🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی علیہ الرحمہ

وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)

قطعۂ تاریخ وصال

خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت

خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء

صاؔبر براری، کراچی

آپ کی ولادت باسعادت: قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴؍شوال ۸۵۲ھ/ ۱۱؍دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ سے ہے۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمرقند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرماہوئے۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے۔

آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے واردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔

آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔

وفات:

آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔

(تاریخِ مشائخ نقشبند)
1
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ

نسبت و تعلق:

آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار﷫ سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی ﷫کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار﷫ کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت  خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔

وصال ُبارک:

مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع و خش[۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی۔ خزینہ الاصفیا۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری)

[۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے۔]

(مشائخِ نقشبندیہ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عبد الرشید جالندھری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ جالند شہر کے سادات میں سے تھے والد کا نام سید اشرف تھا۔ آپ چھوٹے ہی تھے کہ آپ کو تلاشِ حق کی لگن لگ گئی ظاہری علوم پڑھنے کے بعد اپنے وطن سے نکلے اور مختلف شہروں کی سیر کرتے حضرت شاہ ابو المعالی کی خدمت میں حاضر ہوئے اُس وقت حضرت شاہ ابو المعالی کی عمر کافی ہوچکی تھی۔ آپ نے شیخ عبدالرشید کو سید میران بہیکہ کے حوالے کردیا جنہوں نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دیا۔

خزنیتہ السالکین کے مصنف لکھتے ہیں ایک دن حضرت میراں بہیکہ نے سید علیم اللہ جالندھری کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے پاس جو مرید بھی آتا ہے میں چھ سال تک اس کا امتحان لیتا ہوں اگر اس کا اعتقاد درست ہو تو میں اُسے اپنے خادموں میں شمار کرتا ہوں لیکن سید عبدالرشید جالندھری ایک ایسے شخص ہیں جنہیں میں نے پہلے دن سے ہی پکے اعتقاد کا پایا اور اپنا خادم بنالیا۔

آپ یکم ماہ ربیع الاول بروز جمعہ ۱۱۲۱ھ اپنے مرشد کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے جالندھر میں ہی آپ کا مزار بنایا گیا آپ کے وصال کے بعد سید میراں بہیکہ نے آپ کے بیٹے سید غلام الدین محی الدین کو بیعت کیا اور انہیں کمال تک تربیت دی۔

حضرت عبد الرشید آں میر دین
چو ز دنیا رفت و در جنت رسید
سال وصال اوست عارف حق پرست
بار دیگر سرور عالم رشید
۱۱۲۱ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-rasheed-jalandhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت فاضلِ کبیر مولانا برکات احمد بن دائم علی حنفی ٹونکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آبائی وطن موضع میر نگر ضلع پٹنہ صوبہ بہار، آپ کے والد بزرگوار حضرت مولانا حکیم سید دائم علی مرید وخلیفہ حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی، ریاست ٹونک کے استاذ،طبیب اور آخری وزیر اعظم تھے،حکیم برکات احمد ۱۲۸۰ھ میں ٹونک میں پیدا ہوئے،نانیہان حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کے خاندان پھلت ضلع مظفر نگر میں ہے،عربی کی درسیات ٹونک میں مولوی لطف علی ساکن دھنچویہ ضلع پٹنہ سے حمداللہ تک اور مولوی محمد احسن ٹونکی سے ہدایہ پڑھ کر،مجد علوم عقلیہ حضرت شمس العلماء مولانا محمد عبد الحق خیر آبادی قدس سرہٗ کی خدمت میں گیارہ برس رہے،اور علوم عقلیہ کی مکمل طور پر تکمیل کی، چند کتابیں علامہ ہدایت اللہ خاں استاذ العلماء،شاگرد رشید حضرت امام الحکماء مولانا فضل حق خیر آبادی سے پڑھیں،حدیث اپنے خالو قاضی محمد ایوب پھلتی سے پڑھی، شروع میں مدرسہ نیاز یہ خیر آباد میں پرنسپل رہے، پھر وائی ٹونک کی فہمائش پر ٹونک آئے اور طبیب خاص کے عہدے پر مامور ہوئے،اس عہدہ کے فرئاض کی ادائیگی کے اتھ درس کی وہ شہرت ہوئی کہ نہ صرف ہندوستان کے طول وعرض کے تشنگان علوم، بلکہ کا شغر، بلخ، بخارا، سمر قند، کابل، تاشقند کے طلبہ کا ازد حام رہا کرتا تھا، جملہ علوم و فنون کے مسلم استاذ یعنی استاذ الکل تھے، متقدمین کی کتابیں مثلاً شفا بو علی سینا،میر باقر افق المبین، محاکمات کا باقاعدہ درس پوری دنیائے اسلام میں صرف آپ کی درسگاہ میں ہوا کرتا تھا،دور طالب علمی میں رام پور کے کسی بزرگ سے بیعت ہوگئے تھے،آخر میں حضرت کمال اللہ شاہ عرف مچھلی شاہ صاحب حیدر آبادی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے ۔۔۔۔ تالیفات میں ترمذی شریف کی ضخیم شرح،مولانا بحر العلوم فرنگی محلی کی شرح منار ارسی کا عربی ترجمہ،(علم کلام میں) حمداللہ کی وجود رابطی پر رسالہ وجود رابطی، دیانند سوامی کے فلسفیانہ اصول کی تردیدی میں بزبان اردو ‘‘صدقہ جاریہ فی رد آریہ’’ حدوث زمان میں ‘‘اتفاق العرفان فی تحقیقی ماہیۃ الزمان’’ الصمصام القاضب المفتری علی اللہ الکاذب اور علم غیب اور متناع النظیر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں رسائل لکھے، ۔۔۔۔۔ یکم ربیع الاول ۱۳۴۷ھ میں بمقام ٹونک آپ کا انتقال ہوا۔ مولانا عبد الواسع صفا مرحوم پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کن نے بہ قطعۂ تاریخ وفات کہا،جس کے اشعار اوصاف کے ترجمان ہیں:

وحید دہر، فرید زماں، محقق عصر
یگانۂ کہ بہ علم و ہنر نداشت مثال

حکیم و فاضل و علامہ و طبیب وادیب
محدث ومتکلم، فقیہہ وصاحب حال

نظیر رازی وطوسی روشک غزالی
عدیل شیخ رئیس وامام استدلال

رخش زنورِ عبادت چوں نیر تاباں
دلش زمعرفت کردگار مالا مال

دراسم اوست پس و پیش احمد برکات
بد ند جمع بذاتش، ہمہ صفات کمال

بغرۂ مہ اوّل ربیع، صرصر موت
نمود حیف، بہار حیاتِ اوپا مال

قضا بہ خُلد بریں برد، روح پاکش را
اجل کشاد، در وصل ایزد مُتعال

دلم زفرط الم، می طپد چوں برق طپاں
ربود صبر وقرارم وفور رنج وملال

صفا شند پے رحلتش زمہم غیب
نہفت زیر زمیں، مہر آسمانِ کمال

۲۷ ھ ۳
( معارف اعظم گڑھ، باغی ہندوستان )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fazil-e-kabeer-molana-barkat-ahmad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-02-1445 ᴴ | 17-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-03-1445 ᴴ | 18-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1