مولانا شاہ احمد سعید مجددی رام پوری
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید مجددی ۔ کنیت: ابو المکارم ۔ لقب: مظہر یزداں، سند الاولیاء، امام العرفاء ۔ آپ کے نانا حضرت شاہ محمد صدیقی جونہایت ہی متقی وپرہیزگار اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے بذریعہ مکاشفۂ باطنی آپ کانام ’’غلام غوث ‘‘ رکھا۔لیکن آپ شاہ احمد سعید مجددی کےنام سے معروف ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم ربیع الاول 1217ھ،مطابق جولائی 1802ء کوبمقام رام پور میں پیدا ہوئے۔تاریخِ ولادت مادہ ’’مظہر ِ یزداں‘‘ سے نکلتی ہے۔
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔جب حفظ قرآن کریم میں مشغول تھے۔اس وقت صغر سنی میں حضرت شاہ درگاہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے۔شاہ صاحب خوب عنایت فرماتے،اور اپنے قریب بٹھاکر قرآن شریف سنا کرتےتھے۔پھر دس سال کی عمر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ سےاکثر کتب تصوف جیسے رسالہ قشیریہ، احیاء العلوم، عوارف المعارف، نفحات الانس، رشحات، مکتوبات امام ربانی، مثنوی مولانا روم وغیرہ پڑھیں اور بعض کی سماعت کی، ترمذی اور مشکوٰۃ المصابیح پڑھیں، باقی کتب منقول ومعقول علمائے دہلی مولانا فضل امام خیر آبادی،شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر، مولانا نور فرنگی محلی، مولانا رشیدالدین ۔ رام پور میں مفتی شرف الدین اور مولانا سراج احمد بن حضرت محمد مرشد،لکھنؤ میں مولانا اشرف اور مولانا نور قُدِّس اسررہم سے درسیات پڑھ کر حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ سے حدیث کا دور کیا۔بیس سال کی عمر میں دستارِ فضیلت باندھی گئی۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:23/تذکرہ کاملان رام پور:15)
بیعت و خلافت:
دس سال کی عمر میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔سلوک کی منازل طے کرنے کےبعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں صاحبِ مجاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، فاضل، کامل، فقیہ، محدث، مفسر، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، جامع شریعت و طریقت، عارف بااللہ، واصل بااللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حامی دین متین، صاحبِ اخلاق محمدی حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کےعظیم خانوادے،اور علمی وروحانی امانتوں کے وارث ِ کامل اور دینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناءﷺ کےعظیم داعی تھے۔تمام علوم کےجامع،اوراسرار و معرفت کےبحرِ بے کنارتھے۔درس وتدریس وعظ ونصیحت اور تربیت ِ سالکین میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔آپ حضرت شاہ غلام علی کے خلیفہ اور امورِ الطافِ خاص تھے حضرت شاہ غلام علی آپ کوعلو استعداد میں آپ کے والد شاہ ابو سعید مجددی سے افضل فرماتے تھے۔ایک مرتبہ دونوں باپ بیٹے حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے،حاضرین سے ارشاد ہوا کون افضل ہےسب لوگ خاموش رہے۔پھر خود ہی فرمایا:بیٹا باپ سے افضل ہے۔(تذکرہ کاملان رام پور:16)
بعد نمازِفجر،ظہر،مغرب تین وقت حلقہ مراقبہ قائم فرماتے،اس کے بعد حدیث وتفسیر و فقہ کا درس دیتے،فتاویٰ بھی لکھا کرتے تھے،فرماتے تھے: فتویٰ نویسی میرا کام نہیں،مگر کیا کروں جاہل عالم بن گئے ہیں۔رات کے پچھلے حصے میں نماز تہجد اہتمام کےساتھ اداکرتے تھے۔نمازِ فجر طویل قرأت کےساتھ ادافرماتے۔مسجد شریف میں ہی تشریف فرما رہتے،اشراق،چاشت پڑھ کر جلسہ عام میں بیٹھ جاتے،حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے،پھر طلبہ کو منقول ومعقول کی کتب کا درس دیتے۔معقول قطبی تک پڑھاتے،زیادہ نہیں پڑھاتے تھے،فرماتے اگرچہ میں معقولات پر قادر ہوں مگر اس کی تعلیم پسند نہیں ہے۔علوم تفسیر وحدیث فقہ واصول فقہ میں بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ تقریر فرماتے۔اسی طرح کتب تصوف میں حقائق ومعارف کےدریا بہا دیتے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ ابو سعید مجددی ۔ کنیت: ابو المکارم ۔ لقب: مظہر یزداں، سند الاولیاء، امام العرفاء ۔ آپ کے نانا حضرت شاہ محمد صدیقی جونہایت ہی متقی وپرہیزگار اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے بذریعہ مکاشفۂ باطنی آپ کانام ’’غلام غوث ‘‘ رکھا۔لیکن آپ شاہ احمد سعید مجددی کےنام سے معروف ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی بن مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم ربیع الاول 1217ھ،مطابق جولائی 1802ء کوبمقام رام پور میں پیدا ہوئے۔تاریخِ ولادت مادہ ’’مظہر ِ یزداں‘‘ سے نکلتی ہے۔
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔جب حفظ قرآن کریم میں مشغول تھے۔اس وقت صغر سنی میں حضرت شاہ درگاہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے۔شاہ صاحب خوب عنایت فرماتے،اور اپنے قریب بٹھاکر قرآن شریف سنا کرتےتھے۔پھر دس سال کی عمر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ سےاکثر کتب تصوف جیسے رسالہ قشیریہ، احیاء العلوم، عوارف المعارف، نفحات الانس، رشحات، مکتوبات امام ربانی، مثنوی مولانا روم وغیرہ پڑھیں اور بعض کی سماعت کی، ترمذی اور مشکوٰۃ المصابیح پڑھیں، باقی کتب منقول ومعقول علمائے دہلی مولانا فضل امام خیر آبادی،شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر، مولانا نور فرنگی محلی، مولانا رشیدالدین ۔ رام پور میں مفتی شرف الدین اور مولانا سراج احمد بن حضرت محمد مرشد،لکھنؤ میں مولانا اشرف اور مولانا نور قُدِّس اسررہم سے درسیات پڑھ کر حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ سے حدیث کا دور کیا۔بیس سال کی عمر میں دستارِ فضیلت باندھی گئی۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:23/تذکرہ کاملان رام پور:15)
