🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃا للہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:
سید محمد۔ لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔ والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 محرم الحرام 718ھ مطابق 7 مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔

قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال ﷫سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔

تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی ﷫ کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال﷫ کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال ﷫ کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی﷫نےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال ﷫سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔

سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند﷫۔ آپ﷫ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ ﷫ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔

تعلق باللہ،سنتِ رسول اللہ،محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں﷫ کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں﷫ ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند﷫ معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔

روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی﷫ کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید﷫ اور شیخ جنید﷫ اور شیخ شبلی﷫ اور منصور حلاج ﷫کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔

نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔ جب نظر عنایت زیادہ ہوتی تو درجہ عد
1
م کو پہنچ جاتے۔ جب اس سے بھی زیادہ نظر عنایت ہوتی تو مقام فناء کو پہنچ جاتے اور فانی ازخود باقی بحق ہوجاتے۔ اس حال میں حضرت خواجہ یوں فرمایا کرتے کہ ہم تو دولتِ وصال کے واسطہ ہیں۔ اربابِ تکمیل و ایصال کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو طریقت کے گہوارے میں لٹاتے ہیں اور تربیت کے پستان سے دودھ پلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حد فصال کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے دودھ چھڑاتے ہیں اور بارگاہِ احدیت کا مَحرم بناتے ہیں۔ تاکہ حضرت عزت جل احسانہ سے بلا واسطہ فیض حاصل کرسکیں۔

فقر و ایثار: حضرت خواجہ فقیر تھے اور ہمیشہ فقر کی تائید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے محبت فقر سے پایا ہے۔ آپ کے دولت خانہ موسم سرما میں خاشاک مسجد ہوا کرتا اور گرما میں پرانا بوریا۔ ہر چیز بالخصوص طعام میں حلال کی رعایت اور شبہات سے اجتناب میں نہایت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ اپنی مجلس میں ہمیشہ اس حدیث نبوی کو بیان فرمایا کرتے تھے:ان العبادۃ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا طلب الحلال و جزء واحد منھا سائر العبادات۔۔عبادت دس جزء ہیں۔ جن میں سے نو طلب حلال ہیں اور ان میں سے ایک باقی عبادات ہیں۔باوجود کمال فقر کے آپ میں ایثار اعلیٰ درجہ کا تھا۔ جو شخص آپ کی خدمت میں ہدیہ لاتا۔ اتباعِ سنت کے طور پر آپ اسی قدر زیادہ اس کے ساتھ احسان کرتے۔ اگر کوئی دوست یا مہمان آپ کے درِ دولت پر آتا۔ جب شام ہوتی کھانا جس میں کچھ تکلف ہوتا لاتے اور اس کے آگے رکھتے۔ اور ایک طرف چراغ رکھ دیتے تاکہ وہ کھانا کھالے۔ اگر وہ سو جاتا اور ہوا سرد ہوتی تو خواہ گھر میں فقط ایک کپڑا ہوتا اس کو مہمان پر ڈال دیتے۔ آپ کا گذارہ زراعت سے تھا۔ ہر سال کچھ جو اور کچھ ماش بوتے۔ بیج۔ زمین اور بیلوں سے کام لینے میں بڑی احتیاط کیا کرتے۔ اکابر و علماء جو حاضر خدمت ہوتے آپ کا طعام بطور تبرک کھایا کرتے۔ شہر میں آپ کا کوئی مکان نہ تھا۔ کرایے کےمکان میں رہتےتھے۔ آپ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا۔ بندگی با خواجگی راست نمے آید۔

ملفوظاتِ عالیہ: آپ کےتمام ملفوظاتِ عالیہ آب زر سے تحریرکرنے کےقابل ہیں۔ان میں سےچند تحریرکیے جاتے ہیں۔

1۔ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دست آویز ہے۔ سنت مصطفےٰ ﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضلِ الٰہی لایا گیا ہے۔ اول سے آخر تک ہم نے یہی فضلِ الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل۔ اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں۔ مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔2۔ جس شخص نے اللہ کو پہچان لیا اُس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی۔ حضرت خواجہ علاؤ الدین ﷫ فرماتے تھے کہ اس کلمہ قدسیہ سے حضرت خواجہ کی مراد یہ ہے کہ عارف پر اشیاء کا ظاہر ہونا اس کی توجہ پر موقوف ہے۔3۔ حدیث میں ہے: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ یعنی کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔ اس حدیث میں کسب ِرضا کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسب ِدنیا کی طرف۔4۔جو شخص اپنے آپ کو بکلیت خود حضرت حق تعالیٰ و تقدس کے سپرد کردے۔ اس کا غیر حق جل وعلا سے التجا کرنا شرک ہے۔ یہ شرک عام لوگوں کے لیے معاف ہے۔ مگر خواص کے لیے معاف نہیں۔5۔

تو شمع کی طرح بن۔ تو شمع کی طرح نہ بن۔ شمع کی طرح بن بایں معنیٰ کہ تو دوسرے کو روشنی پہنچائے۔ اور شمع کی طرح نہ بن بایں معنیٰ کہ تو اپنےآپ کو تاریکی میں رکھے۔6۔جس شخص نے کسی روزہمارا جوتا بھی سیدھا کیا ہے ہم اس کی شفاعت کریں گے۔

7۔درویش کو چاہیے کہ جو کچھ کہے حال سے کہے۔ مشائخ طریقت کا قول ہے کہ جو شخص ایسے حال سے کلام کرتا ہے جو اس میں نہیں حق تعالیٰ کبھی اس کو اس حال کی سعادت نہ بخشے گا۔8۔حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے مسخِ صورت اس امت سے مرتفع ہے مگر مسخِ باطن باقی ہے۔9۔اولیا کو اسرار پر آگاہی ہے اور آگاہی دی جاتی ہے لیکن وہ بغیر اجازت ان کو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے چھپاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ شور مچاتا ہے۔ ’’اسرار کا چھپانا ابرار کا کام ہے‘‘۔ 10۔لوگوں نے حضرت خواجہ قدس سرہ سے کرامت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہماری کرامت ظاہر ہے کہ باوجود اتنے گناہوں کے ہم روئے زمین پر چل سکتے ہیں۔

