا ہے۔ میں نے تیری نجات کا سمان کیا۔ تم مجھے مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ یہ کہہ کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہارون واپس چلا گیا۔ راستے میں اس نے اپنے وزیر سے کہا حقیقت میں مرد خواجہ فضیل ہے۔
اقوال زرّین
نقل ہے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں حق تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے عبادت کرتا ہوں نہ کی ڈر کی وجہ سے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ اصلِ دین کیا ہے فرمایا عقل۔ انہوں نے پوچھا کہ عقل کی اصل کیا ہے فرمایا حلم۔ انہوں نے پوچھا حلم کیا ہے فرمایا صبر۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ توکل یہ ہے کہ غیر سے امید نہ رکھے۔ اور متوکل ہو ہے اس ظاہر وباطن سب تسلیم بنجائے نغمات میں لکھا ہے کہ آپ کا ایک فرزند تھا۔ جب کسی نے اُن کے سامنے یہ آیت پڑھی ویوم القیامت تری المجرمین۔۔۔۔ الیٰ آخرہٖ تو نعرہ مارا اور جاں بحق ہوگئے۔ روایت ہے کہ حضرت خواجہ فضیل کو تیس سال تک کسی ہنستے ہوئے نہ دیکھا۔ لیکن جس روز اپ کے بیٹے کا وصال ہوا تو آپ نے تبسم فرمایا لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے فرمایا اس کی موت پر حق تعالیٰ راضی تھا چنانچہ میں بھی حق تعالیٰ کی موافقت کی ہے اور خوش ہوا ہوں۔
خلفاء
کتاب سیر الاقطاب میں لکھاہے کہ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے پانچ خلفاء تھے۔ سلطان ابتراہیم بن ادہم۔ شیخ محمد بن یزید شیرازی، خواجہ بشیر حافی، خواجہ ابی جار عطاری اور خواجہ عبداللہ سیّاری۔ آپ کے کمالات وکرامات اس قدر ہیں کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔
مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنی لڑکیوں کے مت
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ایک رات میں خواجہ فضیل ابن عیاض کی خدمت میں حاضر تھا اور آیات واخبار بیان کر رہا تھا۔ ناگاہ میری زبان سے یہ نکلا کہ آج کیا مبارک رات ہے اور کس قدر نیک صحبت ملی ہے حضرت خواجہ فضیل نے فرمایا بڑی بُری رات اور تباہ کن صحبت تھی۔ میں نے کہا کس وجہ سے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری خواہش یہ تھی کہ ایسی بات کہوں کہ مجھے اچھی لگے اور میری یہ آروز تھی کہ ایسا جواب دوں جو آپ کو اچھا لگے۔ اس طرح ایک دوسرے کو خوش کرنے کی خاطر ہم حق سے محروم رہے۔ اس سے تو تنہائی بہتر ہے جب حق تعالیٰ کے مناجات میں آدمی مصروف رہتا ہے۔
خلیفہ ہارون الرشید کا حاضر خدمت ہونا
مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ ایک رات خلیفہ ہارون الرشید حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ اُس وقت آپ تلاوت قرآن م یں مشغول تھے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ام حسب الذین اجتر حوا السیئات ان تجعلھم کالذیان اٰمنوا وعمل الصّٰلحٰت (جو لوگ بُرے کام کرتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر رکھیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے)۔ جب ہارون الرشید نے یہ آیت سنی تو کہنے لگا کہ بس یہی نصیحت کافی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ کا وزیر فضل بر مکی اُسے حضرت خواجہ کے کمرے میں لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے۔ فضل نے کہا امیرالمومنین ہے آپ نے فرمایا اُسے مجھ سے کیا کام اور مجھے اس سے کیا کام ہے۔ فضل بر مکی کہا کہ امیر المومنین کی اطاعت واجب ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پریشان مت کرو۔ ہارون نے کہا میں اپنی اصلاح کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور حجرہ کا دروازہ کھولا اندر جاتے ہاروں نے قدموں پر ہاتھ رکاھ۔ آپنے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا کہ کیا ہی نرم ہاتھ ہے اگر دوزخ کی آگ سے بچ جائے تو۔ یہ بات سن کر ہارون الرشید پر گریہ طاری ہوگیا اور عرض کیا کہ کچھ اور فرمائیے۔ آپ نے فرمایا تیرے دادا حضرت عباس نے جو رسول خداﷺ کے چچا تھے آپﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کسی ملک کا امیر بناکر بھیج دیا جائے۔ آنحضرتﷺ نےفرمایا اے چچا جان آپ کے اسبات سے اللہ تعالیٰ کی عبادت بہتر ہے۔ اس پر ہارون نے کہا کہ کچھ اور فرمادیں آپ نے فرمایا جب حضرت عمر بن عبدالعزیزی کو مسند خلافت پر بٹھایاگیا تو انہوں نے سالم بن عبداللہ اور محمدﷺ بن کعب کو بلاکر کہا کہ میں اس مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہوں اب بتاؤ کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ کل قیامت کے دن نجاب ملے تو بوڑھوں کو باپ کی مانند سمجھو، جوانوں کو بھائی، چھوٹوں کو بیٹوں اور عورتوں کو بہنوں کی طرح سمجھو۔ غرضیکہ کہ جب کافی نصیحت کے بعد ہارون فارغ ہوا تو ایک ہزار دینار بطور نذر پیش کیے۔ آپ نے فرمایا میری اس نصیحت نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ تم ن ے وہی ظلم پھر سے شروع کردیا ہے۔ میں نے تیری نجات کا سمان کیا۔ تم مجھے مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ یہ کہہ کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہارون واپس چلا گیا۔ راستے میں اس نے اپنے وزیر سے کہا حقیقت میں مرد خواجہ فضیل ہے۔
اقوال زرّین
