🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا فقیر محمد قاسم کالرو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا فقیر محمد قاسم بن فقیر محمد سلطان کالرو گوٹھ صاحبن جو کوٹ تحصیل و ضلع عمر کوٹ میں ۱۲۹۹ھ کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آبائی گوٹھ میں مسجد کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد مٹیاری (ضلع حیدر آباد) میں حضرت علامہ قاضی لعل محمد متعلوی کے پاس تعلیم حاصل کی اور چند اسباق قاضی صاحب کے استاد محترم (یعنی اپنے دادا استاد) علامہ حسن اللہ صدیقی سے تبرکاً پڑھے ۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ آبائی گوٹھ کے مکتب میں مولانا عبد الرزاق کو معلم مقرر کیا گیا ہے اس لئے اپنے وطن واپس آ کر بقیہ نصابی کتب مولانا عبد الرزاق کے پاس پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔

بیعت:
مٹیاری میں طالب علمی کے دور میں خانقاہ مجددیہ مٹیاری کے اس وقت کے سجادہ نشین حضرت عبد الحلیم جان سر ہندی عرف حاجی آغا رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت ہوئے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت سر ہندی حضرات کے اسرار کے پیش نظر ان کی دعوت پر گوٹھ ’’ صاحبن جو کوٹ ‘‘ کے مدرسہ میں مدرس مقرر ہوئے، جہاں دس سال درس دیا اور اس عرصے میں بہت سے طلباء مستفید ہوئے ان میں افغانی اور اجھستانی طلباء بھی تھے ۔ گموری گوٹھ کے مشہور بزرگ حاجی حبیب اللہ پلی کی پر خلوص دعوت پر ان کے گوٹھ میں مسلسل تیرہ سال تک درس دیا ۔ ۲۳ برس کے دور میں آپ نے کبھی بھی کسی طالب علم کو مارنا تو دور کی بات ہے ڈانٹا بھی نہیں ۔

عادات و خصائل:
آپ زندگی بھر مجرد رہے ۔ ۲۳ سال جلوت کے بعد خلوت میں چلے گئے، گوشہ نشینی اختیار فرمائی، بلکہ صوفیائے کرام کے ایک طبقہ ’’ ملامتی ‘‘ کے گروہ میں سے ہو گئے ۔ لوگوں سے چھپ کر عبادت کرنے لگے اس لئے جنگل میں رہنے لگے اور لوگوں کے سامنے اپنے کو برا بھلا کہتے تاکہ لوگ انہیں صالح متقی نہ سمجھیں بلکہ برا سمجھ کر دور ہو جائیں تا کہ وہ دل جمعی کے ساتھ خلوت میں دن رات مالک حقیقی کی بندگی کر سکیں ۔ دن رات جنگل میں چھپ کر گذارتے تھے، جس طرح لوگ اپنے گناہ کو چھپاتے ہیں اسی طرح آپ اپنی نیکیوں کو چھپاتے تھے ۔ کبھی کبھی دن میں شہر میں آتے تو لوگوں کو خوف خدا یاد دلاتے، عذاب قبر اور آتش جہنم سے ڈراتے ہوئے خود بھی روتے اور لوگوں کو بھی رلاتے، ہمیشہ توبہ کرتے رہتے، آپ کو دیکھ کر لوگ بھی توبہ کرتے، خوف خدا آپ کی نس نس میں رچ گیا تھا ۔ آپ کی تبلیغ اور کوشش سے ہزاروں لوگ صراط مستقیم پر آئے اور صالح متقی انسان بن گئے ۔

آپ کردار کے غازی، سادگی سچائی کی تصویر، بے نفسی کا پیکر، صوفی باصفا، فقیر کامل اور مستجاب الدعوات تھے ۔ لوگ جب آپ کو ڈھونڈ کر پاتے تو آپ خوب اپنی برائی بیان کرتے تو لوگ پھر بھی آپ سے دور نہیں ہٹتے تو انہیں محبت و درد بھرے انداز میں نصیحت فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، حضور پاک ﷺ سے محبت کریں اور ان کے طریقے پاک پر عمل کریں، نماز پنجگانہ کی پابندی، رمضان المبارک کے روزے رکھیں، صاحب توفیق ہیں تو حج ادا کریں، صاحب نصاب ہیں تو زکوٰۃ دیں، سب سے محبت سے پیش آئیں، کسی پر ظلم نہ کریں، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم کریں، غریبوں و مہمانوں کو کھانا کھلائیں، پیاسوں کو پانی پلائیں، مساجد آباد کریں، ذکر کے حلقہ قائم کریں، غفلت سے بچیں موت کو ہر وقت یاد رکھیں، تقویٰ اختیار کریں ۔

نصیحت فرما کر پھر جنگل کی طرف بھا گ جاتے ۔ زندگی رب کریم پر کا ملل بھروسہ و یقین پر بسر کی ، متوکل ایسے کہ جو کچھ نذرانہ ملتا وہ اسی وقت راہ خدا میں خرچ کر دیتے اور کل کے لئے بچا کر نہیں رکھتے تھے۔ پورا ہفتہ جنگل میں گذار کر جمعہ کے روز شہر آتے نماز جمعہ ادا فرما کر پھر جنگل کا رخ اختیار فرماتے ۔ سفر و حضر میں دلائل الخیرات ، مثنوی معنوی مولانا روم ، کیمیائے سعادت امام غزالی ، دیوان غوث الاعظم جیلانی اور مکتوبات امام ربانی وغیرہ کتب تصوف کی گٹھڑی آپ کے پاس رہتی ۔
1