🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا فقیر محمد قاسم کالرو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا فقیر محمد قاسم بن فقیر محمد سلطان کالرو گوٹھ صاحبن جو کوٹ تحصیل و ضلع عمر کوٹ میں ۱۲۹۹ھ کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آبائی گوٹھ میں مسجد کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد مٹیاری (ضلع حیدر آباد) میں حضرت علامہ قاضی لعل محمد متعلوی کے پاس تعلیم حاصل کی اور چند اسباق قاضی صاحب کے استاد محترم (یعنی اپنے دادا استاد) علامہ حسن اللہ صدیقی سے تبرکاً پڑھے ۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ آبائی گوٹھ کے مکتب میں مولانا عبد الرزاق کو معلم مقرر کیا گیا ہے اس لئے اپنے وطن واپس آ کر بقیہ نصابی کتب مولانا عبد الرزاق کے پاس پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔

بیعت:
مٹیاری میں طالب علمی کے دور میں خانقاہ مجددیہ مٹیاری کے اس وقت کے سجادہ نشین حضرت عبد الحلیم جان سر ہندی عرف حاجی آغا رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت سر ہندی حضرات کے اسرار کے پیش نظر ان کی دعوت پر گوٹھ ’’ صاحبن جو کوٹ ‘‘ کے مدرسہ میں مدرس مقرر ہوئے، جہاں دس سال درس دیا اور اس عرصے میں بہت سے طلباء مستفید ہوئے ان میں افغانی اور اجھستانی طلباء بھی تھے ۔ گموری گوٹھ کے مشہور بزرگ حاجی حبیب اللہ پلی کی پر خلوص دعوت پر ان کے گوٹھ میں مسلسل تیرہ سال تک درس دیا ۔ ۲۳ برس کے دور میں آپ نے کبھی بھی کسی طالب علم کو مارنا تو دور کی بات ہے ڈانٹا بھی نہیں ۔

عادات و خصائل:
آپ زندگی بھر مجرد رہے ۔ ۲۳ سال جلوت کے بعد خلوت میں چلے گئے، گوشہ نشینی اختیار فرمائی، بلکہ صوفیائے کرام کے ایک طبقہ ’’ ملامتی ‘‘ کے گروہ میں سے ہو گئے ۔ لوگوں سے چھپ کر عبادت کرنے لگے اس لئے جنگل میں رہنے لگے اور لوگوں کے سامنے اپنے کو برا بھلا کہتے تاکہ لوگ انہیں صالح متقی نہ سمجھیں بلکہ برا سمجھ کر دور ہو جائیں تا کہ وہ دل جمعی کے ساتھ خلوت میں دن رات مالک حقیقی کی بندگی کر سکیں ۔ دن رات جنگل میں چھپ کر گذارتے تھے، جس طرح لوگ اپنے گناہ کو چھپاتے ہیں اسی طرح آپ اپنی نیکیوں کو چھپاتے تھے ۔ کبھی کبھی دن میں شہر میں آتے تو لوگوں کو خوف خدا یاد دلاتے، عذاب قبر اور آتش جہنم سے ڈراتے ہوئے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رلاتے، ہمیشہ توبہ کرتے رہتے، آپ کو دیکھ کر لوگ بھی توبہ کرتے، خوف خدا آپ کی نس نس میں رچ گیا تھا ۔ آپ کی تبلیغ اور کوشش سے ہزاروں لوگ صراط مستقیم پر آئے اور صالح متقی انسان بن گئے ۔

آپ کردار کے غازی، سادگی سچائی کی تصویر، بے نفسی کا پیکر، صوفی باصفا، فقیر کامل اور مستجاب الدعوات تھے ۔ لوگ جب آپ کو ڈھونڈ کر پاتے تو آپ خوب اپنی برائی بیان کرتے تو لوگ پھر بھی آپ سے دور نہیں ہٹتے تو انہیں محبت و درد بھرے انداز میں نصیحت فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، حضور پاک ﷺ سے محبت کریں اور ان کے طریقے پاک پر عمل کریں، نماز پنجگانہ کی پابندی، رمضان المبارک کے روزے رکھیں، صاحب توفیق ہیں تو حج ادا کریں، صاحب نصاب ہیں تو زکوٰۃ دیں، سب سے محبت سے پیش آئیں، کسی پر ظلم نہ کریں، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم کریں، غریبوں و مہمانوں کو کھانا کھلائیں، پیاسوں کو پانی پلائیں، مساجد آباد کریں، ذکر کے حلقہ قائم کریں، غفلت سے بچیں موت کو ہر وقت یاد رکھیں، تقویٰ اختیار کریں ۔

