Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا فقیر محمد قاسم کالرو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا فقیر محمد قاسم بن فقیر محمد سلطان کالرو گوٹھ صاحبن جو کوٹ تحصیل و ضلع عمر کوٹ میں ۱۲۹۹ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آبائی گوٹھ میں مسجد کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد مٹیاری (ضلع حیدر آباد) میں حضرت علامہ قاضی لعل محمد متعلوی کے پاس تعلیم حاصل کی اور چند اسباق قاضی صاحب کے استاد محترم (یعنی اپنے دادا استاد) علامہ حسن اللہ صدیقی سے تبرکاً پڑھے ۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ آبائی گوٹھ کے مکتب میں مولانا عبد الرزاق کو معلم مقرر کیا گیا ہے اس لئے اپنے وطن واپس آ کر بقیہ نصابی کتب مولانا عبد الرزاق کے پاس پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت:
مٹیاری میں طالب علمی کے دور میں خانقاہ مجددیہ مٹیاری کے اس وقت کے سجادہ نشین حضرت عبد الحلیم جان سر ہندی عرف حاجی آغا رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت سر ہندی حضرات کے اسرار کے پیش نظر ان کی دعوت پر گوٹھ ’’ صاحبن جو کوٹ ‘‘ کے مدرسہ میں مدرس مقرر ہوئے، جہاں دس سال درس دیا اور اس عرصے میں بہت سے طلباء مستفید ہوئے ان میں افغانی اور اجھستانی طلباء بھی تھے ۔ گموری گوٹھ کے مشہور بزرگ حاجی حبیب اللہ پلی کی پر خلوص دعوت پر ان کے گوٹھ میں مسلسل تیرہ سال تک درس دیا ۔ ۲۳ برس کے دور میں آپ نے کبھی بھی کسی طالب علم کو مارنا تو دور کی بات ہے ڈانٹا بھی نہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ زندگی بھر مجرد رہے ۔ ۲۳ سال جلوت کے بعد خلوت میں چلے گئے، گوشہ نشینی اختیار فرمائی، بلکہ صوفیائے کرام کے ایک طبقہ ’’ ملامتی ‘‘ کے گروہ میں سے ہو گئے ۔ لوگوں سے چھپ کر عبادت کرنے لگے اس لئے جنگل میں رہنے لگے اور لوگوں کے سامنے اپنے کو برا بھلا کہتے تاکہ لوگ انہیں صالح متقی نہ سمجھیں بلکہ برا سمجھ کر دور ہو جائیں تا کہ وہ دل جمعی کے ساتھ خلوت میں دن رات مالک حقیقی کی بندگی کر سکیں ۔ دن رات جنگل میں چھپ کر گذارتے تھے، جس طرح لوگ اپنے گناہ کو چھپاتے ہیں اسی طرح آپ اپنی نیکیوں کو چھپاتے تھے ۔ کبھی کبھی دن میں شہر میں آتے تو لوگوں کو خوف خدا یاد دلاتے، عذاب قبر اور آتش جہنم سے ڈراتے ہوئے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رلاتے، ہمیشہ توبہ کرتے رہتے، آپ کو دیکھ کر لوگ بھی توبہ کرتے، خوف خدا آپ کی نس نس میں رچ گیا تھا ۔ آپ کی تبلیغ اور کوشش سے ہزاروں لوگ صراط مستقیم پر آئے اور صالح متقی انسان بن گئے ۔
آپ کردار کے غازی، سادگی سچائی کی تصویر، بے نفسی کا پیکر، صوفی باصفا، فقیر کامل اور مستجاب الدعوات تھے ۔ لوگ جب آپ کو ڈھونڈ کر پاتے تو آپ خوب اپنی برائی بیان کرتے تو لوگ پھر بھی آپ سے دور نہیں ہٹتے تو انہیں محبت و درد بھرے انداز میں نصیحت فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، حضور پاک ﷺ سے محبت کریں اور ان کے طریقے پاک پر عمل کریں، نماز پنجگانہ کی پابندی، رمضان المبارک کے روزے رکھیں، صاحب توفیق ہیں تو حج ادا کریں، صاحب نصاب ہیں تو زکوٰۃ دیں، سب سے محبت سے پیش آئیں، کسی پر ظلم نہ کریں، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم کریں، غریبوں و مہمانوں کو کھانا کھلائیں، پیاسوں کو پانی پلائیں، مساجد آباد کریں، ذکر کے حلقہ قائم کریں، غفلت سے بچیں موت کو ہر وقت یاد رکھیں، تقویٰ اختیار کریں ۔
نصیحت فرما کر پھر جنگل کی طرف بھا گ جاتے ۔ زندگی رب کریم پر کا ملل بھروسہ و یقین پر بسر کی ، متوکل ایسے کہ جو کچھ نذرانہ ملتا وہ اسی وقت راہ خدا میں خرچ کر دیتے اور کل کے لئے بچا کر نہیں رکھتے تھے۔ پورا ہفتہ جنگل میں گذار کر جمعہ کے روز شہر آتے نماز جمعہ ادا فرما کر پھر جنگل کا رخ اختیار فرماتے ۔ سفر و حضر میں دلائل الخیرات ، مثنوی معنوی مولانا روم ، کیمیائے سعادت امام غزالی ، دیوان غوث الاعظم جیلانی اور مکتوبات امام ربانی وغیرہ کتب تصوف کی گٹھڑی آپ کے پاس رہتی ۔
مولانا فقیر محمد قاسم بن فقیر محمد سلطان کالرو گوٹھ صاحبن جو کوٹ تحصیل و ضلع عمر کوٹ میں ۱۲۹۹ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آبائی گوٹھ میں مسجد کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد مٹیاری (ضلع حیدر آباد) میں حضرت علامہ قاضی لعل محمد متعلوی کے پاس تعلیم حاصل کی اور چند اسباق قاضی صاحب کے استاد محترم (یعنی اپنے دادا استاد) علامہ حسن اللہ صدیقی سے تبرکاً پڑھے ۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ آبائی گوٹھ کے مکتب میں مولانا عبد الرزاق کو معلم مقرر کیا گیا ہے اس لئے اپنے وطن واپس آ کر بقیہ نصابی کتب مولانا عبد الرزاق کے پاس پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت:
مٹیاری میں طالب علمی کے دور میں خانقاہ مجددیہ مٹیاری کے اس وقت کے سجادہ نشین حضرت عبد الحلیم جان سر ہندی عرف حاجی آغا رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت سر ہندی حضرات کے اسرار کے پیش نظر ان کی دعوت پر گوٹھ ’’ صاحبن جو کوٹ ‘‘ کے مدرسہ میں مدرس مقرر ہوئے، جہاں دس سال درس دیا اور اس عرصے میں بہت سے طلباء مستفید ہوئے ان میں افغانی اور اجھستانی طلباء بھی تھے ۔ گموری گوٹھ کے مشہور بزرگ حاجی حبیب اللہ پلی کی پر خلوص دعوت پر ان کے گوٹھ میں مسلسل تیرہ سال تک درس دیا ۔ ۲۳ برس کے دور میں آپ نے کبھی بھی کسی طالب علم کو مارنا تو دور کی بات ہے ڈانٹا بھی نہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ زندگی بھر مجرد رہے ۔ ۲۳ سال جلوت کے بعد خلوت میں چلے گئے، گوشہ نشینی اختیار فرمائی، بلکہ صوفیائے کرام کے ایک طبقہ ’’ ملامتی ‘‘ کے گروہ میں سے ہو گئے ۔ لوگوں سے چھپ کر عبادت کرنے لگے اس لئے جنگل میں رہنے لگے اور لوگوں کے سامنے اپنے کو برا بھلا کہتے تاکہ لوگ انہیں صالح متقی نہ سمجھیں بلکہ برا سمجھ کر دور ہو جائیں تا کہ وہ دل جمعی کے ساتھ خلوت میں دن رات مالک حقیقی کی بندگی کر سکیں ۔ دن رات جنگل میں چھپ کر گذارتے تھے، جس طرح لوگ اپنے گناہ کو چھپاتے ہیں اسی طرح آپ اپنی نیکیوں کو چھپاتے تھے ۔ کبھی کبھی دن میں شہر میں آتے تو لوگوں کو خوف خدا یاد دلاتے، عذاب قبر اور آتش جہنم سے ڈراتے ہوئے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رلاتے، ہمیشہ توبہ کرتے رہتے، آپ کو دیکھ کر لوگ بھی توبہ کرتے، خوف خدا آپ کی نس نس میں رچ گیا تھا ۔ آپ کی تبلیغ اور کوشش سے ہزاروں لوگ صراط مستقیم پر آئے اور صالح متقی انسان بن گئے ۔
آپ کردار کے غازی، سادگی سچائی کی تصویر، بے نفسی کا پیکر، صوفی باصفا، فقیر کامل اور مستجاب الدعوات تھے ۔ لوگ جب آپ کو ڈھونڈ کر پاتے تو آپ خوب اپنی برائی بیان کرتے تو لوگ پھر بھی آپ سے دور نہیں ہٹتے تو انہیں محبت و درد بھرے انداز میں نصیحت فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، حضور پاک ﷺ سے محبت کریں اور ان کے طریقے پاک پر عمل کریں، نماز پنجگانہ کی پابندی، رمضان المبارک کے روزے رکھیں، صاحب توفیق ہیں تو حج ادا کریں، صاحب نصاب ہیں تو زکوٰۃ دیں، سب سے محبت سے پیش آئیں، کسی پر ظلم نہ کریں، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم کریں، غریبوں و مہمانوں کو کھانا کھلائیں، پیاسوں کو پانی پلائیں، مساجد آباد کریں، ذکر کے حلقہ قائم کریں، غفلت سے بچیں موت کو ہر وقت یاد رکھیں، تقویٰ اختیار کریں ۔
نصیحت فرما کر پھر جنگل کی طرف بھا گ جاتے ۔ زندگی رب کریم پر کا ملل بھروسہ و یقین پر بسر کی ، متوکل ایسے کہ جو کچھ نذرانہ ملتا وہ اسی وقت راہ خدا میں خرچ کر دیتے اور کل کے لئے بچا کر نہیں رکھتے تھے۔ پورا ہفتہ جنگل میں گذار کر جمعہ کے روز شہر آتے نماز جمعہ ادا فرما کر پھر جنگل کا رخ اختیار فرماتے ۔ سفر و حضر میں دلائل الخیرات ، مثنوی معنوی مولانا روم ، کیمیائے سعادت امام غزالی ، دیوان غوث الاعظم جیلانی اور مکتوبات امام ربانی وغیرہ کتب تصوف کی گٹھڑی آپ کے پاس رہتی ۔
❤1
تصنیف و تالیف:
آپ کو لکھنے کا انتہائی شوق تھا، روزانہ ڈائری لکھنا آپ کے معمول میں شامل تھا۔ لوگوں و طلباء کو حسب ضرورت و حسب فرمائش نصیحت وعظ کی باتیں نماز روزہ حج و زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل مضامین تحریر کرکے دیتے تھے۔ تھر کے غریب وپس ماندہ علاقہ میں دینی کتب خریدنے کی وسعت کہاں تھی؟آپ نے اس طرح دینی کتب لکھ کر غریب پروری کی، آپ کی اس خاموش تبلیغ سے بھی کافی لوگ دینی تعلیم سے بہر ہ مند ہوئے۔ ایسا قلمی مواد آپ کے مریدین معتقدین و شاگردوں کے پاس محفوظ ہے ۔ آپ دینی کتابوں کو بلا معاوضہ جلد بندی کر کے دیتے تھے۔
۱۔ گوہر ن جو گنج ( ناصحانہ شاعری ) مرتبہ مولانا پیر محمد ابراہیم خلیل سر ہندی
۲۔ لگاگھمن لوک میں ( ناصحانہ آزاد سندھی شاعری ) مرتبہ عبد المالک پلی ضلع عمر کوٹ
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کے سلسلہ میں بعض نام معلوم ہو سکے ہیں:
۱۔ مولانا شفیع محمد پلی
۲۔ حافظ جان محمد پلی
۳۔ لطف اللہ پلی ( ادیب و صحافی )
وصال:
مولانا فقیر محمد قاسم کا لرو نے ۳، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۳۱، اکتوبر ۱۹۵۴ء بروز اتوار گوٹھ محمد رحیم کالرو میں رشتہ داروں کے پاس تشریف لے آئے اور ان سب کو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی تلقین فرمائی ، نیکی کی دعوت اور برائی سے منع فرمایا اس کے بعد بیٹھک میں آکر لیٹ گئے کلمہ طیبہ زبان پر جاری ہوا اور روح جسم نورانی سے پرواز کر گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی جس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔ آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے، گنبد بنا ہوا ہے محمد رحیم کالرو اسٹیشن ( تحصیل سامارو ضلع عمر کوٹ ) سے ایک میل کی مسافت پر بچاء بند کے ساتھ آپ کا آستانہ مشہور ہے، سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت سے منایا جاتا ہے جس میں وعظ و نصیحت و نعت خوانی اور لنگر شریف کا اہتمام ہوتا ہے ۔ آپ کے وصال پر حضرت پیر ابراہیم جان سر ہندی نے سندھی میں قطعہ تاریخ وصال کہا۔
( ماخوذ: لکاگھمن لوک میں ( سندھی ) مطبوعہ عمر کوٹ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/muhammad-qasim-kalro
آپ کو لکھنے کا انتہائی شوق تھا، روزانہ ڈائری لکھنا آپ کے معمول میں شامل تھا۔ لوگوں و طلباء کو حسب ضرورت و حسب فرمائش نصیحت وعظ کی باتیں نماز روزہ حج و زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل مضامین تحریر کرکے دیتے تھے۔ تھر کے غریب وپس ماندہ علاقہ میں دینی کتب خریدنے کی وسعت کہاں تھی؟آپ نے اس طرح دینی کتب لکھ کر غریب پروری کی، آپ کی اس خاموش تبلیغ سے بھی کافی لوگ دینی تعلیم سے بہر ہ مند ہوئے۔ ایسا قلمی مواد آپ کے مریدین معتقدین و شاگردوں کے پاس محفوظ ہے ۔ آپ دینی کتابوں کو بلا معاوضہ جلد بندی کر کے دیتے تھے۔
۱۔ گوہر ن جو گنج ( ناصحانہ شاعری ) مرتبہ مولانا پیر محمد ابراہیم خلیل سر ہندی
۲۔ لگاگھمن لوک میں ( ناصحانہ آزاد سندھی شاعری ) مرتبہ عبد المالک پلی ضلع عمر کوٹ