نقل ہے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں حق تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے عبادت کرتا ہوں نہ کی ڈر کی وجہ سے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ اصلِ دین کیا ہے فرمایا عقل۔ انہوں نے پوچھا کہ عقل کی اصل کیا ہے فرمایا حلم۔ انہوں نے پوچھا حلم کیا ہے فرمایا صبر۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ توکل یہ ہے کہ غیر سے امید نہ رکھے۔ اور متوکل ہو ہے اس ظاہر وباطن سب تسلیم بنجائے نغمات میں لکھا ہے کہ آپ کا ایک فرزند تھا۔ جب کسی نے اُن کے سامنے یہ آیت پڑھی ویوم القیامت تری المجرمین۔۔۔۔ الیٰ آخرہٖ تو نعرہ مارا اور جاں بحق ہوگئے۔ روایت ہے کہ حضرت خواجہ فضیل کو تیس سال تک کسی ہنستے ہوئے نہ دیکھا۔ لیکن جس روز اپ کے بیٹے کا وصال ہوا تو آپ نے تبسم فرمایا لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے فرمایا اس کی موت پر حق تعالیٰ راضی تھا چنانچہ میں بھی حق تعالیٰ کی موافقت کی ہے اور خوش ہوا ہوں۔
خلفاء
کتاب سیر الاقطاب میں لکھاہے کہ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے پانچ خلفاء تھے۔ سلطان ابتراہیم بن ادہم۔ شیخ محمد بن یزید شیرازی، خواجہ بشیر حافی، خواجہ ابی جار عطاری اور خواجہ عبداللہ سیّاری۔ آپ کے کمالات وکرامات اس قدر ہیں کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔
مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنی لڑکیوں کے مت
❤1
علق اہل خانہ کو وصیت فرمائی کہ ان کو کوہ بوقبیس پر لے ج انا اور یہ کہنا ک ہ الٰہی فضیل ہمیں نصیحت کی ہے کہ ان کو میں نے تیرے سپرد کیا۔ چنانچہ ہم ان کو اب تیرسے سپرد کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ کے وصال کے بعد لوگ ان کو اس پہاڑ پر لے گئے اس وقت یمن کا بادشاہ اپنے دو شہزادوں سمیت وہاں سےگذر رہا تھا۔ جب اس نے مجمع دیکھا۔ تو پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔ لوگوںنے حضر خواجہ کا وصیت کا حال بیان کیا تو اس نے اُسی وقت دونوں لڑکیوں کا نکاح اپنے شہزادوں سے کردیا اور یمن لے گیا۔
وصال آپ کا وصال بتاریخ تین ماہ ربیع الاوّل، دوسری روایت کے مطابق ماہ محرم ۱۸۷ھ کو مکہ معظمہ میں ہوا۔ روایت ہے کہ جب کسی نے سورت القاریہ پڑھی تو آپ نے نعرہ مارا اور جاں بحق ہوئے۔ آپ کی قبر بیت الھرام کے قریب قبرستان جنت المعلیٰ میں حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ کے روضۂ اقدس کے نزدیک ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کےوصال کی تاریخ یہ نکلی ہے ‘‘قطب جہاں بود’’
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fuzail-bin-ayaz
وصال آپ کا وصال بتاریخ تین ماہ ربیع الاوّل، دوسری روایت کے مطابق ماہ محرم ۱۸۷ھ کو مکہ معظمہ میں ہوا۔ روایت ہے کہ جب کسی نے سورت القاریہ پڑھی تو آپ نے نعرہ مارا اور جاں بحق ہوئے۔ آپ کی قبر بیت الھرام کے قریب قبرستان جنت المعلیٰ میں حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ کے روضۂ اقدس کے نزدیک ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کےوصال کی تاریخ یہ نکلی ہے ‘‘قطب جہاں بود’’
اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد
( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fuzail-bin-ayaz
scholars.pk
Hazrat Khawaja Fuzail Bin Ayaz
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خادم حسین رضوی، شیخ الحدیث ، علامہ مولانا حافظ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی ۳ ربیع الاول ۱۳۸۶ھ/۲۲جون ۱۹۶۶ء بروز بدھ "نکہ کلاں" اٹک میں حاجی لعل خاں علیہ الرحمۃ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جہلم و دینہ کے مدارس میں حفظ و تجوید کی تکمیل کے بعد شہرۂ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم کی۔ آپ کے اساتذہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، مجاہد اسلام حضرت مولانا محمد رشید نقشبندی، استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف نقشبندی، شرف ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ حافظ عبد الستار سعیدی اور استاذ العلماء حضرت مولانا محمد صدیق ہزاروی جیسی شخصیات شامل ہیں۔
روحانی طور پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں عارف کامل حضرت اقدس خواجہ محمد عبد الواحد صاحب المعروف حاجی پیر صاحب سے کالا دیو شریف جہلم میں بیعت ہیں۔ تقریباً دو عشروں سے جامعہ نظامیہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ہزار شاگرد اس وقت ملک عزیز کے طول و عرض میں خدمات دینیہ میں مصروف عمل ہیں۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ تصنیف و تالیف میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ علم صَرف میں تیسیر ابواب الصرف اور تعلیلات خادمیہ آپ کی نوک قلم کی یادگار ہیں۔ اللہ رب العزت نے خطابت میں دلنشین و منفرد انداز عطا فرمایا ہے۔ روایتی تقاریر سے ہٹ کر آپ کے خطابات "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے" کے مصداق پُر اثر ہوتے ہیں۔
اس وقت آپ فدایانِ ختم نبوت پاکستان اور مجلس علماء نظامیہ کے مرکزی امیر ہیں۔ اس کے علاوہ دارالعلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سرپرست و نگران اور معاون ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadees-hazrat-allama-hafiz-khadim-hussain-rizvi
شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی ۳ ربیع الاول ۱۳۸۶ھ/۲۲جون ۱۹۶۶ء بروز بدھ "نکہ کلاں" اٹک میں حاجی لعل خاں علیہ الرحمۃ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جہلم و دینہ کے مدارس میں حفظ و تجوید کی تکمیل کے بعد شہرۂ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم کی۔ آپ کے اساتذہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، مجاہد اسلام حضرت مولانا محمد رشید نقشبندی، استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف نقشبندی، شرف ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ حافظ عبد الستار سعیدی اور استاذ العلماء حضرت مولانا محمد صدیق ہزاروی جیسی شخصیات شامل ہیں۔