بیعت و خلافت:
دس سال کی عمر میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔سلوک کی منازل طے کرنے کےبعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں صاحبِ مجاز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، فاضل، کامل، فقیہ، محدث، مفسر، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، جامع شریعت و طریقت، عارف بااللہ، واصل بااللہ، عاشق رسول اللہ ﷺ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، حامی دین متین، صاحبِ اخلاق محمدی حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کےعظیم خانوادے،اور علمی وروحانی امانتوں کے وارث ِ کامل اور دینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناءﷺ کےعظیم داعی تھے۔تمام علوم کےجامع،اوراسرار و معرفت کےبحرِ بے کنارتھے۔درس وتدریس وعظ ونصیحت اور تربیت ِ سالکین میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔آپ حضرت شاہ غلام علی کے خلیفہ اور امورِ الطافِ خاص تھے حضرت شاہ غلام علی آپ کوعلو استعداد میں آپ کے والد شاہ ابو سعید مجددی سے افضل فرماتے تھے۔ایک مرتبہ دونوں باپ بیٹے حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے،حاضرین سے ارشاد ہوا کون افضل ہےسب لوگ خاموش رہے۔پھر خود ہی فرمایا:بیٹا باپ سے افضل ہے۔(تذکرہ کاملان رام پور:16)
بعد نمازِفجر،ظہر،مغرب تین وقت حلقہ مراقبہ قائم فرماتے،اس کے بعد حدیث وتفسیر و فقہ کا درس دیتے،فتاویٰ بھی لکھا کرتے تھے،فرماتے تھے: فتویٰ نویسی میرا کام نہیں،مگر کیا کروں جاہل عالم بن گئے ہیں۔رات کے پچھلے حصے میں نماز تہجد اہتمام کےساتھ اداکرتے تھے۔نمازِ فجر طویل قرأت کےساتھ ادافرماتے۔مسجد شریف میں ہی تشریف فرما رہتے،اشراق،چاشت پڑھ کر جلسہ عام میں بیٹھ جاتے،حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے،پھر طلبہ کو منقول ومعقول کی کتب کا درس دیتے۔معقول قطبی تک پڑھاتے،زیادہ نہیں پڑھاتے تھے،فرماتے اگرچہ میں معقولات پر قادر ہوں مگر اس کی تعلیم پسند نہیں ہے۔علوم تفسیر وحدیث فقہ واصول فقہ میں بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ تقریر فرماتے۔اسی طرح کتب تصوف میں حقائق ومعارف کےدریا بہا دیتے ۔
❤2
1249ھ میں والد کی جگہ پر خانقاہ شاہ غلام علی کے سجادہ نشین ہوئے، مریدوں کے حال پر بہت شفیق تھے، مریدین کا ہجوم ہو گیا، لوگوں کو آپ کی ذات سے بہت فائدہ پہنچا ۔ ستاون برس کی عمر ہوئی تھی کہ 1272ھ /1857ء میں غدر کابگل بج گیا،حفاظت کے خیال سے اہل وعیال کو شہر سے باہر دیہات میں بھیج دیا،اور خود خانقاہ ہی میں مقیم رہے،لوگوں نےچلنے کےلیے عرض کیا، فرمایا جب تک بزرگوں کا حکم نہ ہوگا نہیں جاؤں گا،ایک شب بعد از تہجد فرمایا،اب نکلنے کی اجازت ہوگئی ہے خانقاہ کا انتظام حاجی دوست محمد قندھاری کو سپرد کرکے سواری تلاش کرائی،مگر نہ ملی،خادم نے کہا کہ حضرت امیر وغریب ،مردو زن سب پیدل جارہے ہیں۔آپ نےفرمایا میں تو پیدل نہیں چل سکتا ۔ پھر تھوڑی دیر مراقبے میں بیٹھ گئے، اسی اثناء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے دوگھوڑے آپ کو مل گئے، آپ ان پر سوار ہوکر قطب صاحب میں آئے،یہاں پر اہل وعیال پہلےہی سے مقیم تھے،یہیں پر بیوی صاحبہ کا انتقال ہوا،حضرت سید محمد نور بد ایونی قدس سرہ کےپہلو میں دفن کر کے مریدین کی جمعیت کو ہمرکاب لے کر با ارادۂ ہجرت عازم ِمکہ ہوئے۔
دورانِ سفر پنجاب میں داخل ہوئے،جس علاقے سے گزر ہوتا لوگ جوق در جو ق قدم بوس ہوتے،اور داخلِ سلسلہ ہوتے،آپ اپنے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری کےہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسمعیل خان تشریف لے گئے،وہاں سے کراچی اورکراچی سےممبئی،اور بذریعہ جہاز آخر شوال میں جدہ پہنچے،رمضان سمندر میں گزارا،تراویح میں قرآن پڑھا،معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔حج کا شرف حاصل کیا،چار ماہ بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے،خالد پاشا محافظ مدینہ منورہ داخل سلسلہ ہوئے،اور ایک مکان کرایہ پر لےکر رہائش کے لیے پیش کیا،رجب کے مہینے میں اہل وعیال کو مکہ مکرمہ سے بلاکر اس مکان میں مقیم ہوگئے۔یاد رہے کہ آپ نےبھی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کیے تھے،اور اس فتوے کی توثیق فرمائی تھی۔
آپ نےوصال سےقبل قیام دہلی میں وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضرت مرزا جان جاناں کےزیر قدم دفن کرنا۔مدینہ منورہ میں وصیت فرمائی تھی کہ حضرت عثمان غنی کےقرب میں دفن کرنا۔ آپ نے وہابیوں کے رد میں مشہور کتاب’’ حق المبین فی رد علی الوھابیین‘‘ تصنیف فرمائی۔حضرت کے اکسٹھ خلفاء تھے جو افغانستان بخارا وغیرہ میں پھیلے ہوئے تھے،مولوی رشید احمد گنگوہی نے آپ سے اکتساب علم کیا تھا مگر بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کا تذکرہ اہانت آمیز کرتاتھا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال بروزمنگل 2/ربیع الاول 1277ھ،مطابق 18/ستمبر 1860ء کومدینۃ المنورہ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-saeed-mujaddidi