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کے سلسلہ میں بعض نام معلوم ہو سکے ہیں:
۱۔ مولانا شفیع محمد پلی
۲۔ حافظ جان محمد پلی
۳۔ لطف اللہ پلی ( ادیب و صحافی )
وصال:
مولانا فقیر محمد قاسم کا لرو نے ۳، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۳۱، اکتوبر ۱۹۵۴ء بروز اتوار گوٹھ محمد رحیم کالرو میں رشتہ داروں کے پاس تشریف لے آئے اور ان سب کو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی تلقین فرمائی ، نیکی کی دعوت اور برائی سے منع فرمایا اس کے بعد بیٹھک میں آکر لیٹ گئے کلمہ طیبہ زبان پر جاری ہوا اور روح جسم نورانی سے پرواز کر گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی جس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔ آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے، گنبد بنا ہوا ہے محمد رحیم کالرو اسٹیشن ( تحصیل سامارو ضلع عمر کوٹ ) سے ایک میل کی مسافت پر بچاء بند کے ساتھ آپ کا آستانہ مشہور ہے، سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت سے منایا جاتا ہے جس میں وعظ و نصیحت و نعت خوانی اور لنگر شریف کا اہتمام ہوتا ہے ۔ آپ کے وصال پر حضرت پیر ابراہیم جان سر ہندی نے سندھی میں قطعہ تاریخ وصال کہا۔
( ماخوذ: لکاگھمن لوک میں ( سندھی ) مطبوعہ عمر کوٹ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/muhammad-qasim-kalro
scholars.pk
Hazrat Molana Faqeer Muhammad Qasim Kalro
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔
حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔
حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ
؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔
حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔
حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ
؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
❤1
تحریکِ پاکستان میں کردار:
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ
آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:
1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ
2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ
3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔
مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:
سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول
ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا
راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن
نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور
بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد
کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا
مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود
گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی
رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں
ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ
1372
https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ
آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:
1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ
2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ
3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔
مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:
سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول
ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا
راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن
نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور
بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد
کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا
مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود
گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی
رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں
ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ
1372
https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
scholars.pk
Arif-e-Kamil Hazrat Syed Noor Al-Hasan Shah Bukari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: میاں شیر محمد ۔ لقب: شیر ِربانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری بن میاں عزیز الدین شرقپوری بن محمد حسین بن مولانا غلام رسول بن حافظ محمد عمر بن حضرت صالح محمد علیم الرحمہ ۔
حضرت شیر ربانی کے والد گرامی جناب میاں عزیز الدین شکل و صورت میں باپ بیٹا مشابہ تھے ۔ سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ اکثر سلسلہ قادریہ کے اوراد و ظائف میں مصروف رہتے ۔ رہتک (انڈیا) میں ملازمت کرتے تھے ۔ اسی جگہ سفر آخرت اختیار کیا ۔ آپ کے جدِ امجد حضرت مولانا غلام رسول اپنے وقت کے عالم و عارف اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے، ان کے والد بزرگوار جناب حافظ محمد عمر ایک ماہر کاتب اور حاذق حکیم، اور بہت ہی سعادت مند اور صالح تھے ۔
حضرت شیر ربانی کے جد اعلیٰ حضرت میاں صالح محمد قرآن مجید کی کتابت کیا کرتے تھے ۔ صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ حضرت شیر ربانی کے آباؤ اجداد افغانی پٹھان تھے ۔ افغانستان میں شاہی خاندان کے اساتذہ و اتالیق کا شرف حاصل تھا ۔ ہندوستان میں جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو عرب وعجم کے دیگر علماء و مشائخ کی طرح یہ حضرات بھی دیپالپور میں وارد ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد دیپالور میں جب قحط سالی کا شکار ہوا تو اس خانوادے نے وہاں سے نقل مکانی کرکے قصور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ قصور اس وقت علم و فن کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ بعد میں مولانا غلام رسول نے شرقپور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ (تاریخ و تذکرہ خانقاہ شرقپور:33 / انوار جمیل:49) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1282ھ مطابق 1865ء کو شرقپور شریف ضلع شیخو پورہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
قبل از ولادت بشارت:
حضرت خواجہ امیر الدین (متوفی 1931) حضرت شیر ربانی کی ولادت سے قبل جب شرقپور میں تشریف لاتے تو فرماتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں کشف سے مطلع فرمایا ہے کہ اس مبارک خطہ میں ایک شیرِ خدا پیدا ہوگا‘‘ ۔ اسی طرح آپ کی ولادت سے قبل ایک مجذوب شرقپور کا چکر لگاتے رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’اس علاقے میں اللہ کریم کے مقبول بندوں میں سے ایک بندہ پیدا ہوگا، میں اس کی مست کرنے والی خوشبو سے اپنی روح کو مسرور اور دل ودماغ کو معطر کرتا ہوں‘‘ ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35) ـ
تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ پر محبتِ الہٰیہ کا غلبہ تھا ۔ حیاء کا یہ عالم تھا کہ گلی کو چے میں چادر اوڑھ کر گزرتے ۔ محلے کی عورتیں کہا کرتی تھیں ہمارے محلہ میں لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔ ختم قرآن پاک کے بعد مڈل اسکول شر قپور میں پانچ جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ سکول سے واپس آکر مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ جاتے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ۔ بعد ازاں فارسی کی کچھ کتابیں اپنے چچا حضرت حافظ حمید الدین اور جد مکرم حافظ محمد حسین سے پڑھیں، حکیم شیر علی سے بھی کچھ پڑھا ۔ اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ امیر الدین سے تصوف وسیرت کی کتب کا درس لیا ۔ پھر خوشنویسی کا شوق پیدا ہوا اور اس فن میں کمال حاصل کیا ۔ کئی قرآن پاک جن کے ابتدائی اور آخری پارے بو سیدہ ہو گئے تھے، انہیں خود لکھ کر مکمل کیا ۔ ظاہری طور پر صرف اسی قدر تعلیم حاصل کی لیکن قدرت ایزدی نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے مالا مال کر دیا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ہوتے تو خمیدہ سر، دوزانو ہو کر بیٹھتے اور آپ کے علوم و معارف سے مستفید ہوتے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کے خاندان کے ایک بزرگ حجرہ شاہ مقیم کےبزرگ پیر سید سعادت علی سےارادت رکھتے تھے ۔ لہذا شروع میں آپ انہیں کے پاس گئے تو انہوں نے آپ سے فرمایا: تم کسی بلند مرتبہ و کامل مرشد کی تلاش کرو ۔ ہم دستگیری کرنے سے عاجز ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت خواجہ امیر الدین نے فرمایا ہم بیس سال سے شرقپور میں جا رہے ہیں اور اس جستجو میں ہیں کہ اس طائر لاہوتی کو اپنے دام میں لائیں، اور اسے نسبتِ نقشبندیہ اسے پہنچائیں ۔ بالآخر حضرت بابا امیر الدین کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اجازت و خلافت سے مشر ف ہوئے ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35 / تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: میاں شیر محمد ۔ لقب: شیر ِربانی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری بن میاں عزیز الدین شرقپوری بن محمد حسین بن مولانا غلام رسول بن حافظ محمد عمر بن حضرت صالح محمد علیم الرحمہ ۔
حضرت شیر ربانی کے والد گرامی جناب میاں عزیز الدین شکل و صورت میں باپ بیٹا مشابہ تھے ۔ سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ اکثر سلسلہ قادریہ کے اوراد و ظائف میں مصروف رہتے ۔ رہتک (انڈیا) میں ملازمت کرتے تھے ۔ اسی جگہ سفر آخرت اختیار کیا ۔ آپ کے جدِ امجد حضرت مولانا غلام رسول اپنے وقت کے عالم و عارف اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے، ان کے والد بزرگوار جناب حافظ محمد عمر ایک ماہر کاتب اور حاذق حکیم، اور بہت ہی سعادت مند اور صالح تھے ۔
حضرت شیر ربانی کے جد اعلیٰ حضرت میاں صالح محمد قرآن مجید کی کتابت کیا کرتے تھے ۔ صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ حضرت شیر ربانی کے آباؤ اجداد افغانی پٹھان تھے ۔ افغانستان میں شاہی خاندان کے اساتذہ و اتالیق کا شرف حاصل تھا ۔ ہندوستان میں جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو عرب وعجم کے دیگر علماء و مشائخ کی طرح یہ حضرات بھی دیپالپور میں وارد ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد دیپالور میں جب قحط سالی کا شکار ہوا تو اس خانوادے نے وہاں سے نقل مکانی کرکے قصور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ قصور اس وقت علم و فن کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ بعد میں مولانا غلام رسول نے شرقپور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ (تاریخ و تذکرہ خانقاہ شرقپور:33 / انوار جمیل:49) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1282ھ مطابق 1865ء کو شرقپور شریف ضلع شیخو پورہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔
قبل از ولادت بشارت:
حضرت خواجہ امیر الدین (متوفی 1931) حضرت شیر ربانی کی ولادت سے قبل جب شرقپور میں تشریف لاتے تو فرماتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں کشف سے مطلع فرمایا ہے کہ اس مبارک خطہ میں ایک شیرِ خدا پیدا ہوگا‘‘ ۔ اسی طرح آپ کی ولادت سے قبل ایک مجذوب شرقپور کا چکر لگاتے رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’اس علاقے میں اللہ کریم کے مقبول بندوں میں سے ایک بندہ پیدا ہوگا، میں اس کی مست کرنے والی خوشبو سے اپنی روح کو مسرور اور دل ودماغ کو معطر کرتا ہوں‘‘ ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35) ـ
تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ پر محبتِ الہٰیہ کا غلبہ تھا ۔ حیاء کا یہ عالم تھا کہ گلی کو چے میں چادر اوڑھ کر گزرتے ۔ محلے کی عورتیں کہا کرتی تھیں ہمارے محلہ میں لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔ ختم قرآن پاک کے بعد مڈل اسکول شر قپور میں پانچ جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ سکول سے واپس آکر مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ جاتے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ۔ بعد ازاں فارسی کی کچھ کتابیں اپنے چچا حضرت حافظ حمید الدین اور جد مکرم حافظ محمد حسین سے پڑھیں، حکیم شیر علی سے بھی کچھ پڑھا ۔ اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ امیر الدین سے تصوف وسیرت کی کتب کا درس لیا ۔ پھر خوشنویسی کا شوق پیدا ہوا اور اس فن میں کمال حاصل کیا ۔ کئی قرآن پاک جن کے ابتدائی اور آخری پارے بو سیدہ ہو گئے تھے، انہیں خود لکھ کر مکمل کیا ۔ ظاہری طور پر صرف اسی قدر تعلیم حاصل کی لیکن قدرت ایزدی نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے مالا مال کر دیا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ہوتے تو خمیدہ سر، دوزانو ہو کر بیٹھتے اور آپ کے علوم و معارف سے مستفید ہوتے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ
بیعت و خلافت:
آپ کے خاندان کے ایک بزرگ حجرہ شاہ مقیم کےبزرگ پیر سید سعادت علی سےارادت رکھتے تھے ۔ لہذا شروع میں آپ انہیں کے پاس گئے تو انہوں نے آپ سے فرمایا: تم کسی بلند مرتبہ و کامل مرشد کی تلاش کرو ۔ ہم دستگیری کرنے سے عاجز ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت خواجہ امیر الدین نے فرمایا ہم بیس سال سے شرقپور میں جا رہے ہیں اور اس جستجو میں ہیں کہ اس طائر لاہوتی کو اپنے دام میں لائیں، اور اسے نسبتِ نقشبندیہ اسے پہنچائیں ۔ بالآخر حضرت بابا امیر الدین کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اجازت و خلافت سے مشر ف ہوئے ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35 / تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ
❤1
سیرت و خصائص:
زبدۃ الاصفیاء، عمدۃ الاتقیاء، سند الاولیاء، قطبِ ربانی، شیر یزدانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری ۔ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے جید مشائخ میں سے تھے ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے علم و فضل تقویٰ و عمل میں اپنی مثال آپ تھا ۔ آپ اپنے خاندان اور سلسلے کے بزرگوں کے وارث کامل اور مصطفیٰ کریم ﷺ کے نائبِ اکمل تھے ۔ آپ کی روحانیں کرنیں، آفتاب نقشبندیت سے فیض یاب ہو کر شرقپور کے افق سے پھوٹیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سارے جہاں کو منور کر دیا ۔ حضرت شیر ربانی نے شرقپور شریف میں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ کی بنیاد رکھی اور اپنی روحانی تربیت کی بدولت مخلوقِ خدا کو کتاب و سنت کی برکات سے مالا مال فرما دیا ۔ آپ نے اسلامی اقدار کے فروغ اور کتاب و سنت کی ترویج و ترقی کے لئے شب و روز ایسی محنت فرمائی کہ لوگ کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے ۔ آپ کی ذاتِ گرامی نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے بحر روحانیت سے لاکھوں انسانوں کو جامِ الست سے مخمور بنایا اور بڑی ہمت جرأت و ہمت سے فسق و فجور اور بدعت و ضلالت کے خلاف بیج بوئے اور عمر بھر ان کی آبیاری و نگہداشت فرماتے رہے ۔
آپ اوصافِ حمیدہ، اخلاق حسنہ، کمالات ِ روحانیہ، میں اپنی مثال آپ تھے ۔ اتباع سنت کی عملی تصویر تھے ۔ شہرت و نمود کو ناپسند کرتے تھے ۔ دین مبین کی نہایت سیدھے سادے انداز میں تلقین فرماتے جس کے اثر سے بڑے بڑے مغرب زدہ اور بھولے بھٹکے مسلمان راہ راست پر آ جاتے ۔ آپ کو اشاعتِ دین کا بے حد شوق تھا ۔ عربی و فارسی کی نایاب قلمی کتابوں کے تراجم اپنی طرف سے شائع فرماتے ۔ شرقپور اور اس کے گرد و نواح میں کئی مساجد تعمیر کروائیں ۔ ایثار و سخاوت کا یہ عالم تھا کہ جو پاس ہوتا، راہِ مولا میں لٹا دیتے ۔ سینکڑوں آپ کے دستر خوان پر پلتے ۔ کسر نفسی اور تواضع کی یہ کیفیت تھی کہ ملنے والوں سے السلام علیکم کہنے میں خود پہل کرتے ۔ کوئی تعظیمًا کھڑا ہوتا تو منع فرما دیتے ۔
حضرت میاں صاحب قدس سرہ کی پُر کشش شخصیت سے فیض یاب ہونے کے لئے دور دراز سے لوگ حاضر ہوتے اور شاد کام واپس جاتے ۔ آنے والے ہر عقیدت مند کو شریعتِ مطہرہ کی پیروی کا حکم دیتے ۔ بعض اوقات خلافِ شریعت صورت و سیرت رکھنے والے افراد کو صرف زبانی سمجھانے پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ تھپڑ تک رسید کر دیتے، کیا مجال کہ کوئی اُف بھی کر جائے، ایسے افراد نادم ہو کر تائب ہو جاتے اور عمر بھر میاں صاحب کے ممنون رہتے ۔ انگریز اور انگریزی تہذیب سے بہت زیادہ نفرت کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک ریلوے سپرنٹنڈنٹ آپ کی خدمت میں آیا ۔ جس کی داڑھی مونچھ تراشیدہ تھیں اور سر پر محکمانہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی ۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں انگریز کتنی تنخواہ دیتے ہیں ۔ اس نے کہا ایک ہزار یا گیارہ سو روپے ۔ آپ نے اس کے منہ پر ایسا زور سے تھپڑ مارا کہ اس کی ٹوپی دور جا گری اور پھر فرمایا کہ یہ ہزار روپیہ تمہیں منکر نکیر سے محفوظ رکھے گا اور پل صراط کو اسی کے ذریعے پار کروگے ۔ کیا روزِ حساب رشوت دےکر جنت میں چلے جاؤگے؟ یہ سب انگریزوں کی اولاد ہیں ۔ ایک مرتبہ علماء کی مجلس میں ارشاد فرمایا ۔ آج لوگوں کا کیا حال ہے کہ باپ بیٹے کا دشمن، بیوی خاوند کی دشمن، اور ہمسایہ ہمسائے کا دشمن ہے ۔ کیا آج سے بیس سال پہلے بھی لوگوں کی یہی حالت تھی؟ حاضرین نے عرض کیا نہیں ۔ اس سے پہلے لوگوں کےدرمیان محبت، خلوص، اور ہمدردی تھی ۔ جو آج مفقود ہو چکی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تمام انگریزوں کی نحوست ہے ۔ (تذکرہ خانقاہ شرقپور:51) ـ
شیر ربانی اور اعلیٰ حضرت:
حضرت شیر ربانی اور امام احمد رضا خاں علیہما الرحمہ ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد و نظریات میں بھی ہم آہنگی تھی ۔ آپ نے بھی عقائد اہل سنت کی پاسبانی کا حق ادا کر دیا ۔ جس طرح اعلیٰ حضرت گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ سے نفرت کرتے تھے اسی طرح آپ خود بھی اور اپنے مریدین کو بھی ان سے دور رہنے کی تلقین فرماتے تھے ۔ مفتی غلام جان ہزاروی خلیفہ اعلیٰ حضرت سے ملاقات میں فرمایا مولوی احمد علی لاہوری (دیوبندی) گزشتہ جمعہ یہاں آیا تھا، وہ یہاں جمعہ پڑھانا چاہتا تھا ۔ لیکن میں اس کی بد عقیدگی کی وجہ سے نہیں پڑھانے دیا ۔ آپ کی مسجد کے محراب پر لکھا ہوا ہے ۔ ’’ یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ ‘‘ ۔
زبدۃ الاصفیاء، عمدۃ الاتقیاء، سند الاولیاء، قطبِ ربانی، شیر یزدانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری ۔ آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے جید مشائخ میں سے تھے ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے علم و فضل تقویٰ و عمل میں اپنی مثال آپ تھا ۔ آپ اپنے خاندان اور سلسلے کے بزرگوں کے وارث کامل اور مصطفیٰ کریم ﷺ کے نائبِ اکمل تھے ۔ آپ کی روحانیں کرنیں، آفتاب نقشبندیت سے فیض یاب ہو کر شرقپور کے افق سے پھوٹیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سارے جہاں کو منور کر دیا ۔ حضرت شیر ربانی نے شرقپور شریف میں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ کی بنیاد رکھی اور اپنی روحانی تربیت کی بدولت مخلوقِ خدا کو کتاب و سنت کی برکات سے مالا مال فرما دیا ۔ آپ نے اسلامی اقدار کے فروغ اور کتاب و سنت کی ترویج و ترقی کے لئے شب و روز ایسی محنت فرمائی کہ لوگ کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے ۔ آپ کی ذاتِ گرامی نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے بحر روحانیت سے لاکھوں انسانوں کو جامِ الست سے مخمور بنایا اور بڑی ہمت جرأت و ہمت سے فسق و فجور اور بدعت و ضلالت کے خلاف بیج بوئے اور عمر بھر ان کی آبیاری و نگہداشت فرماتے رہے ۔
آپ اوصافِ حمیدہ، اخلاق حسنہ، کمالات ِ روحانیہ، میں اپنی مثال آپ تھے ۔ اتباع سنت کی عملی تصویر تھے ۔ شہرت و نمود کو ناپسند کرتے تھے ۔ دین مبین کی نہایت سیدھے سادے انداز میں تلقین فرماتے جس کے اثر سے بڑے بڑے مغرب زدہ اور بھولے بھٹکے مسلمان راہ راست پر آ جاتے ۔ آپ کو اشاعتِ دین کا بے حد شوق تھا ۔ عربی و فارسی کی نایاب قلمی کتابوں کے تراجم اپنی طرف سے شائع فرماتے ۔ شرقپور اور اس کے گرد و نواح میں کئی مساجد تعمیر کروائیں ۔ ایثار و سخاوت کا یہ عالم تھا کہ جو پاس ہوتا، راہِ مولا میں لٹا دیتے ۔ سینکڑوں آپ کے دستر خوان پر پلتے ۔ کسر نفسی اور تواضع کی یہ کیفیت تھی کہ ملنے والوں سے السلام علیکم کہنے میں خود پہل کرتے ۔ کوئی تعظیمًا کھڑا ہوتا تو منع فرما دیتے ۔
حضرت میاں صاحب قدس سرہ کی پُر کشش شخصیت سے فیض یاب ہونے کے لئے دور دراز سے لوگ حاضر ہوتے اور شاد کام واپس جاتے ۔ آنے والے ہر عقیدت مند کو شریعتِ مطہرہ کی پیروی کا حکم دیتے ۔ بعض اوقات خلافِ شریعت صورت و سیرت رکھنے والے افراد کو صرف زبانی سمجھانے پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ تھپڑ تک رسید کر دیتے، کیا مجال کہ کوئی اُف بھی کر جائے، ایسے افراد نادم ہو کر تائب ہو جاتے اور عمر بھر میاں صاحب کے ممنون رہتے ۔ انگریز اور انگریزی تہذیب سے بہت زیادہ نفرت کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک ریلوے سپرنٹنڈنٹ آپ کی خدمت میں آیا ۔ جس کی داڑھی مونچھ تراشیدہ تھیں اور سر پر محکمانہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی ۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں انگریز کتنی تنخواہ دیتے ہیں ۔ اس نے کہا ایک ہزار یا گیارہ سو روپے ۔ آپ نے اس کے منہ پر ایسا زور سے تھپڑ مارا کہ اس کی ٹوپی دور جا گری اور پھر فرمایا کہ یہ ہزار روپیہ تمہیں منکر نکیر سے محفوظ رکھے گا اور پل صراط کو اسی کے ذریعے پار کروگے ۔ کیا روزِ حساب رشوت دےکر جنت میں چلے جاؤگے؟ یہ سب انگریزوں کی اولاد ہیں ۔ ایک مرتبہ علماء کی مجلس میں ارشاد فرمایا ۔ آج لوگوں کا کیا حال ہے کہ باپ بیٹے کا دشمن، بیوی خاوند کی دشمن، اور ہمسایہ ہمسائے کا دشمن ہے ۔ کیا آج سے بیس سال پہلے بھی لوگوں کی یہی حالت تھی؟ حاضرین نے عرض کیا نہیں ۔ اس سے پہلے لوگوں کےدرمیان محبت، خلوص، اور ہمدردی تھی ۔ جو آج مفقود ہو چکی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تمام انگریزوں کی نحوست ہے ۔ (تذکرہ خانقاہ شرقپور:51) ـ