تاریخِ وصال: خواجہ علاؤ الدین عطار﷫ کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ کے انتقال کے وقت ہم سورہ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ جب سورت نصف ہوئی تو انوار ظاہر ہونے لگے۔پھر ہم کلمہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ کا سانس منقطع ہوگیا۔ حضرت کی عمر شریف پورے تہتر سال کی تھی۔ اور چوہترویں سال میں پیر کی رات 3/ ربیع الاول 791ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک’’ قصر ِعارفاں‘‘ مضافات بخارا، ازبکستان میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ فضیل بن عیاض موسیٰ صفات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اہل حضرت کے بادشاہ۔ درگاہ وصلت کے سرتاج۔ ولایت کے آسمان، درایت کے آفتاب، کثیر الفضائل ابو علی الفضیل بن عیاض قدس سرہ ہیں آپ مشائخ کبار اور اپنے زمانہ کے معزز داروں میں سے تھے۔ اکثر گریہ و زاری میں مصروف رہتے اور ہمیشہ رنج و غم میں ڈوبے رہتے تھے دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہمیشہ کسی گہری اور سخت فکر میں محو رہتے ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ جناب خواجہ عبد الواحد سے پہنا تھا۔ آپ کے عبرت آمیز اور پر نصیحت کلمات میں سے چند کلمے یہ ہیں۔ "لا یتکمل ایمان العبد حتی یؤ دل ما افترض اللہ علیہ ویجتنب ماحرم اللہ علیہ ویرضی بما قسم اللہ لہ ثم خاف مع ذالک ان لا یتکمل الایمان ولا یقبل منہ" یعنی بندہ کا ایمان اسی وقت تکمیل کو پہنچتا ہے جب کہ وہ خدا کے مفروضات کو نہایت جرات و آزادی کے ساتھ ادا کرتا اور محرمات و ممنوعات سے محترز رہتا اور خدا کی قسمت پر گردن تسلیم خم کردیتا ہے۔ پھر باوجود ان تمام باتوں کے ہر وقت اس بات سے خائف و ترساں رہتا ہے کہ مُبادا اس کا ایمان تکمیل کو نہ پہنچا ہو اور خدا وندی دربار میں نظر قبول سے نہ دیکھا گیا ہو اسی طرح یہ بھی آپ کا قول ہے۔" اذا حب اللہ عبدا اکثر غمہ واذا بغض عبدا وسع علیہ دنیا"۔ یعنی جب خدا تعالیٰ کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو اکثر اوقات اسے غم و الم پہنچاتا رہتا ہے اور جب کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو اس پر دنیا کو وسیع کر دیتا ہے اور یہ بھی آپ کا ارشاد ہے۔" لو عرضت علی الدنیا بحذا فیر ھا ولا احاسب بھا لکنت القزرھا کما یتقذرا حدکم الجیفۃ"۔ یعنی اگر مجھ پر دنیا بتما مہا پیش کی جاتی اور اس پر مجھ سے حساب نہ لیا جاتا تو بھی میں اُسے اسی طرح پلید و نجس جانتا جس طرح کہ تم مردار کو پلید جانتے ہو اور یہ بھی آپ ہی کا حکیمانہ مقولہ ہے۔"ترک العمل لا جل الناس ھو الریاء والعمل لاجل الناس ھوالشرک"۔یعنی لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑ دینا ریا ہے اور ان کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ ابو علی رازی نقل کرتے ہیں کہ میں خواجہ فضیل کی صحبت میں کامل تیس برس تک رہا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ میں نے اس دراز مدت میں کسی وقت آپ کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ البتہ ایک دن لوگوں نے آپ کو مسکراتے دیکھا جیسا کہ آپ کے صاحبزادے علی جو آخر میں اولیا کے مرتبہ کو پہنچ گئے تھے نقل کرتے ہیں۔ اس وقت آپ سے دریافت کیا گیا کہ ہم نے آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا آج آپ کے اس تبسم کی کیا وجہ ہے فرمایا جس کام کو خدا دوست رکھتا ہے میں بھی اسے دوست رکھتا ہوں۔ منقول ہے کہ جب خواجہ فضیل ابتدائی عمر کے مرحلے طے کر رہے تھے تو آپ رہزنی کیا کرتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے تاجروں کے ایک قافلہ پر گھیرا ڈالا۔ قافلہ میں سے ایک قاری نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی۔ "الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ"۔ یعنی کیا ابھی لوگوں پر وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل خدا کے ذکر کے سبب ڈرجائیں۔ قاری نے یہ موثر الفاظ کچھ ایسے دردناک لہجہ سے ادا کیے جن کا اثر خواجہ فضیل کے دل میں برقی قوت بن کر دوڑ گیا اور ایک بے اختیارانہ جوش کے ساتھ آخر انہوں نے یہ کہہ دیا۔ ’’یارب قداٰن‘‘۔ یعنی خدا وند بے شک وہ وقت آپہنچا ہے۔ اس کہنے کے ساتھ ہی آپ کو رقت ہوئی اور اس دن سے آپ نے اس ظالمانہ پیشہ سے توبہ کی اور اپنے مخالفوں کو خوش کردیا۔ اس کے بعد آپ وہاں سے کوفہ میں آئے اور فاضل اجل امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی صحبت اختیار کی اور بے شمار اولیاء اللہ سے ملاقات کی۔

(سیر الاولیاء)