روحانی طور پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں عارف کامل حضرت اقدس خواجہ محمد عبد الواحد صاحب المعروف حاجی پیر صاحب سے کالا دیو شریف جہلم میں بیعت ہیں۔ تقریباً دو عشروں سے جامعہ نظامیہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ہزار شاگرد اس وقت ملک عزیز کے طول و عرض میں خدمات دینیہ میں مصروف عمل ہیں۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ تصنیف و تالیف میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ علم صَرف میں تیسیر ابواب الصرف اور تعلیلات خادمیہ آپ کی نوک قلم کی یادگار ہیں۔ اللہ رب العزت نے خطابت میں دلنشین و منفرد انداز عطا فرمایا ہے۔ روایتی تقاریر سے ہٹ کر آپ کے خطابات "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے" کے مصداق پُر اثر ہوتے ہیں۔
اس وقت آپ فدایانِ ختم نبوت پاکستان اور مجلس علماء نظامیہ کے مرکزی امیر ہیں۔ اس کے علاوہ دارالعلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سرپرست و نگران اور معاون ہیں۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadees-hazrat-allama-hafiz-khadim-hussain-rizvi
scholars.pk
Sheikh ul Hadees Hazrat Allama Hafiz Khadim Hussain Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
نام ونسب:
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ (بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘سے تعلق تھا۔۔ مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔ والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔بعض تذکرہ نگاروں نےآپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔(ضیائے ازواج مطہرات:402/سیرتِ مصطفیٰ:664)
قبولِ اسلام:
آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح:
ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبداﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھاجو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آ گئے اور مدینہ منورہ کی طرف فرمائی۔
دورِ ابتلاء:
شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کےظلم وستم کا نشانہ بنے۔جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابو سلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہر گز ہر گز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آ گیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘کوہرگزہرگزتمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابو سلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اوربچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زارو قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہو گئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہاکہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ اﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خداکی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پرسوارہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔ چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا (زرقانی جلد۳ ص۲۳۹) ـ
نام ونسب:
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ (بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘سے تعلق تھا۔۔ مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔ والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔بعض تذکرہ نگاروں نےآپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔(ضیائے ازواج مطہرات:402/سیرتِ مصطفیٰ:664)
قبولِ اسلام:
آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح:
ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبداﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھاجو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آ گئے اور مدینہ منورہ کی طرف فرمائی۔
دورِ ابتلاء:
شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کےظلم وستم کا نشانہ بنے۔جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابو سلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہر گز ہر گز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آ گیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘کوہرگزہرگزتمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابو سلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اوربچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زارو قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہو گئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہاکہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ اﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خداکی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پرسوارہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔ چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا (زرقانی جلد۳ ص۲۳۹) ـ
❤1
شرفِ ام المؤمنین:
حضرت ابو سلمہ کے انتقال کے بعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضور ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئیں۔(امہات المؤمنین:41)
سیرت و خصائص:
حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول اﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا ۔حضورِ اقدس ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول اﷲ! ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اورخوداپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کرکہ حضور ﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مایوس ہو گئے کہ اب حضور ﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہر گز ہر گز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے ۔حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا(بخاری،رقم3634)
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپ ﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب اﷲ کایہ فرمان ’’اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾ترجمہ کنزالایمان:اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہواتو رسول اﷲ ﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی،حضرت حسن اورحضرت حسین کو بلاکران پر چادر اوڑھائی ۔حضرت علی پیچھے کھڑے تھے ، ان پر بھی چادر ڈالی۔پھر فرمایا:اے اﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے اﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ (مسند امام احمد : 26550) ـ
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے:آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ (مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271 ) اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدآپ کےچچا زاد بھائی تھے۔(ضیائے ازاوج مطہرات:414)
تایخِ وصال:
امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے(یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 / 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ ) کے پاس تھی ۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہو گئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔ فرماتی تھیں :میں نے جِنّ عورتوں کو حسین کا مرثیہ کہتے سناہے۔ ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ ،حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ قبر میں اترے ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
ماخذ و مراجع:
مدارج النبوت ۔ ضیائے ازواج النبی ۔ امہات المؤمنین ۔ سیرت مصطفیٰ ۔ حدائق الاصفیاء ۔
حضرت ابو سلمہ کے انتقال کے بعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضور ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئیں۔(امہات المؤمنین:41)
سیرت و خصائص:
حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول اﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا ۔حضورِ اقدس ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول اﷲ! ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اورخوداپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کرکہ حضور ﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مایوس ہو گئے کہ اب حضور ﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہر گز ہر گز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے ۔حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا(بخاری،رقم3634)
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپ ﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب اﷲ کایہ فرمان ’’اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾ترجمہ کنزالایمان:اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہواتو رسول اﷲ ﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی،حضرت حسن اورحضرت حسین کو بلاکران پر چادر اوڑھائی ۔حضرت علی پیچھے کھڑے تھے ، ان پر بھی چادر ڈالی۔پھر فرمایا:اے اﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے اﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ (مسند امام احمد : 26550) ـ
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے:آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ (مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271 ) اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدآپ کےچچا زاد بھائی تھے۔(ضیائے ازاوج مطہرات:414)
تایخِ وصال:
امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے(یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 / 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ ) کے پاس تھی ۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہو گئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔ فرماتی تھیں :میں نے جِنّ عورتوں کو حسین کا مرثیہ کہتے سناہے۔ ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ ،حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ قبر میں اترے ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
ماخذ و مراجع:
مدارج النبوت ۔ ضیائے ازواج النبی ۔ امہات المؤمنین ۔ سیرت مصطفیٰ ۔ حدائق الاصفیاء ۔
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نام ونسب: اسم گرامی: رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ (بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب…
https://t.me/islaamic_Knowledge/59505
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-umme-salma
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-umme-salma
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1445 ᴴ | 19-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1445 ᴴ | 20-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1