دورانِ سفر پنجاب میں داخل ہوئے،جس علاقے سے گزر ہوتا لوگ جوق در جو ق قدم بوس ہوتے،اور داخلِ سلسلہ ہوتے،آپ اپنے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری کےہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسمعیل خان تشریف لے گئے،وہاں سے کراچی اورکراچی سےممبئی،اور بذریعہ جہاز آخر شوال میں جدہ پہنچے،رمضان سمندر میں گزارا،تراویح میں قرآن پڑھا،معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔حج کا شرف حاصل کیا،چار ماہ بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے،خالد پاشا محافظ مدینہ منورہ داخل سلسلہ ہوئے،اور ایک مکان کرایہ پر لےکر رہائش کے لیے پیش کیا،رجب کے مہینے میں اہل وعیال کو مکہ مکرمہ سے بلاکر اس مکان میں مقیم ہوگئے۔یاد رہے کہ آپ نےبھی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کیے تھے،اور اس فتوے کی توثیق فرمائی تھی۔
آپ نےوصال سےقبل قیام دہلی میں وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضرت مرزا جان جاناں کےزیر قدم دفن کرنا۔مدینہ منورہ میں وصیت فرمائی تھی کہ حضرت عثمان غنی کےقرب میں دفن کرنا۔ آپ نے وہابیوں کے رد میں مشہور کتاب’’ حق المبین فی رد علی الوھابیین‘‘ تصنیف فرمائی۔حضرت کے اکسٹھ خلفاء تھے جو افغانستان بخارا وغیرہ میں پھیلے ہوئے تھے،مولوی رشید احمد گنگوہی نے آپ سے اکتساب علم کیا تھا مگر بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کا تذکرہ اہانت آمیز کرتاتھا۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال بروزمنگل 2/ربیع الاول 1277ھ،مطابق 18/ستمبر 1860ء کومدینۃ المنورہ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
تذکرہ کاملان رام پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-saeed-mujaddidi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ahmad Saeed Mujaddidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا قاری عبدالرزاق کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ قاری عبدالرزاق کشمیری ۔ علاقۂ کشمیر کی نسبت سے ’’کشمیری‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ قاری عبدالرزاق بن مولانا عبد الغفور خان علیہماالرحمہ۔ آپ اپنے والد کے ہاں تین صاحبزادیوں کے بعد پہلی نرینہ اولاد تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو ’’تتر وٹ،پاڑہ‘‘ کے مضافات تحصیل راولا کوٹ،ضلع پونچھ، آزاد کشمیر میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی پھر پرائمری اسکول رٹھاڑہ میں داخل کرادیا ۔ جب آپ نے سال سوم کا امتحان پاس کیا تو والد گرامی نے فارسی کتب پڑھنے کیلئے آپ کے چچا مولانا محمد سعید خان کے پاس بھیجا جو کہ گاوٗں رٹھارہ میں ہی مقیم تھے ۔ آپ نے فارسی کا مشہور رسالہ ’’کریما ‘‘ اپنے چچا کے پاس پڑھا اور 12 سال کی عمر میں حافظ عبدالحئی کے ہمراہ حصول تعلیم کے لئے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔ آپ غالبا 1944ء میں رہتک (تحصیل ضلع انڈیا) پہنچے وہاں مدرسہ اسلامیہ خیر المعا د میں داخلہ لیا۔ حضرت شیخ طریقت علامہ مولانا حامد علی خان کے حضور میں زانوئے تلمذ تہہ کئے ۔ "رہتک" کے زمانہ میں ساری کتب حضرت اکیلے ہی پڑھاتے تھے ۔ 1946ء میں مفتی عبد اللطیف صاحب کو بھی مدرس مقرر کیا گیا ، آپ نے مفتی صاحب سے بھی اکستاب فیض کیا۔ ان دنوں تحریک پاکستان عروج پر پہنچ چکی تھی ملک بھرمیں قریہ قریہ ، نگر نگر، بستی بستی جلسے جلوس ہو رہے تھے۔ 1947ء میں قیام پاکستان عمل میں آیا ، فالحمد للہ !مسلمانوں کی جدوجہد کامیاب ہوئی ، دعائیں قبول ہوئیں ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو آپ اپنے استاذِ محترم حضرت مولانا حامد علی خان رام پوری کے حکم پر پاکستان تشریف لائے پھر کشمیر چلے گئے ۔
والد ماجد کے حکم پر دینی علوم کی تکمیل کے لئے پاکستان چلے آئے یہاں بکھی شریف (ضلع منڈی بہاء الدین ) میں مولانا سید جلال الدین شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر میبذی،حسامی ، مقامات حریری وغیرہ کتب کی تکمیل کے بعد رازی دوراں شیخ الحدیث علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب کی مشہور درس گا ہ انوار العلوم (ملتان ) میں داخلہ لیا ۔ جہاں مولانا مفتی امید علی خان ، مولانا عبدالکریم ، مولانا مفتی سید مسعود علی قادری (والد جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری) سے ہدایہ اور مختصر المعانی وغیرہ کتب پڑھیں ۔ دورہ حدیث شریف آپ نے حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب کے پاس مکمل کیا۔ او ر سند فراغت حاصل کی۔ ساتھ میں قاری معز الدین کے پاس قراٗت و تجوید کی تعلیم اور عملی مشق کیا کرتے تھے۔ اس لئے آپ عمر بھر ’’قاری صاحب ‘‘کے نام سے مشہور تھے ۔
بیعت وخلافت: طالب علمی کے دور میں قائدِ تحریکِ نظام مصطفیٰ، ملتان کے بےتاج بادشاہ حضرت مولانا حامد علی خان رام پوری ( بانی جامعہ اسلامیہ خیر الماد ، خانقاہ حامد یہ ، قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان ) سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے ۔ د س سال کا عرصہ خدمت عالیہ میں رہ کر تعلیم و تربیت ، تزکیہ نفس اور سلوک کی منا زل طے کرنے کے بعد 22 سال کی عمر میں خلافت و اجازت سے نوازے گئے ۔ بعد میں علامہ کاظمی نے سلسلہ قادریہ اور چشتیہ میں خلافت مرحمت فرمائی تھی ۔
فقیر راشدی غفرلہ کا مشاہدہ ہے آج کل جو دیدہ زیب ، پریس سے چھپی ہوئی پرکشش خلافتیں بٹ رہی ہیں ۔ اور بانٹے والے اور جھولی پھیلانے والے دونوں طرف سر گرمی ہے۔ عام سے صوفی کو ایک سو روپے میں خلافت آرام سے مل جاتی ہے جب کہ نامور شخصیت اور چرب زبان واعظ کوکئی کئی سلاسل میں خلافتیں مل رہی ہیں ۔ اس لئے ہر مولوی پیر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے (الاماشاء اللہ ) ۔ آج خلافت کی وہ وقعت نہ رہی ہے جو پہلے تھی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی جعلی خلافتوں کی نحوست سے بچائے آمین ۔ لیکن قاری صاحب کا معاملہ دوسرا ہے انہوں نے دس سال شیخ کی خدمت میں رہ کر ریاضت و مجاہد ہ کے ذریعے تزکیہ نفس کیا۔ اس کے بعد خلافت کے حقدار ٹھہرے ۔ سبحان اللہ !