-----------------------

آپ کبار مشائخ مقتدا میں سے تھے۔ ابو علی اور ابوالفیض کنیت تھی کہتے ہیں آپ کے آباؤ اجداد کوفہ میں رہتے تھے لیکن آپ سمر قند یا بخارا میں پیدا ہوئے۔ خرقۂ خلافت خواجہ عبدالواحد بن زید سے حاصل کیا۔ شیخ المشائخ ابی عیاض بن منصور بن محمد سلمی کوفی سے بھی خلافت ملی تھی۔ انہیں محمد بن مسلم سے اور انہیں محمد حبیب مطعم قرشی سے اور انہیں حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خرقۂ فقر ملا تھا۔ خواجہ فضیل ہمیشہ روزہ رکھتے اور پانچ دنوں بعد افطاری کرتے سارے دن میں پانچ سو نفل ادا کرتے اور ہر روز قرآن پاک دو بار ختم کرتے تذکرۃ الاولیاء، سیرالاقطاب اور منیر المتقدمین میں لکھا ہے کہ خواجہ فضیل جوانی میں ڈاکے مارا کرتے تھے۔ علاقے کے بہت سے ڈاکو آپ کے پاس جمع رہتے اور آپ کی نگرانی میں ڈاکے مارے مسافروں سے لوٹا ہوا مال و متاع آپ کے پاس لاکر جمع کرتے۔ ایک دن ایک قافلے پر حملہ کیا، قافلے کو گھیرے میں لیا۔ قافلہ والوں کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ ایک شخص نے یہ آیت پڑھی:

اَلَمْ یانِ لِلَّذِیْنَ آمَنوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبِھِمْ لِذِکْرِ اللہ

(ترجمہ کیا ابھی ان لوگوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھیں۔)

یہ آیت سنتے ہی خواجہ فضیل نے محسوس کیا جیسے آسمان سے بچلی چمک کر ان کے دل پر گر پڑی ہے۔ قافلے کو وہیں چھوڑا بیابان کا راستہ لیا
1
اور زور زور سے رونا شروع کردیا، راستے میں ایک اور قافلہ ملا انہوں نے فضیل سے پوچھا کہ اس طرف فضیل ڈاکو تو نہیں ہے۔ حضرت فضیل نے فرمایا فکر نہ کرو فضیل ڈاکو نے توبہ کرلی ہے پہلے تم اس سے ڈرا کرتے تھے اب وہ تم سے ڈرتا ہے یہ بات کہہ کر وہ دلی طور پر تابع ہوگیا او رجان و دل سے اللہ سے محبت کرنے لگا۔

خواجہ فضیل جن دنوں ڈاکہ زنی کرتے تھے تو لوٹا ہوا مال الگ رکھ لیتے اور اس پر قافلے والوں کا نام لکھ لیتے۔ جن دنوں آپ نے توبہ کی جہاں کہیں کسی قافلے والے کے متعلق معلوم ہوا۔ اُس کے پاس جاتے اور اس کا مال واپس دے دیتے اور اُسے راضی کرتے۔ ایک دن ایک ایسے شخص کے پاس گئے جو یہودی تھا۔ وہ اپنا مال واپس لینے کے لیے تیار نہ تھا، کہنے لگا کہ میرے مال میں تو اتنا خالص سونا تھا کہ پہلے وہ لاؤ پھر میں راضی ہوں گا۔ حضرت خواجہ نے قسم کھاکر کہا کہ اس مال میں سونا نہیں تھا بڑی عاجزی و انکساری کی۔ دوسری طرف یہودی نے کہا کہ میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ جب تک مجھے میرا سونا نہ دو گے، میں راضی نہیں ہوں گا، میرے گھر کے اندر چلے جاؤ طاقچہ میں سونے کی بھری ایک تھیلی پڑی ہے اُسے اٹھا لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میری قسم پوری ہوجائے، پھر میں تم سے راضی ہوں گا۔ خواجہ اُس کے گھر میں گئے تھیلی اٹھائی۔ اُسے لاکر دی جب اُسے کھولا گیا تو اس میں خالص سونا موجود تھا۔ یہودی حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اب تو نے سچی توبہ کی ہے۔ اس تھیلی میں میں نے ریت بھری ہوئی تھی۔ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ نبی آخرزمان کے دین میں ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ جب وہ توبہ کریں گے اگر وہ مٹی پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ بھی سونا بن جائے گی۔ آج یہ مٹی تمہاری توجہ کی برکت سے سونا بن گئی ہے لہٰذا میں یقین رکھتا ہوں کہ تم نے سچی توبہ کی یہ کہہ کر اس یہودی نے بھی کلمہ پڑھ لیا اور اللہ کا مقبول بندہ بن گیا۔

اس واقعہ کے بعد حضرت خواجہ فضیل کوفہ میں چلے گئے اور حضرتِ امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ وہاں آپ کو بہت سے اولیاء اللہ کی زیارت ہوئی۔ وہاں سے بصرے آئے ان کا ارادہ تھا کہ خواجہ حسن بصری کی خدمت میں پہنچ کر مرید ہوجائیں۔ مگر اُن دنوں خواجہ حسن بصری وفات پاچکے تھے ۔ چنانچہ آپ عبدالواحد کی خدمت میں آئے اور مرید ہوگئے۔