نصیحت فرما کر پھر جنگل کی طرف بھا گ جاتے ۔ زندگی رب کریم پر کا ملل بھروسہ و یقین پر بسر کی ، متوکل ایسے کہ جو کچھ نذرانہ ملتا وہ اسی وقت راہ خدا میں خرچ کر دیتے اور کل کے لئے بچا کر نہیں رکھتے تھے۔ پورا ہفتہ جنگل میں گذار کر جمعہ کے روز شہر آتے نماز جمعہ ادا فرما کر پھر جنگل کا رخ اختیار فرماتے ۔ سفر و حضر میں دلائل الخیرات ، مثنوی معنوی مولانا روم ، کیمیائے سعادت امام غزالی ، دیوان غوث الاعظم جیلانی اور مکتوبات امام ربانی وغیرہ کتب تصوف کی گٹھڑی آپ کے پاس رہتی ۔
1
تصنیف و تالیف:
آپ کو لکھنے کا انتہائی شوق تھا، روزانہ ڈائری لکھنا آپ کے معمول میں شامل تھا۔ لوگوں و طلباء کو حسب ضرورت و حسب فرمائش نصیحت وعظ کی باتیں نماز روزہ حج و زکوٰۃ کے مسائل پر مشتمل مضامین تحریر کرکے دیتے تھے۔ تھر کے غریب وپس ماندہ علاقہ میں دینی کتب خریدنے کی وسعت کہاں تھی؟آپ نے اس طرح دینی کتب لکھ کر غریب پروری کی، آپ کی اس خاموش تبلیغ سے بھی کافی لوگ دینی تعلیم سے بہر ہ مند ہوئے۔ ایسا قلمی مواد آپ کے مریدین معتقدین و شاگردوں کے پاس محفوظ ہے ۔ آپ دینی کتابوں کو بلا معاوضہ جلد بندی کر کے دیتے تھے۔

۱۔ گوہر ن جو گنج ( ناصحانہ شاعری ) مرتبہ مولانا پیر محمد ابراہیم خلیل سر ہندی

۲۔ لگاگھمن لوک میں ( ناصحانہ آزاد سندھی شاعری ) مرتبہ عبد المالک پلی ضلع عمر کوٹ

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کے سلسلہ میں بعض نام معلوم ہو سکے ہیں:

۱۔ مولانا شفیع محمد پلی               
۲۔ حافظ جان محمد پلی
۳۔ لطف اللہ پلی ( ادیب و صحافی )

وصال:
مولانا فقیر محمد قاسم کا لرو نے ۳، ربیع الاول ۱۳۷۴ھ بمطابق ۱۳۱، اکتوبر ۱۹۵۴ء بروز اتوار گوٹھ محمد رحیم کالرو میں رشتہ داروں کے پاس تشریف لے آئے اور ان سب کو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی تلقین فرمائی ، نیکی کی دعوت اور برائی سے منع فرمایا اس کے بعد بیٹھک میں آکر لیٹ گئے کلمہ طیبہ زبان پر جاری ہوا اور روح جسم نورانی سے پرواز کر گئی ۔ دوسرے روز نماز جنازہ ہوئی جس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔ آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے، گنبد بنا ہوا ہے محمد رحیم کالرو اسٹیشن ( تحصیل سامارو ضلع عمر کوٹ ) سے ایک میل کی مسافت پر بچاء بند کے ساتھ آپ کا آستانہ مشہور ہے، سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت سے منایا جاتا ہے جس میں وعظ و نصیحت و نعت خوانی اور لنگر شریف کا اہتمام ہوتا ہے ۔ آپ کے وصال پر حضرت پیر ابراہیم جان سر ہندی نے سندھی میں قطعہ تاریخ وصال کہا۔

( ماخوذ: لکاگھمن لوک میں ( سندھی ) مطبوعہ عمر کوٹ )