فاضل مصنف زید مجدہ نےصحیح اشارہ فرمایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج وہ کمالات نہ رہے،صرف القاب ہی القاب ہیں،اندر خالی ہے۔تومن حاجی بگو۔۔۔من ترا ملا بگویم ۔۔۔کا سلسلہ عروج پرہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لاکھوں کےدلوں میں محبتِ اسلام زندہ کرتے،اور اِن کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہورہے ہیں۔(فقیر تونسویؔ غفرلہ)
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ قاری عبدالرزاق کشمیری ۔ علاقۂ کشمیر کی نسبت سے ’’کشمیری‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ قاری عبدالرزاق بن مولانا عبد الغفور خان علیہماالرحمہ۔ آپ اپنے والد کے ہاں تین صاحبزادیوں کے بعد پہلی نرینہ اولاد تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو ’’تتر وٹ،پاڑہ‘‘ کے مضافات تحصیل راولا کوٹ،ضلع پونچھ، آزاد کشمیر میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی پھر پرائمری اسکول رٹھاڑہ میں داخل کرادیا ۔ جب آپ نے سال سوم کا امتحان پاس کیا تو والد گرامی نے فارسی کتب پڑھنے کیلئے آپ کے چچا مولانا محمد سعید خان کے پاس بھیجا جو کہ گاوٗں رٹھارہ میں ہی مقیم تھے ۔ آپ نے فارسی کا مشہور رسالہ ’’کریما ‘‘ اپنے چچا کے پاس پڑھا اور 12 سال کی عمر میں حافظ عبدالحئی کے ہمراہ حصول تعلیم کے لئے ہندوستان کا سفر اختیار کیا۔ آپ غالبا 1944ء میں رہتک (تحصیل ضلع انڈیا) پہنچے وہاں مدرسہ اسلامیہ خیر المعا د میں داخلہ لیا۔ حضرت شیخ طریقت علامہ مولانا حامد علی خان کے حضور میں زانوئے تلمذ تہہ کئے ۔ "رہتک" کے زمانہ میں ساری کتب حضرت اکیلے ہی پڑھاتے تھے ۔ 1946ء میں مفتی عبد اللطیف صاحب کو بھی مدرس مقرر کیا گیا ، آپ نے مفتی صاحب سے بھی اکستاب فیض کیا۔ ان دنوں تحریک پاکستان عروج پر پہنچ چکی تھی ملک بھرمیں قریہ قریہ ، نگر نگر، بستی بستی جلسے جلوس ہو رہے تھے۔ 1947ء میں قیام پاکستان عمل میں آیا ، فالحمد للہ !مسلمانوں کی جدوجہد کامیاب ہوئی ، دعائیں قبول ہوئیں ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو آپ اپنے استاذِ محترم حضرت مولانا حامد علی خان رام پوری کے حکم پر پاکستان تشریف لائے پھر کشمیر چلے گئے ۔
والد ماجد کے حکم پر دینی علوم کی تکمیل کے لئے پاکستان چلے آئے یہاں بکھی شریف (ضلع منڈی بہاء الدین ) میں مولانا سید جلال الدین شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر میبذی،حسامی ، مقامات حریری وغیرہ کتب کی تکمیل کے بعد رازی دوراں شیخ الحدیث علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب کی مشہور درس گا ہ انوار العلوم (ملتان ) میں داخلہ لیا ۔ جہاں مولانا مفتی امید علی خان ، مولانا عبدالکریم ، مولانا مفتی سید مسعود علی قادری (والد جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری) سے ہدایہ اور مختصر المعانی وغیرہ کتب پڑھیں ۔ دورہ حدیث شریف آپ نے حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب کے پاس مکمل کیا۔ او ر سند فراغت حاصل کی۔ ساتھ میں قاری معز الدین کے پاس قراٗت و تجوید کی تعلیم اور عملی مشق کیا کرتے تھے۔ اس لئے آپ عمر بھر ’’قاری صاحب ‘‘کے نام سے مشہور تھے ۔
بیعت وخلافت: طالب علمی کے دور میں قائدِ تحریکِ نظام مصطفیٰ، ملتان کے بےتاج بادشاہ حضرت مولانا حامد علی خان رام پوری ( بانی جامعہ اسلامیہ خیر الماد ، خانقاہ حامد یہ ، قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان ) سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت تھے ۔ د س سال کا عرصہ خدمت عالیہ میں رہ کر تعلیم و تربیت ، تزکیہ نفس اور سلوک کی منا زل طے کرنے کے بعد 22 سال کی عمر میں خلافت و اجازت سے نوازے گئے ۔ بعد میں علامہ کاظمی نے سلسلہ قادریہ اور چشتیہ میں خلافت مرحمت فرمائی تھی ۔
فقیر راشدی غفرلہ کا مشاہدہ ہے آج کل جو دیدہ زیب ، پریس سے چھپی ہوئی پرکشش خلافتیں بٹ رہی ہیں ۔ اور بانٹے والے اور جھولی پھیلانے والے دونوں طرف سر گرمی ہے۔ عام سے صوفی کو ایک سو روپے میں خلافت آرام سے مل جاتی ہے جب کہ نامور شخصیت اور چرب زبان واعظ کوکئی کئی سلاسل میں خلافتیں مل رہی ہیں ۔ اس لئے ہر مولوی پیر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے (الاماشاء اللہ ) ۔ آج خلافت کی وہ وقعت نہ رہی ہے جو پہلے تھی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی جعلی خلافتوں کی نحوست سے بچائے آمین ۔ لیکن قاری صاحب کا معاملہ دوسرا ہے انہوں نے دس سال شیخ کی خدمت میں رہ کر ریاضت و مجاہد ہ کے ذریعے تزکیہ نفس کیا۔ اس کے بعد خلافت کے حقدار ٹھہرے ۔ سبحان اللہ !
فاضل مصنف زید مجدہ نےصحیح اشارہ فرمایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج وہ کمالات نہ رہے،صرف القاب ہی القاب ہیں،اندر خالی ہے۔تومن حاجی بگو۔۔۔من ترا ملا بگویم ۔۔۔کا سلسلہ عروج پرہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لاکھوں کےدلوں میں محبتِ اسلام زندہ کرتے،اور اِن کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہورہے ہیں۔(فقیر تونسویؔ غفرلہ)
❤2
سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا،عالمِ با عمل،جامع المعقول والمنقول،شیخ الحدیث،حضرت علامہ مولانا مفتی قاری عبدالرزاق کشمیری نقشبندی مجددی حامدی۔آپ ماضی قریب کےان علماء میں سےتھےجن کی صورت کردار میں اکابرین علماء اولیاء کی سیرت مبارکہ کی جھلک اس پر فتن دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔سمجھنے اور سیکھنے والوں کےلئے اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔حضرت قاری صاحب ایک جید عالم دین اور اپنے وقت کےاکابر علماء ومشائخ کےفیض یافتہ تھے۔آپ نےخلوص وللہیت کے ساتھ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی جوآج کل کےنوجوان علماء کرام کے لئے مشعل راہ ہے۔