شیر ربانی اور اعلیٰ حضرت:
حضرت شیر ربانی اور امام احمد رضا خاں علیہما الرحمہ ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد و نظریات میں بھی ہم آہنگی تھی ۔ آپ نے بھی عقائد اہل سنت کی پاسبانی کا حق ادا کر دیا ۔ جس طرح اعلیٰ حضرت گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ سے نفرت کرتے تھے اسی طرح آپ خود بھی اور اپنے مریدین کو بھی ان سے دور رہنے کی تلقین فرماتے تھے ۔ مفتی غلام جان ہزاروی خلیفہ اعلیٰ حضرت سے ملاقات میں فرمایا مولوی احمد علی لاہوری (دیوبندی) گزشتہ جمعہ یہاں آیا تھا، وہ یہاں جمعہ پڑھانا چاہتا تھا ۔ لیکن میں اس کی بد عقیدگی کی وجہ سے نہیں پڑھانے دیا ۔ آپ کی مسجد کے محراب پر لکھا ہوا ہے ۔ ’’ یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ ‘‘ ۔
❤1
مولانا صابر نسیم بستوی لکھتے ہیں:
شیخ وقت حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوری کو خواب میں حضور غوث اعظم کی زیارت ہوئی ۔ میاں صاحب نے دریافت کیا حضور! اس وقت دنیا میں آپ کا نائب کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’بریلی میں احمد رضا‘‘ ۔ (امام احمد رضا کاملین کی نظر میں:50) ۔
بیداری کے بعد صبح ہی کو سفر کی تیاری شروع کر دی، مریدوں نے پوچھا حضور کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بریلی شریف کا قصد ہے ،رات فقیر نے خواب میں سرکارِ غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیار ت کی اور پوچھا حضور اس وقت دُنیا میں آپ کا نائب کون ہے تو فرمایا کہ ’’ احمد رضا ‘‘ لہٰذا ان کی زیارت کرنے جا رہا ہوں ۔ مریدوں نے عرض کیا حضور! ہم کو بھی اجازت ہو تو ہم بھی چلیں اور ان کی زیارت کریں آپ نے اجازت عطا فرمائی ۔ شیر ربانی میاں شیر محمد صاحب اپنے مریدین کے ہمراہ شرقپور شریف سے بریلی شریف چل دیئے ۔ یہاں بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ آج شیخِ پنجاب تشریف لارہے ہیں، اوپر والے کمرے میں ان کے قیام کا انتظام کیا جائے اس کمرے کو صاف کر کے فرش لگایا جائے ۔ جس وقت شیر پنجاب اعلیٰ حضر ت کے کاشانۂ اقدس پر پہنچے تو اعلیٰ حضر ت پھاٹک پر تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ فقیر استقبال کے لیے حاضر ہے ۔ مصافحہ و معانقہ کے بعد پھاٹک والے مکان کے اوپر حضرت کا قیام ہوا، تین روز تک یہیں قیام فرمایا، پھر اجازت چاہی (تجلیات امام احمد رضا از مولانا محمد امانت رسول قادری مطبوعہ برکاتی پبلیشر ز ص97 / امام احمد رضا کاملین کی نظر میں:50) ـ
قلندرِ لاہوری شیر ربانی کی بارگاہ میں:
مفکر اسلام صوفیاء سے نہایت عقیدت رکھتے تھے ۔ صوفیاء کرام کے مزار کی حاضری اس کی واضح دلیل ہے ۔ ایک روز بوقت چاشت میاں محمد شفیع مرحوم (حضرت میاں صاحب کے خالہ زاد بھائی اور تحریکِ پاکستان کےمجاہد تھے) اور علامہ محمد اقبال یہ دونوں حضرات آستانہ عالیہ شیر ربانی میں پہنچے۔علامہ کو ملکانہ گیٹ ملکاں والے ڈیرے میں ٹھہرایا گیا اور خود سر محمد شفیع حضرت میاں کی خدمت گئے اور عرض کیا کہ حضور!علامہ آگئے ہیں۔اگر آپ کی اجازت ہوتو میں انہیں آپ کی خدمت میں پیش کروں ؟آپ نےفرمایا آجائیں۔تھوڑی دیر میں علامہ اور سر شفیع بیٹھک میں آکر بیٹھ گئے۔ابھی بیٹھے ہی تھے کہ حضرت میاں کےنیچےاترنے کی آواز آئی تو دونوں تعظیماً کھڑے ہوگئے۔میاں صاحب نےآتے ہی فرمایاکہ آج ہم جیسا کون ہے؟کہ ہمارےہاں اقبال آیا ہے۔آپ نےخادم سےفرمایا کہ حجام کو بُلا لاؤ۔ہماری داڑھی،مونچھیں بھی ان جیسی بنادے،ہاں،ہاں آج اقبال جو ہمارے ہاں آیا ہے۔(یہ آپ کی تبلیغ کا مشفقانہ انداز تھا جس کےذریعے علامہ کو احساس دلارہےتھے کہ آپ نے سنتِ مصطفیٰﷺترک کررکھی ہے) ۔
سر محمد شفیع تو اپنی حالت پر قابوپائے بیٹھے رہے،مگر علامہ کی رقت قابو میں نہ رہی اور ان کی آنکھوں سےساون کی جھڑی لگ گئی۔ میاں صاحب نےدیکھتے ہی سر شفیع سمیت تمام لوگوں کا باہر نکال دیااور علامہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو اقبال پرسکون ہوگئے۔عرض کیا حضور! گناہوں سےنفرت تو بجاہےلیکن گنہگاروں سےتو روا نہیں ہے۔ہم تو اہل درد ہیں اور پہلے ہی مایوسیوں کے مارے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ نےبھی ہمیں ٹھکرادیا تو ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ ۔
پھر علامہ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور رندھی ہوئی آواز میں کہا حضور! مجھے کافر بنا دیا گیا ہے آپ مسلمان بنا دیجئے۔ حضرت میاں صاحب نےفرمایا: اقبال! خدا کی رحمت رونےوالوں کو بے حد پسند کرتی ہے۔گھبرائیں نہیں آپ مسلمان ہیں اور مسلمان ہی رہیں گے۔آپ کو کافر کہنے والے تمھارا نام عزت واحترام سےلیں گے۔منبروں پر تمھارے اشعار پڑھیں گے ۔
بعد ازیں لنگر کھلایا احترام سے رخصت کیا۔علامہ کی آستانہ عالیہ شیر ربانی پر حاضری کے بعد ان کی عزت و توقیر میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا اور پوری دنیا میں ان کے نام کا ڈنکا بجنے لگا ۔ یہ ایک ولی کامل کی زبان کا اثر ہے کہ آج ہر مکتبۂ فکر کے لوگ علامہ کے اشعار جھوم جھوم کر اسٹیجوں اور منبروں اور مجلسوں میں پڑھتے ہیں اور اپنے بیانات کو مزین کرتےہیں ۔ یہ ملاقات 1927ء میں ہوئی اور حضرت میاں صاحب کا انتقال 1928ء میں ہوگیا ۔ اس پر علامہ اپنی مجلسوں میں بہت افسوس کرتے تھے، اور فرماتے کاش میں پہلے حضرت کے ہاں حاضری کا شرف حاصل کرلیتا مگر بہت دیر سےان کےآستانے پر پہنچا۔ کہاجاتاہے آپ سے متأثر ہوکر علامہ نے اپنے اس شعر میں آپ کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
؏: نگاہِ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
تاریخِ وصال:
بروز پیر 3 ربیع الاول1347ھ مطابق 20 اگست 1928ء کو بعد نماز عشاء تقریباً ساڑھے گیارہ بجے شب، سورۃ الاخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے 65 سال کی عمر میں واصل بحق ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار جمیل ۔ تاریخ و تذکرہ شرق پور ۔ امام احمد رضا کاملین کی نظر میں ۔ تجلیات امام احمد رضا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-sher-muhammad-sharaqpuri
شیخ وقت حضرت شیر ربانی میاں شیر محمد شرقپوری کو خواب میں حضور غوث اعظم کی زیارت ہوئی ۔ میاں صاحب نے دریافت کیا حضور! اس وقت دنیا میں آپ کا نائب کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’بریلی میں احمد رضا‘‘ ۔ (امام احمد رضا کاملین کی نظر میں:50) ۔
بیداری کے بعد صبح ہی کو سفر کی تیاری شروع کر دی، مریدوں نے پوچھا حضور کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بریلی شریف کا قصد ہے ،رات فقیر نے خواب میں سرکارِ غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیار ت کی اور پوچھا حضور اس وقت دُنیا میں آپ کا نائب کون ہے تو فرمایا کہ ’’ احمد رضا ‘‘ لہٰذا ان کی زیارت کرنے جا رہا ہوں ۔ مریدوں نے عرض کیا حضور! ہم کو بھی اجازت ہو تو ہم بھی چلیں اور ان کی زیارت کریں آپ نے اجازت عطا فرمائی ۔ شیر ربانی میاں شیر محمد صاحب اپنے مریدین کے ہمراہ شرقپور شریف سے بریلی شریف چل دیئے ۔ یہاں بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ آج شیخِ پنجاب تشریف لارہے ہیں، اوپر والے کمرے میں ان کے قیام کا انتظام کیا جائے اس کمرے کو صاف کر کے فرش لگایا جائے ۔ جس وقت شیر پنجاب اعلیٰ حضر ت کے کاشانۂ اقدس پر پہنچے تو اعلیٰ حضر ت پھاٹک پر تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ فقیر استقبال کے لیے حاضر ہے ۔ مصافحہ و معانقہ کے بعد پھاٹک والے مکان کے اوپر حضرت کا قیام ہوا، تین روز تک یہیں قیام فرمایا، پھر اجازت چاہی (تجلیات امام احمد رضا از مولانا محمد امانت رسول قادری مطبوعہ برکاتی پبلیشر ز ص97 / امام احمد رضا کاملین کی نظر میں:50) ـ
قلندرِ لاہوری شیر ربانی کی بارگاہ میں:
مفکر اسلام صوفیاء سے نہایت عقیدت رکھتے تھے ۔ صوفیاء کرام کے مزار کی حاضری اس کی واضح دلیل ہے ۔ ایک روز بوقت چاشت میاں محمد شفیع مرحوم (حضرت میاں صاحب کے خالہ زاد بھائی اور تحریکِ پاکستان کےمجاہد تھے) اور علامہ محمد اقبال یہ دونوں حضرات آستانہ عالیہ شیر ربانی میں پہنچے۔علامہ کو ملکانہ گیٹ ملکاں والے ڈیرے میں ٹھہرایا گیا اور خود سر محمد شفیع حضرت میاں کی خدمت گئے اور عرض کیا کہ حضور!علامہ آگئے ہیں۔اگر آپ کی اجازت ہوتو میں انہیں آپ کی خدمت میں پیش کروں ؟آپ نےفرمایا آجائیں۔تھوڑی دیر میں علامہ اور سر شفیع بیٹھک میں آکر بیٹھ گئے۔ابھی بیٹھے ہی تھے کہ حضرت میاں کےنیچےاترنے کی آواز آئی تو دونوں تعظیماً کھڑے ہوگئے۔میاں صاحب نےآتے ہی فرمایاکہ آج ہم جیسا کون ہے؟کہ ہمارےہاں اقبال آیا ہے۔آپ نےخادم سےفرمایا کہ حجام کو بُلا لاؤ۔ہماری داڑھی،مونچھیں بھی ان جیسی بنادے،ہاں،ہاں آج اقبال جو ہمارے ہاں آیا ہے۔(یہ آپ کی تبلیغ کا مشفقانہ انداز تھا جس کےذریعے علامہ کو احساس دلارہےتھے کہ آپ نے سنتِ مصطفیٰﷺترک کررکھی ہے) ۔
سر محمد شفیع تو اپنی حالت پر قابوپائے بیٹھے رہے،مگر علامہ کی رقت قابو میں نہ رہی اور ان کی آنکھوں سےساون کی جھڑی لگ گئی۔ میاں صاحب نےدیکھتے ہی سر شفیع سمیت تمام لوگوں کا باہر نکال دیااور علامہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو اقبال پرسکون ہوگئے۔عرض کیا حضور! گناہوں سےنفرت تو بجاہےلیکن گنہگاروں سےتو روا نہیں ہے۔ہم تو اہل درد ہیں اور پہلے ہی مایوسیوں کے مارے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ نےبھی ہمیں ٹھکرادیا تو ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ ۔
پھر علامہ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور رندھی ہوئی آواز میں کہا حضور! مجھے کافر بنا دیا گیا ہے آپ مسلمان بنا دیجئے۔ حضرت میاں صاحب نےفرمایا: اقبال! خدا کی رحمت رونےوالوں کو بے حد پسند کرتی ہے۔گھبرائیں نہیں آپ مسلمان ہیں اور مسلمان ہی رہیں گے۔آپ کو کافر کہنے والے تمھارا نام عزت واحترام سےلیں گے۔منبروں پر تمھارے اشعار پڑھیں گے ۔
بعد ازیں لنگر کھلایا احترام سے رخصت کیا۔علامہ کی آستانہ عالیہ شیر ربانی پر حاضری کے بعد ان کی عزت و توقیر میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا اور پوری دنیا میں ان کے نام کا ڈنکا بجنے لگا ۔ یہ ایک ولی کامل کی زبان کا اثر ہے کہ آج ہر مکتبۂ فکر کے لوگ علامہ کے اشعار جھوم جھوم کر اسٹیجوں اور منبروں اور مجلسوں میں پڑھتے ہیں اور اپنے بیانات کو مزین کرتےہیں ۔ یہ ملاقات 1927ء میں ہوئی اور حضرت میاں صاحب کا انتقال 1928ء میں ہوگیا ۔ اس پر علامہ اپنی مجلسوں میں بہت افسوس کرتے تھے، اور فرماتے کاش میں پہلے حضرت کے ہاں حاضری کا شرف حاصل کرلیتا مگر بہت دیر سےان کےآستانے پر پہنچا۔ کہاجاتاہے آپ سے متأثر ہوکر علامہ نے اپنے اس شعر میں آپ کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