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/muhammad-qasim-kalro
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت سید نور الحسن ۔ لقب: سراج السالکین، عمدۃ العارفین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف کامل حضرت سید نور الحسن شاہ بن حضرت سید غلام علی شاہ بن حضرت سید حیات شاہ ۔ علیہم الرحمہ ۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین تک پہنچتا ہے ۔ آپ کے آباؤ اجداد با کمال بزرگ تھے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:551) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 جمادی الاول 1306ھ مطابق 30 جنوری 1889ء بروز بدھ، بوقتِ شب ’’ کیلیانوالہ شریف ‘‘ ضلع گوجرانولہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی طبع سلیم میں ابتداء ہی سے تقویٰ و طہارت اور نیکی کے جذبات بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ظاہری تعلیم کے لئے آپ پہلے احمدنگر اور پھر قصبہ رسول نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری پاس کر کے اسکول چھوڑ دیا، کچھ عرصہ بعد کیلیا نوالہ شریف کے خوشنویس مولانا نور الٰہی سے فن خوشنویس سیکھا، پھر کچھ عرصہ ٹھیکداری بھی کرتے رہے ۔ بعد ازاں چک 14 ضلع شیخو پورہ میں منتقل ہو گئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت میاں شیر محمد شرق پوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
سراج السالکین، عمدۃ العارفین حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے مشائخِ کبار میں ہوتا ہے ۔ آپ نےاشاعتِ اسلام میں بڑی کوشش فرمائی ۔ مسلکِ حق کے دفاع میں ساری زندگی مصروف رہے ۔ آپ کی کوشش سے بہت سے حضرات راہ راست پر آئے ۔ کیلیا نوالہ شریف کے خاندان سادات کے بہت سے افراد شیعہ ہو گئے تھے ۔ ابتداءً انہیں کے زیر اثر آپ بھی تشیع سے متاثر تھے لیکن موجودہ دور کے شیعوں کے بر عکس نماز اور روزہ کے پابند تھے ۔ قدرت نے آپ کو بڑی دل کش اور پر سوز آواز عطا فرمائی تھی ۔ چنانچہ جب آپ بیان فرماتے تو سامعین بڑے اشتیاق سے سنتے، نعت بھی بڑے سوز و گذار سے پڑھتے ۔ ایک دفعہ شر قپور شریف جاکر بیان کیا تو دھوم مچ گئی، کسی نے جاکر عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری قدس سرہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ’’شاید یہ ہی ہمارا کام دیں‘‘ ولی کامل کی زبان سے نکلا ہوا یہ جملہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری کا حضرت میاں شیر محمد شر قپوری سے وہ رابطہ قائم ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی رہا اور آپ کے ذریعہ رشد و ہدایت کا ایسا چشمہ جاری ہوا جس سے لاکھوں تشنہ کام سیراب ہوئے ۔

حضرت شرقپوری علیہ الرحمہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے شر قپور شریف میں قیام کے دوران قرآن مجید پڑھا اور مرشد کامل کی نگاہ سے وہ فیوض حاصل کئے کہ آپ کی تحریر و تقریر بڑے بڑے علماء کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔آپ اکثر و بیشتر سفر و حضر میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ رہا کرتے تھے اور ایک وقت وہ آیا کہ حضرت میاں صاحب نے آپ کو اجازت و خلافت مرحمت فرمائی اور آپ ان کے اکابر خلفاء میں شمار ہوئے۔جب آپ حضرت شیر ربانی قدس سرہ کے حکم سے آپ کیلیا نوالہ شریف میں منتقل ہوئے تو شیعوں نے مزاحمت شروع کردی اور طرح طرح سے در پئے آزار ہوئے، مقدمہ بازی اور قاتلانہ حملے تک نوبت پہنچی لیکن آپ کمال حلم سے سب کچھ برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ مخالفین کو نا کامی کا مُنہ دیکھنا پڑا، اور آپ کے فیض کا آفتاب دن بدن عروج پر رہا ۔

حضرت شاہ صاحب اپنے دور کے وہ عظیم روحانی پیشوا تھے جن کے ذریعے ان گنت افراد راہِ راست پر آئے اور بے شمار منزل مقصود کو پہنچے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے نوازا تھا ۔مشکل سے مشکل مسئلہ پر گفتگو فرماتے اور اسے منٹوں میں حل فرما دیتے ۔ ایک دفعہ مکان شریف (انڈیا) میں عرس کے موقع پر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری (احراری) سے مسئلۂ علم غیب پر گفتگو ہوئی جس میں شاہ جی کو آپ کا موقف تسلیم کرنا پڑا ۔ آپ کی تصنیف جلیل ’’الانسان فی القرآن‘‘ تبحر علمی کا بہترین شاہکار ہے ۔ جس میں آپ نے مختلف موضوعات پر شرح صدر سے گفتگو فرمائی ہے اور بعض اختلافی مسائل کو بڑے حکیمانہ انداز سے سلجھایا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ

؏: دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
1
تحریکِ پاکستان میں کردار:
آپ دو قومی نظریے کے زبردست حامی اور مؤید تھے یہی وجہ تھی کہ آپ کانگریسی اور احراری لیڈروں کے مسموم اثرات کے ازالے کے لئے کوشاں رہے چنانچہ ایک مرتبہ مشہور احراری لیڈر ملک لعل خاں سے دوران گفتگو فرمایا: ’’فرمان مولیٰ کریم ہے ۔ انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنو ۔ یعنی حقیقۃً تمہارے دوست اور سر پرست اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور ایماندار بندگان خدا ہیں، ایک مسلمان کے لئے تو یہی پیشوا اور راہنما ہیں،ان کے فرمان تو عرض کرہی دئے اب ان کے سوا آپ کےلئے  گاندھی اور نہرو کا فرمان واجب العمل ہوگا جو سوائے جہنم کے ہمیں کسی راستے پر نہیں لےجا سکتا‘‘ ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:553) ـ

آپ کی شبانہ روز زندگی عبادت اور ذکر و فکر میں بسر ہوتی تھی، سب سے پہلے  مریدوں اور عقیدت مندوں کو شریعت مبارکہ کی اتباع کی تلقین فرماتے، اس کے بعد اوراد و وظائف کی باری آتی ۔ آپ مکان شریف اور شر قپور شریف سے فارغ ہو کر لاہور تشریف لے جاتے اور حضرت داتا گنج بخش ہجویری قدس سرہ کے مزار پر انوار پر ضرور حاضر ی دیتے، بعض اوقات حضرت شاہ محمد غوث کے مزار شریف پر بھی حاضر ہوتے ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں بڑے بڑے علماء شامل ہوئے، چند ایک کے نام، جو معلوم ہو سکے یہ ہیں:

1۔ حضرت مولانا سید جلال الدین شاہ بانی و مہتمم جامعہ محمدیہ رضویہ نوریہ بھکھی شریف ۔ (والد سید عرفان شاہ مشہدی مدظلہ العالی) ـ

2۔ حضرت مولانا محمد نوزا صدر مدرس مدرسہ مذکورہ ۔ (استاد محترم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مدظلہ العالی) ـ

3۔ مولانا سید منیر حسین شاہ جو کالوی، مؤلف، انشراح الصدور بتذکرۃ النور (سوانح حیات حضرت شاہ صاحب ممدوح قدس سرہ) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 3 ربیع الاول 1372ھ مطابق 21 نومبر 1952ء کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیارہ بج کر پچیس منٹ پر 63 برس کی عمر میں ہوا ۔ کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانولہ میں مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ کے وصال کے بعد بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد باقر شاہ سجادہ نشین ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انشراح الصدور بتذکرۃ النور ۔ اس کتاب میں آپ کے مفصل حالات بیان کیے گئے ہیں ۔

مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی نے درج ذیل تاریخ وفات کہی:

سید السادات فرزند رسول
جامع الحسنات، دلبند بتول

ماجی بدعات، ابن مرتضیٰ
قرۃ العینِ شہیدِ کربلا

راحتِ جانِ جناب شاہ حسن
سیدی سندی شہ نور الحسن

نور کامل ز آفتاب شر قپور
بے شبہ بُد ماہتاب شر قپور

بود غوث وقت ہم قطبِ رشاد
ہر کہ آمد بر درش شد بامراد

کرد رحلت از فنا سوئے بقا
مخلصاں را رنج و غم، آہ وبکا

مہ ربیع اول، سوم تاریخ بود
چوں بیامد روح پاکش در صعود

گفت تاریخ وصالش مولوی
خادم شاہ سلیماں تونسوی

رفت خضر راہ دعا گودرجناں
پیر نور الحسن شاہ عارف زماں

ذاکر حق پیر نور الحسن شاہ
رحمت حق صلہ یافت از بارگاہ

1372

https://scholars.pk/ur/scholar/arif-e-kamil-hazrat-syed-noor-al-hasan-shah-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
میاں شیر محمد ۔ لقب: شیر ِربانی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری بن میاں عزیز الدین شرقپوری بن محمد حسین بن مولانا غلام رسول بن حافظ محمد عمر بن حضرت صالح محمد علیم الرحمہ ۔