آپ کے مزاج میں انتہائی سادگی اور بے تکلفی تھی ، جو میسر آتا پہن لیتے تکلف و تصنع کو پسند نہ فرماتے تھے ، البتہ لباس ہمیشہ صاف ستھر ا او ر پر وقار ہوتا تھا ۔ کمال عاجزی و انکساری میں خود داری اور عزت نفس کا امتزاج آپ کی ایک نمایاں خصوصیت تھی ۔ مستقل مزاج تھے جذباتی نہیں تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر ی ذہن ودیعت فرمایا تھا۔طلب دنیا کی کمزوریوں سے آپ کی ذات مبر ا تھی اس لئے آپ نے مسجد و مدرسہ تبدیل نہیں کیا جہان تھے وہیں زندگی لگادی ۔ آپ نے کبھی اشارۃ ً بھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایک بار جامعہ مجددیہ کے اساتذہ نے تنخواہ بڑھانے کے لئے ایک درخواست مہتمم کے نام لکھی اور دستخط کے لئے آپ کے پاس بھیجی آپ نے دستخط سے انکار کرتے ہوئے فرمایا:’’ہم یہاں تنخواہ لینے کے لئے نہیں بیٹھے ہیں‘‘۔آپ کے مخلصین آپ کو حیدر آباد میں پلاٹ لینے،اپنا دارالعلوم بنانے اور مکان تعمیر کرانے کا مشورہ دیا کرتے تھے ، لیکن آپ اکثر یہ فرماکر انہیں خاموش کرادیتے کہ ’’ہمارا یہاں قیام عارضی ہے رہنے کیلئے کشمیر میں جھونپڑا ہے ‘‘ ۔ آپ کے وصال تک آپ کا کوئی بینک بیلنس تھا اور نہ جائیداد ۔ مگر اس زہد و استغنا ء کے باوجود دوسروں کے دنیوی معاملات میں غیر معمولی دلچپسی لیتے تھے اپنے رفقاء ، شاگردوں ، محبین لوگوں کے مسائل کے بارے میں متفکر رہتے اور ہر ممکن مالی مدد فرماتے تھے یہی وجہ تھی کہ بے شمار لوگ آپ کو اپنا غمخوار سمجھتے تھے۔ آپ نے عمر بھر کبھی کسی کے سامنے ذاتی ضرورت کے لئے دست سوال دراز نہیں کیا ہاں البتہ اگر کسی شاگر د یا عزیز کو حاجت پیش آتی تو اپنی ضمانت پر قرض دلایا کرتے تھے ۔
خطابت و امامت : مدرسہ انوار العلوم ملتان کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں ملک کے جید علماء و مشائخ خطباء قرا حضرات کو مد عو کیا کیا جاتا تھا ۔ ان نامور ہستیوں میں استاد القراٗ مولانا قاری محمد طفیل نقشبندی بھی شامل تھے۔ قاری صاحب کے ساتھ آپ کی شنا سائی بھارت کے طالب علمی کے زمانہ سے تھی ، قاری صاحب کے ساتھ ملتان میں ملاقات کے دوران انہوں نے حیدر آباد (سندھ ) میں خدمت دین کے لئے دعوت پیش کی، آپ نے دعوت محبت کو قبول فرمایا اور حیدر آباد تشریف لا کر بقیہ زندگی حیدر آباد کے لئے وقف کر دی ۔
1959ء کو حیدرآباد میں جامع مسجد مائی خیری (محلہ فقیر جوپڑ ) کی امامت و خطابت سونپی گئی اور ایک سو روپے مشاہرہ مقرر ہوا ۔ 1960ء میں جب ’’محکمہ اوقاف ‘‘ قائم ہوا تو آپ کی مسجد اوقاف کی تحویل میں چلی گئی اور آپ کو ضلع حیدر آباد کا ڈسٹرکٹ خطیب مقرر کیا گیا جس عہدے پر آپ وصا ل تک متمکن رہے ۔ اس سے قبل طالب علمی کے زمانہ میں رہتک ( بھارت ) میں راجپوتوں کے محلہ کی مسجد میں امامت کی جگہ خالی ہوئی تو انتظامیہ کے اصرار پر حضرت مولانا حامد علی خان نے آپ کو منصب امامت پر فائز فرمایا ۔ قیام ملتان کے دوران گڑ منڈی کی جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔
درس و تدریس: گڑ منڈی کی جامع مسجد میں آپ نے مدرسہ ’’ریاض العلوم ‘‘کی بنیاد رکھی اور درس و تدریس کا آغاز اس مدرسہ سے فرمایا۔ جہاں بیرونی طلباء کے قیام کا بھی بندوبست تھا۔ کچھ عرصہ ایک پرائیویٹ اسکول میں بھی اسلامیات کاسبق پڑھاتے رہے ۔ حیدر آباد میں مائی خیری مسجد میں مولانا قاری محمد طفیل صاحب کا قائم کردہ ’’مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ ‘‘ پہلے سے جاری تھا۔ آپ نے اس میں درس نظامی شروع کر دیا او رتھوڑے عرصہ میں دور دراز کے طلباء کی کثیر تعداد نے مدرسہ میں داخلہ لیا اور آپ سے اکتساب فیض کیا۔
صوفیِ باصفا،عالمِ با عمل،جامع المعقول والمنقول،شیخ الحدیث،حضرت علامہ مولانا مفتی قاری عبدالرزاق کشمیری نقشبندی مجددی حامدی۔آپ ماضی قریب کےان علماء میں سےتھےجن کی صورت کردار میں اکابرین علماء اولیاء کی سیرت مبارکہ کی جھلک اس پر فتن دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔سمجھنے اور سیکھنے والوں کےلئے اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔حضرت قاری صاحب ایک جید عالم دین اور اپنے وقت کےاکابر علماء ومشائخ کےفیض یافتہ تھے۔آپ نےخلوص وللہیت کے ساتھ ساری زندگی دینِ متین کی خدمت فرمائی جوآج کل کےنوجوان علماء کرام کے لئے مشعل راہ ہے۔
آپ کے مزاج میں انتہائی سادگی اور بے تکلفی تھی ، جو میسر آتا پہن لیتے تکلف و تصنع کو پسند نہ فرماتے تھے ، البتہ لباس ہمیشہ صاف ستھر ا او ر پر وقار ہوتا تھا ۔ کمال عاجزی و انکساری میں خود داری اور عزت نفس کا امتزاج آپ کی ایک نمایاں خصوصیت تھی ۔ مستقل مزاج تھے جذباتی نہیں تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر ی ذہن ودیعت فرمایا تھا۔طلب دنیا کی کمزوریوں سے آپ کی ذات مبر ا تھی اس لئے آپ نے مسجد و مدرسہ تبدیل نہیں کیا جہان تھے وہیں زندگی لگادی ۔ آپ نے کبھی اشارۃ ً بھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایک بار جامعہ مجددیہ کے اساتذہ نے تنخواہ بڑھانے کے لئے ایک درخواست مہتمم کے نام لکھی اور دستخط کے لئے آپ کے پاس بھیجی آپ نے دستخط سے انکار کرتے ہوئے فرمایا:’’ہم یہاں تنخواہ لینے کے لئے نہیں بیٹھے ہیں‘‘۔آپ کے مخلصین آپ کو حیدر آباد میں پلاٹ لینے،اپنا دارالعلوم بنانے اور مکان تعمیر کرانے کا مشورہ دیا کرتے تھے ، لیکن آپ اکثر یہ فرماکر انہیں خاموش کرادیتے کہ ’’ہمارا یہاں قیام عارضی ہے رہنے کیلئے کشمیر میں جھونپڑا ہے ‘‘ ۔ آپ کے وصال تک آپ کا کوئی بینک بیلنس تھا اور نہ جائیداد ۔ مگر اس زہد و استغنا ء کے باوجود دوسروں کے دنیوی معاملات میں غیر معمولی دلچپسی لیتے تھے اپنے رفقاء ، شاگردوں ، محبین لوگوں کے مسائل کے بارے میں متفکر رہتے اور ہر ممکن مالی مدد فرماتے تھے یہی وجہ تھی کہ بے شمار لوگ آپ کو اپنا غمخوار سمجھتے تھے۔ آپ نے عمر بھر کبھی کسی کے سامنے ذاتی ضرورت کے لئے دست سوال دراز نہیں کیا ہاں البتہ اگر کسی شاگر د یا عزیز کو حاجت پیش آتی تو اپنی ضمانت پر قرض دلایا کرتے تھے ۔