جن دنوں ہارون الرشید مکہ میں آیا۔ تو اپنے وزیر کو لے کر مختلف بزرگوں کی زیارت کے لیے نکل پڑا۔ سب سے پہلے عبدالرزاق منفعانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ آپ کے ذمہ کچھ قرضہ ہو مجھے حکم دیں میں ادا کردوں۔ آپ نے اشارہ کیا تو ہارون الرشید نے آپ کا قرضہ ادا کردیا۔ اُس کے بعد ہارون الرشید حضرت سفیان بن عُیینہ کے پاس گیا اور ان کا قرضہ ادا کردیا۔ اپنے وزیر کو کہنے لگا ابھی تک میرے دل میں اولیاء اللہ کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ وزیر ہارون الرشید کو خواجہ فضیل بن عیاض کی خدمت میں لے آیا۔ آپ اس وقت حجرہ میں بیٹھے چراغ کی روشنی میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب کسی کے آنے کی آواز سنی حجرے کا دروازہ بند کردیا۔ اور آواز دی کہ اس اندھیری رات میں کون آ رہا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ امیرالمومنین ہارون الرشید ہیں حضرت خواجہ نے دیا بجھا دیا اور حجرے کا دروازہ کھولا ہارون حجرے کے اندر آیا اور حضرت خواجہ کو ڈھونڈھنے لگا۔ اُس کا ہاتھ حضرت خواجہ کے بدن کو لگا تو خواجہ نے چلا کر کہا ہارون تمہارے ہاتھ بڑٗے نرم ہیں۔ یہ تو دوزخ کی آگ کی لکڑی بننے والے ہیں۔ ہارون الرشید رونے لگا اور کہنے لگا کہ حضرت مجھے نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا کہ تمہارے والد حضور کے چچا تھے کوشش یہ کرو کہ قیامت کے دن اپنے باپ اور چچا سے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ ہارون الرشید نے کہا مجھے اور نصیحت کریں، فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرو۔ ادب سیکھو اور آلِ رسول اور صحابۂ رسول کی عزت کیا کرو ہارون الرشید نے کہا کہ اگر آپ پر کوئی قرضہ ہے تو حکم کریں میں ادا کردوں۔ آپ نے فرمایا مجھ پر قرضہ تو ہے مگر وہ میں ہی ادا کرسکتا ہوں اور وہ اطاعت الٰہی کا قرضہ ہے ہارون الرشید روانہ ہوا حضرت خواجہ سے جُدا ہوکر گھر آگیا۔

خواجہ ابو علی رازی فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک خواجہ فضیل کی خدمت میں رہا میں نے خواجہ کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا۔ ہاں اس دن ہنسے جس دن آپ کے بیٹے مبارک علی کا وصال ہوا۔ اس بیٹےکی وفات کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ خانۂ کعبہ میں زم زمکے کنویں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک شخص نے یہ آیت پڑھی: "وَضَعَ الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یا ویلتنا ما لہذا الکتاب" ترجمہ: (جن دنوں مجرموں کے سامنے نامۂ اعمال رکھا جائے گا۔ وہ کہیں گے ہائے ہمارا کیا حال ہے ! کاش ہمیں یہ نامۂِ اعمال نہ ملتا) اُس نے یہ آیت سنی نعرہ مارا اور جان اللہ کے حوالے کردی۔

خواجہ فضیل کے پانچ خلفاء تھے۔ پہلے سلطان ابراہیم بن ادھم دوسرے شیخ محمد شیرازی تیسرے خواجہ بشر حافی چوتھے شیخ ابی رجا عطاری اور پانچویں خواجہ عبدالباری رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ یہ پا
1
نچوں مشہور مشائخ اپنے اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور یکتائے روزگار ہوئے ہیں۔

خواجہ فضیل سوم ماہ ربیع الاوّل ۱۸۷ھجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار پر انوار مکہ معظمہ میں قبرستان جنت المعلی میں ہے۔ یہ مقام حضرت اُم المومنین خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار کے پاس ہے۔ اگرچہ مخبر الواصلین کے مصنف نے آپ کا سال وصال ایک سو چھیاسی لکھا ہے مگر ہمارے نزدیک پہلا قول صحیح ہے سید الاقطاب اور سفینہ الاولیاء کے مصنف بھی اسی قول کو معتبر جانتے ہیں۔

چوں فضیل از دارفانی رخت بست
رفت در عشر تگہ دارالقرار
ماہ عالم داں وصال آنجناب
۱۸۷
سید الاقطاب د واقف کن شمار
۱۸۷

-----------------------------

فضیل بن عیاض بن مسعود تیمی خراسانی : عالم ربانی امام یزدانی ، زہدی عابد ، صالح ثقہ صاحب کرامت تھے، کنیت ابو علی تھی ۔ آپ کا مولد درد اور بقول بعض سمر قند تھا ، جو خراسان میں ہے ۔ابتداء میں آپ قطاع الطریق تھے ۔ آپ سے اما م شافعی اور قطان اور ابن معدی نے روایت کی۔ ابو علی رازی کہتے ہیں کہ میں تیس سال تک آپ کی صحبت میں رہا مگر اس عرصہ میں آپ کو کبھی ہنستے اور تبسم کرتے نہیں دیکھا مگر اس روز کہ جب آپ کا فرزند علی نام فوت ہوا ۔ میں نے ہنسی کا سبب پوچھا ، آپ نے فرمایا کہ خدا نے ایک بات کو پسند فرمایا پس میں نے بھی اس کو پسند کیا ۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ جب آپ نے توبہ کی تو آپ کویہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کسی طرح ان لوگوں کو راضی کیا جائے جن کو ہم نے لوٹا اور اذیت دی ہے،چنانچہ آپ رورو کر اپنے مدعیوں کو راضی کرتے تھے مگر ایک یہودی تھا وہ کسی طرح راضی نہ ہوتا تھا۔آخر اس نے کہ اکہ میں تب راضی ہونگا کہ جب آپ یہ ریت کاتودہ یہاں سے اٹھا کر جگہ صاف کردیں گے۔ اتفاقاً وہ تو دہ اس قدر بڑا تھا کہ اس کا اٹھانا طاقت بشری سے دشوار تھا مگر آپ نے اس کو تھوڑ ا تھوڑا اٹھانا شروع کیا ،یہان تک کہ کچھ مدت اس میں مشغول رہے ، جب نہایت تھک گئے تو ایک رات کو ہونے رہ تو وہ وہاں سے پراگندہ کر کے نا پید کردیا ۔یہ معاملہ دیکھ کر یہودی حیران رہ گیا اور آپ کو کہا کہ میرے سرہان کے نیچے سے کچھ اٹھا لاؤ تاکہ میں تم کو تمہارا قصور بخش دوں ۔آپ نے اس کے سرہانے کے نیچے سے ایک مٹھی سونے کی اٹھا کر اس کو دی جسے دیکھتے ہی کہا کہ مجھ کو اسی وقت مسلمان کرو ،آپ نے اس کا سبب پوچھا ، اس نے کہا کہ میں نے تو ریت میں پڑھا ہے کہ جس شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے، اس کے ہاتھ کی برکت سے مٹی بھی سونا ہوجاتی ہے سو میرے سرہانے کے نیچے خاک تھی جو سونا ہو گئی ہے پس اس سے مجھ کو ثابت ہو گیا کہ تمہاری توبہ قبول ہو گئی اور تمہارا دین سچا ہے۔ آپ نے کوفہ سے مکہ معظمہ میں ہجرت کر کے وہیں مجاورت کی یہاں تک کہ ماہ محرم ۱۸۷ھ؁ میں وفات پائی آپ سے اصحاب صحاح ستہ نے تخریج کی اور آپ کے خوراق عادات و کرمات کے حالات کتب مبسوطۂ معتبرہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں ۔’’امام عادل ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔

(حدائق الحنفیہ)

-----------------------------

اں مجذوب عشق رحمان و مخمور شراب عرفان، آں بسمل تیغ تسلیم ورضا، و مشرف بر اسرار قدر قضا، آں بجمیع ریاضات مرتاض، قطب حقیقت حضرت خواجہ فجیل ابن عیاض قدس سرہٗ حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے اجّل خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی کنیت ابو علی اور ابو الفیض ہے۔ آپ کا وطن کوفہ تھا۔ بعض کے نزدیک آپ کا وطن خراسان تھا شہر مرد کے نواح میں اور آپ کا تولد شہر سمر قند میں ہوا۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ کا وطن بخارا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حضرت کواجہ فرید الدین عطار تذکرۃ اولاولیاء میں لکھتے ہیں کہ آپ کا شما ر اکابر مشائخ میں ہوتا ہے اور آپ شہباز طریقت اور غریق بحر حقیقت تھے۔ ریاضات اور کرامات میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ اور ورع اور معرفت میں آپکا کوئی نظیر نہ تھا۔ اوائل میں آپ کی یہ حالت تھی۔ ٹاٹ کر کپڑا پہنتے تھے، اونی ٹوپی سر پر رکھتے۔ اور تسبیح گردن میں ڈال کر پھرتے تھے۔ آپ کے یار دوست بہت تھے جو سب کے سب چور اور راہ زن تھے۔ وہ لوگ قافلے لوٹ کر سارا مال آپ کے پاس لے آتے اور آپ اُسے تقسیم کرتے تھے۔ آپ ڈاکوؤں کے سردار تھے آپ جتنا مال چاہتے تھے لے لیتے تھے۔ اور اس سے مسجد تعمیر کرتے تھے۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا آپ اس سے اجتناب کرتے تھے ایک دن آپ کے ساتھی ایک قافلہ لوٹ کر مال و متاع آپ کے سامنے لائے اس میں ایک تھیلہ تھا جو سونے سے بھرا ہوا تھا اور اس پر آیتہ الکرسی لکھی ہوئی تھی۔ آپ نے وہ تھیلہ اٹھالیا اور اس کے مالک کو بلاکر اُس کے حوالہ کردیا ساتھیوں نے کہا کہ جناب اس کے اندر تو بڑی دولت تھی آپ نے کیوں واپس کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خوف بیدار ہوا کہ وہ لوگ جو قرآن اور آیتہ الکرسی میں اعتقاد رکھتے تھے جب یہ دیکھیں گے کہ تھیلے پر آیتہ الکرسی کے لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تھیلہ غارت ہوگیا ہے تو قرآن اور آیتہ الکرسی سے بدظن ہوجائیں گے اور اس کا وبال مجھ پر ہوگا کیونکہ لوگوں کا قرآن سے بدظن
1
ہوجانا میری راہزنی سے زیادہ بُرا ہے۔

ابتدائے حال میں آپ ایک عورت پر عاشق تھے اور لوٹ مار کا جو مال حاصل ہوتا تھا آپ اس عورت کے پاس بھیج دیتے تھے۔ آپ کبھی کبھی اس کے پاس جاکر عشق و محبت کی وجہ سے رویا کرتے تھے جس قافلے میں کوئی عورت ہوتی تو آپ اُسے ہر گز نہیں لوٹتے تھے ایک دن آپ انے ساتھیوں کے ساتھ ایک قافلے کے سرپر پہنچ گئے۔ قافلے والوں میں سے ایک آدمی یہ آیت پڑھ رہا تھا: الم یان للذین اٰمنو ان تخشع قلوبھم لذکراللہ۔ (کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلب ذکر اللہ سے بیدار ہوں) یہ آیت تیر کی طرح حضرت خواجہ فضیل کے دل میں اتر گئی جس سے آپ پر رقت طاری ہوگئی اور اُسی وقت اس کام سے توبہ کرلی۔ جن جن لوگوں کو مال لوٹا جا چکا تھا آپ نے واپس کردیا اور باقیوں سے معافی طلب کرلی۔ لیکن ایک یہودی نے جس کا مال لوٹا جا چکا تھا۔ آپ کو معاف نہ کیا۔ کافی اصرار کے بعد یہودی نے کہا میں نے قسم کھارکھی ہے کہ جب تک میرا مال واپس نہ کروگے تجھے معاف نہیں کروں گا۔ اب یہ کام کرو کہ میررے سرہانے کے نیچے کچھ سونا پڑھا ہے اُسے اٹھاکر مجھے لادو۔ آپ نے سرہانے کے نیچے ہاتھ ڈال کر سونا نکالا اور یہودی کو دے دیا یہ دیکھ کر یہودی نے کہا پہلے مجھے مسلمان بناؤ پھر کوئی اور بات کرنا۔ آپ نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ میں تورات میں پڑھا تجا کہ جو شخص صدق دل سے توبہ کرتا ہے اگر مٹی کو بھی ہاتھ لگائے تو سونا بن جاتی ہے چنانچہ میں نے تمہارے امتحان کی خاطر سرہانے کے نیچے مٹی کے ڈھیلے رکھ دیئے تھے۔ چونکہ تمہارے ہاتھ لگنے سے وہ سونا ہوگئے ہیں۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تمہاری توبہ صادق ہے۔