حضرت شیر ربانی کے والد گرامی جناب میاں عزیز الدین شکل و صورت میں باپ بیٹا مشابہ تھے ۔ سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے ۔ اکثر سلسلہ قادریہ کے اوراد و ظائف میں مصروف رہتے ۔ رہتک (انڈیا) میں ملازمت کرتے تھے ۔ اسی جگہ سفر آخرت اختیار کیا ۔ آپ کے جدِ امجد حضرت مولانا غلام رسول اپنے وقت کے عالم و عارف اور صاحبِ کرامات بزرگ تھے، ان کے والد بزرگوار جناب حافظ محمد عمر ایک ماہر کاتب اور حاذق حکیم، اور بہت ہی سعادت مند اور صالح تھے ۔

حضرت شیر ربانی کے جد اعلیٰ حضرت میاں صالح محمد قرآن مجید کی کتابت کیا کرتے تھے ۔ صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ حضرت شیر ربانی کے آباؤ اجداد افغانی پٹھان تھے ۔ افغانستان میں شاہی خاندان کے اساتذہ و اتالیق کا شرف حاصل تھا ۔ ہندوستان میں جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو عرب وعجم کے دیگر علماء و مشائخ کی طرح یہ حضرات بھی دیپالپور میں وارد ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد دیپالور میں جب قحط سالی کا شکار ہوا تو اس خانوادے نے وہاں سے نقل مکانی کرکے قصور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ قصور اس وقت علم و فن کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ بعد میں مولانا غلام رسول نے شرقپور کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ (تاریخ و تذکرہ خانقاہ شرقپور:33 / انوار جمیل:49) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1282ھ مطابق 1865ء کو شرقپور شریف ضلع شیخو پورہ پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔

قبل از ولادت بشارت:
حضرت خواجہ امیر الدین (متوفی 1931) حضرت شیر ربانی کی ولادت سے قبل جب شرقپور میں تشریف لاتے تو فرماتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں کشف سے مطلع فرمایا ہے کہ اس مبارک خطہ میں ایک شیرِ خدا پیدا ہوگا‘‘ ۔ اسی طرح آپ کی ولادت سے قبل ایک مجذوب شرقپور کا چکر لگاتے رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’اس علاقے میں اللہ کریم کے مقبول بندوں میں سے ایک بندہ پیدا ہوگا، میں اس کی مست کرنے والی خوشبو سے اپنی روح کو مسرور اور دل ودماغ کو معطر کرتا ہوں‘‘ ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35) ـ

تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ پر محبتِ الہٰیہ کا غلبہ تھا ۔ حیاء کا یہ عالم تھا کہ گلی کو چے میں چادر اوڑھ کر گزرتے ۔ محلے کی عورتیں کہا کرتی تھیں ہمارے محلہ میں لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔ ختم قرآن پاک کے بعد مڈل اسکول شر قپور میں پانچ جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ سکول سے واپس آکر مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ جاتے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ۔ بعد ازاں فارسی کی کچھ کتابیں اپنے چچا حضرت حافظ حمید الدین اور جد مکرم حافظ محمد حسین سے پڑھیں، حکیم شیر علی سے بھی کچھ پڑھا ۔ اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ امیر الدین سے تصوف وسیرت کی کتب کا درس لیا ۔ پھر خوشنویسی کا شوق پیدا ہوا اور اس فن میں کمال حاصل کیا ۔ کئی قرآن پاک جن کے ابتدائی اور آخری پارے بو سیدہ ہو گئے تھے، انہیں خود لکھ کر مکمل کیا ۔ ظاہری طور پر صرف اسی قدر تعلیم حاصل کی لیکن قدرت ایزدی نے آپ کو علم لدنی کی دولت سے مالا مال کر دیا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ہوتے تو خمیدہ سر، دوزانو ہو کر بیٹھتے اور آپ کے علوم و معارف سے مستفید ہوتے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ

بیعت و خلافت:
آپ کے خاندان کے ایک بزرگ حجرہ شاہ مقیم کےبزرگ پیر سید سعادت علی سےارادت رکھتے تھے ۔ لہذا شروع میں آپ انہیں کے پاس گئے تو انہوں نے آپ سے فرمایا: تم کسی بلند مرتبہ و کامل مرشد کی تلاش کرو ۔ ہم دستگیری کرنے سے عاجز ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت خواجہ امیر الدین نے فرمایا ہم بیس سال سے شرقپور میں جا رہے ہیں اور اس جستجو میں ہیں کہ اس طائر لاہوتی کو اپنے دام میں لائیں، اور اسے نسبتِ نقشبندیہ اسے پہنچائیں ۔ بالآخر حضرت بابا امیر الدین کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اجازت و خلافت سے مشر ف ہوئے ۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ شرقپور:35 / تذکرہ اکابر اہل سنت:180) ـ
1