خطابت و امامت : مدرسہ انوار العلوم ملتان کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں ملک کے جید علماء و مشائخ خطباء قرا حضرات کو مد عو کیا کیا جاتا تھا ۔ ان نامور ہستیوں میں استاد القراٗ مولانا قاری محمد طفیل نقشبندی بھی شامل تھے۔ قاری صاحب کے ساتھ آپ کی شنا سائی بھارت کے طالب علمی کے زمانہ سے تھی ، قاری صاحب کے ساتھ ملتان میں ملاقات کے دوران انہوں نے حیدر آباد (سندھ ) میں خدمت دین کے لئے دعوت پیش کی، آپ نے دعوت محبت کو قبول فرمایا اور حیدر آباد تشریف لا کر بقیہ زندگی حیدر آباد کے لئے وقف کر دی ۔
1959ء کو حیدرآباد میں جامع مسجد مائی خیری (محلہ فقیر جوپڑ ) کی امامت و خطابت سونپی گئی اور ایک سو روپے مشاہرہ مقرر ہوا ۔ 1960ء میں جب ’’محکمہ اوقاف ‘‘ قائم ہوا تو آپ کی مسجد اوقاف کی تحویل میں چلی گئی اور آپ کو ضلع حیدر آباد کا ڈسٹرکٹ خطیب مقرر کیا گیا جس عہدے پر آپ وصا ل تک متمکن رہے ۔ اس سے قبل طالب علمی کے زمانہ میں رہتک ( بھارت ) میں راجپوتوں کے محلہ کی مسجد میں امامت کی جگہ خالی ہوئی تو انتظامیہ کے اصرار پر حضرت مولانا حامد علی خان نے آپ کو منصب امامت پر فائز فرمایا ۔ قیام ملتان کے دوران گڑ منڈی کی جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔
درس و تدریس: گڑ منڈی کی جامع مسجد میں آپ نے مدرسہ ’’ریاض العلوم ‘‘کی بنیاد رکھی اور درس و تدریس کا آغاز اس مدرسہ سے فرمایا۔ جہاں بیرونی طلباء کے قیام کا بھی بندوبست تھا۔ کچھ عرصہ ایک پرائیویٹ اسکول میں بھی اسلامیات کاسبق پڑھاتے رہے ۔ حیدر آباد میں مائی خیری مسجد میں مولانا قاری محمد طفیل صاحب کا قائم کردہ ’’مدرسہ قرآنیہ رحمانیہ ‘‘ پہلے سے جاری تھا۔ آپ نے اس میں درس نظامی شروع کر دیا او رتھوڑے عرصہ میں دور دراز کے طلباء کی کثیر تعداد نے مدرسہ میں داخلہ لیا اور آپ سے اکتساب فیض کیا۔
❤2
قاری محمد طفیل اور قاری عبدالرزاق نے مفتی محمود الوری علیہ الرحمہ سے رابطہ کیا اور انہیں قائل کیا کہ آپ کے پا س جگہ اور وسائل کی کمی نہیں ہے آپ مدرسہ کو دارالعلوم بنائیں ، درس نظامی شروع کریں تو ہم طلباء سمیت اپنی خدما ت پیش کر نے کے لئے تیار ہیں مفتی صاحب نے اس تجویز کو پسند کیا اور اس طرح دارالعلوم رکن الاسلام کی بنیاد محلہ ہیر آباد میں رکھی گئی ۔ قاری صاحب کی تجویز پر مفتی صاحب نے جامعہ مجدد یہ کے الفاظ نام میں شامل فرمائے ۔ اب مکمل نام یوں ہوا: ’’جامعہ مجدد یہ رکن الاسلام ‘‘ آپ کی شبانہ روز کاوشوں روحانی اور علمی فیوضات کے باعث اس ادارے کو چار چاند لگے ۔ 1970 ء میں جب مفتی محمو د الوری نے نقاہت اور ضعف بصارت کی وجہ سے تدریس ترک کر دی تو علامہ قاری عبدالرزاق کو دارالعلوم کا شیخ الحدیث بنا دیا گیا ، جہاں آپ 1990ء تک اس منصب علمی پر فائز رہے۔
شادی و اولاد :طالب علمی کے دور میں جب تین سال تک مرشد گرامی کی خدمت میں رہنے کے بعد والدین کی زیارت کے لئے پہلی بار آبائی گاؤں آئے تو اس موقعہ پر والدین کے حکم پر آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔ تقریبا دس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اکلوتا بیٹا مولانا ڈاکٹر عبدالقدوس خان حامدی عطا فرمایا ۔ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نقشبندی ، مہتمم جامعہ مجدد یہ رکن الاسلام ، حیدر آبا د سندھ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔تصانیف میں یہ دورسائل ہیں۔ 1۔عالمگیر نبوت (یعنی حضور کل کائنات کے نبی ) 2۔مختصر تذکرہ امام بانی مجدد الف ثانی۔یہ دونوں رسائل جماعت اہل سنت حیدر آباد کے زیر اہتمام شائع ہو کر مفت تقسیم کیےگئے۔
تایخِ وصال: یکم ربیع الاول 1420ھ مطابق 16/جون 1999ء کو داعی اجل کو لبیک کہا او ر آج وادی کشمیر میں اپنے آبائی گوٹھ شروٹ اٹھاڑہ (تحصیل را و کوٹ ) میں آسود ہ خاک ہیں
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-abdul-razzaq-kashmiri
شادی و اولاد :طالب علمی کے دور میں جب تین سال تک مرشد گرامی کی خدمت میں رہنے کے بعد والدین کی زیارت کے لئے پہلی بار آبائی گاؤں آئے تو اس موقعہ پر والدین کے حکم پر آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔ تقریبا دس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اکلوتا بیٹا مولانا ڈاکٹر عبدالقدوس خان حامدی عطا فرمایا ۔ صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نقشبندی ، مہتمم جامعہ مجدد یہ رکن الاسلام ، حیدر آبا د سندھ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔تصانیف میں یہ دورسائل ہیں۔ 1۔عالمگیر نبوت (یعنی حضور کل کائنات کے نبی ) 2۔مختصر تذکرہ امام بانی مجدد الف ثانی۔یہ دونوں رسائل جماعت اہل سنت حیدر آباد کے زیر اہتمام شائع ہو کر مفت تقسیم کیےگئے۔
تایخِ وصال: یکم ربیع الاول 1420ھ مطابق 16/جون 1999ء کو داعی اجل کو لبیک کہا او ر آج وادی کشمیر میں اپنے آبائی گوٹھ شروٹ اٹھاڑہ (تحصیل را و کوٹ ) میں آسود ہ خاک ہیں
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qari-abdul-razzaq-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Molana Qari Abdul Razzaq Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی علیہ الرحمہ