؏: نگاہِ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
تاریخِ وصال:
بروز پیر 3 ربیع الاول1347ھ مطابق 20 اگست 1928ء کو بعد نماز عشاء تقریباً ساڑھے گیارہ بجے شب، سورۃ الاخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے 65 سال کی عمر میں واصل بحق ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار جمیل ۔ تاریخ و تذکرہ شرق پور ۔ امام احمد رضا کاملین کی نظر میں ۔ تجلیات امام احمد رضا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-sher-muhammad-sharaqpuri
scholars.pk
Hazrat Mian Sher Muhammad Sharaqpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃا للہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: سید محمد۔ لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔ والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 محرم الحرام 718ھ مطابق 7 مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔
قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔
تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانینےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔
تعلق باللہ،سنتِ رسول اللہ،محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔
روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید اور شیخ جنید اور شیخ شبلی اور منصور حلاج کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔
نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔ جب نظر عنایت زیادہ ہوتی تو درجہ عد
نام ونسب:
اسم گرامی: سید محمد۔ لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔ والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4 محرم الحرام 718ھ مطابق 7 مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔
قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔
تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانینےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔
تعلق باللہ،سنتِ رسول اللہ،محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔
روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید اور شیخ جنید اور شیخ شبلی اور منصور حلاج کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔
نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔ جب نظر عنایت زیادہ ہوتی تو درجہ عد
❤1
م کو پہنچ جاتے۔ جب اس سے بھی زیادہ نظر عنایت ہوتی تو مقام فناء کو پہنچ جاتے اور فانی ازخود باقی بحق ہوجاتے۔ اس حال میں حضرت خواجہ یوں فرمایا کرتے کہ ہم تو دولتِ وصال کے واسطہ ہیں۔ اربابِ تکمیل و ایصال کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو طریقت کے گہوارے میں لٹاتے ہیں اور تربیت کے پستان سے دودھ پلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حد فصال کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے دودھ چھڑاتے ہیں اور بارگاہِ احدیت کا مَحرم بناتے ہیں۔ تاکہ حضرت عزت جل احسانہ سے بلا واسطہ فیض حاصل کرسکیں۔
فقر و ایثار: حضرت خواجہ فقیر تھے اور ہمیشہ فقر کی تائید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے محبت فقر سے پایا ہے۔ آپ کے دولت خانہ موسم سرما میں خاشاک مسجد ہوا کرتا اور گرما میں پرانا بوریا۔ ہر چیز بالخصوص طعام میں حلال کی رعایت اور شبہات سے اجتناب میں نہایت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ اپنی مجلس میں ہمیشہ اس حدیث نبوی کو بیان فرمایا کرتے تھے:ان العبادۃ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا طلب الحلال و جزء واحد منھا سائر العبادات۔۔عبادت دس جزء ہیں۔ جن میں سے نو طلب حلال ہیں اور ان میں سے ایک باقی عبادات ہیں۔باوجود کمال فقر کے آپ میں ایثار اعلیٰ درجہ کا تھا۔ جو شخص آپ کی خدمت میں ہدیہ لاتا۔ اتباعِ سنت کے طور پر آپ اسی قدر زیادہ اس کے ساتھ احسان کرتے۔ اگر کوئی دوست یا مہمان آپ کے درِ دولت پر آتا۔ جب شام ہوتی کھانا جس میں کچھ تکلف ہوتا لاتے اور اس کے آگے رکھتے۔ اور ایک طرف چراغ رکھ دیتے تاکہ وہ کھانا کھالے۔ اگر وہ سو جاتا اور ہوا سرد ہوتی تو خواہ گھر میں فقط ایک کپڑا ہوتا اس کو مہمان پر ڈال دیتے۔ آپ کا گذارہ زراعت سے تھا۔ ہر سال کچھ جو اور کچھ ماش بوتے۔ بیج۔ زمین اور بیلوں سے کام لینے میں بڑی احتیاط کیا کرتے۔ اکابر و علماء جو حاضر خدمت ہوتے آپ کا طعام بطور تبرک کھایا کرتے۔ شہر میں آپ کا کوئی مکان نہ تھا۔ کرایے کےمکان میں رہتےتھے۔ آپ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا۔ بندگی با خواجگی راست نمے آید۔
ملفوظاتِ عالیہ: آپ کےتمام ملفوظاتِ عالیہ آب زر سے تحریرکرنے کےقابل ہیں۔ان میں سےچند تحریرکیے جاتے ہیں۔
1۔ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دست آویز ہے۔ سنت مصطفےٰ ﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضلِ الٰہی لایا گیا ہے۔ اول سے آخر تک ہم نے یہی فضلِ الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل۔ اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں۔ مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔2۔ جس شخص نے اللہ کو پہچان لیا اُس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی۔ حضرت خواجہ علاؤ الدین فرماتے تھے کہ اس کلمہ قدسیہ سے حضرت خواجہ کی مراد یہ ہے کہ عارف پر اشیاء کا ظاہر ہونا اس کی توجہ پر موقوف ہے۔3۔ حدیث میں ہے: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ یعنی کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔ اس حدیث میں کسب ِرضا کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسب ِدنیا کی طرف۔4۔جو شخص اپنے آپ کو بکلیت خود حضرت حق تعالیٰ و تقدس کے سپرد کردے۔ اس کا غیر حق جل وعلا سے التجا کرنا شرک ہے۔ یہ شرک عام لوگوں کے لیے معاف ہے۔ مگر خواص کے لیے معاف نہیں۔5۔
تو شمع کی طرح بن۔ تو شمع کی طرح نہ بن۔ شمع کی طرح بن بایں معنیٰ کہ تو دوسرے کو روشنی پہنچائے۔ اور شمع کی طرح نہ بن بایں معنیٰ کہ تو اپنےآپ کو تاریکی میں رکھے۔6۔جس شخص نے کسی روزہمارا جوتا بھی سیدھا کیا ہے ہم اس کی شفاعت کریں گے۔
7۔درویش کو چاہیے کہ جو کچھ کہے حال سے کہے۔ مشائخ طریقت کا قول ہے کہ جو شخص ایسے حال سے کلام کرتا ہے جو اس میں نہیں حق تعالیٰ کبھی اس کو اس حال کی سعادت نہ بخشے گا۔8۔حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے مسخِ صورت اس امت سے مرتفع ہے مگر مسخِ باطن باقی ہے۔9۔اولیا کو اسرار پر آگاہی ہے اور آگاہی دی جاتی ہے لیکن وہ بغیر اجازت ان کو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے چھپاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ شور مچاتا ہے۔ ’’اسرار کا چھپانا ابرار کا کام ہے‘‘۔ 10۔لوگوں نے حضرت خواجہ قدس سرہ سے کرامت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہماری کرامت ظاہر ہے کہ باوجود اتنے گناہوں کے ہم روئے زمین پر چل سکتے ہیں۔
تاریخِ وصال: خواجہ علاؤ الدین عطار کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ کے انتقال کے وقت ہم سورہ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ جب سورت نصف ہوئی تو انوار ظاہر ہونے لگے۔پھر ہم کلمہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ کا سانس منقطع ہوگیا۔ حضرت کی عمر شریف پورے تہتر سال کی تھی۔ اور چوہترویں سال میں پیر کی رات 3/ ربیع الاول 791ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک’’ قصر ِعارفاں‘‘ مضافات بخارا، ازبکستان میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
فقر و ایثار: حضرت خواجہ فقیر تھے اور ہمیشہ فقر کی تائید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے محبت فقر سے پایا ہے۔ آپ کے دولت خانہ موسم سرما میں خاشاک مسجد ہوا کرتا اور گرما میں پرانا بوریا۔ ہر چیز بالخصوص طعام میں حلال کی رعایت اور شبہات سے اجتناب میں نہایت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ اپنی مجلس میں ہمیشہ اس حدیث نبوی کو بیان فرمایا کرتے تھے:ان العبادۃ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا طلب الحلال و جزء واحد منھا سائر العبادات۔۔عبادت دس جزء ہیں۔ جن میں سے نو طلب حلال ہیں اور ان میں سے ایک باقی عبادات ہیں۔باوجود کمال فقر کے آپ میں ایثار اعلیٰ درجہ کا تھا۔ جو شخص آپ کی خدمت میں ہدیہ لاتا۔ اتباعِ سنت کے طور پر آپ اسی قدر زیادہ اس کے ساتھ احسان کرتے۔ اگر کوئی دوست یا مہمان آپ کے درِ دولت پر آتا۔ جب شام ہوتی کھانا جس میں کچھ تکلف ہوتا لاتے اور اس کے آگے رکھتے۔ اور ایک طرف چراغ رکھ دیتے تاکہ وہ کھانا کھالے۔ اگر وہ سو جاتا اور ہوا سرد ہوتی تو خواہ گھر میں فقط ایک کپڑا ہوتا اس کو مہمان پر ڈال دیتے۔ آپ کا گذارہ زراعت سے تھا۔ ہر سال کچھ جو اور کچھ ماش بوتے۔ بیج۔ زمین اور بیلوں سے کام لینے میں بڑی احتیاط کیا کرتے۔ اکابر و علماء جو حاضر خدمت ہوتے آپ کا طعام بطور تبرک کھایا کرتے۔ شہر میں آپ کا کوئی مکان نہ تھا۔ کرایے کےمکان میں رہتےتھے۔ آپ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا۔ بندگی با خواجگی راست نمے آید۔
ملفوظاتِ عالیہ: آپ کےتمام ملفوظاتِ عالیہ آب زر سے تحریرکرنے کےقابل ہیں۔ان میں سےچند تحریرکیے جاتے ہیں۔
1۔ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دست آویز ہے۔ سنت مصطفےٰ ﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضلِ الٰہی لایا گیا ہے۔ اول سے آخر تک ہم نے یہی فضلِ الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل۔ اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں۔ مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔2۔ جس شخص نے اللہ کو پہچان لیا اُس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی۔ حضرت خواجہ علاؤ الدین فرماتے تھے کہ اس کلمہ قدسیہ سے حضرت خواجہ کی مراد یہ ہے کہ عارف پر اشیاء کا ظاہر ہونا اس کی توجہ پر موقوف ہے۔3۔ حدیث میں ہے: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ یعنی کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔ اس حدیث میں کسب ِرضا کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسب ِدنیا کی طرف۔4۔جو شخص اپنے آپ کو بکلیت خود حضرت حق تعالیٰ و تقدس کے سپرد کردے۔ اس کا غیر حق جل وعلا سے التجا کرنا شرک ہے۔ یہ شرک عام لوگوں کے لیے معاف ہے۔ مگر خواص کے لیے معاف نہیں۔5۔
تو شمع کی طرح بن۔ تو شمع کی طرح نہ بن۔ شمع کی طرح بن بایں معنیٰ کہ تو دوسرے کو روشنی پہنچائے۔ اور شمع کی طرح نہ بن بایں معنیٰ کہ تو اپنےآپ کو تاریکی میں رکھے۔6۔جس شخص نے کسی روزہمارا جوتا بھی سیدھا کیا ہے ہم اس کی شفاعت کریں گے۔