بیعت

اس کے بعد آپ کوفہ تشریف لے گئے اور حجت الاسلام امام ابو خلیفہ کوفی کی صحبت میںرہنےلگے۔ اس دوران میں آپ کو کافی اولیاء کرام کی صحبت بھی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد آپ بصرہ گئے تاکہ خواجہ حسن بصری کی زیارت سے مشرف ہوں لیکن معلوم ہوا کہ اُن کا وصال ہوچکا ہے یہ خبر سنکر آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ روتے کیوں ہیں اگر مرید ہونے کا ارادہ رکھتے ہو تو خواجہ عبدالواحد بن زید کی خدمت میں جاؤ جو خواجہ حسن بصری کے خلیفۂ برحق اور جانشین ہیں اور ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سرور کائناتﷺ سے بھی خرقۂ خلافت ملا ہے۔ عصر حاضر میں آپ جیسا کوئی درویش اور کامل بزرگ نہیں ہے۔ حضرت خواجہ حبیب عجمی اُن کے دوست ہیں اور ہر ہفتہ اُن کے پاس جاتے ہیں اُن سے جو شخص کوئی مراد طلب کرتا ہے پاتا ہے اور مطلوب تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ آپ نے جب یہ بات سنی تو دل میں انکی زیارت کی تڑپ پیدا ہوئی اور قدم بوسی کا ھمم ارادہ کرلیا۔ آخر ایک دن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کے حال پر کرم فرمایا اور مخاطب کر کے فرمایا کہ اے فضیل تمام چیزوں سے پرہیز کرو اور کامل ترک پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ کیونکہ درویشی بے خویشی اور خاموشی کا نام ہے۔ تم اسے اختیار کرلو۔ اور ہمیشہ اپنے گناہوں کا ماتم کرتے رہو، ہر جگہ اور ہر وقت خدائے عزوجل کو حاضر و ناظر سمجھو کیونکہ تمہارا نام محبان خدا میں درج ہوچکا ہے اور ولی اللہ بن جاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ خلوقت اختیار کرو اور ذکر لا الہ اللہ کو قائم رکھو۔ حضرت شیخ کے ارشاد کے مطابق خواجہ فضیل ابن عیاض نے مکہ معظمہ کاجر خلوت اختیار کرلی اور اس ذکر کو جاری رکھا۔ تھوڑے عرصہ میں آپ نے اس قدر ترقی کی کہ اپنے وقت کے قطب بن گئے اور حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے جانشین ہوئے آپ کے ذریعے بیشمار طالبان خدا مراد کو پہنچے اور خدا رسیدہ ہوئے۔

امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق سے خلافت

بعض معتبر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض نے شیخ المشائخ حضرت ابی غیاث بن منصور بن معمر سلمی کوفی سے بھی خلافت حاصل کی۔ شیخ ابی غیاث کو حضرت شیخ محمد بن حبیبن نوفلی سے خلافت حاصل تھی۔ آپ کو شیخ حبیب مطعم القریشی سے اور آپ کو امیر المومنین خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلافت تھی۔

سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض صائم الدہر اور قائم اللیل تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے اور ساری رات جاگتے تھے) آپ پر خوف خدا اس قدر الب تھا کہ ہمیشہ گریہ کرتے رہتے تھے اور جو شخص آپ پر نظر ڈالتا تھا اس پر بھی گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ شخص نہایت مصیبت زدہ ہے۔ آپ جس روز مرید ہوئے اس کے بعد آپ نے اہل دینا کو نہ دیکھا بلکہ جب راستے میں کوئی اہل دینا نظر آتا تو آپ وہ راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اگر ات فاق سے کوئی اہل دینا سامنے آجاتا تو آپ اپنے کپڑے اتار کر درویشوں کو دیدیتے تھے اس خوف سے کہ شاہد اہل دینا کے پاؤں کی خاک کپڑوں پر پڑی ہو۔ آپ صاحب سماع، صاح کرامات اور باعظمت بزرگ تھے۔ اور تین دن اور بعض اوقات چار اور پانچ روزہ کے بعد افطار کرتے تھے۔ آپ ہر روز پانچ سو رکعت نماز پڑھتے تھے اور روزانہ دو ختم قرآن کرتے تھے جس روز آپ کے گھر میں ف
1
اقہ ہوتا آپ چند رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ بیمار ہوجاؤں تاکہ نماز جماعت کے لیے نہ جاؤں اور خلق خدا کو نہ دیکھوں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس شخص کا مجھ پر احسانِ عظیم ہوگا جو راستے میں مجھ پر سلام نہ کہے۔ اور جب بیمار ہوں تو عبادت کو نہ آئے آپ فرماتے ہیں کہ جب رات آتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ مکمل خلوت حاصل ہوگی۔ جب صبح ہوتی ہے مجھے افسوس لگتا ہے کہ اب خلق خدا سے ملاقات ہوگی۔ کیونکہ اس سے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔

حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ ایک رات میں خواجہ فضیل ابن عیاض کی خدمت میں حاضر تھا اور آیات واخبار بیان کر رہا تھا۔ ناگاہ میری زبان سے یہ نکلا کہ آج کیا مبارک رات ہے اور کس قدر نیک صحبت ملی ہے حضرت خواجہ فضیل نے فرمایا بڑی بُری رات اور تباہ کن صحبت تھی۔ میں نے کہا کس وجہ سے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری خواہش یہ تھی کہ ایسی بات کہوں کہ مجھے اچھی لگے اور میری یہ آروز تھی کہ ایسا جواب دوں جو آپ کو اچھا لگے۔ اس طرح ایک دوسرے کو خوش کرنے کی خاطر ہم حق سے محروم رہے۔ اس سے تو تنہائی بہتر ہے جب حق تعالیٰ کے مناجات میں آدمی مصروف رہتا ہے۔

خلیفہ ہارون الرشید کا حاضر خدمت ہونا

مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ ایک رات خلیفہ ہارون الرشید حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض کی زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ اُس وقت آپ تلاوت قرآن م یں مشغول تھے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ام حسب الذین اجتر حوا السیئات ان تجعلھم کالذیان اٰمنوا وعمل الصّٰلحٰت (جو لوگ بُرے کام کرتے ہیں کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر رکھیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے)۔ جب ہارون الرشید نے یہ آیت سنی تو کہنے لگا کہ بس یہی نصیحت کافی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ کا وزیر فضل بر مکی اُسے حضرت خواجہ کے کمرے میں لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے۔ فضل نے کہا امیرالمومنین ہے آپ نے فرمایا اُسے مجھ سے کیا کام اور مجھے اس سے کیا کام ہے۔ فضل بر مکی کہا کہ امیر المومنین کی اطاعت واجب ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پریشان مت کرو۔ ہارون نے کہا میں اپنی اصلاح کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور حجرہ کا دروازہ کھولا اندر جاتے ہاروں نے قدموں پر ہاتھ رکاھ۔ آپنے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا کہ کیا ہی نرم ہاتھ ہے اگر دوزخ کی آگ سے بچ جائے تو۔ یہ بات سن کر ہارون الرشید پر گریہ طاری ہوگیا اور عرض کیا کہ کچھ اور فرمائیے۔ آپ نے فرمایا تیرے دادا حضرت عباس نے جو رسول خداﷺ کے چچا تھے آپﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کسی ملک کا امیر بناکر بھیج دیا جائے۔ آنحضرتﷺ نےفرمایا اے چچا جان آپ کے اسبات سے اللہ تعالیٰ کی عبادت بہتر ہے۔ اس پر ہارون نے کہا کہ کچھ اور فرمادیں آپ نے فرمایا جب حضرت عمر بن عبدالعزیزی کو مسند خلافت پر بٹھایاگیا تو انہوں نے سالم بن عبداللہ اور محمدﷺ بن کعب کو بلاکر کہا کہ میں اس مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہوں اب بتاؤ کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ کل قیامت کے دن نجاب ملے تو بوڑھوں کو باپ کی مانند سمجھو، جوانوں کو بھائی، چھوٹوں کو بیٹوں اور عورتوں کو بہنوں کی طرح سمجھو۔ غرضیکہ کہ جب کافی نصیحت کے بعد ہارون فارغ ہوا تو ایک ہزار دینار بطور نذر پیش کیے۔ آپ نے فرمایا میری اس نصیحت نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ تم ن ے وہی ظلم پھر سے شروع کردیا ہے۔ میں نے تیری نجات کا سمان کیا۔ تم مجھے مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ یہ کہہ کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہارون واپس چلا گیا۔ راستے میں اس نے اپنے وزیر سے کہا حقیقت میں مرد خواجہ فضیل ہے۔

اقوال زرّین

نقل ہے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں حق تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے عبادت کرتا ہوں نہ کی ڈر کی وجہ سے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ اصلِ دین کیا ہے فرمایا عقل۔ انہوں نے پوچھا کہ عقل کی اصل کیا ہے فرمایا حلم۔ انہوں نے پوچھا حلم کیا ہے فرمایا صبر۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ توکل یہ ہے کہ غیر سے امید نہ رکھے۔ اور متوکل ہو ہے اس ظاہر وباطن سب تسلیم بنجائے نغمات میں لکھا ہے کہ آپ کا ایک فرزند تھا۔ جب کسی نے اُن کے سامنے یہ آیت پڑھی ویوم القیامت تری المجرمین۔۔۔۔ الیٰ آخرہٖ تو نعرہ مارا اور جاں بحق ہوگئے۔ روایت ہے کہ حضرت خواجہ فضیل کو تیس سال تک کسی ہنستے ہوئے نہ دیکھا۔ لیکن جس روز اپ کے بیٹے کا وصال ہوا تو آپ نے تبسم فرمایا لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہنسنے کا وقت ہے فرمایا اس کی موت پر حق تعالیٰ راضی تھا چنانچہ میں بھی حق تعالیٰ کی موافقت کی ہے اور خوش ہوا ہوں۔

خلفاء

کتاب سیر الاقطاب میں لکھاہے کہ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض کے پانچ خلفاء تھے۔ سلطان ابتراہیم بن ادہم۔ شیخ محمد بن یزید شیرازی، خواجہ بشیر حافی، خواجہ ابی جار عطاری اور خواجہ عبداللہ سیّاری۔ آپ کے کمالات وکرامات اس قدر ہیں کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔

مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنی لڑکیوں کے مت
1
علق اہل خانہ کو وصیت فرمائی کہ ان کو کوہ بوقبیس پر لے ج انا اور یہ کہنا ک ہ الٰہی فضیل ہمیں نصیحت کی ہے کہ ان کو میں نے تیرے سپرد کیا۔ چنانچہ ہم ان کو اب تیرسے سپرد کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ کے وصال کے بعد لوگ ان کو اس پہاڑ پر لے گئے اس وقت یمن کا بادشاہ اپنے دو شہزادوں سمیت وہاں سےگذر رہا تھا۔ جب اس نے مجمع دیکھا۔ تو پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔ لوگوںنے حضر خواجہ کا وصیت کا حال بیان کیا تو اس نے اُسی وقت دونوں لڑکیوں کا نکاح اپنے شہزادوں سے کردیا اور یمن لے گیا۔

وصال آپ کا وصال بتاریخ تین ماہ ربیع الاوّل، دوسری روایت کے مطابق ماہ محرم ۱۸۷؁ھ کو مکہ معظمہ میں ہوا۔ روایت ہے کہ جب کسی نے سورت القاریہ پڑھی تو آپ نے نعرہ مارا اور جاں بحق ہوئے۔ آپ کی قبر بیت الھرام کے قریب قبرستان جنت المعلیٰ میں حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ کے روضۂ اقدس کے نزدیک ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کےوصال کی تاریخ یہ نکلی ہے ‘‘قطب جہاں بود’’

اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد

( اقتباس الانوار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fuzail-bin-ayaz
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خادم حسین رضوی، شیخ الحدیث ، علامہ مولانا حافظ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ الحدیث حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی ۳ ربیع الاول ۱۳۸۶ھ/۲۲جون ۱۹۶۶ء بروز بدھ "نکہ کلاں" اٹک میں حاجی لعل خاں علیہ الرحمۃ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جہلم و دینہ کے مدارس میں حفظ و تجوید کی تکمیل کے بعد شہرۂ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم کی۔ آپ کے اساتذہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی، مجاہد اسلام حضرت مولانا محمد رشید نقشبندی، استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف نقشبندی، شرف ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ حافظ عبد الستار سعیدی اور استاذ العلماء حضرت مولانا محمد صدیق ہزاروی جیسی شخصیات شامل ہیں۔
روحانی طور پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں عارف کامل حضرت اقدس خواجہ محمد عبد الواحد صاحب المعروف حاجی پیر صاحب سے کالا دیو شریف جہلم میں بیعت ہیں۔ تقریباً دو عشروں سے جامعہ نظامیہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ہزار شاگرد اس وقت ملک عزیز کے طول و عرض میں خدمات دینیہ میں مصروف عمل ہیں۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ تصنیف و تالیف میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ علم صَرف میں تیسیر ابواب الصرف اور تعلیلات خادمیہ آپ کی نوک قلم کی یادگار ہیں۔ اللہ رب العزت نے خطابت میں دلنشین و منفرد انداز عطا فرمایا ہے۔ روایتی تقاریر سے ہٹ کر آپ کے خطابات "دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے" کے مصداق پُر اثر ہوتے ہیں۔

اس وقت آپ فدایانِ ختم نبوت پاکستان اور مجلس علماء نظامیہ کے مرکزی امیر ہیں۔ اس کے علاوہ دارالعلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سرپرست و نگران اور معاون ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-ul-hadees-hazrat-allama-hafiz-khadim-hussain-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نام ونسب:
اسم گرامی:
رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ (بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘سے تعلق تھا۔۔ مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔ والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔بعض تذکرہ نگاروں نےآپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔(ضیائے ازواج مطہرات:402/سیرتِ مصطفیٰ:664)

قبولِ اسلام:
آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔

پہلا نکاح:
ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبداﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھاجو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آ گئے اور مدینہ منورہ کی طرف فرمائی۔

دورِ ابتلاء:
شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کےظلم وستم کا نشانہ بنے۔جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابو سلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہر گز ہر گز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آ گیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘کوہرگزہرگزتمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابو سلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔

حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اوربچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زارو قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہو گئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہاکہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ اﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خداکی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پرسوارہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔ چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا (زرقانی جلد۳ ص۲۳۹) ـ
1
شرفِ ام المؤمنین:
حضرت ابو سلمہ کے انتقال کے بعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضور ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئیں۔(امہات المؤمنین:41)

سیرت و خصائص:
حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول اﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا ۔حضورِ اقدس ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول اﷲ! ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اورخوداپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کرکہ حضور ﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مایوس ہو گئے کہ اب حضور ﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہر گز ہر گز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں۔

ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے ۔حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا(بخاری،رقم3634)

حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپ ﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب اﷲ کایہ فرمان ’’اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾ترجمہ کنزالایمان:اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔ (سورت الاحزاب:33)

حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہواتو رسول اﷲ ﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی،حضرت حسن اورحضرت حسین کو بلاکران پر چادر اوڑھائی ۔حضرت علی پیچھے کھڑے تھے ، ان پر بھی چادر ڈالی۔پھر فرمایا:اے اﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے اﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ (مسند امام احمد : 26550) ـ

حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے:آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ (مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271 ) اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید﷜آپ کےچچا زاد بھائی تھے۔(ضیائے ازاوج مطہرات:414)

تایخِ وصال:
امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے(یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 / 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین﷜ کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ ) کے پاس تھی ۔

ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہو گئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔ فرماتی تھیں :میں نے جِنّ عورتوں کو حسین کا مرثیہ کہتے سناہے۔ ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ ،حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ قبر میں اترے ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

ماخذ و مراجع:
مدارج النبوت ۔ ضیائے ازواج النبی ۔ امہات المؤمنین ۔ سیرت مصطفیٰ ۔ حدائق الاصفیاء ۔
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1