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت: قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴؍شوال ۸۵۲ھ/ ۱۱؍دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ سے ہے۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمرقند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرماہوئے۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے واردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت: قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴؍شوال ۸۵۲ھ/ ۱۱؍دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ سے ہے۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمرقند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرماہوئے۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے واردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
❤1
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
وصال ُبارک:
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع و خش[۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی۔ خزینہ الاصفیا۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری)
[۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے۔]
(مشائخِ نقشبندیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
وصال ُبارک:
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع و خش[۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی۔ خزینہ الاصفیا۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری)
[۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے۔]
(مشائخِ نقشبندیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Zahid Khashi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ عبد الرشید جالندھری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ جالند شہر کے سادات میں سے تھے والد کا نام سید اشرف تھا۔ آپ چھوٹے ہی تھے کہ آپ کو تلاشِ حق کی لگن لگ گئی ظاہری علوم پڑھنے کے بعد اپنے وطن سے نکلے اور مختلف شہروں کی سیر کرتے حضرت شاہ ابو المعالی کی خدمت میں حاضر ہوئے اُس وقت حضرت شاہ ابو المعالی کی عمر کافی ہوچکی تھی۔ آپ نے شیخ عبدالرشید کو سید میران بہیکہ کے حوالے کردیا جنہوں نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دیا۔
خزنیتہ السالکین کے مصنف لکھتے ہیں ایک دن حضرت میراں بہیکہ نے سید علیم اللہ جالندھری کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے پاس جو مرید بھی آتا ہے میں چھ سال تک اس کا امتحان لیتا ہوں اگر اس کا اعتقاد درست ہو تو میں اُسے اپنے خادموں میں شمار کرتا ہوں لیکن سید عبدالرشید جالندھری ایک ایسے شخص ہیں جنہیں میں نے پہلے دن سے ہی پکے اعتقاد کا پایا اور اپنا خادم بنالیا۔
آپ یکم ماہ ربیع الاول بروز جمعہ ۱۱۲۱ھ اپنے مرشد کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے جالندھر میں ہی آپ کا مزار بنایا گیا آپ کے وصال کے بعد سید میراں بہیکہ نے آپ کے بیٹے سید غلام الدین محی الدین کو بیعت کیا اور انہیں کمال تک تربیت دی۔
حضرت عبد الرشید آں میر دین
چو ز دنیا رفت و در جنت رسید
سال وصال اوست عارف حق پرست
بار دیگر سرور عالم رشید
۱۱۲۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-rasheed-jalandhari
آپ جالند شہر کے سادات میں سے تھے والد کا نام سید اشرف تھا۔ آپ چھوٹے ہی تھے کہ آپ کو تلاشِ حق کی لگن لگ گئی ظاہری علوم پڑھنے کے بعد اپنے وطن سے نکلے اور مختلف شہروں کی سیر کرتے حضرت شاہ ابو المعالی کی خدمت میں حاضر ہوئے اُس وقت حضرت شاہ ابو المعالی کی عمر کافی ہوچکی تھی۔ آپ نے شیخ عبدالرشید کو سید میران بہیکہ کے حوالے کردیا جنہوں نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دیا۔
خزنیتہ السالکین کے مصنف لکھتے ہیں ایک دن حضرت میراں بہیکہ نے سید علیم اللہ جالندھری کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے پاس جو مرید بھی آتا ہے میں چھ سال تک اس کا امتحان لیتا ہوں اگر اس کا اعتقاد درست ہو تو میں اُسے اپنے خادموں میں شمار کرتا ہوں لیکن سید عبدالرشید جالندھری ایک ایسے شخص ہیں جنہیں میں نے پہلے دن سے ہی پکے اعتقاد کا پایا اور اپنا خادم بنالیا۔
آپ یکم ماہ ربیع الاول بروز جمعہ ۱۱۲۱ھ اپنے مرشد کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے جالندھر میں ہی آپ کا مزار بنایا گیا آپ کے وصال کے بعد سید میراں بہیکہ نے آپ کے بیٹے سید غلام الدین محی الدین کو بیعت کیا اور انہیں کمال تک تربیت دی۔
حضرت عبد الرشید آں میر دین
چو ز دنیا رفت و در جنت رسید
سال وصال اوست عارف حق پرست
بار دیگر سرور عالم رشید
۱۱۲۱ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-rasheed-jalandhari
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abdul Rasheed Jalandhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت فاضلِ کبیر مولانا برکات احمد بن دائم علی حنفی ٹونکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آبائی وطن موضع میر نگر ضلع پٹنہ صوبہ بہار، آپ کے والد بزرگوار حضرت مولانا حکیم سید دائم علی مرید وخلیفہ حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی، ریاست ٹونک کے استاذ،طبیب اور آخری وزیر اعظم تھے،حکیم برکات احمد ۱۲۸۰ھ میں ٹونک میں پیدا ہوئے،نانیہان حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کے خاندان پھلت ضلع مظفر نگر میں ہے،عربی کی درسیات ٹونک میں مولوی لطف علی ساکن دھنچویہ ضلع پٹنہ سے حمداللہ تک اور مولوی محمد احسن ٹونکی سے ہدایہ پڑھ کر،مجد علوم عقلیہ حضرت شمس العلماء مولانا محمد عبد الحق خیر آبادی قدس سرہٗ کی خدمت میں گیارہ برس رہے،اور علوم عقلیہ کی مکمل طور پر تکمیل کی، چند کتابیں علامہ ہدایت اللہ خاں استاذ العلماء،شاگرد رشید حضرت امام الحکماء مولانا فضل حق خیر آبادی سے پڑھیں،حدیث اپنے خالو قاضی محمد ایوب پھلتی سے پڑھی، شروع میں مدرسہ نیاز یہ خیر آباد میں پرنسپل رہے، پھر وائی ٹونک کی فہمائش پر ٹونک آئے اور طبیب خاص کے عہدے پر مامور ہوئے،اس عہدہ کے فرئاض کی ادائیگی کے اتھ درس کی وہ شہرت ہوئی کہ نہ صرف ہندوستان کے طول وعرض کے تشنگان علوم، بلکہ کا شغر، بلخ، بخارا، سمر قند، کابل، تاشقند کے طلبہ کا ازد حام رہا کرتا تھا، جملہ علوم و فنون کے مسلم استاذ یعنی استاذ الکل تھے، متقدمین کی کتابیں مثلاً شفا بو علی سینا،میر باقر افق المبین، محاکمات کا باقاعدہ درس پوری دنیائے اسلام میں صرف آپ کی درسگاہ میں ہوا کرتا تھا،دور طالب علمی میں رام پور کے کسی بزرگ سے بیعت ہوگئے تھے،آخر میں حضرت کمال اللہ شاہ عرف مچھلی شاہ صاحب حیدر آبادی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے ۔۔۔۔ تالیفات میں ترمذی شریف کی ضخیم شرح،مولانا بحر العلوم فرنگی محلی کی شرح منار ارسی کا عربی ترجمہ،(علم کلام میں) حمداللہ کی وجود رابطی پر رسالہ وجود رابطی، دیانند سوامی کے فلسفیانہ اصول کی تردیدی میں بزبان اردو ‘‘صدقہ جاریہ فی رد آریہ’’ حدوث زمان میں ‘‘اتفاق العرفان فی تحقیقی ماہیۃ الزمان’’ الصمصام القاضب المفتری علی اللہ الکاذب اور علم غیب اور متناع النظیر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں رسائل لکھے، ۔۔۔۔۔ یکم ربیع الاول ۱۳۴۷ھ میں بمقام ٹونک آپ کا انتقال ہوا۔ مولانا عبد الواسع صفا مرحوم پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کن نے بہ قطعۂ تاریخ وفات کہا،جس کے اشعار اوصاف کے ترجمان ہیں:
وحید دہر، فرید زماں، محقق عصر
یگانۂ کہ بہ علم و ہنر نداشت مثال
حکیم و فاضل و علامہ و طبیب وادیب
محدث ومتکلم، فقیہہ وصاحب حال
نظیر رازی وطوسی روشک غزالی
عدیل شیخ رئیس وامام استدلال
رخش زنورِ عبادت چوں نیر تاباں
دلش زمعرفت کردگار مالا مال
دراسم اوست پس و پیش احمد برکات
بد ند جمع بذاتش، ہمہ صفات کمال
بغرۂ مہ اوّل ربیع، صرصر موت
نمود حیف، بہار حیاتِ اوپا مال
قضا بہ خُلد بریں برد، روح پاکش را
اجل کشاد، در وصل ایزد مُتعال
دلم زفرط الم، می طپد چوں برق طپاں
ربود صبر وقرارم وفور رنج وملال
صفا شند پے رحلتش زمہم غیب
نہفت زیر زمیں، مہر آسمانِ کمال
۲۷ ھ ۳
( معارف اعظم گڑھ، باغی ہندوستان )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fazil-e-kabeer-molana-barkat-ahmad
آبائی وطن موضع میر نگر ضلع پٹنہ صوبہ بہار، آپ کے والد بزرگوار حضرت مولانا حکیم سید دائم علی مرید وخلیفہ حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی، ریاست ٹونک کے استاذ،طبیب اور آخری وزیر اعظم تھے،حکیم برکات احمد ۱۲۸۰ھ میں ٹونک میں پیدا ہوئے،نانیہان حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کے خاندان پھلت ضلع مظفر نگر میں ہے،عربی کی درسیات ٹونک میں مولوی لطف علی ساکن دھنچویہ ضلع پٹنہ سے حمداللہ تک اور مولوی محمد احسن ٹونکی سے ہدایہ پڑھ کر،مجد علوم عقلیہ حضرت شمس العلماء مولانا محمد عبد الحق خیر آبادی قدس سرہٗ کی خدمت میں گیارہ برس رہے،اور علوم عقلیہ کی مکمل طور پر تکمیل کی، چند کتابیں علامہ ہدایت اللہ خاں استاذ العلماء،شاگرد رشید حضرت امام الحکماء مولانا فضل حق خیر آبادی سے پڑھیں،حدیث اپنے خالو قاضی محمد ایوب پھلتی سے پڑھی، شروع میں مدرسہ نیاز یہ خیر آباد میں پرنسپل رہے، پھر وائی ٹونک کی فہمائش پر ٹونک آئے اور طبیب خاص کے عہدے پر مامور ہوئے،اس عہدہ کے فرئاض کی ادائیگی کے اتھ درس کی وہ شہرت ہوئی کہ نہ صرف ہندوستان کے طول وعرض کے تشنگان علوم، بلکہ کا شغر، بلخ، بخارا، سمر قند، کابل، تاشقند کے طلبہ کا ازد حام رہا کرتا تھا، جملہ علوم و فنون کے مسلم استاذ یعنی استاذ الکل تھے، متقدمین کی کتابیں مثلاً شفا بو علی سینا،میر باقر افق المبین، محاکمات کا باقاعدہ درس پوری دنیائے اسلام میں صرف آپ کی درسگاہ میں ہوا کرتا تھا،دور طالب علمی میں رام پور کے کسی بزرگ سے بیعت ہوگئے تھے،آخر میں حضرت کمال اللہ شاہ عرف مچھلی شاہ صاحب حیدر آبادی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے ۔۔۔۔ تالیفات میں ترمذی شریف کی ضخیم شرح،مولانا بحر العلوم فرنگی محلی کی شرح منار ارسی کا عربی ترجمہ،(علم کلام میں) حمداللہ کی وجود رابطی پر رسالہ وجود رابطی، دیانند سوامی کے فلسفیانہ اصول کی تردیدی میں بزبان اردو ‘‘صدقہ جاریہ فی رد آریہ’’ حدوث زمان میں ‘‘اتفاق العرفان فی تحقیقی ماہیۃ الزمان’’ الصمصام القاضب المفتری علی اللہ الکاذب اور علم غیب اور متناع النظیر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں رسائل لکھے، ۔۔۔۔۔ یکم ربیع الاول ۱۳۴۷ھ میں بمقام ٹونک آپ کا انتقال ہوا۔ مولانا عبد الواسع صفا مرحوم پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کن نے بہ قطعۂ تاریخ وفات کہا،جس کے اشعار اوصاف کے ترجمان ہیں:
وحید دہر، فرید زماں، محقق عصر
یگانۂ کہ بہ علم و ہنر نداشت مثال
حکیم و فاضل و علامہ و طبیب وادیب
محدث ومتکلم، فقیہہ وصاحب حال
نظیر رازی وطوسی روشک غزالی
عدیل شیخ رئیس وامام استدلال
رخش زنورِ عبادت چوں نیر تاباں
دلش زمعرفت کردگار مالا مال
دراسم اوست پس و پیش احمد برکات
بد ند جمع بذاتش، ہمہ صفات کمال
بغرۂ مہ اوّل ربیع، صرصر موت
نمود حیف، بہار حیاتِ اوپا مال
قضا بہ خُلد بریں برد، روح پاکش را
اجل کشاد، در وصل ایزد مُتعال
دلم زفرط الم، می طپد چوں برق طپاں
ربود صبر وقرارم وفور رنج وملال
صفا شند پے رحلتش زمہم غیب
نہفت زیر زمیں، مہر آسمانِ کمال
۲۷ ھ ۳
( معارف اعظم گڑھ، باغی ہندوستان )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fazil-e-kabeer-molana-barkat-ahmad
scholars.pk
Hazrat Fazil-e-Kabeer Molana Barkat Ahmad
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-02-1445 ᴴ | 17-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-03-1445 ᴴ | 18-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1