7۔درویش کو چاہیے کہ جو کچھ کہے حال سے کہے۔ مشائخ طریقت کا قول ہے کہ جو شخص ایسے حال سے کلام کرتا ہے جو اس میں نہیں حق تعالیٰ کبھی اس کو اس حال کی سعادت نہ بخشے گا۔8۔حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے مسخِ صورت اس امت سے مرتفع ہے مگر مسخِ باطن باقی ہے۔9۔اولیا کو اسرار پر آگاہی ہے اور آگاہی دی جاتی ہے لیکن وہ بغیر اجازت ان کو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے چھپاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ شور مچاتا ہے۔ ’’اسرار کا چھپانا ابرار کا کام ہے‘‘۔ 10۔لوگوں نے حضرت خواجہ قدس سرہ سے کرامت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہماری کرامت ظاہر ہے کہ باوجود اتنے گناہوں کے ہم روئے زمین پر چل سکتے ہیں۔
تاریخِ وصال: خواجہ علاؤ الدین عطار کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ کے انتقال کے وقت ہم سورہ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ جب سورت نصف ہوئی تو انوار ظاہر ہونے لگے۔پھر ہم کلمہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ کا سانس منقطع ہوگیا۔ حضرت کی عمر شریف پورے تہتر سال کی تھی۔ اور چوہترویں سال میں پیر کی رات 3/ ربیع الاول 791ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک’’ قصر ِعارفاں‘‘ مضافات بخارا، ازبکستان میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
❤1
حضرت خواجہ فضیل بن عیاض موسیٰ صفات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اہل حضرت کے بادشاہ۔ درگاہ وصلت کے سرتاج۔ ولایت کے آسمان، درایت کے آفتاب، کثیر الفضائل ابو علی الفضیل بن عیاض قدس سرہ ہیں آپ مشائخ کبار اور اپنے زمانہ کے معزز داروں میں سے تھے۔ اکثر گریہ و زاری میں مصروف رہتے اور ہمیشہ رنج و غم میں ڈوبے رہتے تھے دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہمیشہ کسی گہری اور سخت فکر میں محو رہتے ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ جناب خواجہ عبد الواحد سے پہنا تھا۔ آپ کے عبرت آمیز اور پر نصیحت کلمات میں سے چند کلمے یہ ہیں۔ "لا یتکمل ایمان العبد حتی یؤ دل ما افترض اللہ علیہ ویجتنب ماحرم اللہ علیہ ویرضی بما قسم اللہ لہ ثم خاف مع ذالک ان لا یتکمل الایمان ولا یقبل منہ" یعنی بندہ کا ایمان اسی وقت تکمیل کو پہنچتا ہے جب کہ وہ خدا کے مفروضات کو نہایت جرات و آزادی کے ساتھ ادا کرتا اور محرمات و ممنوعات سے محترز رہتا اور خدا کی قسمت پر گردن تسلیم خم کردیتا ہے۔ پھر باوجود ان تمام باتوں کے ہر وقت اس بات سے خائف و ترساں رہتا ہے کہ مُبادا اس کا ایمان تکمیل کو نہ پہنچا ہو اور خدا وندی دربار میں نظر قبول سے نہ دیکھا گیا ہو اسی طرح یہ بھی آپ کا قول ہے۔" اذا حب اللہ عبدا اکثر غمہ واذا بغض عبدا وسع علیہ دنیا"۔ یعنی جب خدا تعالیٰ کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو اکثر اوقات اسے غم و الم پہنچاتا رہتا ہے اور جب کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو اس پر دنیا کو وسیع کر دیتا ہے اور یہ بھی آپ کا ارشاد ہے۔" لو عرضت علی الدنیا بحذا فیر ھا ولا احاسب بھا لکنت القزرھا کما یتقذرا حدکم الجیفۃ"۔ یعنی اگر مجھ پر دنیا بتما مہا پیش کی جاتی اور اس پر مجھ سے حساب نہ لیا جاتا تو بھی میں اُسے اسی طرح پلید و نجس جانتا جس طرح کہ تم مردار کو پلید جانتے ہو اور یہ بھی آپ ہی کا حکیمانہ مقولہ ہے۔"ترک العمل لا جل الناس ھو الریاء والعمل لاجل الناس ھوالشرک"۔یعنی لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑ دینا ریا ہے اور ان کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ ابو علی رازی نقل کرتے ہیں کہ میں خواجہ فضیل کی صحبت میں کامل تیس برس تک رہا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ میں نے اس دراز مدت میں کسی وقت آپ کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ البتہ ایک دن لوگوں نے آپ کو مسکراتے دیکھا جیسا کہ آپ کے صاحبزادے علی جو آخر میں اولیا کے مرتبہ کو پہنچ گئے تھے نقل کرتے ہیں۔ اس وقت آپ سے دریافت کیا گیا کہ ہم نے آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا آج آپ کے اس تبسم کی کیا وجہ ہے فرمایا جس کام کو خدا دوست رکھتا ہے میں بھی اسے دوست رکھتا ہوں۔ منقول ہے کہ جب خواجہ فضیل ابتدائی عمر کے مرحلے طے کر رہے تھے تو آپ رہزنی کیا کرتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے تاجروں کے ایک قافلہ پر گھیرا ڈالا۔ قافلہ میں سے ایک قاری نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی۔ "الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ"۔ یعنی کیا ابھی لوگوں پر وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل خدا کے ذکر کے سبب ڈرجائیں۔ قاری نے یہ موثر الفاظ کچھ ایسے دردناک لہجہ سے ادا کیے جن کا اثر خواجہ فضیل کے دل میں برقی قوت بن کر دوڑ گیا اور ایک بے اختیارانہ جوش کے ساتھ آخر انہوں نے یہ کہہ دیا۔ ’’یارب قداٰن‘‘۔ یعنی خدا وند بے شک وہ وقت آپہنچا ہے۔ اس کہنے کے ساتھ ہی آپ کو رقت ہوئی اور اس دن سے آپ نے اس ظالمانہ پیشہ سے توبہ کی اور اپنے مخالفوں کو خوش کردیا۔ اس کے بعد آپ وہاں سے کوفہ میں آئے اور فاضل اجل امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی صحبت اختیار کی اور بے شمار اولیاء اللہ سے ملاقات کی۔
(سیر الاولیاء)
-----------------------
آپ کبار مشائخ مقتدا میں سے تھے۔ ابو علی اور ابوالفیض کنیت تھی کہتے ہیں آپ کے آباؤ اجداد کوفہ میں رہتے تھے لیکن آپ سمر قند یا بخارا میں پیدا ہوئے۔ خرقۂ خلافت خواجہ عبدالواحد بن زید سے حاصل کیا۔ شیخ المشائخ ابی عیاض بن منصور بن محمد سلمی کوفی سے بھی خلافت ملی تھی۔ انہیں محمد بن مسلم سے اور انہیں محمد حبیب مطعم قرشی سے اور انہیں حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خرقۂ فقر ملا تھا۔ خواجہ فضیل ہمیشہ روزہ رکھتے اور پانچ دنوں بعد افطاری کرتے سارے دن میں پانچ سو نفل ادا کرتے اور ہر روز قرآن پاک دو بار ختم کرتے تذکرۃ الاولیاء، سیرالاقطاب اور منیر المتقدمین میں لکھا ہے کہ خواجہ فضیل جوانی میں ڈاکے مارا کرتے تھے۔ علاقے کے بہت سے ڈاکو آپ کے پاس جمع رہتے اور آپ کی نگرانی میں ڈاکے مارے مسافروں سے لوٹا ہوا مال و متاع آپ کے پاس لاکر جمع کرتے۔ ایک دن ایک قافلے پر حملہ کیا، قافلے کو گھیرے میں لیا۔ قافلہ والوں کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ ایک شخص نے یہ آیت پڑھی:
اَلَمْ یانِ لِلَّذِیْنَ آمَنوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبِھِمْ لِذِکْرِ اللہ
(ترجمہ کیا ابھی ان لوگوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھیں۔)
یہ آیت سنتے ہی خواجہ فضیل نے محسوس کیا جیسے آسمان سے بچلی چمک کر ان کے دل پر گر پڑی ہے۔ قافلے کو وہیں چھوڑا بیابان کا راستہ لیا
اہل حضرت کے بادشاہ۔ درگاہ وصلت کے سرتاج۔ ولایت کے آسمان، درایت کے آفتاب، کثیر الفضائل ابو علی الفضیل بن عیاض قدس سرہ ہیں آپ مشائخ کبار اور اپنے زمانہ کے معزز داروں میں سے تھے۔ اکثر گریہ و زاری میں مصروف رہتے اور ہمیشہ رنج و غم میں ڈوبے رہتے تھے دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہمیشہ کسی گہری اور سخت فکر میں محو رہتے ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ جناب خواجہ عبد الواحد سے پہنا تھا۔ آپ کے عبرت آمیز اور پر نصیحت کلمات میں سے چند کلمے یہ ہیں۔ "لا یتکمل ایمان العبد حتی یؤ دل ما افترض اللہ علیہ ویجتنب ماحرم اللہ علیہ ویرضی بما قسم اللہ لہ ثم خاف مع ذالک ان لا یتکمل الایمان ولا یقبل منہ" یعنی بندہ کا ایمان اسی وقت تکمیل کو پہنچتا ہے جب کہ وہ خدا کے مفروضات کو نہایت جرات و آزادی کے ساتھ ادا کرتا اور محرمات و ممنوعات سے محترز رہتا اور خدا کی قسمت پر گردن تسلیم خم کردیتا ہے۔ پھر باوجود ان تمام باتوں کے ہر وقت اس بات سے خائف و ترساں رہتا ہے کہ مُبادا اس کا ایمان تکمیل کو نہ پہنچا ہو اور خدا وندی دربار میں نظر قبول سے نہ دیکھا گیا ہو اسی طرح یہ بھی آپ کا قول ہے۔" اذا حب اللہ عبدا اکثر غمہ واذا بغض عبدا وسع علیہ دنیا"۔ یعنی جب خدا تعالیٰ کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو اکثر اوقات اسے غم و الم پہنچاتا رہتا ہے اور جب کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو اس پر دنیا کو وسیع کر دیتا ہے اور یہ بھی آپ کا ارشاد ہے۔" لو عرضت علی الدنیا بحذا فیر ھا ولا احاسب بھا لکنت القزرھا کما یتقذرا حدکم الجیفۃ"۔ یعنی اگر مجھ پر دنیا بتما مہا پیش کی جاتی اور اس پر مجھ سے حساب نہ لیا جاتا تو بھی میں اُسے اسی طرح پلید و نجس جانتا جس طرح کہ تم مردار کو پلید جانتے ہو اور یہ بھی آپ ہی کا حکیمانہ مقولہ ہے۔"ترک العمل لا جل الناس ھو الریاء والعمل لاجل الناس ھوالشرک"۔یعنی لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑ دینا ریا ہے اور ان کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ ابو علی رازی نقل کرتے ہیں کہ میں خواجہ فضیل کی صحبت میں کامل تیس برس تک رہا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ میں نے اس دراز مدت میں کسی وقت آپ کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ البتہ ایک دن لوگوں نے آپ کو مسکراتے دیکھا جیسا کہ آپ کے صاحبزادے علی جو آخر میں اولیا کے مرتبہ کو پہنچ گئے تھے نقل کرتے ہیں۔ اس وقت آپ سے دریافت کیا گیا کہ ہم نے آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا آج آپ کے اس تبسم کی کیا وجہ ہے فرمایا جس کام کو خدا دوست رکھتا ہے میں بھی اسے دوست رکھتا ہوں۔ منقول ہے کہ جب خواجہ فضیل ابتدائی عمر کے مرحلے طے کر رہے تھے تو آپ رہزنی کیا کرتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے تاجروں کے ایک قافلہ پر گھیرا ڈالا۔ قافلہ میں سے ایک قاری نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی۔ "الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ"۔ یعنی کیا ابھی لوگوں پر وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل خدا کے ذکر کے سبب ڈرجائیں۔ قاری نے یہ موثر الفاظ کچھ ایسے دردناک لہجہ سے ادا کیے جن کا اثر خواجہ فضیل کے دل میں برقی قوت بن کر دوڑ گیا اور ایک بے اختیارانہ جوش کے ساتھ آخر انہوں نے یہ کہہ دیا۔ ’’یارب قداٰن‘‘۔ یعنی خدا وند بے شک وہ وقت آپہنچا ہے۔ اس کہنے کے ساتھ ہی آپ کو رقت ہوئی اور اس دن سے آپ نے اس ظالمانہ پیشہ سے توبہ کی اور اپنے مخالفوں کو خوش کردیا۔ اس کے بعد آپ وہاں سے کوفہ میں آئے اور فاضل اجل امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کی صحبت اختیار کی اور بے شمار اولیاء اللہ سے ملاقات کی۔
(سیر الاولیاء)
-----------------------
آپ کبار مشائخ مقتدا میں سے تھے۔ ابو علی اور ابوالفیض کنیت تھی کہتے ہیں آپ کے آباؤ اجداد کوفہ میں رہتے تھے لیکن آپ سمر قند یا بخارا میں پیدا ہوئے۔ خرقۂ خلافت خواجہ عبدالواحد بن زید سے حاصل کیا۔ شیخ المشائخ ابی عیاض بن منصور بن محمد سلمی کوفی سے بھی خلافت ملی تھی۔ انہیں محمد بن مسلم سے اور انہیں محمد حبیب مطعم قرشی سے اور انہیں حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خرقۂ فقر ملا تھا۔ خواجہ فضیل ہمیشہ روزہ رکھتے اور پانچ دنوں بعد افطاری کرتے سارے دن میں پانچ سو نفل ادا کرتے اور ہر روز قرآن پاک دو بار ختم کرتے تذکرۃ الاولیاء، سیرالاقطاب اور منیر المتقدمین میں لکھا ہے کہ خواجہ فضیل جوانی میں ڈاکے مارا کرتے تھے۔ علاقے کے بہت سے ڈاکو آپ کے پاس جمع رہتے اور آپ کی نگرانی میں ڈاکے مارے مسافروں سے لوٹا ہوا مال و متاع آپ کے پاس لاکر جمع کرتے۔ ایک دن ایک قافلے پر حملہ کیا، قافلے کو گھیرے میں لیا۔ قافلہ والوں کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ ایک شخص نے یہ آیت پڑھی:
اَلَمْ یانِ لِلَّذِیْنَ آمَنوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبِھِمْ لِذِکْرِ اللہ
(ترجمہ کیا ابھی ان لوگوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھیں۔)
یہ آیت سنتے ہی خواجہ فضیل نے محسوس کیا جیسے آسمان سے بچلی چمک کر ان کے دل پر گر پڑی ہے۔ قافلے کو وہیں چھوڑا بیابان کا راستہ لیا
❤1
اور زور زور سے رونا شروع کردیا، راستے میں ایک اور قافلہ ملا انہوں نے فضیل سے پوچھا کہ اس طرف فضیل ڈاکو تو نہیں ہے۔ حضرت فضیل نے فرمایا فکر نہ کرو فضیل ڈاکو نے توبہ کرلی ہے پہلے تم اس سے ڈرا کرتے تھے اب وہ تم سے ڈرتا ہے یہ بات کہہ کر وہ دلی طور پر تابع ہوگیا او رجان و دل سے اللہ سے محبت کرنے لگا۔
خواجہ فضیل جن دنوں ڈاکہ زنی کرتے تھے تو لوٹا ہوا مال الگ رکھ لیتے اور اس پر قافلے والوں کا نام لکھ لیتے۔ جن دنوں آپ نے توبہ کی جہاں کہیں کسی قافلے والے کے متعلق معلوم ہوا۔ اُس کے پاس جاتے اور اس کا مال واپس دے دیتے اور اُسے راضی کرتے۔ ایک دن ایک ایسے شخص کے پاس گئے جو یہودی تھا۔ وہ اپنا مال واپس لینے کے لیے تیار نہ تھا، کہنے لگا کہ میرے مال میں تو اتنا خالص سونا تھا کہ پہلے وہ لاؤ پھر میں راضی ہوں گا۔ حضرت خواجہ نے قسم کھاکر کہا کہ اس مال میں سونا نہیں تھا بڑی عاجزی و انکساری کی۔ دوسری طرف یہودی نے کہا کہ میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ جب تک مجھے میرا سونا نہ دو گے، میں راضی نہیں ہوں گا، میرے گھر کے اندر چلے جاؤ طاقچہ میں سونے کی بھری ایک تھیلی پڑی ہے اُسے اٹھا لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میری قسم پوری ہوجائے، پھر میں تم سے راضی ہوں گا۔ خواجہ اُس کے گھر میں گئے تھیلی اٹھائی۔ اُسے لاکر دی جب اُسے کھولا گیا تو اس میں خالص سونا موجود تھا۔ یہودی حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اب تو نے سچی توبہ کی ہے۔ اس تھیلی میں میں نے ریت بھری ہوئی تھی۔ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ نبی آخرزمان کے دین میں ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ جب وہ توبہ کریں گے اگر وہ مٹی پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ بھی سونا بن جائے گی۔ آج یہ مٹی تمہاری توجہ کی برکت سے سونا بن گئی ہے لہٰذا میں یقین رکھتا ہوں کہ تم نے سچی توبہ کی یہ کہہ کر اس یہودی نے بھی کلمہ پڑھ لیا اور اللہ کا مقبول بندہ بن گیا۔
اس واقعہ کے بعد حضرت خواجہ فضیل کوفہ میں چلے گئے اور حضرتِ امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ وہاں آپ کو بہت سے اولیاء اللہ کی زیارت ہوئی۔ وہاں سے بصرے آئے ان کا ارادہ تھا کہ خواجہ حسن بصری کی خدمت میں پہنچ کر مرید ہوجائیں۔ مگر اُن دنوں خواجہ حسن بصری وفات پاچکے تھے ۔ چنانچہ آپ عبدالواحد کی خدمت میں آئے اور مرید ہوگئے۔
جن دنوں ہارون الرشید مکہ میں آیا۔ تو اپنے وزیر کو لے کر مختلف بزرگوں کی زیارت کے لیے نکل پڑا۔ سب سے پہلے عبدالرزاق منفعانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ آپ کے ذمہ کچھ قرضہ ہو مجھے حکم دیں میں ادا کردوں۔ آپ نے اشارہ کیا تو ہارون الرشید نے آپ کا قرضہ ادا کردیا۔ اُس کے بعد ہارون الرشید حضرت سفیان بن عُیینہ کے پاس گیا اور ان کا قرضہ ادا کردیا۔ اپنے وزیر کو کہنے لگا ابھی تک میرے دل میں اولیاء اللہ کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ وزیر ہارون الرشید کو خواجہ فضیل بن عیاض کی خدمت میں لے آیا۔ آپ اس وقت حجرہ میں بیٹھے چراغ کی روشنی میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب کسی کے آنے کی آواز سنی حجرے کا دروازہ بند کردیا۔ اور آواز دی کہ اس اندھیری رات میں کون آ رہا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ امیرالمومنین ہارون الرشید ہیں حضرت خواجہ نے دیا بجھا دیا اور حجرے کا دروازہ کھولا ہارون حجرے کے اندر آیا اور حضرت خواجہ کو ڈھونڈھنے لگا۔ اُس کا ہاتھ حضرت خواجہ کے بدن کو لگا تو خواجہ نے چلا کر کہا ہارون تمہارے ہاتھ بڑٗے نرم ہیں۔ یہ تو دوزخ کی آگ کی لکڑی بننے والے ہیں۔ ہارون الرشید رونے لگا اور کہنے لگا کہ حضرت مجھے نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا کہ تمہارے والد حضور کے چچا تھے کوشش یہ کرو کہ قیامت کے دن اپنے باپ اور چچا سے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ ہارون الرشید نے کہا مجھے اور نصیحت کریں، فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرو۔ ادب سیکھو اور آلِ رسول اور صحابۂ رسول کی عزت کیا کرو ہارون الرشید نے کہا کہ اگر آپ پر کوئی قرضہ ہے تو حکم کریں میں ادا کردوں۔ آپ نے فرمایا مجھ پر قرضہ تو ہے مگر وہ میں ہی ادا کرسکتا ہوں اور وہ اطاعت الٰہی کا قرضہ ہے ہارون الرشید روانہ ہوا حضرت خواجہ سے جُدا ہوکر گھر آگیا۔
خواجہ ابو علی رازی فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک خواجہ فضیل کی خدمت میں رہا میں نے خواجہ کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا۔ ہاں اس دن ہنسے جس دن آپ کے بیٹے مبارک علی کا وصال ہوا۔ اس بیٹےکی وفات کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ خانۂ کعبہ میں زم زمکے کنویں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک شخص نے یہ آیت پڑھی: "وَضَعَ الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یا ویلتنا ما لہذا الکتاب" ترجمہ: (جن دنوں مجرموں کے سامنے نامۂ اعمال رکھا جائے گا۔ وہ کہیں گے ہائے ہمارا کیا حال ہے ! کاش ہمیں یہ نامۂِ اعمال نہ ملتا) اُس نے یہ آیت سنی نعرہ مارا اور جان اللہ کے حوالے کردی۔
خواجہ فضیل کے پانچ خلفاء تھے۔ پہلے سلطان ابراہیم بن ادھم دوسرے شیخ محمد شیرازی تیسرے خواجہ بشر حافی چوتھے شیخ ابی رجا عطاری اور پانچویں خواجہ عبدالباری رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ یہ پا
خواجہ فضیل جن دنوں ڈاکہ زنی کرتے تھے تو لوٹا ہوا مال الگ رکھ لیتے اور اس پر قافلے والوں کا نام لکھ لیتے۔ جن دنوں آپ نے توبہ کی جہاں کہیں کسی قافلے والے کے متعلق معلوم ہوا۔ اُس کے پاس جاتے اور اس کا مال واپس دے دیتے اور اُسے راضی کرتے۔ ایک دن ایک ایسے شخص کے پاس گئے جو یہودی تھا۔ وہ اپنا مال واپس لینے کے لیے تیار نہ تھا، کہنے لگا کہ میرے مال میں تو اتنا خالص سونا تھا کہ پہلے وہ لاؤ پھر میں راضی ہوں گا۔ حضرت خواجہ نے قسم کھاکر کہا کہ اس مال میں سونا نہیں تھا بڑی عاجزی و انکساری کی۔ دوسری طرف یہودی نے کہا کہ میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ جب تک مجھے میرا سونا نہ دو گے، میں راضی نہیں ہوں گا، میرے گھر کے اندر چلے جاؤ طاقچہ میں سونے کی بھری ایک تھیلی پڑی ہے اُسے اٹھا لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میری قسم پوری ہوجائے، پھر میں تم سے راضی ہوں گا۔ خواجہ اُس کے گھر میں گئے تھیلی اٹھائی۔ اُسے لاکر دی جب اُسے کھولا گیا تو اس میں خالص سونا موجود تھا۔ یہودی حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اب تو نے سچی توبہ کی ہے۔ اس تھیلی میں میں نے ریت بھری ہوئی تھی۔ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ نبی آخرزمان کے دین میں ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ جب وہ توبہ کریں گے اگر وہ مٹی پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ بھی سونا بن جائے گی۔ آج یہ مٹی تمہاری توجہ کی برکت سے سونا بن گئی ہے لہٰذا میں یقین رکھتا ہوں کہ تم نے سچی توبہ کی یہ کہہ کر اس یہودی نے بھی کلمہ پڑھ لیا اور اللہ کا مقبول بندہ بن گیا۔
اس واقعہ کے بعد حضرت خواجہ فضیل کوفہ میں چلے گئے اور حضرتِ امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ وہاں آپ کو بہت سے اولیاء اللہ کی زیارت ہوئی۔ وہاں سے بصرے آئے ان کا ارادہ تھا کہ خواجہ حسن بصری کی خدمت میں پہنچ کر مرید ہوجائیں۔ مگر اُن دنوں خواجہ حسن بصری وفات پاچکے تھے ۔ چنانچہ آپ عبدالواحد کی خدمت میں آئے اور مرید ہوگئے۔
جن دنوں ہارون الرشید مکہ میں آیا۔ تو اپنے وزیر کو لے کر مختلف بزرگوں کی زیارت کے لیے نکل پڑا۔ سب سے پہلے عبدالرزاق منفعانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ آپ کے ذمہ کچھ قرضہ ہو مجھے حکم دیں میں ادا کردوں۔ آپ نے اشارہ کیا تو ہارون الرشید نے آپ کا قرضہ ادا کردیا۔ اُس کے بعد ہارون الرشید حضرت سفیان بن عُیینہ کے پاس گیا اور ان کا قرضہ ادا کردیا۔ اپنے وزیر کو کہنے لگا ابھی تک میرے دل میں اولیاء اللہ کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ وزیر ہارون الرشید کو خواجہ فضیل بن عیاض کی خدمت میں لے آیا۔ آپ اس وقت حجرہ میں بیٹھے چراغ کی روشنی میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب کسی کے آنے کی آواز سنی حجرے کا دروازہ بند کردیا۔ اور آواز دی کہ اس اندھیری رات میں کون آ رہا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ امیرالمومنین ہارون الرشید ہیں حضرت خواجہ نے دیا بجھا دیا اور حجرے کا دروازہ کھولا ہارون حجرے کے اندر آیا اور حضرت خواجہ کو ڈھونڈھنے لگا۔ اُس کا ہاتھ حضرت خواجہ کے بدن کو لگا تو خواجہ نے چلا کر کہا ہارون تمہارے ہاتھ بڑٗے نرم ہیں۔ یہ تو دوزخ کی آگ کی لکڑی بننے والے ہیں۔ ہارون الرشید رونے لگا اور کہنے لگا کہ حضرت مجھے نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا کہ تمہارے والد حضور کے چچا تھے کوشش یہ کرو کہ قیامت کے دن اپنے باپ اور چچا سے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ ہارون الرشید نے کہا مجھے اور نصیحت کریں، فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرو۔ ادب سیکھو اور آلِ رسول اور صحابۂ رسول کی عزت کیا کرو ہارون الرشید نے کہا کہ اگر آپ پر کوئی قرضہ ہے تو حکم کریں میں ادا کردوں۔ آپ نے فرمایا مجھ پر قرضہ تو ہے مگر وہ میں ہی ادا کرسکتا ہوں اور وہ اطاعت الٰہی کا قرضہ ہے ہارون الرشید روانہ ہوا حضرت خواجہ سے جُدا ہوکر گھر آگیا۔
خواجہ ابو علی رازی فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک خواجہ فضیل کی خدمت میں رہا میں نے خواجہ کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا۔ ہاں اس دن ہنسے جس دن آپ کے بیٹے مبارک علی کا وصال ہوا۔ اس بیٹےکی وفات کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ خانۂ کعبہ میں زم زمکے کنویں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک شخص نے یہ آیت پڑھی: "وَضَعَ الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یا ویلتنا ما لہذا الکتاب" ترجمہ: (جن دنوں مجرموں کے سامنے نامۂ اعمال رکھا جائے گا۔ وہ کہیں گے ہائے ہمارا کیا حال ہے ! کاش ہمیں یہ نامۂِ اعمال نہ ملتا) اُس نے یہ آیت سنی نعرہ مارا اور جان اللہ کے حوالے کردی۔
خواجہ فضیل کے پانچ خلفاء تھے۔ پہلے سلطان ابراہیم بن ادھم دوسرے شیخ محمد شیرازی تیسرے خواجہ بشر حافی چوتھے شیخ ابی رجا عطاری اور پانچویں خواجہ عبدالباری رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ یہ پا
❤1
نچوں مشہور مشائخ اپنے اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور یکتائے روزگار ہوئے ہیں۔
خواجہ فضیل سوم ماہ ربیع الاوّل ۱۸۷ھجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار پر انوار مکہ معظمہ میں قبرستان جنت المعلی میں ہے۔ یہ مقام حضرت اُم المومنین خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار کے پاس ہے۔ اگرچہ مخبر الواصلین کے مصنف نے آپ کا سال وصال ایک سو چھیاسی لکھا ہے مگر ہمارے نزدیک پہلا قول صحیح ہے سید الاقطاب اور سفینہ الاولیاء کے مصنف بھی اسی قول کو معتبر جانتے ہیں۔
چوں فضیل از دارفانی رخت بست
رفت در عشر تگہ دارالقرار
ماہ عالم داں وصال آنجناب
۱۸۷
سید الاقطاب د واقف کن شمار
۱۸۷
-----------------------------
فضیل بن عیاض بن مسعود تیمی خراسانی : عالم ربانی امام یزدانی ، زہدی عابد ، صالح ثقہ صاحب کرامت تھے، کنیت ابو علی تھی ۔ آپ کا مولد درد اور بقول بعض سمر قند تھا ، جو خراسان میں ہے ۔ابتداء میں آپ قطاع الطریق تھے ۔ آپ سے اما م شافعی اور قطان اور ابن معدی نے روایت کی۔ ابو علی رازی کہتے ہیں کہ میں تیس سال تک آپ کی صحبت میں رہا مگر اس عرصہ میں آپ کو کبھی ہنستے اور تبسم کرتے نہیں دیکھا مگر اس روز کہ جب آپ کا فرزند علی نام فوت ہوا ۔ میں نے ہنسی کا سبب پوچھا ، آپ نے فرمایا کہ خدا نے ایک بات کو پسند فرمایا پس میں نے بھی اس کو پسند کیا ۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ جب آپ نے توبہ کی تو آپ کویہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کسی طرح ان لوگوں کو راضی کیا جائے جن کو ہم نے لوٹا اور اذیت دی ہے،چنانچہ آپ رورو کر اپنے مدعیوں کو راضی کرتے تھے مگر ایک یہودی تھا وہ کسی طرح راضی نہ ہوتا تھا۔آخر اس نے کہ اکہ میں تب راضی ہونگا کہ جب آپ یہ ریت کاتودہ یہاں سے اٹھا کر جگہ صاف کردیں گے۔ اتفاقاً وہ تو دہ اس قدر بڑا تھا کہ اس کا اٹھانا طاقت بشری سے دشوار تھا مگر آپ نے اس کو تھوڑ ا تھوڑا اٹھانا شروع کیا ،یہان تک کہ کچھ مدت اس میں مشغول رہے ، جب نہایت تھک گئے تو ایک رات کو ہونے رہ تو وہ وہاں سے پراگندہ کر کے نا پید کردیا ۔یہ معاملہ دیکھ کر یہودی حیران رہ گیا اور آپ کو کہا کہ میرے سرہان کے نیچے سے کچھ اٹھا لاؤ تاکہ میں تم کو تمہارا قصور بخش دوں ۔آپ نے اس کے سرہانے کے نیچے سے ایک مٹھی سونے کی اٹھا کر اس کو دی جسے دیکھتے ہی کہا کہ مجھ کو اسی وقت مسلمان کرو ،آپ نے اس کا سبب پوچھا ، اس نے کہا کہ میں نے تو ریت میں پڑھا ہے کہ جس شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے، اس کے ہاتھ کی برکت سے مٹی بھی سونا ہوجاتی ہے سو میرے سرہانے کے نیچے خاک تھی جو سونا ہو گئی ہے پس اس سے مجھ کو ثابت ہو گیا کہ تمہاری توبہ قبول ہو گئی اور تمہارا دین سچا ہے۔ آپ نے کوفہ سے مکہ معظمہ میں ہجرت کر کے وہیں مجاورت کی یہاں تک کہ ماہ محرم ۱۸۷ھ میں وفات پائی آپ سے اصحاب صحاح ستہ نے تخریج کی اور آپ کے خوراق عادات و کرمات کے حالات کتب مبسوطۂ معتبرہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں ۔’’امام عادل ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔
(حدائق الحنفیہ)
-----------------------------
اں مجذوب عشق رحمان و مخمور شراب عرفان، آں بسمل تیغ تسلیم ورضا، و مشرف بر اسرار قدر قضا، آں بجمیع ریاضات مرتاض، قطب حقیقت حضرت خواجہ فجیل ابن عیاض قدس سرہٗ حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے اجّل خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی کنیت ابو علی اور ابو الفیض ہے۔ آپ کا وطن کوفہ تھا۔ بعض کے نزدیک آپ کا وطن خراسان تھا شہر مرد کے نواح میں اور آپ کا تولد شہر سمر قند میں ہوا۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ کا وطن بخارا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حضرت کواجہ فرید الدین عطار تذکرۃ اولاولیاء میں لکھتے ہیں کہ آپ کا شما ر اکابر مشائخ میں ہوتا ہے اور آپ شہباز طریقت اور غریق بحر حقیقت تھے۔ ریاضات اور کرامات میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ اور ورع اور معرفت میں آپکا کوئی نظیر نہ تھا۔ اوائل میں آپ کی یہ حالت تھی۔ ٹاٹ کر کپڑا پہنتے تھے، اونی ٹوپی سر پر رکھتے۔ اور تسبیح گردن میں ڈال کر پھرتے تھے۔ آپ کے یار دوست بہت تھے جو سب کے سب چور اور راہ زن تھے۔ وہ لوگ قافلے لوٹ کر سارا مال آپ کے پاس لے آتے اور آپ اُسے تقسیم کرتے تھے۔ آپ ڈاکوؤں کے سردار تھے آپ جتنا مال چاہتے تھے لے لیتے تھے۔ اور اس سے مسجد تعمیر کرتے تھے۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا آپ اس سے اجتناب کرتے تھے ایک دن آپ کے ساتھی ایک قافلہ لوٹ کر مال و متاع آپ کے سامنے لائے اس میں ایک تھیلہ تھا جو سونے سے بھرا ہوا تھا اور اس پر آیتہ الکرسی لکھی ہوئی تھی۔ آپ نے وہ تھیلہ اٹھالیا اور اس کے مالک کو بلاکر اُس کے حوالہ کردیا ساتھیوں نے کہا کہ جناب اس کے اندر تو بڑی دولت تھی آپ نے کیوں واپس کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خوف بیدار ہوا کہ وہ لوگ جو قرآن اور آیتہ الکرسی میں اعتقاد رکھتے تھے جب یہ دیکھیں گے کہ تھیلے پر آیتہ الکرسی کے لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تھیلہ غارت ہوگیا ہے تو قرآن اور آیتہ الکرسی سے بدظن ہوجائیں گے اور اس کا وبال مجھ پر ہوگا کیونکہ لوگوں کا قرآن سے بدظن
خواجہ فضیل سوم ماہ ربیع الاوّل ۱۸۷ھجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار پر انوار مکہ معظمہ میں قبرستان جنت المعلی میں ہے۔ یہ مقام حضرت اُم المومنین خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مزار کے پاس ہے۔ اگرچہ مخبر الواصلین کے مصنف نے آپ کا سال وصال ایک سو چھیاسی لکھا ہے مگر ہمارے نزدیک پہلا قول صحیح ہے سید الاقطاب اور سفینہ الاولیاء کے مصنف بھی اسی قول کو معتبر جانتے ہیں۔
چوں فضیل از دارفانی رخت بست
رفت در عشر تگہ دارالقرار
ماہ عالم داں وصال آنجناب
۱۸۷
سید الاقطاب د واقف کن شمار
۱۸۷
-----------------------------
فضیل بن عیاض بن مسعود تیمی خراسانی : عالم ربانی امام یزدانی ، زہدی عابد ، صالح ثقہ صاحب کرامت تھے، کنیت ابو علی تھی ۔ آپ کا مولد درد اور بقول بعض سمر قند تھا ، جو خراسان میں ہے ۔ابتداء میں آپ قطاع الطریق تھے ۔ آپ سے اما م شافعی اور قطان اور ابن معدی نے روایت کی۔ ابو علی رازی کہتے ہیں کہ میں تیس سال تک آپ کی صحبت میں رہا مگر اس عرصہ میں آپ کو کبھی ہنستے اور تبسم کرتے نہیں دیکھا مگر اس روز کہ جب آپ کا فرزند علی نام فوت ہوا ۔ میں نے ہنسی کا سبب پوچھا ، آپ نے فرمایا کہ خدا نے ایک بات کو پسند فرمایا پس میں نے بھی اس کو پسند کیا ۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ جب آپ نے توبہ کی تو آپ کویہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کسی طرح ان لوگوں کو راضی کیا جائے جن کو ہم نے لوٹا اور اذیت دی ہے،چنانچہ آپ رورو کر اپنے مدعیوں کو راضی کرتے تھے مگر ایک یہودی تھا وہ کسی طرح راضی نہ ہوتا تھا۔آخر اس نے کہ اکہ میں تب راضی ہونگا کہ جب آپ یہ ریت کاتودہ یہاں سے اٹھا کر جگہ صاف کردیں گے۔ اتفاقاً وہ تو دہ اس قدر بڑا تھا کہ اس کا اٹھانا طاقت بشری سے دشوار تھا مگر آپ نے اس کو تھوڑ ا تھوڑا اٹھانا شروع کیا ،یہان تک کہ کچھ مدت اس میں مشغول رہے ، جب نہایت تھک گئے تو ایک رات کو ہونے رہ تو وہ وہاں سے پراگندہ کر کے نا پید کردیا ۔یہ معاملہ دیکھ کر یہودی حیران رہ گیا اور آپ کو کہا کہ میرے سرہان کے نیچے سے کچھ اٹھا لاؤ تاکہ میں تم کو تمہارا قصور بخش دوں ۔آپ نے اس کے سرہانے کے نیچے سے ایک مٹھی سونے کی اٹھا کر اس کو دی جسے دیکھتے ہی کہا کہ مجھ کو اسی وقت مسلمان کرو ،آپ نے اس کا سبب پوچھا ، اس نے کہا کہ میں نے تو ریت میں پڑھا ہے کہ جس شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے، اس کے ہاتھ کی برکت سے مٹی بھی سونا ہوجاتی ہے سو میرے سرہانے کے نیچے خاک تھی جو سونا ہو گئی ہے پس اس سے مجھ کو ثابت ہو گیا کہ تمہاری توبہ قبول ہو گئی اور تمہارا دین سچا ہے۔ آپ نے کوفہ سے مکہ معظمہ میں ہجرت کر کے وہیں مجاورت کی یہاں تک کہ ماہ محرم ۱۸۷ھ میں وفات پائی آپ سے اصحاب صحاح ستہ نے تخریج کی اور آپ کے خوراق عادات و کرمات کے حالات کتب مبسوطۂ معتبرہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں ۔’’امام عادل ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔
(حدائق الحنفیہ)
-----------------------------
اں مجذوب عشق رحمان و مخمور شراب عرفان، آں بسمل تیغ تسلیم ورضا، و مشرف بر اسرار قدر قضا، آں بجمیع ریاضات مرتاض، قطب حقیقت حضرت خواجہ فجیل ابن عیاض قدس سرہٗ حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے اجّل خلفاء میں سے تھے۔ آپ کی کنیت ابو علی اور ابو الفیض ہے۔ آپ کا وطن کوفہ تھا۔ بعض کے نزدیک آپ کا وطن خراسان تھا شہر مرد کے نواح میں اور آپ کا تولد شہر سمر قند میں ہوا۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ کا وطن بخارا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حضرت کواجہ فرید الدین عطار تذکرۃ اولاولیاء میں لکھتے ہیں کہ آپ کا شما ر اکابر مشائخ میں ہوتا ہے اور آپ شہباز طریقت اور غریق بحر حقیقت تھے۔ ریاضات اور کرامات میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ اور ورع اور معرفت میں آپکا کوئی نظیر نہ تھا۔ اوائل میں آپ کی یہ حالت تھی۔ ٹاٹ کر کپڑا پہنتے تھے، اونی ٹوپی سر پر رکھتے۔ اور تسبیح گردن میں ڈال کر پھرتے تھے۔ آپ کے یار دوست بہت تھے جو سب کے سب چور اور راہ زن تھے۔ وہ لوگ قافلے لوٹ کر سارا مال آپ کے پاس لے آتے اور آپ اُسے تقسیم کرتے تھے۔ آپ ڈاکوؤں کے سردار تھے آپ جتنا مال چاہتے تھے لے لیتے تھے۔ اور اس سے مسجد تعمیر کرتے تھے۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا آپ اس سے اجتناب کرتے تھے ایک دن آپ کے ساتھی ایک قافلہ لوٹ کر مال و متاع آپ کے سامنے لائے اس میں ایک تھیلہ تھا جو سونے سے بھرا ہوا تھا اور اس پر آیتہ الکرسی لکھی ہوئی تھی۔ آپ نے وہ تھیلہ اٹھالیا اور اس کے مالک کو بلاکر اُس کے حوالہ کردیا ساتھیوں نے کہا کہ جناب اس کے اندر تو بڑی دولت تھی آپ نے کیوں واپس کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خوف بیدار ہوا کہ وہ لوگ جو قرآن اور آیتہ الکرسی میں اعتقاد رکھتے تھے جب یہ دیکھیں گے کہ تھیلے پر آیتہ الکرسی کے لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تھیلہ غارت ہوگیا ہے تو قرآن اور آیتہ الکرسی سے بدظن ہوجائیں گے اور اس کا وبال مجھ پر ہوگا کیونکہ لوگوں کا قرآن سے بدظن
❤1